18/02/2026
………
رمضان کے مقدس مہینے میں جہاں اللہ تعالی کی خاص رحمتیں نازل ہوتی ہیں، وہیں مسلمانوں کے کار و بار بھی کئی گنا بڑھ جاتے ہیں ، بازاروں میں عوامی بھیڑ اور رونق میں اضافہ ہو جاتا ہے، کھان پان میں وسعت آ جاتی ہے۔
آج سے 5 سال پہلے کی بات ہے۔ میں پونہ میں رہتا تھا۔ ایک عالم دین نے جگہ کی تلاش میں مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے مشورہ دیا کہ جگہ جب ملے گی تب ملے گی، ابھی رمضان کا مہینہ قریب ہے۔ آپ کوئی ٹھیلا کیوں نہیں لگا لیتے ! انھیں میری بات اچھی لگی۔ گھر پہ آلو اور قیمے کے سموس بنا کر چوراہے میں فروخت کرنا شروع کیے۔ اس رمضان میں 27 ہزار سے زائد کا منافع کیا۔ ان کو کار و بار کا راز سمجھ آ چکا تھا ۔ یکجہتی سے اسی میں لگ گئے۔ آج 5 سال بعد ان کے پاس خود کی ٹپری (پترے کی چھوٹی دکان) ہے۔ 35 سے 50 ہزار کا ماہانہ منافع ہے۔ الحمد للہ ابھی خوشحال ہیں ۔
وہ علما ، حفاظ ، ائمہ جن کی آمدنی اطمینان بخش نہیں ہے، یا جو ابھی خالی بیٹھے ہیں۔ انھیں رمضان میں چھوٹا موٹا کار بار و بار ضرور کرنا چاہیے۔
زیادہ نہ ہو تو سموسے پکوڑے ہی بناکر بیچیں۔ صرف قبل عصر سے مغرب تک 2 گھنٹے میں کار و بار ہو جاتا ہے۔
آپ چاہیں تو گھر پر چائے بناکر بعد مغرب مسجد کے پاس یا کسی جگہ ٹیبل لگا کر فروخت کر سکتے ہیں۔
کوئی ٹھیلا کرایے پر لے کر پھل سبزیاں فروخت کر سکتے ہیں۔
جگہ جگہ تربوز کی گاڑیاں آتی ہیں۔ ان سے خرید کر کسی روڈ کنارے تربوز کی عارضی دکان لگا سکتے ہیں۔
گھر پر پھلوں کے جوس بناکر انھیں گلاس یا تھیلے میں پیک کر کے بیچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں طریقے ہیں جو آپ کے علاقے اور قصبے پر منحصر ہے۔
آپ یقین کریں! دور بدل چکا ہے۔ ہم نے پچھلے رمضان میں بڑے بڑے رئیس زادوں اور بڑی بڑی دکانوں کے مالکان کے بچوں کو روڈ پر چٹائی بچھا کر سیل لگاتے ہوئے دیکھا ہے۔ کار و بار کوئی شرم یا عار کی چیز نہیں۔ آپ کار و بار کریں گے تو قدر و قیمت نہیں گھٹ جائے گی۔ جس پروردگار نے رزق کے اسباب بنائے، عزت و ذلت کا مالک بھی وہی ہے۔ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے ، حالات خود بدل جائیں گے۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے حدیث قدسی بیان فرمائی۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ؛
#أَنَا_عِندَ_ظَنِّ_عَبْدِي_بِي
ترجمہ : "میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا سلوک کرتا ہوں ، جیسا وہ میرے بارے میں گمان رکھتا ہے ۔"
کار و بار میں بہت برکت ہے۔ صحابہ کرام و تابعین کثرت سے کار بار کرتے تھے۔ خود ہم سب کی ماں حضرت خدیجة الکبری رضی اللہ عنھا ایک بزنیس آئیکان تھیں۔ بڑھتی مہنگائی کے اس ہوش ربا دور میں۔ اس تیز رفتار دنیا کا صرف خریدار مت بنیے ، بلکہ دنیا کی اس رفتار کا حصہ بنیے۔ رب العالمین نے یہ دنیا اور اس کی دولت یمارے لئے بنائی ہے۔
از قلم:
دار العلوم رضائے مصطفی ﷺ ، اورنگ آباد
9860664476