Ansar Ahmad Misbahi

Ansar Ahmad Misbahi مذہبی ،ملی، ادبی مضامین یا مراسلے، اسلام کی عالمی، ملک?

22/01/2026


از: انصار احمد مصباحی
9860664476/[email protected]

نام نعمان، لقب ابو حنیفہ اور القابات الامام الاعظم ، سراج الامة ، رئیس الفقہاء و المحدثین وغیرہ ہیں۔ شجرہ نسب یوں بیان کیا جاتا ہے۔ نعمان بن ثابت ، بن مرزبان بن زوطی بن ثابت بن یزدگرد بن شہریار بن پرویز بن نوشیرواں ہے۔ ”تاریخ بغداد“ کے مصنف خطیب بغدادی نے امام اعظم کے پوتے حضرت ”اسماعیل بن حماد“ سے نقل کیا ہے کہ،
” اللہ کی قسم ہم پر کبھی غلامی نہیں آئی۔ میرے دادا حضرت ابو حنیفہ کی پیدائش 80 ہجری میں ہوئی۔ ان کے والد حضرت ثابت چھوٹی عمر میں امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر کیے گئے۔ آپ نے ان کے اور ان کی اولاد کے حق میں دعا فرمائی۔ ہمیں امید ہے کہ یہ دعا اللہ کی بارگاہ میں قبول کر لی گئی ہے “ ۔
(تاریخ بغداد: 12/326)

ائمہ فقہ میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ تنہا امام ہیں، جن کو تابعی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ آپ نے کم از کم چار صحابہ کرام کی زیارت کی۔ حضرت انس بن مالک ، حضرت واثلہ بن اسقع ، سہل بن سعد ، ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنھم ۔ انھیں آپ نے حج کے موقع پر دیکھا۔


ضروری علم حاصل کرنے کے بعد آپ تجارت میں لگ گئے ۔ ریشم کے کپڑے فروخت کرتے تھے۔ تجارت کے ایک سفر میں حضرت امام عامر بن شراحیل ”الشَعْبِی“ سے ہو گئی، یہ وہ عظیم تابعی ہیں جنھوں نے پانچ سو صحابہ کرام کی زیارت کی ہے۔ امام شعبی حضرت امام کی پیشانی کو دیکھا تو علوم و معارف کا سمندر ٹھاٹھے مار رہا تھا، فرمانے لگے ؛
تم غفلت نہ کرو اور علما کی مجلس میں بیٹھا کرو ! کیوں کہ میں تمھاری پیشانی میں علم و فضل کے آثار دیکھ رہا ہوں۔ (تذکرة المحدثین، سعیدی ، 48)
اس بات کا آپ کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ تحصیل علم کی طرف متوجہ ہوئے۔ پہلے پہل علم کلام میں درک پیدا کی۔ دہریہ، قدریہ ، جہمیہ وغیرہ باطل فرقوں سے کئی مناظرے کیے اور انھیں دھول چٹائی۔ پھر اچانک ایک دن خیال آیا کہ صحابہ کرام سے زیادہ دین کی سمجھ کس کو ہے ، اس کے با وجود ان حضرات نے یہ طریقہ نہ اپنایا۔ اور یہیں سے آپ علم حدیث و فقہ کی طرف متوجہ ہوئے۔
امام ابو حنیفہ کے زمانہ میں شہر کوفہ علوم و فنون کا گہوارہ تھا۔ اس شہر میں 70 بدری صحابہ اور 300 بیعت رضوان والے سمیت ایک ہزار پچاس صحابہ آکر آباد ہوئے تھے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس شہر کو رأس الاسلام، قبة الاسلام اور کنز الایمان قرار دیا تھا۔ یہاں ہر گھر مانو ایک درس گاہ اور ہر آنگن ایک مدرسہ تھا۔ حضرت امام نے حضرت حماد بن ابی سلیمان کے پاس حاضر ہو کر علم حدیث و فقہ حاصل کرنا شروع کیا۔ یہ وہ درس گاہ تھی جو صحابی رسول ﷺ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے چلی آ رہی تھی۔ حضرت ابن مسعود کے وقت میں یہاں بیک وقت چار ہزار مشاہیر تابعین حاضرت ہوتے تھے۔

حضرت امام اعظم کے دور طالب علمی میں مندرجہ مشاہیر امت شہر کوفہ میں موجود تھے:
حضرت ابراہیم نخعی، امام عامر شعبی ، حضرت سلمہ بن کہیل ، امام سماک بن حرب ، محارب بن دثار ، ہشام بن عروہ ، عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود ، حضرت امام اعمش ، حماد بن ابی سلیمان رضی اللہ عنھم
آج حدیث کی کوئی ایسی کتاب نہیں جو ان حضرات کی روایت سے خالی ہو۔
لگ بھگ بیس سال تک حضرت حماد سے لپٹے رہے ، اس بیچ کوفہ اور بیرون کوفہ جب بھی موقع ملتا ، دوسرے مشاہیر سے بھی شرف تلمذ حاصل کیا۔ عقل و تجربہ سے مکمل پختہ ہو چکنے کے بعد چالیس سال کی عمر میں، جب آپ کے استاد حضرت حماد کا وصال ہوا تو کوفہ کی جامع مسجد میں اپنے استاد کی مسند پر متمکن ہوئے۔۔


امام اعظم نے چند حدیثیں تو خود حضور ﷺ کو دیکھنے والے صحابہ کرام سے روایت کی ہے۔ ان کے علاوہ آپ کے اساتذہ کی کل تعداد 4000 تک پہنچتی ہے، جن میں اکثریت تابعین کی ہے۔ چند مشہور نام یہ ہیں:
عطاء بن ابی رباح، حماد بن ابی سلیمان، امام اعمش ، امام شعبی، عکرمہ مولی ابن عباس ، امام ابن شہاب زہری ، نافع مولی ابن عمر ، عکرمہ، امام عاصم، مکحول، عطاء بن سائب، قتادہ بن دعامہ السدوسی، حضرت حسن بصری، ابو اسحاق سبیعی، ہشام بن عروہ، سعید بن مسروق، علقمہ بن مرثد، حکم بن عتیبہ، ابو صالح السمان، محمد بن علی، عامر بن ابی الجعد، عطیہ بن سعد عوفی، زید بن علاقہ، سلیمان مولیٰ ام المؤمنین میمونہ، سالم بن عبد اللہ۔ (رضی اللہ عنھم)

اساتذہ کی طرح آپ کے شاگردوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔ تمام کے تمام اپنے وقت کے امام ہوئے۔ آپ نے ہر میدان کے شہسوا پیدا کیے۔ شاگردوں کی مختصر فہرست یہ ہے :
: حضرت امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن شیبانی، امام حماد بن ابی حنیفہ ، امام مالک
: امام عبد اللہ بن مبارک، امام زفر بن ہذیل، حسن بن زیاد وغیرہ
: حضرت داود طائی، فضیل بن عیاض ، ابراہیم بن ادہم ، حضرت بشر حافی ، ابن یوسف ازرق ، ابو سعید کوفی ہمدانی وغیرہ
#محدثین: لیث بن سعد ، امام یحییٰ بن آدم ، جریر بن عبد الحمید ، ابو یحییٰ زکریا بن ابی عیسیٰ، امام سفیان بن عیینہ، علی بن مسرور، حفص بن غیاث، حکم بن عتیبہ رازی،
*قراء :* مصعب بن مقدام، امام عاصم، ابو عبد الرحمن مقری۔ علیھم الرحمہ

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نے فقہ کی تدوین فرمائی ۔ امام شافعی نے حق فرمایا تھا:
الناس فی الفقہ عیال ابی حنفہ
ترجمہ ؛ لوگ علم فقہ میں ابو حنیفہ کے محتاج ہیں۔
بعد میں جتنے ائمہ مجتہدین آئے، سب نے آپ ہی سے استفادہ کیا۔ قرآن و احادیث سے لاکھوں جزئیات نکال کر فقہی مسائل باریکی سے سمجھا کر امام ابو حنیفہ نے پوری امت پر احسان فرمایا۔ ہے۔

غیب داں رسول حضور پیارے نبی ﷺ نے پہلے ہی بشارت دی تھی؛
” لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ“ ترجمہ: اگر ایمان ثریّا (آسمان کی بلندی) پر بھی ہوگا تو ان (فارس والوں) میں سے ایک شخص اسے حاصل کر لے گا۔ (صحیح بخاری حدیث: 4897) (صحیح مسلم حدیث: 2546)
حضرت امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ” علماء کا اتفاق ہے کہ اس حدیث کا مصداق امام ابو حنیفہ ہیں“۔ (تبییض الصحیفہ، 123)

آپ نے چالیس برسوں تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی۔ رات بھر میں ایک ختم قرآن مکمل کر لیا کرتے تھے۔ خشیت الہی کا یہ عالم تھا کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ ایک ہی آیت پر صبح ہو جاتی۔ ایک یہودی کی بچی نے اپنی ماں سے کہا ، امی جان ہمیں مسجد کے بیچ میں جو ستون نظر آتا تھا، وہ اب نظر نہیں آ رہا۔ ماں نے جواب دیا : بیٹی! وہ کوئی ستون نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے بڑے عالم امام ابو حنیفہ تھے جو رات رات بھر عبادت کرتے تھے۔ اب ان کا وصال ہو چکا ہے۔

اخیر وقت پر آپ آزمائش میں مبتلا ہوئے۔ آپ پر بہت مظالم ڈھائے گئے۔
خلافت بنو امیہ کے خاتمہ کے بعد سفاح پھر اس کے بعد منصور نے اپنی حکومت جمانے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی ہیبت بٹھانے کے لیے بہت ظلم کیے۔ منصور نے چن چن کر حیلے بہانے سے علویوں کو تہ تیغ کرنا شروع کیا۔ اسی خوف اور دہشت نے حضرت زید بن علی ابن امام زین العابدین کو بغاوت پر مجبور کیا۔ ان مظلوموں میں حضرت نفسِ زکیہ محمد بن عبداللہ بھی تھے، خروج کیا، ابتدا میں ان کے ساتھ بہت تھوڑے لوگ تھے، بعد میں بہت بڑی فوج تیار ہو گئی۔ حضرت امام مالک نے بھی ان کی حمایت کا فتویٰ دیا تھا، لیکن یہ شیطانی لشکر کے سامنے بہت کمزور ثابت ہوئے، آخر کار جب منصور سے مقابلہ ہوا تو 135ھ میں وہ اور ان کی جماعت شہید ہو گئے۔
ان کے بعد ان کے بھائی امام ابراہیم نے خلافت کا دعویٰ کیا۔ بصرہ سے ان کی حماعت ہوئی۔ خاص طور پر ملک عراق ان کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔ امام اعظم سمیت بڑے بڑے اساتذہ و فقہاء نے ان کا ساتھ دیا۔
امام اعظم کسی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہوئے، جس کا ان کو شدید رنج اور تکلیف رہی، لیکن یہ لوگ بھی منصور کے مقابلے میں شکست کھا گئے اور امام ابراہیم بھی شہید ہو گئے۔
اب منصور نے ان لوگوں کی طرف توجہ کی جن لوگوں نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ 136ھ میں بغداد دارالسلطنت بناتے کے بعد منصور نے حضرت امام اعظم کو بغداد بلایا۔ منصور انہیں شہید کرنا چاہتا تھا، بس کسی بہانہ کی تلاش تھی۔ حضرت امام اعظم کی خدمت میں عہدہ قضاء پیش کیا۔ امام نے فرمایا؛
”میں اس کے لائق نہیں ہوں“ ۔ منصور نے کہا:
” تم جھوٹے ہو“!
امام صاحب نے فرمایا:
“ اگر میں جھوٹا ہوں تو جھوٹا قضاء کے لائق نہیں“ ۔
اس پر منصور بھڑک گیا اور امام صاحب کو قید میں ڈال دیا گیا، جہاں ان پر زہر آلود کوڑے مارے گئے۔

حضرت امام اعظم کا غلبہ پوری دنیا میں گھر گھر پہنچ چکا تھا۔ قید نے ان کی عظمت کم کرنے کے بجاے اور زیادہ کر دیا۔ جیل خانہ ہی میں لوگ جاتے اور ان سے فیض حاصل کرتے۔ حضرت امام محمد اخیر وقت تک قید خانے میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ منصور نے جب دیکھا کہ یوں کام نہیں بنا تو خفیہ زہر ڈلوا دیا۔ جب حضرت امام کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو خالق بے نیاز کی بارگاہ میں سجدہ کیا۔ سجدے ہی کی حالت میں روح پرواز کر گئی۔
گر وقت اجل سر تری چوکھٹ دھرا ہو
جنتی ہو قضا ایک ہی سجدے میں ادا ہو۔

آپ کی وفات 150ھ بغداد میں ہوئی۔ شہرت کا یہ عالم تھا کہ 6 بار نماز جنازہ ادا کی گئی۔ پہلی جماعت میں پچاس ہزار لوگ موجود تھے۔ اخیر میں آپ کے صاحبزادے حضرت حماد نے نماز پڑھائی۔ عصر کے قریب تدفین ہوئی۔
سلطان الپ ارسلان نے 450ھ میں مزار پر عالی شان قبہ بنایا۔ متصل مشہد امام ابو حنیفہ کے نام سےچایک مدرسہ بنوایا۔ بغداد میں یہ پہلا مدرسہ تھا۔ مزار اقدس آج تک مرجع خلائق ہے۔

(ائمہ حضرات جمعہ کی تقریر میں بیان کر سکتے ہیں۔
ثواب کی نیت سے آگے شیئر کر دیں)

11/01/2026

…!!!

حضرت ذو النون مصری علیہ الرحمہ ایک بار اپنی عقلمند لڑکی کو ساتھ لِیے مچھلی پکڑنے گئے۔ آپ ندی میں جال پھینکتے جاتے اور جو مچھلیاں پھنستیں انھیں اپنی لڑکی کے حوالے کرتے جاتے۔
وہ چھوٹی بچی مچھلیاں لے کر اپنے کانوں کے پاس لاتی اور انھیں دوبارہ پانی میں چھوڑ دیتی۔

حضرت ذو النون مصری کو جب اطمینان ہو گیا کہ آج کی خوراک بھر مچھلیاں پکڑ لی گئی ہیں تو آپ نے جال سمیٹ لیا؛ لیکن جوں ہی مچھلی کا تھیلا دیکھا تو حیران رہ گئے۔ وہ تھیلا مچھلیوں سے بالکل خالی تھا۔ اپنی بچی سے پوچھا کہ ہم نے جو مچھلیاں پکڑی ہیں وہ کہاں ہیں؟
ہشیار بچی نے بڑا عارفانہ جواب دیا کہ :
ابا حضوآر ! آپ کا سبق تھا کہ کسی کو اللہ کے ذکر سے روکنا نہیں چاہیے۔
آپ نے مجھے جتنی مچھلیاں دیں، وہ سب کے سب اللہ کے ذکر میں مشغول تھیں۔ میں نے انھیں ذکر اللہ سے غافل کرنا مناسب نہیں سمجھا اور باری باری دریا میں واپس کر دیا۔ حضرت ذو النون مصری نے پوچھا، کہ اب ہم کیا کھائیں گے ؟
آپ کی سمجھدار لڑکی نے جواب دیا؛
”نتوکل علی اللہ تعالی“
(ہم اللہ تعالی پر بھروسہ کریں گے )
یہ جواب سن کر آپ بہت خوش ہوئے اور مچھلیاں پکڑے بغیر ہی لوٹ آئے۔
گھر آ کر دونوں عبادتِ الٰہی میں مشغول ہو گئے۔ نماز عشاء کے بعد اللہ کی رحمت سے آسمان سے لذیذ کھانوں سے بھرا ہوا ایک وسیع دسترخوان نازل ہوا۔ دونوں نے شکم سیر ہوکر کھائی اور اللہ شکر ادا کیا۔ یہ غیبی دسترخوان اگلے 12 سالوں تک ہر رات نازل ہوتا رہا۔
ایک بار حضرت ذوالنون مصری کے دل میں خیال آیا کہ شاید اللہ کا یہ انعام ان کے عبادت و ریاضت کی وجہ سے ہے۔ کچھ دنوں بعد آپ کی اس لڑکی کا انتقال ہو گیا۔ اس نیک لڑکی کے وفات پاتے ہی دستر خوان نازل ہونا بند ہو گیا، تب حضرت ذو النون مصری کو علم ہوا کہ یہ دسترخوان ان کی بیٹی کے ”اللہ پر کامل بھروسہ“ کی وجہ سے نازل ہوتا تھا۔ (القلیوبی: حکایت 18)

______توکل اور قرآن:
قارئین ! اللہ تعالی نے ”اللہ پر بھروسہ“ یا ”توکل علی اللہ“ کو ایمان کی خوبی بتاکر قرآن مجید میں یوں ارشاد فرمایا ہے؛ ”عَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ“ ( المائدہ: 23)
(اور اللہ ہی پر بھروسا کرو اگر تم ایمان والے ہو)۔
دوسری جگہ اس کے فائدے کا یوں ذکر فرمایا ؛
”وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ“ (سورۃ الطلاق: 3)
(اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اس کو کافی ہے )
نیز رحیم و کریم رب نے یہ بھی فرمایا کہ ؛
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (سورۃ آلِ عمران: 159)
( بے شک اللہ ، بھروسہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے)

______پیاری حدیث:
اس موقع پر نبی کریم ﷺ کا یہ سبق آموز اور پیاری سی حدیث پاک پڑھیے اور درس عبرت حاصل کیجیے!

حضور پیارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا؛
”لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ، لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا“۔ (سنن الترمذی: 2344)
ترجمہ : اگر تم اللہ پر ایسا بھروسہ کرو جیسا اس پر بھروسہ کرنے کا حق ہے ، تو وہ تمھیں اس طرح رزق پہنچائے گا ، جیسے پرندوں کو پہنچاتا ہے۔ پرندے صبح گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام میں پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔

____توکل یا بھروسہ کیا ہے ؟
اللہ پر بھروسہ یہ ہے کہ بندہ تمام اسباب اختیار کرنے کے بعد اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے، نتیجہ اسی کے ہاتھ میں سمجھے اور اسی پر اعتماد رکھے۔ اسباب ختم کرکے ہاتھ باندھ کر بیٹھ جانے کا نام توکل نہیں۔ جیسے ایک کسان کھیت میں ہل چلاتا ہے ، بیچ ڈالتا ہے، کھاد وغیرہ ڈالتا ہے اور بیج سے پودا نکلنے اور اس کے پھلنے کو اللہ پر چھوڑ دیتا یے۔

جیسا کہ ترمذی کی اس حدیث میں بتایا گیا ہے۔
ایک صحابی مسجد نبوی حاضر ہوئے اور اس نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی ، حضور ﷺ ! میں اپنی اونٹنی یوں ہی اللہ کے بھروسے چھوڑ دوں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ“
(پہلے اسے باندھو پھر اللہ پر بھروسا کرو)

اخیر میں بخاری شریف کی قدرے طویل حدیث پاک نقل کرکے تحریر مکمل کرتا ہوں۔

حضرت عبد اللہ ابن عباس (رضی اللہ عنھما) سے روایت ہے، حضور رحمت دو عالم ﷺ نے فرمایا :
میرے سامنے تمام اُمتیں پیش کی گئیں۔ میں نے دیکھا کہ کسی نبی کے ساتھ تھوڑے لوگ ہیں، کسی کے ساتھ کچھ زیادہ ہیں ، کسی نبی کے ساتھ ایک یا دو آدمی ہیں اور کسی کے ساتھ تو کوئی بھی نہیں۔ مجھ سے کہا گیا کہ افق کی طرف نظر کرو۔ میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑا مجمع تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی اُمت ہے۔
”اور ان کے ساتھ ستر ہزار ایسے لوگ ہیں ، جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے“۔
سبحان اللہ،
نہ محشر کی گرمی، نہ پل صراط کی لرزش، نہ میزان کا خوف، نہ سوال و جواب!

یہ فرما کر نبی کریم ﷺ اندر تشریف لے گئے۔
صحابہ کرام میں آپس میں گفتگو ہونے لگی کہ یہ خوش نصیب لوگ کون ہوں گے؟
کچھ دیر بعد رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا:
یہ خوش نصیب لوگ وہ ہیں جو نہ جادوگروں کے پاس جاتے ہیں ، نہ بدشگونی لیتے ہیں،
وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
اور اپنے رب ہی پر پورا بھروسہ کرتے ہیں۔

یہ سن کر حضرت عُکّاشہ بن مِحصن (رضی اللہ عنہ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا:
”ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ“
یا رسول اللہ ﷺ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان میں شامل فرما دے!
آپ ﷺ نے فرمایا: ”انت منھم“ تم ان میں سے ہو۔
پھر ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور یہی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
عُکّاشہ تم سے سبقت لے گئے۔ (صحیح بخاری 5705)

تحریر :
دار العلوم رضائے مصطفٰیﷺ، اورنگ آباد۔
9860664476/[email protected]

20/07/2024
12/03/2024



رمضان کا مقدس مہینہ آ گیا، آئیے ، اصلاحی مضامین پڑھ کر اپنی اصلاح کی جانب کوشش کریں!

جن مہلک برائیوں نے ہمارے معاشرے کو بری طرح سے جکڑ رکھا ہے، ان میں *بغض و حسد* کا اہم کردار ہے۔

حسد ایک طرح کی بیماری ہے، جسے انسان اپنے اختیار سے خود میں پیدا کرلیتا ہے ، پھر عمر بھر اس کے جراثیم سے خود کو الگ نہیں کر پاتا ۔ سکون غارت ہو جانا ، احساس کم تری کا شکار ہوجانا ، خطرناک اور انتہائی اقدام اٹھالینا ، دوسروں کو نیچا دکھانے کے لئے حلال و حرام کی پرواہ نہ کرنا ، ہر وقت غمگینی، نا شکری اور آپسی دشمنی و تنازعات جیسی قباحیتیں اس بیماری کے مضر اثرات یا سائڈ افیکٹس ہیں۔

آئیے ! پہلے ایک انتہائی خوب صورت اور سبق آموز حدیث پڑھتے ہیں۔
”صحابی رسول ﷺ حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے۔ ہم پیارے آقا حضور رحمت عالم ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ اچانک نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ابھی تھوڑی دیر میں یہاں ایک جنتی شخص آئے گا۔ اچانک انصار کا ایک بندہ آتا نظر آیا ، جس کی داڑھی مبارک سے وضو کے پانی کے قطرات ابھی ٹپک رہے تھے ۔

جب دوسرا دن ہوا، حضور ﷺ نے پھر ارشاد فرمایا ، ایک جنتی آدمی آ رہا ہے۔ ہم نے غور کیا تو یہ وہی شخص ہے جسے کل جنتی ہونے کی بشارت ملی تھی، تیسرے دن بھی یہی واقعہ پیش آیا۔
تیسرے دن جب رسول اللہ ﷺ کے وہ نیک صحابی جانے لگے تو حضرت عبد اللہ ابن عمرو ابن عاص ان کے پیچھے ہو لیے۔ وہ نیک بندہ اپنے گھر کے اندر جانے لگا تو حضرت عبد اللہ نے ہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگے جناب ! میرے والد سے میری کچھ بات ہو گئی ہے ، جس کی وجہ سے میں نے تین دنوں تک گھر نہ جانے کی قسم لے لی ہے۔ کیا میں تین دن آپ کا مہمان ہو سکتا ہوں ! اللہ کے اس نیک بندے نے اجازت دے دی اور حضرت عبد اللہ ابن عمرو کو اپنا مہمان بنا لیا۔ آپ نے تین دنوں تک اس بندے کے شب و روز پر نظر رکھی، آپ کو ایسا کوئی بھی خاص عمل نظر نہیں آیا ، جس کی وجہ سے وہ اوروں سے ممتاز ہو۔

جب تین دن کی مدت پوری ہوئی تو حضرت عبد اللہ بن عمرو نے فرمایا ؛ میرا اپنے والد سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا، در اصل لگاتار تین دنوں تک بارگاہ رسالت ﷺ سے آپ کے بارے میں جنتی ہونے کی بشارت سنائی گئی۔ ہمیں رشک ہوا کہ دیکھوں تو آخر یہ بندہ کیسے کیسے اعمال کرتا ہے ! لیکن ہم نے دیکھا کہ نہ تو آپ راتیں نمازوں میں گزارتے ہیں نہ ہی دن بھر روزے رہتے ہیں۔پھر آخر وہ کون سا عمل ہے، جس بنا پر حضور مختار کائنات ﷺ کی بارگاہ سے آپ کو دنیا ہی میں جنت کی بشارت مل گئی۔ وہ صحابی رسول ﷺ کہنے لگے، میرا عمل تو وہی ہے جو آپ نے دیکھا ،
” غَیْرَ اَنِّیْ لَا اَجِدُ فِیْ نَفْسِیْ لِاَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ غِشًّا وَلَا اَحْسُدُ عَلٰی خَیْرٍ اَعْطَاہُ اللّٰہُ اِیَّاہُ “
*سواے اس کے کہ میرے دل میں کسی مسلمان کے لئے دھوکا نہیں ہے۔ اور میں کسی کی نعمت پر حسد نہیں کرتا۔
یہ سن کر حضرت عبد اللہ ابن عمرو نے فرمایا ؛ یہی وہ چیز ہے ، جس نے تجھے یہ فضیلت عطا کی ہے۔
(مسند احمد: 12727)

نیز ایک اور حدیث پاک حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نور مجسم شاہِ بنی آدم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
حسد سے دور رہو ، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑیوں کو۔ (ابو داؤد : 4903)

قرآن و احادیث میں حسد اور بغض کی شدید مذمت آئی ہے ۔
دنیا کی بڑی بڑی خرافات حسد کی وجہ سے رونما ہوئی ہیں؛ یہاں تک کہ زمین پر پہلا گناہ کبیرہ حسد کی وجہ سے پیش آیا ، دنیا کا پہلا قتل قابیل نے ہابیل کو حسد کی وجہ سے کیا ، ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا اور قیامت تک ملعون اور جہنمی ہوا ، اس کی وجہ بھی حسد ہے۔ یہ حسد گھر کا گھر اجاڑ دیتا ہے ، بسی بسائی گرہستی تہس نہس کر دیتا ہے ۔ ایک دوسرے سے حسد کرکے اپنی نیکیاں برباد کرنے سے بچیں ! اللہ رب العزت نے جتنا عطا کیا ہے، اس کا انصاف ہے ، اسی پر راضی رہیں ، اسی میں خیر ہے ۔

ا
[email protected]/9860664476
دار العلوم رضاے مصطفٰی اورنگ آباد ، مہاراشٹر

  !مدرسوں میں چھٹیاں لگ گئیں ، اکثر طلبہ گھر پہنچ گئے ، باقی بچے کھچے بھی بہت جلد مدرسے خالی کردیں گے۔ اکثر طلبہ کے ساتھ...
23/02/2024

!

مدرسوں میں چھٹیاں لگ گئیں ، اکثر طلبہ گھر پہنچ گئے ، باقی بچے کھچے بھی بہت جلد مدرسے خالی کردیں گے۔ اکثر طلبہ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ ارادے بہت کچھ کرنے کے بنتے ہیں، پر ٹال مٹول اور آج کل کے چکر میں مدرسے واپسی کے دن آ جاتے ہیں۔ اور سارے ارادے دھرے رہ جاتے ہیں۔

یہاں چند باتوں کی طرف عام فہم انداز میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ان پر عمل کرکے طلبہ اپنی تعطیلات کو کار آمد ، مستقبل کے لئے پیش خیمہ اور بیش قیمت بنا سکتے ہیں۔

: اکیسویں صدی میں موبائل فون علم کا سب سے بڑا دشمن بن کر ابھرا ہے۔
نصاب سے خارج دینی کتابوں کا مطالعہ طالب علم کی معلومات کو نکھارتا ہے۔ درسی کتابیں ہمیں فنون کی مبادیات سکھاتے ہیں ، ان فنون کو مطالعہ کے ذریعہ پروان چڑھانا اور ان میں مہارت پیدا کرنا، یہ ہر طالب علم کی اپنے ذمے داری ہے۔ یاد رکھیں ! کسی فن کی بنیادی معلومات حاصل کر چکنے کے بعد اس کو مطالعہ کے ذریعہ پختہ نہ کرنا میری نظر میں ایسا ہے، جیسے کوئی شخص دریا کی سیر کرے اور پیاسا لوٹ آئے۔
پیارے نبی ﷺ کی پیاری پیاری سیرت پڑھییں، صحابہ کرام و صحابیات، مجاہدین و بزرگان اسلام کی سنہری حیات پڑھیے ، احادیث کی کتابیں پڑھیں ، تاریخ پر مشتمل جتنی کتابیں ملے ، غنیمت سمجھ کر پڑھ لیجیے، عقائد و معمولات اہل سنت پر لکھی گئیں مستند علما کی تصنیفات و تالیفات جتنا میسر ہو ، ضرور پڑھیں !

: آج بھی اور اگلے سو سالوں تک تحریر کی خوبی و اہمیت مسلم رہنے والی ہے۔ دنیا ایک بار پھر کتابوں اور قلموں کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ترقی یافتہ دنیا آج بھی #لکھنے پر یقین رکھتی ہے۔

ایک متعلم یا معلم کی خوش نویسی اس کی پوری شخصیت کو نکھار دیتی ہے۔ خوشی خطی واحد فن ہے جو سب سے تیزی سے سامنے والوں کو متاثر کرتی نظر آتی ہے۔ روزانہ دو صفحے اردو اور ایک صفحہ انگلش ضرور لکھا کیجیے! اس میں کسی بھی طرح کا سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے!

ِسکِلس : چھٹیوں میں خارجی ہنر میں ٹائپنگ کی رفتار بڑھانا ایک اہم اور مفید کام ہو سکتا ہے۔ آپ کے گھر میں کمپیوٹر ہو تو اچھی بات ہے، نہ ہو تو کسی قریبی سے یا کسی سینٹر میں جاکر ٹائپنگ کی اسپیڈ بڑھانے کا مشق کریں۔ اردو اور انگلش دونوں زبانوں کا مشق کریں ! ان شاء اللہ ساری عمر اس کا فائدہ ہوگا۔

: عزیز طلبہ ! آپ کو پتہ نہیں، زبان و ادب میں اشعار اور کہاوتوں کا کتنا دخل ہے۔ تحریر ہو یا تقریر؛ یا پھر عام بات چیت ہو ، درمیان میں برمحل اشعار اور کہاوتوں کا استعمال ایک سادے سے جملے کو فصاحت کے ثریا تک پہنچا دیتا ہے۔
اشعار میں سب سے پہلے کلام الامام (حدائق بخشش) کے مشہور و معروف کلام از بر کر لیں ، یہ آپ کے لئے بے حد مفید ہوگا۔ ساتھ میں دوسرے سنی اکابر کے کلام بھی دیکھا کریں !

اردو زبان و ادب کے مشہور و معروف شعرا مثلا میر ، غالب ، اقبال ، داغ دہلوی ، ولی دکنی ، مومن ، انشاء ، ابراہیم ذوق ، نظیر اکبر آبادی ، اکبر الہ آبادی ، حیدر علی آتش وغیرہ کے مشہور اشعار یاد کرلیں ! ان شعرا کے کسی شعر پر شرعی قباحت نظر آئے تو اپنے اساتذہ یا دوسرے اہل علم سے رجوع کریں!

:
وہ مسلَّم جملہ یا شعر کا ٹکڑا جسے متکلم اپنی بات کو مضبوط کرنے کے لئے پیش کرتا ہے ، اسے ضرب المثل یا کہاوت کہتے ہیں۔ کہاوت کسی صورت تبدیل نہیں ہو سکتی ؛ نہ ساخت میں نہ زمان و مکان میں ؛
مثلا یہ نہیں ہو سکتا کہ ”نو سو چوہے کھاکے بلی حج کو چلی“ کو زیادتی بتانے کے لئے گیارہ سو چو ہے کر دیے یا ”گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا“ کو ”آئے گا” کر دیے یا ”گھودا پہاڑ نکلا چوہا” کو نکلا کیڑا کر دیے۔ محاورے اور کہاوت میں یہی فرق ہے۔ محاورہ فعل کے ساتھ ماضی حال اور مستقبل میں تبدیل ہوتےہیں۔ جیسے پیروں تلے زمین کھسک گئی، سر چکرا جاتا ہے ، انسانی سروں کا سیلاب امنڈ آئے گا وغیرہ۔

چند معروف ضرب الامثال پیش ہیں : آم کے آم گٹھلیوں کے دام ، آگے کنواں پیچھے کھائی ، اندھے کے آگے رو اپنی دیدہ کھو ، ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا ، آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ، جان نہ پہچان میں تیرا مہمان ، کریلا اور نیم چڑھا ، حمام میں سب ننگے ، ہنوز دلی دور است ، آب آمد تیمم برخواست ، دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں ، جیسی کرنی ویسی بھرنی ، اب پچھتاے کیا ہوت جب چڑیا چک گئی کھیت ، دھوبی کا گدھا گھر کا نہ گھاٹ کا ، بندر کیا جانے ادرک کا سواد ، آج کا کام کل پر نہ ٹال وغیرہ وغیرہ۔
(جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Continue)

📝
9860664476/[email protected]

  (جلد اول)قارئیں ! اس وقت میرے ہاتھوں میں 600 سے زائد صفحات پر مشتمل ”فتاوی ازہری دار الافتاء“ کی پہلی جلد موجود ہے۔ طب...
21/12/2023

(جلد اول)

قارئیں ! اس وقت میرے ہاتھوں میں 600 سے زائد صفحات پر مشتمل ”فتاوی ازہری دار الافتاء“ کی پہلی جلد موجود ہے۔ طباعت عمدہ اور دیدہ زیب ہے ، کتابت کی غلطی نا کے برابر ہے۔

میں نے پہلے ہی دن ارادہ کر لیا تھا کہ فقہ حنفی کے اس کار آمد اضافے پر ذاتی تاثر ضرور پیش کیا جائے لیکن ، ”ہرکارے را وقتے“۔ تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ میں نے مطالعہ کیے بغیر کچھ لکھنا مناسب نہیں سمجھا ۔

کسی بھی تصنیف یا تالیف کی اصل خوبی اس کے مشمولات ہوتی ہے، اس معنی میں ”فتاوی ازہری دار الافتاء“ یقینی طور پر فقہ حنفی کے ذخیرے میں ایک مفید اضافہ ہے۔
فہرست پر غور کریں تو اکثر سوالوں کا تعلق جدید اور کارآمد مسائل سے ہے۔ کچھ استفتے نہایت دل چسپ اور مفید ہیں۔ مثلا ؛
“اشعری و ماتریدی کا کیا مطلب ہے؟“ ، ”مہاتما کا معنی کیا ہے؟“ ، ”کسی مسلمان کی جے بولنا کیسا ہے؟“ ، ”کیا فاسق اور غیر عالم پیر ہو سکتا ہے؟“ ، “تیز رفتار حافظ کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟“ ، ”تعمیر مدرسہ کے لئے زکاة کا پیسہ لگا سکتے ہیں یا نہیں؟“ ، “بیوی کو آنٹی ، ماں اور بیٹا کہ کر مخاطب کرنا کیسا ؟“ ، ” PPF میں انویسٹ کرنا کیسا“ ، ”کھیتی کی زمین رہن لینا جائز ہے یا نہیں“ ، ”نیلامی میں گاڑی خریدنا کیسا؟”، ” بِی سی کا شرعی حکم کیا ہے ؟ “ وغیرہ وغیرہ ۔

اکثر سوالوں کے جواب عام فہم انداز میں اور مدلل دیے گئے ہیں ، جہاں ضرورت پڑی ہے ، تفصیلات سے بھی گریز نہیں کیا گیا ہے ۔ میں نے جتنا مطالعہ کیا ، سارے مسائل اصول فقہ و افتاء پر کھرے اترتے ہیں۔ یہ سارے فتاوی ازہری دار الافتاء ناسک سے لکھے گئے ہیں۔

صاحب فتاوی حضرت علامہ مفتی مشتاق احمد امجدی صاحب قبلہ ہیں ، جو ”ازہری دار الافتاء ناسک“ کے صدر مفتی ہیں ۔ آپ محدث کبیر حضرت علامہ مفتی ضیاء المصطفی اعظمی صاحب (حفظہ اللہ تعالی) کے خلیفہ اور خاص شاگردوں میں آتے ہیں۔ حضرت ہی سے متاثر ہو کر مجموعہ فتاوی کا پورا نام ”الفیوضات الضیائیة فی الفتاوی الامجدیة“ رکھا ہے۔ حضرت مفتی مشتاق امجدی صاحب ناسک میں مقبول شخصیت کے مالک ہیں۔

اس مجموعہ فتاوی کے شروع میں ، قاضی شہر کان پور حضرت مفتی ڈاکٹر یونس رضا مونسؔ اویسی صاحب قبلہ کا 15 صفحات پر مشتمل گراں قدر ، مفید اور جامع مقدمہ کتاب کی خوبیوں کو دوبالا کرتا یے ۔ حضرت مفتی صاحب نے اپنے مختصر مقدمہ میں مجموعہ کا جائزہ بھی لیا ہے۔ تقریظات و تاثرات کے لئے کئی صفحات لیے گئے ہیں، یوں اصل کتاب صفحہ 86 سے شروع ہوتی ہے ۔ یہ قارئین کو کھل سکتا ہے ، لیکن مجھے اس سے دقت نہیں ہوئی ، کیوں کہ مجھے یہ مجموعہ تحفے میں عنایت ہوا ہے۔

یہ شاندار مجموعہ امام احمد رضا لرننگ اینڈ ریسرچ سینٹر کے ”مکتبة الرضا“ نے شائع کیا ہے ، جب کہ جماعت رضاے مصطفی ، شاخ ناسک تقسیم کار ہے۔

#نوٹ :
تبصرہ لکھے جانے تک پہلی اشاعت ختم ہو چکی ہے۔ ادارہ کی جانب سے ملی اطلاع کے مطابق دوسری اشاعت زیر غور ہے۔ دوبارہ شائع ہونے پر مطلع کیا جائے گا۔

تبصرہ نگار :
دار العلوم رضاے مصطفی، اورنگ آباد ، مہاراشٹر
9860664476 / [email protected]

26/10/2023

چلیے ، میں آپ کو ایک لطیفہ سناتا ہوں !

ایک لڑکا دوکان سے پانچ روپے کا فیوی کویک خرید لاتا ہے۔ اس fevikwik سے اپنا پانچ روپے کا پھٹا ہوا نوٹ جوڑتا ہے ، پھر اسے دوکان دار کو دے کر پانچ والا چپس خرید لیتا ہے۔

ہنسیے مت ! کیوں کہ لطیفہ یہ نہیں ہے۔ لطیفہ تو نیچے آ رہا ہے۔

مسلمانوں نے مدرسہ اور مسجد کے نام پر پانچ لاکھ کا چندہ کیا ، پھر ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا ، جس میں پانچ لاکھ روپے خرچ کر دیے ۔

اب ہنسیے ! اس قوم کی دانش مندی پر۔

از :
9860664476

10/10/2023

.....؟

( مضمون اگرچہ پرانا ہے، معنویت آج بھی وہی ہے۔ مکمل پڑھیے! آپ کو رلا کر رکھ دے گا )

پچھلے کئی دنوں سے کچھ لکھنے کی کئی بار کوشش کیا ؛ غزہ ( فلسطین) کی سلگتی چھتیں نظروں کے سامنے آ جاتی ہیں، بموں اور گولیوں کی چنخار بار بار کانوں میں ٹکڑا جاتی ہیں، باپ کے جنازے کو کندھا دیتے 6 سال کے بچے آ جا تے ہیں، خون میں لت پت فلسطین کی چھوٹی بچیاں دامن پکڑ کر لپٹ جاتی ہیں، سنہرے بالوں والی عہد تمیمی سامنے آکر کھڑی ہوجاتی ہے۔

دھیرے دھیرے ان بچوں اور خواتین کی ایک بھیڑ اکٹھی ہوگئی تو میں نے لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
ان بے سہارے اور بھوکے پیاسوں پر لکھا ہی کیا جا سکتا ہے!

چند گھنٹے بعد دوبارہ تازہ دم ہوکر بیٹھا کہ کچھ تو لکھنا ہی چاہیے۔ پھر وہی انسانی خون سے سرخ شدہ زمین ، وہی شعلے، وہی آسمان سے باتیں کرتے دھووں کے غبارے، وہی خوف و سراسیمگی، وہی ایک ہاتھ میں قومی جھنڈا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے سر سے خون کا فوارہ روکتے بچے ، وہی لاشیں، وہی ملبے، وہی بھوک، وہی چیخ و پکار۔

میں یہ سب دیکھ دیکھ کر ٹائرڈ (tired) ہو رہا تھا۔ فورا ان سے دامن چھڑا کر بھاگ نکلا۔

لکھنے کی عادت پڑی تھی ، آخر اردو کا لکھاری ہوں۔ ایک بار اور کوشش کرنے بیٹھ گیا۔ شاید کوئی عنوان سطح ذہن پر اچانک تیر آئے۔ لیکن پھر وہی………

”ارے ! تم لوگ پھرسے آگئے؟
کہا نا ! تم پر کچھ لکھا نہیں جا سکتا۔ نہ اونچی تعلیم ہے، نہ اسٹیٹس ہے، یوٹیوبر ہو نہ ٹکٹاکر ، نہ ہی کسی امیر کبیر یا کسی سیلیبریٹی کے بیٹے بیٹی ہو! الجھے بال، مظلوم آبا کی مظلوم اولاد۔ کبھی ہاتھ میں پتھر لے لئے ؛ کبھی بھائی یا باپ کے جنازے کو کندھا دے کر رو لیے، یا کبھی گری ہوئی عمارتوں کے ملبے میں بیٹھ کر اپنی مذہبی کتاب کی تلاوت کر لیے ! “

اب تم ہی بتاؤ! اس پر کوئی کتاب مرتب گی، کوئی کہانی بنے گی، کوئی شاہ کار افسانہ تالیف ہو سکے گا؟ کوئی دل چسپ مضمون تحریر ہو سکے گا! زیادہ سے زیادہ تعزیت کے چند جملے لکھے جا سکتے ہیں یا زیادہ اموشنل (emotional) دکھانے کے لئے آنسو والے چند اموجیز (emojies) بھیجے جا سکتے ہیں۔

تحریر کے لئے چاہیے کوئی سلگتا عنوان، کوئی اختلافی موضوع، یا کوئی سنسنی خیز خبر جیسے سیلیبریٹی کا قتل، سیاسی الٹ پھیر یا کوئی حادثہ ۔

یا پھر تحریر کے لئے حسن و عشق چاہیے۔ ہائی پروفائلڈ محبوبہ کی رنگین زلفوں کا اسیر مجنوں، محبت میں ناکام عاشق کی دیوانگی یا یک طرفہ محبت کا دردناک انجام۔

چلو جاؤ یہاں سے ! زمانے کے ستائے غریب اور بھوکے بچے! تمہاری طرف امن کے رکھوالے توجہ نہیں دیتے، اقوام متحدہ تم پر ترس نہیں کھاتی، صنعت کار ، عالمی لیڈران اور مشہور شخصیات تمہارے ساتھ کھڑے نہیں ہیں ، اور تو اورخود تمہارے نام پر کھانے والوں کو تمہاری فکر نہیں ہے، تو پھر میں کیوں لکھوں تمہارے بارے میں؟

مجھے کوئی دوسرا عنوان سوچنے دو!

اطمینان سے بیڈ پر دراز ہوکر چاند کے مسئلے پر تبصرہ کرنے پر مصروف ہوگیا۔ کمینٹ در کمینٹ کا سلسلہ اتنا دراز ہوا کہ کب رات کے تین بج گئے ، پتا ہی نہیں چلا، بات انا کی آگئی تھی، اپنی توانائی بھر، اینٹ کا جواب پتھر سے دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ بہت تھک گیا تھا۔ اب بس آنکھ لگنے ہی والی تھی کہ وہ چھوٹی بچیاں سامنے آکر پھر سےکھڑی ہو گئیں۔

”چاچا ہم پر لکھو نا! ہماری گلیاں کیوں بھول گئے! ہمارے اندر تحریر میں پائی جانے والی ساری توانیاں موجود ہیں۔ جب ہاسپیٹل کا کچڑا اٹھانے والے ”کالو بھنگی“ پر شاہ کار افسانہ لکھا جا سکتا ہے، تو آج ستر سالوں سے ہمارا پورا ملک ظلم و درندگی کی چکی میں پس رہا ہے“۔

میں ان کی آہ و بکا سے تنگ آگیا تو لکھنے کا ارادہ بالکل ملتوی کردیا۔ اچانک تباہ شدہ ملبے کی ڈھیر سے ایک بچی کی آواز کانوں سے ٹکڑائی ، وہ کہ رہی تھی :

چاچا جان! ہم پر لکھ سکو تو لکھو ورنہ یہ ہماری چوڑیاں رکھ لو! تمہارے ہاتھوں میں قلم نہیں، چوڑیاں اچھی لگیں گی!

اب میں فیصلہ نہیں کر پا رہا ہوں کہ مجھے چوڑیاں اور قلم میں سے کیا منتخب کرنا ہے؟

از: انصار_احمد_مصباحی،
[email protected] +919860664476

13/06/2023

پر شبلی نعمانی کی یلغار
(عرس آزاد پر خاص پیش کش)

میر سید غلام علی آزاد بلگرامی واسطی علیہ الرحمہ (۲۴ ذی القعدہ ۱۲۰۰ھ) کو امیر خسرو کے بعد بھارت کے سب سے بڑے شاعر ہونے کا شرف حاصل ہے۔ تاریخ کے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ یہاں میر آزاد بلگرامی ہوئے ہیں۔ آزادؔ بلگرامی عربی، فارسی اور ہندوی زبان کے ماہر شاعر و ادیب، ایک خانقاہی صوفی، ایک مؤرخ، سیاح اور سچے عاشق رسول ﷺ تھے۔ ملا نظام الدین، قاضی محب اللہ بہاری، سید عبد الجلیل بلگرامی(علیھم الرحمہ)، شیخ علی حزیں، داغستانی، خان آرزو جیسے معاصر فضلا اور نکتہ سنجوں نے ان کے تبحر علمی اور شاعرانہ کمال کا لوہا مانا ہے۔ صاحب حدائق الحنفیہ اور نزہۃ الخواطر نے تفصیل سے آپ کا ذکر خیر کیا ہے۔ عشق رسول ﷺ آپ کے رگ رگ خون بن کے گردش کرتا تھا۔ اسی والہانہ لو نے ”حسان الہند“ کے خطاب سے سرفراز کیا۔ ؎
ہر گز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما

خود لکھتے ہیں:
چوں مدح رسول ﷺ کام من شد
حسان الہند نام من شد

*سیاحت بھی کی، سفر حج کیا، طائف وغیرہ مقامات مقدسہ کی زیارت کی، بلگرام سے دہلی، سندھ، الہ آباد، مالوہ، سورت وغیرہ کا سفر کیا. اورنگ آباد آئے تو پھر یہیں کے ہوکے رہ گئے۔*

کئی زبانیں سیکھی۔ حب الوطنی کا ایسا جذبہ تھا کہ ہندوی زبان (آج کی اردو) کا ایک لفظ ”آزاد“ تخلص کیے اور مدت العمر اس پر نازاں رہے۔ لقب سن کر آپ کے استاد حدیث حضرت علامہ طنطاوی نے فرمایا:
*”انت من عتقاء الله“۔* (تم اللہ کے آزاد کردہ میں سے) خانقاہ بلگرام کو نئی شناخت دینے نیز مدینۃ الاولیا خلد آباد کے کئی صاحب کمال بزرگوں کے مزارات کی دریافت کرنے والے آپ خود تاعمر گمنامی کی چادر میں لپٹے رہے اور خلد آباد، آبادی سے دور خلیفہ محبوب الٰہی میر حسن علاء سجزی علیہ الرحمہ (مزار شریف شکر چاٹنے کی درگاہ سے مشہور ہے) کےپہلو میں اپنی آخری آرام گاہ بنایا۔
(شریعت کی مکمل پاس داری میں آج عرس کی تقریبات جاری ہیں)

:
(۱) سبحۃ المرجان فی آثار ہندوستان
(۲) مآثر الکرام تاریخ بلگرام
(۳) خزانئہ عامرہ
(۴) سبعہ سیارہ
(۵) سرو آزاد
(۶) روضۃ الاولیاء
(۷) سند السعادات فی حسن خاتمۃ سادات
(۸) ید بیضا
(۹) شرح بخاری (نامکمل) وغیرہ مشہور ہیں.

:

شبلی نعمانی (1914-1857ء) کو جدید اردو تنقید کا بانی کہا جاتا ہے اور انہیں اردو ادب کا ایک ستون سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایک کامیاب مؤرخ بھی تھا۔ سیرۃ النبی ﷺ ، شعر العجم، الفاروق، المامون، سیرت النعمان، الغزالی وغیرہ مشہور کتابیں تصنیف کی۔
افسوس کہ وہ میر غلام علی آزاد بلگرامی کے تعلق سے اپنی تنقیدی بصیرت کا صحیح استعمال نہ کر سکے او بے جا نیز بے سرو پا باتیں تک کہ دیں۔

(۱) شبلی نعمانی صاحب لکھتے ہیں، ”اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ وہ (آزاد) عربی زبان کے بہت بڑے ادیب ہیں... لیکن کلام میں اس قدر عجمیت ہے کہ اس کو عربی کہنا مشکل ہے“ (مقالات شبلی ج ۵)
قارئین! اسے تنقیدی تشدد نہیں تو اور کیا کہا جائے کہ موصوف اپنے اسی مضمون میں (میر صاحب پر موصوف کا مضمون الندوہ میں اپریل 1905 میں شائع ہوا۔ مقالات کی پانچویں جلد میں موجود ہے) دوسری جگہ یہ شکایت کرتےنظر آتے ہیں کہ مسلمان دوسری زبانوں کے اثر کو بالکل قبول نہیں کرتے۔

(۲) شبلی صاحب کا یہ کہنا بھی بے جا ہے کہ ”آزاد کا عربی کلام اگرچہ بکثرت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے چہرہ کمال کا داغ ہے“
(ایضا)
اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت آزاد سے عربی اور فارسی کلام کو جدا کر دیا جائے تو اہل علم کے نزدیک آزاد میں وجہ کمال کچھ بھی نہیں بچتی۔

(۳) ایک جگہ تو یہ کہ کر حد ہی کردی کہ ”سیکڑوں ہزار (فارسی) اشعار ہیں، ایک شعر بھی ایسا نہیں نکلتا جو اہل زبان کا کلام سمجھا جائے“ (ایضا)
شبلی صاحب ”شعر العجم“ کی پانچوں جلد میں کہیں بھی آزاد بلگرامی کو جگہ دینے سے معذور رہے یہ ان کے اصول و نظریات تھے، لیکن ہر منصف مزاج کو یہ کہنے کا حق ہے کہ علامہ آزاد بلگرامی کی فارسی دانی پر اس طرح کا نشتر چلانا بالکل غیر منصفانہ عمل تھا۔

(۴) ایک اور جگہ خزانہ عامرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں، *”افسوس اور صد افسوس کہ جو چیز تذکرہ کی جان ہے وہی نہیں“* (ایضا)۔ مراد انتخاب کلام ہے۔ اس مقام پر میں شبلی صاحب کی روح سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا تذکرہ اور انتخاب دونوں ایک ہی چیز ہیں!

:
عرب کے مشہور شاعر متنبی اور معری کے تعلق سے مشہور مؤرخ اسلام ابن خلدون نےلکھا تھا،
*”ليس هو من الشعر شيئ لانهما لا تجريا علي اساليب العرب“*
ان کے اشعار عرب کے اسلوب پر جاری نہیں ہوتے اس لئے ان کے اشعار صحیح معنی میں اشعار ہیں ہی نہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ کسی نے بھی ابن خلدون کے اس اقتباس کو بطور سند پیش نہیں کی۔

شبلی نعمانی نے اگر آزاد بلگرامی پر ایسے رقیق حملے کئے تو وہ اپنی عادت سے مجبور تھے، ان کی تنقید میں جرح کا پہلو نمایاں تھا بلکہ ان کا جارحانہ تیور کبھی کبھی تشدد تک پہنچ جاتا تھا. اسی جارحانہ پن کی وجہ سے اپنے بیگانے کہیں جم نہ سکے اور ”دھوبی کا گدھا گھرکا نہ گھاٹ کا“ جیسی کیفیت سے دوچار ہوئے۔ ستم تو یہ ہے کہ ان کے دم بھرنے والوں نے انصاف سے کام نہیں لیا اور ”لکیر کے فقیر“ کی طرح آنکھ بند کرکے وہ سارے ریمارکس نقل کرلیے۔ اور یہ روایت آج تک قائم ہے۔


دار العلوم رضاے مصطفی، اورنگ آباد
[email protected]
9860664476

Address

Aurangabad

Telephone

+919860664476

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ansar Ahmad Misbahi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Ansar Ahmad Misbahi:

Share