Gulshan-E-Mehboob

Gulshan-E-Mehboob Hazrat Muhib-ul-Haq Shah Qhadri Chishty, Bellary (Q.A.S.A)

22/11/2025
23/02/2025
25/12/2024

»»» نفس کی خفیہ چالیں «««

نفس کی خفیہ چالیں بہت خطرناک ھوتی ہیں، یہ نفس کی خفیہ چال ہی ھوتی ھے کہ وہ انسان کو اپنے علم و عمل سے بہت مطمئن رکھتا ھے کہ " جی میں تو کوئی بڑا گناھگار نہیں ھوں، میں تو علم و عمل والا ھوں، میں تو بہت عاجزی انکساری والا ھوں، یا میں تو خود کو بہت گناھگار اور گرا ھوا سمجھتا ھوں، اور بندہ بس انہی سوچوں پر ہی مطمئن رہتا ھے ہمیشہ ہمیشہ ۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔
اس طرح بندے میں اصل جستجو ، اصل وحقیقی غور و فکر ، اصل و حقیقی تڑپ اور طلب پیدا نہیں ھوتی ۔۔
انہی سوچوں میں رہ کر بندہ سست و کاھل ھو جاتا ھے اور اصل و حقیقی غور و فکر و تڑپ ،طلب و جستجو کی طرف نہیں جاتا ۔۔۔
حضور غوث پاک شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سب کام نیک ہیں اور سب میں مصلحت و حکمت ہے ،
اللہ تعالیٰ نے مصلحت اور حکمت کے علوم اپنے بندوں پر مخفی رکھیں ہیں ،
ان علوم میں وہ منفرد ہے پس رضا تسلیم اور بندگی میں مشغول رہنا اور امر و نہی بجا لانا ،
تقدیر کے سامنے گردن جھکا دینا ،
امور قدرت میں دخیل نہ ہونا ،
ایسا کیوں ہوا ؟ کیسے ہوا ؟ کب ہوا ؟ ایسے اعتراضات سے خاموش رہنا اور اپنے تمام حرکات و سکنات میں تہمت حق سے چپ رہنا بندے کے لئے مناسب لائق ہے اور ان تمام باتوں کی سند حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جو عطاء نے اُن سے روایت کیا ہے،
فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا ،
اچانک آپ نے مجھے فرمایا :
اے لڑکے! حقوق اللہ کی حفاظت کر ،
اللہ تیری حفاظت کرے گا ،
تو اللہ پر اپنی نگاہ رکھ اسے اپنے سامنے پائے گا ،
جب سوال کر خدا سے سوال کر ،اور مدد مانگے تو خدا سے مانگ ،
جو کچھ ہونے والا ہے اس کو لکھ کر قلم خشک ہوگیا ہے ،
اگر ساری مخلوق جمع ہوکر کوشش کرے کہ تجھے وہ چیز بہم پہنچا دیں جو اللہ نے تیرے مقدر میں نہیں رکھی ،تو وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکیں گے اور اسی طرح اگر سارا جہان تجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے مگر اللہ تعالیٰ کی لکھی تقدیر میں تیرے لئے وہ نقصان نہیں ہے تو تیرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا ۔
پھر اگر ایمان کی سچائی کے ساتھ نیک عمل کرسکتا ہے تو کر ،اور اچھی طرح جان لے کہ صبر کا پھل میٹھا اور دکھ کے بعد ہمیشہ سکھ ہوتا ہے “ ۔۔۔۔
ھر مؤمن کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس حدیث کو دل کا آئینہ اور ظاھر و باطن کا لباس بنائے ۔
اپنی ھر حرکت و سکون میں اس حدیث پر عمل کرے تاکہ دنیاوی اور اخروی آفات سے صحیح سالم رہے اور دونوں جہانوں میں رحمت الٰہی کا مستحق قرار پائے ۔۔
)فتوح الغیب مقالہ نمبر 42(

24/12/2024

قرآن مجید سراسر ھدایت اسرار وبھید کا منبع ھے ۔الہامی کتاب ھے اور ان لوگوں کو سمجھ آتی ھے جو الہام کے مفھوم سے واقف ھیں۔
کلام الٰہی کسی کتاب کا نام نہیں ھے کلام الٰہی ایک گفتگو ھے جو وہ اپنے منتخب بندوں سے کرتا ھے ۔
صوفیائے اکرام کی تعلیمات نہ تو عیسائیت پر ھے اور نہ یہودیت کے نظریات پر ۔ یہ سراسر دین اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق ھیں۔
صوفی کا لفظ صفت سے نکلا ھے اور اسکا ماخد لا الٰہ الا اللہ آدم صفی اللہ کے کلمہ سے ھے۔
صوفی جذب کرنے والے کو کہا جاتا ھے جو صفات الٰہی کو اپنے وجود عقل وروح میں جذب کرتا رھتا ھے۔ انبیاء اکرام کے متعلق قرآنی واقعات سراسر کسی اسرار وبھید کو ظاھر کرنے کے لئے بیان کئےگئے ھیں۔.
یہ محض قصّے نہیں حکمت وعرفان کی باتیں ھیں جو قرآن ھمیں بتانا چاھتا ھے سمجھانا چاھتاھے کہ ان وقعات کو بیان کرنے کی حکمت کیا ھے اور اس حکمت سے عرفان کیسے حاصل کرنا ھے۔
قرآن کے واقعات سے اسکی حکمت اسکے اسرار اور اسکے عرفان تک رسائی ھر ایرے غیرے نتھو خیرے کے لئے نہیں ھیں ۔
خدا نے ایسے لوگ مقرر کررکھے ھیں جو کلام الٰہی اور ذات الٰہی کے بھیدوں کے امی نھیں ۔
کسی بھی فرقے سے تعلق رکھنے والے یا دین میں فتور اور بدعت پیدا کرنے والوں کو اللہ اپنے کلام کو سمجھنے کی توفیق سے دور رکھتا ھے۔اور ان کو اسکے ثمر سے فیضیاب نہیں ھونے دیتا۔
جن لوگوں کو قرآن سے کچھ نہیں ملا انہوں نے قرآن کو اپنی عقل اور گرامر کے لحاظ سے سمجھنے کی کوشش کی اور بلاخر گمراہ ھوگئے۔
اس لئےوہ اسکی تعلیمات اس کے بھید واسرار سے منحرف ھو گئے۔
لیکن اپنے آپ کو قرآن دان سمجھتے ھیں۔
ابراھیم علیہ السلام کا واقعہ دراصل خدا کی تلاش ھے ۔اور صوفیاء اکرام عین اسی طرح تلاش کیا کرتے رھے۔" ابراھیم علیہ السلام نے کہا میں نے اپنا رخ اللہ کی طرف کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ھوں۔"
صوفیاء اکرام بھی عین اسی کے مطابق اپنا رخ اللہ کی طرف کرتے ھیں۔ خدا کی تلاش ابراھیم علیہ السلام کا دین رھا اور اس پر عمل کرنے والا مسلم کہلایا۔
حضرت موسٰی علیہ السلام اللہ سے کلام کرتے رھے ۔عین اسی طرح صوفیاء اکرام اللہ سے کلام کرتے ھیں کرتے تھے۔اور کرتے رھینگے۔۔
حضرت عیسٰی علیہ السلام کے متعلق کہا گیا کہ وہ اللہ کی روح اللہ کا کلمہ تھے۔ اسی طرح صوفیائے اکرام اللہ کی روح کی طرف اسکے کلمے کی طرف آتے ھیں۔ قرآنی الفاظ محض لفظ نہیں ھیں ان لفظوں کا وجود ھے۔اور جب تک لفظوں کے وجود کو سمجھنا نہ جائے اور ان لفظوں کاوجود تیار نہ کیا جائے قرآن سر سے گزر جائے گا اسکا عرفان تو بہت دور کی بات ھے اسکے مفھوم کو جاننا مشکل ھو جاتا ھے۔
قرآن سردرد کرنے والی باتوں سے جان چھڑاتا ھے۔کیونکہ علم اور بحث محض لڑائی ھے ھر کوئی اپنی اپنی پٹاری سے علم کے سانپ نکالتا ھے ۔اور اپنے علم سے ڈس کر اپنا علمی زھر مخالف پر چڑھانا چاھتا ھے۔
قرآن نے کہا ھے " آؤ اس بات کی طرف جو ھم میں اور تم میں ایک جیسی ھے یکساں ھے"
اس سے مراد یہ کہ تیرے پاس بھی ایک ایسی بات ھے جو میرے پاس بھی ھے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ھے کوئی بحث نہیں کوئی جھگڑا نہیں ۔
ھر انسان میں ایک جسی بات صرف اور ایک ھے اور وہ " اللہ کی روح " ھے۔ اور قرآن کہتا ھے اس طرف آ اس پربات کریں اس کی طرف بڑھیں اس کے بارے میں جانیں اور اسکے علم کے بارے دریافت کریں اور اسی اللہ کی روح پر ایمان لاکر اسی کی طرف اپنا دل ودماغ لگائے رکھیں ۔
اسی یکساں بات سے ھر قسم کا جھگڑا فرقہ سلسلہ جھنڈا بحث ومناظرہ فی الفور ختم ھو جائے گا ۔
یہ وہ یکساں بات ھے جس کی طرف صوفیاء اکرام لوگوں کو عین قرآن کی تعلیمات کے مطابق متوجہ کرتے ھیں.
اسی یکساں بات کو سمجھنے اس پر چلنے اور عمل کرنے سے اللہ کی معرفت کے دروازے کھلتے ھیں۔اور اگر اس یکساں بات کو چھوڑ کر پھر اسی بحث ومناظرے اپنے علموں کے تکبر میں مبتلارھنا چاھے تو سمجھ جاؤ کہ ایسے لوگ ازلی بدبخت اور جہنمی ھیں اور ایسے لوگوں سے دور رھا جائے ایسا نہ ھو ان کی آگ تمھیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے.

Address

Bellari
583101

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gulshan-E-Mehboob posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Gulshan-E-Mehboob:

Share