22/01/2026
از: انصار احمد مصباحی
9860664476/[email protected]
نام نعمان، لقب ابو حنیفہ اور القابات الامام الاعظم ، سراج الامة ، رئیس الفقہاء و المحدثین وغیرہ ہیں۔ شجرہ نسب یوں بیان کیا جاتا ہے۔ نعمان بن ثابت ، بن مرزبان بن زوطی بن ثابت بن یزدگرد بن شہریار بن پرویز بن نوشیرواں ہے۔ ”تاریخ بغداد“ کے مصنف خطیب بغدادی نے امام اعظم کے پوتے حضرت ”اسماعیل بن حماد“ سے نقل کیا ہے کہ،
” اللہ کی قسم ہم پر کبھی غلامی نہیں آئی۔ میرے دادا حضرت ابو حنیفہ کی پیدائش 80 ہجری میں ہوئی۔ ان کے والد حضرت ثابت چھوٹی عمر میں امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر کیے گئے۔ آپ نے ان کے اور ان کی اولاد کے حق میں دعا فرمائی۔ ہمیں امید ہے کہ یہ دعا اللہ کی بارگاہ میں قبول کر لی گئی ہے “ ۔
(تاریخ بغداد: 12/326)
ائمہ فقہ میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ تنہا امام ہیں، جن کو تابعی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ آپ نے کم از کم چار صحابہ کرام کی زیارت کی۔ حضرت انس بن مالک ، حضرت واثلہ بن اسقع ، سہل بن سعد ، ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنھم ۔ انھیں آپ نے حج کے موقع پر دیکھا۔
ضروری علم حاصل کرنے کے بعد آپ تجارت میں لگ گئے ۔ ریشم کے کپڑے فروخت کرتے تھے۔ تجارت کے ایک سفر میں حضرت امام عامر بن شراحیل ”الشَعْبِی“ سے ہو گئی، یہ وہ عظیم تابعی ہیں جنھوں نے پانچ سو صحابہ کرام کی زیارت کی ہے۔ امام شعبی حضرت امام کی پیشانی کو دیکھا تو علوم و معارف کا سمندر ٹھاٹھے مار رہا تھا، فرمانے لگے ؛
تم غفلت نہ کرو اور علما کی مجلس میں بیٹھا کرو ! کیوں کہ میں تمھاری پیشانی میں علم و فضل کے آثار دیکھ رہا ہوں۔ (تذکرة المحدثین، سعیدی ، 48)
اس بات کا آپ کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ تحصیل علم کی طرف متوجہ ہوئے۔ پہلے پہل علم کلام میں درک پیدا کی۔ دہریہ، قدریہ ، جہمیہ وغیرہ باطل فرقوں سے کئی مناظرے کیے اور انھیں دھول چٹائی۔ پھر اچانک ایک دن خیال آیا کہ صحابہ کرام سے زیادہ دین کی سمجھ کس کو ہے ، اس کے با وجود ان حضرات نے یہ طریقہ نہ اپنایا۔ اور یہیں سے آپ علم حدیث و فقہ کی طرف متوجہ ہوئے۔
امام ابو حنیفہ کے زمانہ میں شہر کوفہ علوم و فنون کا گہوارہ تھا۔ اس شہر میں 70 بدری صحابہ اور 300 بیعت رضوان والے سمیت ایک ہزار پچاس صحابہ آکر آباد ہوئے تھے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس شہر کو رأس الاسلام، قبة الاسلام اور کنز الایمان قرار دیا تھا۔ یہاں ہر گھر مانو ایک درس گاہ اور ہر آنگن ایک مدرسہ تھا۔ حضرت امام نے حضرت حماد بن ابی سلیمان کے پاس حاضر ہو کر علم حدیث و فقہ حاصل کرنا شروع کیا۔ یہ وہ درس گاہ تھی جو صحابی رسول ﷺ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے چلی آ رہی تھی۔ حضرت ابن مسعود کے وقت میں یہاں بیک وقت چار ہزار مشاہیر تابعین حاضرت ہوتے تھے۔
حضرت امام اعظم کے دور طالب علمی میں مندرجہ مشاہیر امت شہر کوفہ میں موجود تھے:
حضرت ابراہیم نخعی، امام عامر شعبی ، حضرت سلمہ بن کہیل ، امام سماک بن حرب ، محارب بن دثار ، ہشام بن عروہ ، عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود ، حضرت امام اعمش ، حماد بن ابی سلیمان رضی اللہ عنھم
آج حدیث کی کوئی ایسی کتاب نہیں جو ان حضرات کی روایت سے خالی ہو۔
لگ بھگ بیس سال تک حضرت حماد سے لپٹے رہے ، اس بیچ کوفہ اور بیرون کوفہ جب بھی موقع ملتا ، دوسرے مشاہیر سے بھی شرف تلمذ حاصل کیا۔ عقل و تجربہ سے مکمل پختہ ہو چکنے کے بعد چالیس سال کی عمر میں، جب آپ کے استاد حضرت حماد کا وصال ہوا تو کوفہ کی جامع مسجد میں اپنے استاد کی مسند پر متمکن ہوئے۔۔
امام اعظم نے چند حدیثیں تو خود حضور ﷺ کو دیکھنے والے صحابہ کرام سے روایت کی ہے۔ ان کے علاوہ آپ کے اساتذہ کی کل تعداد 4000 تک پہنچتی ہے، جن میں اکثریت تابعین کی ہے۔ چند مشہور نام یہ ہیں:
عطاء بن ابی رباح، حماد بن ابی سلیمان، امام اعمش ، امام شعبی، عکرمہ مولی ابن عباس ، امام ابن شہاب زہری ، نافع مولی ابن عمر ، عکرمہ، امام عاصم، مکحول، عطاء بن سائب، قتادہ بن دعامہ السدوسی، حضرت حسن بصری، ابو اسحاق سبیعی، ہشام بن عروہ، سعید بن مسروق، علقمہ بن مرثد، حکم بن عتیبہ، ابو صالح السمان، محمد بن علی، عامر بن ابی الجعد، عطیہ بن سعد عوفی، زید بن علاقہ، سلیمان مولیٰ ام المؤمنین میمونہ، سالم بن عبد اللہ۔ (رضی اللہ عنھم)
اساتذہ کی طرح آپ کے شاگردوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔ تمام کے تمام اپنے وقت کے امام ہوئے۔ آپ نے ہر میدان کے شہسوا پیدا کیے۔ شاگردوں کی مختصر فہرست یہ ہے :
: حضرت امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن شیبانی، امام حماد بن ابی حنیفہ ، امام مالک
: امام عبد اللہ بن مبارک، امام زفر بن ہذیل، حسن بن زیاد وغیرہ
: حضرت داود طائی، فضیل بن عیاض ، ابراہیم بن ادہم ، حضرت بشر حافی ، ابن یوسف ازرق ، ابو سعید کوفی ہمدانی وغیرہ
#محدثین: لیث بن سعد ، امام یحییٰ بن آدم ، جریر بن عبد الحمید ، ابو یحییٰ زکریا بن ابی عیسیٰ، امام سفیان بن عیینہ، علی بن مسرور، حفص بن غیاث، حکم بن عتیبہ رازی،
*قراء :* مصعب بن مقدام، امام عاصم، ابو عبد الرحمن مقری۔ علیھم الرحمہ
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نے فقہ کی تدوین فرمائی ۔ امام شافعی نے حق فرمایا تھا:
الناس فی الفقہ عیال ابی حنفہ
ترجمہ ؛ لوگ علم فقہ میں ابو حنیفہ کے محتاج ہیں۔
بعد میں جتنے ائمہ مجتہدین آئے، سب نے آپ ہی سے استفادہ کیا۔ قرآن و احادیث سے لاکھوں جزئیات نکال کر فقہی مسائل باریکی سے سمجھا کر امام ابو حنیفہ نے پوری امت پر احسان فرمایا۔ ہے۔
غیب داں رسول حضور پیارے نبی ﷺ نے پہلے ہی بشارت دی تھی؛
” لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ“ ترجمہ: اگر ایمان ثریّا (آسمان کی بلندی) پر بھی ہوگا تو ان (فارس والوں) میں سے ایک شخص اسے حاصل کر لے گا۔ (صحیح بخاری حدیث: 4897) (صحیح مسلم حدیث: 2546)
حضرت امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ” علماء کا اتفاق ہے کہ اس حدیث کا مصداق امام ابو حنیفہ ہیں“۔ (تبییض الصحیفہ، 123)
آپ نے چالیس برسوں تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی۔ رات بھر میں ایک ختم قرآن مکمل کر لیا کرتے تھے۔ خشیت الہی کا یہ عالم تھا کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ ایک ہی آیت پر صبح ہو جاتی۔ ایک یہودی کی بچی نے اپنی ماں سے کہا ، امی جان ہمیں مسجد کے بیچ میں جو ستون نظر آتا تھا، وہ اب نظر نہیں آ رہا۔ ماں نے جواب دیا : بیٹی! وہ کوئی ستون نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے بڑے عالم امام ابو حنیفہ تھے جو رات رات بھر عبادت کرتے تھے۔ اب ان کا وصال ہو چکا ہے۔
اخیر وقت پر آپ آزمائش میں مبتلا ہوئے۔ آپ پر بہت مظالم ڈھائے گئے۔
خلافت بنو امیہ کے خاتمہ کے بعد سفاح پھر اس کے بعد منصور نے اپنی حکومت جمانے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی ہیبت بٹھانے کے لیے بہت ظلم کیے۔ منصور نے چن چن کر حیلے بہانے سے علویوں کو تہ تیغ کرنا شروع کیا۔ اسی خوف اور دہشت نے حضرت زید بن علی ابن امام زین العابدین کو بغاوت پر مجبور کیا۔ ان مظلوموں میں حضرت نفسِ زکیہ محمد بن عبداللہ بھی تھے، خروج کیا، ابتدا میں ان کے ساتھ بہت تھوڑے لوگ تھے، بعد میں بہت بڑی فوج تیار ہو گئی۔ حضرت امام مالک نے بھی ان کی حمایت کا فتویٰ دیا تھا، لیکن یہ شیطانی لشکر کے سامنے بہت کمزور ثابت ہوئے، آخر کار جب منصور سے مقابلہ ہوا تو 135ھ میں وہ اور ان کی جماعت شہید ہو گئے۔
ان کے بعد ان کے بھائی امام ابراہیم نے خلافت کا دعویٰ کیا۔ بصرہ سے ان کی حماعت ہوئی۔ خاص طور پر ملک عراق ان کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔ امام اعظم سمیت بڑے بڑے اساتذہ و فقہاء نے ان کا ساتھ دیا۔
امام اعظم کسی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہوئے، جس کا ان کو شدید رنج اور تکلیف رہی، لیکن یہ لوگ بھی منصور کے مقابلے میں شکست کھا گئے اور امام ابراہیم بھی شہید ہو گئے۔
اب منصور نے ان لوگوں کی طرف توجہ کی جن لوگوں نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ 136ھ میں بغداد دارالسلطنت بناتے کے بعد منصور نے حضرت امام اعظم کو بغداد بلایا۔ منصور انہیں شہید کرنا چاہتا تھا، بس کسی بہانہ کی تلاش تھی۔ حضرت امام اعظم کی خدمت میں عہدہ قضاء پیش کیا۔ امام نے فرمایا؛
”میں اس کے لائق نہیں ہوں“ ۔ منصور نے کہا:
” تم جھوٹے ہو“!
امام صاحب نے فرمایا:
“ اگر میں جھوٹا ہوں تو جھوٹا قضاء کے لائق نہیں“ ۔
اس پر منصور بھڑک گیا اور امام صاحب کو قید میں ڈال دیا گیا، جہاں ان پر زہر آلود کوڑے مارے گئے۔
حضرت امام اعظم کا غلبہ پوری دنیا میں گھر گھر پہنچ چکا تھا۔ قید نے ان کی عظمت کم کرنے کے بجاے اور زیادہ کر دیا۔ جیل خانہ ہی میں لوگ جاتے اور ان سے فیض حاصل کرتے۔ حضرت امام محمد اخیر وقت تک قید خانے میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ منصور نے جب دیکھا کہ یوں کام نہیں بنا تو خفیہ زہر ڈلوا دیا۔ جب حضرت امام کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو خالق بے نیاز کی بارگاہ میں سجدہ کیا۔ سجدے ہی کی حالت میں روح پرواز کر گئی۔
گر وقت اجل سر تری چوکھٹ دھرا ہو
جنتی ہو قضا ایک ہی سجدے میں ادا ہو۔
آپ کی وفات 150ھ بغداد میں ہوئی۔ شہرت کا یہ عالم تھا کہ 6 بار نماز جنازہ ادا کی گئی۔ پہلی جماعت میں پچاس ہزار لوگ موجود تھے۔ اخیر میں آپ کے صاحبزادے حضرت حماد نے نماز پڑھائی۔ عصر کے قریب تدفین ہوئی۔
سلطان الپ ارسلان نے 450ھ میں مزار پر عالی شان قبہ بنایا۔ متصل مشہد امام ابو حنیفہ کے نام سےچایک مدرسہ بنوایا۔ بغداد میں یہ پہلا مدرسہ تھا۔ مزار اقدس آج تک مرجع خلائق ہے۔
(ائمہ حضرات جمعہ کی تقریر میں بیان کر سکتے ہیں۔
ثواب کی نیت سے آگے شیئر کر دیں)