Al-Kitab Research Academy

Al-Kitab Research Academy Our Motive is to Propagate
knowledge, Spirituality, Vision, Interdisciplinary, Harmony......!!!!!!?

28/05/2023
19/05/2023
26/03/2023

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: «إِنَّكَ تَأْتِيْ قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلٰى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذٰلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللّٰهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللّٰهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلٰى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ، فَإِنَّهٗ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللّٰهِ حِجَابٌ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ترجمہ حدیث
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن کی طرف روانہ کیا ۱؎ تو فرمایا کہ تم اہلِ کتاب قوم کے پاس جارہے ہو ۲؎ تو انہیں اس گواہی کی دعوت دینا کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینًا محمد الله کے رسول ہیں ۳؎ اگر وہ اس میں فرماں برداری کریں تو انہیں بتانا کہ الله نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض فرمائیں ۴؎ پھر اگر وہ یہ بھی مان جائیں تو انہیں سکھانا کہ الله نے ا ن پر زکوۃ فرض کی ہے ۵؎ جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور انہی کے فقیروں پر لوٹائی جائے گی ۶؎ پھر اگر یہ بھی مان لیں تو ا ن کے بہترین مالوں سے بچنا ۷؎ اورستم رسیدہ کی بد دعا سے ڈرنا کہ اس کے اور رب کے درمیان کوئی آڑ نہیں ۸؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱؎ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن کا گورنر بناکربھیجا اور خود بنفس نفیس انہیں ثنیۃ الوداع تک پہنچانے گئے حضرت معاذ بحکم سرکار سواری پر تھے اورحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم پیدل،ان سے جدا ہوتے وقت فرمایا کہ اب تم میری قبر پر آؤ گے اور مجھے نہ پاؤ گے جس پر حضرت معاذ بہت روئے۔خیال رہے کہ حضرت معاذ یمن پر جہاد کرنے نہیں جارہے تھے وہ تو پہلے ہی قبضہ میں آچکا تھا بلکہ وہاں کے حاکم بن کر۔
۲؎ اگرچہ یمن میں اہل کتاب بھی تھے اور مشرکین بھی مگرچونکہ اہل کتاب مشرکین سے بہتر ہیں اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر فرمایا۔
۳؎ یعنی صرف مشرکین کو"لَا اِلٰہَ اِلَّا الله"کی دعوت دو اور تمام کفار کو"مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله"کی کیونکہ مشرکین توحید کے منکر ہیں اور باقی موحد،کفار و اہل کتاب توحید کے تو قائل ہیں مگر رسالت مصطفوی کے منکر۔علامہ شامی فرماتے ہیں کہ ہر کافر کو مسلمان بناتے وقت وہ ہی چیز پڑھائی جائے جس کا وہ منکر ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفار شرعی احکام کے مکلف نہیں اور یہ کہ کفار کو اسلام لانے پر مجبور نہ کیا جائے گا"لَاۤ اِکْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ"اور یہ کہ تبلیغ نرمی و خوش اخلاقی سے چاہیئے اور یہ کہ ذمی کفار کو تبلیغ اسلام کرنا سنت ہے اور یہ کہ حکام اور آفیسران صرف ملکی انتظام ہی نہ کریں بلکہ دینی تبلیغ بھی کریں حاکم مبلغ بھی ہونا چاہیئے اور یہ کہ آفیسران و حکام خودبھی شرعی احکام سے واقف ہونے چاہئیں ورنہ وہ تبلیغ نہیں کرسکتے۔
۴؎ یعنی جب وہ مسلمان ہوجائیں تو انہیں نماز کے احکام سناؤ سکھاؤ،چونکہ اسلام میں سارے احکام سے پہلے نماز کا حکم آیا،نیز یہ عبادت بدنی ہے،نیز یہ ہرمسلمان پر فرض ہے اسی لیے کلمہ پڑھانے کے بعد ہی اس کا ذکر فرمایا۔خیال رہے کہ یہاں نماز جنازہ،عیدین،وتر وغیرہ کا ذکر نہ فرمایاصرف پانچ نمازوں کا فرمایا یا تو اس وقت ان کا حکم نہ ہوا تھا یا وہ تمام چیزیں پانچ نمازوں کے تابع فرمادی گئیں یا یہاں تمام احکام شرعیہ کا ذکر نہیں ہے خاص خاص کا ہے اسی لیے روزے کا ذکر نہیں زکوۃ کاہے حالانکہ روزہ زکوۃ سے پہلے فرض ہوچکا تھا۔لہذا اس حدیث کی بنا پر یہ نہیں کہاجاسکتا کہ نماز عید یا وتر واجب نہیں اور نہ یہ حدیث حنفیوں کے خلاف ہے۔
۵؎ یہاںاِنْ بمعنیاِذَاہے یعنی جب وہ نماز کے احکام سیکھ لیں تو زکوۃ کے احکام سکھاؤ،آہستگی سے تبلیغ کرو کہ انہیں سکھانا مقصود ہے نہ صرف بتادینا۔حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر وہ مسلمان ہونے کے بعد نماز کو فرض مان لیں تب تو زکوۃ سکھانا اور اگر نماز کی فرضیت سے انکارکردیں تو زکوۃ نہ سکھاناکیونکہ مسلمان کا نماز سے انکار کرنا ارتداد ہے اورکسی کو مرتد ہوجانے کی اجازت نہیں لہذا حدیث پر کوئی بھی اعتراض نہیں اور زکوۃ کے لیے نماز شرط ہے۔
۶؎ یعنی ہم ٹیکس کی طرح تم سے زکوۃ وصول کرکے مدینہ منورہ نہ لے جائیں گے اور خود نہ کھائیں گے تاکہ تم سمجھو کہ اسلام کی اشاعت کھانے کمانے کے لیے ہے بلکہ تمہارے مالداروں سے زکوۃ لے کر تمہارے ہی فقراء کو دے دی جائے گی۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:(۱)ایک یہ کہ کافر کو زکوۃ نہیں دے سکتے۔(۲)دوسرے یہ کہ بلاسخت مجبوری ایک جگہ کی تمام زکوۃ دوسری جگہ منتقل نہ کی جائے۔(۳)تیسرے یہ کہ مالدار صاحب نصاب زکوۃ نہیں لے سکتا جیساکہ لفظفُقَرَاء اورضَمِیْرُھُمْسے معلوم ہوا۔ ضرورۃً زکوۃ کو منتقل کرنا بالکل جائز ہے جیسے کہ غنی کے اہل قرابت فقیر دوسرے شہر میں رہتے ہوں یا دوسری جگہ سخت فقر و تنگدستی ہویا دوسری جگہ صدقہ کا ثواب زیادہ ہو لہذا اپنی کچھ زکوۃ مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ بھجوانا جیسا کہ آج کل رواج ہے بالکل جائز ہے۔خیال رہے کہ یہاںاَغْنِیَاء سے مراد بالغ عاقل مالدار مراد ہیں کیونکہ نماز کی طرح زکوۃ بھی بچے اور دیوانے پر فرض نہیں،یہ بھی خیال رہے کہ باطنی مال یعنی سونے چاندی وغیرہ کی زکوۃ خود غنی ہی ادا کرے گا اور ظاہری مال جانور پیداوار کی زکوۃ حاکم اسلام وصول کرکے اپنے انتظام سے خرچ کرے گا،یہاںتُؤخَذُ میں دونوں صورتیں داخل ہیں۔
۷؎ یعنی زکوۃ میں ان کے بہترین مال نہ وصول کرو بلکہ درمیانی مال لو ہاں اگر خود مالک ہی بہترین مال اپنی خوشی سے دے تو ان کی مرضی ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ"۔اس جملہ سے اشارۃً معلوم ہوا کہ ہلاک شدہ مال کی زکوۃ نہ لی جائے گی کیونکہاَمْوَالُھُمْ ارشاد ہوا۔
۸؎ یعنی اے معاذ!تم حاکم بن کر یمن جارہے ہو وہاں کسی پرظلم نہ کرنا،نہ بدنی ظلم،نہ مالی نہ زبانی کیونکہ اللہ تعالٰی مظلوم کی بہت جلد سنتا ہے۔اس میں درحقیقت تاقیامت حکام کو عدل کی تعلیم ہے ورنہ صحابہ کرام ظلم نہیں کرتے،حضرت سلیمان علیہ السلام کی چیونٹی نے کہا تھا"لَایَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیۡمٰنُ وَجُنُوۡدُہٗ وَهُمْ لَا یَشْعُرُوۡنَ"کہیں تم اے چیونٹیو حضرت سلیمان اور ان کے لشکر سے کچلی نہ جاؤ اور انہیں خبربھی نہ ہو۔چیونٹی کا عقیدہ تھا کہ پیغمبر کے صحابہ چیونٹی پربھی ظلم نہیں کرتے لہذا اس حدیث سے صحابہ کا ظالم ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔

26/03/2023
25/03/2023

وَعَنْهُ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهٖ. قَالَ: «أَوَ قَدْ وَجَدْتُمُوْهٗ» قَالُوْا: نَعَمْ. قَالَ: «ذٰلِكَ صَرِيْحُ الْإِيْمَانِ» . رَوَاهُ المُسْلِمُ
ترجمہ حدیث
روایت ہے انہیں سےفرماتے ہیں کہ حضور کے صحابہ میں سے کچھ حضرات حضورصلی اللہ علیہ سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھنے لگے کہ ہم اپنے دلوں میں ایسے خیالات محسوس کرتے ہیں کہ انہیں بیان کرنا بہت بڑا گناہ معلوم ہوتا ہے ۱؎ فرمایاکہ کیا تم نے یہ بات پائی ہے ۲؎ عرض کیا ہاں فرمایا یہ کھلا ہوا ایمان ہے ۳؎ (مسلم)
شرح حدیث
۱؎ یہ صحابہ کے کمال ایمان کی دلیل ہے کہ وسوسہ پر عمل کرنا تو کیا معنی اسے زبان پر لاتے بھی گھبراتے ہیں۔
۲؎ وسوسہ یا اُسے بڑا برا سمجھنا۔
۳؎ یعنی وسوسے آنا کمال ایمان کی دلیل ہےکیونکہ چوربھرے گھر میں ہی جاتا ہے اورشیطان مؤمن کی فکر میں زیادہ رہتا ہے۔حضرت علی مرتضیٰ فرماتے ہیں:کہ جونماز وسوسہ سے خالی ہو وہ نماز یہودونصاریٰ کی ہے۔(مرقات)یا وسوسوں کو بُراسمجھنا عین ایمان ہےکیونکہ کافرتو انہیں اچھا سمجھ کر اس پر ایمان لے آتے ہیں۔

24/03/2023

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِيْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ترجمہ حدیث
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان انسان کے خون کے ٹھکانوں میں گردش کرتا ہے ۱؎ (بخاری،مسلم)
شرح حدیث
۱؎ یا تو خود ابلیس اور قرین شیطان چونکہ وہ آتشی ہے۔اس لیے بلا تکلف انسان کے رگ و پے میں سرایت کرجاتا ہے اور تصرّف کرتا ہے یا اس کے وسوسے اور خیالات۔معلوم ہوا کہ کوئی شخص بغیر فضل الٰہی شیطان سے نہیں بچ سکتا۔
ماخذومراجع
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 حدیث نمبر:68

24/03/2023

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: يُؤْذِيْنِيْ اِبْنُ اٰدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِيَ الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ترجمہ حدیث
روایت ہے حضرات ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ تعالی فرماتا ہے کہ مجھے انسان ایذا دیتا ہے ۱؎ کہ زمانہ کو گالیاں دیتا ہے۲؎حالانکہ زمانہ(مؤثر)تو میں ہوں۔میں رات و دن کو الٹ پلٹ کر تا ہوں ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱؎ ایذا سے مراد ناراض کرنا ہے،یعنی میرے متعلق وہ باتیں کرتا ہے جس سے میں ناراض ہوتا ہوں،ورنہ خدا تعالٰی دکھ درد اور تکلیف سے پاک ہے۔
۲؎ اس طرح کہ کہتا ہے ہائے زمانے تو نے مجھ پر ظلم کردیا،میرے فلاں کو مار دیا،ہائے ظالم زمانہ یا آسمان،جیسے کہ مولوی محمود حسن دیوبندی نے مرثیہ گنگوہی میں زمانہ کو جی بھر کے کوسا،پیٹاہے یہ حرام ہے۔اس حدیث سے معلو م ہوتا ہے کہ الله کی محکوم چیزوں کو برا کہنا رب کی ناراضی کا باعث ہے۔ایسے ہی الله کے پیاروں کی توہین۔
۳؎ اس طرح کہ دن کو لے جاتا ہوں،رات کو لاتا ہوں اور بالعکس،نیز انہیں چھوٹا،بڑا،گرم،سرد،مفید و مضر بناتا ہوں لہذا انہیں برا کہنا مجھ پر طعن ہے۔خیال رہے کہ یہاں دھر(زمانہ)سے مراد مؤثر حقیقی اور مسبب الاسباب ہے۔ورنہ رب تعالٰی کودھر کہنا درست نہیں اور نہدھر الله کا نام ہے۔
مخزومراجع
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 حدیث نمبر:22

08/01/2023

07/01/2023

Address

Sheeri Baramulla
Baramula
193101

Telephone

+919622485268

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Kitab Research Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share