25/12/2024
»»» نفس کی خفیہ چالیں «««
نفس کی خفیہ چالیں بہت خطرناک ھوتی ہیں، یہ نفس کی خفیہ چال ہی ھوتی ھے کہ وہ انسان کو اپنے علم و عمل سے بہت مطمئن رکھتا ھے کہ " جی میں تو کوئی بڑا گناھگار نہیں ھوں، میں تو علم و عمل والا ھوں، میں تو بہت عاجزی انکساری والا ھوں، یا میں تو خود کو بہت گناھگار اور گرا ھوا سمجھتا ھوں، اور بندہ بس انہی سوچوں پر ہی مطمئن رہتا ھے ہمیشہ ہمیشہ ۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔
اس طرح بندے میں اصل جستجو ، اصل وحقیقی غور و فکر ، اصل و حقیقی تڑپ اور طلب پیدا نہیں ھوتی ۔۔
انہی سوچوں میں رہ کر بندہ سست و کاھل ھو جاتا ھے اور اصل و حقیقی غور و فکر و تڑپ ،طلب و جستجو کی طرف نہیں جاتا ۔۔۔
حضور غوث پاک شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سب کام نیک ہیں اور سب میں مصلحت و حکمت ہے ،
اللہ تعالیٰ نے مصلحت اور حکمت کے علوم اپنے بندوں پر مخفی رکھیں ہیں ،
ان علوم میں وہ منفرد ہے پس رضا تسلیم اور بندگی میں مشغول رہنا اور امر و نہی بجا لانا ،
تقدیر کے سامنے گردن جھکا دینا ،
امور قدرت میں دخیل نہ ہونا ،
ایسا کیوں ہوا ؟ کیسے ہوا ؟ کب ہوا ؟ ایسے اعتراضات سے خاموش رہنا اور اپنے تمام حرکات و سکنات میں تہمت حق سے چپ رہنا بندے کے لئے مناسب لائق ہے اور ان تمام باتوں کی سند حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جو عطاء نے اُن سے روایت کیا ہے،
فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا ،
اچانک آپ نے مجھے فرمایا :
اے لڑکے! حقوق اللہ کی حفاظت کر ،
اللہ تیری حفاظت کرے گا ،
تو اللہ پر اپنی نگاہ رکھ اسے اپنے سامنے پائے گا ،
جب سوال کر خدا سے سوال کر ،اور مدد مانگے تو خدا سے مانگ ،
جو کچھ ہونے والا ہے اس کو لکھ کر قلم خشک ہوگیا ہے ،
اگر ساری مخلوق جمع ہوکر کوشش کرے کہ تجھے وہ چیز بہم پہنچا دیں جو اللہ نے تیرے مقدر میں نہیں رکھی ،تو وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکیں گے اور اسی طرح اگر سارا جہان تجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے مگر اللہ تعالیٰ کی لکھی تقدیر میں تیرے لئے وہ نقصان نہیں ہے تو تیرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا ۔
پھر اگر ایمان کی سچائی کے ساتھ نیک عمل کرسکتا ہے تو کر ،اور اچھی طرح جان لے کہ صبر کا پھل میٹھا اور دکھ کے بعد ہمیشہ سکھ ہوتا ہے “ ۔۔۔۔
ھر مؤمن کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس حدیث کو دل کا آئینہ اور ظاھر و باطن کا لباس بنائے ۔
اپنی ھر حرکت و سکون میں اس حدیث پر عمل کرے تاکہ دنیاوی اور اخروی آفات سے صحیح سالم رہے اور دونوں جہانوں میں رحمت الٰہی کا مستحق قرار پائے ۔۔
)فتوح الغیب مقالہ نمبر 42(