13/03/2022
آزادی نسواں کا فریب
ایک عورت صبح گھر سے نکلتی ہے، بس کی لائن میں لگتی ہے، ٹرینوں میں دھکے کھاتی ہے، دوڑتی بھاگتی آفس پہنچتی ہے، فائلیں ہاتھ میں لے کر Boss کے آگے پیچھے گھومتی ہے، آفس کے ساتھیوں کے ساتھ دن بھر دفتری کاموں میں لگی رہتی ہے.... اسی جیسی ایک دوسری عورت کسی دوسری جگہ Job میں مصروف ہے، وہ ریڈیو پر بطور اینکر کام کرتی ہے، کسی عالیشان دفتر میں ریسیپشن (Reception) پر بیٹھی ہے، کبھی کھیل کے ميدان میں "جھنڈے" گاڑتی ہے، کبھی ہوٹل میں کھانا سَرو (Serve) کرتی ہے، کہیں سخت دھوپ اور دھول میں کھڑی ٹریفک کو کنٹرول کرتی ہے اور نہ جانے کیا کیا کام کرتی ہے....ہر جگہ اسے اجنبی لوگوں سے ملنا پڑتا ہے، Boss کی جھڑکیوں کو سننا پڑتا ہے، ٹرین اور بسوں میں عذابِ جان سے گزرنا پڑتا ہے، مردوں کی پُر ہوس نگاہوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے، نہ کھانے پینے کا ہوش ہے، نہ شوہر اور بچوں کے لئے کوئی خاص وقت، لیکن یہ سب چیزیں زیادہ تشویشناک نہیں، اس لئے کہ بہرحال یہ عورت "آزاد" ہے، مردوں کی غلام نہیں، اسے مردوں کے برابر اور یکساں حقوق حاصل ہیں، یہ اپنا خرچ خود اٹھاتی ہے، معاشرے پر بوجھ نہیں، یہ مردوں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے... بسوں میں بھی، ٹرینوں میں بھی!!!
ان سب عورتوں کے برخلاف ایک دوسری عورت ہے جو صبح اٹھتی ہے تو گھر بھر کے لئے ناشتہ بناتی ہے، بچوں کو اسکول کے لئے تیار کرتی ہے، شوہر کام پر چلا جاتا ہے، بچے اسکول روانہ ہو جاتے ہیں، اب یہ گھر کی صفائی میں لگتی ہے، جھاڑو پونچھا، کپڑوں کی دھلائی انہیں سب کاموں میں لگی رہتی ہے، گھر میں کوئی بزرگ اور بڑا ہو تو اس کی خدمت بھی انجام دیتی ہے، دوپہر ہوتے ہوتے سب کے لئے کھانا تیار کر دیتی ہے، پھر شوہر اور بچوں کے آنے پر ان کے ساتھ کھانا کھاتی ہے، اس کا باقی دن بھی کچھ اسی طرح گزرتا ہے. .. . اسے نہ بس اور ٹرین کے دھکے کھانے پڑتے ہیں، نہ اجنبی مردوں کے جملوں اور نظروں کا نشانہ بننا پڑتا ہے، نہ اپنی روح اور دل کو عذاب سے گزارنا پڑتا ہے... مگر یہ بے چاری پھر بھی "مظلوم" ہے، شوہر اور بچوں کی غلام ہے، استحصال کا شکار ہے، اس کا کیا جرم ہے کہ اس کے حسن سے صرف اس کا شوہر اپنے دل کو تسکین دے سکتا ہے، اس کی آواز سے تنہا وہی لطف اٹھا سکتا ہے، کیا یہ اس کے حسن کی توہین نہیں؟؟ اس پر یہ قید کس لیے لگائی گئی ہے کہ اس کے ہاتھوں سے بنے کھانے کا مزہ اس کے گھر والے ہی اٹھا سکتے ہیں کیا یہ اس کے طباخی کے فن پر شک کرنا نہیں ہے ؟؟ اس کے قرب سے دوسروں کا لہو بھی گرم ہو سکتا ہے، وہ بھی مسرت حاصل کر سکتے ہیں پھر اسے چہار دیواری میں قید کیوں کر رکھا ہے؟؟ جب اس کا چست لباس، برہنہ بازو، کھلی ٹانگیں نوجوانوں اور بہت سے عمر دراز لوگوں کی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں تو اسے پردہ میں رکھنا کیا مفاد عامہ کے خلاف نہیں؟؟ کیا یہ صحت کے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں؟؟ اپنے Boss اور آفیسر کے ہر حکم اور اشارے پر عمل کرنا اس کی ڈیوٹی ہے تو اب اس کے شوہر کو کیا حق ہے کہ وہ اسے کسی چیز کا حکم کرے؟؟ کیا یہ بیوی پر حکم چلانا، اسے غلام بنانا نہیں ہے؟؟
اس لئے اے مردوں!! اپنے آپ کو عورتوں سے بہتر سمجھنا بند کرو، اے شوہروں!! بیویوں پر ظلم کرنا بند کرو، اور......اے Boss!!! آپ تو بس اگلا حکم کرو!!!
مفتی عبید انور شاہ