18/06/2023
گھوڑا، دراہم اور عشق رسول
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو بھیجا کہ کوئی اچھا سا گھوڑا منڈی سے خرید لاؤ.......... غلام ایک بہترین گھوڑا 300 درھم میں خرید لایا اور ادئیگی کیلیے اس کے مالک کو بھی ساتھ لے آیا
حضرت جریرؓ نے جب گھوڑا دیکھا تو ان کو وہ گھوڑا تین سو درھم سے زیادہ قیمت کا معلوم ہوا
آپ نے مالک سے کہا کہ اس کی قیمت زیادہ کرو، تمہارا گھوڑا اعلی نسل کا ہے
اس نے کہا کہ چار سو دے دیجیے!
فرمایا یہ بھی کم ہیں!
کہنے لگا پانچ سو دے دیجیے!
فرمانے لگے: شاید تمہیں گھوڑوں کی نسل کی شد بد نہیں یا پھر تم بہت مجبور ہو، میں تمہیں تمہاری مجبوری اور لاعلمی کا نقصان نہیں پہنچنے دونگا.......... اس کے بعد حضرت جریرؓ نے 800 درھم دے کر گھوڑا اس سے خرید لیا ـ
گھوڑا بیچنے والا دعائیں دیتا ہوا رخصت ہوگیا تو غلام نے تعجب سے کہا کہ اچھا بھلا وہ اپنی مرضی سے 300 میں بیچ رہا تھا، آپ نے خواہ مخواہ سے اتنے پیسے دے دیے؟! ..........
حضرت جریر بن عبداللہؓ نے فرمایا کہ خواہ مخواہ نہیں دیے، بلکہ رسول اللہ ﷺ سے کی گئی بیعت کی وفا میں دیے ہیں.......... مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے بیعت لی تھی کہ میں اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی کروں گا.......... اس لئے مجھے اپنے بھلے کی نسبت اپنے مسلمان بھائی کے بھلے کی زیادہ فکر رہتی ہے
امام نووی شرح مسلم
● اس واقعہ کی روشنی میں ہم اپنا جائزہ لیں کہ جب ہمارے پاس کوئی بندہ مجبور ہو کر کوئی چیز فروخت کرنے آتا ہے، وہ پلاٹ ہو یا گاڑی یا کچھ اور، تو ہم 100 والی چیز کا 50 ریٹ لگاتے ہیں
اور خود کو عاشق رسول بھی سمجھتے ہیں۔
بشارت حمید
۔
۔
بشکریہ کشکول اردو ایپ