Haq ki Awaaz

Haq ki Awaaz Haq ki Awaaz حق کی آواز

25/09/2025

(حالات ایک جیسے نہیں رہتے)
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ حقیقت ذہن نشین کر لو کہ زمانہ کبھی ایک حال پر قائم نہیں رہتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ﴾ (یہ دن ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں).
کبھی انسان فقر کا سامنا کرتا ہے اور کبھی دولت کا، کبھی عزت ملتی ہے اور کبھی ذلت، کبھی دوست خوشیاں مناتے ہیں اور کبھی دشمنوں کو خوشی نصیب ہوتی ہے۔
خوش نصیب وہی ہے جو ہر حال میں ایک ہی بنیاد کو مضبوطی سے تھامے رکھے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ۔
اگر وہ غنی ہو تو تقویٰ اس کی دولت کو زینت بخشتا ہے۔
اگر فقیر ہو تو صبر کے دروازے اس پر کھول دیتا ہے۔
اگر عافیت حاصل ہو تو یہ تقویٰ اس کی نعمت کو کامل کر دیتا ہے۔
اور اگر آزمائش میں مبتلا ہو تو یہی تقویٰ اسے سہارا دیتا ہے۔
پھر دنیا کے حالات خواہ نشیب و فراز لائیں، عزت یا ذلت دیں، بھوکا رکھیں یا سیر کریں—کسی حال میں بھی اس شخص کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ کیونکہ یہ سب عارضی ہیں، بدلنے والے ہیں، اور فنا ہو جانے والے ہیں۔
جبکہ تقویٰ ہی وہ بنیاد ہے جو ہر حال میں انسان کو سلامتی عطا کرتا ہے۔
(صيد الخاطر 1/49)

29/08/2025

درس نمبر 🔟 : شرح الأصول الثلاثة
علامہ مجدد شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ـ
طاغوت کی حقیقت:
شیخ ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا:
مَعْنَى الطَّاغُوتِ مَا تَجَاوَزَ بِهِ الْعَبْدُ حَدَّهُ مِنْ مَعْبُودٍ أَوْ مَتْبُوعٍ أَوْ مُطَاعٍ
یعنی "طاغوت اس کو کہتے ہیں جس کے سبب بندہ اپنی حد سے تجاوز کر جائے، خواہ وہ معبود ہو، متبوع ہو یا مطاع۔"
انہوں نے مزید فرمایا کہ طواغیت (یعنی باطل معبود) بہت زیادہ ہیں لیکن ان کے بڑے پانچ ہیں:
1. ابلیس لعین
2. وہ شخص جو راضی ہو کہ اس کی عبادت کی جائے
3. وہ جو لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف بلائے
4. وہ جو غیب کا علم جاننے کا دعویٰ کرے
5. وہ جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے بغیر فیصلہ کرے
طاغوت کے بارے میں وضاحت:
ابن القیم رحمہ اللہ کے کلام کا مطلب یہ ہے کہ طاغوت وہ ہے جو کفر و شرک میں حد سے بڑھ جائے یا رسول اللہ ﷺ کی بجائے غیر کی اتباع کرے اور جسے وہ نبی ﷺ سے بہتر سمجھے۔ طاغوت کا سردار اور امام ابلیس ہے، کیونکہ وہ لوگوں کو کفر کی طرف بلاتا ہے۔
اسی طرح فرعون، نمرود اور ان جیسے دیگر لوگ جو اپنی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، وہ بھی طاغوت ہیں، کیونکہ عبادت صرف اللہ کا حق ہے۔ اسی طرح بعض صوفی مشائخ جو اپنی قبروں پر عمارت بنانے، ان سے دعا مانگنے اور ان سے شفاعت طلب کرنے کی وصیت کرتے ہیں، یہ بھی طغیان میں داخل ہے۔
اسی طرح غیب کا علم اللہ کے ساتھ خاص ہے، جو شخص علمِ غیب کا دعویٰ کرے وہ کاذب جھوٹا اور مجرم ہے، اور رب العالمین کا انکاری ہے، جیسے کہ کاہن اور نجومی۔
اللہ کے نازل کردہ قانون کے بغیر فیصلہ کرنے کے بارے میں اہلِ علم نے تفصیل بیان کی ہے:
اگر کوئی خواہش نفس، یا کسی کو خوش کرنے کے لیے ایسا کرے، لیکن اسے حلال نہ سمجھے، تو یہ "کفر دون کفر" (کفر اصغر) ہے۔
لیکن اگر وہ اسے حلال سمجھے تو یہ "کفر اکبر" ہے، جو انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا:
"اگر کوئی اللہ کے دین کے بغیر فیصلہ کرے محض خواہش نفس کی وجہ سے تو یہ کفر اصغر ہے، لیکن اگر اسے حلال سمجھے تو یہ کفر اکبر ہے، جیسے کہ زنا۔ اگر کوئی سو عورتوں سے زنا کرے لیکن اسے حلال نہ سمجھے تو کافر نہیں ہوگا، مگر جب اسے حلال سمجھے گا تو کافر ہو جائے گا۔"
حکمرانوں کے بارے میں اہل سنت کا منہج
اہلِ سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ:
مسلمانوں کے حکمرانوں پر خروج (بغاوت) جائز نہیں۔
ان کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا درست نہیں۔
ان کی برائیاں عام کرنا حرام ہے۔
بلکہ ان پر صبر کرنا، ان کو خیرخواہی کے ساتھ نصیحت کرنا، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مشروع طریقے اپنانا واجب ہے۔
قرآن سے دلیل:
اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴾ (البقرة: 256)
ترجمہ: "دین میں کوئی جبر نہیں، یقیناً ہدایت گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے، پس جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، تو اس نے ایسا مضبوط سہارا پکڑ لیا ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔"
اس آیت کا مفہوم:
جو شخص اللہ کے سوا ہر معبود کی عبادت سے انکار کرے، اور صرف اللہ کو اپنی عبادت، اطاعت اور اتباع کا مستحق مانے، وہ دراصل عروۂ وثقیٰ (لا إله إلا الله) کو تھام لیتا ہے۔
لا إله إلا الله کا مطلب ہے: "اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں"۔
حدیث سے دلیل: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رَأْسُ الأَمْرِ الإِسْلامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ (رواہ الترمذی، حدیث: 2616)
ترجمہ: "اس دین کا سردار اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی چوٹی اللہ کے راستے میں جہاد ہے۔"
وضاحت: اسلام کا معنی ہے: اللہ کے سامنے جھک جانا، صرف اس کی عبادت کرنا، اس کی اطاعت کرنا اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا۔
سب سے بڑی عبادت نماز ہے، جسے چھوڑ دینا کفر ہے جیسا کہ حدیث میں آیا: «فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ» "جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔" (رواہ الترمذی، حدیث: 2621)
اور جہاد دین کا سب سے بلند درجہ ہے، کیونکہ اس کے ذریعے دین محفوظ ہوتا ہے۔ لیکن جہاد صرف اس وقت مشروع ہے جب مسلمانوں کے پاس قوت و طاقت ہو۔ جہاد اس لیے مشروع کیا گیا کہ اسلام غالب آئے، کیونکہ یہ دینِ حق ہے، اور اس کے سوا سب دین باطل ہیں۔
۔۔۔ختم شد ۔۔۔ولله الحمد والمنة
تلخيص وترجمہ: حافظ محمد سلیم سنابلی مدنی

20/08/2025

حصہ میں تم وقت نکالو، میں دن کے آخری لمحے میں تمھاری حاجت روائی کر کے ذہنی اطمینان دونگا"انتہی

"تحفۃ الأحوذی" (2/478)

4- ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (نمازِ اشراق کی صرف اوّاب[رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا] ہی پابندی کرتا ہے اور یہی صلاۃ الاوّابین ہے) ابن خزیمہ نے اسے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحيح الترغيب والترهيب" (1/164)

5- انس بن مالک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (جس شخص نے فجر کی نماز با جماعت ادا کی، پھر سورج طلوع ہونے تک ذکر الہی میں مشغول رہا، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں، تو یہ اس کے لیے مکمل، مکمل، مکمل حج اور عمرے کے اجر کے برابر ہوں گی) ترمذی: (586) البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحیح سنن ترمذی " میں حسن کہا ہے ۔

مبارکپوری رحمہ اللہ "تحفة الأحوذی بشرح جامع الترمذی" (3/158) میں کہتے ہیں:

"نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان : " پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں " یعنی سورج طلوع ہونے کے بعد۔

طیبی کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ : نیزے کے برابر سورج طلوع ہونے کے بعد جب مکروہ وقت ختم ہو گیا تو دو رکعت ادا کیں، اس نماز کو نماز اشراق کہا جاتا ہے، جو نماز ضحی کی ابتدائی صورت ہے"

26/06/2025

یہ تھے ہمارے عمر ۔۔۔۔۔۔۔1۔۔۔۔۔۔۔۔

ابوبکر قدوسی ۔۔۔۔۔
زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں لیے کمرے سے باہر نکل آئے ، وصیتیں سن کر کہہ رہے تھے کہ عمر نے آپنے بعد آنے والوں کو مشکل میں ڈال دیا ۔۔۔ سیدنا علی کی مراد تھی کہ حکمرانی کا جو یہ معیار قائم کر گئے اب بھلا اسے برقرار رکھنا کوئی آسان ہے ۔
اب یہی دیکھئیے نا کہ خلیفہ بنے تو امانت و دیانت کا یہ عالم رہا کہ ریاست کی ملکیت ایک کھجور بھی خود پر حرام رکھی ۔
ایک صاحب کہ سرکاری ڈیوٹی پر ہوتے تھے ، ایک روز دور دراز سے سفر کر کے اپنی کارگزاری کی بپتا سنانے خلیفہ کے پاس آتے ہیں ۔ خلیفۃ المسلمین کے پاس بیٹھے ہیں ، گفتگو کر رہے ہیں تو ان کی مہمان نوازی کو سیدنا عمر نے بیت المال سے کچھ کھجوریں پیش فرمائیں ۔ وہ صاحب کھا رہے ہیں اور کھاتے کھاتے سیدنا عمر کو کہتے ہیں کہ :
" امیر المومنین ! آپ بھی تو کھائیے نا "
سیدنا عمر نے دھیرے سے انکار کر دیا تو اس پر وہ صاحب بولے :
" ہم تو بیت المال کے جانوروں کا دودھ بھی پیتے ہیں ، ان کی سواری بھی کرتے ہیں ، گوشت بھی کھا لیتے ہیں "
تو آپ نے فرمایا کہ :
" میرا اور تمہارا معاملہ الگ ہے تم لوگ بیت المال کے لیے محنت کرتے ہو ، صدقات کی وصولی کے لیے قریہ قریہ پھرتے ہو ، دھوپ اور موسم کی سختی برداشت کرتے ہو ، تم گویا ان جانوروں کی دم کے ساتھ لگے رہتے ہو ، تم اگر ان کے دودھ اور سواری سے فائدہ اٹھاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ لیکن میں یہاں مدینے میں بیٹھے بیٹھے یوں بیت المال کا مال کھانے کا کیا حق رکھتا ہوں".
اب خود ہی دیکھیے کہ لاکھوں مربع میل کا ایک حاکم خود پر بیت المال کی کھجور کا استحقاق نہیں سمجھتا تو کیا یہ حکمرانی کا مشکل ترین معیار نہیں؟ ۔
عالم یہ تھا کہ اک بار بیمار ہو گئے اور بیماری میں طبیب نے آ کر دیکھا تو عرض کیا کہ :
" حضور تھوڑا سا شہد کھائیے کہ آپ کے درد کا درماں اس میں رکھا ہے ۔۔"
اب امیر المومنین اور خلیفۃ المسلمین کے گھر میں نہ تو شہد تھا اور نہ اتنی رقم کہ شہد خرید پاتے ۔ دوسری طرف بیت المال میں شہد کا ایک بڑا برتن بھرا پڑا تھا ، مگر عمر اس سے بلا اجازت استعمال کرتے تو کیسے کرتے کہ ان کی لغت میں یہ ناممکنات سے تھا۔ مسجد نبوی میں چلے آئے اور منبر پر بیٹھے ۔ لوگوں کو طلب کیا ۔ ممکن ہے لوگ اس گمان میں چلے آئے ہوں کہ امیر المومنین نے بلایا ہے کوئی معرکہ درپیش ہوگا کہ مشاورت چاہیے یا ریاست کا کوئی بڑا کام ہوگا ، سو مشورہ کرنا چاہتے ہیں ۔
اور یہاں امیر المومنین کہہ رہے ہیں کہ :
" لوگو ! معاملہ یہ پیش آیا کہ طبیب نے کہا ہے شہد استعمال کر لو اور شہد بیت المال میں ہے میرے پاس موجود نہیں ۔ اگر آپ سب مجھے اجازت دیں تو میں استعمال کر لوں کیونکہ یہ تم لوگوں کا مال ہے یہ رعایا کا مال ہے آپ لوگوں کی اجازت کے بغیر میں کیسے استعمال کر سکتا ہوں ۔۔"

سیدنا عمر فاروق کی ریاست کے مال ، اور بیت المال کے اسباب کے لیے دیانت داری کے واقعات انسان کو حیران کر دیتے ہیں ۔ اب یہی دیکھئیے کہ ایک بار 10 ہزار درہم کی ضرورت آن پڑی تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف کو کہلا بھیجا ، انہوں نے معذرت کر لی اور ساتھ پیغام بھیجا کہ بیت المال سے لے لیجئے ۔ سیدنا عمر کو یہ بات اچھی نہ لگی لیکن بیت المال سے بھی رقم نہ لی ، جیسے تیسے اپنی ضرورت پوری کر لی یا صبر کر لیا ۔
ایک روز راہ چلتے ان سے ملاقات ہو گئی شکوہ کیا اور کہا کہ :
" عبدالرحمن ! آپ سے تو اس لیے مانگ لیے تھے کہ زندگی کی اس ڈور کا کیا پتہ کب کٹ جائے ، سو اپ میرے ورثاء سے یہ رقم مطالبہ کر کے حاصل کر سکتے ہیں اور اگر میں نے بیت المال سے لی اور اس بیچ میری موت آگئی تو مسلمانوں نے میرے ورثا سے [ میرے لحاظ میں ] کبھی مطالبہ نہیں کرنا ۔
اور وہ دن تو بہت عجیب تھا مدینے میں سخت گرمی پڑ رہی تھی ، چلچلاتی دھوپ تھی اور لوگ اپنے گھروں میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ سیدنا عثمان غنی کا گھر تھوڑا فاصلے پر کھلی اور اونچی جگہ تھا ۔ بالا خانے پر بیٹھے دیکھا کہ ایک شخص تیز تیز یوں چلتا آ رہا ہے کہ گویا دوڑ رہا ہو ۔ خود کلامی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ " بھلا یہ شخص گھر میں آرام کرتا اس گرمی میں اچانک کیا ضرورت اس کو باہر نکال لائی " ۔
چلچلاتی دھوپ میں بھاگنے والا مسافر قریب چلا آ رہا تھا ، اب سیدنا عثمان کی آنکھوں نے جب شناخت پائی تو سیدنا عثمان حیرت سے اٹھے ، باہر بھاگے اور کہا :
" امیر المومنین ! کیا ہوا کہ آپ اس گرمی میں یوں تپتی ریتوں پر پھر رہے ہیں "
فرمایا:
" بیت المال سے دو اونٹ نکل گئے ہیں ان کو ڈھونڈ رہا ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ گم ہو جائیں اور روز قیامت عمر کا مقدر گم ہو جائے میں بھلا کیا جواب دے پاؤں گا ۔۔ "
سیدنا عثمان حیران و پریشان کہنے لگے کہ :
" حضرت ! آپ آئیے ، تھوڑی دیر سائے میں بیٹھیے ، ٹھنڈا پانی پئیں ، میرے غلام تلاش کر دیتے ہیں "
وہاں بھی عمر تھے وہ بھلا کہاں یہ بات مانتے ، رساں لہجے میں کہنے لگے کہ :
" عثمان آپ کو اپنا یہ سایہ مبارک ہو ، بیت المال کے مال کی نگرانی میری ذمہ داری ہے ، سو یہ کام مجھے ہی کرنا ہے"
سیدنا عثمان بے اختیار کہنے لگے۔
" من احب ان ینظر الی القوی الامین فلینظر الی ھذا "
جو کسی مضبوط و قوی امانت دار کو دیکھنا چاہتا ہے تو سیدنا عمر کو دیکھ لے ۔۔۔
واقعی سیدنا علی نے بے سبب تو نہیں کہا تھا کہ آپ نے اپنے بعد آنے والے خلفاء کے لیے بہت مشکل کر دیا سب کچھ ۔۔۔۔
اج کوئی حکمران بنتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کی سات نسلیں سنور گئیں ، ہوتا بھی یہ ہے کہ کمزور مالی حیثیت کے لوگ جب اقتدار کی ہوا کو بھی چھو جائیں تو ان کے رنگ ڈھنگ بدل جاتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہاں کیا عالم تھا؟
ایک بار سیدنا عمر کے سسر کسی ضرورت کے تحت تشریف لائے اور کہا بیت المال سے مجھے اتنا قرض تو دے دیجئے ، سیدنا عمر نے ان کا مطالبہ سنا تو غصّے میں آگئے اور کہنے لگے کہ :
" یہ بیت المال کا مال کیا میرے ذاتی تصرف کی شے ہے کہ میں اس کو اپنے اعزہ و اقارب پہ نچھاور کرنا شروع کر دوں ؟ "
اور صاف چٹا انکار کر دیا پھر اپنے ذاتی وسائل سے جو ممکن ہو سکتا تھا ان کو رقم دی ۔
اور بیت المال کے مال سے اپنی ذات اور اپنے گھر والوں کے تصرف کے معاملے میں تو ان کی احتیاط انتہا کو پہنچی ہوئی تھی ۔ ابو موسی اشعری کہ خود جلیل القدر صحابی رسول تھے ، ایک روز بیت المال کی صفائی کر رہے ہیں اور اس کے صفائی کے بیچ میں ایک درہم زمین پر گرا پڑا دیکھا درہم کہ سب سے چھوٹی اکائی ، اکیلا ہو تو بے حیثیت ۔ اتفاق دیکھیے کہ اسی وقت سیدنا عمر کا ایک چھوٹا بچہ ادھر سے گزر رہا تھا ۔ ابو موسی نے چھوٹا بچہ جان کے درہم ان کے ہاتھ پکڑا دیا ۔ اب بچہ درہم پا کے خوشی خوشی گھر کو چلا ۔
آگے ابا حضور کھڑے ہیں بچے کے ہاتھ میں درہم دیکھا تو چونک اٹھے پوچھا :
" کہاں سے لیا ؟ "
بچے نے ماجرا کہہ سنایا ۔ بچے کا بازو پکڑا ، گویا بھاگتے ہوئے بیت المال کو چل دیے ۔ ابو موسی ادھر ہی موجود تھے ، سیدنا عمر نے غصے سے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
گویا تم چاہتے ہو کہ امت محمدیہ کا ہر ہر فرد [ روز قیامت ] اس ایک درہم کا مجھ سے سوال کرے ؟ ۔
اور پھر وہ درہم اٹھا کر بیت المال کے اسباب میں رکھ دیا ۔
۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔۔۔۔

27/05/2025

دراصل آک، آکھ اور مدار ایک ہی پودے کے نام ہیں۔ یہ پودا ایک گز کے قریب لمبا، پتے چوڑے اور موٹے، برگد کے پتو ں کی مانند، آکھ کی ٹہنی ، پتہ یا پھول توڑنے سے سفید رنگ کا دودھ نکلتا ہے۔ آکھ کا پھول چھوٹا اور نرگس کے پھول کے مشابہ ہوتا ہے۔

مختلف نام
اردو: آک، آکھ، مدار۔

ہندی: آک۔

بنگالی: اکنڈا۔

مرہٹی: اکڑا۔

گجراتی: آکرد۔

سنسکرت: مندارا۔

لاطینی: کیلو ٹروپس calotropis

شناخت
مشہور پودا ہے جو ہندوستان , پاکستان ا ور بنگلہ دیش کے ہرعلاقہ کے علاوہ افریقہ غیر ممالک میں بھی پایا جاتا ہے ہے اس پودے کی دو قسمیں ہیں۔
سرخ پھولوں والی قسم عام ملتی ہے لیکن سفید پھول کی قسم نایاب ہے کیمیا گر اکثر اس کی تلاش میں میں رہتے ہیں اس کا پودا ڈیڑھ گز سے دو گز تک اونچا ہوتا ہے ، پتے رونگٹھے دار ہوتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہےکہ ان پر مٹی جمی ہوئی ہے اس کے سب اجزاء سے دودھ نکلتا ہےجسے شیرمدار یا آک کا دودھ کہتے ہیں اس کے پھل کےاندر نہایت نرم سی روئی ہوتی ہے پھول گچھے دار نکلتے ہیں پھول کے درمیان ایک ٹکیہ ہوتی ہے جسے آک کا لونگ کہتے ہیں۔

آک کے پھول
مزاج
آک کا مزاج چوتھے درجے میں گرم خشک ہے، شاخ پتے اور جڑ تیسرے درجے میں گرم خشک ہیں جب کہ پھول دوسرے درجے میں گرم خشک ہیں۔

فوائد
آک کے پتے درد کو دور کرتے ہیں اس لئے ان کو سوجن اور جوڑوں کے درد پر باندھتے ہیں اس کے پتوں کا سفوف اگر زخموں پر چھڑکا جائے تو وہ جلد بھر جاتے ہیں (پتوں کو جلا کر اس کی راکھ زخم پر چھڑکنے سے فائدہ ہوتا ہے خام پتے نہیں-از حکیم فرخ نعیم) آک کے دودھ کو زیتون کے تیل میں ملا کر اگر گنج واداد پر لیپ کیا جائے تو بہت فائدہ ہوتا ہے ہیٹھلی دادپر آک کا دودھ اور شہد برابر وزن ملا کر لگانا فائدہ مند ہے زہریلے جانوروں بھڑ شہد کی مکھی یا بچھو کے ڈنگ پر آک کا دودھ لگانا بہت فائدہ مند ہے سانپ کے کاٹے ہوئے مقام پر قطرہ قطرہ دودھ ٹپکانا زہر کو دور کرتا ہے آیور ویدک نقطہ نظر سے ہر قسم کا آک گرم اور دست آور ہے اور بلغمی امراض (کفج روگ)دور کرتا ہے زہریلے امراض خارش پھوڑے اور پھنسی و امراض معدے کے لیے مفید ہے۔
ڈاکٹری طریقہ علاج میں آک کے پتوں کا دھواں مرض دمہ کے لیے مفید ہے یہ بوٹی بعض دفعہ زہریلا اثر پیدا کرتی ہے خاص طور پر دودھ زیادہ زہریلا ہوتا ہے آک کے زہر کا تریاق دودھ، گھی اور انڈے کو دودھ میں پھینٹ کر دینا مفید ہوتا ہے۔ہرڑ زرد سالم مریض کے منہ میں رکھوا دیں تھوڑی دیر بعد اس کی رنگت سفید ہوجائے گی اسے پھینک دیں اور تازہ ہرڑمنہ میں رکھیں جب تک ہر ڑسفید ہوں سمجھ لیں کے زہر کا اثر باقی ہے اس لئے بار بار عمل کریں جب ہر ڑاپنے رنگ پر رہے تو زہر کا اثر دور ہو جائے۔

مقدار خوراک
آک کا دودھ ایک رتی، خشک پتوں کا سفوف دو رتی، جڑ کی چھال کا سفوف دو رتی اور پھول ایک رتی جوشاندہ میں پتوں یا چھال کو تین سے چار ماشہ تک استعمال کرسکتے ہیں۔

آک سے تیار ہونے والی مندرجہ ذیل مجربات نہایت آسان اور زود اثر ہیں بنا کر فائدہ اٹھائیں۔
دوائے ہیضہ: چھلکا جڑ آک، مرچ سیاہ برابر وزن لے کر ادرک کے پانی میں پیس کر بقدرِ نخود گولیاں بنائیں مریض ہیضہ کو آدھا آدھا گھنٹہ کے وقفہ سے ایک ایک گولی کھلائی دو تین گولیاں کھلانے سے آرام آجاتا ہے۔

دوائے ہاضمہ: آک کے پھول کا لونگ، مرج سیاہ ایک ایک تولہ، سہاگہ چھ ماشہ٫نوشادر چھ ماشہ ٫نمک سونچر ایک تولہ ، سب دواوٰں کو ادرک کے رس میں کھرل کر کے گولیاں بقدر نخود بنائیں بدہضمی درد پیٹ اور ہیضہ کے لئے مجرب ہے مناسب طریقہ سے مختلف امراض ہضم کے لیے مفید ہیں۔

پیٹ درد: آک کے پھول بول 5 تولہ، نو شاد، لونگ، سونٹھ، پیپل، سیاہ مرچ، نمک سانبھر، نمک سیاہ، نمک لاہوری، سیندھا، اجوائن ہر ایک چھ ماشہ، سونف ایک تولہ حسب دستور جنگلی بیر کے برابر گولیاں بنائیں پیٹ درد اور اپھارہ کے لیے مفید ہے۔

دوائے ہیضہ: کلی آک جواب بھی کھلی نہ ہو ایک تولہ، بیج لال مرچ نو ماشہ، ا فیو ن خالص تین ماشہ گولیاں بقدر نخود خود بنائے یہ گولیاں ہیضہ کالرا کے آخری درجہ میں مفید ہیں۔

روغن فالج : تلوں کے تیل ایک سیر کو کڑاہی میں ڈال کر آگ پر رکھیں اس میں ایک سو پتے آک باری باری سے ڈال کر پکائیں جو پتے جل جائیں نکالتے جائیں اور آخر میں تیل صاف کر لیں فالج، لقوہ، حذر، میں اس تیل کی ہوا بچا کر نیم گرم مالش کرنا بہت مفید ہے۔

تریاق بچھو: دودھ آک دو تولہ، نوشادر چھ ماشہ، چونا آب نا دیدہ تین ماشہ اور گلیسرین تین تولہ، باہم کھرل کرکے مرہم سی بنا کر شیشی میں محفوظ رکھیں بوقت ضرورت بچھو کے ڈنگ پر دو رتی سے چار رتی مل دیں سیکنڈوں میں آرام ملے گا۔

زخموں کا علاج: چھلکا جڑ آک خشک شدہ ایک حصہ، رال تین حصہ، کتھ چار حصہ، تینوں کو باریک پیس کر چھان لیں اور صاف شدہ زخموں کو مندمل کرنے کے لئے چھڑکیں۔

گل قند اک برائے بواسیر: آک کے پھول صاف کرکے تین گنا کھانڈکے ساتھ ہاتھوں سے خوب ملیں جب ایک جان ہو جائیں مرتبہ ان میں ڈال کر دھوپ میں رکھیں گل قند آک تیار ہے یہ گلقند بلغمی کھانسی دمہ جوڑوں کے درد اور بواسیر کے لیے مفید ہے خوراک ایک سے دو ماشہ استعمال کریں۔

دوائی مرگی : آک کے درخت کا ٹڈا پکڑ کر شیشی میں بند کریں جب خشک ہو جائے تو اس کے ہمراہ مرچ سیاہ باریک پیس کر ملائیں مرگی کے واسطے نہایت مفید ہے دورہ کے وقت بطور نسوار استعمال کریں۔

دیسی ایوڈو فارم: آک کے زرد رنگ کے پتے اتار کر سائے میں خشک کریں اور پاؤڈر بنائیں ہر قسم کے زخموں پر چھڑکنے سے زخم بھر جاتے ہیں علاوہ ازیں زہریلے زخموں کے لیے بھی مفید ہے۔

دواۓ مرگی : آک کی جڑ کو بکری کے دودھ میں خوب گھسیں جب دودھ ذرا گاڑھا ہوجائے تو اس کو باحفاظت رکھیں اور مریض کی ناک میں ٹپکایا کریں چند یوم میں آرام ہوگا اسی طرح آک کا چھلکا بکری کے دودھ میں گھس کر ناک میں ٹپکانے سے ام الصبیان یعنی بچوں کی مرگی کو بھی آرام آ جاتا ہے۔

کالی مرہم کا نسخہ: تیل سرسوں پانچ تولہ، سندھوردوتولہ، نیلا تھوتھا چار رتی، آک کے پتوں کا سفوف چھ ماشہ۔
ترکیب تیاری: تیل میں سندھور اور آک کے پتوں کا سفوف ڈال کر نرم آگ پر پکائیں جب قدرے گاڑھا ہو جائےتو نیلا تھوتھا پیس کر ملائیں اور نیچے اتار لیں کپڑے پر حسب ضرورت لگا کر پھوڑے،گندے زخموں،خنازیر اور ناسور کے لیئے مفید ھے۔ طب آیورویدک یونانی میں ولایتی بیلاڈونا کا بے مثل بدل اور مجرب علاج ہے۔ سکھدائک ملتانی دواخانہ پانی پت میں سینکڑوں بار تیار کی گئی ہے۔

گنٹھیا کا کامیاب علاج : سرسوں کا تیل 20 تولہ، آک کا دودھ ایک چھٹانک، نمک سانبھر ایک تولہ، ان تینوں کو خوب کھرل کر کے ایک جان کر لیں۔ دوا تیار ہے گنٹھیا کا درد خواہ کتنا ہی پرانا ہو تھوڑے سے تیل کی درد والی جگہ پر مالش کرنے سے مرض بالکل دور ہو جاتا ہےجہاں کوئی بھی دعا کامیاب نہ ہوتی ہو وہاں اس کا استعمال کرکے لابھ اٹھائیں۔

جڑی بوٹیوں کی معلومات اور مزید نسخہ جات کے بارے میں جاننے کے لیے ہمارے پیج کو لائک فالو اور شئیر کریں
دواںئ آنلائن آرڈر کرانے کے لیے واٹس آپ نمبر پر رابطہ کریں
+92 324 5800455
اور مزید معلومات دواخانہ کی ٹاںئمنگ یا چیک اپ کے لیے نیچے دیے گۓ نمبروں پر رابطہ کریں
حکیم شیخ منگت خان 03215093039
حکیم شیخ گلفراز حسین 03466727272
عثمان دواخانہ کرپا اسلامآباد

15/02/2025

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه مرفوعاً: «إنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ مِنَ الهُدَى والعِلْمَ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فكانتْ مِنها طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ، قَبِلَتْ الماءَ فَأَنْبَتَتِ الكَلَأَ والعُشْبَ الكَثِيرَ، وكَان مِنها أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الماءَ فَنَفَعَ اللهُ بها النَّاسَ، فَشَرِبُوا مِنْهَا وسَقَوا وَزَرَعُوا، وأَصَابَ طَائِفَةً مِنها أُخْرَى إنَّما هِي قِيعَانٌ لا تُمْسِكُ مَاءً ولا تُنْبِتُ كَلَأً، فذلك مَثَلُ مَنْ فَقُهَ في دِينِ اللهِ وَنَفَعَهُ بِما بَعَثَنِي اللهُ بِهِ فَعَلِمَ وعَلَّمَ، ومَثَلُ مَنْ لم يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا ولم يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الذي أُرْسِلْتُ بِهِ».
[صحيح] - [متفق عليه]

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی، زمین کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے اس پانی کو جذب کر لیا اور اس نے چارہ اور بہت سا سبزہ اگایا اور زمین کا بعض حصہ سخت تھا ، اس نے پانی کو روک لیا جس سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نفع دیا ، انہوں نے وہ پانی خود پیا ، جانوروں کو پلایا اور کھیتیاں کیں۔ جب کہ زمین کا بعض حصہ چٹیل میدان تھا ، جس پر بارش ہوئی تو اس نے نہ پانی کو روکا اور نہ کسی قسم کی گھاس اگائی۔ پہلی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اس کا فیض پہنچایا اور اللہ تعالیٰ نے جس ہدایت کے ساتھ مجھے مبعوث کیا ہے اس کا علم حاصل کیا اور وہ علم آگے پہنچایا (آنے والی نسلوں تک منتقل کیا) اور دوسری مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس کی طرف سر اٹھاکر نہیں دیکھا اور جس ہدایت کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے اس کو قبول نہیں کیا“۔
[صحیح] - [متفق علیہ]

شرح
آپ ﷺ نے فرمایا ” اللہ عزوجل نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی“ آپ ﷺ نے علم و ہدایت کے ذریعے دوسروں کو نفع پہنچانے والوں کو زمین کی پیداوار پر ہونے والی بارش سے تشبیہ دی ہے۔ زمین کی تین قسمیں ہیں: پاک زمین جس نے پانی کو قبول کر لیا اور بہت ساری گھاس اور کھیتی اُگائی، لوگ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں۔ دوسری وہ زمین جو کچھ اُگاتی تو نہیں تاہم پانی جمع کر لیتی ہے، لوگ اس پانی سے نفع حاصل کرتے ہیں، اس سے پانی پیتے ہیں، آسودہ ہوتے ہیں، اور اس سے اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں۔ تیسری وہ زمین جو نہ ہی پانی کو روکتی ہے اور نہ ہی کچھ اُگاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اپنے نبی کو دیے ہوئے علم وہدایت کے اعتبار سے لوگوں کی مختلف قسمیں ہیں۔ بعض لوگ اللہ کے دین کی سمجھ رکھتے ہیں، علم حاصل کرکے دوسروں کو سکھاتے ہیں اور لوگ بھی اس کے علم سے مستفید ہوتے ہیں اور وہ خود بھی مستفید ہوتا ہے۔ دوسری قسم میں وہ لوگ جو ہدایت یافتہ ہیں، لیکن انہیں دین میں تفقّہ حاصل نہیں، بایں طور کہ وہ علم اور حدیث کو روایت کرتے ہیں، لیکن علمِ فقہ ان کے پاس نہیں۔ تیسری قسم میں وہ لوگ جو علم و ہدایت بالکل بھی حاصل نہ کریں، اس سے اعراض کر کے لاپرواہی کا مظاہرہ کریں۔ یہ لوگ نہ خود علم سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو نفع پہنچاتے ہیں۔

⚠️ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی خطا!!سنن ابی داؤد کی ایک حدیث ہے جس پر شیخ زبیر صاحب نے حکم لگایا: إسناده حسن مشكوة المصابي...
27/01/2025

⚠️ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی خطا!!

سنن ابی داؤد کی ایک حدیث ہے جس پر شیخ زبیر صاحب نے حکم لگایا: إسناده حسن مشكوة المصابيح (3499) أخرجه الترمذي (1388 وسنده حسن) والنسائي (4807 وسنده حسن) وابن ماجه (2629 وسنده حسن) وأعله النسائي والصواب أنه حسن

یعنی زبیر صاحب کہتے ہیں: اس حدیث کی سند حسن ہے۔ (پھر اسکی تخریج بیان کرتے ہیں۔) اور کہتے ہیں: اس کو امام نسائی رحمہ اللہ نے معلول قرار دیا ہے مگر صواب (صحیح) یہ ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔

زبیر صاحب کا یہ حکم واضح خطا ہے۔ اور اس کی وجہ ان کے منہج کی کمزوری ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات ہمیں ان کے حکم آئمہ علل اور ناقدین کے خلاف ملتے ہیں۔

اور جس حدیث پر انھوں نے اسنادہ حسن کا حکم لگایا وہ یہ ہے:

سنن أبي داود ط دهلي (4/308)

٤٥٤٦ - حدثنا ‌محمد بن سليمان الأنباري ، نا ‌زيد بن الحباب ، عن ‌محمد بن مسلم، عن ‌عمرو بن دينار ، عن ‌عكرمة ، عن ‌ابن عباس «أن رجلا من بني عدي قتل، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ديته اثني عشر ألفا»
قال ‌أبو داود : رواه ابن عيينة، عن عمرو، عن عكرمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم لم يذكر ابن عباس.

ہمیں محمد بن سلیمان انباری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں زید بن حباب نے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن مسلم الطائفی المکی سے، انہوں نے امام الحافظ عمرو بن دینار سے، انہوں نے عکرمہ سے، اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ: "بنی عدی کے ایک آدمی کو قتل کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم) مقرر کی۔"
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس حدیث کو امام الحافظ سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عکرمہ سے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ (یعنی مرسل کیا۔)

نوٹ:- « عمرو بن دينار ، عن ‌عكرمة » کی سند سے یہ حدیث یہاں دو شخص بیان کر رہے ہیں۔ ایک راوی محمد بن مسلم جب اسے « عمرو بن دينار ، عن ‌عكرمة » کی سند سے بیان کرتا ہے تو آگے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اضافہ کر کے اسے متصل کر دیتا ہے۔
اس کے مقابلے میں امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ جب اسے بیان کرتے ہیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کرتے۔ بلکہ ابن عیینہ کی حدیث میں عکرمہ اس حدیث کو مرسلاً بیان کرتے ہیں۔ اور اوپر امام ابو داؤد رحمہ اللہ کے کلام سے بھی ہمیں اس حدیث کی تعلیل ملتی ہے کہ امام ابو داؤد کا رجحان بھی اس حدیث کے مرسل ہونے کی طرف ہی تھا۔

اور اس پر امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے بھی صراحتاً فرمایا ہے کہ اس حدیث کا مرسل ہونا زیادہ صحیح (یعنی محفوظ) ہے۔

العلل لابن أبي حاتم ت الحميد (4/234)

١٣٩٠ - وسئل أبي عن حديث رواه محمد بن سنان العوقي ، عن محمد بن مسلم الطائفي، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس: أن النبي (ص) قضى بالدية اثنا عشر ألفا؟
قال أبي، قال: حدثنا يسرة بن صفوان، عن محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن النبي (ص) .
فقال أبي: المرسل أصح

امام ابو حاتم رحمہ اللہ سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا گیا، جو محمد بن سنان العوقی نے روایت کی، وہ محمد بن مسلم الطائفی سے، وہ عمرو بن دینار سے، وہ عکرمہ سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دیت بارہ ہزار (درہم) مقرر کی۔
اس پر ابو حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا:
ہمیں یسرہ بن صفوان نے حدیث بیان کی، وہ محمد بن مسلم سے، وہ عمرو بن دینار سے وہ عکرمہ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں (یعنی بغیر ابن عباس کے واسطے کے)۔
ابو حاتم رحمہ اللہ نے کہا: مرسل زیادہ صحیح ہے۔ (یعنی محفوظ مرسل ہے۔)

اور امام بخاری رحمہ اللہ سے بھی اسی حدیث کا سوال ہوا ، چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

العلل الكبير للترمذي (ص 218)

٣٩٠ - حدثنا محمد بن بشار , حدثنا معاذ بن هانئ , حدثنا محمد بن مسلم , عن عمرو بن دينار , عن عكرمة , عن ابن عباس , عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه جعل الدية اثني عشر ألفا. سألت محمدا عن هذا الحديث فقال:
٣٩١ - سفيان بن عيينة يقول: عن عمرو بن دينار , عن عكرمة , عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل. وكأن حديث ابن عيينة عنده أصح

ہمیں محمد بن بشار نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں معاذ بن ہانی نے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن مسلم سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عکرمہ سے، اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے دیت بارہ ہزار (درہم) مقرر کی۔
میں (ترمذی) نے امام محمد (بن اسماعیل البخاری) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:
"سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: یہ حدیث عمرو بن دینار، عکرمہ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے مرسل کرتے ہیں (یعنی ابن عباس کا ذکر نہیں ہے)۔"
جیسے امام بخاری (رحمہ اللہ) کے نزدیک سفیان بن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح (محفوظ) ہے۔

اور امام نسائی رحمہ اللہ بھی اس حدیث کو مرسل کہتے ہیں:

سنن الكبرى للنسائي - ط الرسالة (6/356)

٦٩٧٨ - أخبرنا محمد بن المثنى، عن معاذ بن هانئ، قال: حدثنا محمد بن مسلم، قال: حدثنا عمرو بن دينار وأخبرنا أبو داود، قال: حدثنا معاذ بن هانئ، قال: حدثنا محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: قتل رجل رجلا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ديته اثني عشر ألفا، وذكر قوله {وما نقموا إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله} [التوبة: ٧٤] في أخذهم الدية، اللفظ لأبي داود،
٦٩٧٩ - أخبرنا محمد بن ميمون قال: حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عكرمة سمعناه مرة يقول: عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم: «قضى باثني عشر ألفا، يعني في الدية» قال أبو عبد الرحمن: محمد بن مسلم ليس بالقوي، والصواب مرسل، وابن ميمون ليس بالقوي أيضا

ہمیں محمد بن المثنى نے حدیث بیان کی، وہ معاذ بن ہانی سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے محمد بن مسلم سے حدیث بیان کی، اور انہوں نے عمرو بن دینار سے روایت کی۔ اور ہمیں (نسائی کو) ابو داود نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: معاذ بن ہانی نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن مسلم سے، اور انہوں نے عمرو بن دینار، عکرمہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ:
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے دوسرے کو قتل کر دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم) مقرر کی۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آیت **"وما نقموا إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله"** (التوبة: 74) کو اس پس منظر میں ذکر کیا، جس میں قاتلوں کے دیت قبول کرنے کا ذکر ہے۔
یہ الفاظ ابو داود کے ہیں۔

**سنن الکبری کی ایک اور روایت:**
ہمیں محمد بن میمون نے خبر دی، وہ سفیان بن عیینہ سے نقل کرتے ہیں، وہ عمرو بن دینار سے، وہ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں: ایک بار ہم نے عکرمہ کو یہ کہتے سنا: ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بارہ ہزار (درہم) دیت مقرر کی۔

امام ابو عبدالرحمن (نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا:
محمد بن مسلم قوی نہیں ہے ، اور درست قول یہ ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے۔
محمد بن میمون بھی قوی نہیں ہے۔

نوٹ:- امام نسائی رحمہ اللہ کے نزدیک محمد بن مسلم جو عمرو بن دینار سے یہ حدیث ابن عباس کے واسطے کے اضافے کیساتھ بیان کر رہا ہے اور یہ قوی نہیں ہے۔
اور دوسری روایت میں نیچے محمد بن میمون راوی جو سفیان بن عینیہ سے یہ حدیث بیان کر رہا ہے ابن عباس کے اضافے کیساتھ وہ بھی قوی نہیں ہے۔ یعنی یہ دونوں روایات خطا ہیں۔ اسی لیے امام نسائی رحمہ اللہ مرسل کو محفوظ قرار دیتے ہیں۔

((اس حدیث کے متصل خطا ہونے کی وجہ ))

جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ اس میں عمرو بن دینار سے یہ حدیث نقل کرتے ہوئے دو راویوں کا اختلاف ہے:
1) ایک امام الحافظ سفیان بن عیینہ جو اس کو مرسل نقل کرتے ہیں۔
2) دوسرا محمد بن مسلم الطائفی جو اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے متصل کرتا ہے۔

ان دونوں راویوں کا درجہ جان لیتے ہیں:

[1 - امام سفیان بن عیینہ]

الجرح والتعديل لابن أبي حاتم (4/ 226)

قرئ على العباس بن محمد الدوري قال قال يحيى: أثبت الناس في الزهري مالك ومعمر ويونس وعقيل وشبيب بن أبي حمزة وابن عيينة. وأثبت الناس في عمرو بن دينار سفيان بن عيينة
حدثنا عبد الرحمن سمعت أبي يقول: سفيان بن عيينة إمام ثقة، وأثبت أصحاب الزهري مالك وابن عيينة، وكان أعلم بحديث عمرو بن دينار من شعبة
حدثنا عبد الرحمن أنا عبد الله بن أحمد [بن حنبل - ١] فيما كتب إلي قال نا داود بن عمرو قال سمعت عبد الرحمن ابن مهدي يقول: كان سفيان بن عيينة [من - ١] أعلم الناس بحديث الحجاز

امام یحییٰ (بن معین) نے کہا: زہری (محمد بن مسلم بن شهاب الزہری) میں سب سے زیادہ ثقہ راوی امام مالک (بن انس)، امام معمر (بن راشد)، امام یونس (بن یزید)، امام عقیل (بن خالد)، امام شبیب بن ابی حمزہ اور امام سفیان بن عیینہ ہیں۔
اور امام عمرو بن دینار میں سب سے زیادہ ثقہ راوی سفیان بن عیینہ ہیں۔
امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ امام ہیں ثقہ ہیں۔ اور امام الحافظ زہری رحمہ اللہ کے اثبت اصحاب میں امام مالک اور ابن عیینہ شامل ہیں اور امام ابن عیینہ امام عمرو بن دینار کی حدیث میں امام شعبہ سے زیادہ عالم ہیں۔
امام عبد الرحمن بن المہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام سفیان بن عیینہ حجاز کی حدیث میں سب سے زیادہ عالم ہیں۔

[2 - محمد بن مسلم الطائفی]

الجرح والتعديل لابن أبي حاتم (8/ 77)

نا عبد الرحمن قال ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين انه قال: محمد بن مسلم الطائفي ثقة.

عبدالرحمن (ابن ابی حاتم) کہتے ہیں: میرے والد امام ابو حاتم نے اسحاق بن منصور کے واسطے سے یحییٰ بن معین کا قول نقل کیا کہ: محمد بن مسلم الطائفی ثقہ ہے۔

تاريخ ابن معين - رواية الدوري (3/76)

سمعت يحيى يقول محمد بن مسلم الطائفي لم يكن به بأس وكان سفيان بن عيينة أثبت منه ومن أبيه ومن أهل قريته كان إذا حدث من حفظه يقول كأنه يخطىء وكان إذا حدث من كتابه فليس به بأس

ابن معین کہتے ہیں: محمد بن مسلم الطائفی میں کوئی حرج نہیں (یعنی قابل قبول راوی ہے)، لیکن امام ابن عیینہ محمد بن مسلم اور اس کے والد اور اس کے گاؤں کے لوگوں سے زیادہ ثبت (قوی) تھے۔ محمد بن مسلم جب اپنی یادداشت سے روایت کرتا تو ایسے جیسے وہ غلطی کر رہا ہو لیکن جب اپنی کتاب سے روایت کرتا تو اس میں کوئی حرج نہ ہوتا۔ (یعنی محمد بن مسلم اپنی کتاب سے روایت کرنے میں زیادہ ضابط تھا۔)

نوٹ:- معلوم ہوا کہ محمد بن مسلم اور سفیان بن عیینہ کی حدیث میں اختلاف ہو تو امام سفیان ابن عیینہ کی حدیث لی جائے گی۔ اور اس کے مقابلے میں محمد بن مسلم کی حدیث خطا ہو گی۔ لہذا یہ حدیث متصلاً نقل کرنا محمد بن مسلم کی خطا ہے۔ اور محفوظ ابن عیینہ والی مرسل ہے۔ واللہ اعلم۔

(( اس حدیث میں محمد بن مسلم کا اضطراب ))

اس حدیث میں محمد بن مسلم کے اضطراب پر ایک اضافی قرینہ امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے کتاب العلل میں بیان کیا تھا جسے ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔

قال (أبو حاتم) : حدثنا يسرة بن صفوان، عن محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن النبي (ص)

ابو حاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث سنائی یسرہ بن صفوان الشامی (ثقہ) نے محمد بن مسلم سے وہ عمرو بن دینار سے وہ عکرمہ سے اور عکرمہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ (مرسلاً بغیر ابن عباس کے واسطے کے۔)

نوٹ:- اس سے یہ بھی پتا چلا کہ اس حدیث میں محمد بن مسلم کو اضطراب بھی ہو رہا تھا کہ کیا واقعتاً اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا واسطہ موجود ہے یا نہیں؟ کیونکہ کبھی محمد بن مسلم ابن عباس کا واسطہ ذکر کر رہا ہے اور کبھی اسے ابن عیینہ رحمہ اللہ والی محفوظ حدیث کی طرح عکرمہ کی مرسل حدیث کے طور پر بیان کر رہا ہے۔ واللہ اعلم۔

كتبه : أحمد الخراساني

Address

Bijapur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haq ki Awaaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share