20/07/2026
سورہ فاتحہ کے بعد آمین بالسر (آہستہ آواز سے آمین کہنے) کے حق میں حنفی مکتبہ فکر اور دیگر علماء درج ذیل احادیث اور آثارِ صحابہ سے استدلال کرتے ہیں:1۔ حضرت وائل بن حجر ؓ کی روایتحضرت وائل بن حجر ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی:"فَلَمَّا بَلَغَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} قَالَ: «آمِينَ»، وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ"ترجمہ: "جب آپ ﷺ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} پر پہنچے تو آپ ﷺ نے 'آمین' کہی اور اس کے ساتھ اپنی آواز کو آہستہ رکھا۔"(جامع ترمذی: 248، مسند احمد: 18861)2۔ حضرت علقمہ بن وائل ؓ کی اپنے والد سے روایتشعبہ نے سلمہ بن کہیل سے، انہوں نے علقمہ بن وائل سے اور انہوں نے اپنے والد (وائل بن حجر ؓ) سے روایت کیا ہے:"أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَالَ: {وَلَا الضَّالِّينَ} قَالَ: آمِينَ، يُخْفِي بِهَا صَوْتَهُ"ترجمہ: "انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پس جب آپ ﷺ نے {وَلَا الضَّالِّينَ} کہا، تو 'آمین' کہی اور اپنی آواز کو مخفی (آہستہ) رکھا۔"(مسند ابوداؤد طیالسی: 1113)3۔ قرآن پاک کی آیت اور دعا کا اصولاحناف کے نزدیک آمین بنیادی طور پر ایک دعا ہے جس کا معنی ہے "اے اللہ قبول فرما"۔ قرآنِ کریم میں دعا کا عام اصول یہ بیان کیا گیا ہے:{ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً}ترجمہ: "اپنے رب کو پکارو عاجزی کے ساتھ اور آہستہ آواز میں۔" (سورہ الاعراف: 55)4۔ آثارِ صحابہ اور تابعین (ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی روایت)جلیل القدر تابعی حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے نزدیک چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں امام نماز میں آہستہ کہے گا:"أَرْبَعٌ يُخْفِيهِنَّ الْإِمَامُ: التَّعَوُّذُ، وَالتَّسْمِيَةُ، وَآمِينُ، وَرَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ"ترجمہ: "چار چیزیں امام آہستہ کہے گا: تعوذ (اعوذ باللہ)، تسمیہ (بسم اللہ)، آمین، اور ربنا لک الحمد۔"(مصنف ابن ابی شیبہ: 2496/ البحر الرائق)اس کے علاوہ حضرت عمر بن خطاب ؓ اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے بھی مروی ہے کہ وہ نماز میں آمین آہستہ کہا کرتے تھے (کتاب الآثار للامام محمد)۔علمی نکتہ تفہیم: