راہِ ھدایت

راہِ ھدایت پیج اسلامک انفو کے بارے میں ہے..... جس میں درس قرآن و حدیث سے لے کر ہر ایک بنیادی بات بتائی جائے گی آن لائن قرآن پاک کلاسسز کیلئے ان باکس کریں

M hmesha se apna khud ka aik chota sa business chahti thi, it was always my dream..  lekin khuwab ka sach hona hi kafi n...
07/10/2021

M hmesha se apna khud ka aik chota sa business chahti thi, it was always my dream.. lekin khuwab ka sach hona hi kafi ni hota na..

Aaj mne apna chota sa business launch kia h
Pr isko successful bnane k liye mjhe ap sbka support chahiye

M umeed krti hun ap sb mjhe support krengy ta k ye business successful ho jai

Here the link: https://instagram.com/adore_by_adeelah?utm_medium=copy_link

27/09/2021

فرض رکعات کے بعد کی دعائیں و تسبیحات👇👇
⭐ فرض نماز کا سلام پھیر کر سر پہ داہنا ہاتھ رکھے اور یہ دعا پڑھے

بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اَللّٰھُمَّ اَذھَبْ عَنِّی الْھَمَّ وَالْحُزْنَ

میں نے اللّٰہ کے نام کیساتھ نماز ختم کی اور جسکے سوا کوئی معبود نہیں اور جو رحمٰن اور رحیم ہے اے اللّٰہ تُو مجھ سے فکر و رنج کو دور کر دے
(حصن حصین)

⭐ مذکورہ👇 دعاؤں میں سے کوئی ایک ہی یا سب ایک مرتبہ پڑھ لے

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ

اے اللّٰہ تُو سلامت رہنے والا ہے اور تجھی سے سلامتی مل سکتی ہے اور تُو بابرکت ہے اے بزرگی اور عظمت والے

لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ الْمُلکُ وَلَہُ الْحَمدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَئِِ قَدِیْرُُ

اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو تنہا ہے اور اسکا کوئی شریک نہیں اُسی کے لئیے ملک ہے اور اسی کے لئیے سب تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پہ قادر ہے

اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَآ اَعْطَیْتَ وَ لَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَ لَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔

اے الله! نہیں کوئی روک سکتا جو آپ عطا کرنا چاہیں اور نہیں کوئی دے سکتا جو آپ نه دینا چاہیں اور کسی دولت مند کو اس کی دولت آپ کے مقابلے میں کوئی فائده نہیں دے سکتی۔
(صحیح بخاری و مسلم)

⭐اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَاُعُوْذُبِک مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْقَبرِ
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْر

اے اللّٰہ میں پناہ چاہتا ہوں بزدلی سے اور پناہ چاہتا ہوں کنجوسی سے اور پناہ چاہتا ہوں نکمی عنر سے اور پناہ چاہتا ہوں دنیا کے فتنے سے اور قبر کے عذاب سے اے اللّٰہ میں کفر سے اور اسکی تنگدستی سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں(حصن حصین)

⭐ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ، وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ، وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ. اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَآ اِلٰہ اِلَّا اَنت

اے اللہ، تو بخش دے جو کچھ میں نے آگے بھیجا ہے اور جو کچھ پیچھے چھوڑا ہے، اور جو کچھ چھپایا اور جو کچھ علانیہ کیا ہے، اور وہ بھی جسے تو مجھ سے زیادہ جانتاہے۔ تو ہی آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔''
(ابو داود)

⭐اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ

اے اللّٰہ میری مدد کر میں تیرا ذکر کرون اور تیرا شکر کروں اور تیری اچھی عبادت کروں
(ابی داود)

حضرت عقبہ بن عامررضی اللّٰہ عنہ کا بیان ہے رسول صل اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ ہر فرض نماز کیبعد معوّذتین(چار قُل) پڑھا کروں
(مشکوٰۃ)

ہر فرض نماز کیبعد آیۃ الکرسی پڑھ لینے والے کو جنت میں داخلے سے صرف موت روکے ہوئے ہوتی ہے.....(بیہقی شعب الایمان)

ہر فرض نماز کیبعد
33 بار سُبحان اللّٰہ
33 بار الحمد للّٰہ
34 بار اللّٰہُ اکبر پڑھ لے.....

حضرت ابو امامہ رض سے روایت ہے رسول صل اللّٰہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا گیا کونسی دعا قبولیت کا درجہ رکھتی ہے؟؟
آپ صل اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو دعا رات کے پچھلے حصے یعنی تہجّد میں کی جائے اور فرض نمازوں کے بعد ہو
(ترمذی)

27/09/2021

وتر کی نماز پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھے
سُبْحٰنَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ
پاکی بیان کرتا ہوں بادشاہ(اللّٰہ) کی جو بہت ذیادہ پاک ہے
اور قدوس کی دال کو خوب کھینچے....
(حصن حصین)
اور اسکے بعد تصویر میں مذکورہ دعا پڑھے👇

27/09/2021
14/08/2020

تربیت اک غور طلب پہلو
ازقلم : عاتکہ عباسی

اللّٰہ رب العزت نے انسان کو بے شمار نعمتوں,راحتوں اور آسائشوں سے نوازا ہے,سورج ,چاند,ستارے,مختلف موسم,پھل پھول,حسیات,اور ان گنت انعامات و اکرامات میں سے اک نعمت اور رحمت ہے "اولاد" جو لخت جگر بھی ہے او نورِ نظر بھی ہے,رونقِ خانہ بھی ہے اور دل کا سرور بھی ...

سورۃ کہف میں ارشاد ہوتا ہے
"مال اور بیٹے دنیا کی زندگی میں رونق ہیں"
ایک اور جگہ سوۃ فرقان میں ارشاد ہوتا ہے
"اے ہمارے رب ہم کو ہماری عورتوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا پیشوا بنا دے
اب یہی اولاد جو سراسر رونق ہے سکون ہے خوشی ہے جس پہ انسان فخر کرتا ہے,جی جان سے محبت کرتا ہے,اس کی ضروریات پوری کرنے کیلیے دن رات ایک کر دیتا ہے,وہی اولاد نری زحمت بن جاتی ہے,والدین کی شاہراہ حیات پہ جا بجا کانٹے بکھیر دیتی ہے,اکثر تو ایسا محسوس کروا دیتی کہ ہزاروں جتن کر کے آ بیل مجھے مار کو مقدر بنوا لیا....
لیکن یہ سب خود بخود یونہی تو نہیں ہو جاتا نا,کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے,سبب ہوتا ہے تو آئیے ہم درجہ بہ درجہ وجوھات پہ نظر ڈالتے ہیں..
انسان کو وجود بخشنے کے ارادے سے ہی وہ رب انسان (بچے)کو انسان(ماں) کے حوالے کر دیتا ہے اور یقین جانیں میری نسیں پھٹ رہی ہیں اس حقیقت کو لکھتے ہوئے کہ تخلیق کے مراحل سے گزرتے ہوئے ہی ,رحم مادر کے اندر ہی ذات کو کمزور,ناقص اور خام بنانے والے عناصر بذریعہ انسان تشکیل و ترتیب پانے لگتے ہیں,وہ کیسے؟؟؟؟؟
وہ مادر(ماں) جس کے رحم میں ننھا وجود اپنی تخلیق کے مراحل طے کر رہا ہوتا ہے اس بات سے یکسر بے پرواہ ہوتی ہے کہ میری ایک ایک سوچ,میرا عمل,میری حرکات و سکنات کا اثر میرے اندر وجود پاتے بچے پہ پڑتا ہے..آپ کو شاید میری یہ بات لایعنی لگے لیکن میں دورِ حاضر کی مثال آپ کے سامنے رکھ دیتی ہوں,موجودہ دور میں پیدا ہونے والے بچوں کی اکثریت اوائل عمر میں بلکہ صغر سنی میں ہی اُلجھن,چڑچڑے پن,غصے,بدتمیزی جیسی عوامل حتی کہ ڈپریشن تک کا شکار ہوتے ہیں,غور کیجے ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟
اگر آپ سوشل سروے کر کے حاملہ خواتین کی روٹین چیک کریں تو آپ کو میری بات باآسانی سمجھ آ جائے گی اور اگر سروے کرنا مشکل ہے تو آپ اپنے دین کا مطالعہ کرلیجیے,آپ پہ روزِ روشن کی طرح یہ بات عیاں ہو جائے گی بچے کہ تخلیق کے دوران اس پہ کن کن باتوں کا کیسے کیسے اثر ہوتا ہے....(اگر میں اس کو بیان کرنے لگوں گی تو ایک باقاعدہ الگ موضوع بن جائے گا)
خیر میرا مقصد یہ بتانا ہے کہ پہلا تباہی سے بھرپور حملہ انسان پہ آج کل نوزائیدگی میں ہی سوکالڈ تہذیب یافتہ معاشرے کی لبرل ماں کرتی ہے,بہت سوں کو اختلاف ہو گا میری بات سے جسے میں اپنی خوش بختی سمجھ کر قبول کروں گی کیوں کہ سچ کو کوئی عار نہیں,موجودہ ماؤں میں اکثریت کے طور اطوار سے ہم سب ہی واقف ہیں....
چلو جی اس مرحلے سے اگر "بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی" جیسے کوئی بچ بھی جاتا ہے تو اگلا وار ناقص تربیت کا ہوتا ہے.......
وی عمر اور وہ وقت جس میں اس نازک ٹہنی کو مثبت سوچ افکار اور صحت مند ماحول کے چشمے سے سیراب کر کے ایسا تناور درخت بنانا تھا جو درماندہ و پراگندہ حال مسافروں کیلیے چھاؤں مہیا کرتا,اُسے مادہ پرستی کی دیمک لگا دی جاتی ہے جس کے سبب دوسروں کیلیے راحت و سکون بننا تو کُجا وہ اپنی خود کی زندگی کو جینے سے بھی محروم رہتی ہے....
ماں باپ یہ سوچتے رہ جاتے کہ بچہ ہے ابھی عمر پڑی ہے سیکھنے کو اور پھر جب بقول والدین کے سیکھنے کی عمر آتی ہے تو بچہ خود سکھا رہا ہوتا ہے اور وہ بھی سبقِ جدید کہ " مجھے میرے اچھے بُرے کا پتا ہے"
ان کی بدتمیزی کو,گالیوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ " ابھی بچہ ہے" اور جب وہ بڑا ہوتا ہے تو والدین کاشجرہ نسب تک کھنگال دیتا ہے (یہ تو اسکی کچی عمر سے اُس کے ساتھ ساتھ ہو رہا سب)
محفلوں میں اور مہمانوں کے سامنے معصوموں کو نچا کر خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں اور پھر یہی معصومین بڑے ہو کر تگنی کا ناچ نچاتے ہیں(لو کہ پہلے تالیاں بجاتے تھے دیکھ کر اب سر پیٹو اپنا)
یاد رکھیں جس عمر کو ہم یہ کہہ کر ضائع کر دیتے ہیں کہ کھیلنے کودنے کی عمر ہے بڑے ہو کر سیکھ لے گا,یہ بہت قیمتی وقت ہوتا ہے,بچہ وائٹ بورڈ کی طرح ہوتا ہے, جو جو اس پہ اِس عمر میں لکھا جائے وہ تاعمر مٹے گا نہیں,بھلے ہم اُسے مٹاتے مٹاتے خود مِٹ جائیں,بے شک ہم ببولوں کے بیج بو کر گل و لالہ کی اُمید لگائے رکھیں مگر یہ حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے..
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے پاس ایک صاحب اپنے بیٹے کی نافرمانی کے بارے میں شکایت کرنے آئے,حضرت عمر رض نے لڑکے کو بُلا کر تنبیہہ کی اور والدین کے حقوق بتائے,لڑکے نے کہا امیر المؤمنین کیا اولاد کا والدین پہ کوئی حق نہیں ہوتا؟؟آپ (رض) نے فرمایا " کیوں نہیں اولاد کا حق ہے کہ باپ تربیت کیلیے نیک ماں کو چُنے, اچھا نام رکھے اور قرآن پاک کی تعلیم دے..
لڑکے نے کہا یا امیر المؤمنین میرے والد نے کوئی حق ادا نہیں کیا,ایک مجوسی کی باندی سے شادی کر لی اور میرا نام جعل(سیاہ فام و بدصورت) رکھا اور مجھے قرآن پاک کی کوئی تعلیم نہ دی..
اس پر حضرت عمر (رض) نے اس شخص سے فرمایا "تم نے تو اپنے بیٹے کو نافرمان ہونے سے پہلے ہی نافرمان بنا دیا,تم نے اس کے ساتھ بُرا معاملہ کیا اس سے پہلے کہ وہ تمھارے ساتھ برا معاملہ کرتا"..
امام غزالی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں "اولاد ماں باپ کے پاس ایک امانت کی مانند ہے,جس کا دل ایک نفیس موتی کی مانند ہے,وہ موم کی طرح نقش پذیر ہے اور ہر نقش سے خالی ہے,اس کی مثال پاک زمین کی طرح ہے کہ جو کچھ اس میں بوو گے وہی اُگے گا,اگر نیکی کا تخم بوو گے تو اولاد سعادت مند ہو گی جبکہ نیک اعمال میں والدین اور اساتذہ ثواب میں شریک ہوں گے اور اگر بدی کا تخم بوو گے تو جو افعال اُس سے سرزد ہوں گے اس میں والدین اور اساتذہ برابر کے شریک ہوں گے...
اپنی اولاد کو مودب بنائیں,نیک اخلاق سکھائیں,دینی تعلیمات سے روشناس کروائیں اور بُری صحبت سے بچائیں کہ یہ فساد کی جڑیں ہیں سب..
بچوں کو سچائی سے قریب کریں,صحیح غلط کا فرق سمجھائیں,حقیقت سے نظریں چُرانا نہیں بلکہ آنکھ ملانا سکھائیں,آپ بھلے اولاد کو سونے کے نوالے کھلاتے رہیں لیکن اگر اُن کی صحیح تربیت نہ کر سکے تو آپ نے اولاد کیلیے کچھ نہیں کیا.....
اولاد کی صحیح تربیت کرنے سے وہ کردار کی بلندی تک پہنچ جاتے ہیں اُن کی شخصیت مکمل ہوتی ہے اور وہ قابل فخر و قابل رشک ہوتے ہیں,اس میں کوئی شک نہیں کہ ماں باپ کا حق اولاد ساری عمر ادا نہیں کر سکتی لیکن یہ بھی اٹل حقیقت ہے جب اولاد کے حقوق ادا ہوتے ہیں تو وہی اولاد پلٹ کر والدین کے حقوق ادا کرتی ہے کیوں کہ وہ آشنا ہوتی ہے صحیح غلط سے...
اولاد کا پہلا حق یہ ہے کہ اسے تربیت کیلیے اچھی ماں ملے,بے شک رب قادر ہے کہ پتھر سے پانی نکال دے,کانٹوں پہ پُھول اُگا دے لیکن پھر بھی لازم ہے کہ ایسی عورت کا انتخاب کریں جو شریعت کی تابعدار ہو,حقوق و فرائض سے آشنا ہو اور رب کے احکامات کو سمجھتی ہو...
اولاد کا دوسرا حق یہ ہے کہ اس کا اچھااور بامعنی نام رکھا جائے,نام انسان کی شخصیت پہ اثر انداز ہوتا ہے اس لیے کوشش کریں صحابہ رضی اللّٰہ عنھم اجمعین اور صحابیات رضی اللّٰہ عنھن جیسے نام رکھیں...
اولاد کا تیسرا حق یہ ہے کہ والدین محبت شفقت اور ایثار و پیار سے پیش آئیں ,ان کی دل جوئی کریں اور حوصلہ افزائی کریں...
اولاد کا چوتھا حق یہ ہے کہ پرورش حلال رزق سے کی جائے کیوں کہ حلال و حرام رزق کا اثر اولاد کی طبیعتوں میں تحلیل ہو جاتا ہے..
اولاد کا پانچواں حق یہ ہے کہ ان کی صحیح نہج پہ تربیت کی جائے,جسمانی کے ساتھ روحانی صحت کا بھی خیال رکھا جائے...
اس کے علاوہ تربیت کے چند گُر جن کو اپنا کر آپ تربیت کا حق ادا کر سکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ
⭐ جب بچہ بولنا شروع کرے تو اسے کلمۂ طیبہ سکھایا جائے اور زرا سمجھدار ہونے پہ اسکا معنی و مفہوم بتایا جائے

⭐بچے کے دل میں اللہ اور اُس پہ ایمان کا شوق اور محبت پیدا کریں جیسے اللہ نے تمھیں پیدا کیا بہت ساری نعمتیں دیں ماں بابا دییے وغیرہ وغیرہ

⭐بچے میں جنت کی رغبت اور جہنم سے نفرت پیدا کریں جیسے جو نماز پڑھتا اسے مزوں والی جنت ملتی ہے جو والدین کی بات سنتا ہے سچ بولتا اسے جنت ملتی ہے
جو جھوٹ بولتا ہے, چوری کرتا ہے, بد زبانی کرتا ہے وہ جہنم کی آگ میں جلتا ہے
غرض اسی طرح ہم. بچے کے دل میں بہت سی اچھی عادتوں کو منتقل کر سکتے ہیں جنت کےشوق سے اور بہت سی بری عادتوں سے بچا سکتے ہیں جہنم کے خوف سے

⭐ بچوں کو سکھائیں کہ جب بھی مشکل ہو, کوئی ضرورت ہو, کچھ چاہیے ہو سوال کرنا ہو اللہ سے ہی کرو بھلے چپکے سے آپ پوری کر دیں بچے کی طلب لیکن اسکے دل دماغ میں یہ ہونا چاہیے کہ اللہ نے پوری کی ہے

⭐سات سال کی عمر سے بچے میں عبادت کا شوق پیدا کریں عملی عبادت کروائیں اپنے ساتھ, خود کر کے دکھائیں

⭐ بچوں میں خود اعتمادی پیدا کریں انکی ہر چھوٹی بڑی بات کو نوٹ کریں حوصلہ افزائی کریں پیار کا عملی اظہار کریں اسے محسوس کروائیں کہ وہ آپکا بہت پیارا بہت بہترین بچہ ہے

⭐ اگر بچے سے غلطی ہو جائے تو مار پیٹ کے بجائے اچھے طریقے سے سمجھائیں خفگی کی سزا دیں لیکن ایک جھجھک ہمیشہ باقی رکھیں کیونکہ مار پیٹ کے بعد بچے کے دل سے ڈر بلکل نکل جاتا ہے بلکہ وہ ڈھیٹ پن میں ڈھل جاتا ہے

⭐ بچوں کو مناسب طریقے سے معاشرے کی اونچ نیچ اچھا برا سمجھائیں ,پہچان کروائیں ایک دم روک کے نہیں بلکہ اچھا برے اثرات بتائیں اور بچے میں مثبت فیصلہ کرنے کی قوت پیدا کریں

⭐مناسب معاملات میں بچوں کی رائے لیں انہیں بولنے کا حق دیں انکی سنیں, اہمیت دیں اور جو انکی سوچ ہے اسکے منفی و مثبت پہلو انکو بتائیں اس سے یہ ہو گا کہ انہیں اپنی سوچ کو اجاگر کرنا اور اظہار ما فی الضمیر کا طریقہ آئے گا

⭐ اگر کبھی بچے کی کوئی حرکت مجبور کر دے برداشت سے باہر ہو تو کوشش کریں بدزبانی نہ ہو بد دعا مت دیں برے الفاظ مت استعمال کریں
بلکہ بہتر ہے کہ ھداک اللہ, اصلحک اللہ, ارشدک اللہ جیسی دعائیں دے دیں

⭐ بچوں اور بچیوں میں پردہ اور بے پردگی کو واضح کریں اور انہیں بتائیں ایسی باتیں ایسے طریقے جو انہیں جنسی ہراساں کرنے اور ہونے سے بچائیں تا کہ وہ اپنا تحفظ کر سکیں اچھی طری نظر کو سمجھ سکیں

⭐ بچوں کے اندر وقتاً فوقتاً اخلاق و آداب منتقل کرتے رہیں اور ایک ایک کر کے کھانے پینے سونے جاگنے اٹھنے بیٹھنے بولنے چلنے غرض ہر بات کے ادب آداب بتائیں اور اسکا عملی نمونہ ہم خود ہوتے بچے کے لیے...

⭐ بچے کے اندر اپنے علاوہ دوسروں کا خیال رکھنے دکھ درد بانٹنے اور اچھے اخلاق کا استعمال کرنے جیسی عادات ڈالیں اچھے مسلمان کیساتھ ساتھ اسے اچھا انسان بنانا مت بھولیں بلکہ انسانیت کو ہر حال میں مقدم رکھیں....

اولاد ہمارے پاس امانت ہوتی ہے اگر ہم نے اس کا صحیح حق ادا نہ کیا تو گویا خیانت کی ,اولاد کو بھلے جس مقام تک پہنچا دیں لیکن سب سے پہلے اک اچھا انسان بنائیں,سچا مسلمان بنائیں,یہ زندگی میں بھی کارِ ثواب ہو گا اور آخرت میں بھی کام آئے گا...
اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو حقوق ادا کرنےاور فرائض پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے.......آمین

31/07/2020

جنس پرستی نہیں شریعت پرستی کیجیے!!
بقلم عاتکہ عباسی

میں بارہا,مسلسل اور اکثر دیکھتی ہوں کہ چھوٹی سے چھوٹی بات ہو یا کوئی بڑا مسئلہ,نجی سطح کا ہو,معاشرتی سطح کا یا پھر عالمی سطح کا ہو مرد اور عورت ایک دوسرے پہ لعن طعن اور تشنیع و توبیخ سے کام لے رہے ہوتے ہیں,عورتوں کی سُنو تو انکے نزدیک مرد سے زیادہ ظالم سفاک اور شرپسند مخلوق اس کرّہ ارض پہ نہیں ملتی جبکہ دوسری طرف مردوں کی سُنو تو اُنہیں لگتا ہے کہ عورت مکّار اور فریبی ہو جو ہمدردیاں سمیٹنے کیلیے مظلوم بن جاتی ہے..
ذہن میں کئی طرح کے اشکالات جنم لیتے ہیں ,سوچتی ہوں کہ مرد و عورت جو ایک دوسرے کیلیے لازم و ملزوم ہیں,ایک دوسرے کے بنا ادھورے ہیں اور انکا دائرہ حیات ایک دوجے کے بنا چلنے سے قاصر ہے وی کیسے آپس مین گھتم گھتا ہیں,ان دونوں کا اجماع ہی معاشرے کو تشکیل دیتا ہے بلکہ یوں کیوں نہ کہا جائے کہ وہ سیر کیا جس کا سَوا سیر نہ ہو اور وہ سَوا سیر ہی نہیں جس کا سَیر نہ ہو....
پہلی بات تو یہ ہے اوّلاً نہایت ہی خُوبصورت رشتوں میں بندھے یہی مرد و عورت ایک دوسرے کو آگے بڑھا رہے ہیں,ثانیاً کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی,کسی رشتے کے نہ ہوتے ہوئے بھی انکا اشتراک اس قدر عمیق ہے کہ کسی ایک کے سر پہ معاشرے کا کوئی وجود ہی نہیں ہے....
تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عمومی شرکت کے بعد کسی بھی اچھائی کا سہرا یا برائی کا ملبہ کسی ایک فریق پہ کیسے جا سکتا ہے؟؟؟
اور اگر کسی ایک پہ نہیں ہے تو یہ بھی ممکن نہیں دونوں ہی غلط ہوں,لہذا اب اس گُھتی کو کیسے سُلجھایا جائے گا؟؟
اس مسئلے میں مجموعی طور پہ اگر بات کی جائے تو عوام الناس کے تین طبقات دیکھنے کو ملتے ہیں
ایک طاقت ور طبقہ
ایک کمزور طبقہ
اور ایک درمیانہ طبقہ
اب پہلے دونوں طبقات کے بیچ جنگ و جدل رہتا ہے جبکہ تیسرا طبقہ طرفداری و جانبداری میں مصروف رہتا ہے کبھی عورت ازم(feminism)کی حمایت میں پورے جوش کے ساتھ سرگرداں رہتا ہے اور کبھی مرد ازم(masculism) کی صفائی سُتھرائی میں کچھ ذیادہ ہی مشغول نظر آتا ہے,یہ مٹھی چاپی کرنے والا طبقہ اصل میں فساد کی وہ جڑ ہے جو پھیلتی ہی جا رہی ہے اور شخصیتوں میں دراڑیں ڈالتی جا رہی ہے,کیونکہ اس طبقے نے خود پرستی,ابا پرستی اور جنس پرستی کے بے شمار اصنام کے آگے ٹیک دیا ہے مرد و عورت دونوں کو,دونوں ہی خود کو حق بجانب,ستے ساوترے اور ہر حال میں ہمیشہ درست پاتے ہیں اور ایک کے بعد باقی چار انگلیاں بھی خلاف معمول مخالف جنس پہ اٹھاتے ہیں.....
اب آپ سوچ رہے ہوں گے یہ تیسرا طبقہ کون سی مخلوق ہے؟؟؟
تو اتنا نہ سوچیں یہ گامے گھسیٹے انہی پہلے دو طبقات میں سے ہوتے ہیں جو بڑی مہارت سے بِھڑوانا تو جانتے ہیں مگر اصل وجہ,بنیادی سبب اور فتنے کو روپوش کر دیتے ہیں....
یہاں میرے قارئین کے لیے ایک قابل غور بات ہے کہ کہیں ہم بھی مرد اورعورت کے علاوہ اس گامیانہ طبقے میں تو شمار نہیں ہوتے؟؟؟؟اگر ہوتے ہیں تو براۂ کرم اپنی جنس کی صحیح معنوں میں عزت کیجے اور حقیقت سے آنکھیں ملائیے اس سے قبل کہ تباہی آپکی آنکھیں ہمیشہ کیلیے بند کر دے. .
خیر بات ہو رہی تھی اصل وجہ کی تو میرےمشاہدے کے کے مطابق منفی کے تو خیر اثرات ہی منفی ہوتے ہیں خواہ منفیات کم ہوں یا زیادہ,لیکن کبھی کبھی یہ مناسب مقدار میں مثبت کے حصول کیلیے استعمال ہو سکتے ہیں, جبکہ اسکے ساتھ ہی مثبت اشیاء کے اندر دونوں رُخ ہوتے ہیں لیکن شدت کے ساتھ منفی رُخ ہوتا ہے,وہ کیسے؟؟
وہ ایسے کہ مثبت اُس وقت تک ہی فائدہ مند ہے جب تک اپنی حد کے اندر ہے,اپنے مدار میں ہے,اپنے دائرے میں ہے,جیسے ہی وہ بے حد ہونے لگے,دائرہ اور مدار سے نکلنے لگے وہ منفیت میں ڈھلنے لگ جاتا ہے اور اتنی شدت اختیار کر لیتا ہے کہ اسکی تباہی سونامی کی شکل اختیار کر لیتی ہے..
جی ہاں!!!!گر آپ نے یہ تمہید غور سے پڑھی ہے تو آپکو خوب سمجھ آ گیا ہو گا کہ میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں...
مطلب یہ ہے کہ فی نفسہ نہ مرد عورت کیلیے مضر ہے نہ عورت مرد کیلیے لیکن جب وہ دونوں اپنی حدود پار کرنے لگ جاتے ہیں(اکثریت کو تو علم ہی نہیں انکی حدیں ہیں کیا) ,جب وہ اپنے اپنے مدار سے نکلنے لگتے ہیں تو انکے دائروں کا اختلاط ہونے لگتا ہے,اصل سے خروج انکا داخلہ غیر میں کرانے لگتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے؟؟
پھر وہ دونوں غلطی کا مصداق بننے لگتے ہیں اور نتیجتاً کہیں مرد جابر ہو جاتا تو عورت مجبور,کہیں مرد مفلس ہو جاتا ہے تو عورت مغرور,عزتیں پامال ہوتی ہیں تو غیرتوں کو زنگ لگنے لگتے ہیں,جو وجود ایک دوسرے کیلیے لازمی ہیں وہ جڑوں میں نیست و نابودگی کا تیزاب پھینکنے کے منصوبے بنانے لگتے ہیں..
اور یہی تو ہو رہا ہے آجکل دونوں جنسیں ایک دوسرے پہ تابڑ توڑ حملے کرتی ہیں,الزام تراشیاں,تہمتیں اور خرابیاں سب مل ملا کر بھی سوائے فساد کے کچھ سامنے نہیں لا سکتے,تھک ہار کر,ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہا بالآخر چپ ہو بیٹھتے تاوقتیکہ کوئی نیا فتنہ نمودار نہ ہو جائے......
تو اس عالمی سطح کو چُھوتے مسئلے کا نہایت آسان اور سادہ سا حل یہ ہے کہ آپ بذات خود چاہے مرد ہیں یا کہ عورت اپن پہچان بنائیے,اپنے مقام کو سنبھالیے اور اپنی حدوں سے واقفیت حاصل کیجیے یقین کریں ایسا کرنے سے میں اس بات کا دعوٰی تو نہیں کرتی کہ مسئلہ سر اُٹھائے گا ہی نہیں لیکن یہ ضرور کہوں گی اور پورے دعوے سے کہوں گی کہ جب جب یہ مسئلہ درپیش ہو گا آپ اسے حل کر لیں گے.....ان شاءاللہ

🌷خواص اسمائے حسنٰی🌷اس اسم مبارک کو ایک ہزار بار مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھے تو حیرت دفع ہو ..........ان شاءاللہ.....(اس...
29/07/2020

🌷خواص اسمائے حسنٰی🌷
اس اسم مبارک کو ایک ہزار بار مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھے تو حیرت دفع ہو ........
..ان شاءاللہ.....

(اسرار اسمائے ربّانی
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللّٰہ)

23/07/2020

عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت
بقلم: آبِ حیات

یکم ذی الحجہ سے 10 ذی الحجہ تک دس دنوں پہ مشتمل یہ عرصہ اپنی ذات میں انتہائی فضیلت و اہمیت رکھتا ہے اور رمضان کے بعد معظم و مکرم عشرہ ہے...
قرآن پاک میں ارشاد ربّانی ہے
قسم ہے فجر کی ⭐
اور دس راتوں کی⭐
(سورۃ فجر)

مفسرین کے نزدیک ذو الحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ جن کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے، نبی کریم نے فرمایا عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے عمل صالح اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں، حتی کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں سوائے اس جہاد کے جس میں انسان شہید ہوجائے۔ (البخاری، کتاب العیدین، باب فضل العمل فی ایام التشریق)

رُتبے,قبولیت اور عظمت کے لحاظ سے یہ عرصہ ہمارے لیے بہترین موقع ہے کہ ہم اس میں رب کریم کے ساتھ ربط مظبوط کر لیں,زیادہ سے زیادہ عبادت کریں,تلاوت کریں دعاؤں کا اہتمام کریں,روزے کا اہتمام کریں اور صدقہ خیرات غرض جس بھی طرح نیک عمل کر سکتے ہیں بقدر ہمت و استطاعت کریں....
حںرت عبد اللّٰہ بن عباس رض سے روایت ہے نبی کریم صل اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا " کوئی دن ایسا نہیں جس میں نیک عمل اللّٰہ کے ہاں ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو....(صحیح بُخاری)

ایک حدیث مبارکہ میں آپ صل اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ " اللّٰہ تعالٰی کے ہاں عشرۂ ذی الحجہ سے زیادہ عظمت والے دوسرے کوئی دن نہیں ہیں,ان دنوں میں کثرت سے تسبیح,تحمید,تکبیر اور تہلیل کیا کرو...........(طبرانی)

امام قرطبی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ یہی دس راتیں موسٰی علیہ السّلام کیلیے مخصوص کی گئی تھیں اور یہ بے حد فضیلت والی راتیں ہیں...

ان ایام میں تکبیر تشریق پڑھنے کا اہتمام کریں
اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر
اللّہ اکبر وللّٰہ الحمد
اللّٰہ سب سے بڑا ہے,اللّٰہ سب سے بڑا ہے,اُس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللّٰہ سب سے بڑا ہے,اللّٰہ سب سے بڑا ہے اور اللّٰہ کیلیے سب تعریفیں ہیں..
تکبیر تشریق ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے اس سے زیادہ خلافِ سُنت ہے ,اور تکبیر تشریق کو ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ بلند آواز سے کہا جائے جبکہ عورتیں پست آواز میں کہیں گی...
تکبیر تشریق واجب ہونے کیلیے تین شرطیں ہیں..
⭐انسان مقیم ہو ,مسافر پہ واجب نہیں
⭐شہر میں ہو,گاؤں میں کے تو واجب نہیں
⭐ جماعت مستحبہ ہو ,منفرد پہ واجب نہیں...
لیکن مفتٰی بہ قول یہ کے کہ ہر اُس شخص پہ تکبیرات واجب ہیں جس پہ نماز فرض ہے....
اور یہ تکبیرات 9 ذی الحجہ کی فجر سے لیکر 13 ذی الحجہ کی عصر تک پڑھی جاتی ہیں....
(فتاوی شامی)
نویں ذی الحجہ کو عُرفہ کا دن کہتے ہیں ,عُرفہ ایک مخصوص جگہ کا نام ہے اور یہ مکان کے علاول زمان کیلیے بھی استعمال ہوتا ہے..
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا سے روایت ہے کہ آپ صل اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں اللّہ تعالٰی بندے کو عُرفہ کے دن سے زیادہ آگ سے آزاد کرتا ہو(عُرفہ کے دن اللّٰہ تعالٰی سب سے زیادہ بندوں کو آگ سے نجات اور رُستگاری کا پروانہ عنایت فرماتا ہے ) اور بلاشبہ اس دن اللّٰہ تعالٰی اپنی رحمت و مغفرت کے ساتھ بندوں کے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے حج کرنے والوں پہ فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟؟ جو چاہتے ہیں میں انہیں دوں گا....(صحیح مسلم)

عمرو بن شعیب رض سے روایت کے آپ صل اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایس سب سے بہتر دعا عُرفہ کے دن کی دعا لے خواہ وہ میدانِ عرفات میں مانگی جائے یا کسی بھی جگہ...(ترمذی)

نیز شرح السنہ کی ایک روایت کے مطابق آپ صل اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا" عُرفہ کے دن اللّٰہ تعالی آسمان دنیا میں نزول فرماتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے حاجیوں پہ فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے زرا میرے بندوں کو دیکھو یہ میرے پاس پراگندہ بال,گرد آلود اور آوازیں بُلند کرتے ہوئے دُور دُور سے آئے ہیں میں تمھیں ان پہ گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا.....

ان دنوں کی ,ان بار بار نصیب ہونے والے موقعوں کی فضیلت بیان کرنے لگو تو شاید ممکن ہی نہ ہو بہرحال کوشش کیجیے ان سے مستفید ہونے کی مکمل سعی کیجیے کیوں کہ ہم نہیں جانتے رب کو ہمارا کب کا کیا ہوا کون سا عمل پسند آ جائے,مقبول ہو جائے....
اور ان مبارک دنوں کے فیوض و برکات سمیٹتے ہوئے اپنے دوستوں کو ,احباب کو ساری امت مسلمہ سب انسانیت کو اپنے ساتھ یاد رکھیے گا...
رب کریم ہم سب کی کاوشوں کو قبول و منظور فرمائے.....آمین

🌷خواص اسمائے حسنٰی🌷اس اسم مبارک کو ایک ہزار بار پڑھنے والا ہر قسم کے ضرر سے محفوظ رہے ..........ان شاءاللہ.....(اسرار اس...
13/07/2020

🌷خواص اسمائے حسنٰی🌷
اس اسم مبارک کو ایک ہزار بار پڑھنے والا ہر قسم کے ضرر سے محفوظ رہے ........
..ان شاءاللہ.....

(اسرار اسمائے ربّانی
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللّٰہ)

🌷خواص اسمائے حسنٰی🌷اس اسم مبارک کو  دس ہزار بار پڑھنے سے مقصد حاصل ہو اور ضرر سے پناہ ملے ..........ان شاءاللہ.....(اسرا...
12/07/2020

🌷خواص اسمائے حسنٰی🌷
اس اسم مبارک کو دس ہزار بار پڑھنے سے مقصد حاصل ہو اور ضرر سے پناہ ملے ........
..ان شاءاللہ.....

(اسرار اسمائے ربّانی
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللّٰہ)

🌷خواص اسمائے حسنٰی🌷اس اسم مبارک کو پڑھنے اور لکھ کر پاس رکھنے دے فہم و بصیرت ملتی ہے اور اہل حکومت ورد میں رکھے گو بے حد...
11/07/2020

🌷خواص اسمائے حسنٰی🌷
اس اسم مبارک کو پڑھنے اور لکھ کر پاس رکھنے دے فہم و بصیرت ملتی ہے اور اہل حکومت ورد میں رکھے گو بے حد اچھا ہے........
..ان شاءاللہ.....

(اسرار اسمائے ربّانی
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللّٰہ)

Address

Main
Delhi
110032

Telephone

+919643938991

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when راہِ ھدایت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to راہِ ھدایت:

Share