14/05/2024
جمع و تدوین قران اور قران
اللہ تعالی کی نازل کردہ اس کتاب قرآن کو پہلے دن سے اج دن تک جہاں طرح طرح کے مختلف چیلنجز درپیش ائے ان چیلنجز کے اندر اس قران کے خلاف طرح طرح کی سازشیں ہوئیں اور اللہ تعالی کی نازل کردہ اس کتاب کو ہر اعتبار سے متنازع بنانے کی کوششیں ہر دور میں اپنی پوری اب و تاب کے ساتھ جاری رہیں۔
ان کوششوں کا سلسلہ کئی صدیوں تک محیط ہے اور یہ سلسلہ اج دن تک جاری و ساری ہے۔ قران اور مسلمانوں کے خلاف جو سب سے بڑی سازش ہوئی وہ اس عظیم کتاب کو بغیر سمجھے مسلمانوں کو پڑھنے پر لگا کر اسے محض ثواب اور جنتر منتر کی کتاب بنا ڈالا اور اس طرح مسلمانوں کو عملی اور فکری طور پر قران سے دور کر کے پھر اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قران کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیاں اور غلط فہمیاں لوگوں کے ذہنوں میں پیدا کی جاتی رہیں اور روایات کی اندھی تقلید اور خوفناک قسم کی شخصیات پرستی بلکہ یوں کہا جائے کہ کفریہ حد تک کی شخصیات پرستی کے ساتھ ساتھ مناسب تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے ان غلط فہمیوں کو دوام بخشا جاتا رہا۔
شخصیات پرست معاشروں کا یہ المیہ ہوتا ہے کہ ایسے معاشرے علم و تحقیق سے کوسوں دور رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان معاشروں میں تعصب اور تنگ نظری فروغ پاتی ہے۔ ایسے معاشروں کے باسی چونکہ حریت فکر کی لذت سے سرے سے آشنا ہی نہیں ہو پاتے اس لیے ایسے معاشروں کے باسی اپنی سوچ, فکر اور نظریات کو کسی خاص شخص, کسی خاص مسلک یا کسی مخصوص سیاسی جماعت کے زیر اثر رکھنے میں لذت, اطمینان اور عافیت محسوس کرتے ہیں یہی وجہ ہوتی ہے متعصب و تنگ نظر معاشروں میں جہاں ایک طرف مورخین ہمیشہ اپنی اپنی سیاسی وابستگیوں کے زیر اثر رہ کر حقائق کو مسخ کر متنازع تاریخ لکھتے نظر اتے ہیں وہیں دوسری طرف مذہب سے جڑی شخصیات انتہا پسندی کی حد تک اپنے اپنے مسلک اور فرقہ کے پجاری بنے پھرتے نظر اتے ہیں۔
قران کے متعلق چند بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک سب سے بڑی غلط فہمی جو امت مسلمہ میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ قران کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کتابی شکل کے اندر مرتب و مدون نہیں کیا گیا تھا اور یہ کام بعد میں آنے والے خلفائے راشدین کے دور کے اندر پایا تکمیل تک پہنچایا گیا۔ اس سلسلے میں درجنوں روایات کو بنیاد بنایا جاتا ہے اور وجہ اس کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک تو اس دور کے اندر لکھنے پڑھنے کا رواج عام نہیں تھا اور دوسری وجہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم خود لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے اسی لیے انہیں امی کہا گیا اور تیسری وجہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے اندر ایسی کوئی "ٹیکنالوجی" موجود نہیں تھی کہ قرآن کو کتابی شکل کے اندر مرتب و مدون کیا جا سکتا ۔
ان روایات اور اس دعوے نے قران کی حقانیت و قطعیت اور قیامت تک محفوظ ہو جانے کے ربانی و قرانی موقف ہی کو سرے سے چیلنج کر ڈالا اور قران کی حقانیت و قطعیت کو سخت اور ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی اور قران کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیاں اور غلط فہمیاں پیدا کر دی گئی اور اپ اگر کبھی ٹائم نکال کر ان روایات کو اکٹھا کر کے پڑھ لیں تو ان روایات کو پڑھ کر انسانی جسم تک کانپ اٹھتا ہے اس لیے میں ان روایات پر زیادہ بات نہیں کر سکتا۔
ائیں قران سے تصریف ایات کی مدد سے اس تصور کو جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں قران ہمیں کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
قران کی ابتدائی سورت سورہ فاتحہ کے بعد سورہ البقرہ کے بالکل شروع میں اللہ تعالی نے قران کو ذالک الکتاب (شک و شبہ سے پاک کتاب) یعنی "کتاب" کہہ کر پکارا
اب اگر عرب تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو لفظ کتاب کے حوالے سے یہ بات سامنے اتی ہے کہ اَلْکَتْبُ: کے اصل معنی کھال کے دو ٹکڑوں کو ملاکر سی دینے کے ہیں چنانچہ کہا جاتا ہے :کَتَبْتُ السِّقَائَ ’’میں نے مشکیزہ کو سی دیا۔
عربوں کے ہاں جب منتشر اوراق کی شیرازہ بندی کر دی جاتی تھی تو اسے کتاب کہا جاتا تھا۔ کتاب کی آج بھی وہی شکل ہوتی ہے۔
لیکن کتابؔ کے بنیادی معنون میں قانون‘ یا جو کچھ کسی پر واجب قرار دیاجائے‘ بھی داخل ہے۔ قرآن کریم کو کتاب کہا گیا ہے تو اس میں دونوں معانی شامل ہیں۔ یعنی قانونِ زندگی۔ ضابطہ حیات۔ فرائض وواجبات کا نوشتہ۔ اور کتاب بمعنی۔ (Book) بھی۔
اس سے واضح ہے کہ نبی اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ میں قرآن کتابی شکل میں مدون ہو رہا تھا /ہو چکا تھا اسی وجہ سے اللہ تعالی نے اسے کئی جگہوں پر کتاب کہہ کر پکارا۔
اب اس دور کے اندر لکھنے پڑھنے کا رواج عام تھا یا نہیں اس حوالے سے بھی اگر قران کو دیکھا جائے تو بہت سی ایات کے ساتھ سورة البقرة کی آیت نمبر ٢٨٢ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۚ
اے ایمان والو! جب تم کسی مدت کیلئے لین دین کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو
ظاہر ہے کہ اس قسم کا حکم صرف اور صرف اسی صورت میں دیا جاسکتا ہے، جب کسی معاشرے میں لکھنے پڑھنے کا رواج عام ہو
سورہ البقرہ کی یہ پوری ایت اگر پڑھ لی جائے تو یہ ایت اس غلط فہمی کو بھی دور کر دیتی ہے کہ اس معاشرے کے اندر لکھنے پڑھنے کا رواج عام نہیں تھا
اگے قران ہی سے دیکھتے ہیں کہ ایا اس دور کے اندر ایسی کوئی "ٹیکنالوجی" میسر تھی یا نہیں جس "ٹیکنالوجی" کی مدد سے چیزوں کو لکھ کر لمبے عرصے کے لیے محفوظ کیا جا سکتا۔
اس حوالے سے قران کی مختلف ایات کے ساتھ سورہ طور کی ابتدائی ایات کے اندر ہمیں مکمل رہنمائی ملتی ہے۔ وہ ایات یہ ہیں۔
Surat No 52 : سورة الطور - Ayat No 1-3
وَ الطُّوۡرِ وَ کِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ فِیۡ رَقٍّ مَّنۡشُوۡرٍ
قسم ہے طور کی۔ اور لکھی ہوئی کتاب کی۔ جو جھلی کے کھلے ہوئے ورق میں ہے ۔
ان ایات کے متعلق اہل علم کی تصانیف کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بڑی صراحت کے ساتھ واضح ہو جاتی ہے کہ قدیم زمانے میں جن کتابوں اور تحریروں کو زمانہ دراز تک محفوظ رکھنا ہوتا تھا انہیں ہرن کی کھال پر لکھا جاتا تھا ۔ یہ کھال خاص طور پر لکھنے ہی کے لیے رقیق جلد یا جھلی کی شکل میں تیار کی جاتی تھی اور اصطلاح میں اسے رَقّ کہا جاتا تھا۔ اہل کتاب بالعموم تورات، زبور، انجیل اور صُحُف انبیاء کو اسی رَقّ پر لکھا کرتے تھے تاکہ طویل مدت تک محفوظ رہ سکیں۔
اوپر بیان کردہ سورہ طور کی ان ایات میں اگر لکھی ہوئی کتاب سے مراد خود قران ہے تو یہ پورا تصور نکھر کر سامنے ا جاتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے اندر قران کتابی شکل میں مدون ہو چکا تھا اور اگر ان ایات میں لکھی ہوئی کتاب سے مراد سابقہ کتب ہیں تو بھی ہمیں کم از کم اتنی رہنمائی ضرور مل جاتی ہے کہ اس دور کے اندر ایسی "ٹیکنالوجی" دستیاب ضرور تھی جس "ٹیکنالوجی" کو استعمال کر کے کتابوں کو لکھ کر لمبے عرصے کے لیے محفوظ کیا جا سکتا تھا۔
اگے مزید دیکھیں تو سورہ فرقان کے اندر کفار کا قران کے بارے میں ایک اعتراض ہمیں پڑھنے کو ملتا ہے۔ وہ ایت ملاحظہ فرمائیں۔
Surat No 25 : سورة الفرقان - Ayat No 5
وَ قَالُوۡۤا اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ اکۡتَتَبَہَا فَہِیَ تُمۡلٰی عَلَیۡہِ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿۵﴾
اور ( کفار نے ) یہ بھی کہا کہ یہ تو اگلوں کے افسانے ہیں جو اس نے لکھ رکھے ہیں بس وہی صبح و شام اس کے سامنے پڑھے جاتے ہیں۔
اس ایت میں کفار کے اعتراض پر غور کرنے سے یہ بات بخوبی معلوم ہو جاتی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے اندر قران کو باضابطہ طور پر نہ صرف لکھوایا گیا تھا بلکہ اس کو باضابطہ طور پر پڑھا بھی جاتا تھا۔
اب مزید قران ہی سے دیکھتے ہیں کہ قران کا پہلا مصنف کون تھا۔ اس سلسلے میں قران کی ایک ایت ملاحظہ کریں۔
Surat No 29 : سورة العنكبوت - Ayat No 48
وَ مَا کُنۡتَ تَتۡلُوۡا مِنۡ قَبۡلِہٖ مِنۡ کِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیۡنِکَ اِذًا لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے تھے نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک و شبہ میں پڑتے۔
اس ایت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ نزول قران کے بعد اپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے مبارک ہاتھوں سے قران کو لکھا کرتے تھے سو اس اعتبار سے اپ صلی اللہ علیہ وسلم روئے زمین پر خود اس قران کے پہلے مصنف ٹھہرے۔
اسی ایت سے جڑی اگلی ایت دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے اندر کئی صحابہ کرام اس کتاب کو اپنے سینوں میں محفوظ بھی کر رہے تھے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا تھا جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں قران کو باضابطہ طور پر کتابی شکل کے اندر محفوظ کر دیا گیا ہو۔
ایت ملاحظہ فرمائیں۔
Surat No 29 : سورة العنكبوت - Ayat No 49
بَلۡ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیۡ صُدُوۡرِ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۹﴾
بلکہ یہ قرآن تو روشن آیتیں ہیں اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں ہماری آیتوں کے منکر بجز ظالموں کے اور کوئی نہیں۔
اسی سلسلے کو مزید اگے بڑھاتے ہیں۔
سورہ بقرہ کی ایک اور ایت پیش خدمت ہے اس ایت کے اندر کفار اور منافقین کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعووں میں سچے ہیں تو قران جیسی کوئی سورت بنا کر لے ائیں۔
ایت ملاحظہ فرمائیں۔
Surat No 2 : سورة البقرة - Ayat No 23
وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪ وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۳﴾
ہم نے جو کچھ اپنے بندے پر اُتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچّے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ، تمہیں اختیار ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو ۔
اب اس ایت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ بنا لانے کا چیلنج صرف اسی صورت میں دیا جا سکتا ہے جب قران کی سورتیں ترتیب دی جا چکی ہوں ورنہ دوسری صورت میں اللہ معاف کرے اس چیلنج کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہتی۔
ان ایات سے اپ نے دیکھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے اندر جیسے جیسے قران کی ایات نازل ہو رہی تھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے مبارک ہاتھوں سے ان ایات کو لکھ کر اپنے مبارک ہاتھوں سے وحی کی روشنی میں سورتوں کو ترتیب بھی دے دیا کرتے تھے اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ کئی صحابہ کرام ان ایات کو اپنے سینوں میں محفوظ بھی کیا کرتے تھے۔
وحی کی روشنی میں سورتیں ترتیب دینے کا اشارہ ہمیں اس ایت سے ملتا ہے وہ ایت ملاحظہ فرمائیں۔
Surat No 9 : سورة التوبة - Ayat No 127
وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ نَّظَرَ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ ؕ ہَلۡ یَرٰىکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا ؕ صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾
جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں کہ تم کو کوئی دیکھتا تو نہیں پھر چل دیتے ہیں اللہ تعالٰی نے ان کا دل پھیر دیا اس وجہ سے کہ وہ بے سمجھ لوگ ہیں
اس ایت میں سورۃ نازل کرنے کے الفاظ پر غور کرنے سے بھی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سورتوں میں ایات کی ترتیب اللہ تعالی کی طرف سے وحی کی روشنی میں ترتیب دی جاتی تھیں۔
اب اگر قران کی سورتوں میں ایات ترتیب دی جا چکی ہوں تو قران کا ایک بڑا حصہ تقریبا مکمل ہو جاتا ہے اس کے بعد صرف سورتوں کو اکٹھا کر کے کتابی شکل کے اندر مدون کرنا باقی رہ جاتا ہے۔
کسی بھی کتاب کے حوالے سے کوئی مصنف آخری درجے میں جواہتمام کرسکتا ہےکہ لوگ اس کے پڑھنے اور سمجھنے میں کوئ غلطی نہ کریں وہ یہ ہے کہ کتاب لکھنے کے بعد مصنف خود اسے پڑھ کے بھی سنا دے۔ چنانچہ قرآن کے حوالے سے یہ دونوں کام پروردگار ِ عالم نے خود جبرائیلِ امین کے ذریعے فرما دیے۔ اور اس بات کا حوالہ القیامہ کے اندر موجود ہے اور یہ بات کئی روایات سے بھی واضح ہے۔
(ان ایات کے بارے میں اہل علم میں علمی سطح پر اختلاف موجود ہے)
Surat No 75 : سورة القيامة - Ayat No 16-19
لَا تُحَرِّکۡ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعۡجَلَ بِہٖ ﴿ؕ۱۶﴾
اِنَّ عَلَیۡنَا جَمۡعَہٗ وَ قُرۡاٰنَہٗ ﴿۱۷﴾ۚ
فَاِذَا قَرَاۡنٰہُ فَاتَّبِعۡ قُرۡاٰنَہٗ ﴿ۚ۱۸﴾
ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ ﴿ؕ۱۹﴾
( اے نبی) آپ قرآن کو جلدی ( یاد کرنے ) کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں ۔
ۖاسکا جمع کرنا اور ( آپ کی زبان سے ) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے ۔
ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں ۔ پھر اس کا واضح کر دینا ہمارا ذمہ ہے ۔
ان ایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اور بہت سی روایات سے بھی اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ تکمیل قران کے بعد اللہ تعالی نے جبرائیل امین کے ذریعے اس نازل کردہ قران کو دوبارہ پڑھوا کر اس کی ایک ایک ایت اور ایک ایک لفظ کو دوبارہ ویریفائی کروایا اب تحقیق /ریسرچ سے وابستہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ کسی بھی کتاب کی ویریفکیشن کا عمل صرف اور صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب پہلے سے اس کو کتابی شکل کے اندر ترتیب دیا جا چکا ہو اور یہ بات نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر بھی فرما دی تھی کہ میں تم میں دو چیزیں قران اور سنت چھوڑ کر جا رہا ہوں ان کو پکڑے رہو گے تو گمراہ نہیں ہو گے یہ دعوی بھی بڑی صراحت کے ساتھ اس بات کی تائید کرتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات طیبہ کے اندر قران کو کتابی شکل میں ترتیب دے کر صحابہ کرام کے حوالے کر چکے تھے۔
لہذا قرانی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات بخوبی معلوم ہو جاتی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں جہاں قران کو باضابطہ طور پر لکھا اور لکھوایا گیا تو اس کے ساتھ ساتھ قران کتابی شکل کے اندر ترتیب بھی دیا جا چکا تھا یا کم از کم وحی کی روشنی میں قران کی سورتیں مرتب ہو چکی تھیں۔ باقی سارا تاریخی ریکارڈ ہے کسی کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔
وما علینا الا البلاغ