Haq ki Awaaz

Haq ki Awaaz Haq ki Awaaz حق کی آواز

07/07/2026

محدثین کے حفظ و ضبط کی چند حیرت انگیز مثالیں

محدثین کرام رحمہم اللہ علیہم بکثرت ایک دوسرے کا امتحان لیا کرتے تھے، خاص طور پر ان لوگوں کا جن کی حدیثیں بہت زیادہ ہوں، شہرت دور دور تک پہنچ چکی ہو، یا جن کے حفظ و ضبط میں کچھ شبہ ہو، تاکہ دیکھا جائے کہ ان سے حدیث لی جا سکتی ہے یا نہیں۔
کبھی یہ امتحان استاد کی طرف سے شاگرد کی استعداد جانچنے کے لیے ہوتا تھا، اور کبھی دوسرے اسباب سے۔ یہ آزمائش کبھی دوبارہ سنانے کے مطالبے سے ہوتی، اور کبھی احادیث کو الٹ پلٹ کر کے۔ یہاں چند واقعات کو ذکر کیا جارہا ہے جن میں بعض ائمہ رحمہم اللہ کا امتحان لیا گیا، اور جن سے ان کے حیرت انگیز حفظ اور اس فن میں ان کے بلند مرتبے کا پتا چلتا ہے:
1- اُمت کے سب سے بڑے حافظ حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
ابو الزعیزعہ، جو مروان بن حکم کے کاتب تھے، بیان کرتے ہیں کہ مروان نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور مجھے تخت کے پیچھے بٹھا دیا، پھر ان سے سوالات کرنے لگا اور میں لکھتا جاتا تھا۔
ایک سال گزرنے کے بعد پھر انہیں بلایا، اور اس مرتبہ مجھے پردے کے پیچھے بٹھایا، پھر انہی احادیث کے بارے میں سوالات کیے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نہ ایک لفظ بڑھایا، نہ گھٹایا، نہ آگے پیچھے کیا۔(ذكره الحاكم في المستدرك على الصحيحين: 3/583 برقم (6164)، وابن عساكر في تاريخ دمشق: 67 /340).
2- امام زہری رحمہ اللہ
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ہشام بن عبدالملک نے امام زہری سے کہا کہ وہ ان کے بیٹوں کے لیے اپنی احادیث میں سے کچھ لکھوا دیں۔
چنانچہ امام زہری نے اپنے کاتب کو چار سو احادیث املاء کروائیں، پھر باہر آکر دیگر لوگوں کو بھی وہی احادیث بیان کیں۔
بعد میں ہشام نے امام زہری سے کہا: وہ کتاب گم ہوگئی ہے۔
امام زہری نے فرمایا: کوئی بات نہیں۔
پھر دوبارہ وہ تمام احادیث املا کروا دیں۔
اس کے بعد ہشام نے پہلی کتاب نکالی تو دونوں میں ایک حرف کا بھی فرق نہ تھا۔ دراصل ہشام امام زہری کے حفظ کا امتحان لینا چاہتا تھا۔(البداية والنهاية: 13 /136)
فائدہ: امام زہری رحمہ اللہ کا ایک قول مجھے یاد آرہا ہے حفظ حدیث اور قوت حافظہ کے متعلق آپ کا یہ قول بڑا مشہور ہے" من أراد أن يحفظ الحديث فليأكل الزبيب"
جو شخص حدیث کو حفظ کرنا چاہتا ہو تو کشمس کھائے
شاید آپ کا یہ ذاتی تجربہ ہو لہذا طلاب علم کو زبیب ضرور اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہیے کیونکہ امت کے سب سے بڑے حافظ حدیث میں سے امام زہری کا شمار ہوتا ہے اگر آپ نے یہ بات کہی ہے تو شاید اس سے قوت حافظہ اور ضبط میں اضافہ ہوتا ہو ۔
3- محمد بن عجلان مدنی رحمہ اللہ
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں:
میں کوفہ آیا، وہاں ابن عجلان بھی تھے، اور طلبۂ حدیث میں ملیح بن وکیع، حفص بن غیاث، عبداللہ بن ادریس، اور یوسف بن خالد السمتی موجود تھے۔
ہم نے کہا: چلو ابن عجلان کے پاس چلتے ہیں۔
یوسف بن خالد نے کہا: “ہم اس شیخ کی احادیث کو الٹ پلٹ کرتے ہیں تاکہ ان کے فہم اور ضبط کو دیکھیں۔”
چنانچہ انہوں نے احادیث میں تبدیلی کر دی؛ جو روایت “سعید سے” تھی اسے “ان کے والد سے” کر دیا، اور جو “والد سے” تھی اسے “سعید سے” بنا دیا۔
ہم ابن عجلان کے پاس گئے، لیکن عبداللہ بن ادریس نے تقویٰ کی بنا پر اس کام سے اجتناب کیا، دروازے پر بیٹھ گئے اور کہا:“میں اسے جائز نہیں سمجھتا۔”میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔
ادھر حفص، یوسف بن خالد اور ملیح اندر گئے اور سوالات کرنے لگے۔ ابن عجلان شروع میں جواب دیتے رہے، لیکن جب کتاب کے آخر کے قریب پہنچے تو متنبہ ہو گئے اور فرمایا:
“دوبارہ پڑھو۔”جب دوبارہ پیش کیا گیا تو فرمایا:
“تم نے جو میرے والد کے واسطے سے مجھ سے پوچھا، وہ دراصل سعید نے مجھ سے بیان کیا تھا، اور جو سعید کے واسطے سے پوچھا، وہ میرے والد نے بیان کیا تھا۔”
پھر یوسف بن خالد کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
“اگر تیرا مقصد میری عیب جوئی اور رسوائی تھا تو اللہ تجھ سے اسلام سلب کر لے۔”
پھر حفص سے فرمایا:“اللہ تجھے تیرے دین اور دنیا میں آزمائش میں ڈالے۔”اور ملیح سے فرمایا:“اللہ تیرے علم کو تیرے لیے نفع مند نہ بنائے۔”
یحییٰ کہتے ہیں:
ملیح کی وفات ہو گئی اور اپنے علم سے فائدہ نہ اٹھا سکا، حفص جسمانی آزمائش میں مبتلا ہوا، فالج کا شکار ہوا، اور دین میں بھی آزمائش آئی، جبکہ یوسف اپنی موت تک زندقہ کے الزام سے نہ بچ سکا۔( المحدث الفاصل بين الراوي والواعي للرامهرمزي: 413)
4- امام دار الہجرۃ، امام مالک بن انس رحمہ اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میں نے عید کے دن نماز پڑھی اور دل میں کہا: آج ایسا دن ہے کہ امام زہری فارغ ہوں گے۔
چنانچہ میں عیدگاہ سے واپس ہو کر ان کے دروازے پر جا بیٹھا۔ میں نے سنا کہ وہ اپنی خادمہ سے فرما رہے تھے:
“دیکھو دروازے پر کون ہے؟”اس نے دیکھا اور کہا:
“آپ کے گندمی رنگ والے آزاد کردہ شاگرد مالک ہیں۔”
انہوں نے فرمایا“انہیں اندر آنے دو۔”میں اندر داخل ہوا تو انہوں نے فرمایا:“ابھی تک اپنے گھر نہیں گئے؟”میں نے عرض کیا: نہیں۔فرمایا:“کچھ کھایا ہے؟”میں نے کہا: نہیں۔فرمایا:
“کھانا کھاؤ۔”میں نے عرض کیا:“مجھے کھانے کی حاجت نہیں۔”فرمایا:“پھر کیا چاہتے ہو؟”میں نے عرض کیا:“آپ مجھے حدیث سنائیں۔”فرمایا:“لاؤ۔”میں نے اپنی تختیاں نکالیں، تو انہوں نے مجھے چالیس احادیث بیان فرمائیں۔
میں نے عرض کیا:“مزید بڑھائیے۔”فرمایا:
“تمہارے لیے یہی کافی ہیں، اگر تم نے یہ احادیث یاد کر لی ہیں تو تم حفاظ میں سے ہو۔”میں نے عرض کیا:
“میں یہ پہلے ہی روایت کر چکا ہوں، یعنی مجھے یاد ہیں۔”
امام مالک فرماتے ہیں:
پھر امام زہری نے میرے ہاتھ سے تختیاں کھینچ لیں اور فرمایا:“سناؤ!”چنانچہ میں نے وہ چالیس احادیث انہیں سنا دیں۔انہوں نے تختیاں مجھے واپس کرتے ہوئے فرمایا:
“اٹھو! تم علم کے برتنوں (خزینوں) میں سے ہو۔”
(ترتيب المدارك: 1 /134)
6- ابو جعفر العقیلی رحمہ اللہ
مسلمہ بن قاسم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
ابو جعفر عقیلی بڑے بلند مرتبہ، عظیم الشان اور غیر معمولی شخصیت کے مالک تھے۔ میں نے ان جیسا کوئی نہیں دیکھا۔

10/06/2026

دنیا میں چار معذور شخص جن کا آخرت میں امتحان لیا جائے گا

عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
"أَرْبَعَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُدْلُونَ بِحُجَّةٍ: رَجُلٌ أَصَمُّ لَا يَسْمَعُ شَيْئًا، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ، وَرَجُلٌ هَرَمٌ، وَرَجُلٌ مَاتَ فِي فَتْرَةٍ.
فَأَمَّا الأَصَمُّ فَيَقُولُ: رَبِّ، لَقَدْ جَاءَ الإِسْلَامُ وَمَا أَسْمَعُ شَيْئًا! وَأَمَّا الأَحْمَقُ فَيَقُولُ: رَبِّ، لَقَدْ جَاءَ الإِسْلَامُ وَالصِّبْيَانُ يَحْذِفُونِي بِالْبَعْرِ! وَأَمَّا الْهَرَمُ فَيَقُولُ: رَبِّ، لَقَدْ جَاءَ الإِسْلَامُ وَمَا أَعْقِلُ شَيْئًا! وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ فَيَقُولُ: رَبِّ، مَا أَتَانِي لَكَ رَسُولٌ!
فَيَأْخُذُ مَوَاثِيقَهُمْ لَتُطِيعُنَّهُ، فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ أَنْ ادْخُلُوا النَّارَ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ دَخَلُوهَا لَكَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا."

حدیث کا متن (ترجمہ):
حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
​"قیامت کے دن چار قسم کے لوگ (اللہ کے سامنے) اپنی دلیل اور عذر پیش کریں گے:
​وہ بہرا جو کچھ سن نہیں سکتا تھا،
​وہ احمق (ذہنی معذور یا پاگل)،
​وہ انتہائی بوڑھا (جو بڑھاپے کی وجہ سے عقل کھو چکا تھا)، اور
​وہ شخص جو 'فترت' کے دور میں مرا (جس تک دین کا پیغام نہیں پہنچا تھا)۔
​چنانچہ بہرا کہے گا: 'اے میرے رب! اسلام آیا لیکن میں کچھ سن نہیں سکتا تھا!'
اور احمق (پاگل) کہے گا: 'اے میرے رب! اسلام آیا اور حال یہ تھا کہ بچے مجھ پر مینگنیاں (یا کچرا) پھینکتے تھے (یعنی لوگ مجھے پاگل سمجھتے تھے)!'
اور بوڑھا کہے گا: 'اے میرے رب! اسلام آیا اور میں کچھ سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا!'
اور وہ شخص جو فترت (بے خبری کے دور) میں مرا، وہ کہے گا: 'اے میرے رب! میرے پاس تیرا کوئی رسول ہی نہیں آیا!'
​پھر اللہ تعالیٰ ان سے پکا عہد و پیمان لے گا کہ وہ اس کی اطاعت کریں گے۔ اس کے بعد ان کی طرف یہ پیغام بھیجا جائے گا (یا حکم دیا جائے گا) کہ 'اس آگ میں داخل ہو جاؤ'۔
​آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے، تو وہ آگ ان پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جاتی۔"

حدیث کا بنیادی حوالہ
یہ روایت مسند احمد بن حنبل (حدیث نمبر: 16301) میں موجود ہے، جس کے راوی حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ ہیں۔
اس کے علاوہ یہ روایت درج ذیل کتب میں بھی ملتی ہے:
بیہقی (کتاب الاعتقاد)
طبرانی (المعجم الکبیر)
صحیح ابن حبان (احسان)

علمی حیثیت
امام ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر (سورہ الاسراء کی آیت 15 کے تحت) میں اس حدیث کو "جید اور صحیح" قرار دیا ہے۔
علامہ البانیؒ نے بھی اس حدیث کی مختلف سندوں کو دیکھتے ہوئے اسے 'سلسلہ احادیث صحیحہ' (حدیث نمبر: 1434) میں صحیح قرار دیا ہے۔

04/06/2026

۔

امام بخاری رحمہ اللہ کا انتقال کیسے ہوا؟

زندگی کے آخری ایام میں امام بخاری رحمہ اللہ کو نیشاپور ، بخارا اور سمرقند کے حکمرانوں کی طرف سے سخت ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ:

1- انہوں نے حکمرانوں کے بچوں کو ان کے محلات میں جا کر پڑھانے سے انکار کر دیا۔
وہ فرمایا کرتے تھے: (العلم يؤتى ولا يذهب به للابواب) "علم کے پاس آیا جاتا ہے، اسے دروازوں تک نہیں لے جایا جاتا۔"
2- کچھ لوگوں نے ان کی شہرت اور سیرت سے حسد کیا۔
وغیرہ وغیرہ...

جب امام بخاری رحمہ اللہ کی عمر 62 سال ہوئی تو نیشاپور کے حاکم کا حکم آیا کہ وہ شہر چھوڑ دیں، کیونکہ انہیں وہاں ناپسند کیا جا رہا تھا۔
چنانچہ وہ نیشاپور سے نکلے اور اپنے آبائی شہر بخارا پہنچے۔ لوگ ان کے استقبال کے لیے شہر کے دروازوں پر آ گئے۔

لیکن جلد ہی بخارا کا حاکم ان کی شہرت سے ناراض ہو گیا اور نیشاپور کے حاکم کی طرف سے بھی پیغام آ گیا کہ امام کو بخارا سے بھی نکال دیا جائے، جیسے پہلے نیشاپور سے نکالا گیا تھا۔

چنانچہ حاکم کا ایلچی امام بخاری رحمہ اللہ کے گھر آیا اور سختی سے کہا کہ فوراً شہر چھوڑ دیں، حتیٰ کہ انہیں اپنے کتب و سامان اکٹھا کرنے کا بھی موقع نہ ملا۔ وہ شہر سے نکل گئے اور تین دن شہر کے قریب ایک خیمے میں ٹھہرے رہ کر اپنی کتابوں کو ترتیب دیتے رہے، مگر یہ نہیں جانتے تھے کہ کہاں جائیں۔

پھر وہ سمرقند کی طرف روانہ ہوئے، مگر شہر میں داخل نہیں ہوئے بلکہ ایک گاؤں "خرتنگ" کا رخ کیا، جہاں اپنے رشتہ دار ابراہیم بن معقل کے ہاں مہمان بنے۔

زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ سمرقند کے حاکم کے سپاہی وہاں پہنچ گئے اور حکم دیا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کو سمرقند اور اس کے نواحی علاقوں سے بھی نکال دیا جائے۔

یہ عیدالفطر کی رات تھی، مگر حکم یہی تھا کہ "ابھی" نکل جائیں، عید کے بعد نہیں۔ امام نے ڈر کے مارے اپنے میزبان رشتہ دار کو کسی نقصان سے بچانے کے لیے جانے کا فیصلہ کیا۔
چنانچہ ابراہیم بن معقل نے ان کی کتابیں ایک اونٹ پر لادیں اور دوسرا اونٹ ان کے سوار ہونے کے لیے تیار کیا۔

وہ دونوں گھر سے نکلے، امام بخاری رحمہ اللہ آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ چند قدم چلنے کے بعد وہ زیادہ تھکن محسوس کرنے لگے، تو انہوں نے کہا کہ مجھے چند منٹ آرام کرنے دیں۔

وہ سڑک کے کنارے بیٹھ گئے، پھر سو گئے۔ چند منٹ بعد جب ابراہیم بن معقل نے انہیں جگانا چاہا، تو دیکھا کہ ان کی روح خالق کے پاس جا چکی ہے۔ اللہ ان پر رحم کرے۔

امام بخاری رحمہ اللہ کا انتقال سڑک کے کنارے، عیدالفطر کی رات، یکم شوال 256 ہجری کو ہوا، جبکہ وہ ایک شہر سے دوسرے شہر نکالے جا رہے تھے، عمر 62 سال سے زائد ہو چکی تھی۔ وہ اللہ کی رضا پر راضی تھے، نہ محلات میں تھے، نہ دولت و جاہ میں۔

آج کسی کو نیشاپور، بخارا یا سمرقند کے ان حکمرانوں کے نام یاد نہیں، لیکن ہر شخص امام بخاری رحمہ اللہ کو جانتا ہے۔

اللہ امام بخاریؒ پر رحم فرمائے اور ان کا مرتبہ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ بلند فرمائے۔

سیر أعلام النبلاء

04/06/2026

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا - ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى سَرِيرِهِ، فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُثْنُونَ وَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ، قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ، وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا بِرَجُلٍ قَدْ أَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ، فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ، وَقَالَ: مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَذَاكَ أَنِّي كُنْتُ أُكَثِّرُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «جِئْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَإِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو، أَوْ لَأَظُنُّ، أَنْ يَجْعَلَكَ اللهُ مَعَهُمَا»

ابن مبارک نے عمر بن سعید بن ابوحسین سے ، انھوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا ، جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( کے جسد خاکی ) کو چارپائی پر رکھا گیا تو ( جنازہ ) اٹھانے سے پہلے لوگوں نے چاروں طرف سے ان کو گھیر لیا ۔ وہ دعائیں کر رہے تھے ، تعریف کر رہے تھے ، دعائے رحمت کر رہے تھے ، میں بھی ان میں شامل تھا تو مجھے اچانک کسی ایسے شخص نے چونکا دیا جس نے پیچھے سے ( آ کر ) میرا کندھا تھاما ۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ، انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کی اور کہا : آپ نے کوئی ایسا آدمی پیچھے نہ چھوڑا جو آپ سے بڑھ کر اس بات میں مجھے محبوب ہو کہ میں اللہ سے اس کے جیسے عملوں کے ساتھ ملوں ۔ اللہ کی قسم ! مجھے ۔ ہمیشہ سے یہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ میں اکثر رسول اللہ ﷺ سے سنا کرتا تھا ، آپ فرمایا کرتے تھے :’’ میں ، ابوبکر اور عمر آئے ۔ میں ، ابوبکر اور عمر اندر گئے ، میں ، ابوبکر اور عمر باہر نکلے ۔‘‘ مجھے امید تھی ، بلکہ مجھے ہمیشہ سے یقین رہا کہ اللہ آپ کو ان دونوں کے ساتھ رکھے گا ۔

صحیح مسلم #6187
کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب

04/06/2026

مظلوم مدینہ اور ان کی شخصیت ...

سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ کے زمانے سے بات شروع کرتے ہیں، امام حسن بصری کے سن شعور کی آمد تھی، امام رحمہ اللہ اس زمانے کا نقشہ کچھ یوں کھینچے ہیں، فرماتے ہیں سیدنا عثمان کے زمانے میں :

"ہر دوسرے روز پَو پُھوٹتے ہی اعلان عام ہوجاتا، لوگو ! آؤ، عطیے لے جاؤ، کپڑے لے جاؤ، مخلوق خدا آتی، مال تقسیم کر دیا جاتا۔ یہاں تک کہ اوس کے لوگوں نے سنا، لوگو ! شہد لے جاؤ، گھی لے جاؤ۔ دشمن کو نکال دیا گیا تھا، مال و زر کی بہتات تھی، اور سب سے مزے کی بات کہ مسلمان کو مسلمان سے خوف کوئی نہیں تھا، وہ بھائی بھائی تھے، ایک دوسرے کے مددگار تھے۔
(تاریخ المدینة : 1797، وسندہ حسن)

دوخوبیاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا امتیاز رہی ہیں۔ باحیا تھے اور باوفا تھے۔ اسلام کو جب بھی مشکل پیش آئی، اپنا مال خدا کی راہ میں لٹوا میں دیا۔ مسلمان کا خون بہتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ تمام عمر مسلمانوں کو ایک تسبیح کے دھاگے میں پروئے رکھا۔

ثقہ تابعی عامر بن عبدہ رحمہ اللہ نے انہیں دیکھا تو سفید لباس زیب تن کیا ہوا تھا، خوشبو کے ہلّے آتے، قرآن سنا رہے تھے، کہیں بھول جاتے تو لوگ لقمہ دیتے۔
(تاریخ دمشق : 234/39، وسندہ صحیح)

احنف بن قیس رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی تو زرد چادر اوڑھ رکھی تھی۔ سر ڈھانپا ہوا تھا۔
(سنن الکبری للنسائی : 4391، وسندہ حسن)

فرماتے ہیں : میں نے اسلام میں یا جاہلیت میں کبھی زنا نہیں کیا۔
(المستدرک علی الصحیحین : 37)

رسول اللہﷺ کے دور میں ان کا کردارکیا رہا، یہ تو سب جانتے ہیں، مسجد نبوی کی توسیع سے لے کر پانی کے کنویں تک اور کنویں سے لے کر اونٹوں کے غلے تک عثمان ہی تو نظر آتے ہیں۔

رسول اللہﷺ کا آپ کے ساتھ جو سلوک تھا وہ بھی سب کو معلوم، بدر میں حاضر نہ ہوں تو ان کا حصہ مقرر کردیا جائے، ایک بیٹی فوت ہوجائے تو دوسری نکاح میں دے دی جائے! میں رسول اللہﷺ کے بعد کے زمانوں کا عثمان دیکھنا چاہتا ہوں۔

اگر کوئی پوچھے، اخلاق، کردار، عزت، عظمت، شرافت، محبت، وفا، ایثار اور جو و سخا کو ایک پیکر میں ملبوس کر کے دکھاو، تو میں اللہ کے پیمبر کے دوہرے داماد کا سراپا سامنے کردوں گا۔

وفا ایسی کہ اپنی جان تک کو خطرہ ہے، مگر کملی والے نے کہا تھا، خلعت خلافت نہیں اتارنی، سو نہیں اتاری۔

حالات پر ایسی دور رس نگاہیں، کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کا عہد نامہ آپ سے لکھوایا تو آپ نے خلیفہ کے نام کی جگہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نام لکھ دیا۔ اہلیت ایسی کہ یار غار رسول تڑپ اٹھا، فرمایا : عثمان اگر آپ اپنا نام بھی لکھ دیتے تو یقینا آپ اس کے اہل تھے۔
(تاریخ دمشق : 185/39، وسندہ حسن)

محبت ایسی کہ تمام عمر کملی والے کے آثار کا تتبع کرتے رہے۔ کبھی لوگوں کو وضو کا طریقہ سکھا رہے ہوتے، تو کبھی عقیدہ توحید کی تعلیم دیتے۔ (صحيح مسلم : 26) کبھی باقیات صالحات کی تعلیم دیتے۔ (مسند البزار : 387)

حدیثیں بہت یاد تھیں، پر "من کذب علي..." والی وعید سے ڈرتے تھے، سو بیان کم کرتے تھے۔
(مسند احمد : 469، وسندہ حسن)

قرآن سے اتنی محبت کہ مورخ نے جھوم کر ان کو جامع القرآن لکھا، اپنی رعایا سے سوال کرتے، قرآن کتنا یاد ہے آپ کو؟
(موطا امام مالک : 7، وسندہ صحیح)
سورہ یوسف کی تلاوت کا معمول بنا لیا تھا، فرافضہ بن عمیر کہتے ہیں ، میں نے سورہ یوسف یوں یاد کی کہ عثمان رضی اللہ عنہ صبح کی نماز میں اکثر اس کی تلاوت کیا کرتے تھے، وہیں سے میں نے یاد کر لی۔
(موطا امام مالک : 35، وسندہ صحیح)

اعتماد اور حیا داری کا جونمونہ کملی والے کے زمانے میں دیکھا گیا تھا، تا دم آخریں قائم رہا۔ امہات المومنین نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حج پر جانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ان کے ساتھ سیدنا عثمان اور سیدنا عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا، یہ حیا کا تاج دار وادی کی ایک نکڑ پر کھڑا ہوتا تھا، جہاں سے امہات کی اونٹنیوں کا ہودج نظر آتا، اور ان تک کسی کی نظر نہیں جاتی تھی۔
(سنن الکبری للبیقہی : 438)

خلیفہ تھے، مگر خود کو ہمیشہ محاسبے کے لئے پیش کیا، ایک موقع پر فرمایا : ''یہ میرے دو قدم ہیں، اگر تمہیں کتاب اللہ سے انہیں پابند سلاسل کرنے کا جواز ملے تو کر دینا۔''
(فضائل الصحابة لاحمد بن حنبل : 897، وسندہ صحیح)

کبھی اندر کی تڑپ کا اظہار یوں کرتے، فرماتے :
''میں نے اگر کسی پر ظلم کیا تو اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور اگر مجھ پر کوئی ظلم کیا گیا تو میں اسے معاف کر رہا ہوں۔"
(تاریخ ابی زرعہ : 92/1، وسندہ صحیح)

قبر پر کھڑے ہوتے تو آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتیں، کہتے ، یہ آخرت کی منزلوں سے پہلی منزل ہے۔ جو اس میں کامیاب رہ گیا، آگے بھی کامیاب ہوگا، جو اس میں پکڑا گیا، آگے بھی پکڑ ا جائے گا۔
(مسند احمد : 454، وسندہ حسن)

ایک غلام نے ولیمے کی دعوت پر بلایا تو چلے گئے، فرمایا : میں روزے سے ہوں، مگر دعوت قبول کر کے آگیا ہوں، اب آپ کے برکت کی دعا کئے دیتا ہوں۔
(الزھد لاحمد بن حنبل : 689)

مسجد نبوی میں پتھر پڑے تھے، مالک ابو عامر نے دیکھا، خلیفہ وقت اپنے جوتوں سے وہ سنگریزے سیدھے کر رہا تھا۔
(موطا امام مالک : 45، وسندہ صحیح)

موسی بن طلحہ بیان کرتے ہیں، عثمان رضی اللہ عنہ منبر پر تھے، موذن اذان کہہ رہا تھا اور آپ لوگوں سے ان کے احوال اور بازار میں چیزوں کے بھاؤ پوچھ رہے تھے۔
(فضائل الصحابة لاحمد بن حنبل : 812، وسندہ حسن)

ولید بن عقبہ آپ کے بھائی تھے، انہوں نے شراب پی تو ان کو کوڑے لگوائے۔
(فضائل الصحابة لاحمد بن حنبل : 791 ، وسندہ صحیح)

اسلام کی بے پایاں وسیع سلطنت کے بلا شرکت غیرے حکمران، مگر لوگوں کے عام سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔

مصری لونڈے جب آپ کے گھر کا محاصرہ کر رہے تھے تو انہوں نے کچھ سوال پوچھے، آپ ان کے جوابات دیتے رہے، انہوں بعض ایسے اعتراض بھی کئے، جن کا جواب دینے کی بجائے آپ نے اللہ کی طرف چہرہ اٹھا دیا، فرمایا : استغفر اللہ واتوب الیہ!
(مصنف ابن ابی شیبۃ : 38679، وسندہ صحیح)

یہ مصری لونڈے اسی منافق جماعت کے فرد تھے، جن کے متعلق رسول اللہﷺ نے پیشینگوئی کر دی تھی کہ عثمان ! اللہ آپ کو خلافت کی قمیص دیں گے، اگر منافق تجھے کہیں کہ وہ قمیض اتار، تو وہ قمیض اتارنی نہیں ہے۔
(تاریخ المدینہ : 1067، وسندہ صحیح)

انہوں نے مدینے میں کہرام مچا رکھا تھا، اس کے پیچھے کام کر رہی تھی خارجی ذہنیت، عجیب قسم کے اعتراضات تھے۔ جب انسان تقوے کے زعم میں مبتلا ہو جاتا ہے، پھر عجیب و غریب تاویلوں سے اگلوں کو کافر کرنے کے درپے رہتا ہے۔

جناب عثمان رضی اللہ عنہ پر یہ بھی اعتراض تھا کہ انہوں نے چراگاہ کو وسعت کیوں دی ہے، وہ تو قرآن کے خلاف ہے۔ حالاں کہ وہ چراگاہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بنوا کر گئے تھے۔
(تاریخ المدینہ: 1139/3، وسندہ صحیح)

باغیوں کو سمجھا رہے تھے کہ اپنے آپ کو پاک نہ کہو اور انہ امت کو برباد کرو۔ صحابہ آپ کے ساتھ تھے، مگر یہاں بھی آپ پر کملی والی کی محبت غالب رہی، خلعت خلافت اتاری نہیں، مگر اس خلعت کی خاطر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں خون بہانا بھی گوارا نہیں کیا۔ بلکہ لوگوں سے کہہ دیا تھا۔ میرا سب سے زیادہ خیر خواہ وہ ہوگا، جس نے اپنے ہتھیار اور اپنے ہاتھ کو روکے رکھا۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ : 38، وسندہ صحیح)

شام میں خطباء کا اجتماع تھا، سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کیا، رسول اللہﷺنے فرمایا :
فتنے کے دور میں یہ چادر والا حق پر ہوگا، وہ چادر والے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔
(سنن الترمذی : 2704، وسندہ صحیح)

اسی طرح آقائے کریمﷺ نے فرمایا : فتنے کے دور میں عثمان اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ مل جانا۔
(صحیح ابن حبان : 6914، وسندہ حسن)

میرے عثمان نے کسی حرام کا ارتکاب نہیں کیا تھا، صرف پیسوں کی خاطر خلیفہ رسول کے خلاف شورش برپا کر دی گئی تھی، اسی لئے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک خارجی سے کہہ دیا تھا، عثمان اگر تم کو دولت دے دیں گے تو تم ان کے ساتھ ہو جاؤ گے!! کیا تم فارس و روم کی طرح بننا چاہتے ہو، ان میں جو بھی امیر بنتا ہے، اس کو قتل کردیا جاتا ہے۔
(تاریخ المدینہ : 1115، وسندہ صحیح)

البتہ حالات کے اس نبض شناس نے یہ پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر کبھی مل کر نماز ادا نہیں کر سکو گے، نہ مل کر دشمن سے جہاد کر سکو گے۔
(الطبقات لابن سعد : 52/3، وسندہ حسن)

ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہ محاصرے کے دنوں میں آپ کو کھانا پہنچایا کرتی تھیں، آپ نے سوچا میں باغیوں ظالموں کو عثمان کے گھر سے ہٹا دیتی ہوں، اشتر نخعی نے دیکھا تو آپ کے خچر پر ضربیں ماریں، تب آپ فرمانے لگیں : مجھے واپس لے جاؤ ، کہیں یہ کتا مجھے رسوا نہ کر دے۔
(تاریخ المدینہ 4/1311، وسندہ حسن)

اب شہادت کا وقت قریب آرہا تھا، روزہ رکھ چھوڑا تھا، کہ نیند آگئی، آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، فرمایا : عثمان ! آج افطاری ہمارے یہاں کیجئے گا۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ : 30502، وسندہ صحیح)

باغی قصرِ خلافت پر محاصر ہو گئے، رسول اللہﷺ کے دوہرے داماد نے انہیں سلام کہا، انہوں نے جواب دینا بھی گوارہ نہیں کیا۔ ایسا بھی کوئی ظالم ہوسکتا ہے؟! عثمان ان کو اپنی نیکیاں یاد دلاتے رہے، نصیحت کرتے رہے، مگر ان پر کچھ اثر نہیں ہورہا تھا۔ وہ نبی سے اپنا رشتہ بتاتے، باغی بات سنی ان سنی کر دیتے۔ آپ نے دروازہ کھولا، ایک شخص داخل ہوا، فرمایا : میرا اور تمہارا فیصلہ یہ قرآن کر دے گا، وہ یہ سن کر باہر نکل گیا، پھر ایک شخص داخل ہوا، اسے سیاہ موت کہا جاتا تھا۔ اس نے آپ کا گلا دبا یا، وہ باہر چلا گیا، کہتا تھا: اس شخص سے زیادہ نرم گلا کسی کا نہیں دیکھا گیا۔ پھر ایک اور بندہ آتا ہے، تلوار چلاتا ہے، عثمان ہاتھ سے تلوار روکنے کی کوشش کرتے ہیں، ہاتھ کٹ جاتا ہے۔ تو بے ساختہ فرماتے ہیں بخدا ! یہ وہ ہاتھ تھا جس نے سب سے پہلے قرآن کی مفصل سورتوں کی کتابت کی تھی۔ ظالموں نے پھر وار کر کے شہید کردیا، خون کے قطرے قرآن کے ان لفظوں پہ گرے :
فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ '' اللہ تجھے ان سے کافی ہوجائے گا، یقینا وہ سننے والا جاننے والا ہے۔''
(تاریخ المدینہ : 1310/ 4، وسندہ صحیح)

امام یحییٰ بن بکیر کہتے ہیں، یہ اٹھارہ ذی الحجہ کا دن تھا۔
(معرفۃ الصحابہ لابی نعیم : 251، وسندہ صحیح)

اللہ آپ کے دشمنوں سے کافی ہوگیا، ایسا کافی ہوا کہ قیامت تک کے لئے ان کا نام ونشان عبرت بنا دیا گیا۔ عثمان کل بھی زندہ تھے، عثمان آج بھی زندہ ہیں، ہاں مگر ان پر ہونے والا ظلم صرف ان پر ہونے والا ظلم نہیں تھا، اس ظلم نے امت کا چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا، کتنی جنگیں ہوگئیں، فتنے برپا ہوگئے۔ منذر بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
''ہم مدینہ میں تھے کہ وہاں ایک شخص سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو گالی دینے لگا، ہم نے روکا مگر وہ باز نہیں آیا، تو اچانک بادل گرجا، بجلی آئی اور اس شخص کو جلا کر رکھ دیا۔
(الثقات لابن حبان : 7/105، وسندہ حسن)

سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو شہادت کی خبر ملی تو تڑپ اٹھے، فرمایا : ظالمو! تم نے عثمان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے، اگر احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو کچھ برا نہیں ہوگا۔
(تاریخ المدینہ : 1242، وسندہ صحیح)

سلمہ بن اکوع جن کی بہادری اپنی مثال آپ تھی، عثمان کے بعد ہمت ہار گئے، ربذہ چلے گئے اور باقی ماندہ زندگی وہیں گزار دی۔
(تاریخ المدینہ : 4/1242، وسندہ صحیح)

اسلام کے چوتھے خلیفہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیعت سب سے پہلے کی تھی۔ (صحیح البخاری : 3700) محاصرے کے دنوں میں سیدنا عثمان کی طرف جانے لگے، پتھروں سے جسم نڈھال کروا لیا۔ (تاریخ دمشق : 368/39، وسندہ حسن) اب جب انہیں عثمان کی شہادت کی خبر پہنچی، تو اللہ کے حضور اپنی براءت پیش کر دی، فرمایا: ''اللہ! میں تیرے سامنے عثمان کے خون سے براء ت کا اظہار کرتا ہوں، میں نے نہ تو انہیں قتل کیا اور نہ ان کے قتل پر کسی کو ابھارا۔'' (الطبقات لابن سعد : 50/3، وسندہ صحیح)

حسن بن علی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہما عثمان کے دفاع میں زخمی ہوگئے۔
(تاریخ المدینہ : 3/1131، وسندہ صحیح)

زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے آپ کاجنازہ پڑھایا، یہ جناب عثمان رضی اللہ عنہ کی وصیت تھی، پھر رات کے اندھیرے میں اس شخص کو دفنا دیا گیا، جس کو اسلام نے ذو النورین (دو روشنیوں والا) کا لقب دیا تھا۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را!

ابو الوفا محمد حماد اثری

02/05/2026

محدثین کے حفظ و ضبط کی چند حیرت انگیز مثالیں

محدثین کرام رحمہم اللہ علیہم بکثرت ایک دوسرے کا امتحان لیا کرتے تھے، خاص طور پر ان لوگوں کا جن کی حدیثیں بہت زیادہ ہوں، شہرت دور دور تک پہنچ چکی ہو، یا جن کے حفظ و ضبط میں کچھ شبہ ہو، تاکہ دیکھا جائے کہ ان سے حدیث لی جا سکتی ہے یا نہیں۔
کبھی یہ امتحان استاد کی طرف سے شاگرد کی استعداد جانچنے کے لیے ہوتا تھا، اور کبھی دوسرے اسباب سے۔ یہ آزمائش کبھی دوبارہ سنانے کے مطالبے سے ہوتی، اور کبھی احادیث کو الٹ پلٹ کر کے۔ یہاں چند واقعات کو ذکر کیا جارہا ہے جن میں بعض ائمہ رحمہم اللہ کا امتحان لیا گیا، اور جن سے ان کے حیرت انگیز حفظ اور اس فن میں ان کے بلند مرتبے کا پتا چلتا ہے:
1- اُمت کے سب سے بڑے حافظ حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
ابو الزعیزعہ، جو مروان بن حکم کے کاتب تھے، بیان کرتے ہیں کہ مروان نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور مجھے تخت کے پیچھے بٹھا دیا، پھر ان سے سوالات کرنے لگا اور میں لکھتا جاتا تھا۔
ایک سال گزرنے کے بعد پھر انہیں بلایا، اور اس مرتبہ مجھے پردے کے پیچھے بٹھایا، پھر انہی احادیث کے بارے میں سوالات کیے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نہ ایک لفظ بڑھایا، نہ گھٹایا، نہ آگے پیچھے کیا۔(ذكره الحاكم في المستدرك على الصحيحين: 3/583 برقم (6164)، وابن عساكر في تاريخ دمشق: 67 /340).
2- امام زہری رحمہ اللہ
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ہشام بن عبدالملک نے امام زہری سے کہا کہ وہ ان کے بیٹوں کے لیے اپنی احادیث میں سے کچھ لکھوا دیں۔
چنانچہ امام زہری نے اپنے کاتب کو چار سو احادیث املاء کروائیں، پھر باہر آکر دیگر لوگوں کو بھی وہی احادیث بیان کیں۔
بعد میں ہشام نے امام زہری سے کہا: وہ کتاب گم ہوگئی ہے۔
امام زہری نے فرمایا: کوئی بات نہیں۔
پھر دوبارہ وہ تمام احادیث املا کروا دیں۔
اس کے بعد ہشام نے پہلی کتاب نکالی تو دونوں میں ایک حرف کا بھی فرق نہ تھا۔ دراصل ہشام امام زہری کے حفظ کا امتحان لینا چاہتا تھا۔(البداية والنهاية: 13 /136)
فائدہ: امام زہری رحمہ اللہ کا ایک قول مجھے یاد آرہا ہے حفظ حدیث اور قوت حافظہ کے متعلق آپ کا یہ قول بڑا مشہور ہے" من أراد أن يحفظ الحديث فليأكل الزبيب"
جو شخص حدیث کو حفظ کرنا چاہتا ہو تو کشمس کھائے
شاید آپ کا یہ ذاتی تجربہ ہو لہذا طلاب علم کو زبیب ضرور اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہیے کیونکہ امت کے سب سے بڑے حافظ حدیث میں سے امام زہری کا شمار ہوتا ہے اگر آپ نے یہ بات کہی ہے تو شاید اس سے قوت حافظہ اور ضبط میں اضافہ ہوتا ہو ۔
3- محمد بن عجلان مدنی رحمہ اللہ
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں:
میں کوفہ آیا، وہاں ابن عجلان بھی تھے، اور طلبۂ حدیث میں ملیح بن وکیع، حفص بن غیاث، عبداللہ بن ادریس، اور یوسف بن خالد السمتی موجود تھے۔
ہم نے کہا: چلو ابن عجلان کے پاس چلتے ہیں۔
یوسف بن خالد نے کہا: “ہم اس شیخ کی احادیث کو الٹ پلٹ کرتے ہیں تاکہ ان کے فہم اور ضبط کو دیکھیں۔”
چنانچہ انہوں نے احادیث میں تبدیلی کر دی؛ جو روایت “سعید سے” تھی اسے “ان کے والد سے” کر دیا، اور جو “والد سے” تھی اسے “سعید سے” بنا دیا۔
ہم ابن عجلان کے پاس گئے، لیکن عبداللہ بن ادریس نے تقویٰ کی بنا پر اس کام سے اجتناب کیا، دروازے پر بیٹھ گئے اور کہا:“میں اسے جائز نہیں سمجھتا۔”میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔
ادھر حفص، یوسف بن خالد اور ملیح اندر گئے اور سوالات کرنے لگے۔ ابن عجلان شروع میں جواب دیتے رہے، لیکن جب کتاب کے آخر کے قریب پہنچے تو متنبہ ہو گئے اور فرمایا:
“دوبارہ پڑھو۔”جب دوبارہ پیش کیا گیا تو فرمایا:
“تم نے جو میرے والد کے واسطے سے مجھ سے پوچھا، وہ دراصل سعید نے مجھ سے بیان کیا تھا، اور جو سعید کے واسطے سے پوچھا، وہ میرے والد نے بیان کیا تھا۔”
پھر یوسف بن خالد کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
“اگر تیرا مقصد میری عیب جوئی اور رسوائی تھا تو اللہ تجھ سے اسلام سلب کر لے۔”
پھر حفص سے فرمایا:“اللہ تجھے تیرے دین اور دنیا میں آزمائش میں ڈالے۔”اور ملیح سے فرمایا:“اللہ تیرے علم کو تیرے لیے نفع مند نہ بنائے۔”
یحییٰ کہتے ہیں:
ملیح کی وفات ہو گئی اور اپنے علم سے فائدہ نہ اٹھا سکا، حفص جسمانی آزمائش میں مبتلا ہوا، فالج کا شکار ہوا، اور دین میں بھی آزمائش آئی، جبکہ یوسف اپنی موت تک زندقہ کے الزام سے نہ بچ سکا۔( المحدث الفاصل بين الراوي والواعي للرامهرمزي: 413)
4- امام دار الہجرۃ، امام مالک بن انس رحمہ اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میں نے عید کے دن نماز پڑھی اور دل میں کہا: آج ایسا دن ہے کہ امام زہری فارغ ہوں گے۔
چنانچہ میں عیدگاہ سے واپس ہو کر ان کے دروازے پر جا بیٹھا۔ میں نے سنا کہ وہ اپنی خادمہ سے فرما رہے تھے:
“دیکھو دروازے پر کون ہے؟”اس نے دیکھا اور کہا:
“آپ کے گندمی رنگ والے آزاد کردہ شاگرد مالک ہیں۔”
انہوں نے فرمایا“انہیں اندر آنے دو۔”میں اندر داخل ہوا تو انہوں نے فرمایا:“ابھی تک اپنے گھر نہیں گئے؟”میں نے عرض کیا: نہیں۔فرمایا:“کچھ کھایا ہے؟”میں نے کہا: نہیں۔فرمایا:
“کھانا کھاؤ۔”میں نے عرض کیا:“مجھے کھانے کی حاجت نہیں۔”فرمایا:“پھر کیا چاہتے ہو؟”میں نے عرض کیا:“آپ مجھے حدیث سنائیں۔”فرمایا:“لاؤ۔”میں نے اپنی تختیاں نکالیں، تو انہوں نے مجھے چالیس احادیث بیان فرمائیں۔
میں نے عرض کیا:“مزید بڑھائیے۔”فرمایا:
“تمہارے لیے یہی کافی ہیں، اگر تم نے یہ احادیث یاد کر لی ہیں تو تم حفاظ میں سے ہو۔”میں نے عرض کیا:
“میں یہ پہلے ہی روایت کر چکا ہوں، یعنی مجھے یاد ہیں۔”
امام مالک فرماتے ہیں:
پھر امام زہری نے میرے ہاتھ سے تختیاں کھینچ لیں اور فرمایا:“سناؤ!”چنانچہ میں نے وہ چالیس احادیث انہیں سنا دیں۔انہوں نے تختیاں مجھے واپس کرتے ہوئے فرمایا:
“اٹھو! تم علم کے برتنوں (خزینوں) میں سے ہو۔”
(ترتيب المدارك: 1 /134)
6- ابو جعفر العقیلی رحمہ اللہ
مسلمہ بن قاسم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
ابو جعفر عقیلی بڑے بلند مرتبہ، عظیم الشان اور غیر معمولی شخصیت کے مالک تھے۔ میں نے ان جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ وہ بہت زیادہ تصانیف رکھنے والے تھے۔
ان کے پاس جب محدثین میں سے کوئی آتا تو وہ فرماتے:
“اپنی کتاب سے پڑھو۔”
اور خود اپنی اصل کتاب باہر نہ نکالتے تھے۔
راوی کہتے ہیں: ہم نے آپس میں اس بارے میں گفتگو کی اور کہا:“یا تو یہ لوگوں میں سب سے بڑے حافظ ہیں، یا (معاذ اللہ) سب سے بڑے جھوٹے!”
پھر ہم جمع ہوئے اور طے کیا کہ ان کی مرویات میں کچھ احادیث میں حذف و اضافہ کر کے ان کا امتحان لیا جائے۔
چنانچہ ہم ان کے پاس آئے۔انہوں نے فرمایا:“پڑھو!”میں نے پڑھنا شروع کیا۔جب میں نے زیادتی اور کمی والی روایات پڑھیں تو وہ فوراً متنبہ ہوگئے۔ مجھ سے کتاب لے لی، قلم لیا، اور اپنی یادداشت سے ان سب کو درست کر دیا۔
ہم ان کے پاس سے لوٹے تو دل مطمئن ہو چکے تھے، اور ہمیں یقین ہوگیا کہ وہ لوگوں میں بڑے حفاظ میں سے ہیں۔
(سير أعلام النبلاء: 15 /237).
7- ابو اسحاق الہجیمی رحمہ اللہ
انہوں نے نے خواب میں دیکھا کہ ان کے سر پر عمامہ باندھا گیا ہے جس کے ایک سو تین چکر ہیں۔
اس کی تعبیر دی گئی کہ وہ اتنے ہی سال زندہ رہیں گے۔
جب وہ سو برس سے اوپر پہنچ گئے تو حدیث بیان کرتے تھے۔ایک دن قاری نے ان کے سامنے یہ شعر پڑھا:
إن الجبان حتفه من فوقه كالكلب يحمي جلده بروقه
“بزدل کی موت اس کے اوپر منڈلاتی رہتی ہے،
وہ اس کتے کی مانند ہے جو اپنے سینگوں سے اپنی کھال بچاتا ہے۔”
(شاعر نے یہاں عمداً غلطی کی، کیونکہ کُتّے کے سینگ نہیں ہوتے۔)
قاری ان کے حواس اور ذہن کی سلامتی کا امتحان لینا چاہتا تھا۔فوراً ابو اسحاق الہجیمی بولے:
“یوں کہو: اے بیل! اے بیل! کیونکہ کتے کے تو سینگ نہیں ہوتے۔”
یہ سن کر لوگ ان کے عقل و شعور کی سلامتی اور ذہنی قوت پر خوش ہوئے۔
(الإلماع إلى معرفةِ أصول الرواية وتقييد السماع: 208)
8- حافظ مِزّی رحمہ اللہ کے بارے میں عماد بن کثیر بیان کرتے ہیں:
ہمارے ساتھی ابن عبد الہادی حافظ مزی کے پاس آئے اور کہا:
“میں نے آپ کی روایتوں میں سے چالیس احادیث منتخب کی ہیں، میں چاہتا ہوں انہیں آپ پر پڑھوں۔”
انہوں نے پہلی حدیث پڑھی۔
شیخ تکیہ لگائے ہوئے تھے، سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔
جب دوسری حدیث پڑھی گئی تو مسکرائے اور فرمایا:
“یہ میری روایت نہیں، یہ تو بخاری کی روایت ہے۔”
ابن کثیر کہتے ہیں:ہمارے نزدیک ان کا یہ جملہ اس سے کہیں زیادہ حسین تھا کہ وہ ہر متن کو اس کی سند کی طرف لوٹا دیتے۔
یعنی صرف ایک لمحے میں متن سن کر یہ پہچان لینا کہ یہ میری روایت نہیں بلکہ امام بخاری کی روایت ہے، ان کے غیر معمولی حفظ و استحضار کی دلیل تھی۔(فتح المغيث للسخاوي: 1 /339)
9-امام ابو نعیم
احمد بن منصور الرمادی بیان کرتے ہیں:
میں امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ کے ساتھ امام عبدالرزاق (الصنعانی) کے پاس گیا تھا، اور میں دونوں کی خدمت کیا کرتا تھا۔ جب ہم کوفہ واپس آئے تو یحییٰ بن معین نے امام احمد بن حنبل سے کہا:
"میں ابو نعیم کا امتحان لینا چاہتا ہوں۔"امام احمد بن حنبل نے فرمایا:"ایسا مت کرو، وہ شخص ثقہ ہیں۔"یحییٰ بن معین نے کہا:"مجھے ضرور ایسا کرنا ہے۔"
پھر انہوں نے ایک کاغذ لیا اور اس میں ابو نعیم کی حدیثوں میں سے تیس حدیثیں لکھیں، اور ہر دس احادیث کے شروع میں ایک ایسی حدیث ملا دی جو ابو نعیم کی روایتوں میں سے نہ تھی۔
پھر ہم ابو نعیم کے پاس گئے۔ انہوں نے دروازے پر دستک دی۔ ابو نعیم باہر نکلے، اور اپنے دروازے کے سامنے مٹی کے بنے ہوئے ایک چبوترے پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے امام احمد بن حنبل کو اپنے دائیں طرف بٹھایا، اور یحییٰ بن معین کو بائیں طرف، اور میں نیچے، چبوترے کے دامن میں بیٹھ گیا۔
یحییٰ بن معین نے کاغذ نکالا اور پہلے دس احادیث پڑھیں۔ ابو نعیم خاموش رہے۔ جب گیارھویں حدیث پڑھی، تو ابو نعیم نے کہا:"یہ میری حدیث نہیں ہے، اسے کاٹ دو۔"
پھر یحییٰ نے دوسری دس احادیث پڑھیں۔ ابو نعیم خاموش رہے۔ جب دوسری ملائی ہوئی حدیث پڑھی تو ابو نعیم نے کہا:"یہ میری نہیں ہے، اسے کاٹ دو۔"
پھر یحییٰ نے تیسری بار احادیث کا سلسلہ پڑھا، اور جب تیسری جعلی حدیث پڑھی تو ابو نعیم کا چہرہ بدل گیا اور ان کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔
پھر وہ یحییٰ بن معین کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا:
"یہ (امام احمد)، جن کی کلائی اس وقت میرے ہاتھ میں ہے، اس سے زیادہ پرہیزگار ہیں کہ ایسی حرکت کریں۔ اور یہ (راوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) اس درجے کا ہی نہیں کہ یہ کام کرے۔ تو یہ تیرا ہی کیا دھرا ہے، اے (فلان)!“
پھر انہوں نے اپنا پاؤں اٹھایا اور یحییٰ بن معین کو لات ماری جس سے وہ چبوترے سے نیچے گر گئے، اور وہ خود اٹھ کر گھر کے اندر چلے گئے۔
امام احمد بن حنبل نے یحییٰ سے کہا:"میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا؟ اور نہیں کہا تھا کہ وہ ثابت و ثقہ آدمی ہیں ؟"
یحییٰ بن معین نے جواب دیا:"اللہ کی قسم! ان کی یہ مار مجھے میری ساری سفر کی مشقت سے زیادہ محبوب لگی!"
( تاريخ بغداد للخطيب البغدادي 12/233)
10- امام ابن عساکر
حافظ ابن عساکر اور ابو سعد سمعانی رحمہما اللہ، طلبِ حدیث اور شیوخ سے ملاقات کے سفر میں پیدل جا رہے تھے…
اسی دوران حافظ سمعانی نے ایک شیخ کو روکا تاکہ ان پر حدیث کی ایک کتاب پڑھیں، مگر جب اپنے تھیلے میں کتاب تلاش کی تو وہ نہ ملی۔ اس پر انہیں بہت غم ہوا اور سینہ تنگ ہو گیا۔
حافظ ابن عساکر نے فرمایا: آپ کون سی کتاب تلاش کر رہے ہیں؟انہوں نے کہا: ابن ابی داؤد کی "البعث والنشور"۔
حافظ ابن عساکر نے فرمایا: غم نہ کیجیے۔
پھر وہ کتاب، یا اس کا کچھ حصہ، اپنے حفظ سے سنا دیا!
( ذیل تاریخ بغداد (21/142)
11- شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنے زمانے میں حفظ کے اعتبار سے ایک عجوبۂ روزگار تھے۔
حلب کے بعض مشائخ دمشق آئے تاکہ شیخ کے حفظ کا امتحان لیں۔ انہوں نے شیخ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا:“ابھی آتے ہیں۔”
جب شیخ الاسلام تشریف لائے تو اس حلبی شیخ نے چند احادیث سنائیں، ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسی وقت انہیں یاد کر لیا۔
پھر اس نے چند منتخب اسانید املا کروائیں اور کہا:“اب اسے پڑھو۔”شیخ الاسلام نے پہلی مرتبہ کی طرح ایک نظر ڈالی اور سب سنا دیا۔یہ دیکھ کر وہ حلبی شیخ کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا:
“اگر یہ نوجوان زندہ رہا تو بڑی شان والا ہوگا، کیونکہ اس جیسا میں نے کبھی نہیں دیکھا۔”
یعنی ان کے نزدیک شیخ الاسلام کا یہ حفظ، حاضر جوابی، قوتِ استحضار اور غیر معمولی ذہانت اپنے وقت میں بے مثال تھی۔(المقصد الأرشد في ذكر أصحاب الإمام أحمد: 1 /135).
ملاحظہ: اس باب میں امام بخاری رحمہ اللہ کا واقعہ بہت مشہور ہے کہ سو حدیثوں کی سند اور متن کو لوگوں نے الٹ پلٹ کر آپ کا امتحان لینا چاہا تو اپ نے ساری حدیثوں کی سند اور متن کو صحیح کر کے لوگوں کے سامنے واضح کیا لیکن اس واقعے کو ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سندا یہ واقعہ درست نہیں اس وجہ سے ہم نے اس میں امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ واقعہ ذکر نہیں کیا ۔
البتہ امام بخاری رحمہ اللہ کی قوت حافظہ اور آپ کا ضبط اس سے کہیں زیادہ مضبوط تھا۔

جمع و ترتیب: حافظ نسیم نثار الجامعی
استاد جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ ( آندھرا پردیش)

Address

Bijapur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haq ki Awaaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share