The End Times

The End Times From the end of time, space and matter to the beginning of eternity. What is the reality of life, death and resurrection? What is the purpose of existence?

24/10/2024
07/10/2022

The Prophet Muhammad (pbuh) said: “If you are pleased with what God has (given you), you will be the richest of (people). If you are kind to your neighbor, you will be a believer. If you like others to have what you want for yourself, you will be a Muslim.” Al-Tirmidhi

15/09/2022

برائے 14 ستمبر 2022ء

🎯 مدارس امت مسلمہ کے لیے سرچشمۂ حیات ہیں

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم امابعد قال اللّٰہ تعالیٰ فی القرآن المجید ،اعوذباللّٰہ من الشیطان الرجیم ، اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (۱) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (۲) اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (۳) الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ(العلق: ۱-۵)
عرب ایک اُمی قوم تھی جس کو قرآن مجید میں خود کہا گیا ہے یہود کی زبان سے لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ(سورۃ آل عمران ۵۷)ہم عرب کے باشندوں کے ساتھ کوئی معاملہ کریں ، کوئی زیادتی کریں، ان کے مال پر قبضہ کر لیں، غصب کر لیں،ان کوایذا پہنچائیں، ہم سے کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا ، اس لیے کہ وہ جانوروں کے حکم میں ہیں، جانور کو اگر کوئی استعمال کرے ،مار دے، تکلیف پہنچائے، تو کوئی محاسبہ نہیں ہو گا، اور ایک ایسی قوم جس کو اُمیین کے لقب سے یاد کیا گیا ہے اور قرآن مجید میں اس کا ذکرکرکے اس کو قیامت تک کے لیے باقی رکھاگیا ہے ، ایک ایسے شہر میں کہ جہاں قلم ڈھونڈھنے سے ملتا، مکۂ مکرمہ میں شاید تین چارگھروں میں قلم مل سکتا تھا ،اور پھر ایک ایسی شخصیت پر ،ایک ایسے انسان کامل پر، اور ایک ایسے اللہ کے محبوب بندے پرکہ جو دنیائے انسانیت کو نجات دینے کے لیے مبعوث ہوا ہے ، اور جس کوعلم کے دریا بہانے ہیں ، اورعلم کے خزانے زمین سے اگلوانے ہیں ، اور جس کو ذہانت اورقوت مطالعہ اور تدقیق و تحقیق کی آخری معراج تک پہنچانا ہے، وہ خود اُمی ہے ،اس پر یہ آیتیں نازل ہوتی ہیں۔

اس امت کا دامن علم سے باندھ دیاگیاہے
تو اس امت کا دامن علم سے باندھ دیاگیاہے، اور اس امت کے لیے گویا یہ بات اللہ ےتعالیٰ کی طر ف سے طے کر دی گئی ہے ان آیتوں کے ذریعے کہ پہلی وحی جو نازل ہوتی ہے اس میں نہ عقائد کے بارے میں کچھ کہا جاتا ہے ،نہ ان چیزوں کے بارے میں جو بنیادی چیزیں ہیں ، جن پر اسلام کی بنیاد قائم ہے، نہ عبادات کے متعلق کہا جاتاہے ، نہ معاملات کے متعلق کچھ کہاجاتا ہے ، اور نہ وہاں کے رسوم کے خلاف کچھ کہاجاتاہے ، نہ جاہلیت کے خلاف کہا جاتا ہے ،وہاں جو پہلی بات کہی جاتی ہے ،پہلا لفظ جو بولا جاتاہے، حضرت جبرئیل جس کو اداکرتے ہیں، آپ سے ادا کرواناچاہتے ہیں ، وہ ہے ،اِقرا۔
یہ ایک انکشاف ، یہ ایک حیرت انگیز چیز ہے کہ سوچنے سمجھنے والے انسان کو بڑے تفکر اور تدبر پر ،اور ذہانت پر اور نکتہ شناسی پر، آمادہ کرتی ہے، مگر چوں کہ جو چیززیادہ پڑھی جاتی ہے، نظر سے گزرتی ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی یا نوبت نہیں آتی،اور سب سے پہلے یہی آیتیں پڑھی جاتی ہیں ،اسی سے بسم اللہ ہوتی ہے، اسی لیے اس پر بھی غورکرنےکی ضرورت نہیں سمجھی جاتی یا نوبت نہیں آتی۔
قرآن کریم کی پہلی آیت کے ذریعہ اس امت کا قرأت یعنی پڑھنےسے دامن باندھ دیاگیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک شرط یہ ہے کہ علم اور اسم دونوں کو جمع کیا گیا ہے، دنیا کی یہ بڑی نقمت ہے اوربڑی بد نصیبی ہے ، اس کو امریکہ اور یورپ میں اور ترقی یافتہ دور میں دیکھا جاچکا ہے کہ علم کا رشتہ جب اسم سے ٹوٹ گیا ہے تو وہ علم علم نہیں ،بلکہ جہل ہےاور جہل نہیںبلکہ جہل آموز چیز اورانسانیت سوز چیز اورحقائق کو بھلا دینے والی اور آخری درجہ میں خدافراموش بنا دینے والی چیز بن گیاہے، یہ ایک سانحہ ہے دنیا کا۔

آج علم نافع کیوں نہیں؟
علم جوآج مفید نہیں ہورہاہے ،نافع نہیں ہے، وہ اس وجہ سے کہ علم علم ہے لیکن اسم نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے علم کواسم کے ساتھ جوڑاتھا ، اوردونوںکا دامن باندھ دیاتھا، اور علم کواسم کے ساتھ مربوط کر دیا تھا، جب علم اسم سے محروم ہوجائے گا ، اور پھر محروم ہی نہیں باغی ہو جائے گا ، اس اسم کے خلاف وہ بغاوت کرے گا، انکار ہی نہیں بلکہ اس کوپردۂ وجود سے ختم کرناچاہے گا ،وہ علم علم وحشت آمیز نہیں ،وحشت انگیز نہیں، بلکہ وحشت آموز بن جائے گا ، اور ظلم کادریا بہانے والا اور ظلم کی آگ لگادینے والا بن جائے گا ، اور جو کچھ فساد ہم کو آج یورپ و امریکہ میں نظر آ رہا ہے ،وہ سب اس وجہ سے کہ علم کا رشتہ اسم سے ٹوٹ چکا ہے،اور اب علم وہ علم نہیں ہے جو انسانیت پیدا کرے، بلکہ وہ علم ہے کہ جو درندگی پیدا کرے، وحشت پیدا کرے ،سبعیت پیدا کرے، سفا کی پیدا کرے ،نفس پرستی پیدا کرے۔

مدارس امت مسلمہ کے لیے کیوں ضروری ہیں؟
تو جہاں تک مسلمانوں کا ، امت مسلمہ کا تعلق ہے، اس کاتودامن بندھا ہوا ہے، اس کے لیے تو شرط ہے کہ اس کی زندگی کاآغاز، اس کی شعوری زندگی کا آغاز کم سے کم اقرا ٔ یعنی قرأت کے عمل کے ساتھ ہو، اوراسم کے سایہ کے نیچے ہو، اسم ربانی ،اسم الہی کے سایہ کے نیچے ہو ، اوروہ اس کی سرپرستی میں ہو، اس کی رہنمائی میں ہو، اس کی رفاقت میں ہو، توجہاں تک امت مسلمہ کا تعلق ہے، اس کے لیےتومدارس اس لیے ضروری ہیں کہ یہ مدارس اس کی زندگی کاسرچشمہ ہیں، اور اس کو اسلام کے راستے پر ڈالنے والےہیں، اسلام کو سمجھانےوالے ہیں، اسلام پر عمل کرنے کی ترغیب دینے والے اور پھر زمانے میںجوتغیرات پیدا ہوتے ہیں ، ان تغیرات سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ مصائب پیداہوتے ہیں، تناقضات پیدا ہوتے ہیں ،امتحانات پیدا ہوتے ہیں ، ان کاعلاج بھی بتانے والے ہیں۔

ایک اعلان
جہاں تک امت مسلمہ کا تعلق ہے، علم تو اس کے لیے سانس کی طرح ہے، روح کی طرح ہے، لیکن شرط یہی ہے کہ علم اسم الٰہی سے مربوط ہو، اوراسی کی رہنمائی میں ہو، اور پھرانہیں آیتوں میں خیال فرمایئے کہ غارحرا میں یہ آیتیں نازل ہو رہی ہیں ایک نبی اُمی پر ،اورایک شہر اُمی پر، بلد اُمی میں اور ایک ملک اُمی میں او ر ایک اُمت اُمیہ میں، لیکن اس میں قلم کا بھی ذکر ہے، اس میں صاف پیشین گوئی تھی ،ا س پر بہت کم لوگوں نے غور کیا کہ ان آیتوں میں یہ اعلان کیا ہے اور اس اعلان پر بہت کم لوگوں نے غور کیا کہ یہ امت قلم کے استعمال کرنے والی امت ہوگی اور قلم سے ہدایت و رہنمائی کاکام لے گی ،قلم سے وہ ان خرابیوں، ان بیماریوںکو دورکرے گی جن میں انسانیت مبتلا ہے ، قلم کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والی یہ امت ہو گی، اس لیے کہ اس کے نبی اُمی پرجو آیتیں نازل ہورہی ہیں ، ان میں بھی قلم کو فراموش نہیںکیاگیا ہے، اس میں قلم کا لفظ آیا ہے۔ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ

مدارس امت مسلمہ کے لیے حیات کی ایک شرط ہیں
توجہاں تک امت مسلمہ کاتعلق ہے، مدارس امت مسلمہ کےلیے حیات کی ایک شرط ہیں، وہ اس کی شرائط حیات اور شرائط بقاء میں سے ہیں او راسی سے اس امت کا بقا اور تسلسل بحیثیت امتِ ہدایت کے باقی رہے گا۔ جس کاعلم سے کبھی رشتہ توڑا نہیں جاسکتا ، اور توڑاجائے تو ٹوٹ نہیں سکتا، اوراگر توڑا جائے تو پھر یہ امت کشی ہوگی، امت اسلام کشی ہوگی ، پھر اس کے بعد جہاں تک تعلق ہے دوسرے ممال کا، اوردوسرے تمدنوں کا ،اور تمدنی مرکزوں کا، یہ مدرسے شفا خانے ہیں ان ملکوں کے لیے ،اوردر حقیقت بات ذرا سمجھ میں آنے والی ہے کہ مدارس کا وجود میڈیکل کالجز سے زیادہ ضروری ہے،یہ میڈیکل کالج جہاں پر علاج ہوتا ہے،جہاں بالکل لب دم اور جاں بلب مریضوں کو لے جایا جاتا ہے، ان کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔
اگر غیر فانی حیات اور آخرت ،اور انسان کی ہدایت وضلالت کا مسئلہ ،اور انسان کی حیات وہلاکت کا مسئلہ سامنے لایاجائے،اور حیات بھی نافع ،حیات بھی حیات بخش،اور پھر علم بھی نافع ،اور پھر دوسروں کو نفع پہنچانے والاہو،تو یہ مدارس ان میڈیکل کالجز سے بھی زیادہ ضروری ہیں ،وہاں جسم کا علاج ہوتا ہے،عضو کا علاج ہوتا ہے،کسی انسانی جسم کے کسی ٹکڑے کا علاج ہوتاہے،کسی بیماری کا انکشاف ہوتا ہے،لیکن وہ بہر حال زندگی عارضی ہے ،زندگی کی بیماریاں بھی عارضی ہیں ،زندگی کا انجام بھی سب کو معلوم ہے،یہ زندگی ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے۔

مدارس سے حیات ابدی کا تحفہ ملتا ہے
لیکن یہ مدارس وہ شفاخانے ہیں جہاں سے حیات ابدی کا تحفہ ملتا ہے،اور حیات اخروی کی نعمت ملتی ہے،اور انسان کا خدا سےربط قائم ہوتا ہے،مخلوق کا ربط خالق سے قائم ہوتا ہے،مرزوق کا ربط رازق سے قائم ہوتا ہے،مجبور کا ربط قادر مطلق سے قائم ہوتا ہے،اور یوں سمجھئے کہ انسان اس کے ذریعے سے بامعانی بنتا ہے،اور ایک زندگی کی ضرورت ثابت ہوتاہے۔
اس لیے اگر انصاف ہو،سلامت فکر ہو،اور حکومت تعصبات سے پاک ہو،اور وہ حقائق کو سمجھنے والی ہو،تو اس کو خود ان مدارس کو قائم کرنے کے لیے انتظامات کرنے چاہئیں ،اور بلکہ اس کے لیے ضد کرنی چاہیے ،اور اس کے لیے اس کو احکام کرنے جاری کرنے چاہئیں ،اگر ہمارے ملک میں یا کسی ملک میں یا یورپ وامریکہ کے کسی ملک میں بھی یہ حقیقت پسندی پیدا ہوجائے ،اور انسان کے آغاز وانجام پر اس کی نظر ہو،اور آسمانی کتابوں پر اور آسمانی تعلیمات سے وہ واقف ہو،اور کم سے کم یہ سمجھے کہ یہ حیات فانی ہے،اور چاہے کتنے ہی سال کی ہو،سو برس کی ہو،یا اس سے زائد کی ہو،اس کے بعد پھر فنا ہونا ہے،آگ میں جل جانا ہے ،یا مٹی میں چھپ جاناہے،اگر اس حقیقت پر بھی نظر ہوتب بھی وہ ان مدارس کی،جہاں سے حیات حقیقی کا پیغام ملتا ہے،اور شفائے کلی کا پیغام ملتا ہے،اور جہاں سے زہر کا تریاق ملتا ہے،اور جہاں سے زندگی میں معنویت پیدا ہوتی ہے،زندگی میں افادیت پیدا ہوتی ہے ،اور زندگی میں ارتقاء پیدا ہوتا ہے ،اور زندگی میں انصاف پیدا ہوتا ہے،اور زندگی میں انسان دوستی پیدا ہوتی ہے،وہ ان مدارس کی سرپرستی کرے اور ان کو قائم کرےاور قائم کروائے،اور اگر کوئی ان کو بری نگاہ سے دیکھے تو وہ اس کی دشمن بن جائے کہ ان مدارس کا رہنا ضروری ہے۔
اگر ہمارے ہندو بھائیوں میں ،ہمارے ان ہم سایہ گان میں اور ہمارے ہم وطنوں میں اگر حقیقت پسندی ہوتو ان مدارس کی جہاں خدا سے ڈرنا سکھایاجاتا ہے،خدا کی معرفت بتائی جاتی ہے،انسان کا درجہ بتایا جاتاہے کہ (لَقَدْ خَلَقْنَاالْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ)اور جہاں نا انصافی کو اور ایذارسانی کو اور نفس پرستی کو برابتایا جاتا ہے ،اور اس کی مذمت کی جاتی ہے ،اور اخلاق سیۂ سے روکا جاتا ہے،وہ ان کی ایسی قدر کرتے کہ وہ شفاخانوں سے اور میڈیکل کالجوں سے زیادہ ہوتی ،مگر افسوس ہے کہ جو فطری حقائق ہیں ،اور ابدی حقائق ہیں ،عمومی حقائق ہیں ،آفاقی حقائق ہیں ،ان پرپردے پڑ گئے ہیں ،زمان ومکان کی تنگیوں کے اور زمان ومکان کے اثرات کے ،اور باہر کے خدا،شناس ملکوں کی تہذیب کے اثرات پڑ گئے ہیں ،اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ملک خود بھی زوال کی طرف جار ہےہیں ۔
وہاں جو لوگ جاچکے ہیں ،جو لوگ وہاں کے حالات پڑھتے ہیں کہ یہ جو کوشش ہورہی ہے اس وقت Fundamentalismکے خلاف،اور مسلمانوں میں مذہبی جذبہ کو سرد کرنے کے لیے ،اس میں اس کو بھی دخل ہے،احساس کمتری کوبھی دخل ہے،اور اس میں اس خطرے کے احساس کو بھی دخل ہے کہ امریکہ اور یورپ اور مغرب زوال کی طرف جارہے ہیں ،اور اس میں ایک امکان یہ بھی ہے کہ اسلام قبول کرلیں ،انہوںنے اپنی تشفی کے لیے بھی اور کسی قدر اس کے انتظامی لحاظ سے بھی ان اسلامی ممالک میں خود یہ تحریک پیدا کی ہے کہ بنیاد پرستی کو ختم کیا جائے،اور افسوس ہے کہ ہمارے ان ملکوں کے حکمرانوں نے اور وہاں کی صاحب اقتدار جماعت نے اس کو قبول کرلیاہے،اس وقت اگر کوئی چیز بچاسکتی ہے تو وہی علم نافع اورآسمان سے اترا علم ہے اس علم سے وابستہ ہے۔
اگر یہ ان لوگوں کو معلوم ہوجائے تو پھر وہ ان مدارس کو ،ممکن ہے کہ بہت سے مدارس کی انتظامی کمیٹیوں اور ان کے سرپرستوں اور ان کے رہنمائوں سے زیادہ ،وہ ان مدارس کا قائم رہنا ضروری سمجھیں اور ان کی حفاظت کریں ،اور یہ آگ بجھانے والے انجن جو ہیں اور ان کے جو مرکز ہیں ،ان سے زیادہ ان مدارس کو اہمیت دیں ،کہ ہوس کی آگ کو،نفس پرستی کی آگ کو،اور پھر دولت پرستی کی آگ کو(جو آخری چیز ہے) بجھانےوالے یہی انجن ہوسکتے ہیں ،ان انجنوں کی حفاظت کریں۔
مدارس نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ ملک کےلیے بھی ضروری ہیں
یہ بات ایک امت مسلمہ کے نقطۂ نظر سے اور اس کی ترجمانی کرتے ہوئے بھی اور اس کا ربط بتاتے ہوئے بھی اور اس کے ساتھ ساتھ پورے ملک کی آبادی کا جہاں تک تعلق ہے،اس کا ان مدارس کے بارے میں جو نقطۂ نظر ہونا چاہیے ،تاثر ہونا چاہیے،اور فیصلہ ہونا چاہیے ،اس کو بھی سامنے رکھ کر کہی گئی ہے کہ یہ مدارس نہ صرف مسلمانوں کے لیے ضروری ہیں بلکہ ملک کے لیے ضروری ہیں ،وہاں کی آبادی کے لیے ضروری ہیں ،وہاں کے مستقبل کے لیے ضروری ہیں ،اگر وہ ملک آدمیوں کو دیکھنا چاہتا ہے کہ آدمی آدمی کی طرح رہے،آدمی بھیڑیا نہ بن جائے ،آدمی کتااور سانپ ،بچھو نہ بن جائے ،تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس طرح کے مراکز چاہے ان کا نام آپ مدارس رکھیے ،چاہے ان کانام آپ کچھ اور رکھیے ،کسی زبان میں رکھیے ،لیکن بہر حال ایسے مرکزوں کی ضرورت ہے۔
وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
9834397200

15/09/2022
15/09/2022
15/09/2022
14/09/2022
14/09/2022
14/09/2022
Shame on them
14/09/2022

Shame on them

N.C. sheriff’s office used shooting range target depicting a masked man wearing a traditional Arab dress holding an AK-47-style weapon during school shooting training 

13/09/2022

कुछ राज्य सरकारों द्वारा धार्मिक मदरसों का सर्वेक्षण

मदरसों को बदनाम करने और हमवतनी भाईयों में सन्देह पैदा करने की नापाक और घृणित साज़िश (महासचिव बोर्ड)

नई दिल्ली: 11 सितंबर, 2022 ई0
ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड के महासचिव हज़रत मौलाना ख़ालिद सैफ़ुल्लाह रहमानी ने अपने प्रेस नोट में कहा है कि कुछ राज्य सरकारों द्वारा धार्मिक मदरसों का सर्वेक्षण वास्तव में मदरसों और हमवतनी भाईयों के बीच इन्हें सन्देहास्पद बनाने की एक घिनावनी और नापाक साज़िश है। उन्होंने आगे कहा कि धार्मिक मदरसों का एक उज्ज्वल इतिहास रहा है, इन मदरसों में पढ़ने और पढ़ाने वालों के लिए चरित्र-निर्माण और नैतिक प्रशिक्षण का आयोजन चौबीसों घंटे किया जाता है, कभी इन मदरसे में पढ़ने और पढ़ाने वालों ने आतंकवाद और साम्प्रदायिक घृणा पर आधारित कोई कार्य नहीं किया; यद्यपि कई बार सरकार ने इस प्रकार के आरोप लगाए; मगर चूंकि ये झूठे आरोप थे इसलिए इसका कोई सुबूत नहीं मिला, सत्ताधारी दल के पुराने और प्रभावशाली नेता लालकृष्ण आडवाणी जब देश के गृहमंत्री थे तो उन्होंने भी यह स्वीकार किया था, डॉ. राजेंद्र प्रसाद, जवाहरलाल नेहरू, एपीजे अब्दुल कलाम और मौलाना आज़ाद जैसे देश के कद्दावर नेतृत्व ने मदरसों की सेवाओं को स्वीकार किया है, स्वतंत्रता संग्राम के दौरान मदरसों से निकले विद्वानों (उलेमाओं) ने असाधारण बलिदान दिया है और स्वतंत्रता के बाद भी ये संस्थान देश के सबसे गरीब वर्गों को शिक्षा प्रदान करने में प्रमुख भूमिका निभा रहे है, इसलिए बोर्ड सरकार से अपने इस इरादे से दूर रहने का अनुरोध करता है और यदि किसी भी वैध आवश्यकता के तहत सर्वेक्षण किया जाता है तो इसे केवल मदरसों या मुस्लिम संस्थानों तक सीमित न रखा जाए बल्कि देश के सभी धार्मिक और गैर-धार्मिक संस्थानों का एक निश्चित सिद्धांत के तहत सर्वेक्षण किया जाए; बल्कि इसमें सरकारी संस्थानों को भी शामिल किया जाए, कि सरकार ने शैक्षणिक संस्थानों के बुनियादी ढांचे के संबंध में जो नियम निर्धारित किए हैं सरकारी संस्थान स्वयं इसे किस हद तक पूरा कर रहे हैं, मौलाना रहमानी ने कहा कि केवल धार्मिक मदरसों का सर्वेक्षण मुसलमानों की रुस्वा करने का कुप्रयास है और बिल्कुल अस्वीकार्य है और मिल्लत-ए-इस्लामिया इसे ख़ारिज करती है।

✍️ जारीकर्ता
डॉ. मुहम्मद वक़ारुद्दीन लतीफ़ी
कार्यालय सचिव

Address

Bangalore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The End Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to The End Times:

Share