Majlis-e-ilmi Jammu & Kashmir

Majlis-e-ilmi Jammu & Kashmir Majlis e Ilmi is a Socity of highly educated people for promotion of knowledge,Reseach & Moral Values

21/02/2026

مؤسس مجلس علمی جموں و کشمیر ۔ ♥️🥀

قائدین مجلس علمی جموں و کشمیر۔اللہ سلامت رکھے ۔ اور اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین۔
01/02/2026

قائدین مجلس علمی جموں و کشمیر۔
اللہ سلامت رکھے ۔ اور اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین۔

دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ممتاز استادِ حدیث حضرت مولانا عبد الرشید ندوی راجستھانی دامت فیوضہم کی حضرت آسی صاحب سے ...
19/01/2026

دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ممتاز استادِ حدیث حضرت مولانا عبد الرشید ندوی راجستھانی دامت فیوضہم کی حضرت آسی صاحب سے ملاقات کے موقع پر، محترم آسی صاحب نے" کشمیر میں اسلام " موضوع پر نہایت جامع گفتگو فرمائی۔ یہ کلپ اس یادگار ملاقات اور قیمتی لمحات کی خوبصورت جھلک پیش کر رہی ہے۔

الحمد للّہ۔ اور ایک کتاب قارئین کے لیے ہماری آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب ہے ۔
06/01/2026

الحمد للّہ۔ اور ایک کتاب قارئین کے لیے ہماری آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب ہے ۔

الحمد للّہ۔ اور ایک کتاب قارئین کے لیے ہماری آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب ہے ۔
حضرت حکیم الامت ، مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی و دینی خدمات پر ادارہ راہِ نجات کی جانب سے ایک نہایت مفید اور وقیع خصوصی رسالہ شائع کیا گیا ہے، جو ماہ فروری 2013 کے شمارے پر مشتمل ہے۔ اس خصوصی اشاعت میں ایک نظم آسی صاحب نے حکیمُ الامّت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی علمی شان میں پیش کی ہے۔ جس کے اشعار اُن کے عظیم اجتہادی کارناموں کا ایک جامع مگر مختصر خاکہ پیش کرتے ہیں۔ انہی علمی و فکری اشعار کی روشنی میں ایک مستقل رسالہ مرتب کیا گیا ہے، جو راہ نجات کی آفیشل ویب سائٹ پر اپلوڈ موجود ہے ۔۔
نوٹ : یہ خصوصی شمارہ ہمارے پاس بطورِ خاص موجود ہے۔ معزز قارئین اسے ماہنامہ راہِ نجات کی آفیشل ویب سائٹ سے حاصل کر سکتے ہیں، یا پھر کمنٹ باکس میں اپنا واٹس ایپ نمبر ارسال فرمائیں، تاکہ ہم واٹس ایپ کے ذریعے اس کی پی ڈی ایف فراہم کر سکیں۔

آفیشل ویب سائٹ:
www.rahinajaat.com

31/12/2025

"سید ابو الحسن علی میاں ندوی ؒ "
آسی غلام نبی وانی حفظہ اللہ
مؤسس مجلس علمی جموں و کشمیر
و سرپرست ادارہ راہ نجات بارہمولہ

گذشتہ عیسوی صدی کے ممتاز علمائے دین میں سے حضرت علی میاں ندوی ؒ ایک ممتاز شخصیت کے مالک تھے۔ آپ ایک علمی گھرانہ کے چشم و چراغ تھے۔ قصبہ رائے بریلی یوپی میں پیدا ہوئے اور ندوۃ العلماء لکھنو کے سرپرست تھے۔ آپ دل سے اکابرین دیوبند و سہارنپور کے قدر دان تھے اور اس نیم برصغیر کے تقریباً سارے ہی علمی حلقوں میں نہات ہی قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔ آپؒ اور مولانا منظور احمد نعمانیؒ ہم عصر تھے اور ملک کے تقسیم ہونے کے بعد آپ دونوں حضرات پہلے جماعت اسلامی پھر تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک رہے۔ دونوں جماعتوں میں آپ قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔آپ دونوں حضرات علم و عمل کا مجسمہ تھے۔ مولانا الیاسؒ جو تبلیغی جماعت کے بانی ہیں آپ دونوں حضرات سے اشاعت دین کے سلسلے میں بڑی توقعات رکھتے تھے۔ چنانچہ مولانا علی میاں ؒ نے ایک کتاب ”مولانا الیاس ؒ اور ان کی دینی دعوت“ضبط تحریر میں لائی اور یہ کتاب تاریخ دعوت و عزیمت کا ایک حصہ بن گئی۔اسی طرح مولانا منظور احمد نعمانی ؒ نے”ملفوظات مولانا الیاسؒ“ کے عنوان کے تحت لکھی۔
احقر نے مولانا علی میاں ؒ کی صحبتوں سے دوبار استفادہ کیا ہے۔پہلی بار جب ہم ایک دعوتی سفر کے دوران ان کی زیارت و ملاقات کے لیے دار العلوم ندوہ گئے اور وہاں ان کے ساتھ مصافحہ کیا۔اس وقت حضرت علی میاں ؒ دو اہل عرب کے ساتھ کرسی نشین تھے۔ دوران ملاقات ہم سے پوچھا کہاں سے آئے ہو۔ہم نے جوابا ً عرض کیا ہم کشمیر سے آئے ہیں۔فرمایا جب واپس چلے جاؤ گے تو اپنے علاقے میں ایک مدرسہ کھولو اور پھر اس کو دیوبند یا ندوہ کے ساتھ مربوط رکھو۔ان کے اس کلام سے مولانا مجھے اخلاص کا ایک پہاڑ نظر آئے۔کیونکہ سب سے پہلے آپ نے دیوبند کا نام لیا۔ورنہ مولانا اپنے ادارہ میں ہوتے ہوئے ندوہ ہی کے ساتھ منسلک رہنے پر اصرار کرتے۔اس کے بعد جب ہم گھر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے مجھ ناچیز سے دار العلوم شیری کی تعمیر و ترقی کے سلسلے میں لگاتار 25 برس تک مشغول رکھا اور وقف کنندہ اور شوریٰ کے اصرار پر برابر 25 سال تک بحیثیت صدر اپنے فرائض انجام دیتا رہا۔
دوسری دفعہ جب مولانا کشمیر تشریف لائے تو ان کے دو بیانوں میں مجھے شریک ہونے کی توفیق اللہ نے عنایت فرمائی۔پہلا بیان انہوں نے تبتی مسجد عید گاہ سرینگر میں کیا۔یہاں تبتی زبان بولنے والوں کی ایک بستی ہے۔اور یہ حضرات مولانا علی میاں ؒ کے نہایت ہی قدر دان ہیں۔کیونکہ بے خانماں ہونے کے بعد انہوں نے ان کے بہت سارے بچوں کو ندوہ میں اچھی تعلیم دلائی جس کے لیے یہ حضرات تہہ دل کے ساتھ مولانا کے مشکور و ممنون ہیں۔یہاں پر مولانا نے ایک دلچسپ تقریر فرمائی۔انہوں نے بستی کے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ آپ یہاں پر ایک وصلی نصب کریں اور اس پر یہ عبارت تحریر کریں ”ہم نے اپنے وطن تبت کو کیوں چھوڑا؟“ اور پھر نیچے یہ جواب لکھیں کہ ہم نے یہ کام محض اپنے ایمان کو بچانے کے لیے کیا۔ پھر فرمایا میں آپ لوگوں کو ایسا کرنے کے لیے اس لیے کہتا ہوں تاکہ جب اس پر صبح و شام آپ کے نوجوانوں کی نظر پڑتی رہے گی تو ان کی یاد تازہ ہوتی رہے گی اور پھر وہ اپنا ایمان بچانے کی ہمیشہ فکر رکھیں گے۔ بیان کے بعد یہ اعلان ہوا کہ دوسری مجلس”سکہ ڈافر“ کے قریب ایک بزرگ کے مکان پر ہوگی جس کا اسم گرامی غلام نبی نورانی صاحب ہے۔ہم اسی ایڈرس پر اس کے گھر پہنچے یہاں ہم نے مرد و زن کا ایک ہجوم پایا جن سے سارا مکان بھر گیا تھا۔بہت ساری عورتیں بھی پردے میں مولانا کا بیان سننے کے لیے آئیں تھیں۔میرے شریک سفر ایک ہیڈماسٹر صاحب بھی تھے جو علاقہ رفیع آباد شمالی کشمیر سے خالصتاً مولانا کا بیان سننے کے لیے آئے تھے۔دونوں مجلسوں میں ہمیں مولانا کا بیان سننے کا موقع اللہ نے نصیب فرمایا۔اور رخصت ہونے کے وقت ہم دونوں ساتھیوں کو مولانا کا مصافحہ نصیب فرمایا۔اور ان کے ہاتھوں کو چومنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اس کے بعد مولانا سرینگر سے بانڈی پورہ ایک بزرگ کوثر صاحب سے ملنے کے لیے چلے تھے۔کشمیر سے واپس جانے کے بعد انہوں نے اپنے کشمیر کے سفر سے متعلق ایک کتاب لکھی جو شائع بھی ہوئی کیونکہ اس سفر میں مولانا نے جماعت اسلامی کے دفتر اور ایک تبلیغی مرکز رنگر مسجد میں بھی بیان کیا اور کشمیر میں دعوتی محنت کا آغاز ہونے پر نہایت ہی خوشی کا ظہار کیا تھا۔

خدا رحمت کنند این بندگان ِ پاک طینت را۔
(نوٹ: اس سلسلے کی کسی کڑی کو پڑھنا نہ بھولیے کیونکہ علماء کی صحبتوں کو قلمبند کرنے کا یہ سلسلہ اس پیج پر فی الحال جاری رہے گا)
(یار زندہ صحبت باقی)
www.rahinajaat.com

27/12/2025

انا لله و انا الیه راجعون
اللھم اغفر لھا وارحمھا وعافھا واعف عنھا واكرم نزلھا ووسع مدخلھا واغسلھا بالماء والثلج والبرد ونقھا من الخطايا كما نقيت الثوب الابيض من الدنس وابدلھا دارا خيرا من دارھا واھلا خيرا من اھلھا وادخلھا الجنة واعذھا من عذاب القبر وعذاب النار ۔
اللھم اغفر لحينا وميتنا وشاھدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وانثانا، اللھم من احييتہ منا فاحيہ على الاسلام ومن توفيتہ منا فتوفہ على الايمان، اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تضلنا بعدہ۔

ماشاء اللہ ۔ ایک تاریخی سیمینار۔
17/12/2025

ماشاء اللہ ۔ ایک تاریخی سیمینار۔

امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ۔ خصوصی شمارہ ماہ نامہ راہ نجات بارہمولہ کشمیر۔
13/12/2025

امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ۔ خصوصی شمارہ ماہ نامہ راہ نجات بارہمولہ کشمیر۔

حضرت امام العصر، علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی علمی و دینی خدمات پر ادارہ راہِ نجات کی جانب سے ایک نہایت مفید اور وقیع خصوصی رسالہ شائع کیا گیا ہے، جو ماہ مارچ–اپریل 2024 کے شمارے پر مشتمل ہے۔ اس خصوصی اشاعت میں بالخصوص کشمیر میں حضرت شاہ صاحبؒ کے آٹھ سالہ قیام کا جامع اور مؤثر تذکرہ شامل ہے۔

نوٹ : یہ خصوصی شمارہ ہمارے پاس بطورِ خاص موجود ہے۔ معزز قارئین اسے ماہنامہ راہِ نجات کی آفیشل ویب سائٹ سے حاصل کر سکتے ہیں، یا پھر کمنٹ باکس میں اپنا واٹس ایپ نمبر ارسال فرمائیں، تاکہ ہم واٹس ایپ کے ذریعے اس کی پی ڈی ایف فراہم کر سکیں۔

آفیشل ویب سائٹ:
www.rahinajaat.com

مؤسس مجلس علمی جموں و کشمیر ۔ ♥️
11/12/2025

مؤسس مجلس علمی جموں و کشمیر ۔ ♥️

علامہ کشمیری اور مثنوی مولانا روم۔  ♥️
26/11/2025

علامہ کشمیری اور مثنوی مولانا روم۔ ♥️

مؤسس مجلس علمی جموں و کشمیر ۔ ♥️
22/11/2025

مؤسس مجلس علمی جموں و کشمیر ۔ ♥️

A Heartfelt congratulation & Humble Request.We extend our sincere congratulations to the entire team of Rahi Najaat for ...
12/11/2025

A Heartfelt congratulation & Humble Request.
We extend our sincere congratulations to the entire team of Rahi Najaat for their commendable efforts and dedication.

We also warmly invite our esteemed followers and dear friends to visit the official website of Rahi Najaat, where you’ll find a rich collection of research-oriented articles, insightful books, and inspiring magazines published by our Idarah.

📖 Explore more at:
🔗 www.rahinajaat.com

With regards
Majlis-e-ilmi Jammu & Kashmir

Address

Fatehgarh
Baramula
193101

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Majlis-e-ilmi Jammu & Kashmir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Majlis-e-ilmi Jammu & Kashmir:

Share