17/12/2022
مولانا رومی رح فرماتے ہیں
کہ یہ کارساز قدرت کی کرشمہ سازی ہے وہ ایک ہی پیالہ سے کسی کو شہد کسی کو دودھ کسی کو زہر اور کسی کو تریاق پلا رہا ہے،
حضرت یوسفؓ کی حسین صورت کے پیالے سے ان کے والد جلوہ الہیہ اور بهائی زہر پیتے تهے زلیخا نے شکر کا شربت اسی پیالہ سے پیا،
عشق حقیقی غیب کی چیز ہے اور پیالہ اس جہاں کا ہے کسی کے لئے یہ جام امرت ہے اور کسی کے لئے زہر ہے
صوفیاء نے جب عشق الہی کا جام پیا تو اس جام کے اثر سے حاصل ہونے والے انوار سے انہوں نے لاکهوں تاریک دلوں کو روشن کر دیا،
قرآن مجید بهی ایک پیالہ ہے کوئی اس کے حسن باطن سے رشد و ہدایت ادب و اخلاق حسنہ و محبت حقیقی کے جام پیتا ہے تو کسی کو بس اس سے فرقہ پرستی مخلوق خدا سے نفرت فتنہ انگیزی و شر کا زہر ملتا ہے،
یہ تو اپنی اپنی طبیعت اپنے اپنے ظرف کی بات ہے یہ تو دلوں کے سودے ہیں جو جس کے نصیب میں ہوتا ہے جو جس کا طالب ہوتا اسے وہی چیز وہی کچھ مل جاتا ہے.