27/09/2023
12 ربیع الاول یا 12 وفات
20 اپریل کی تاریخ تھی
571 ء کا سال تھا
عربی مہینوں کے اعتبار سے ربیع الاول کا مہینہ تھا
9 تاریخ تھی عام طور پر شہرت یہ ہو گئ ہے
کہ 12 تاریخ کو حضور ﷺ پیدا ہوۓ
یہ غلط ہے تاریخی اعتبار سے غلط ہے
ریاضی اعتبار سے غلط ہے
علم ہیئت کے اعتبار سے غلط ہے۔
لیکن بہت سی چیزیں ہمارے معاشرے میں غلط ہیں
جو چلتی ہیں لوگ چلاتے ہیں ۔
تحقیق کی عادت نہیں ہے
غور و فکر کی صلاحیت نہیں ہے ۔
آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں
کانوں میں ڈانٹیں پڑی ہوئی ہیں۔
رسموں رواج کے پابند ہیں
لوگ کہتے چلے آرہے ہیں
جو سب کہینگے وہی تم کہوگے
ایسے لوگوں کے بارے میں حضور نے فرمایا کہ وہ اِمَّئہ ہوتے ہیں۔
جو صرف چلی چلائی بات کو قبول کرتے ہیں
جن کے پاس تدبر کی صلاحیت نہیں
جن کے پاس غور و فکر کی صلاحیت نہیں
جنہوں نے عقلوں پر تالے ڈال رکھے ہیں
جنہوں نے دماغوں کو سُکھا رکھا ہے
جن کے دل بجھ گۓ ہیں
جو حقیقتوں کی طرف آگے بڑھنے کو تیار نہیں
اور یہ جو رواجی اور رسمی بات ہے کہ 12 ربیع الاول کو پیدائش ہوئ ہے
عجیب بات ہے جو لوگوں کی زبانوں پر ہے
12 وفات 12 وفات
کلمہ جو ان کی زبان پر ہے وہ وفات کا ہے
اور اس کے ساتھ وہ پیدائش کو جوڑ لیتے ہیں
ہاے افسوس
کہ حضور کی وفات کے دن جشن مناتے ہیں
کیا یہ دشمن رسول ہیں
حضور کی وفات کے دن چراغاں کرتے ہیں
کیا ان کی طبیعتیں تبدیل ہو گئ ہیں
حضور کی وفات کے دن وہ ایسے مظاہرے کرتے ہیں
جو شادیوں میں کۓ جاتے ہیں
جشنوں میں کۓ جاتے ہیں
اس دن اللہ تعالی سے دعا مانگوں
اے اللہ نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام کو ہمارے درمیان سے آپ نے اٹھا لیا
لیکن اے اللہ نبی کی تعلیمات کو
نبی کی نبوت کو ، رسالت کو ، ہدایت کو ، حدیث کو ، سنت کو ، اور آپ کے ارشادات کو ہمارے درمیان ایسا زندہ فرما دے
ایسا روشن فرمادے کہ اس چراغ کو اس سورج کو کوئی بجھا نہ سکے ہونا یہ چاہیۓ تھا ۔۔۔
🎤 شیخ سلمان الحسینی الندوی حفظه اللہ
✍️ عبد الوہاب