Islamic Reformatory Centre

Directions Website

Islamic Reformatory Centre Islamic Reformatory Centre (IRC) intends to educate humanity about the Holy Quran.

The humanity of every era dearly needs special attention to the reformation process. The best instrument to deeply analyze such problems and their solutions is none other than Allah Almighty’s last message (The Holy Quran). Islamic Reformatory Centre (IRC) intends to educate humanity about the Holy Quran appealingly and effectively. Eradicating suspicion about the understanding of the Holy Quran is among the core objectives of IRC to achieve.

شرک کے لیے کسی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرح ازلی، ابدی، قدیم ماننا ضروری نہیں ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ مشرکینِ عرب اللہ کو خا...
20/09/2026

شرک کے لیے کسی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرح ازلی، ابدی، قدیم ماننا ضروری نہیں ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ مشرکینِ عرب اللہ کو خالق اور رب مانتے تھے، پھر بھی مشرک تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ شرک کا تعلق صرف ازلیت و ابدیت سے نہیں، بلکہ اللہ کے ساتھ مخلوق کو شریک کرنے سے ہے۔

#قرآن #اسلام

سورۃ فاطر اور سورۃ الواقعہ میں انسانوں کی درجہ بندیقرآن مجید اپنے پیغام کو نہ صرف واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے بلکہ مختلف...
18/09/2026

سورۃ فاطر اور سورۃ الواقعہ میں انسانوں کی درجہ بندی

قرآن مجید اپنے پیغام کو نہ صرف واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے بلکہ مختلف مقامات پر ایک ہی حقیقت کو مختلف اسالیب اور مثالوں سے دہرا کر ذہن نشین بھی کراتا ہے۔ یہی اسلوب سورۃ فاطر اور سورۃ الواقعہ میں نظر آتا ہے جہاں انسانوں کو تین الگ گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان گروہوں کا تعارف، ان کے اعمال، اور ان کے انجام کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قاری کے لیے یہ بات واضح ہو جائے کہ نجات پانے والے اور ہلاک ہونے والے کون ہیں۔

تاہم مفسرین کی ایک بڑی تعداد نے ان میں سے ایک گروہ، یعنی”ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ“ کے بارے میں ایک ایسی تشریح اختیار کی ہے جو قرآن مجید کے سیاق اور دیگر آیات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں سورتوں کو ساتھ رکھ کر ان گروہوں کا تجزیہ کیا جائے اور ” ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ “ کے قرآنی استعمال کو سمجھا جائے۔

سورۃ فاطر کی آیات ۳۲ سے ۳۷ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے اپنی کتاب کا وارث بنائے جانے والے بندوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا: کچھ وہ ہیں جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں، کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہیں۔ سب سے پہلے ذکر”ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ “کا ہے، اور پھر اسی سورۃ کی آیت ۳۷ میں نہایت سخت انداز میں فرمایا ”فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ “ یعنی ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں۔ یہاں لفظ ”ظَالِمِينَ “ محض اخلاقی کوتاہی یا معمولی گناہ کے معنی میں نہیں بلکہ سورۃ کے سیاق و سباق کے تناظر میں کافروں اور مجرموں کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ دیگر مقامات پر بھی یہ لفظ انہی کے لیے آیا ہے۔

مزید برآں انہی آیات میں ان کے انجام کی تفصیل بھی بیان کی گئی کہ ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، وہاں نہ موت آئے گی نہ عذاب میں کمی ہو گی، اور ان کی فریاد بھی رد کر دی جائے گی۔ یہ سب اوصاف اور انجام کسی مومن کے لیے نہیں ہو سکتے ۔ اس لیے” ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ “کو گناہگار مومن قرار دینا قرآن مجید کے بیان سے متصادم ہے۔

جب ہم اس تقسیم کو سورۃ الواقعہ کی تقسیم کے ساتھ رکھ کر دیکھتے ہیں تو دونوں مقامات کا ربط بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ سورۃ الواقعہ میں تین ہی گروہوں کا ذکر ہے:السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ،أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ،اور أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ۔

”السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ“وہی ہیں جوسورۃفاطرمیں”سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ“کہلائے،”أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ“وہی”مُقْتَصِدٌ“ہیں،اور”أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ“وہی”ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ “ہیں جن کے بارے میں فاطر میں ”فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ “ کی وعید آئی ہے۔ اس واضح ہم آہنگی کو نظر انداز کر کے مفسرین جب ”ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ “کو گناہگار مسلمان کہتے ہیں تو وہ نہ صرف سورۃ فاطر کے سیاق اور انجام کے بیان کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ سورۃ الواقعہ کی تقسیم کے ساتھ اس کا ربط بھی توڑ دیتے ہیں۔

لفظ ”ظَالِمِينَ “ کے قرآنی استعمال پر غور کرنے سے یہ حقیقت مزید پختہ ہو جاتی ہے۔ قرآن مجید میں جب بھی یہ لفظ کسی انجام یا وعید کے ساتھ آتا ہے تو اس سے مراد ہمیشہ وہ مجرم اور کافر ہوتے ہیں جو حق کا انکار کرتے ہیں اور سرکشی پر اصرار کرتے ہیں۔”أَلَا لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ“ (هود: ۱۸) اور ”إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ“ (إبراهيم: ۲۲) جیسے مقامات پر اس کا استعمال بالکل اسی معنی میں ہوا ہے۔ اس بنا پر سورۃ فاطر میں” ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ “کو مومن قرار دینا اور ان کے لیے جہنم کے ابدی انجام کو وقتی یا عارضی عذاب قرار دینا کسی مضبوط قرآنی دلیل پر مبنی نہیں ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ سورۃ فاطر اور سورۃ الواقعہ مل کر ایک ہی حقیقت کو مکمل کرتے ہیں۔”سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ “اور ”السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ “ ایک ہی گروہ ہیں جو قربِ الٰہی کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوں گے، ”مُقْتَصِدٌ“ اور” أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ “ وہ نیک مومن ہیں جو نجات پائیں گے مگر سبقت کرنے والوں کے مقام تک نہیں پہنچیں گے، اور” ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ “ اور ”أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ “ وہی کافر و مجرم ہیں جن کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہے۔ اس تقابلی مطالعے سے نہ صرف آیات کا صحیح مفہوم سامنے آتا ہے بلکہ مفسرین کی اس غلط فہمی کی بھی اصلاح ہو جاتی ہے کہ” ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ “ سے مراد گناہگار مسلمان ہیں، کیونکہ قرآن مجید کے بیان اور الفاظ کے استعمال سے یہ تاثر سراسر غلط ثابت ہوتا ہے۔

#قرآن #اسلام

قرآن مجید میں حرام اشیاء کی ترتیب اور اس کی حکمتتعارفاسلام ایک مکمل دین ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے...
14/09/2026

قرآن مجید میں حرام اشیاء کی ترتیب اور اس کی حکمت

تعارف
اسلام ایک مکمل دین ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ حلال اور حرام کا تصور اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے، جو انسان کو پاکیزہ، متوازن اور بامقصد زندگی گزارنے کی راہ دکھاتا ہے۔ کھانے پینے کے حوالے سے قرآن مجید نے واضح احکام دیے ہیں، تاکہ انسان جسمانی اور روحانی آلودگی سے محفوظ رہ سکے۔ قرآن میں متعدد آیات ایسی ہیں جو کھانے کی ممنوعات پر روشنی ڈالتی ہیں۔ یہ مضمون ان احکام کی تفصیل، حکمت اور ان کی عصری اہمیت کو بیان کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

قرآنی آیات کا ذکر
قرآن مجید میں حرام اشیاء کا ذکر مختلف مقامات پر کیا گیا ہے۔ ان میں چند اہم آیات درج ذیل ہیں:
﴿إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ﴾
تم پر حرام کیا گیا مردار، خون، سور کا گوشت، اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔سورۃ البقرۃ (2:173)

﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾
تم پر حرام کیا گیا مردار، خون، سور کا گوشت، وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا، گلا گھٹنے سے مرا ہوا، چوٹ سے مرا ہوا، بلندی سے گر کر مرا ہوا، سینگ لگنے سے مرا ہوا، اور وہ جسے درندوں نے پھاڑ ڈالا، سوائے اس کے جسے تم نے (ذبح کر کے) پاک کر لیا ہو۔سورۃ المائدۃ(5:3)

﴿قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ﴾
کہہ دو، مجھے جو وحی کی گئی ہے، اس میں میں کسی کھانے والے پر اس چیز کو حرام نہیں پاتا جو وہ کھائے، سوائے مردار، بہتا ہوا خون، یا سور کے گوشت کے کہ وہ گندگی ہے، یا وہ جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔سورۃ الانعام (6:145)

﴿إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ﴾
تم پر صرف مردار، خون، سور کا گوشت، اور وہ جانور حرام کیا گیا جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔سورۃ النحل (16:115)

حرام اشیاء کی تفصیل
قرآن میں چار بنیادی اشیاء کو حرام قرار دیا گیا ہے:

مردار
سب سے پہلے مردار کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ مردار کا مطلب وہ جانور ہے جو کسی بیماری، حادثے یا طبعی موت سے مر جائے اور جسے شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا گیا ہو۔ ایسا گوشت کھانا انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ مرنے کے فوراً بعد جانور کے جسم میں مختلف قسم کے جراثیم اور زہریلے مواد پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ مواد جسم میں انفیکشنز اور بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
مزید برآں، مردار کا گوشت کھانا انسانی فطرت کے خلاف بھی ہے، کیونکہ فطری طور پر انسان وہ چیز پسند کرتا ہے جو تازہ اور صحت بخش ہو۔ مردار کے ذکر کو پہلے رکھنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلام انسانی زندگی اور صحت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

خون
حرام اشیاء میں دوسری چیز خون ہے۔ خون کو حرام قرار دینے کی کئی طبی اور اخلاقی وجوہات ہیں۔ خون انسانی جسم کے لیے مفید غذائیت فراہم کرنے کی بجائے بیماریوں اور نجاست کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس میں جراثیم اور زہریلے مادے ہوتے ہیں جو مختلف قسم کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
اسلام نے ہمیشہ پاکیزگی اور طہارت پر زور دیا ہے، اور خون کو کھانے سے منع کرنا اس اصول کا عملی مظہر ہے۔ خون کا ذکر دوسرے نمبر پر ہے، کیونکہ یہ نہ صرف جسمانی طور پر مضر ہے بلکہ روحانی پاکیزگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔

سور کا گوشت
تیسری چیز سور کا گوشت ہے، جسے اسلام میں مکمل طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ سور ایک ایسا جانور ہے جو اپنی فطرت میں گندگی اور ناپاکی کا عادی ہے۔ طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سور کے گوشت میں ایسے کئی جراثیم اور بیماریاں پائی جاتی ہیں جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں، مثلاً ٹریچینوسس اور دیگر پیراسائٹک انفیکشنز۔

اخلاقی طور پر بھی سور کے گوشت کی ممانعت انسان کو پاکیزگی اور اعلیٰ کردار کی طرف مائل کرتی ہے۔ سور اپنی فطری عادات کی وجہ سے ایک بے احتیاط اور بے قید جانور سمجھا جاتا ہے، اور اس کے گوشت کو کھانا انسان کے رویے اور عادات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا جانور
آخری چیز وہ جانور ہیں جنہیں اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا جائے۔ یہ خالصتاً عقیدے اور توحید کی حفاظت کا معاملہ ہے۔ اسلام کی بنیاد توحید پر ہے، اور کسی بھی ایسی چیز کو کھانا یا استعمال کرنا جو شرک کی علامت ہو، اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ یہ شرک اور بدعقیدگی کی طرف لے جانے والی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے۔
یہ حکم مسلمانوں کو یاد دلاتا ہے کہ ان کا ہر عمل، یہاں تک کہ کھانے پینے جیسا روزمرہ کا کام بھی، اللہ کی رضا اور اس کی توحید کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

ان احکام کی حکمتِ ترتیب
ان چار اشیاء کی ترتیب میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے مردار اور خون کا ذکر کیا گیا، جو جسمانی صحت اور طبی نقصان سے متعلق ہیں۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلام جسمانی صحت کو اولین اہمیت دیتا ہے۔ اس کے بعد سور کا گوشت آتا ہے، جو اخلاقی اور روحانی نقصان سے بچنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آخر میں غیراللہ کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کا ذکر کیا گیا، جو براہ راست عقیدے اور توحید کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔اس ترتیب میں یہ حکمت بھی پنہاں ہے کہ اگر انسان کو کسی مجبوری کے تحت ان چیزوں میں سے کچھ کھانے کا انتخاب کرنا ہو، تو اس ترتیب سے کھانے کو ترجیح دی جائے:
۱۔ مردار
۲۔خون
۳۔ سور کا گوشت
۴۔ غیر اللہ کے نام کی چیز
مزید یہ کہ قرآن مجید بتا رہا ہے کہ غیر اللہ کے نام کی چیز اگرچہ ہمارے روز مرہ کی کھانے کی چیز ہی کیوں نہ ہو لیکن اس کی حرمت پہلی تین چیزوں کی حرمت سے بڑھ کر ہے۔گویا روحانی صحت کے نقصان سے بہتر ہے کہ تھوڑا جسمانی صحت کا نقصان گوارا کر لیا جائے۔

دیگر شریعتوں میں ممانعت
یہودیت اور مسیحیت میں بھی کئی حرام اشیاء کا ذکر ملتا ہے۔ توریت میں مردار، خون اور سور کا گوشت حرام قرار دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ تمام الہامی شریعتوں کا مقصد انسان کی اصلاح اور رہنمائی ہے۔

نتیجہ
قرآن مجید میں بیان کردہ حرام اشیاء کی فہرست محض ایک مذہبی حکم نہیں بلکہ انسانی فلاح کا ایک جامع منصوبہ ہے۔ یہ احکام صحت، اخلاق اور عقیدے کی حفاظت کے لیے دیے گئے ہیں۔ ان کی ترتیب اور وضاحت انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، اور جدید تحقیق بھی ان کی افادیت کو ثابت کرتی ہے۔ اسلام کا ہر حکم ایک متوازن اور پاکیزہ زندگی کی جانب رہنمائی فراہم کرتا ہے، اور یہی ان آیات کا بنیادی مقصد ہے۔

#قرآن #اسلام

14/08/2026
قرآن کے مطابق قیامت کے دن شفاعت کا مکمل اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہوگا اور کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سک...
14/08/2026

قرآن کے مطابق قیامت کے دن شفاعت کا مکمل اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہوگا اور کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکے گا۔ شفاعت بھی اللہ کی رضا کے تابع ہے۔ سورۃ الفرقان میں رسول ﷺ کی شکایت بیان ہوئی کہ ان کی قوم نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔ لہٰذا حقیقی نجات قرآن سے مضبوط تعلق، اسے سمجھنے اور اس کی ہدایت پر عمل کرنے میں ہے۔

13/08/2026

قرآن کے مطابق قیامت کے دن شفاعت کا مکمل اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہوگا اور کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکے گا۔ شفاعت بھی اللہ کی رضا کے تابع ہے۔ سورۃ الفرقان میں رسول ﷺ کی شکایت بیان ہوئی کہ ان کی قوم نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔ لہٰذا حقیقی نجات قرآن سے مضبوط تعلق، اسے سمجھنے اور اس کی ہدایت پر عمل کرنے میں ہے۔

#قرآن #اسلام

قرآن کے مطابق قیامت کے دن شفاعت کا مکمل اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہوگا اور کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سک...
13/08/2026

قرآن کے مطابق قیامت کے دن شفاعت کا مکمل اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہوگا اور کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکے گا۔ شفاعت بھی اللہ کی رضا کے تابع ہے۔ سورۃ الفرقان میں رسول ﷺ کی شکایت بیان ہوئی کہ ان کی قوم نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔ لہٰذا حقیقی نجات قرآن سے مضبوط تعلق، اسے سمجھنے اور اس کی ہدایت پر عمل کرنے میں ہے۔

#قرآن #اسلام

07/08/2026

خدا کا نظر نہ آنا اس کے وجود کی نفی نہیں کرتا کیونکہ ہر موجود حقیقت آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی۔ کائنات کا حیرت انگیز نظم، تخلیق اور قوانین خالق کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ قرآن انسان کو اللہ کی نشانیوں میں غور کی دعوت دیتا ہے۔

#قرآن #اسلام See less

خدا کا نظر نہ آنا اس کے وجود کی نفی نہیں کرتا کیونکہ ہر موجود حقیقت آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی۔ کائنات کا حیرت انگیز نظم، ...
07/08/2026

خدا کا نظر نہ آنا اس کے وجود کی نفی نہیں کرتا کیونکہ ہر موجود حقیقت آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی۔ کائنات کا حیرت انگیز نظم، تخلیق اور قوانین خالق کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ قرآن انسان کو اللہ کی نشانیوں میں غور کی دعوت دیتا ہے۔

#قرآن #اسلام

Address

Abohar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Reformatory Centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share