27/01/2025
⚠️ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی خطا!!
سنن ابی داؤد کی ایک حدیث ہے جس پر شیخ زبیر صاحب نے حکم لگایا: إسناده حسن مشكوة المصابيح (3499) أخرجه الترمذي (1388 وسنده حسن) والنسائي (4807 وسنده حسن) وابن ماجه (2629 وسنده حسن) وأعله النسائي والصواب أنه حسن
یعنی زبیر صاحب کہتے ہیں: اس حدیث کی سند حسن ہے۔ (پھر اسکی تخریج بیان کرتے ہیں۔) اور کہتے ہیں: اس کو امام نسائی رحمہ اللہ نے معلول قرار دیا ہے مگر صواب (صحیح) یہ ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔
زبیر صاحب کا یہ حکم واضح خطا ہے۔ اور اس کی وجہ ان کے منہج کی کمزوری ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات ہمیں ان کے حکم آئمہ علل اور ناقدین کے خلاف ملتے ہیں۔
اور جس حدیث پر انھوں نے اسنادہ حسن کا حکم لگایا وہ یہ ہے:
سنن أبي داود ط دهلي (4/308)
٤٥٤٦ - حدثنا محمد بن سليمان الأنباري ، نا زيد بن الحباب ، عن محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار ، عن عكرمة ، عن ابن عباس «أن رجلا من بني عدي قتل، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ديته اثني عشر ألفا»
قال أبو داود : رواه ابن عيينة، عن عمرو، عن عكرمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم لم يذكر ابن عباس.
ہمیں محمد بن سلیمان انباری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں زید بن حباب نے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن مسلم الطائفی المکی سے، انہوں نے امام الحافظ عمرو بن دینار سے، انہوں نے عکرمہ سے، اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ: "بنی عدی کے ایک آدمی کو قتل کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم) مقرر کی۔"
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس حدیث کو امام الحافظ سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عکرمہ سے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ (یعنی مرسل کیا۔)
نوٹ:- « عمرو بن دينار ، عن عكرمة » کی سند سے یہ حدیث یہاں دو شخص بیان کر رہے ہیں۔ ایک راوی محمد بن مسلم جب اسے « عمرو بن دينار ، عن عكرمة » کی سند سے بیان کرتا ہے تو آگے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اضافہ کر کے اسے متصل کر دیتا ہے۔
اس کے مقابلے میں امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ جب اسے بیان کرتے ہیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کرتے۔ بلکہ ابن عیینہ کی حدیث میں عکرمہ اس حدیث کو مرسلاً بیان کرتے ہیں۔ اور اوپر امام ابو داؤد رحمہ اللہ کے کلام سے بھی ہمیں اس حدیث کی تعلیل ملتی ہے کہ امام ابو داؤد کا رجحان بھی اس حدیث کے مرسل ہونے کی طرف ہی تھا۔
اور اس پر امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے بھی صراحتاً فرمایا ہے کہ اس حدیث کا مرسل ہونا زیادہ صحیح (یعنی محفوظ) ہے۔
العلل لابن أبي حاتم ت الحميد (4/234)
١٣٩٠ - وسئل أبي عن حديث رواه محمد بن سنان العوقي ، عن محمد بن مسلم الطائفي، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس: أن النبي (ص) قضى بالدية اثنا عشر ألفا؟
قال أبي، قال: حدثنا يسرة بن صفوان، عن محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن النبي (ص) .
فقال أبي: المرسل أصح
امام ابو حاتم رحمہ اللہ سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا گیا، جو محمد بن سنان العوقی نے روایت کی، وہ محمد بن مسلم الطائفی سے، وہ عمرو بن دینار سے، وہ عکرمہ سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دیت بارہ ہزار (درہم) مقرر کی۔
اس پر ابو حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا:
ہمیں یسرہ بن صفوان نے حدیث بیان کی، وہ محمد بن مسلم سے، وہ عمرو بن دینار سے وہ عکرمہ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں (یعنی بغیر ابن عباس کے واسطے کے)۔
ابو حاتم رحمہ اللہ نے کہا: مرسل زیادہ صحیح ہے۔ (یعنی محفوظ مرسل ہے۔)
اور امام بخاری رحمہ اللہ سے بھی اسی حدیث کا سوال ہوا ، چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
العلل الكبير للترمذي (ص 218)
٣٩٠ - حدثنا محمد بن بشار , حدثنا معاذ بن هانئ , حدثنا محمد بن مسلم , عن عمرو بن دينار , عن عكرمة , عن ابن عباس , عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه جعل الدية اثني عشر ألفا. سألت محمدا عن هذا الحديث فقال:
٣٩١ - سفيان بن عيينة يقول: عن عمرو بن دينار , عن عكرمة , عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل. وكأن حديث ابن عيينة عنده أصح
ہمیں محمد بن بشار نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں معاذ بن ہانی نے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن مسلم سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عکرمہ سے، اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے دیت بارہ ہزار (درہم) مقرر کی۔
میں (ترمذی) نے امام محمد (بن اسماعیل البخاری) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:
"سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: یہ حدیث عمرو بن دینار، عکرمہ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے مرسل کرتے ہیں (یعنی ابن عباس کا ذکر نہیں ہے)۔"
جیسے امام بخاری (رحمہ اللہ) کے نزدیک سفیان بن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح (محفوظ) ہے۔
اور امام نسائی رحمہ اللہ بھی اس حدیث کو مرسل کہتے ہیں:
سنن الكبرى للنسائي - ط الرسالة (6/356)
٦٩٧٨ - أخبرنا محمد بن المثنى، عن معاذ بن هانئ، قال: حدثنا محمد بن مسلم، قال: حدثنا عمرو بن دينار وأخبرنا أبو داود، قال: حدثنا معاذ بن هانئ، قال: حدثنا محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: قتل رجل رجلا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ديته اثني عشر ألفا، وذكر قوله {وما نقموا إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله} [التوبة: ٧٤] في أخذهم الدية، اللفظ لأبي داود،
٦٩٧٩ - أخبرنا محمد بن ميمون قال: حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عكرمة سمعناه مرة يقول: عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم: «قضى باثني عشر ألفا، يعني في الدية» قال أبو عبد الرحمن: محمد بن مسلم ليس بالقوي، والصواب مرسل، وابن ميمون ليس بالقوي أيضا
ہمیں محمد بن المثنى نے حدیث بیان کی، وہ معاذ بن ہانی سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے محمد بن مسلم سے حدیث بیان کی، اور انہوں نے عمرو بن دینار سے روایت کی۔ اور ہمیں (نسائی کو) ابو داود نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: معاذ بن ہانی نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن مسلم سے، اور انہوں نے عمرو بن دینار، عکرمہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ:
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے دوسرے کو قتل کر دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم) مقرر کی۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آیت **"وما نقموا إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله"** (التوبة: 74) کو اس پس منظر میں ذکر کیا، جس میں قاتلوں کے دیت قبول کرنے کا ذکر ہے۔
یہ الفاظ ابو داود کے ہیں۔
**سنن الکبری کی ایک اور روایت:**
ہمیں محمد بن میمون نے خبر دی، وہ سفیان بن عیینہ سے نقل کرتے ہیں، وہ عمرو بن دینار سے، وہ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں: ایک بار ہم نے عکرمہ کو یہ کہتے سنا: ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بارہ ہزار (درہم) دیت مقرر کی۔
امام ابو عبدالرحمن (نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا:
محمد بن مسلم قوی نہیں ہے ، اور درست قول یہ ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے۔
محمد بن میمون بھی قوی نہیں ہے۔
نوٹ:- امام نسائی رحمہ اللہ کے نزدیک محمد بن مسلم جو عمرو بن دینار سے یہ حدیث ابن عباس کے واسطے کے اضافے کیساتھ بیان کر رہا ہے اور یہ قوی نہیں ہے۔
اور دوسری روایت میں نیچے محمد بن میمون راوی جو سفیان بن عینیہ سے یہ حدیث بیان کر رہا ہے ابن عباس کے اضافے کیساتھ وہ بھی قوی نہیں ہے۔ یعنی یہ دونوں روایات خطا ہیں۔ اسی لیے امام نسائی رحمہ اللہ مرسل کو محفوظ قرار دیتے ہیں۔
((اس حدیث کے متصل خطا ہونے کی وجہ ))
جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ اس میں عمرو بن دینار سے یہ حدیث نقل کرتے ہوئے دو راویوں کا اختلاف ہے:
1) ایک امام الحافظ سفیان بن عیینہ جو اس کو مرسل نقل کرتے ہیں۔
2) دوسرا محمد بن مسلم الطائفی جو اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے متصل کرتا ہے۔
ان دونوں راویوں کا درجہ جان لیتے ہیں:
[1 - امام سفیان بن عیینہ]
الجرح والتعديل لابن أبي حاتم (4/ 226)
قرئ على العباس بن محمد الدوري قال قال يحيى: أثبت الناس في الزهري مالك ومعمر ويونس وعقيل وشبيب بن أبي حمزة وابن عيينة. وأثبت الناس في عمرو بن دينار سفيان بن عيينة
حدثنا عبد الرحمن سمعت أبي يقول: سفيان بن عيينة إمام ثقة، وأثبت أصحاب الزهري مالك وابن عيينة، وكان أعلم بحديث عمرو بن دينار من شعبة
حدثنا عبد الرحمن أنا عبد الله بن أحمد [بن حنبل - ١] فيما كتب إلي قال نا داود بن عمرو قال سمعت عبد الرحمن ابن مهدي يقول: كان سفيان بن عيينة [من - ١] أعلم الناس بحديث الحجاز
امام یحییٰ (بن معین) نے کہا: زہری (محمد بن مسلم بن شهاب الزہری) میں سب سے زیادہ ثقہ راوی امام مالک (بن انس)، امام معمر (بن راشد)، امام یونس (بن یزید)، امام عقیل (بن خالد)، امام شبیب بن ابی حمزہ اور امام سفیان بن عیینہ ہیں۔
اور امام عمرو بن دینار میں سب سے زیادہ ثقہ راوی سفیان بن عیینہ ہیں۔
امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ امام ہیں ثقہ ہیں۔ اور امام الحافظ زہری رحمہ اللہ کے اثبت اصحاب میں امام مالک اور ابن عیینہ شامل ہیں اور امام ابن عیینہ امام عمرو بن دینار کی حدیث میں امام شعبہ سے زیادہ عالم ہیں۔
امام عبد الرحمن بن المہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام سفیان بن عیینہ حجاز کی حدیث میں سب سے زیادہ عالم ہیں۔
[2 - محمد بن مسلم الطائفی]
الجرح والتعديل لابن أبي حاتم (8/ 77)
نا عبد الرحمن قال ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين انه قال: محمد بن مسلم الطائفي ثقة.
عبدالرحمن (ابن ابی حاتم) کہتے ہیں: میرے والد امام ابو حاتم نے اسحاق بن منصور کے واسطے سے یحییٰ بن معین کا قول نقل کیا کہ: محمد بن مسلم الطائفی ثقہ ہے۔
تاريخ ابن معين - رواية الدوري (3/76)
سمعت يحيى يقول محمد بن مسلم الطائفي لم يكن به بأس وكان سفيان بن عيينة أثبت منه ومن أبيه ومن أهل قريته كان إذا حدث من حفظه يقول كأنه يخطىء وكان إذا حدث من كتابه فليس به بأس
ابن معین کہتے ہیں: محمد بن مسلم الطائفی میں کوئی حرج نہیں (یعنی قابل قبول راوی ہے)، لیکن امام ابن عیینہ محمد بن مسلم اور اس کے والد اور اس کے گاؤں کے لوگوں سے زیادہ ثبت (قوی) تھے۔ محمد بن مسلم جب اپنی یادداشت سے روایت کرتا تو ایسے جیسے وہ غلطی کر رہا ہو لیکن جب اپنی کتاب سے روایت کرتا تو اس میں کوئی حرج نہ ہوتا۔ (یعنی محمد بن مسلم اپنی کتاب سے روایت کرنے میں زیادہ ضابط تھا۔)
نوٹ:- معلوم ہوا کہ محمد بن مسلم اور سفیان بن عیینہ کی حدیث میں اختلاف ہو تو امام سفیان ابن عیینہ کی حدیث لی جائے گی۔ اور اس کے مقابلے میں محمد بن مسلم کی حدیث خطا ہو گی۔ لہذا یہ حدیث متصلاً نقل کرنا محمد بن مسلم کی خطا ہے۔ اور محفوظ ابن عیینہ والی مرسل ہے۔ واللہ اعلم۔
(( اس حدیث میں محمد بن مسلم کا اضطراب ))
اس حدیث میں محمد بن مسلم کے اضطراب پر ایک اضافی قرینہ امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے کتاب العلل میں بیان کیا تھا جسے ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔
قال (أبو حاتم) : حدثنا يسرة بن صفوان، عن محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن النبي (ص)
ابو حاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث سنائی یسرہ بن صفوان الشامی (ثقہ) نے محمد بن مسلم سے وہ عمرو بن دینار سے وہ عکرمہ سے اور عکرمہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ (مرسلاً بغیر ابن عباس کے واسطے کے۔)
نوٹ:- اس سے یہ بھی پتا چلا کہ اس حدیث میں محمد بن مسلم کو اضطراب بھی ہو رہا تھا کہ کیا واقعتاً اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا واسطہ موجود ہے یا نہیں؟ کیونکہ کبھی محمد بن مسلم ابن عباس کا واسطہ ذکر کر رہا ہے اور کبھی اسے ابن عیینہ رحمہ اللہ والی محفوظ حدیث کی طرح عکرمہ کی مرسل حدیث کے طور پر بیان کر رہا ہے۔ واللہ اعلم۔
كتبه : أحمد الخراساني