Jama Masjid Bharuwala Dehradun

Jama Masjid Bharuwala Dehradun جامع مسجد بڑا بھارو والا دہرادون اتراکھنڈ

26/02/2024

Hanafi maslak ke online Islamic courses ki link aur details darkar hain
Pls bataen

11/02/2024

مورخہ 10 فروری سنہ 2024ء

دہرادون کی ایک مسجد میں مغرب کی نماز پڑھ کر نکلا تو ایک پابند صوم و صلوٰۃ شخص سے ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے کہ مولانا صاحب! حضرت عیسیٰ علیہ السلام مہدی کی شکل میں آئیں گے نا؟
میں نے پوچھا آپ سے کس نے کہا۔ کہنے لگے کہ فلاں دوکان پر لوگ موبائل فون میں سن رہے تھے۔ کوئی یوٹیوب پر بیان کر رہا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام مہدی کی شکل میں آئیں گے۔ جہالت بھی کیا عجب شے ہے۔ کوئی بھی مولوی نما شخص کچھ بتا دے تو بندہ یقین کر لیتا ہے۔بندے نے ان کے سامنے نزول عیسی و ظہور مہدی کے تعلق سے مختصر تعارف پیش کیا۔
افسوس ان کی جہالت کا تو ہوا ہی تھا مگر اس سے کہیں زیادہ افسوس ہمارے علماء و ائمہ کے عدم بیان عقائد کا تھا۔ کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ موقع بموقع عوام کے سامنے عقائد اسلامی کو جامع اور مؤثر انداز میں بیان کیا جائے اور مسلسل کیا جائے تاکہ لوگ اسلامی عقائد سے آگاہ رہیں اور کوئی ان کے ایمان کا سودا نہ کر سکے۔حضرت گوگل اور یو ٹیوب وغیرہ مفید کم مہلک دین و ایمان زیادہ بن گئے ہیں۔ ان آلات کی وجہ سے عوام کی اکثریت علماء و ائمہ سے کٹتی جارہی ہے۔ جس کے ہاتھ میں جتنا بڑا موبائل ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا مفتی اور محقق بن بیٹھتا ہے۔
علماء امت دین اسلام کا مرجع و قیمتی سرمایہ ہیں۔ عوام کو علماء سے جوڑنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ دین بیزاری اور ایمان سوزی کے اس نازک ترین دور میں اس انتظار میں نہیں رہا جا سکتا کہ عوام ہم سے مطالبہ کریں گے۔ عوام کے پاس تو موبائل کی شکل میں بزعم خود ایک مکمل رہنما موجود ہے جو ہر موقع پر ایک کلک میں ان کے ہر سوال کا جواب تلاش کرکے اپنے آقا کی خدمت میں پیش کر دیتا ہے۔اب تو روز ہی کوئی پیغام یوٹیوب کے حوالہ سے انباکس میں آ جاتا ہے کہ مولانا ! ذرا دیکھ کر بتائیں کیا یہ بات صحیح ہے ؟ اس میں کوئی تروتازہ اہلحدیث اپنی نئی نویلی تحقیق پیش کر رہا ہوتا ہے ۔
کیا بڑی تعداد ایسے لوگوں کی نہیں ہوگی جو علماء سے معلوم ہی نہیں کرتے اور صرف یوٹیوب کے کسی بھی جاہل بشکل عالم کا بیان سن کر اس پر ایمان لے آتے ہونگے۔ کالج کی ایک طالبہ کو تفسیر جوناگڑھی کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھ کر تنبیہ کی تو پتہ چلا کہ وہ اس سفر میں کافی آگے تک جا چکی ہے ، موصوفہ نے انٹرنیٹ پر ایک غیر مقلد مفسر کی کلاس جوائن کر رکھی ہے اور روزانہ ان کے تفسیر کاسبق میں اونلاین شرکت کرتی ہے۔ ان سے اس قدر متأثر ہے کہ ان کی شان میں قصیدے پڑھ رہی ہے۔ ممکن بھر سمجھانے کی کوشش کی اور اپنے علماء سے رابطے کا مشورہ دیا۔ ذمہ داریی بہت بڑی ہے۔ لوگوں کو صحیح علم بھی پہونچایا جائے اور موبائل و یوٹیوب پر موجود جھوٹے علماء و مفکرین سے بھی روشناس کرایا جائے، اور اتنا کافی نہیں ہوگا ، بلکہ عصری درسگاہوں کے طلبہ کے سامنے اہلحدیث کے بیانات اور آنلائن کلاسز کا بہترین متبادل بھی پیش کرنا ہوگا اور اس کے لئے لائحہ عمل بھی ترتیب دینا ہوگا کہ کیسے انہیں غلط سے ہٹا کر صحیح راستے پر لایا جائے ۔

11/01/2024

*یادیں*

از قلم :- *محمد عابد فتح پوری*

*یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی ہم حالات حاضرہ میں اپنے ماضی کی کوئی کہانی چلتی ہوئی دیکھتے ہیں اور بیتی ہوئی یادوں میں کھو جاتے ہیں۔*
*میں نے بھی ایک منظر دیکھا اور یادوں کی گہرائیوں میں اتر گیا۔*
*90 کی دہائی کا زمانہ تھا اور میں چنڈیگڑھ کے ایک مدرسہ ابتدائیہ میں زیر تعلیم تھا۔ حفظ قرآن کریم کے ساتھ ہی عصری تعلیم کا بھی بہتر نظم تھا۔ پنجاب کے عصری مدارس کے نصاب میں ہندی انگلش کے ساتھ ہی پنجابی زبان سیکھنا بھی ناگزیر تھا۔ چناچہ ابتداء سے ہی پنجابی زبان پڑھنی پڑی ۔ اوائل زمانہ میں کچھ دقت محسوس ہوئی مگر جیسے جیسے وقت نے رفتار پکڑی ، پنجابی زبان کی سمجھ آنے لگی۔بہت اختلاف کے باوجود پنجابی زبان کے الفاظ کچھ کچھ ہندی زبان سے میل کھاتے تھے ، اور علاقائی زبان ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ پنجابی زبان میں ہی گفتگو کرتے تھے۔ان وجوہات کے ساتھ ہی نئی زبان سیکھنے کا شوق بھی کارفرما تھا کہ الحمد للہ امید سے کم وقت میں پنجابی لکھنے اور پڑھنے کی مہارت پیدا ہوگئی۔*
*علوم دینیہ و عصریہ کےامتحانات کے نتائج مشترکہ طور پر جاری کئے جاتے تھے۔میں جب تک اس ادارے میں زیر تعلیم رہا ، ہر سال اول یا دوم پوزیشن سے امتیازی نمبرات کے ساتھ کامیاب ہوتا رہا۔*
*میری ایک نمایاں عادت یہ تھی کہ میں نقل سے سخت نفرت کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمیشہ محنت اور ایمانداری سے امتحانات میں حصہ لیتا تھا۔ ایک واقعہ اس حوالے سے اکثر یاد آجاتا ہے ۔ غالبا تیسری کلاس کے امتحانات تھے۔ ایک مضمون میں شاید 5 میں سے چار سوال لازمی تھی۔ میں نے سوالات میں غور کیا اور چار سوالات منتخب کرلئے۔ ایک سوال کو میں اپنے دماغ میں حل کررہا تھا کہ نگراں استاذ محترم کی نظر مجھ پر پڑی ۔ وہ بھی مجھ پر بہت مہربان تھے۔ انہیں لگا کہ شاید میں سوال میں الجھ گیا ہوں ۔ وہ میرے قریب آئے اور ادھر ادھر دیکھ کر چپکے سے مجھے جواب بتا دیا۔ مجھے بہت تکلیف ہوئی۔حالانکہ مجھے جواب معلوم تھا مگر میں نے وہ سوال ہی رد کر دیا اور جو مشکل سوال میں نے چھوڑ دیا تھا اس کو حل کیا۔*
*فراغت سے ایک سال پہلے ہی پانچویں کلاس کے امتحان میں اولین پوزیشن حاصل کر چکا تھا۔ مگر اب دقت یہ پیش آئی کہ ادارے میں پانچویں سے آگے کلاسز کا نظم نہیں تھا۔ اور میں اسی ادارے سےقرآن کریم حفظ مکمل کرکے جانا چاہتا تھا۔ مشورے سے یہ طے پایا کہ امسال بھی پانچویں کلاس میں ہی بیٹھایا جائے مگر امتحان کی ضرورت نہ ہوگی۔ چناچہ اس ادارے کے آخری قیام میں گویا پڑھے ہوئے اسباق پھر سے دوہرائے گئے۔ایک ایسا طالب علم جو کسی کلاس میں پہلے ہی اعلیٰ معیار سے کامیاب ہو چکا ہو ، اگر دوبارہ اسی کلاس میں بیٹھے گا تو وہاں اس کا کیا مقام ہو گا ، جبکہ اسے یہ بھی معلوم ہو کہ امتحان بھی نہیں دینا ہے۔ طلبہ و طالبات میں ایک سینیئر کی طرح وقت گزارا۔ اساتذہ کی نظروں میں بھی بہت اعتبار حاصل ہو چکا تھا۔وہ طلبہ کی مدد اور کاپی چیک کرنے کا کام اکثر میرے حوالے کر دیتے تھے ۔*
*بالآخر تعلیمی سال مکمل ہوا ۔ امتحانات کے نتائج کے اعلان کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ مگر نہیں ، تاریخ تو پہلے سے ہی مقرر تھی اور سالہا سال تک مقرر ہی رہی۔ زمانے کے حالات بدلتے رہتے ہیں ، تاریخیں بھی بدلتی ہیں مگر وہ تاریخ نہیں بدلی۔ وہ بدلنی بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔*
*30 جون*
*شاید۔۔۔۔۔مجھے یاد ہے کہ یہ تاریخ ایک سردار جی کی بیٹی کماری وِدُلا دلگیر کی تاریخ وفات تھی۔ سردار جی کا نام یاد نہیں مگر شخصیت بہت یاد ہے۔دلگیر شاید ان کا خاندانی لاحقہ تھا ۔ انہیں طلبہ سے بے انتہا محبت تھی ۔ وہ طلبہ پر اکثر مہربانیاں کیا کرتے تھے۔انہیں اپنی فوت شدہ بیٹی بہت عزیز تھی۔ وہ اسے بھلا نہیں پا رہے تھے، یا شاید بھولنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ آنجہانی بیٹی کی یادوں کو سنبھال کر رکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ وہ ہر سال اس کی یاد کو شدت سے مناتے تھے اور اپنے غم میں اوروں کو بھی شامل کرتے تھے ۔ انہوں نے ادارے کے آفس میں باقاعدہ یہ بات منوائی الکہ طلبہ کا انعامی فنکشن 30 جون کو ہی منایا جایا کرے جس کے انتظامات وہ اپنی نگرانی میں کرواتے تھے۔طلبہ کے لئے وہ میڈلز بھی بنوا کر لاتے تھے جن پر ان کی آنجہانی لاڈلی بیٹی کی یاد کا نشان اور طلبہ کا نام کندہ ہوتا تھا۔*
*سردار جی کے ساتھ ان کی چھوٹی بیٹی بھی ادارے میں آیا کرتی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ شہناز۔۔۔۔۔۔۔۔جی ہاں یہی نام تھا ان کا۔ایک فنکشن میں سردار جی نے خود انکے نئے نام کا اعلان کیا تھا اور حاضرین کو بتایا تھا کہ بیٹی اپنی مرضی سے اسلام کی آغوش میں آ کر نماز روزے کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ وہ انتہائی ہوش و حواس میں یہ فیصلہ لے رہی ہے۔ہم آج تک اس کی ہر خواہش پوری کرتے آئے ہیں ۔ اور آئندہ بھی اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ ہم اس کے فیصلے کا فراخ دلی سے استقبال کرتے ہیں۔اس اعلان نے ہر چہار سو خوشیاں بکھیر دی تھیں۔*
*شہناز بی بی اپنے والد کی طرح بلکہ ان سے بھی کہیں زیادہ طلبہ سے محبت کرتی تھیں اور اکثر اپنی شفقتوں اور عنایات کا اظہار کرتی رہتی تھیں۔طلبہ کے کھانے پہننے کا بہت خیال رکھتی تھیں۔یہ حقیقت ہے کہ طالبان علوم نبوت سے محبت کی برکت سے ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں دولت ایمان سے نوازا تھا۔*
*مجھے یاد ہے ادارے کی جامع مسجد میں ایک شخص اکثر عصر کی نماز کے بعد آتے تھے اور مصلیوں کے جانے کے بعد مسجد میں صفائی کیا کرتے تھے۔ وہ غیر مسلم تھے۔ مگر مسجد سے بہت محبت کرتے تھے۔ انہوں نے مسجد کی صفائی کے لئے انتظامیہ سے اجازت لے رکھی تھی۔ ایک مدت کے بعد اللہ تعالٰی نے انہیں ایمان کی دولت سے نوازدیا تھا۔ ان کا نام محمد یامین تجویز کیا گیا تھا۔ وہ بہت خوش تھے۔ پچھلے کچھ عرصے سے مجھے اکثر ان کی یاد آتی رہتی تھی۔ سوچتا تھا کہ نہ جانے وہ اب کس حال میں ہونگے۔ ہونگے بھی یا نہیں۔ پچھلے دنوں میں چنڈیگڑھ گیا تو ادارے میں بھی گیا۔ عصر کی نماز کے بعد نظریں بلا اختیار یامین سر کو تلاش کرنے لگیں ۔ سوچ رہا تھا کہ انہیں پہچانوں گا کیسے۔ 31 سال کا عرصہ کم تو نہیں تھا، نہ جانے اب وہ کس شکل و صورت میں ہوں گے۔ مگر ۔۔۔۔ بالآخر نظروں نے انہیں پہچان لیا۔ وہی شکل و شباہت ، وہی معصومیت ، وہی شفقت بھرا انداز۔میں نے اپنا تعارف کرایا۔ مجھے معلوم تھا کہ بچپن میں کسی سے بچھڑ کر جوانی کے عروج تک پہنچتے پہنچتے ہم ان کی نظروں سے اکثر محو ہو جاتے ہیں مگر یامین سر بالکل اس طرح پیش آرہے تھے جیسے ہم کل ہی مل چکے تھے۔ وہی شفقت وہی مسکراتا ہوا معصوم چہرہ۔ اللہ تعالیٰ انہیں نظر بد سے محفوظ رکھے اور اپنے اولیاء میں بہترین مقام عطا کرے۔ آمین*
*30 جون کی تاریخ میری زندگی میں جب بھی آتی تھی ، ایک اعتبار سا بخش جاتی تھی۔ زندگی کی خوشیوں میں اضافہ سا کر جاتی تھی۔ میں نے کئی سال تک مسلسل سردار جی اور شہناز بی بی سے میڈلز حاصل کئے۔مگر اس سال مجھے معلوم تھا کہ میرے نام کا کوئی میڈل نہیں ہوگا۔ میں نے امتحان میں شرکت نہیں کی تھی۔ دل میں ایک عجیب سی بے کلی تھی، ایک خلا ساتھا جو بےچین کر رہا تھا۔ فنکشن بھی نئے انداز میں ترتیب دیا گیا تھا۔ چند سیاسی شخصیات بھی آنے والی تھیں۔ میڈلز کی فہرست میں بھی جدت نظر آرہی تھی ۔ دو میڈلز سب سے منفرد اورنمایاں نظر آ رہے تھے۔*
*پروگرام شروع ہوا اور ہر جماعت کے فرسٹ ، سیکنڈ اور تھرڈ ڈویژن حاصل کرنے والے طلبہ میں تمام میڈلز تقسیم کر دئے گئے۔ حسرت بھری نگاہیں کبھی میڈل کو دیکھتی تھیں اور کبھی میڈل حاصل کرنے والے کی طرف اٹھ جاتی تھیں۔*
*انعامات تقسیم ہو چکے تھے ۔ تمام پوزیشن ہولڈرس کو میڈلز مل چکے تھے۔ مگر اسٹیج پر ابھی بھی دو میڈلز رکھے ہوئے تھے ۔ دو امتیازی میڈلز ۔ ایسے میڈلز پچھلے سالوں میں نظر نہیں آئے تھے۔ ایک بیچینی سی تھی جو اب بڑھ چکی تھی کہ آخر یہ میڈلز کس کے لئے ہیں ۔*
*بالآخر اناؤنسر نے اعلان کیا ، جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔ ۔۔۔۔۔ ۔ حضرات ۔ امسال انتظامیہ کی طرف سے ادارے کا سروے کیا گیا اور یہ جانچا گیا کہ کس طالب علم کی کاکردگی تعلیم و اخلاق میں نیز قرآن کریم کے تعلق سے غرض ہر اعتبار سے پورے سال میں سب سے بہتر رہی ہے۔ چناچہ سب سے امتیازی مقام دو طلبہ نے حاصل کیا ہے۔*
*پہلے انعام کے حقدار ہیں لڑکوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
*مجھے یاد ہے کہ لڑکوں میں پہلے مقام پر اپنا نام سن کر میں ایک الگ ہی کیفیت سے روشناس ہوا تھا ، وہ کیفیت بہت سرور آمیز اور لذت انگیز تھی۔ آنکھیں خوشی سے اشکبار ہوئی جا رہی تھیں۔دل ایک نئے انداز میں دھڑک رہا تھا۔۔۔۔یہ خوشی میرے لئے ایک تاریخی خوشی ہونے والی تھی۔اس وقت میں نے سوچا نہیں تھا کہ میں تقریباً 30 سال بعد اس کہانی کو کھوئی ہوئی یادوں سے نکال کر سپرد تحریر کروں گا۔*
*دوسرا میڈل لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کے حصے میں آیا تھا۔ غالبا وہ شبنم تھی۔*
*نام دوبارہ بولا گیا اور میں لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے اپنا میڈل لینے کے لئے اسٹیج کی جانب بڑھ گیا۔*

26/08/2023

याद रखें कि कल से नया फेसबुक नियम
(उर्फ... नया नाम मेटा) शुरू हो रहा है, जहां वे आपकी तस्वीरों का उपयोग कर सकते हैं।

मैं Manzoor Hussain Qureshi फेसबुक या फेसबुक से जुड़ी किसी भी इकाई को अपने अतीत और भविष्य के चित्रों, सूचनाओं, संदेशों या प्रकाशनों का उपयोग करने की अनुमति नहीं देता।
इस बयान के साथ, मैं फेसबुक को सूचित करता हूं कि इस प्रोफ़ाइल और/या इसकी सामग्री के आधार पर मेरे खिलाफ खुलासा, प्रतिलिपि, वितरण या कोई अन्य कार्रवाई करना सख्त वर्जित है।
निजता का उल्लंघन करने पर कानून द्वारा दंडित किया जा सकता है।

17/08/2023

اے گردش ایام ہمیں ہمیں رنج بہت ہے
کچھ خواب تھے ایسے جو بکھرنے کے نہیں تھے

14/07/2023
Sach hai.......
12/07/2023

Sach hai.......

05/09/2021

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا
جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے
ذرا فاصلے سے ملا کرو

Dekha jo zindagi ke tamashe ko ghaur seHar aadmi mein aur kayee aadmi mile
28/06/2021

Dekha jo zindagi ke tamashe ko ghaur se

Har aadmi mein aur kayee aadmi mile

Address

Turner Road
Dehra Dun

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jama Masjid Bharuwala Dehradun posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Jama Masjid Bharuwala Dehradun:

Share