Madni Masjid Bhuna

Madni Masjid Bhuna Small And Beautiful Masjid In Bhuna Araria Bihar

11/09/2022
 #رمضان
03/04/2022

#رمضان

24/03/2022

Assalamu alaikum
Kya haal hai dinston

Please send share
24/03/2022

Please send share

13/03/2022

آزادی نسواں کا فریب

ایک عورت صبح گھر سے نکلتی ہے، بس کی لائن میں لگتی ہے، ٹرینوں میں دھکے کھاتی ہے، دوڑتی بھاگتی آفس پہنچتی ہے، فائلیں ہاتھ میں لے کر Boss کے آگے پیچھے گھومتی ہے، آفس کے ساتھیوں کے ساتھ دن بھر دفتری کاموں میں لگی رہتی ہے.... اسی جیسی ایک دوسری عورت کسی دوسری جگہ Job میں مصروف ہے، وہ ریڈیو پر بطور اینکر کام کرتی ہے، کسی عالیشان دفتر میں ریسیپشن (Reception) پر بیٹھی ہے، کبھی کھیل کے ميدان میں "جھنڈے" گاڑتی ہے، کبھی ہوٹل میں کھانا سَرو (Serve) کرتی ہے، کہیں سخت دھوپ اور دھول میں کھڑی ٹریفک کو کنٹرول کرتی ہے اور نہ جانے کیا کیا کام کرتی ہے....ہر جگہ اسے اجنبی لوگوں سے ملنا پڑتا ہے، Boss کی جھڑکیوں کو سننا پڑتا ہے، ٹرین اور بسوں میں عذابِ جان سے گزرنا پڑتا ہے، مردوں کی پُر ہوس نگاہوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے، نہ کھانے پینے کا ہوش ہے، نہ شوہر اور بچوں کے لئے کوئی خاص وقت، لیکن یہ سب چیزیں زیادہ تشویشناک نہیں، اس لئے کہ بہرحال یہ عورت "آزاد" ہے، مردوں کی غلام نہیں، اسے مردوں کے برابر اور یکساں حقوق حاصل ہیں، یہ اپنا خرچ خود اٹھاتی ہے، معاشرے پر بوجھ نہیں، یہ مردوں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے... بسوں میں بھی، ٹرینوں میں بھی!!!

ان سب عورتوں کے برخلاف ایک دوسری عورت ہے جو صبح اٹھتی ہے تو گھر بھر کے لئے ناشتہ بناتی ہے، بچوں کو اسکول کے لئے تیار کرتی ہے، شوہر کام پر چلا جاتا ہے، بچے اسکول روانہ ہو جاتے ہیں، اب یہ گھر کی صفائی میں لگتی ہے، جھاڑو پونچھا، کپڑوں کی دھلائی انہیں سب کاموں میں لگی رہتی ہے، گھر میں کوئی بزرگ اور بڑا ہو تو اس کی خدمت بھی انجام دیتی ہے، دوپہر ہوتے ہوتے سب کے لئے کھانا تیار کر دیتی ہے، پھر شوہر اور بچوں کے آنے پر ان کے ساتھ کھانا کھاتی ہے، اس کا باقی دن بھی کچھ اسی طرح گزرتا ہے. .. . اسے نہ بس اور ٹرین کے دھکے کھانے پڑتے ہیں، نہ اجنبی مردوں کے جملوں اور نظروں کا نشانہ بننا پڑتا ہے، نہ اپنی روح اور دل کو عذاب سے گزارنا پڑتا ہے... مگر یہ بے چاری پھر بھی "مظلوم" ہے، شوہر اور بچوں کی غلام ہے، استحصال کا شکار ہے، اس کا کیا جرم ہے کہ اس کے حسن سے صرف اس کا شوہر اپنے دل کو تسکین دے سکتا ہے، اس کی آواز سے تنہا وہی لطف اٹھا سکتا ہے، کیا یہ اس کے حسن کی توہین نہیں؟؟ اس پر یہ قید کس لیے لگائی گئی ہے کہ اس کے ہاتھوں سے بنے کھانے کا مزہ اس کے گھر والے ہی اٹھا سکتے ہیں کیا یہ اس کے طباخی کے فن پر شک کرنا نہیں ہے ؟؟ اس کے قرب سے دوسروں کا لہو بھی گرم ہو سکتا ہے، وہ بھی مسرت حاصل کر سکتے ہیں پھر اسے چہار دیواری میں قید کیوں کر رکھا ہے؟؟ جب اس کا چست لباس، برہنہ بازو، کھلی ٹانگیں نوجوانوں اور بہت سے عمر دراز لوگوں کی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں تو اسے پردہ میں رکھنا کیا مفاد عامہ کے خلاف نہیں؟؟ کیا یہ صحت کے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں؟؟ اپنے Boss اور آفیسر کے ہر حکم اور اشارے پر عمل کرنا اس کی ڈیوٹی ہے تو اب اس کے شوہر کو کیا حق ہے کہ وہ اسے کسی چیز کا حکم کرے؟؟ کیا یہ بیوی پر حکم چلانا، اسے غلام بنانا نہیں ہے؟؟

اس لئے اے مردوں!! اپنے آپ کو عورتوں سے بہتر سمجھنا بند کرو، اے شوہروں!! بیویوں پر ظلم کرنا بند کرو، اور......اے Boss!!! آپ تو بس اگلا حکم کرو!!!

مفتی عبید انور شاہ

11/03/2022

مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلاَیُؤْذِ جَارَہٗ

جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے

जो आदमी अल्लाह पर और क़ियामत के दिन पर ईमान रखता है वो अपने बड़ोसी को न सताए।

whoever believes in Allah and the Last Day should not hurt (or insult) his neighbor

Jo aadmi allah par Aur qiyamat ke din par iman rakhta hai wo apne padosi ko na sataye

صحیح البخاری: 6475
Abdul Ahad

10/03/2022

خواتین اسلام کے کارنامے

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَہُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا (الاحزاب:۳۵)
ترجمہ:یقیناً مسلمان مردوں اور عورتوں ، ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں ، فرمانبردار مردوں اور عورتوں ، سچے مردوں اور عورتوں ، صبر کرنے والے مردوں اور عورتوں ، اللہ سے ڈرنے والے مردوں اور عورتوں ، صدقہ کرنے والے مردوں اور عورتوں ، روزہ رکھنے والے مردوں اور عورتوں اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مردوں اورعورتوں اور اللہ کو خوب یاد رکھنے والے مردوں اور عورتوں کے لئے ہم نے بخشش اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے ۔

تمہید

سورہ احزاب کی مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے دس اوصاف کا ذکر فرمایا ہے کہ جو کسی شخص کے سچے اور پکے مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے ، اس آیت کے نازل ہونے کا پس منظر یہ نقل کیا گیا ہے کہ حضرت اُم عمارہ انصاریہ ﷝ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ قرآن میں ہر جگہ مردوں ہی کا ذکر ہے ، خواتین کے لئے کچھ کہا ہی نہیں گیا ہے ، اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ، جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ مستقل ورپر عورتوں کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے ، ( ترمذی : کتاب تفسیر القرآن عن رسول اللہ ﷺ ، باب سورۃ الاحزاب ، حدیث نمبر : ۳۲۱۱)
اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اسلام میں عورتوں کی بھی مستقل حیثیت ہے ، ایسا نہیں ہے کہ وہ مردوں کے تابع محض ہیں ؛ اسی لیے عورت خود اپنے مال کی مالک بن سکتی ہے ، اپنی ملکیت میں تصرف کرسکتی ہے ، اس کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوسکتا ، اسے اپنی زکوٰۃ خود ادا کرنی ہے ، جب کہ بیشتر مذاہب میں عورت کو مستقل شخصیت کا درجہ حاصل نہیں تھا اور وہ پوری طرح مردوں کے تابع سمجھی جاتی تھیں ؛ البتہ چوں کہ عورتوں میں حتی المقدور پردہ پوشی مطلوب ہے ، یہ عورتوں کے اندر پائی جانے والی فطری حیاء کے بھی مطابق ہے اور اس میں پردہ بھی ہے ، اس لئے قرآن مجید نے عام طورپر عورتوں کا نام بنام ذکر نہیں کیا ہے ؛ بلکہ ذکر بھی کیا گیا تو ان کے شوہر کی طرف نسبت کرتے ہوئے ، جیسے : فرعون کی بیوی ، حضرت نوح ﷣ کی بیوی ، حضرت لوط ﷣ کی بیوی ، صرف حضرت مریم ﷣ کا نام لیا گیا ؛ کیوں کہ ان کے کوئی شوہر نہیں تھے، جن کی نسبت سے ان کا تعارف ہو ، ( خلاصہ از : معارف القرآن : ۷؍۱۴۳۵)

حقوق نسواں اور اسلام

اسلام سے پہلے دنیا نے جتنی بھی ترقی کی ہے اس میں عموماً صرف مرد کا حصہ ہے عورت کا کہیں بھی کوئی کردار نہیں؛ لیکن اسلام آیا تو اس نے دونوں صنفوں کی کوششوں کو وسائل ترقی میں شامل کر لیا، اسلام نے جو عزت اور مقام عورت کو عطا کیا ہے اُس کی مثال نہ تو قومی تاریخ میں ملتی ہے اور نہ ہی دنیا کی مذہبی تاریخ میں، اسلام نے صرف عورت کے حقوق ہی نہیں مقرر کیے بلکہ ان کو عزت اور رفعت بھی عطا کی۔
حقیقت یہ ہے کہ عورت چاہے ماں،بہن،بیوی اور بیٹی ہر روپ میں قدرت کا قیمتی تحفہ ہے جس کے بغیر کائناتِ انسانی کی ہرشے پھیکی اور ماند ہے، اللہ تعالیٰ نے مرد کو اس کا محافظ اور سائبان بنایا ہے، عورت اپنی ذات میں ایک تناوردرخت کی ما نند ہے جو ہر قسم کے سردوگرم حالات کا دلیری سے مقابلہ کرتی ہے، ا سی عزم وہمت ،حوصلہ اور استقامت کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے جنت کو اس کے قدموں تلے بچھا دیا ۔
خواتین نو ع انسانی کا نصف حصہ ہیں ؛وہ انسانی معاشرے کا ایک لازمی اور قابل احترام کردار ہیں۔اسلام نے خواتین کے لیے اجر وثواب اور خدمات وطاعت کے وہ مواقع رکھے ہیں ؛جو مردوں کے لیے ہیں ۔قرآن کریم کا اعلان ہے : من عمل صالحا من ذکر او انثی وھو مومن فلنحیینہ حیوة طیبة ولنجزینھم اجرھم باحسن ماکانوا یعملون۔(النحل ۷۹)یعنی جس نے نیک عمل کیا ۔چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اس حال میں کہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے ۔اور ہم انھیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے ۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوتی وتبلیغی جد وجہد کا مرکز جس طرح مردوں کو بنایا اسی طرح عورتوں کو بھی بنایا، آپ کی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں جس طرح خدا پرستی کا مثالی جذبہ مردو ں میں پیدا ہوا اسی طرح خواتین میں بھی انقلابی روح پیدا ہوئی، رسول اللہ سے تربیت جس طرح صحابہ ؓنے پائی اس طرح صحابیا ت ؓ بھی رسول اللہ کے فیض صحبت اور ان کی مثالی تربیت کے زیور سے آراستہ پیراستہ ہوکر دیگر خواتین کے لیے نجوم ہدایت بن گئیں ؛اگر ہماری عورتوں کے سامنے اسلام کی ان بر گزیدہ خواتین کا نمونہ پیش کردیا جائے؛ تو ان کی فطری لچک ان سے اور زیادہ متاثر ہوسکے گی اور موجودہ دور کے مو ¿ثرات سے بے نیاز ہوکر خالص اسلامی اخلاق اسلامی معاشرت اور اسلامی تمدن کا نمونہ بن جائے گی، آج جب کہ زمانہ بدل رہاہے ،یورپی تمدن اور مغربی طرز معاشرت سے ہمارے ہمارے جدید تعلیم یافتہ لوگ بھی بے زاری کا اظہار کررہے ہیں، ایسے حالات میں اسلام کی قدیم تاریخ مسلمان عورت کا بہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے، فروغ اسلام میں خواتین کا ہمیشہ معیاری اور شاندار کردار رہاہے۔

نازک آبگینے

عورت بظاہر ایک کمزور سی مخلوق ہے، مگر اللہ تعالى نے اسے اس قدر قوت عطا کر رکھی ہے کہ کاروبار کائنات میں وہ فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہتی ہے، دکھنے میں تو اس کا حدود اربعہ اس کے گھر کی چہار دیواری تک محدود نظر آتا ہے، مگر اس کی عظمت لا محدود ہوتی ہے، اگر چہ اس کی آواز اس کے کمرے سے باہر نہیں جاتی، مگر اس کے دل سے اٹھنے والی صدا آسمانوں کو چیر دیتی ہے۔
عورت کا وجود ویسے تو ضعف ونقاہت کا استعارہ ہے، مگر تاریخ کی سنگلاخ راہوں کی وہ نا تھکنے والی مسافر ہے، اس کا لطیف جسم یوں تو کمزورى کی حسین تعبیر ہے، مگر زندگی کے موج طلاطم میں وہ ایسا پہاڑ ہے جس سے حالات کے مارے ڈانوا ڈول سفینے لگ کر سہارا لیتے اور دنیا میں اپنى آخرى پناہ گاہ تلاش کرتے ہیں۔
عورت کی اصل قوت اس کی دینداری میں مضمر ہے، یہی اس کا اصل اثاثہ ہے اور یہی اس کی کل کائنات ہے۔ اسی بنا پر وہ دنیا کی سب سے قیمتی شیء اور ربانی عطیات و قدرتی نعمتوں سے مالا مال اس عالم رنگ و بو میں سب سے بہترین سامان ہے۔
عورت کا اصل سرمایہ اس کی عفت ہے، اور اس کی اصل دولت اس کی پاکیزگی ہے، عفت وپاگیزگی صنف نازک کا راس المال بھی ہے اور اس کے حسن وجمال کا آئینہ بھی، اگر یہ دولت اس کے پاس نہ ہو تو اس کا وجود کنگال اور بے معنى ہے، اور وہ ایک زندہ لاش کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
عورت کا حسن وجمال اس کی حیا سے عبارت ہے، اور اس کی اصل خوبصورتی اس کى شرم و حیا میں پنہاں ہے، در اصل حیا ہی اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتی ہے۔ حیا اس کے حسن و جمال کا تاج ہے، اور لجاجت اس تاج کا کوہ نور ہے۔ غور کریں تو ایک عورت شرم وحیا ہی سے عورت ہے، اور یہی اس کے جمال کا حقیقی استعارہ ہے۔ بلا حیا کی ریشمی چادر کے ایک عورت کا نسوانی وجود بے لباسی کا شکار ہونے لگتا ہے، یہ نہ ہو تو عورت عورت نہیں کچھ اور ہے۔

باکمال خواتین

مذہب ِاسلا م میں جہاں مردوں نے اپنی بہادری، جرات اور جواں مردی کے جواہر دکھائےہیں تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہیں پر عورتوں نے بھی جرات، صبرو تحمل کے ایسے کارنامے سر انجام دیے کہ جو آج بھی اہل ایمان کے دلوں پر انمٹ نقوش بن کر ثبت ہوچکے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں خواتین کا ایک اہم کردار رہا جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ان کے زہد ،تقوی ،عبادت وریاضت اور اللہ کے راستے میں اپنی اولاد کو تیار کر کے بھیجنے کے واقعات کا ایک تسلسل ہے۔

حضرت حوا سے اسلام کے ظہور تک کئی نامور خواتین کا ذکر قرآن و حدیث اور تاریخ اسلامی میں موجود ہے جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ازواج حضرت سارہ ،حضرت ہاجرہ،فرعون کی بیوی آسیہ ،حضرت ام موسیٰ ،حضرت مریم،ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریؓ،ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ،ام المومنین حضرت ام سلمہؓ ، حضرت فاطمہؓ ،حضرت سمیہؓ،اور دیگر کئی خواتین ہیں جن کے کارناموں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔
تاریخ اسلام خواتین کی قربانیوں اور خدمات کا ذکر کیے بغیر نا مکمل رہتی ہے، اسلام کی دعوت وتبلیغ میں مردوں کے ساتھ عورتوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اسلام کی ابتدائی تاریخ میں مسلم خواتین کا جو کردا ر رہا وہ آج ساری دنیا کی خواتین کے لیے ایک واضح سبق بھی ہے۔

حضرت خدیجۃ الکبری ؓ

اسلام کو سب سے پہلے قبول کرنے کی سعادت حاصل کرنیوالی ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راز دار ،ہمسفر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ذات گرامی ہے، حضرت خدیجہ ؓنے نہ صرف سب سے پہلے اسلام قبول کیا بلکہ سب سے پہلے عمل کیا اور اپنی پوری زندگی جان و مال سب کچھ دین اسلام کے لیے وقف کر دیا، حضرت خدیجہؓ نے تین سال شعب ابی طالب میں محصوررہ کر تکالیف اور مصائب برداشت کیے اور جب تین سال کے بعد مقاطعہ ختم ہوا تو آپؓ اس قدر بیمار اور کمزور ہو گئیں کہ اسی بیماری کے عالم میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔

حضرت عائشہ ؓ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج میں ایک ایسی خاتون بھی ہیں جن کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان سے صحابیات تو درکنار صحابہ کرام نے بھی علم حاصل کیا، وہ خوش نصیب حضرت عائشہؓ ہیں، حضرت عائشہؓ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج میں منفرد مقام حاصل ہے، آپؓ اپنے ہم عصرصحابہ کرام اور صحابیاتِ عظام ؓمیں سب سے زیادہ ذہین تھیں، اسی ذہانت و فطانت اورو سعتِ علمی کی بنیادپر منفرد مقام رکھتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرا آدھا دین عائشہؓ کی وجہ سے محفوظ ہو گا، آٹھ ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے شاگرد ہیں۔

حضرت فاطمہ ؓ

خاتون جنت،سردارانِ جنت کی ماں اور دونوں عالم کے سردار کی بیٹی حضرت فاطمہؓ کی زندگی بھی بے مثال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ ایک عظیم اور ہمہ گیر کردار کی مالکہ تھیں جو ایک بیٹی کے روپ میں، ایک ماں کی شکل میں اور ایک بیوی کے کردار میں قیامت تک آنے والی خواتین کے لیے نمونۂ حیا ت ہیں جنہوں نے اپنے عظیم باپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا حق ادا کرتے ہوئے بچپن میں سرداران قریش کے ظلم و ستم کا بڑی جرأت مندی،شجاعت،ہمت اور متانت سے سامنا کیا، حضرت فاطمہؓ چھوٹی تھیں ایک دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحن کعبہ میں عبادت الٰہی میں مشغول تھے کہ ابوجہل کے اشارہ پر عقبہ بن ابی معیط نے مذبوحہ اونٹ کی اوجھڑی کو سجدہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن پر رکھ دیا،حضرت فاطمہؓ دوڑتی ہوئی پہنچیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اذیت وتکلیف کو دور کیا۔

حضرت صفیہ ؓ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نہایت بہادر اور نڈر خاتون تھیں، آپ دوران جنگ بے خوف وخطر ہوکر زخمیوں کو میدان جنگ سے باہر لاتیں اور ان کی مرہم پٹی کرتی تھیں، انہوں نے غزوہ خندق کے موقع پر نہایت بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب دوران جنگ ایک یہودی مسلمان خواتین پر حملہ آور ہوا تو آپؓ نے اس پرزوردار وار کیا جس سے اس کا کام تمام ہو گیا۔
حضرت بی بی صفیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا اپنے بھائی حضرت حمزہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی لاش پر آئیں تو آپ نے انکے بیٹے حضرت زبیر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ میری پھوپھی اپنے بھائی کی لاش نہ دیکھنے پائیں، حضرت بی بی صفیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ مجھے اپنے بھائی کے بارے میں سب کچھ معلوم ہو چکا،پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اجازت سے لاش کے پاس گئیں اوریہ منظر دیکھا کہ پیارے بھائی کے کان، ناک، آنکھ سب کٹے پٹے شکم چاک، جگر چبایا ہوا پڑا ہے، یہ دیکھ کر اس شیر دل خاتون نے اِنَّا ِﷲِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کے سوا کچھ بھی نہ کہاپھر ان کی مغفرت کی دعا مانگتی ہوئی چلی آئیں۔ (طبری)

حضرت ام عمارہ ؓ

حضرت بی بی ام عمارہ جن کا نام نسیبہ ہے جنگ ِ اُحد میں اپنے شوہر حضرت زید بن عاصم اور دو فرزند حضرت عمارہ اور حضرت عبد ﷲ رضی ﷲ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لے کر آئی تھیں، پہلے تو یہ مجاہدین کو پانی پلاتی رہیں لیکن جب حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر کفار کی یلغار کا ہوش ربا منظر دیکھاتو مشک کو پھینک دیا اور ایک خنجر لے کر کفار کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو کر کھڑی ہو گئیں اور کفار کے تیروتلوار کے ہر ایک وار کو روکتی رہیں۔ چنانچہ ان کے سر اور گردن پر تیرہ زخم لگے، ابن قمیئہ ملعون نے جب حضور رسالت مآب صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر تلوار چلا دی تو بی بی اُمِ عمارہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے آگے بڑھ کراپنے بدن پر روکا، چنانچہ ان کے کندھے پر اتنا گہرا زخم آیا کہ غار پڑ گیاپھر خود بڑھ کر ابن قمیئہ کے شانے پر زور دار تلوار ماری لیکن وہ ملعون دوہری زرہ پہنے ہوئے تھااس لئے بچ گیا۔
حضرت بی بی ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرزند حضرت عبداللہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک کافر نے زخمی کر دیااور میرے زخم سے خون بند نہیں ہوتا تھا، میری والدہ حضرت اُمِ عمارہ نے فوراً اپنا کپڑا پھاڑ کر زخم کو باندھ دیااور کہا کہ بیٹا اُٹھو،کھڑے ہو جاؤ اور پھر جہادمیں مشغول ہو جاؤ، اتفاق سے وہی کافر حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے آگیا تو آپ نے فرمایا کہ اے ام عمارہ!رضی ﷲ تعالیٰ عنہادیکھ تیرے بیٹے کو زخمی کرنے والا یہی ہے، یہ سنتے ہی حضرت بی بی اُمِ عمارہ نے جھپٹ کراس کافر کی ٹانگ پر تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ کافر گر پڑااور پھر چل نہ سکا بلکہ گھسٹتا ہوا بھاگا، یہ منظر دیکھ کر حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا کہ اے اُمِ عمارہ!رضی ﷲ تعالیٰ عنہاتو خدا کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھ کو اتنی طاقت اور ہمت عطا فرمائی کہ تو نے خداکی راہ میں جہاد کیا، حضرت بی بی اُمِ عمارہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ دعافرمائیے کہ ہم لوگوں کو جنت میں آپ کی خدمت گزاری کا شرف حاصل ہو جائے۔ اس وقت آپ نے ان کے لیے اور ان کے شوہر اور ان کے بیٹوں کے لیے اس طرح دعا فرمائی کہ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھُمْ رُفَقَائِیْ فِی الْجَنَّۃِ یا ﷲ!عزوجل ان سب کو جنت میں میرارفیق بنا دے۔
حضرت بی بی اُم عمارہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا زندگی بھر علانیہ یہ کہتی رہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی اس دعا کے بعد دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت بھی مجھ پر آجائے تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔(مدارج النبوہ،قسم سوم، باب چہارم، ج۲،ص۱۲۶،۱۲۷)

حضرت ہاجرہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت ہاجرہ کا تذکرہ کرنا نہایت ہی اہم ہوگا، حضرت ابراہیم ؑ نے جب مکہ کی بے آب وگیاہ بنجر زمین میں حضرت ہاجرہ کو چھوڑ دیا تو حضرت ہاجرہ ہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اپنے خاوند کے حکم کی تعمیل میں حضرت اسماعیل ؑ کے لیے پانی کی تلاش میں دیوانہ وار صفا اور مروہ کے درمیان دوڑیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عمل کی تقلید قیامت تک کے لیے تمام مردوں اور عورتوں پر لازم کر دی۔
ان پاکیزہ خواتین کے تذکرے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ آج کی خواتین اِن محترم ہستیوں کی زندگی کو اپنا آئیڈیل بنائیں اور اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں۔

حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا

آپ قریش کے خاندان مخزوم سے تعلق رکھتی ہیں، آپ کا نکاح
عکرمہ بن ابوجہل سے (جو ان کے چچازاد بھائی تھے) ہوا۔
غزوۂ احد میں کفار کے ساتھ شریک تھیں؛ لیکن جب ۸ھ میں فتح مکہ کے موقع سوائے قبول اسلام کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا، ان کا خسر (ابوجہل) مکہ میں اسلام کا سب سے بڑا دشمن اور کفار کا سرغنہ تھا، شوہر عکرمہ کی رگ و پے میں اسی کا خون دوڑتا تھا (ماموں) خالد بھی مدت سے اسلام سے بر سر پیکار رہ چکے تھے، لیکن بایں ہمہ ام حکیم رضی اللہ عنہا نے اپنی فطر ت و سلامت روی کی بنا پر فتح مکہ میں اسلام قبول کرنے میں بہت عجلت کی، ان کے شوہر جان بچا کر یمن بھاگ گئے تھے، ام حکیم رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے امن کی درخواست کی تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن عفو نہایت کشادہ تھا، غرض یمن جا کر ان کو واپس لائیں اور عکرمہ نے صدق دل سے اسلام قبول کیا، حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے مسلمان ہو کر اپنے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کیا، نہایت جوش سے غزوات میں شرکت کی اور بڑی پامردی اور جان بازی سے لڑے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں رومیوں سے جنگ چھڑی، حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ، ام حکیم کو لے کر شام گئے اور ’’اجنادین‘‘ کے معرکہ میں دادِ شجاعت پا کر شہادت حاصل کی، حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا نے عدت کے بعد خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا، ۴۰۰ سو دینار مہر باندھا اور رسم عروسی ادا کرنے کی تیاریاں ہوئیں، چونکہ نکاح مقام ’’مرج الصفر‘‘ میں ہوا تھا جو دمشق کے قریب ہے اور ہر وقت رومیوں کے حملہ کا اندیشہ تھا، حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا نے خالد سے کہا کہ ابھی توقف کرو؛ لیکن خالد بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اسی معرکہ میں اپنی شہادت کا یقین ہے، غرض ایک پُل کے پاس جو اب ’’قنطرۂ ام حکیم‘‘ کہلاتا ہے، رسم عروسی ادا ہوئی، دعوتِ ولیمہ سے لوگ فارغ نہیں ہوئے تھے کہ رومی آپہنچے اور لڑائی شروع ہوگئی، خالد رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں گئے، جام شہادت نوش کیا، حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا اگرچہ عروسہ تھیں، لیکن اٹھیں، کپڑوں کو باندھا اور خیمہ کی چوب اکھاڑ کر کفار پر حملہ کیا تو لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے اس چوب سے سات کافروں کو مارا۔ (الاصابہ: ۸؍۲۲۵)

راہ اسلام میں پہلی شہید خاتون

حضرت سُمَیَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا شمار ان بلند پایہ صحابیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی راہ میں سخت ترین اذیتوں کا سامنا کیا، حضرت سُمَیَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے باوجود اس کے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کمزور اور ضعیف تھیں سخت تکالیف برداشت کیں لیکن کلمہ حق کہنے سے کبھی باز نہ آئیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا شمار مکے کے ان سات افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے انتہائی ابتدا ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا۔
اس وقت جب قبائل عرب جہالت اور بے راہ روی کی اندھا دھند تقلید میں حق اور باطل کے فرق کو فراموش کرچکے تھے اور اپنے عقائد و رسوم سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے ان افراد کا اسلام کو قبول کرنا کفار مکہ کو کھلی مخالفت کی دعوت دینا تھا لیکن اس چھوٹے سے خاندان (شوہر حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرزند حضرت عمار رضی اللہ عنہٗ اور حضرت سُمَیَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے نتائج و مصائب سے بے پروا ہوکر پرچم توحید کو مضبوطی سے تھام لیا۔
مشرکین نے اہل حق کے ان پروانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں، حضرت سُمَیَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا عالم پیری تھا اور پھر بہ حیثیت عورت بھی وہ ایک صنف نازک تھیں لیکن کفار نے ان کے شوہر اور فرزند کے ہمراہ انہیں بھی سخت سزائیں دیں‘ ان لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لوہے کی زرہ پہنا کر تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑا کیا تآنکہ مکہ کے چمکتے ہوئے سورج کی تپش سے یہ لوہا گرم ہوکر آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نازک جسم کو اذیت ناک جلن دے اور نتیجتاً آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کلمہ حق سے باز آجائیں‘ مگر عشق رسول ﷺ ان مقدس ہستیوں کے رگ و پے میں اس درجہ سرایت کرچکا تھا کہ کسی صورت بھی یہ واپس شرک کی طرف لوٹنے والوں میں نہ ہوئے۔
رسول کریم ﷺ جب ان کو بنومغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن محزوم کی طرف سے دی گئی اذیتوں میں مبتلا مکہ کی گرم دوپہروں میں جلتا دیکھتے تو فرماتے: ’’اے آل یاسر‘ ہمت نہ ہارنا‘ اللہ نے تم سے جنت کا وعدہ کیا ہے۔‘‘
غرض اسلام کی محبت میں سارا دن یہ عذاب جھیلتے گزر جاتا، ایک دن‘ رات کو ابوجہل حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور ان پر سخت غصہ ہوا‘ کہنے لگا: ’’اے بڑھیا! تو سٹھیا گئی ہے کہ اپنے ساتھ اپنے خاوند اور بیٹے کو بھی بددین کرڈالا‘‘ یہ کہتے کہتے اتنا غضب ناک ہوا کہ بے چاری بزرگ عورت حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس زور سے کھینچ کر برچھی ماری کہ اس صدمے اور تکلیف کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ اسی وقت شہید ہوگئیں۔
بعثت کے بعد حضور ﷺ نے دعوت حق کا آغاز فرمایا تو اس سارے خاندان نے کسی قسم کا ردوکد یا تامل نہیں کیا بلکہ دعوت حق پر لبیک کہا، یہ اہل حق کے لیے بڑا پرآشوب زمانہ تھا، مکہ کا جو شخص بھی اسلام قبول کرتا مشرکین قریش کے غیظ غضب اور لرزہ خیز جور و تشدد کا نشانہ بن جاتا‘ مشرکین اس معاملے میں اپنےعزیزوں کا بھی لحاظ نہیں کرتے تھے۔
حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور ان کے لڑکے غریب الوطن تھے اور حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ابھی بنومخزوم نے آزاد نہیں کیا تھا۔ ان بے چاروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے میں مشرکین نے کوئی کسر نہیں اٹھارکھی تھی۔
حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور حضرت سمیہ دونوں بے حد ضعیف تھے مگر ان کی قوت ایمانی انتہائی مستحکم تھی۔ استحکام کی یہی خوبی ان کے بیٹوں میں موجود تھی۔ ان مظلوموں کو لوہے کی زرہیں پہنا کر مکہ کی جلتی تپتی ریت پر لٹانا ان کی پشت کو آگ کے انگاروں سے داغنا اور پانی میں غوطے دینا کفار کا روزانہ کا معمول تھا۔
جب حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسلام کی راہ میں سب سے پہلی شہید ہونے والی عورت کا اعزاز پایا تو حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو اپنی والدہ کی مرگ بے کسی کا سخت صدمہ ہوا، وہ حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’یارسول اللہ ﷺ! اب تو ظلم کی حد ہوگئی ہے۔‘‘ حضور ﷺ نے صبر کی تلقین کی اور دعا فرمائی کہ : ’’اے اللہ! آل یاسر کو دوزخ سےبچا!‘‘
حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ تو بیٹا ہونے کی حیثیت سے اپنی ماں کی درد ناک شہادت کو کبھی بھول نہیں سکتے تھے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بے کسی اور تکلیف‘ جب بھی اسلام کی تاریخ رقم ہوگی پورے دکھ اور کرب کے ساتھ محسوس کی جائے گی، یہی وجہ ہے کہ خود سرور کونین حضرت محمدﷺ کو بھی ابوجہل کا یہ ظلم اور حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تکلیف یاد رہی چنانچہ رمضان۲ہجری میں جب معرکہ بدر پیش آیا اور اس میں ابوجہل واصل جہنم ہوا تو آنحضور ﷺ نے حضرت عماربن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بلا کر ارشاد فرمایا: ’’اللہ نے تمہاری ماں کے قاتل سے بدلہ لے لیا‘‘حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شہادت‘ ہجرت نبوی سے کئی سال قبل ہوئی‘ اس لیے تمام اہل سیر نے انہیں اسلام کی شہیداول قرار دیا ہے۔

حضرت خنساء رضی اللہ عنہا

تماضر ان کا نام تھا، خنساء لقب، قبیلہ بنی قیس کے خاندان سلیم سے تھیں، پیرانہ سالی کا زمانہ تھا، مکہ کے افق سے ماہتاب رسالت طلوع ہوا، حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کو خبر ہوئی تو اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ مدینہ منورہ آئیں، اور مشرف بہ اسلام ہوگئیں، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک ان کے اشعار سنتے اور تعجب کرتے رہتے، یہ ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں جب قادسیہ (عراق) میں جنگ ہوئی تو حضرت خنساء رضی اللہ عنہا اپنے چار بیٹیوں کو لے کر میدان میں آئیں اور ان کو مخاطب کر کے یہ نصیحت کی، پیارے بیٹو! تم نے اسلام اور ہجرت اپنی مرضی سے اختیار کی ہے، ورنہ تم اپنے ملک کو بھاری نہ تھے اور نہ تمہارے یہاں قحط پڑا تھا، باوجود اس کے تم اپنی بوڑھی ماں کو یہاں لائے اور فارس کے آگے ڈال دیا، خدا کی قسم! تم ایک ماں باپ کی اولاد ہو، میں نے تمہارے ماموں کو رسوا نہیں کیا، تم جانتے ہو کہ دنیا فانی ہے اور کفار سے قتال کرنے میں بڑا ثواب ہے، خدا تعالی کا ارشاد گرامی ہے ’’یاایھا الذین امنو اصبروا و صابروا و رابطوا‘‘ اس بنا پر صبح اٹھ کر لڑنے کی تیاری کرو اور آخر وقت تک لڑو‘‘
حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنھا نے چاروں بیٹوں کو تیار کر کے میدان کارزار میں روانہ کر دیا اورچند لمحوں بعد یہ چاروں پہلی صف میں دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کھڑے نظر آئے اور رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے دشمن سے ٹکراگئے دنیا اور آخرت کی زندگی کامیابیوں سے ہم کنار ہوکو اپنے پاکیزہ خون سے قادسیہ کے میدان کو رنگ دیا۔ یہاں پر بھی حضرت خنساءرضی اللہ تعالی عنھا کا کردار حیرت انگیز تھا جب ان کو اپنے پیارو ں کی شہادت کی خبر ملی تو اللہ تعالی کا شکر بجا لاتے ہوئے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ جس نے ان کی شہادت سے مجھے شرف بخشا امید ہے کہ اللہ تعالی اپنی جوار رحمت میں ان کے ساتھ مجھے جمع فرمائیں گے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان لڑکوں کو ۲۰۰ درہم سالانہ وظیفہ عطا کرتے تھے ان کی شہادت کے بعد یہ رقم حضرت خنساء کو ملتی رہی۔ (اسد الغابۃ: ۵؍۴۴۲)
اسد الغابۃ میں ہے: اجمع أھل العلم بالشعراء لم تکن امرأۃ قبلھا و لا بعد أشعر منھا (یعنی ناقدان سخن کا اس پر اتفاق ہے کہ خنساء کے برابر کوئی عورت شاعر نہیں پیدا ہوئی۔
لیلائے اخیلیہ کو شعراء نے تمام شاعر عورتوں کا سرتاج تسلیم کیا ہے، تا ہم اس میں بھی حضرت خنساء رضی اللہ عنہا مستثنیٰ رکھی گئی ہیں، بازار عکاظ میں جو شعرائے عرب کا سب سے بڑا مرکز تھا، حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ ان کے خیمہ کے دروازے پر ایک علم نصیب ہوتا تھا، جس پر یہ الفاظ لکھے تھے ’’أرثی العرب‘‘ یعنی عرب میں سب سے بڑی مرثیہ خواں۔
نابغہ جو اپنے زمانہ سب سے بڑا شاعر تھا اس کو حضرت خنساء رضی اللہ عنہا نے اپنا کلام سنایا تو بولا کہ اگر ابوبصیر (اعشیٰ) کا کلام نہ سن لیتا تو تجھ کو تمام عالم میں سب سے بڑا شاعر تسلیم کرتا‘‘۔
حضرت خنساء رضی اللہ عنہا ابتداء ایک دو شعر کہتی تھیں، لیکن صخر کے مرنے سے ان کو جو صدمہ پہنچا اس نے ان کی طبیعت میں ایک ہیجان پیدا کردیا تھا، چنانچہ کثرت سے مرثیے لکھے ہیں، یہ شعر خاص طور پر مشہور ہے۔
ان صخر التائم الہدایہ بہ
کأنہ علم فی رأسہ نار
صخر کی بڑے بڑے لوگ اقتداء کرتے ہیں گویا وہ ایک پہاڑ ہے جس کی چوٹی پر آگ روشن ہے۔
حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کا دیوان بہت ضخیم ہے ۱۸۸۸ء میں بیروت میں شرح کے ساتھ چھایا گیا ہے، اس میں حضرت خنساء کے ساٹھ ۶۰ عورتوں کے اور بھی مرثیئے شامل ہیں، ۱۸۸۹ء میں اس کا فرنچ زبان میں ترجمہ ہوا اور دوبارہ طبع کیا گیا۔

صبر وشکر کی اعلی مثال

اسلام کتنا عظیم ہے اس کی تعلیمات بھی کیا خوب ہیں کہ ایک صنف نازک کہ جس نے بھائی کے قتل پر اپنے اوپر نیند کو حرام کر دیا بڑے بڑے مرثیے اور قصیدے لکھ ڈالے لیکن اسلام لانے کے بعد ان میں اس قدر صبر وشکر نصیب ہوا کہ بھائی کی نہیں چاروں بیٹوں کی شہادت مختلف دنوں میں نہیں بلکہ ایک ہی دن میں سن کر اللہ رب العالمین کا شکر کرتی نظر آتی ہیں۔ یہی وہ فخر عظمت اور شرف تھاجو حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہوا اور یہ وہ تمغہ تھا جس کو انہوں نے اپنے سینے پر سجایا اور چار شہید بیٹوں کی ماں ہونے کا اللہ نے آپ کو شرف بخشا۔

حضرت سیدہ اُم سُلیم بنت ملحان ؓ

رحمة للعالمین صلی الله علیہ وسلم اپنے مبارک قدم جس گھر میں لے کر جاتے اس گھر کی قسمت پر عرش وفرش رشک کرتے تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم اپنی صحابیات رضی الله عنہن کے گھروں میں بھی تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ جب اپنے پیارے محبوب ،سرور دو عالم صلی الله علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں دیکھتی تھیں تو ان کا دل موج بہاراں کی طرح سے کھل اٹھتا تھا اور ان کی خوشی کی انتہا نہ ہوتی تھی۔
حضرت اُم سلیم رضی الله عنہا حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتی تھیں، ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ جب آپ صلی الله علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے اور دوپہر کو آرام فرمایا کرتے تھے تو حضرت اُم سلیم رضی الله عنہا آپ کے مشک وعنبر جیسے پسینے اور ٹوٹے ہوئے بالوں کو ایک شیشی میں جمع کرکے رکھ لیتی تھیں اور اس کو دل وجان سے عزیز رکھتی تھیں۔
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اُم سلیم پانی لاؤ“ سامنے مشکیزہ لٹک رہا تھا ،وہ اس میں سے پانی انڈیلنے لگیں تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”اسے ہی لے آؤ“ آپ مشکیزہ لے آئیں تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس کا دہانہ اپنے منھ مبارک سے لگایا اور پانی پیا حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم تشریف لے گئے تو حضرت اُم سلیم رضی الله عنہا نے مشکیزے کے اس دہانے کو کاٹ کر اپنے پاس بطور یادگار محفوظ کر لیا، اس لیے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے ہونٹوں نے اس حصے کو چھوا تھا، یہ تھا عشق رسول۔

انتہائی درجہ کا صبر

حضرت انس بن مالک ؓ جو حضرت ام سلیم کے صاحبزادے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میرے سوتیلے والد حضرت ابو طلحہؓ کے صاحبزادے بیمار ہوگئے،حضرت ابو طلحہؓ گھر سے باہر گئے ہوئے تھے کہ بچے کی وفات ہوگئی، جب وہ واپس آئے تو پوچھا:میرے بیٹے کا حال کیا ہے؟حضرت اُمّ سلیمؓ نے جواب دیا کہ وہ پہلے سے سکون میں ہے اور ان کے سامنے کھانا لا کر رکھا جب کھانے سے فارغ ہوئے تو کہاکہ بچہ پرسکون ہے، پھر صبح ہوگئی تو انہیں پتہ چلا،حضرت ابو طلحہؓ نے یہ سارا واقعہ آکر رسول اللہﷺ کے گوش گزار کردیا آپﷺ نے فرمایا کہ تم نے رات اپنی زوجہ کے ساتھ گزاری انہوں نے کہا جی ہاں! آپﷺ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ان دونوں کو برکت عطا فرما، پھرحضرت اُمّ سلیمؓ ایک اور بچے کی ماں بنیں تو مجھے حضرت ابو طلحہؓ نے فرمایا کہ اس بچے کو اٹھاؤ اور نبی کریمﷺ کے پاس جاؤ اور میرے ہاتھ کچھ کھجوریں بھی بھیجیں، نبی کریمﷺ نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس کچھ چیز ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں کھجوریں ہیں، آپﷺ نے وہ کھجوریں لے کر چبائیں اور اپنے منہ میں لے کر اس بچے کے منہ میں ڈال دیں اور بچے کا نام ’’ عبداللہ ‘‘ تجویز فرمایا، مروی ہے کہ عبداللہ بن ابی طلحہؓ صالحین میں سے تھے اور ان کے ماتھے پر نشان چمکتا تھا، حضرت عبایہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے اس لڑکے کی سات اولاد یں دیکھیں اور ہر ایک قرآن کا عالم تھا، اس طرح حضرت اُمّ سلیمؓ اور ان کے شوہر اور اولاد نے رسول اللہﷺ کی دعا کی برکت پائی۔

حفصہ بنت سیرینؒ

ام ہذیل، فقہیہ انصاریہ ہیں، ایاس بن معاویہؓ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: میں نے حفصہ بنت سیرینؒ سے زیادہ عالمہ فاضلہ خاتون نہیں دیکھی، انہوں نے بارہ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا، اس کے بعد ستر سال حیات رہیں۔ ان کے تذکرے میں حسن بصریؒ اور ابن سیرینؒ نے فرمایا: حفصہ سے زیادہ فضیلت والی کوئی خاتون نہیں۔
مہدی بن میمون کہتے ہیں: حفصہ بنت سیرینؒ تیس سال تک اپنے مصلیٰ، یعنی گھر کی مسجد، سے باہر نہیں نکلیں، سوائے کسی (رشتے دار) سے ملاقات اور قضائے حاجت وضرورت کے، ان کی وفات سن 100ھ کے بعد ہوئی۔

سیدہ معاذہؒ

سیدہ معاذہ بنت عبداللہ، سیدہ، عالمہ، ام الصہبا، بصریۃ، عابدہ، حضرت صلہ بن اشیم کی اہلیہ ہیں۔
یہ ساری رات عبادت گزارتیں اور کہتیں کہ مجھے اس آنکھ پر تعجب ہے جو سو جاتی ہے، مجھے پتا چلا کہ زیادہ سونا ظلمت قبر کا باعث ہے۔
شوہر اور بیٹے کی شہادت
جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے شوہر ’’صلہ‘‘ او ران کے بیٹے جنگ میں شہید ہو چکے ہیں تو ان کی تعزیت کے لیے ان کے یہاں عورتیں اکٹھی ہوئیں تو انہوں نے فرمایا: تمہیں مبارک باد ہو اگر تم مجھے مبارک باد دینے کے لیے آئی ہو اور اگر تمہارا اس کے علاوہ کوئی اور مقصد ہے تو تم یہیں سے لوٹ جاؤ۔
اکثر وبیشتر کہا کرتی تھیں: بخدا! میری دنیا میں بقا کی خواہش صرف اور صرف اس لیے ہے کہ میں کچھ ایسے وسائل اور ذرائع اختیار کروں جو میرے رب کی قربت کا ذریعہ بن سکیں، مجھے اللہ سے امید ہے کہ اللہ عزوجل مجھے، ابوالشعثاء اور ان کے لڑکے کو یکجا کردے۔ ان کی وفات سن 83ھ میں ہوئی۔

رابعہ عدویہؒ

سیدہ رابعہ بصریہؒ، زاہدہ، عابدہ، خاشعہ، ام عمرو، رابعہ بنت اسماعیل ہیں۔
خالد بن خِداش کہتے ہیں: رابعہ بصریہؒ نے سنا کہ صالح مری اس دنیا کا اپنے قصوں میں بکثرت ذکر کرتے ہیں، تو انہیں مخاطب کرکے فرمایا: صالح! جو جس چیز سے محبت کرتا ہے اس کا بکثرت ذکرکرتا ہے۔
بشر بن صالح عتکی سے مروی ہے کہ: کچھ لوگوں نے رابعہؒ سے ( اْن کی مجلس میں شرکت کی) اجازت چاہی، اور ان کے ساتھ سفیان ثوریؒ بھی تھے، ان لوگوں نے ان کے یہاں قیامت کا تذکرہ کیا، پھر کچھ دنیا کا بھی ذکر ہوا، جب یہ جانے لگے تو رابعہؒ نے اپنی خادمہ سے کہا: یہ بزرگ اور ان کے ساتھی (دوبارہ) آئیں تو تم انہیں میرے پاس آنے کی اجازت نہ دینا، کیوں کہ میں نے انہیں دنیا کی محبت میں گرفتار پایا ہے۔
عْبیس بن میمون عطارؒ کہتے ہیں کہ مجھ سے رابعہ عدویہ کی خادمہ عبدہ بنت ابی شوال نے بیان کیا کہ رابعہ رات بھر نماز پڑھتیں، طلوع فجر کے وقت تھوڑی دیر سو جاتیں، پھر فجر کے لیے اٹھ جاتیں، وہ (اپنے نفس کو مخاطب کرکے) یہ کہتی تھیں: اے نفس! تو کتنا سوئے گا اور کتنا کھڑا رہے گا! تجھے بعد میں ایسی نیند سونا ہے کہ پھر روز قیامت ہی اٹھنا ہے۔
کہو: غم کتنا کم ہے!
جعفر بن سلیمان کہتے ہیں: میں امام سفیان ثوریؒ کے ساتھ رابعہ عدویہؒ کے یہاں گیا، سفیان کہنے لگے: ’’واحزناہ‘‘ ہائے غم! تو سیدہ رابعہؒ نے فرمایا: مت کہو، یوں کہو، کتنا کم غم ہے۔ ان کی وفات سن180ھ میں ہوئی۔

زبیدہؒ

ان کا نام ست المحجبۃ أمۃ العزیز ہے، ان کی کنیت ام جعفر بنت جعفر بن ابو جعفر منصور ہے، یہ امین محمد بن رشید کی ماں ہیں، خلیفہ ہارون الرشید کی اہلیہ محترمہ ہیں۔ کہتے ہیں کہ عباسیوں نے ان جیسا خلیفہ نہیں جنا۔ یہ نہایت جاہ وحشم والی خاتون تھیں، حج کے سلسلے میں ان کے بے شمار کارنامے ہیں، ان کے جدامجد نے ان کا لقب زبیدہ رکھا، ان کے شاہی محل میں تقریباً سو باندیاں تھیں اور سب کی سب قرآن پاک کی حافظہ تھیں، سن 216ھ میں وفات پائیں۔
عباسی دور کے خلیفہ ہارون رشید کی بیوی سیدہ زبیدہ نے ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر ہارون رشید نے معلوم کرنا چاہی تو علما نے بتلایا کہ یہ مبارک خواب ہے، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ عزوجل تمہاری بیوی سے کوئی اہم خدمت لیں گے، جس سے رعایا کو فائدہ پہنچے گا، چنانچہ ان دنوں مکہ مکرمہ میں حاجیوں کے لیے پانی کی تکلیف کی اطلاع ملی کہ پانی کی کمی سے حجاج فوت ہو رہے ہیں تو اس تکلیف کو دور کرنے کے لیے زبیدہ نے حج کا ارادہ کیا اور وہاں جائزہ لینے کے بعد اپنے مہر اور خلیفہ کے زر کثیر سے 36 کلومیٹر طویل نہر وادی نعمان طائف روڈ سے 791 عیسوی مطابق174ھ میں بنوائی، جس سے 1200 سال تک استفادہ کیا جاتا رہا، جب یہ نہر تیار ہوئی تو محاسب نے حساب پیش کیا۔ خلیفہ وقت نے ان کاغذات کو یہ کہتے ہوئے دریائے دجلہ میں ڈال دیا کہ ہم اس کے حساب کو یوم الحساب پر موقوف رکھتے ہیں اور اگر کسی کے ذمے ہمارا کچھ باقی ہو تو ہم اس کو معاف کر دیتے ہیں۔
میدان عرفات میں جبلِ رحمت کے دامن میں نہر زبیدہ کے ٹوٹے پھوٹے نشانات اب بھی واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

اسلام میں خواتین کی تعلیم کی اہمیت

یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کو مجموعی طور پر دین سے روشناس کرانے، تہذیب وثقافت سے بہرہ ور کرنے اور خصائل فاضلہ وشمائلِ جمیلہ سے مزین کرنے میں اس قوم کی خواتین کا اہم؛ بلکہ مرکزی اور اساسی کردار ہوتا ہے اور قوم کے نونہالوں کی صحیح اٹھان اور صالح نشوونما میں ان کی ماؤں کا ہم رول ہوتا ہے؛ اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ ماں کی گود بچے کا اولین مدرسہ ہے؛ اس لیے شروع ہی سے اسلام نے جس طرح مردوں کے لیے تعلیم کی تمام تر راہیں وا رکھی ہیں ان کو ہر قسم کے مفید علم کے حصول کی نہ صرف آزادی دی ہے؛ بلکہ اس پر ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے، جس کے نتیجے میں قرنِ اول سے لے کر آج تک ایک سے بڑھ کر ایک کج کلاہِ علم وفن اور تاجورِ فکر وتحقیق پیدا ہوتے رہے اور زمانہ ان کے علومِ بے پناہ کی ضیاپاشیوں سے مستنیر و مستفیض ہوتا رہا، بالکل اسی طرح اس دین حنیف نے خواتین کو بھی تمدنی، معاشرتی اور ملکی حقوق کے بہ تمام وکمال عطا کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی حقوق بھی اس کی صنف کا لحاظ کرتے ہوئے مکمل طور پر دیے؛ چنانچہ ہر دور میں مردوں کے شانہ بہ شانہ دخترانِ اسلام میں ایسی باکمال خواتین بھی جنم لیتی رہیں، جنھوں نے اطاعت گزار بیٹی، وفاشعار بیوی اور سراپا شفقت بہن کا کردار نبھانے کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنے علم وفضل کا ڈنکا بجایا اور ان کے دم سے تحقیق و تدقیق کے لاتعداد خرمن آباد ہوئے۔ (نایاب حسن قاسمی)

یوم خواتین کی حقیقت

عورتوں کے حقوق اوران کے احترام کے عہد کو دہرانے کے لیے ہر سال ۸/مارچ کو یوم خواتین کے طورپر منایا جاتا ہے ، اس کا سلسلہ کم و بیش سو سال سے جاری ہے ، پہلے یہ دن صرف روس اور چین وغیرہ میں منایا جاتا تھا؛ مگر۱۹۷۵/میں اقوامِ متحدہ نے باقاعدہ اس دن کو عالمی سطح پر خواتین کے دن کے طورپر منائے جانے کی قرار داد پیش کی اور اس کے بعد سے اب تک یہ سلسلہ پوری دنیا میں جاری ہے ۔ اس دن عام طورپر حقوقِ نسواں کے علم برداد افراد اور ادارے مختلف جلسے جلوس کے ذریعے یا تحریروں اور تقریروں کے ذریعے سے خواتین کے حقوق کو بیان کرتے ہیں اور دنیا کے مختلف ملکوں میں ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کو ختم کرنے کا عزم دہراتے ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے سیکڑوں ممالک کا سیاسی و معاشرتی ماحول مختلف ہے اور ہر جگہ کے مسائل و مشکلات الگ الگ ہیں ،اسی مناسبت سے وہاں کی خواتین کے مسائل بھی مختلف ہوں گے، عام طورپر جنسی نابرابری کا زیادہ چرچا کیا جاتا ہے یعنی یہ کہ عورتوں کو اپنے گھروں میں یا کام کرنے کی جگہوں پر جنسی تفریق سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور ان کے ساتھ مردوں کے مقابلے میں امتیاز برتا جاتا ہے ، تیسری دنیا کا معاشرہ تو خیر اس دور میں بھی اس حوالے سے پیچھے ہی سمجھا جاتا ہے ،لیکن آپ کو حیرت ہوگی کہ وہ ممالک جہاں کے بارے میں عام تصوریہ ہے کہ وہاں کے ہر شہری کو مکمل حقوق اور آزادی حاصل ہیں، وہاں کی صورتِ حال بھی اندوہناک ہی ہے؛ چنانچہ یومِ خواتین کے موقع پر جو دنیا بھر سے خواتین کے احتجاج کی خبریں اور تصویریں سامنے آتی ہیں، ان میں ایک بڑی تعداد یورپی ممالک کی خواتین کی ہی ہوتی ہے ۔

اصل معاملہ کیا ہے؟اصل معاملہ یہ ہے کہ خواتین کے لیے سال کے ایک مخصوص دن کا متعین کیا جانا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ عورتوں کو معاشرے میں وہ درجہ حاصل نہیں ہے جو مردوں کو حاصل ہے اور یہ بات اتنی باریک اور گہری نہیں ہے کہ اس کوسمجھانے کے لیے باقاعدہ دلائل کی ضرورت پڑے ، بس آپ یہ سمجھیے کہ مردوں کے لیے تو کسی عالمی ادارے کی جانب سے کوئی مخصوص دن متعین نہیں کیا گیا ہے ،جس میں اگر ان کے حقوق و اختیارات کا نہیں تو کم ازکم اسی بات پر زور دیا جائے کہ معاشرے میں ان کی ذمے داریاں کیا کیا ہیں اور انھیں اپنے بیوی بچوں اور دوسرے افراد کے ساتھ زندگی میں کس طرح کا برتاوٴ کرنا چاہیے ۔ پس آٹھ مارچ کے دن کو خواتین کے لیے مخصوص کرلینا اور اس دن آزادی نسواں اور حقوق نسواں وغیرہ پر لکچرز دینا ،لکھنا اور بولنا محض ایک رسم تو ہوسکتی ہے؛ لیکن اس کا کوئی معقول اور درست نتیجہ سامنے آنے کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ عورتوں کی آزادی یا ان کے حقوق کی بات کرنے والے یا اس کے لیے تحریکیں چلانے والے لوگ چاہتے کیا ہیں ،یہ اب تک دنیا کے سامنے نہیں آسکا ، اس ضمن میں اگر آپ اس تحریک کے علمبرداروں کی تحریریں پڑھیں ، ان کی تقریریں سنیں اور ان کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے عورتوں کی آزادی اور حقوق کا سارا دائرہ جنسی آزادی میں سمیٹ کر رکھ دیا ہے ، سارے ایسے لوگوں کو حقوق نسواں کا علمبردار کہا جاتا ہے جنھوں نے اپنی تحریروں میں جنسی انارکی کو پیش کیا ہو ۔ اب کوئی بھی انصاف پسند انسان بتائے کہ کیا یہی عورتوں کی آزادی ہے اور کیا بس یہی عورت کا حق ہے کہ وہ جہاں تہاں اپنے وقار ، عصمت اور عفت کی بے حرمتی سہتی پھرے ۔دراصل یہ اشرف المخلوقات کی رسوائی اور شیطان صفت انسانوں کی گندی سوچ کا نمونہ ہے ۔

جب بھی عورتوں کے حقوق کی بات کی جاتی ہے تو لازماً اسلام کے معاشرتی نظام پر اشکال کیا جاتا ہے ۔ یہ کہاجاتا ہے کہ اسلام نے عورتوں پر بہت ظلم کیا ہے ۔ اس کو حقوق سے محروم رکھا ہے اور اسے قیدی بناکر رکھ دیا ہے؛حالاں کہ دوسری طرف آزادیِ نسواں کے علمبرداروں کا حال یہ ہے کہ وہ عورتوں سے دفتروں میں ،کارخانوں میں کام بھی کروا رہے ہیں اور دوسری طرف انھیں سے بچے بھی پیدا کروا رہے ہیں ،بچوں کی پرورش بھی عورتوں کے ذریعے ہی کروا رہے ہیں ،آج کے دور میں جو بہت زیادہ ترقی یافتہ اور روشن خیال اور آزادیِ نسواں پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں وہ اپنی عورتوں کو اگر بہت زیادہ با اختیار بنادیتے ہیں تو یہ کرتے ہیں کہ بچوں کی پرورش کے لیے کوئی دوسری عورت رکھ لیتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ طرح طرح کی زیادتی کی جاتی ہے ،اب کوئی بتائے کہ وہ دوسری عورت کیا عورت نہیں ہے ؟جہاں تک اسلام کی بات ہے تو اس سلسلے بس اس حقیقت کوجان لینا ہی کافی ہے کہ عورتوں کے حقوق و اختیارات کی بات کرنے والے لوگ ،ممالک اور ادارے تو ابھی سو ڈیڑھ سو سال پہلے سامنے آئے ہیں؛ جب کہ اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی عورتوں کو ہر قسم کے مظالم سے اور زیادتیوں سے آزادی دلائی تھی ،سب سے پہلے اسلام نے یہ تصور عام کیا کہ بحیثیت انسان کے مردو و عورت دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور دونوں اشرف المخلوقات ہیں ، ورنہ اس سے پہلے کے مذاہب اور تہذیبیں تو عورت کو انسان بھی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، چہ جائے کہ انھیں حقوق دیتے۔ جو حقوق عورتوں کو اسلام نے دئے ہیں اور جس فیاضی سے دئے ہیں، وہ دنیا کی کوئی بھی تہذیب یا ادارہ آج تک نہ دے سکا ۔ اسلام نے عورت کو ہر حیثیت سے ایک منفرد مقام دیا ہے اور باقاعدہ اس کا تعین کیا ہے۔اگر بیوی ہے تو گھر کی ملکہ ہے ، بیٹی ہے تو والدین کے لیے رحمت ونعمت ہے ، بہن ہے تو اس کی پرورش کرنے والے بھائی کے لیے جنت کی بشارت ہے اور اگر ماں ہے تو اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے ، عورت کے حوالے سے اسلام کا یہ مجموعی تصور ہے ،کیا اتنا پاکیزہ اور جامع تصور کوئی بھی تہذیب پیش کر سکتی ہے؟اس کے علاوہ اسلام نے عورتوں کے تعلیمی ،معاشرتی و معاشی حقوق و اختیارات کو بھی واضح طورپر بیان کیا ہے۔ما ں کی گود کو بچے کی پہلی تعلیم گاہ قرار دیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ عورت کا تعلیم یافتہ ہونا اور مہذب ہونا کتنا ضروری ہے ۔انھیں حلال روزی کمانے اور اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنے کا پورا اختیار ہے ، کسی کو اجازت نہیں کہ اس کے مال میں تصرف کرے ۔ شادی بیاہ کے معاملے میں اگر چہ ولی کولڑکا تلاش کرنے اور پسند کرنے کا اختیار ہے؛ لیکن لڑکی کی مرضی اور خواہش کے بغیر کہیں بھی اس کی شادی نہیں کی جاسکتی ،اس کی رضامندی ضروری ہے ۔ اسلام نے اعتدال کو ملحوظ رکھتے ہوئے عورت کی فطری حالت اور ساخت کو بھی مد نظر رکھا ہے اور اسی وجہ سے کچھ معاملوں میں مردوں کے احکام الگ ہیں؛ جب کہ عورتوں کے الگ ہیں اور اس میں کسی اچنبھے کی بات بھی نہیں ہے ؛ کیوں کہ ہم سب دیکھتے اور جانتے ہیں کہ چاہے انسان کا معاملہ ہو یا حیوان کا یا کسی بھی چیز کا جتنی اس کی صلاحیت اور وسعت ہوتی ہے اسی کے مطابق اس پر ذمے داری عائد کی جاتی ہے یااسی کے مطابق اس کو اختیارات دئے جاتے ہیں۔ اسلام اپنے ماننے والوں کی زندگی بھر کے تمام تر مرحلوں میں مکمل رہنمائی کرتا ہے اور عورتوں اور مردوں دونوں کے لیے حقوق اور اختیارات طے کرتا ہے ، اگر دونوں اپنے اپنے دائرے میں رہ کر انھیں برتیں تو انسانی معاشرہ ہر طرح سے خوشحال اور مامون بن سکتا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں خود مسلمانوں کا بھی ایک بڑا طبقہ دین اسلام کی تعلیمات و ہدایات سے دور ہوچکا ہے ، جس کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں بے شمار خرابیاں جنم لے چکی ہیں اور بہت سے بدباطن لوگ مسلمانوں کی عملی خامیوں کو اسلام سے جوڑ کر دیکھتے ہیں ۔ ضرورت ہے کہ مسلمان اپنے معاشرے میں مردو و زن کے حقوق و اختیارات کے حوالے سے اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں ، اس کے لیے باقاعدہ تحریک چلائی جائے ، ان شاء اللہ اس سے نہ صرف ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے افراط و تفریط کا خاتمہ ہوگا؛ بلکہ دوسرے لوگ بھی ہمارے طرزِ عمل سے متاثر ہوکر اسلامی تعلیمات کی طرف متوجہ ہوں گے۔
(حقوقِ نسواں،دورِ حاضر کے پرفریب نعرے اور اسلامی تعلیمات، از: مولانا اسرارالحق قاسمی)

میرا جسم میری مرضی

یوم خواتین پر گزشتہ چند سالوں سے عجیب و غریب اور بیہودہ نعرے سننے اور دیکھنے میں آئے ہیں، انھی میں سے ایک "میرا جسم میری مرضی" ہے،
"میری مرضی" کے دعوے کی بنیاد "میرا جسم" کی دلیل پر ہے، سوال یہ ہے کہ جسم پر آپ کی ملکیت کے دعوے کی بنیاد کیا ہے، "جسم" نہ تو آپ نے "بنایا" ہے نہ آپ نے "کمایا" ہے، لہذا جب نہ آپ اپنے جسم کے "خالق" ہیں نہ ہی اس کا کوئی "معاوضہ" آپ نے ادا کیا یے تو اس پر آپ کی ملکیت کا دعویٰ ہی سرے سے غلط ہے۔
اسلام تو سیدھی سادی بات کرتا ہے کہ جسم کا مالک اللہ ہے، تو اس پر مرضی بھی اللہ کی چلے گی، انسان محض اس جسم کا ذمہ دار اور نگراں ہے اور قیامت کے د

Address

MADNI MASJID BHUNA ABDUL AHAD WARD NO 11 PURAB TOLA BHUNA
Araria
854325

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madni Masjid Bhuna posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Madni Masjid Bhuna:

Share

Category