07/07/2026
محدثین کے حفظ و ضبط کی چند حیرت انگیز مثالیں
محدثین کرام رحمہم اللہ علیہم بکثرت ایک دوسرے کا امتحان لیا کرتے تھے، خاص طور پر ان لوگوں کا جن کی حدیثیں بہت زیادہ ہوں، شہرت دور دور تک پہنچ چکی ہو، یا جن کے حفظ و ضبط میں کچھ شبہ ہو، تاکہ دیکھا جائے کہ ان سے حدیث لی جا سکتی ہے یا نہیں۔
کبھی یہ امتحان استاد کی طرف سے شاگرد کی استعداد جانچنے کے لیے ہوتا تھا، اور کبھی دوسرے اسباب سے۔ یہ آزمائش کبھی دوبارہ سنانے کے مطالبے سے ہوتی، اور کبھی احادیث کو الٹ پلٹ کر کے۔ یہاں چند واقعات کو ذکر کیا جارہا ہے جن میں بعض ائمہ رحمہم اللہ کا امتحان لیا گیا، اور جن سے ان کے حیرت انگیز حفظ اور اس فن میں ان کے بلند مرتبے کا پتا چلتا ہے:
1- اُمت کے سب سے بڑے حافظ حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
ابو الزعیزعہ، جو مروان بن حکم کے کاتب تھے، بیان کرتے ہیں کہ مروان نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور مجھے تخت کے پیچھے بٹھا دیا، پھر ان سے سوالات کرنے لگا اور میں لکھتا جاتا تھا۔
ایک سال گزرنے کے بعد پھر انہیں بلایا، اور اس مرتبہ مجھے پردے کے پیچھے بٹھایا، پھر انہی احادیث کے بارے میں سوالات کیے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نہ ایک لفظ بڑھایا، نہ گھٹایا، نہ آگے پیچھے کیا۔(ذكره الحاكم في المستدرك على الصحيحين: 3/583 برقم (6164)، وابن عساكر في تاريخ دمشق: 67 /340).
2- امام زہری رحمہ اللہ
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ہشام بن عبدالملک نے امام زہری سے کہا کہ وہ ان کے بیٹوں کے لیے اپنی احادیث میں سے کچھ لکھوا دیں۔
چنانچہ امام زہری نے اپنے کاتب کو چار سو احادیث املاء کروائیں، پھر باہر آکر دیگر لوگوں کو بھی وہی احادیث بیان کیں۔
بعد میں ہشام نے امام زہری سے کہا: وہ کتاب گم ہوگئی ہے۔
امام زہری نے فرمایا: کوئی بات نہیں۔
پھر دوبارہ وہ تمام احادیث املا کروا دیں۔
اس کے بعد ہشام نے پہلی کتاب نکالی تو دونوں میں ایک حرف کا بھی فرق نہ تھا۔ دراصل ہشام امام زہری کے حفظ کا امتحان لینا چاہتا تھا۔(البداية والنهاية: 13 /136)
فائدہ: امام زہری رحمہ اللہ کا ایک قول مجھے یاد آرہا ہے حفظ حدیث اور قوت حافظہ کے متعلق آپ کا یہ قول بڑا مشہور ہے" من أراد أن يحفظ الحديث فليأكل الزبيب"
جو شخص حدیث کو حفظ کرنا چاہتا ہو تو کشمس کھائے
شاید آپ کا یہ ذاتی تجربہ ہو لہذا طلاب علم کو زبیب ضرور اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہیے کیونکہ امت کے سب سے بڑے حافظ حدیث میں سے امام زہری کا شمار ہوتا ہے اگر آپ نے یہ بات کہی ہے تو شاید اس سے قوت حافظہ اور ضبط میں اضافہ ہوتا ہو ۔
3- محمد بن عجلان مدنی رحمہ اللہ
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں:
میں کوفہ آیا، وہاں ابن عجلان بھی تھے، اور طلبۂ حدیث میں ملیح بن وکیع، حفص بن غیاث، عبداللہ بن ادریس، اور یوسف بن خالد السمتی موجود تھے۔
ہم نے کہا: چلو ابن عجلان کے پاس چلتے ہیں۔
یوسف بن خالد نے کہا: “ہم اس شیخ کی احادیث کو الٹ پلٹ کرتے ہیں تاکہ ان کے فہم اور ضبط کو دیکھیں۔”
چنانچہ انہوں نے احادیث میں تبدیلی کر دی؛ جو روایت “سعید سے” تھی اسے “ان کے والد سے” کر دیا، اور جو “والد سے” تھی اسے “سعید سے” بنا دیا۔
ہم ابن عجلان کے پاس گئے، لیکن عبداللہ بن ادریس نے تقویٰ کی بنا پر اس کام سے اجتناب کیا، دروازے پر بیٹھ گئے اور کہا:“میں اسے جائز نہیں سمجھتا۔”میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔
ادھر حفص، یوسف بن خالد اور ملیح اندر گئے اور سوالات کرنے لگے۔ ابن عجلان شروع میں جواب دیتے رہے، لیکن جب کتاب کے آخر کے قریب پہنچے تو متنبہ ہو گئے اور فرمایا:
“دوبارہ پڑھو۔”جب دوبارہ پیش کیا گیا تو فرمایا:
“تم نے جو میرے والد کے واسطے سے مجھ سے پوچھا، وہ دراصل سعید نے مجھ سے بیان کیا تھا، اور جو سعید کے واسطے سے پوچھا، وہ میرے والد نے بیان کیا تھا۔”
پھر یوسف بن خالد کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
“اگر تیرا مقصد میری عیب جوئی اور رسوائی تھا تو اللہ تجھ سے اسلام سلب کر لے۔”
پھر حفص سے فرمایا:“اللہ تجھے تیرے دین اور دنیا میں آزمائش میں ڈالے۔”اور ملیح سے فرمایا:“اللہ تیرے علم کو تیرے لیے نفع مند نہ بنائے۔”
یحییٰ کہتے ہیں:
ملیح کی وفات ہو گئی اور اپنے علم سے فائدہ نہ اٹھا سکا، حفص جسمانی آزمائش میں مبتلا ہوا، فالج کا شکار ہوا، اور دین میں بھی آزمائش آئی، جبکہ یوسف اپنی موت تک زندقہ کے الزام سے نہ بچ سکا۔( المحدث الفاصل بين الراوي والواعي للرامهرمزي: 413)
4- امام دار الہجرۃ، امام مالک بن انس رحمہ اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میں نے عید کے دن نماز پڑھی اور دل میں کہا: آج ایسا دن ہے کہ امام زہری فارغ ہوں گے۔
چنانچہ میں عیدگاہ سے واپس ہو کر ان کے دروازے پر جا بیٹھا۔ میں نے سنا کہ وہ اپنی خادمہ سے فرما رہے تھے:
“دیکھو دروازے پر کون ہے؟”اس نے دیکھا اور کہا:
“آپ کے گندمی رنگ والے آزاد کردہ شاگرد مالک ہیں۔”
انہوں نے فرمایا“انہیں اندر آنے دو۔”میں اندر داخل ہوا تو انہوں نے فرمایا:“ابھی تک اپنے گھر نہیں گئے؟”میں نے عرض کیا: نہیں۔فرمایا:“کچھ کھایا ہے؟”میں نے کہا: نہیں۔فرمایا:
“کھانا کھاؤ۔”میں نے عرض کیا:“مجھے کھانے کی حاجت نہیں۔”فرمایا:“پھر کیا چاہتے ہو؟”میں نے عرض کیا:“آپ مجھے حدیث سنائیں۔”فرمایا:“لاؤ۔”میں نے اپنی تختیاں نکالیں، تو انہوں نے مجھے چالیس احادیث بیان فرمائیں۔
میں نے عرض کیا:“مزید بڑھائیے۔”فرمایا:
“تمہارے لیے یہی کافی ہیں، اگر تم نے یہ احادیث یاد کر لی ہیں تو تم حفاظ میں سے ہو۔”میں نے عرض کیا:
“میں یہ پہلے ہی روایت کر چکا ہوں، یعنی مجھے یاد ہیں۔”
امام مالک فرماتے ہیں:
پھر امام زہری نے میرے ہاتھ سے تختیاں کھینچ لیں اور فرمایا:“سناؤ!”چنانچہ میں نے وہ چالیس احادیث انہیں سنا دیں۔انہوں نے تختیاں مجھے واپس کرتے ہوئے فرمایا:
“اٹھو! تم علم کے برتنوں (خزینوں) میں سے ہو۔”
(ترتيب المدارك: 1 /134)
6- ابو جعفر العقیلی رحمہ اللہ
مسلمہ بن قاسم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
ابو جعفر عقیلی بڑے بلند مرتبہ، عظیم الشان اور غیر معمولی شخصیت کے مالک تھے۔ میں نے ان جیسا کوئی نہیں دیکھا۔