14/08/2020
تربیت اک غور طلب پہلو
ازقلم : عاتکہ عباسی
اللّٰہ رب العزت نے انسان کو بے شمار نعمتوں,راحتوں اور آسائشوں سے نوازا ہے,سورج ,چاند,ستارے,مختلف موسم,پھل پھول,حسیات,اور ان گنت انعامات و اکرامات میں سے اک نعمت اور رحمت ہے "اولاد" جو لخت جگر بھی ہے او نورِ نظر بھی ہے,رونقِ خانہ بھی ہے اور دل کا سرور بھی ...
سورۃ کہف میں ارشاد ہوتا ہے
"مال اور بیٹے دنیا کی زندگی میں رونق ہیں"
ایک اور جگہ سوۃ فرقان میں ارشاد ہوتا ہے
"اے ہمارے رب ہم کو ہماری عورتوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا پیشوا بنا دے
اب یہی اولاد جو سراسر رونق ہے سکون ہے خوشی ہے جس پہ انسان فخر کرتا ہے,جی جان سے محبت کرتا ہے,اس کی ضروریات پوری کرنے کیلیے دن رات ایک کر دیتا ہے,وہی اولاد نری زحمت بن جاتی ہے,والدین کی شاہراہ حیات پہ جا بجا کانٹے بکھیر دیتی ہے,اکثر تو ایسا محسوس کروا دیتی کہ ہزاروں جتن کر کے آ بیل مجھے مار کو مقدر بنوا لیا....
لیکن یہ سب خود بخود یونہی تو نہیں ہو جاتا نا,کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے,سبب ہوتا ہے تو آئیے ہم درجہ بہ درجہ وجوھات پہ نظر ڈالتے ہیں..
انسان کو وجود بخشنے کے ارادے سے ہی وہ رب انسان (بچے)کو انسان(ماں) کے حوالے کر دیتا ہے اور یقین جانیں میری نسیں پھٹ رہی ہیں اس حقیقت کو لکھتے ہوئے کہ تخلیق کے مراحل سے گزرتے ہوئے ہی ,رحم مادر کے اندر ہی ذات کو کمزور,ناقص اور خام بنانے والے عناصر بذریعہ انسان تشکیل و ترتیب پانے لگتے ہیں,وہ کیسے؟؟؟؟؟
وہ مادر(ماں) جس کے رحم میں ننھا وجود اپنی تخلیق کے مراحل طے کر رہا ہوتا ہے اس بات سے یکسر بے پرواہ ہوتی ہے کہ میری ایک ایک سوچ,میرا عمل,میری حرکات و سکنات کا اثر میرے اندر وجود پاتے بچے پہ پڑتا ہے..آپ کو شاید میری یہ بات لایعنی لگے لیکن میں دورِ حاضر کی مثال آپ کے سامنے رکھ دیتی ہوں,موجودہ دور میں پیدا ہونے والے بچوں کی اکثریت اوائل عمر میں بلکہ صغر سنی میں ہی اُلجھن,چڑچڑے پن,غصے,بدتمیزی جیسی عوامل حتی کہ ڈپریشن تک کا شکار ہوتے ہیں,غور کیجے ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟
اگر آپ سوشل سروے کر کے حاملہ خواتین کی روٹین چیک کریں تو آپ کو میری بات باآسانی سمجھ آ جائے گی اور اگر سروے کرنا مشکل ہے تو آپ اپنے دین کا مطالعہ کرلیجیے,آپ پہ روزِ روشن کی طرح یہ بات عیاں ہو جائے گی بچے کہ تخلیق کے دوران اس پہ کن کن باتوں کا کیسے کیسے اثر ہوتا ہے....(اگر میں اس کو بیان کرنے لگوں گی تو ایک باقاعدہ الگ موضوع بن جائے گا)
خیر میرا مقصد یہ بتانا ہے کہ پہلا تباہی سے بھرپور حملہ انسان پہ آج کل نوزائیدگی میں ہی سوکالڈ تہذیب یافتہ معاشرے کی لبرل ماں کرتی ہے,بہت سوں کو اختلاف ہو گا میری بات سے جسے میں اپنی خوش بختی سمجھ کر قبول کروں گی کیوں کہ سچ کو کوئی عار نہیں,موجودہ ماؤں میں اکثریت کے طور اطوار سے ہم سب ہی واقف ہیں....
چلو جی اس مرحلے سے اگر "بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی" جیسے کوئی بچ بھی جاتا ہے تو اگلا وار ناقص تربیت کا ہوتا ہے.......
وی عمر اور وہ وقت جس میں اس نازک ٹہنی کو مثبت سوچ افکار اور صحت مند ماحول کے چشمے سے سیراب کر کے ایسا تناور درخت بنانا تھا جو درماندہ و پراگندہ حال مسافروں کیلیے چھاؤں مہیا کرتا,اُسے مادہ پرستی کی دیمک لگا دی جاتی ہے جس کے سبب دوسروں کیلیے راحت و سکون بننا تو کُجا وہ اپنی خود کی زندگی کو جینے سے بھی محروم رہتی ہے....
ماں باپ یہ سوچتے رہ جاتے کہ بچہ ہے ابھی عمر پڑی ہے سیکھنے کو اور پھر جب بقول والدین کے سیکھنے کی عمر آتی ہے تو بچہ خود سکھا رہا ہوتا ہے اور وہ بھی سبقِ جدید کہ " مجھے میرے اچھے بُرے کا پتا ہے"
ان کی بدتمیزی کو,گالیوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ " ابھی بچہ ہے" اور جب وہ بڑا ہوتا ہے تو والدین کاشجرہ نسب تک کھنگال دیتا ہے (یہ تو اسکی کچی عمر سے اُس کے ساتھ ساتھ ہو رہا سب)
محفلوں میں اور مہمانوں کے سامنے معصوموں کو نچا کر خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں اور پھر یہی معصومین بڑے ہو کر تگنی کا ناچ نچاتے ہیں(لو کہ پہلے تالیاں بجاتے تھے دیکھ کر اب سر پیٹو اپنا)
یاد رکھیں جس عمر کو ہم یہ کہہ کر ضائع کر دیتے ہیں کہ کھیلنے کودنے کی عمر ہے بڑے ہو کر سیکھ لے گا,یہ بہت قیمتی وقت ہوتا ہے,بچہ وائٹ بورڈ کی طرح ہوتا ہے, جو جو اس پہ اِس عمر میں لکھا جائے وہ تاعمر مٹے گا نہیں,بھلے ہم اُسے مٹاتے مٹاتے خود مِٹ جائیں,بے شک ہم ببولوں کے بیج بو کر گل و لالہ کی اُمید لگائے رکھیں مگر یہ حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے..
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے پاس ایک صاحب اپنے بیٹے کی نافرمانی کے بارے میں شکایت کرنے آئے,حضرت عمر رض نے لڑکے کو بُلا کر تنبیہہ کی اور والدین کے حقوق بتائے,لڑکے نے کہا امیر المؤمنین کیا اولاد کا والدین پہ کوئی حق نہیں ہوتا؟؟آپ (رض) نے فرمایا " کیوں نہیں اولاد کا حق ہے کہ باپ تربیت کیلیے نیک ماں کو چُنے, اچھا نام رکھے اور قرآن پاک کی تعلیم دے..
لڑکے نے کہا یا امیر المؤمنین میرے والد نے کوئی حق ادا نہیں کیا,ایک مجوسی کی باندی سے شادی کر لی اور میرا نام جعل(سیاہ فام و بدصورت) رکھا اور مجھے قرآن پاک کی کوئی تعلیم نہ دی..
اس پر حضرت عمر (رض) نے اس شخص سے فرمایا "تم نے تو اپنے بیٹے کو نافرمان ہونے سے پہلے ہی نافرمان بنا دیا,تم نے اس کے ساتھ بُرا معاملہ کیا اس سے پہلے کہ وہ تمھارے ساتھ برا معاملہ کرتا"..
امام غزالی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں "اولاد ماں باپ کے پاس ایک امانت کی مانند ہے,جس کا دل ایک نفیس موتی کی مانند ہے,وہ موم کی طرح نقش پذیر ہے اور ہر نقش سے خالی ہے,اس کی مثال پاک زمین کی طرح ہے کہ جو کچھ اس میں بوو گے وہی اُگے گا,اگر نیکی کا تخم بوو گے تو اولاد سعادت مند ہو گی جبکہ نیک اعمال میں والدین اور اساتذہ ثواب میں شریک ہوں گے اور اگر بدی کا تخم بوو گے تو جو افعال اُس سے سرزد ہوں گے اس میں والدین اور اساتذہ برابر کے شریک ہوں گے...
اپنی اولاد کو مودب بنائیں,نیک اخلاق سکھائیں,دینی تعلیمات سے روشناس کروائیں اور بُری صحبت سے بچائیں کہ یہ فساد کی جڑیں ہیں سب..
بچوں کو سچائی سے قریب کریں,صحیح غلط کا فرق سمجھائیں,حقیقت سے نظریں چُرانا نہیں بلکہ آنکھ ملانا سکھائیں,آپ بھلے اولاد کو سونے کے نوالے کھلاتے رہیں لیکن اگر اُن کی صحیح تربیت نہ کر سکے تو آپ نے اولاد کیلیے کچھ نہیں کیا.....
اولاد کی صحیح تربیت کرنے سے وہ کردار کی بلندی تک پہنچ جاتے ہیں اُن کی شخصیت مکمل ہوتی ہے اور وہ قابل فخر و قابل رشک ہوتے ہیں,اس میں کوئی شک نہیں کہ ماں باپ کا حق اولاد ساری عمر ادا نہیں کر سکتی لیکن یہ بھی اٹل حقیقت ہے جب اولاد کے حقوق ادا ہوتے ہیں تو وہی اولاد پلٹ کر والدین کے حقوق ادا کرتی ہے کیوں کہ وہ آشنا ہوتی ہے صحیح غلط سے...
اولاد کا پہلا حق یہ ہے کہ اسے تربیت کیلیے اچھی ماں ملے,بے شک رب قادر ہے کہ پتھر سے پانی نکال دے,کانٹوں پہ پُھول اُگا دے لیکن پھر بھی لازم ہے کہ ایسی عورت کا انتخاب کریں جو شریعت کی تابعدار ہو,حقوق و فرائض سے آشنا ہو اور رب کے احکامات کو سمجھتی ہو...
اولاد کا دوسرا حق یہ ہے کہ اس کا اچھااور بامعنی نام رکھا جائے,نام انسان کی شخصیت پہ اثر انداز ہوتا ہے اس لیے کوشش کریں صحابہ رضی اللّٰہ عنھم اجمعین اور صحابیات رضی اللّٰہ عنھن جیسے نام رکھیں...
اولاد کا تیسرا حق یہ ہے کہ والدین محبت شفقت اور ایثار و پیار سے پیش آئیں ,ان کی دل جوئی کریں اور حوصلہ افزائی کریں...
اولاد کا چوتھا حق یہ ہے کہ پرورش حلال رزق سے کی جائے کیوں کہ حلال و حرام رزق کا اثر اولاد کی طبیعتوں میں تحلیل ہو جاتا ہے..
اولاد کا پانچواں حق یہ ہے کہ ان کی صحیح نہج پہ تربیت کی جائے,جسمانی کے ساتھ روحانی صحت کا بھی خیال رکھا جائے...
اس کے علاوہ تربیت کے چند گُر جن کو اپنا کر آپ تربیت کا حق ادا کر سکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ
⭐ جب بچہ بولنا شروع کرے تو اسے کلمۂ طیبہ سکھایا جائے اور زرا سمجھدار ہونے پہ اسکا معنی و مفہوم بتایا جائے
⭐بچے کے دل میں اللہ اور اُس پہ ایمان کا شوق اور محبت پیدا کریں جیسے اللہ نے تمھیں پیدا کیا بہت ساری نعمتیں دیں ماں بابا دییے وغیرہ وغیرہ
⭐بچے میں جنت کی رغبت اور جہنم سے نفرت پیدا کریں جیسے جو نماز پڑھتا اسے مزوں والی جنت ملتی ہے جو والدین کی بات سنتا ہے سچ بولتا اسے جنت ملتی ہے
جو جھوٹ بولتا ہے, چوری کرتا ہے, بد زبانی کرتا ہے وہ جہنم کی آگ میں جلتا ہے
غرض اسی طرح ہم. بچے کے دل میں بہت سی اچھی عادتوں کو منتقل کر سکتے ہیں جنت کےشوق سے اور بہت سی بری عادتوں سے بچا سکتے ہیں جہنم کے خوف سے
⭐ بچوں کو سکھائیں کہ جب بھی مشکل ہو, کوئی ضرورت ہو, کچھ چاہیے ہو سوال کرنا ہو اللہ سے ہی کرو بھلے چپکے سے آپ پوری کر دیں بچے کی طلب لیکن اسکے دل دماغ میں یہ ہونا چاہیے کہ اللہ نے پوری کی ہے
⭐سات سال کی عمر سے بچے میں عبادت کا شوق پیدا کریں عملی عبادت کروائیں اپنے ساتھ, خود کر کے دکھائیں
⭐ بچوں میں خود اعتمادی پیدا کریں انکی ہر چھوٹی بڑی بات کو نوٹ کریں حوصلہ افزائی کریں پیار کا عملی اظہار کریں اسے محسوس کروائیں کہ وہ آپکا بہت پیارا بہت بہترین بچہ ہے
⭐ اگر بچے سے غلطی ہو جائے تو مار پیٹ کے بجائے اچھے طریقے سے سمجھائیں خفگی کی سزا دیں لیکن ایک جھجھک ہمیشہ باقی رکھیں کیونکہ مار پیٹ کے بعد بچے کے دل سے ڈر بلکل نکل جاتا ہے بلکہ وہ ڈھیٹ پن میں ڈھل جاتا ہے
⭐ بچوں کو مناسب طریقے سے معاشرے کی اونچ نیچ اچھا برا سمجھائیں ,پہچان کروائیں ایک دم روک کے نہیں بلکہ اچھا برے اثرات بتائیں اور بچے میں مثبت فیصلہ کرنے کی قوت پیدا کریں
⭐مناسب معاملات میں بچوں کی رائے لیں انہیں بولنے کا حق دیں انکی سنیں, اہمیت دیں اور جو انکی سوچ ہے اسکے منفی و مثبت پہلو انکو بتائیں اس سے یہ ہو گا کہ انہیں اپنی سوچ کو اجاگر کرنا اور اظہار ما فی الضمیر کا طریقہ آئے گا
⭐ اگر کبھی بچے کی کوئی حرکت مجبور کر دے برداشت سے باہر ہو تو کوشش کریں بدزبانی نہ ہو بد دعا مت دیں برے الفاظ مت استعمال کریں
بلکہ بہتر ہے کہ ھداک اللہ, اصلحک اللہ, ارشدک اللہ جیسی دعائیں دے دیں
⭐ بچوں اور بچیوں میں پردہ اور بے پردگی کو واضح کریں اور انہیں بتائیں ایسی باتیں ایسے طریقے جو انہیں جنسی ہراساں کرنے اور ہونے سے بچائیں تا کہ وہ اپنا تحفظ کر سکیں اچھی طری نظر کو سمجھ سکیں
⭐ بچوں کے اندر وقتاً فوقتاً اخلاق و آداب منتقل کرتے رہیں اور ایک ایک کر کے کھانے پینے سونے جاگنے اٹھنے بیٹھنے بولنے چلنے غرض ہر بات کے ادب آداب بتائیں اور اسکا عملی نمونہ ہم خود ہوتے بچے کے لیے...
⭐ بچے کے اندر اپنے علاوہ دوسروں کا خیال رکھنے دکھ درد بانٹنے اور اچھے اخلاق کا استعمال کرنے جیسی عادات ڈالیں اچھے مسلمان کیساتھ ساتھ اسے اچھا انسان بنانا مت بھولیں بلکہ انسانیت کو ہر حال میں مقدم رکھیں....
اولاد ہمارے پاس امانت ہوتی ہے اگر ہم نے اس کا صحیح حق ادا نہ کیا تو گویا خیانت کی ,اولاد کو بھلے جس مقام تک پہنچا دیں لیکن سب سے پہلے اک اچھا انسان بنائیں,سچا مسلمان بنائیں,یہ زندگی میں بھی کارِ ثواب ہو گا اور آخرت میں بھی کام آئے گا...
اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو حقوق ادا کرنےاور فرائض پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے.......آمین