20/05/2026
نماز ِعید الاضحی کا طریقۂ کار اور اس سے متعلق مسائل
1۔ سب سے پہلے نیت کرے کہ: ’’دو رکعت واجب نماز عید الاضحی چھ واجب تکبیروں کے ساتھ ادا کرنے کا ارادہ کرتا ہوں۔‘‘ نماز کی ادائیگی کا طریقۂ کار یہ ہے:
پہلی رکعت: تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھ لے۔ امام اور مقتدی سبحانک اللّٰھم آخر تک پڑھیں۔ اس کے بعدامام تین مرتبہ اللّٰہ اکبر کہہ کر دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے اور ہاتھ چھوڑ دے۔ آخری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لے۔ مقتدی بھی اس کی اقتدا کریں۔ اس طرح تین تکبیرات ادا کی جائیں گی۔ہر دو تکبیروں کے درمیان اتنا وقفہ ضروری ہے کہ تین مرتبہ سبحان اللّٰہ کہہ لے۔
اس کے بعد دیگر نمازوں کی طرح سورتِ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھی جائے اور رکوع و سجود کیے جائیں۔
دوسری رکعت: امام پہلے قرأت کرے گا، اس کے بعد پہلی رکعت کی طرح تین تکبیراتِ زائدہ ادا کی جائیں۔ ہر دفعہ کانوں تک ہاتھ اٹھا کر چھوڑ دیے جائیں۔ آخری تکبیر کے بعد ہاتھ چھوڑے ہوئے ہی رکوع کی تکبیر کہہ کر رکو ع میں جائیں اور سجدوں کے بعد حسب ِمعمول تشہد پڑھ کر نماز مکمل کریں۔
2۔ نماز عید الاضحی کے بعد امام دو خطبے پڑھے گا۔ خطبہ پڑھنا سنت ہے اور خطبہ سننا واجب ہے، یعنی اس وقت بولنا، چلنا پھرنا اور نماز پڑھنا وغیرہ سب ناجائز ہے۔
3۔ اگر کسی کو عید کی نماز نہ ملی ہو اور سب لوگ پڑ ھ چکے ہوں تو وہ شخص تنہا نماز ِعید نہیںپڑھ سکتا۔ اس لیے کہ نماز ِعید میں جماعت شرط ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص نماز ِعید میں شریک ہوا، پھر کسی وَجہ سے اس کی نماز فاسد ہوگئی ہو تو وہ بھی اس کی قضا نہیں پڑھ سکتا، نہ اس پر قضا واجب ہے۔ البتہ اگر فاسد ہونے والی نماز میں کچھ اَور لوگ بھی شریک ہیں تو پھر اُن کے لیے جماعت سے پڑھنا واجب ہے۔