Khanqah Chishtia Munamia

Khanqah Chishtia Munamia Presently located at Gaya, this khanqah was founded in the 630s A.H/1230s A.D by Syed Tajuddin Dehlavi Chishti, a disciple of Khwaja Moinuddin Chishti(R.A)

21/08/2026
18/08/2026

پیغمبرِ اسلام ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیوں کیا جائے؟
تحریر: سید عطا فیصل
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ طیبہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس کا تعلق صرف ایک مذہب، ایک قوم یا ایک زمانے سے نہیں، بلکہ پوری انسانیت سے ہے۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے ایسے وقت میں انسانیت کی رہنمائی فرمائی جب معاشرہ اخلاقی، روحانی، سماجی اور انسانی اعتبار سے شدید انتشار کا شکار تھا۔ آپ ﷺ نے انسان کو اس کے خالق سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ اسے ایک ایسا ضابطۂ حیات عطا فرمایا جس میں فرد کی اصلاح، خاندان کی مضبوطی، معاشرے کا استحکام، عدل و انصاف، انسانی مساوات، معاشی معاملات اور اجتماعی زندگی کے اصول سب شامل ہیں۔
اسی لیے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی کا مطالعہ صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح و بہبود اور ایک متوازن زندگی کی تلاش کا ذریعہ بھی ہے۔ جو شخص آپ ﷺ کی ذات اور تعلیمات کو سمجھنا چاہتا ہے، اسے آپ ﷺ کی مکمل حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی انسان کے مادی اور روحانی دونوں پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آپ ﷺ عبادت میں بے مثال عابد تھے تو عملی زندگی میں بہترین رہنما بھی؛ گھر میں شفیق اور مہربان تھے تو معاشرے میں عادل و مدبر؛ تعلیم و تربیت کے معلم تھے تو اجتماعی معاملات میں حکمت و بصیرت کے حامل قائد بھی۔ آپ ﷺ نے یہ دکھایا کہ روحانیت انسان کو دنیا سے الگ نہیں کرتی بلکہ اسے اپنے فرائض بہتر انداز میں ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔
آپ ﷺ کی دعوت کسی خاص نسل، قبیلے یا خطے تک محدود نہیں تھی۔ آپ ﷺ نے انسان کو اس کے رب کی معرفت، بندگی، نیکی، عدل اور حسنِ کردار کی دعوت دی۔ رنگ، نسل، زبان، خاندان، دولت اور منصب کی بنیاد پر قائم تفریق کو ختم کرکے انسانی عزت و مساوات کا تصور پیش کیا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نے واضح کیا کہ انسان کی حقیقی قدر اس کے کردار، ایمان اور تقویٰ سے ہے۔
یہ پیغام آج بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا نے علم، صنعت اور ٹیکنالوجی میں بہت ترقی کی، مگر نسل پرستی، طبقاتی کشمکش، معاشی ناہمواری اور سماجی تقسیم جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں سیرتِ رسول ﷺ انسان کو یہ سمجھاتی ہے کہ ایک مضبوط معاشرہ صرف ترقی یافتہ اداروں سے نہیں بنتا، بلکہ انصاف، احترام، ذمہ داری اور انسانی ہمدردی سے تشکیل پاتا ہے۔
اسلام کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کی نبوت کو تسلیم کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں حضرت آدمؑ، نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور دیگر پیغمبروں کا ذکر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء بھیجے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس سلسلۂ نبوت کے آخری نبی ہیں۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا۔
چنانچہ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ ہمیں نہ صرف آخری نبی کی زندگی سے واقف کراتا ہے بلکہ نبوت کے اس عظیم سلسلے اور اس کے بنیادی پیغام کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی، پاکیزگی، نیکی اور جواب دہی کی طرف بلایا اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت نے اس دعوت کو آخری اور عالمگیر صورت عطا فرمائی۔
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی کے ذریعے اس کلام کو عملی صورت میں پیش فرمایا۔ قرآن صبر، عدل، رحم، عفو، امانت، عبادت اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ سیرت ہمیں دکھاتی ہے کہ ان اصولوں کو عملی زندگی میں کیسے اختیار کیا جائے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔ اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی قرآن کی عملی تفسیر تھی۔ اس لیے قرآن کو سمجھنے اور اس کے اخلاقی و عملی تقاضوں کو جاننے کے لیے سیرت کا مطالعہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی عظمت کا ایک نمایاں پہلو قول و عمل کی یکسانیت ہے۔ آپ ﷺ نے صبر کی تعلیم دی تو خود آزمائشوں میں ثابت قدم رہے، معافی کی ترغیب دی تو اپنے مخالفین کے ساتھ عفو کا معاملہ فرمایا، سخاوت کی دعوت دی تو خود محتاجوں کا خیال رکھا اور عبادت کی تعلیم دی تو راتوں کو اپنے رب کے حضور قیام فرمایا۔
اسی عملی نمونے نے آپ ﷺ کی دعوت کو غیر معمولی اثر عطا کیا۔ آپ ﷺ نے صرف یہ نہیں بتایا کہ انسان کو کیسا ہونا چاہیے، بلکہ اپنی زندگی سے یہ دکھا دیا کہ ایک کامل انسان کا کردار کیسا ہوتا ہے۔
آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ میں رحم، نرمی، بردباری، سخاوت، عدل، حیا اور درگزر نمایاں تھے۔ یتیموں، مسکینوں، غلاموں، بیواؤں اور کمزور طبقات کے حقوق کا خیال آپ ﷺ کی تعلیمات کا اہم حصہ تھا۔ فتحِ مکہ اس کردار کی ایک عظیم مثال ہے۔ جن لوگوں نے طویل عرصے تک آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب کو اذیتیں دیں، جب وہ آپ ﷺ کے سامنے بے بس تھے تو آپ ﷺ نے انتقام کے بجائے عفو و رحمت کو اختیار فرمایا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ حقیقی طاقت صرف غالب آنے میں نہیں، بلکہ غلبہ حاصل کرنے کے بعد معاف کرنے میں بھی ہے۔
آپ ﷺ کی بعثت ایک ایسے معاشرے میں ہوئی جہاں قبائلی عصبیت، ظلم، انتقام اور کمزوروں کا استحصال عام تھا۔ اصلاح کا آغاز آپ ﷺ نے انسان کے دل اور فکر سے کیا۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت، آخرت کی جواب دہی اور اخلاقی ذمہ داری کا احساس پیدا کیا۔ جب سوچ بدلی تو کردار بدلا، اور کردار کی تبدیلی نے معاشرے کی صورت بدل دی۔
ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں اس اصلاح کو اجتماعی شکل ملی۔ مختلف قبائل اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان حقوق و فرائض کا تصور واضح کیا گیا اور عدل کو معاشرتی بنیاد بنایا گیا۔ مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم ہوئی اور مسجد کو عبادت کے ساتھ تعلیم، تربیت، مشاورت اور اجتماعی زندگی کا مرکز بنایا گیا۔ یوں دین نے فرد کی اصلاح کے ساتھ معاشرے کی تعمیر کا بھی راستہ دکھایا۔
رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں عبادت اور خدمتِ خلق ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ نماز انسان کو برائی سے روکتی، روزہ صبر و تقویٰ پیدا کرتا، زکوٰۃ معاشرے کے ضرورت مندوں کا سہارا بنتی اور صدقہ دل میں ہمدردی پیدا کرتا ہے۔ عبادت کا مقصد انسان کو انسانوں کے حقوق سے بے نیاز کرنا نہیں بلکہ اسے زیادہ ذمہ دار، رحم دل اور باکردار بنانا ہے۔
یہ پہلو آج کے انسان کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے زندگی کو سہولتیں تو دی ہیں، مگر تنہائی، خاندانی انتشار، اخلاقی بحران، معاشی ناانصافی اور روحانی بے سکونی جیسے مسائل ختم نہیں ہوئے۔ اس لیے سیرتِ نبوی ﷺ آج بھی انسان کو ایک ایسے توازن کی دعوت دیتی ہے جس میں مادی ترقی کے ساتھ اخلاقی بلندی اور روحانی اطمینان بھی شامل ہو۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، لیکن محبت کا حقیقی تقاضا اتباع ہے۔ سیرت کا مطالعہ صرف واقعات یاد کرنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس نیت سے ہونا چاہیے کہ ہم مشکلات میں صبر، اختلاف میں انصاف، طاقت میں عفو، معاملات میں دیانت، خاندان میں محبت اور معاشرے میں ذمہ داری اختیار کرنا سیکھیں۔
سیرت کا حقیقی فائدہ اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب اس کا اثر ہماری گفتگو، معاملات، اخلاق اور کردار میں نمایاں ہو۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا مطالعہ ہمیں بہتر انسان، بہتر مسلمان اور بہتر معاشرتی فرد بناتا ہے تو یہی اس مطالعے کی اصل کامیابی ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ طیبہ انسانی زندگی کے ہر اہم پہلو کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ ﷺ نے انسان کو اس کے رب سے جوڑا، کردار کو پاکیزگی دی، ظلم کے مقابلے میں عدل، نفرت کے مقابلے میں محبت، انتقام کے مقابلے میں عفو اور انتشار کے مقابلے میں اتحاد کا راستہ دکھایا۔
اسی لیے سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ صرف ماضی کے واقعات جاننے کے لیے نہیں بلکہ اپنے حال کو سنوارنے اور مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ جو شخص رسولِ اکرم ﷺ کو سمجھنا چاہتا ہے، اسے آپ ﷺ کی تعلیمات، اخلاق، معاملات اور عملی زندگی کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ کیونکہ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ صرف تاریخ کا ایک عظیم باب نہیں، بلکہ قیامت تک انسانیت کے لیے ہدایت، اخلاق، کردار اور زندگی کا روشن راستہ ہے۔

17/08/2026


میلاد النبی ﷺ منانے کے مخالفین کی دلیلیں اور ان کے مختصر جواباتتحریر - ڈاکٹر سید شاہ محمد صباح الدین چشتی منعمی ابوالعلا...
16/08/2026

میلاد النبی ﷺ منانے کے مخالفین کی دلیلیں اور ان کے مختصر جوابات

تحریر - ڈاکٹر سید شاہ محمد صباح الدین چشتی منعمی ابوالعلائ

(1) وہ کہتے ہیں: میلاد النبی ﷺ نہ رسول اللہ ﷺ نے منایا، نہ صحابۂ کرام نے اور نہ تابعین نے۔ اگر یہ کوئی خیر کا کام ہوتا تو وہ ہم سے پہلے اس پر عمل کرتے!
مختصر جواب:
امت کے جمہور علماء نے کسی عمل کے محض ترک کو مستقل دلیل نہیں مانا۔ کیا آپ نے علماء کو قرآن، سنت، قیاس، اجماع وغیرہ سے احکام کے دلائل بیان کرتے ہوئے صرف "ترک" کو بھی مستقل دلیل شمار کرتے دیکھا ہے؟ جواب ہے: نہیں۔
اس کی ایک مشابہ مثال ملاحظہ فرمائیں جو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ محض ترک ہمیشہ حجت نہیں ہوتا:
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کو ایک جگہ جمع کرنے کا مشورہ دیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ؟
"میں ایسا کام کیسے کروں جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا؟"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ
"اللہ کی قسم! یہ کام خیر ہے۔"
📚 صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن۔
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر ایسا نیک کام جو رسول اللہ ﷺ نے خود نہ کیا ہو، لازماً ناجائز نہیں ہوتا؛ بلکہ اس کے جواز یا عدمِ جواز کا فیصلہ دوسرے شرعی اصولوں سے کیا جاتا ہے۔
(2) وہ کہتے ہیں:
میلاد منانے میں نبی ﷺ کی قدر و منزلت میں کمی ہے، کیونکہ آپ ﷺ کا ذکر صرف ایک دن کے ساتھ مخصوص کر دیا جاتا ہے۔
مختصر جواب:
یہ بات اپنی طرف سے لازم کرنا ہے۔ ہم نبی ﷺ کی مدح و ذکر کو صرف ایک دن کے ساتھ مخصوص نہیں کرتے، بلکہ اس دن زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔
کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنی ولادت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے پیر کے دن روزہ نہیں رکھا؟
صحیح مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ
"یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔"
📚 صحیح مسلم، حدیث 1162۔
اگر کسی دن اپنی ولادت کی نعمت پر خصوصی شکر ادا کرنا نبی ﷺ کی سنت سے ثابت ہے تو پھر کسی دن میں نبی ﷺ کی ولادت کا ذکر، سیرت اور شکر زیادہ اہتمام سے کرنا بذاتِ خود نبی ﷺ کی شان گھٹانا نہیں کہا جا سکتا۔
اسی طرح عاشوراء کا روزہ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو نجات ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے سے متعلق ہے۔
(3) وہ کہتے ہیں:
آپ 12 ربیع الاول کو میلاد کیسے مناتے ہیں، جبکہ بعض اہلِ سیر کے مطابق یہی وہ دن ہے جس دن رسول اللہ ﷺ کا وصال بھی ہوا؟
مختصر جواب:
ولادت اور وصال کے دن کے ایک ہونے کا قول، ولادت کی نعمت اور اس دن کی فضیلت کو ختم نہیں کرتا۔ نیز 12 ربیع الاول کو وصال کی تاریخ ہونا قطعی طور پر ثابت نہیں؛ اس مسئلے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے۔
مثلاً سنن نسائی میں رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے بارے میں فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ
"تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے؛ اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے اور اسی دن ان کا وصال ہوا۔"
📚 سنن النسائی، حدیث 1374؛ سنن ابی داود، حدیث 1047۔
لہٰذا کسی دن میں ولادت اور وفات دونوں کا واقع ہونا اس دن کی تمام فضیلتوں کو ختم نہیں کرتا۔
(4) وہ کہتے ہیں:
اگر میلاد منانا خیر ہوتا تو رسول اللہ ﷺ خود مناتے۔ پھر کیا آپ ﷺ سے محبت صحابہ سے زیادہ ہے، جنہوں نے میلاد نہیں منایا؟
مختصر جواب:
یہ استدلال درست نہیں، کیونکہ کسی عمل کا رسول اللہ ﷺ یا صحابہ سے منقول نہ ہونا لازماً اس کے حرام ہونے کی دلیل نہیں۔
1۔ نمازِ چاشت کی مثال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا
"میں نے رسول اللہ ﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، لیکن میں خود اسے پڑھتی ہوں۔"
📚 صحیح البخاری، صحیح مسلم۔
اگر ہر وہ نیکی جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ نہ کی ہو، ممنوع ہوتی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایسا عمل نہ کرتیں۔
2۔ امام شافعی اور امام مالک رحمہما اللہ
منقول ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ کے گھر کے باہر خراسانی گھوڑے اور مصری خچر دیکھے اور ان کی تعریف کی۔ امام مالک رحمہ اللہ نے وہ سب امام شافعی کو ہبہ کر دیے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اپنے لیے ایک سواری رکھ لیجیے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے حیا آتی ہے کہ میں کسی نبی کی سرزمین کو کسی جانور کے کھر سے روندوں۔
یہ واقعہ محبتِ رسول ﷺ کی ایک کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جو محض "صحابہ نے ایسا نہیں کیا" کہہ کر رد نہیں کی جا سکتی۔
3۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب ایک معمول
ابن القیم رحمہ اللہ نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے ایک مخصوص ذکر کے معمول کا ذکر کیا ہے۔ اگر اس عمل کی یہ خاص صورت رسول اللہ ﷺ یا صحابہ سے منقول نہ بھی ہو تو محض اسی وجہ سے اسے فوراً حرام قرار نہیں دیا جا سکتا؛ بلکہ اس کی شرعی حیثیت دوسرے اصولوں کی روشنی میں دیکھی جائے گی۔
خلاصہ
ہم شرعی مسائل میں اصول اور فقہی قواعد کے مطابق حکم لگاتے ہیں، محض جذبات یا دعوے کی بنیاد پر نہیں۔
اسی لیے میلاد النبی ﷺ کو دیکھتے ہوئے اس بات کا فرق کرنا ضروری ہے کہ اس اجتماع میں کیا کیا جاتا ہے۔
اگر میلاد کی مجلس میں:
قرآن مجید کی تلاوت ہو،
ذکر و درود ہو،
نبی کریم ﷺ کی سیرت بیان کی جائے،
آپ ﷺ کے فضائل بیان کیے جائیں،
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے،
لوگوں کو کھانا کھلایا جائے،
صدقہ و خیرات کیا جائے،
اور اس میں کوئی خلافِ شرع کام شامل نہ ہو، تو اس صورت کو بعض جلیل القدر علماء نے جائز بلکہ باعثِ اجر قرار دیا ہے۔
اہم علمی وضاحت: میلاد کے مسئلے میں علماء کا اختلاف موجود ہے؛ بعض علماء اسے بدعتِ حسنہ یا جائز اجتماع قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض اسے بدعتِ غیر مشروعہ کہتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے میں ایک دوسرے کی نیت یا محبتِ رسول ﷺ پر حکم لگانے کے بجائے دلائل اور فقہی اصولوں کے ساتھ علمی گفتگو زیادہ مناسب ہے۔

دستارِ سجادہ نشینی کی پُروقار تقریب عرسِ سیدنا محمد قادری بغدادی ثم امجھری قدس سرہٗ العزیز کے پُرمسرت موقع پر خانقاہِ عا...
16/08/2026

دستارِ سجادہ نشینی کی پُروقار تقریب
عرسِ سیدنا محمد قادری بغدادی ثم امجھری قدس سرہٗ العزیز کے پُرمسرت موقع پر خانقاہِ عالیہ کے 15ویں سجادہ نشیں کی حیثیت سے حضرت سید محمد حسین قادری کی دستار بندی کی گئی۔
یہ بابرکت رسمِ دستار بندی خانوادۂ قادریہ محمدیہ کے بزرگانِ دین اور مشائخینِ بہار کے دستِ مبارک سے انجام پائی۔
اللہ تعالیٰ حضرت سید محمد حسین قادری مد ظلہ کو منصبِ سجادہ نشینی کی ذمہ داریاں بحسن و خوبی ادا کرنے، سلسلۂ قادریہ کی روایات کو آگے بڑھانے اور دین و خدمتِ خلق کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Address

Khanqah Chishtia Munamia, Khanqah Road, Ramsagar
Gaya
823001

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khanqah Chishtia Munamia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share