Ansar Ahmad Misbahi

Ansar Ahmad Misbahi مذہبی ،ملی، ادبی مضامین یا مراسلے، اسلام کی عالمی، ملک?

18/02/2026

………

رمضان کے مقدس مہینے میں جہاں اللہ تعالی کی خاص رحمتیں نازل ہوتی ہیں، وہیں مسلمانوں کے کار و بار بھی کئی گنا بڑھ جاتے ہیں ، بازاروں میں عوامی بھیڑ اور رونق میں اضافہ ہو جاتا ہے، کھان پان میں وسعت آ جاتی ہے۔

آج سے 5 سال پہلے کی بات ہے۔ میں پونہ میں رہتا تھا۔ ایک عالم دین نے جگہ کی تلاش میں مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے مشورہ دیا کہ جگہ جب ملے گی تب ملے گی، ابھی رمضان کا مہینہ قریب ہے۔ آپ کوئی ٹھیلا کیوں نہیں لگا لیتے ! انھیں میری بات اچھی لگی۔ گھر پہ آلو اور قیمے کے سموس بنا کر چوراہے میں فروخت کرنا شروع کیے۔ اس رمضان میں 27 ہزار سے زائد کا منافع کیا۔ ان کو کار و بار کا راز سمجھ آ چکا تھا ۔ یکجہتی سے اسی میں لگ گئے۔ آج 5 سال بعد ان کے پاس خود کی ٹپری (پترے کی چھوٹی دکان) ہے۔ 35 سے 50 ہزار کا ماہانہ منافع ہے۔ الحمد للہ ابھی خوشحال ہیں ۔

وہ علما ، حفاظ ، ائمہ جن کی آمدنی اطمینان بخش نہیں ہے، یا جو ابھی خالی بیٹھے ہیں۔ انھیں رمضان میں چھوٹا موٹا کار بار و بار ضرور کرنا چاہیے۔

زیادہ نہ ہو تو سموسے پکوڑے ہی بناکر بیچیں۔ صرف قبل عصر سے مغرب تک 2 گھنٹے میں کار و بار ہو جاتا ہے۔
آپ چاہیں تو گھر پر چائے بناکر بعد مغرب مسجد کے پاس یا کسی جگہ ٹیبل لگا کر فروخت کر سکتے ہیں۔
کوئی ٹھیلا کرایے پر لے کر پھل سبزیاں فروخت کر سکتے ہیں۔
جگہ جگہ تربوز کی گاڑیاں آتی ہیں۔ ان سے خرید کر کسی روڈ کنارے تربوز کی عارضی دکان لگا سکتے ہیں۔
گھر پر پھلوں کے جوس بناکر انھیں گلاس یا تھیلے میں پیک کر کے بیچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں طریقے ہیں جو آپ کے علاقے اور قصبے پر منحصر ہے۔

آپ یقین کریں! دور بدل چکا ہے۔ ہم نے پچھلے رمضان میں بڑے بڑے رئیس زادوں اور بڑی بڑی دکانوں کے مالکان کے بچوں کو روڈ پر چٹائی بچھا کر سیل لگاتے ہوئے دیکھا ہے۔ کار و بار کوئی شرم یا عار کی چیز نہیں۔ آپ کار و بار کریں گے تو قدر و قیمت نہیں گھٹ جائے گی۔ جس پروردگار نے رزق کے اسباب بنائے، عزت و ذلت کا مالک بھی وہی ہے۔ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے ، حالات خود بدل جائیں گے۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے حدیث قدسی بیان فرمائی۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ؛
#أَنَا_عِندَ_ظَنِّ_عَبْدِي_بِي
ترجمہ : "میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا سلوک کرتا ہوں ، جیسا وہ میرے بارے میں گمان رکھتا ہے ۔"
کار و بار میں بہت برکت ہے۔ صحابہ کرام و تابعین کثرت سے کار بار کرتے تھے۔ خود ہم سب کی ماں حضرت خدیجة الکبری رضی اللہ عنھا ایک بزنیس آئیکان تھیں۔ بڑھتی مہنگائی کے اس ہوش ربا دور میں۔ اس تیز رفتار دنیا کا صرف خریدار مت بنیے ، بلکہ دنیا کی اس رفتار کا حصہ بنیے۔ رب العالمین نے یہ دنیا اور اس کی دولت یمارے لئے بنائی ہے۔

از قلم:
دار العلوم رضائے مصطفی ﷺ ، اورنگ آباد
9860664476

22/01/2026


از: انصار احمد مصباحی
9860664476/[email protected]

نام نعمان، لقب ابو حنیفہ اور القابات الامام الاعظم ، سراج الامة ، رئیس الفقہاء و المحدثین وغیرہ ہیں۔ شجرہ نسب یوں بیان کیا جاتا ہے۔ نعمان بن ثابت ، بن مرزبان بن زوطی بن ثابت بن یزدگرد بن شہریار بن پرویز بن نوشیرواں ہے۔ ”تاریخ بغداد“ کے مصنف خطیب بغدادی نے امام اعظم کے پوتے حضرت ”اسماعیل بن حماد“ سے نقل کیا ہے کہ،
” اللہ کی قسم ہم پر کبھی غلامی نہیں آئی۔ میرے دادا حضرت ابو حنیفہ کی پیدائش 80 ہجری میں ہوئی۔ ان کے والد حضرت ثابت چھوٹی عمر میں امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر کیے گئے۔ آپ نے ان کے اور ان کی اولاد کے حق میں دعا فرمائی۔ ہمیں امید ہے کہ یہ دعا اللہ کی بارگاہ میں قبول کر لی گئی ہے “ ۔
(تاریخ بغداد: 12/326)

ائمہ فقہ میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ تنہا امام ہیں، جن کو تابعی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ آپ نے کم از کم چار صحابہ کرام کی زیارت کی۔ حضرت انس بن مالک ، حضرت واثلہ بن اسقع ، سہل بن سعد ، ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنھم ۔ انھیں آپ نے حج کے موقع پر دیکھا۔


ضروری علم حاصل کرنے کے بعد آپ تجارت میں لگ گئے ۔ ریشم کے کپڑے فروخت کرتے تھے۔ تجارت کے ایک سفر میں حضرت امام عامر بن شراحیل ”الشَعْبِی“ سے ہو گئی، یہ وہ عظیم تابعی ہیں جنھوں نے پانچ سو صحابہ کرام کی زیارت کی ہے۔ امام شعبی حضرت امام کی پیشانی کو دیکھا تو علوم و معارف کا سمندر ٹھاٹھے مار رہا تھا، فرمانے لگے ؛
تم غفلت نہ کرو اور علما کی مجلس میں بیٹھا کرو ! کیوں کہ میں تمھاری پیشانی میں علم و فضل کے آثار دیکھ رہا ہوں۔ (تذکرة المحدثین، سعیدی ، 48)
اس بات کا آپ کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ تحصیل علم کی طرف متوجہ ہوئے۔ پہلے پہل علم کلام میں درک پیدا کی۔ دہریہ، قدریہ ، جہمیہ وغیرہ باطل فرقوں سے کئی مناظرے کیے اور انھیں دھول چٹائی۔ پھر اچانک ایک دن خیال آیا کہ صحابہ کرام سے زیادہ دین کی سمجھ کس کو ہے ، اس کے با وجود ان حضرات نے یہ طریقہ نہ اپنایا۔ اور یہیں سے آپ علم حدیث و فقہ کی طرف متوجہ ہوئے۔
امام ابو حنیفہ کے زمانہ میں شہر کوفہ علوم و فنون کا گہوارہ تھا۔ اس شہر میں 70 بدری صحابہ اور 300 بیعت رضوان والے سمیت ایک ہزار پچاس صحابہ آکر آباد ہوئے تھے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس شہر کو رأس الاسلام، قبة الاسلام اور کنز الایمان قرار دیا تھا۔ یہاں ہر گھر مانو ایک درس گاہ اور ہر آنگن ایک مدرسہ تھا۔ حضرت امام نے حضرت حماد بن ابی سلیمان کے پاس حاضر ہو کر علم حدیث و فقہ حاصل کرنا شروع کیا۔ یہ وہ درس گاہ تھی جو صحابی رسول ﷺ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے چلی آ رہی تھی۔ حضرت ابن مسعود کے وقت میں یہاں بیک وقت چار ہزار مشاہیر تابعین حاضرت ہوتے تھے۔

حضرت امام اعظم کے دور طالب علمی میں مندرجہ مشاہیر امت شہر کوفہ میں موجود تھے:
حضرت ابراہیم نخعی، امام عامر شعبی ، حضرت سلمہ بن کہیل ، امام سماک بن حرب ، محارب بن دثار ، ہشام بن عروہ ، عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود ، حضرت امام اعمش ، حماد بن ابی سلیمان رضی اللہ عنھم
آج حدیث کی کوئی ایسی کتاب نہیں جو ان حضرات کی روایت سے خالی ہو۔
لگ بھگ بیس سال تک حضرت حماد سے لپٹے رہے ، اس بیچ کوفہ اور بیرون کوفہ جب بھی موقع ملتا ، دوسرے مشاہیر سے بھی شرف تلمذ حاصل کیا۔ عقل و تجربہ سے مکمل پختہ ہو چکنے کے بعد چالیس سال کی عمر میں، جب آپ کے استاد حضرت حماد کا وصال ہوا تو کوفہ کی جامع مسجد میں اپنے استاد کی مسند پر متمکن ہوئے۔۔


امام اعظم نے چند حدیثیں تو خود حضور ﷺ کو دیکھنے والے صحابہ کرام سے روایت کی ہے۔ ان کے علاوہ آپ کے اساتذہ کی کل تعداد 4000 تک پہنچتی ہے، جن میں اکثریت تابعین کی ہے۔ چند مشہور نام یہ ہیں:
عطاء بن ابی رباح، حماد بن ابی سلیمان، امام اعمش ، امام شعبی، عکرمہ مولی ابن عباس ، امام ابن شہاب زہری ، نافع مولی ابن عمر ، عکرمہ، امام عاصم، مکحول، عطاء بن سائب، قتادہ بن دعامہ السدوسی، حضرت حسن بصری، ابو اسحاق سبیعی، ہشام بن عروہ، سعید بن مسروق، علقمہ بن مرثد، حکم بن عتیبہ، ابو صالح السمان، محمد بن علی، عامر بن ابی الجعد، عطیہ بن سعد عوفی، زید بن علاقہ، سلیمان مولیٰ ام المؤمنین میمونہ، سالم بن عبد اللہ۔ (رضی اللہ عنھم)

اساتذہ کی طرح آپ کے شاگردوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔ تمام کے تمام اپنے وقت کے امام ہوئے۔ آپ نے ہر میدان کے شہسوا پیدا کیے۔ شاگردوں کی مختصر فہرست یہ ہے :
: حضرت امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن شیبانی، امام حماد بن ابی حنیفہ ، امام مالک
: امام عبد اللہ بن مبارک، امام زفر بن ہذیل، حسن بن زیاد وغیرہ
: حضرت داود طائی، فضیل بن عیاض ، ابراہیم بن ادہم ، حضرت بشر حافی ، ابن یوسف ازرق ، ابو سعید کوفی ہمدانی وغیرہ
#محدثین: لیث بن سعد ، امام یحییٰ بن آدم ، جریر بن عبد الحمید ، ابو یحییٰ زکریا بن ابی عیسیٰ، امام سفیان بن عیینہ، علی بن مسرور، حفص بن غیاث، حکم بن عتیبہ رازی،
*قراء :* مصعب بن مقدام، امام عاصم، ابو عبد الرحمن مقری۔ علیھم الرحمہ

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نے فقہ کی تدوین فرمائی ۔ امام شافعی نے حق فرمایا تھا:
الناس فی الفقہ عیال ابی حنفہ
ترجمہ ؛ لوگ علم فقہ میں ابو حنیفہ کے محتاج ہیں۔
بعد میں جتنے ائمہ مجتہدین آئے، سب نے آپ ہی سے استفادہ کیا۔ قرآن و احادیث سے لاکھوں جزئیات نکال کر فقہی مسائل باریکی سے سمجھا کر امام ابو حنیفہ نے پوری امت پر احسان فرمایا۔ ہے۔

غیب داں رسول حضور پیارے نبی ﷺ نے پہلے ہی بشارت دی تھی؛
” لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ“ ترجمہ: اگر ایمان ثریّا (آسمان کی بلندی) پر بھی ہوگا تو ان (فارس والوں) میں سے ایک شخص اسے حاصل کر لے گا۔ (صحیح بخاری حدیث: 4897) (صحیح مسلم حدیث: 2546)
حضرت امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ” علماء کا اتفاق ہے کہ اس حدیث کا مصداق امام ابو حنیفہ ہیں“۔ (تبییض الصحیفہ، 123)

آپ نے چالیس برسوں تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی۔ رات بھر میں ایک ختم قرآن مکمل کر لیا کرتے تھے۔ خشیت الہی کا یہ عالم تھا کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ ایک ہی آیت پر صبح ہو جاتی۔ ایک یہودی کی بچی نے اپنی ماں سے کہا ، امی جان ہمیں مسجد کے بیچ میں جو ستون نظر آتا تھا، وہ اب نظر نہیں آ رہا۔ ماں نے جواب دیا : بیٹی! وہ کوئی ستون نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے بڑے عالم امام ابو حنیفہ تھے جو رات رات بھر عبادت کرتے تھے۔ اب ان کا وصال ہو چکا ہے۔

اخیر وقت پر آپ آزمائش میں مبتلا ہوئے۔ آپ پر بہت مظالم ڈھائے گئے۔
خلافت بنو امیہ کے خاتمہ کے بعد سفاح پھر اس کے بعد منصور نے اپنی حکومت جمانے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی ہیبت بٹھانے کے لیے بہت ظلم کیے۔ منصور نے چن چن کر حیلے بہانے سے علویوں کو تہ تیغ کرنا شروع کیا۔ اسی خوف اور دہشت نے حضرت زید بن علی ابن امام زین العابدین کو بغاوت پر مجبور کیا۔ ان مظلوموں میں حضرت نفسِ زکیہ محمد بن عبداللہ بھی تھے، خروج کیا، ابتدا میں ان کے ساتھ بہت تھوڑے لوگ تھے، بعد میں بہت بڑی فوج تیار ہو گئی۔ حضرت امام مالک نے بھی ان کی حمایت کا فتویٰ دیا تھا، لیکن یہ شیطانی لشکر کے سامنے بہت کمزور ثابت ہوئے، آخر کار جب منصور سے مقابلہ ہوا تو 135ھ میں وہ اور ان کی جماعت شہید ہو گئے۔
ان کے بعد ان کے بھائی امام ابراہیم نے خلافت کا دعویٰ کیا۔ بصرہ سے ان کی حماعت ہوئی۔ خاص طور پر ملک عراق ان کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔ امام اعظم سمیت بڑے بڑے اساتذہ و فقہاء نے ان کا ساتھ دیا۔
امام اعظم کسی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہوئے، جس کا ان کو شدید رنج اور تکلیف رہی، لیکن یہ لوگ بھی منصور کے مقابلے میں شکست کھا گئے اور امام ابراہیم بھی شہید ہو گئے۔
اب منصور نے ان لوگوں کی طرف توجہ کی جن لوگوں نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ 136ھ میں بغداد دارالسلطنت بناتے کے بعد منصور نے حضرت امام اعظم کو بغداد بلایا۔ منصور انہیں شہید کرنا چاہتا تھا، بس کسی بہانہ کی تلاش تھی۔ حضرت امام اعظم کی خدمت میں عہدہ قضاء پیش کیا۔ امام نے فرمایا؛
”میں اس کے لائق نہیں ہوں“ ۔ منصور نے کہا:
” تم جھوٹے ہو“!
امام صاحب نے فرمایا:
“ اگر میں جھوٹا ہوں تو جھوٹا قضاء کے لائق نہیں“ ۔
اس پر منصور بھڑک گیا اور امام صاحب کو قید میں ڈال دیا گیا، جہاں ان پر زہر آلود کوڑے مارے گئے۔

حضرت امام اعظم کا غلبہ پوری دنیا میں گھر گھر پہنچ چکا تھا۔ قید نے ان کی عظمت کم کرنے کے بجاے اور زیادہ کر دیا۔ جیل خانہ ہی میں لوگ جاتے اور ان سے فیض حاصل کرتے۔ حضرت امام محمد اخیر وقت تک قید خانے میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ منصور نے جب دیکھا کہ یوں کام نہیں بنا تو خفیہ زہر ڈلوا دیا۔ جب حضرت امام کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو خالق بے نیاز کی بارگاہ میں سجدہ کیا۔ سجدے ہی کی حالت میں روح پرواز کر گئی۔
گر وقت اجل سر تری چوکھٹ دھرا ہو
جنتی ہو قضا ایک ہی سجدے میں ادا ہو۔

آپ کی وفات 150ھ بغداد میں ہوئی۔ شہرت کا یہ عالم تھا کہ 6 بار نماز جنازہ ادا کی گئی۔ پہلی جماعت میں پچاس ہزار لوگ موجود تھے۔ اخیر میں آپ کے صاحبزادے حضرت حماد نے نماز پڑھائی۔ عصر کے قریب تدفین ہوئی۔
سلطان الپ ارسلان نے 450ھ میں مزار پر عالی شان قبہ بنایا۔ متصل مشہد امام ابو حنیفہ کے نام سےچایک مدرسہ بنوایا۔ بغداد میں یہ پہلا مدرسہ تھا۔ مزار اقدس آج تک مرجع خلائق ہے۔

(ائمہ حضرات جمعہ کی تقریر میں بیان کر سکتے ہیں۔
ثواب کی نیت سے آگے شیئر کر دیں)

11/01/2026

…!!!

حضرت ذو النون مصری علیہ الرحمہ ایک بار اپنی عقلمند لڑکی کو ساتھ لِیے مچھلی پکڑنے گئے۔ آپ ندی میں جال پھینکتے جاتے اور جو مچھلیاں پھنستیں انھیں اپنی لڑکی کے حوالے کرتے جاتے۔
وہ چھوٹی بچی مچھلیاں لے کر اپنے کانوں کے پاس لاتی اور انھیں دوبارہ پانی میں چھوڑ دیتی۔

حضرت ذو النون مصری کو جب اطمینان ہو گیا کہ آج کی خوراک بھر مچھلیاں پکڑ لی گئی ہیں تو آپ نے جال سمیٹ لیا؛ لیکن جوں ہی مچھلی کا تھیلا دیکھا تو حیران رہ گئے۔ وہ تھیلا مچھلیوں سے بالکل خالی تھا۔ اپنی بچی سے پوچھا کہ ہم نے جو مچھلیاں پکڑی ہیں وہ کہاں ہیں؟
ہشیار بچی نے بڑا عارفانہ جواب دیا کہ :
ابا حضوآر ! آپ کا سبق تھا کہ کسی کو اللہ کے ذکر سے روکنا نہیں چاہیے۔
آپ نے مجھے جتنی مچھلیاں دیں، وہ سب کے سب اللہ کے ذکر میں مشغول تھیں۔ میں نے انھیں ذکر اللہ سے غافل کرنا مناسب نہیں سمجھا اور باری باری دریا میں واپس کر دیا۔ حضرت ذو النون مصری نے پوچھا، کہ اب ہم کیا کھائیں گے ؟
آپ کی سمجھدار لڑکی نے جواب دیا؛
”نتوکل علی اللہ تعالی“
(ہم اللہ تعالی پر بھروسہ کریں گے )
یہ جواب سن کر آپ بہت خوش ہوئے اور مچھلیاں پکڑے بغیر ہی لوٹ آئے۔
گھر آ کر دونوں عبادتِ الٰہی میں مشغول ہو گئے۔ نماز عشاء کے بعد اللہ کی رحمت سے آسمان سے لذیذ کھانوں سے بھرا ہوا ایک وسیع دسترخوان نازل ہوا۔ دونوں نے شکم سیر ہوکر کھائی اور اللہ شکر ادا کیا۔ یہ غیبی دسترخوان اگلے 12 سالوں تک ہر رات نازل ہوتا رہا۔
ایک بار حضرت ذوالنون مصری کے دل میں خیال آیا کہ شاید اللہ کا یہ انعام ان کے عبادت و ریاضت کی وجہ سے ہے۔ کچھ دنوں بعد آپ کی اس لڑکی کا انتقال ہو گیا۔ اس نیک لڑکی کے وفات پاتے ہی دستر خوان نازل ہونا بند ہو گیا، تب حضرت ذو النون مصری کو علم ہوا کہ یہ دسترخوان ان کی بیٹی کے ”اللہ پر کامل بھروسہ“ کی وجہ سے نازل ہوتا تھا۔ (القلیوبی: حکایت 18)

______توکل اور قرآن:
قارئین ! اللہ تعالی نے ”اللہ پر بھروسہ“ یا ”توکل علی اللہ“ کو ایمان کی خوبی بتاکر قرآن مجید میں یوں ارشاد فرمایا ہے؛ ”عَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ“ ( المائدہ: 23)
(اور اللہ ہی پر بھروسا کرو اگر تم ایمان والے ہو)۔
دوسری جگہ اس کے فائدے کا یوں ذکر فرمایا ؛
”وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ“ (سورۃ الطلاق: 3)
(اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اس کو کافی ہے )
نیز رحیم و کریم رب نے یہ بھی فرمایا کہ ؛
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (سورۃ آلِ عمران: 159)
( بے شک اللہ ، بھروسہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے)

______پیاری حدیث:
اس موقع پر نبی کریم ﷺ کا یہ سبق آموز اور پیاری سی حدیث پاک پڑھیے اور درس عبرت حاصل کیجیے!

حضور پیارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا؛
”لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ، لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا“۔ (سنن الترمذی: 2344)
ترجمہ : اگر تم اللہ پر ایسا بھروسہ کرو جیسا اس پر بھروسہ کرنے کا حق ہے ، تو وہ تمھیں اس طرح رزق پہنچائے گا ، جیسے پرندوں کو پہنچاتا ہے۔ پرندے صبح گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام میں پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔

____توکل یا بھروسہ کیا ہے ؟
اللہ پر بھروسہ یہ ہے کہ بندہ تمام اسباب اختیار کرنے کے بعد اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے، نتیجہ اسی کے ہاتھ میں سمجھے اور اسی پر اعتماد رکھے۔ اسباب ختم کرکے ہاتھ باندھ کر بیٹھ جانے کا نام توکل نہیں۔ جیسے ایک کسان کھیت میں ہل چلاتا ہے ، بیچ ڈالتا ہے، کھاد وغیرہ ڈالتا ہے اور بیج سے پودا نکلنے اور اس کے پھلنے کو اللہ پر چھوڑ دیتا یے۔

جیسا کہ ترمذی کی اس حدیث میں بتایا گیا ہے۔
ایک صحابی مسجد نبوی حاضر ہوئے اور اس نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی ، حضور ﷺ ! میں اپنی اونٹنی یوں ہی اللہ کے بھروسے چھوڑ دوں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ“
(پہلے اسے باندھو پھر اللہ پر بھروسا کرو)

اخیر میں بخاری شریف کی قدرے طویل حدیث پاک نقل کرکے تحریر مکمل کرتا ہوں۔

حضرت عبد اللہ ابن عباس (رضی اللہ عنھما) سے روایت ہے، حضور رحمت دو عالم ﷺ نے فرمایا :
میرے سامنے تمام اُمتیں پیش کی گئیں۔ میں نے دیکھا کہ کسی نبی کے ساتھ تھوڑے لوگ ہیں، کسی کے ساتھ کچھ زیادہ ہیں ، کسی نبی کے ساتھ ایک یا دو آدمی ہیں اور کسی کے ساتھ تو کوئی بھی نہیں۔ مجھ سے کہا گیا کہ افق کی طرف نظر کرو۔ میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑا مجمع تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی اُمت ہے۔
”اور ان کے ساتھ ستر ہزار ایسے لوگ ہیں ، جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے“۔
سبحان اللہ،
نہ محشر کی گرمی، نہ پل صراط کی لرزش، نہ میزان کا خوف، نہ سوال و جواب!

یہ فرما کر نبی کریم ﷺ اندر تشریف لے گئے۔
صحابہ کرام میں آپس میں گفتگو ہونے لگی کہ یہ خوش نصیب لوگ کون ہوں گے؟
کچھ دیر بعد رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا:
یہ خوش نصیب لوگ وہ ہیں جو نہ جادوگروں کے پاس جاتے ہیں ، نہ بدشگونی لیتے ہیں،
وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
اور اپنے رب ہی پر پورا بھروسہ کرتے ہیں۔

یہ سن کر حضرت عُکّاشہ بن مِحصن (رضی اللہ عنہ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا:
”ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ“
یا رسول اللہ ﷺ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان میں شامل فرما دے!
آپ ﷺ نے فرمایا: ”انت منھم“ تم ان میں سے ہو۔
پھر ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور یہی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
عُکّاشہ تم سے سبقت لے گئے۔ (صحیح بخاری 5705)

تحریر :
دار العلوم رضائے مصطفٰیﷺ، اورنگ آباد۔
9860664476/[email protected]

Address

Aurangabad

Telephone

+919860664476

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ansar Ahmad Misbahi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Ansar Ahmad Misbahi:

Shortcuts

Share