Al-Haaqqa The Sure Reality

Al-Haaqqa The Sure Reality This is a non sectarian, non political and unbiased page for Islamic and social education as well as understanding and sharing the message of God Almighty.

06/09/2024

مسئلہ فلسطین کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جنگوں اور تنازعات کا بنیادی سبب اکثر انسانوں کی لالچ،خودغرضی، اور مفادات کی دوڑ ہوتی ہے۔ اللہ نے زمین کو امن اور سکون کے ساتھ رہنے کے لیے بنایا، مگر انسان اپنی انا، طاقت کی ہوس اور وسائل پر قبضے کی چاہت میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ہیں۔ فلسطین کا خطہ، جو مقدس بھی ہے اور تاریخی اعتبار سے اہم بھی، ہمیشہ مختلف اقوام اور تہذیبوں کے درمیان تنازعہ کا مرکز بنا رہا۔ یہاں کی جنگوں نے ہمیں یہی سبق دیا ہے کہ جب بھی انسان اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتا ہے اور دوسروں کے حقوق کو پامال کرتا ہے، تو تباہی اور خونریزی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

یہ المیہ ہے کہ انسان آپس میں امن سے مل جل کر رہنے کی صلاحیت رکھتے ہوئے بھی اکثر ایسا نہیں کرتے۔ مختلف اقوام، مذاہب، اور عقائد کے درمیان احترام اور برداشت کا فقدان دنیا کے بہت سے مسائل کی جڑ ہے۔ لوگ طاقت، زمین، اور وسائل کے لیے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دنیا کی حقیقی خوبصورتی اور کامیابی تو اس میں ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور بھائی چارے کے ساتھ زندگی گزاریں۔

انسانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ عموماً خود کو حق پر سمجھتے ہیں اور دوسروں کو غلط، اور یہی سوچ تنازعات کو جنم دیتی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ ایک یاد دہانی ہے کہ جب تک انسان خودغرضی، لالچ، اور طاقت کی ہوس سے باہر نکل کر دوسروں کے حقوق کو اہمیت نہیں دیتا، امن کا قیام ناممکن ہے۔ ہمیں اللہ کے حکم کو سمجھنا چاہیے کہ زمین پر فساد نہ کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ عدل و انصاف کے ساتھ پیش آئیں۔

اللہ کی حکمت اس میں شاید یہی پوشیدہ ہو سکتی ہے کہ وہ ہمیں ہمارے اعمال کے نتائج دکھا کر سمجھا رہا ہے کہ حقیقی کامیابی طاقت کے حصول میں نہیں، بلکہ امن، محبت، اور عدل و انصاف کے قیام میں ہے۔ جب تک انسان اس حکمت کو نہیں سمجھتا، دنیا میں امن کا خواب ادھورا رہے گا۔

تیمور محمد ملک

14/05/2024

جمع و تدوین قران اور قران

اللہ تعالی کی نازل کردہ اس کتاب قرآن کو پہلے دن سے اج دن تک جہاں طرح طرح کے مختلف چیلنجز درپیش ائے ان چیلنجز کے اندر اس قران کے خلاف طرح طرح کی سازشیں ہوئیں اور اللہ تعالی کی نازل کردہ اس کتاب کو ہر اعتبار سے متنازع بنانے کی کوششیں ہر دور میں اپنی پوری اب و تاب کے ساتھ جاری رہیں۔

ان کوششوں کا سلسلہ کئی صدیوں تک محیط ہے اور یہ سلسلہ اج دن تک جاری و ساری ہے۔ قران اور مسلمانوں کے خلاف جو سب سے بڑی سازش ہوئی وہ اس عظیم کتاب کو بغیر سمجھے مسلمانوں کو پڑھنے پر لگا کر اسے محض ثواب اور جنتر منتر کی کتاب بنا ڈالا اور اس طرح مسلمانوں کو عملی اور فکری طور پر قران سے دور کر کے پھر اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قران کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیاں اور غلط فہمیاں لوگوں کے ذہنوں میں پیدا کی جاتی رہیں اور روایات کی اندھی تقلید اور خوفناک قسم کی شخصیات پرستی بلکہ یوں کہا جائے کہ کفریہ حد تک کی شخصیات پرستی کے ساتھ ساتھ مناسب تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے ان غلط فہمیوں کو دوام بخشا جاتا رہا۔

شخصیات پرست معاشروں کا یہ المیہ ہوتا ہے کہ ایسے معاشرے علم و تحقیق سے کوسوں دور رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان معاشروں میں تعصب اور تنگ نظری فروغ پاتی ہے۔ ایسے معاشروں کے باسی چونکہ حریت فکر کی لذت سے سرے سے آشنا ہی نہیں ہو پاتے اس لیے ایسے معاشروں کے باسی اپنی سوچ, فکر اور نظریات کو کسی خاص شخص, کسی خاص مسلک یا کسی مخصوص سیاسی جماعت کے زیر اثر رکھنے میں لذت, اطمینان اور عافیت محسوس کرتے ہیں یہی وجہ ہوتی ہے متعصب و تنگ نظر معاشروں میں جہاں ایک طرف مورخین ہمیشہ اپنی اپنی سیاسی وابستگیوں کے زیر اثر رہ کر حقائق کو مسخ کر متنازع تاریخ لکھتے نظر اتے ہیں وہیں دوسری طرف مذہب سے جڑی شخصیات انتہا پسندی کی حد تک اپنے اپنے مسلک اور فرقہ کے پجاری بنے پھرتے نظر اتے ہیں۔

قران کے متعلق چند بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک سب سے بڑی غلط فہمی جو امت مسلمہ میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ قران کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کتابی شکل کے اندر مرتب و مدون نہیں کیا گیا تھا اور یہ کام بعد میں آنے والے خلفائے راشدین کے دور کے اندر پایا تکمیل تک پہنچایا گیا۔ اس سلسلے میں درجنوں روایات کو بنیاد بنایا جاتا ہے اور وجہ اس کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک تو اس دور کے اندر لکھنے پڑھنے کا رواج عام نہیں تھا اور دوسری وجہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم خود لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے اسی لیے انہیں امی کہا گیا اور تیسری وجہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے اندر ایسی کوئی "ٹیکنالوجی" موجود نہیں تھی کہ قرآن کو کتابی شکل کے اندر مرتب و مدون کیا جا سکتا ۔

ان روایات اور اس دعوے نے قران کی حقانیت و قطعیت اور قیامت تک محفوظ ہو جانے کے ربانی و قرانی موقف ہی کو سرے سے چیلنج کر ڈالا اور قران کی حقانیت و قطعیت کو سخت اور ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی اور قران کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیاں اور غلط فہمیاں پیدا کر دی گئی اور اپ اگر کبھی ٹائم نکال کر ان روایات کو اکٹھا کر کے پڑھ لیں تو ان روایات کو پڑھ کر انسانی جسم تک کانپ اٹھتا ہے اس لیے میں ان روایات پر زیادہ بات نہیں کر سکتا۔

ائیں قران سے تصریف ایات کی مدد سے اس تصور کو جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں قران ہمیں کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

قران کی ابتدائی سورت سورہ فاتحہ کے بعد سورہ البقرہ کے بالکل شروع میں اللہ تعالی نے قران کو ذالک الکتاب (شک و شبہ سے پاک کتاب) یعنی "کتاب" کہہ کر پکارا

اب اگر عرب تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو لفظ کتاب کے حوالے سے یہ بات سامنے اتی ہے کہ اَلْکَتْبُ: کے اصل معنی کھال کے دو ٹکڑوں کو ملاکر سی دینے کے ہیں چنانچہ کہا جاتا ہے :کَتَبْتُ السِّقَائَ ’’میں نے مشکیزہ کو سی دیا۔

عربوں کے ہاں جب منتشر اوراق کی شیرازہ بندی کر دی جاتی تھی تو اسے کتاب کہا جاتا تھا۔ کتاب کی آج بھی وہی شکل ہوتی ہے۔

لیکن کتابؔ کے بنیادی معنون میں قانون‘ یا جو کچھ کسی پر واجب قرار دیاجائے‘ بھی داخل ہے۔ قرآن کریم کو کتاب کہا گیا ہے تو اس میں دونوں معانی شامل ہیں۔ یعنی قانونِ زندگی۔ ضابطہ حیات۔ فرائض وواجبات کا نوشتہ۔ اور کتاب بمعنی۔ (Book) بھی۔

اس سے واضح ہے کہ نبی اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ میں قرآن کتابی شکل میں مدون ہو رہا تھا /ہو چکا تھا اسی وجہ سے اللہ تعالی نے اسے کئی جگہوں پر کتاب کہہ کر پکارا۔

اب اس دور کے اندر لکھنے پڑھنے کا رواج عام تھا یا نہیں اس حوالے سے بھی اگر قران کو دیکھا جائے تو بہت سی ایات کے ساتھ سورة البقرة کی آیت نمبر ٢٨٢ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۚ

اے ایمان والو! جب تم کسی مدت کیلئے لین دین کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو

ظاہر ہے کہ اس قسم کا حکم صرف اور صرف اسی صورت میں دیا جاسکتا ہے، جب کسی معاشرے میں لکھنے پڑھنے کا رواج عام ہو

سورہ البقرہ کی یہ پوری ایت اگر پڑھ لی جائے تو یہ ایت اس غلط فہمی کو بھی دور کر دیتی ہے کہ اس معاشرے کے اندر لکھنے پڑھنے کا رواج عام نہیں تھا

اگے قران ہی سے دیکھتے ہیں کہ ایا اس دور کے اندر ایسی کوئی "ٹیکنالوجی" میسر تھی یا نہیں جس "ٹیکنالوجی" کی مدد سے چیزوں کو لکھ کر لمبے عرصے کے لیے محفوظ کیا جا سکتا۔

اس حوالے سے قران کی مختلف ایات کے ساتھ سورہ طور کی ابتدائی ایات کے اندر ہمیں مکمل رہنمائی ملتی ہے۔ وہ ایات یہ ہیں۔

Surat No 52 : سورة الطور - Ayat No 1-3

وَ الطُّوۡرِ وَ کِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ فِیۡ رَقٍّ مَّنۡشُوۡرٍ

قسم ہے طور کی۔ اور لکھی ہوئی کتاب کی۔ جو جھلی کے کھلے ہوئے ورق میں ہے ۔

ان ایات کے متعلق اہل علم کی تصانیف کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بڑی صراحت کے ساتھ واضح ہو جاتی ہے کہ قدیم زمانے میں جن کتابوں اور تحریروں کو زمانہ دراز تک محفوظ رکھنا ہوتا تھا انہیں ہرن کی کھال پر لکھا جاتا تھا ۔ یہ کھال خاص طور پر لکھنے ہی کے لیے رقیق جلد یا جھلی کی شکل میں تیار کی جاتی تھی اور اصطلاح میں اسے رَقّ کہا جاتا تھا۔ اہل کتاب بالعموم تورات، زبور، انجیل اور صُحُف انبیاء کو اسی رَقّ پر لکھا کرتے تھے تاکہ طویل مدت تک محفوظ رہ سکیں۔

اوپر بیان کردہ سورہ طور کی ان ایات میں اگر لکھی ہوئی کتاب سے مراد خود قران ہے تو یہ پورا تصور نکھر کر سامنے ا جاتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے اندر قران کتابی شکل میں مدون ہو چکا تھا اور اگر ان ایات میں لکھی ہوئی کتاب سے مراد سابقہ کتب ہیں تو بھی ہمیں کم از کم اتنی رہنمائی ضرور مل جاتی ہے کہ اس دور کے اندر ایسی "ٹیکنالوجی" دستیاب ضرور تھی جس "ٹیکنالوجی" کو استعمال کر کے کتابوں کو لکھ کر لمبے عرصے کے لیے محفوظ کیا جا سکتا تھا۔

اگے مزید دیکھیں تو سورہ فرقان کے اندر کفار کا قران کے بارے میں ایک اعتراض ہمیں پڑھنے کو ملتا ہے۔ وہ ایت ملاحظہ فرمائیں۔

Surat No 25 : سورة الفرقان - Ayat No 5

وَ قَالُوۡۤا اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ اکۡتَتَبَہَا فَہِیَ تُمۡلٰی عَلَیۡہِ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿۵﴾

اور ( کفار نے ) یہ بھی کہا کہ یہ تو اگلوں کے افسانے ہیں جو اس نے لکھ رکھے ہیں بس وہی صبح و شام اس کے سامنے پڑھے جاتے ہیں۔

اس ایت میں کفار کے اعتراض پر غور کرنے سے یہ بات بخوبی معلوم ہو جاتی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے اندر قران کو باضابطہ طور پر نہ صرف لکھوایا گیا تھا بلکہ اس کو باضابطہ طور پر پڑھا بھی جاتا تھا۔

اب مزید قران ہی سے دیکھتے ہیں کہ قران کا پہلا مصنف کون تھا۔ اس سلسلے میں قران کی ایک ایت ملاحظہ کریں۔

Surat No 29 : سورة العنكبوت - Ayat No 48

وَ مَا کُنۡتَ تَتۡلُوۡا مِنۡ قَبۡلِہٖ مِنۡ کِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیۡنِکَ اِذًا لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۴۸﴾

اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے تھے نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک و شبہ میں پڑتے۔

اس ایت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ نزول قران کے بعد اپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے مبارک ہاتھوں سے قران کو لکھا کرتے تھے سو اس اعتبار سے اپ صلی اللہ علیہ وسلم روئے زمین پر خود اس قران کے پہلے مصنف ٹھہرے۔

اسی ایت سے جڑی اگلی ایت دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے اندر کئی صحابہ کرام اس کتاب کو اپنے سینوں میں محفوظ بھی کر رہے تھے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا تھا جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں قران کو باضابطہ طور پر کتابی شکل کے اندر محفوظ کر دیا گیا ہو۔

ایت ملاحظہ فرمائیں۔

Surat No 29 : سورة العنكبوت - Ayat No 49

بَلۡ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیۡ صُدُوۡرِ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۹﴾

بلکہ یہ قرآن تو روشن آیتیں ہیں اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں ہماری آیتوں کے منکر بجز ظالموں کے اور کوئی نہیں۔

اسی سلسلے کو مزید اگے بڑھاتے ہیں۔

سورہ بقرہ کی ایک اور ایت پیش خدمت ہے اس ایت کے اندر کفار اور منافقین کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعووں میں سچے ہیں تو قران جیسی کوئی سورت بنا کر لے ائیں۔

ایت ملاحظہ فرمائیں۔

Surat No 2 : سورة البقرة - Ayat No 23

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪ وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۳﴾

ہم نے جو کچھ اپنے بندے پر اُتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچّے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ، تمہیں اختیار ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو ۔

اب اس ایت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ بنا لانے کا چیلنج صرف اسی صورت میں دیا جا سکتا ہے جب قران کی سورتیں ترتیب دی جا چکی ہوں ورنہ دوسری صورت میں اللہ معاف کرے اس چیلنج کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہتی۔

ان ایات سے اپ نے دیکھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے اندر جیسے جیسے قران کی ایات نازل ہو رہی تھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے مبارک ہاتھوں سے ان ایات کو لکھ کر اپنے مبارک ہاتھوں سے وحی کی روشنی میں سورتوں کو ترتیب بھی دے دیا کرتے تھے اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ کئی صحابہ کرام ان ایات کو اپنے سینوں میں محفوظ بھی کیا کرتے تھے۔

وحی کی روشنی میں سورتیں ترتیب دینے کا اشارہ ہمیں اس ایت سے ملتا ہے وہ ایت ملاحظہ فرمائیں۔

Surat No 9 : سورة التوبة - Ayat No 127

وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ نَّظَرَ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ ؕ ہَلۡ یَرٰىکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا ؕ صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾

جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں کہ تم کو کوئی دیکھتا تو نہیں پھر چل دیتے ہیں اللہ تعالٰی نے ان کا دل پھیر دیا اس وجہ سے کہ وہ بے سمجھ لوگ ہیں

اس ایت میں سورۃ نازل کرنے کے الفاظ پر غور کرنے سے بھی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سورتوں میں ایات کی ترتیب اللہ تعالی کی طرف سے وحی کی روشنی میں ترتیب دی جاتی تھیں۔

اب اگر قران کی سورتوں میں ایات ترتیب دی جا چکی ہوں تو قران کا ایک بڑا حصہ تقریبا مکمل ہو جاتا ہے اس کے بعد صرف سورتوں کو اکٹھا کر کے کتابی شکل کے اندر مدون کرنا باقی رہ جاتا ہے۔

کسی بھی کتاب کے حوالے سے کوئی مصنف آخری درجے میں جواہتمام کرسکتا ہےکہ لوگ اس کے پڑھنے اور سمجھنے میں کوئ غلطی نہ کریں وہ یہ ہے کہ کتاب لکھنے کے بعد مصنف خود اسے پڑھ کے بھی سنا دے۔ چنانچہ قرآن کے حوالے سے یہ دونوں کام پروردگار ِ عالم نے خود جبرائیلِ امین کے ذریعے فرما دیے۔ اور اس بات کا حوالہ القیامہ کے اندر موجود ہے اور یہ بات کئی روایات سے بھی واضح ہے۔

(ان ایات کے بارے میں اہل علم میں علمی سطح پر اختلاف موجود ہے)

Surat No 75 : سورة القيامة - Ayat No 16-19

لَا تُحَرِّکۡ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعۡجَلَ بِہٖ ﴿ؕ۱۶﴾

اِنَّ عَلَیۡنَا جَمۡعَہٗ وَ قُرۡاٰنَہٗ ﴿۱۷﴾ۚ

فَاِذَا قَرَاۡنٰہُ فَاتَّبِعۡ قُرۡاٰنَہٗ ﴿ۚ۱۸﴾

ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ ﴿ؕ۱۹﴾

( اے نبی) آپ قرآن کو جلدی ( یاد کرنے ) کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں ۔

ۖاسکا جمع کرنا اور ( آپ کی زبان سے ) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے ۔

ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں ۔ پھر اس کا واضح کر دینا ہمارا ذمہ ہے ۔

ان ایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اور بہت سی روایات سے بھی اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ تکمیل قران کے بعد اللہ تعالی نے جبرائیل امین کے ذریعے اس نازل کردہ قران کو دوبارہ پڑھوا کر اس کی ایک ایک ایت اور ایک ایک لفظ کو دوبارہ ویریفائی کروایا اب تحقیق /ریسرچ سے وابستہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ کسی بھی کتاب کی ویریفکیشن کا عمل صرف اور صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب پہلے سے اس کو کتابی شکل کے اندر ترتیب دیا جا چکا ہو اور یہ بات نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر بھی فرما دی تھی کہ میں تم میں دو چیزیں قران اور سنت چھوڑ کر جا رہا ہوں ان کو پکڑے رہو گے تو گمراہ نہیں ہو گے یہ دعوی بھی بڑی صراحت کے ساتھ اس بات کی تائید کرتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات طیبہ کے اندر قران کو کتابی شکل میں ترتیب دے کر صحابہ کرام کے حوالے کر چکے تھے۔

لہذا قرانی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات بخوبی معلوم ہو جاتی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں جہاں قران کو باضابطہ طور پر لکھا اور لکھوایا گیا تو اس کے ساتھ ساتھ قران کتابی شکل کے اندر ترتیب بھی دیا جا چکا تھا یا کم از کم وحی کی روشنی میں قران کی سورتیں مرتب ہو چکی تھیں۔ باقی سارا تاریخی ریکارڈ ہے کسی کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

وما علینا الا البلاغ

12/04/2024

جاہل مولویوں کے استدلال۔

09/06/2023
07/07/2022

برطانیہ کے غریب ترین پیر حضرات

انگلینڈ میں مقیم چند پاکستانی پیر صاحبان کی معلوم دولت کا تخمینہ (آف شور دولت اور ٹرسٹ اس میں شامل نہیں)

نمبر 1۔ صوفی جنید نقشبندی Grandson صوفی عبداللہ نقشبندی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ گھمکول شریف ، برمنگھم 132 ملین پاؤنڈ۔ پاکستانی 290 ارب تقریباً

نمبر 2۔ پیر سلطان نیاز الحسن باہو ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ سلطان باہو ، برمنگھم۔ 80 ملین پاؤنڈ ، 176 ارب روپے تقریباً

نمبر 3۔ پیر سلطان فیاض الحسن باہو ، اسسٹنٹ سجادہ نشین آستانۂ عالیہ سلطان باہو ، برمنگھم 83 ملین پاؤنڈ ، 183 ارب روپے تقریباً

نمبر 4۔ پیر نورالعارفین صدیقی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ نیریاں شریف ، برمنگھم ، 77 ملین پاؤنڈ ، 170 ارب روپے تقریباً

نمبر 5۔ پیرزادہ امداد حسین ، مہتمم جامعہ الکرم نوٹنگھم ، 76 ملین پاؤنڈ ، 168 ارب روپے تقریباً

نمبر 6۔ پیر معروف حسین شاہ نوشاہی، آستانۂ عالیہ نوشاہیہ بریڈفورڈ، 68 ملین پاؤنڈ، 150 ارب روپے تقریباً (پیر معروف حسین صاحب برطانیہ میں وارد ہونے والے سب سے پہلے پیر ہیں، موصوف اپریل 1961 میں برطانیہ تشریف لائے، اور اون کی مل میں مزدوری شروع کی، چند ماہ بعد بریڈ فورڈ میں تبلیغ الاسلام کے نام سے ایک مکان میں مسجد بنائی، لیکن مریدین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے اگلے 18 سال ملوں میں مزدوری ہی کرتے رہے، اس وقت بریڈفورڈ و گرد و نواح میں تیس سے زائد مکانات میں تبلیغ الاسلام کے نام سے مساجد بنا چکے ہیں، اور ان تمام پراپرٹیز کے بلاشرکتِ غیرے مالک بھی ہیں، لیکن ان مکانات کی مالیت 68 ملین پاؤنڈ میں شامل نہیں، پیر صاحب اس لحاظ سے بھی بدقسمت ہیں کہ پاکستان میں کسی بڑی گدی کے سجادہ نشین نہ ہونے کی وجہ سے برطانیہ میں ان کے مریدین کی تعداد ابھی تک بیس ہزار سے کم ہے)

نمبر 7۔ پیر سید عبدالقادر جیلانی سابق خطیب ٹنچ بھاٹہ راولپنڈی ، مہتمم دارالعلوم قادریہ جیلانیہ لندن ، 62 ملین پاؤنڈ ، پاکستانی 139 ارب روپے تقریباً

نمبر 8۔ پیر منور حسین جماعتی سجادہ نشین آستانۂ علیہ امیرِ ملت پیر جماعت علی شاہ برمنگھم ، 60 ملین پاؤنڈ ، پاکستانی 134 ارب روپے تقریباً

نمبر 9۔ پیر حبیب الرحمن محبوب ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ ڈھانگری شریف ، بریڈفورڈ ، 32 ملین پاؤنڈ ، پاکستانی 71 ارب روپے تقریباً

نمبر 10۔ پیرعرفان مشہدی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ بکھی شریف بریڈفورڈ ، پیر عرفان شاہ صاحب ان پیروں میں سب سے غریب ترین پیر ہیں کیونکہ ان کی دولت 2 ملین پاؤنڈ یعنی پاکستانی صرف 44 کروڑ روپے ہے۔
تلک عشرة کاملة

مندرجہ بالا تمام دس پیر صاحبان کا تعلق پاکستان و آزاد کشمیر سے ہے۔ جو برٹش نیشنیلٹی ہولڈر اور برطانیہ میں مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تمام پیر صاحبان جنہوں نے اپنی دولت ٹرسٹ ( این جی اوز ) کے پردے میں چھپائی ہوئی ہے۔ وہ اس لسٹ میں شامل نہیں۔
نیز پاکستان میں مقیم جو پیر صاحبان سالانہ یہاں سے اربوں روپے کے نذرانے بٹورنے کے لیے تشریف لاتے ہیں وہ بھی اس لسٹ میں شامل نہیں۔ مندرجہ بالا دس پیر صاحبان کی اجتماعی دولت سے کئی گنا زیادہ دولت کے مالک “ پیر ہاشم الگیلانی البغدادی “ ہیں ، جو آستانۂ عالیہ شیخ عبدالقادر جیلانی رح بغداد کے گدی نشین ہیں ، یہ پیر صاحب بھی برٹش نیشنلیٹی ہولڈر اور مقیمِ برطانیہ ہیں۔ جیسے پاکستانی نژاد برطانوی پیر کبھی کبھی پاکستان دورہ پہ تشریف لے جاتے ہیں ، اسی طرح یہ بھی کبھی کبھی بغداد کے دورہ پہ تشریف لے جاتے ہیں۔

تحریر۔ علی ملک

26/06/2022
05/02/2022

مسلمانوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ہم ہر طرف سے ذلت و شکست اور ہزیمت کا شکار ہیں۔ اسلام کو بری طرح سے بدنام کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں کسی کیلئے سب سے مشکل کام مسلمان ہونا ہے۔ مگر یہ صرف قرآن کا ہی معجزہ ہے کہ وہ ایسے دور میں بھی انسانوں پر حجت قائم کر رہا ہے اور انہیں اپنے پروردگار کے نزدیک لا رہا ہے۔ اللہ ہمیں بھی اپنی زندگیاں قرآن کے مطابق بدلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

برطانیہ کا شیخ الاسلام   عبداللہ ہینری قویلیم 10اپریل  1856 میں برطانیہ کے شہر Liverpool میں پیدا ہوئے.وہ ایک مایہ ناز و...
17/01/2022

برطانیہ کا شیخ الاسلام

عبداللہ ہینری قویلیم 10اپریل 1856 میں برطانیہ کے شہر Liverpool میں پیدا ہوئے.وہ ایک مایہ ناز وکیل اور صحافی تهے. مطالعہ کا بے پناہ شوق تها. عیسائیت پر اطمینان نہ ہونے کی بناء پر کئی مذاہب کا مطالعہ کیا. وہ اسی تذبذب میں مبتلا رہے کہ کونسا دین اختیار کرنا چاہیئے. آخر ان کو سپین اور پهر مراکش جانے کا موقع ملا اور مراکش میں وہ کچھ مسلمانوں کے رویے سے متاثر ہو گئے.چنانچہ واپس برطانیہ آ کر انہوں نے قرآن کا انگریزی زبان کا ترجمہ حاصل کر کے اس کا مطالعہ کیا. بالآخر 31 سال کی عمر میں اسلام قبول کر کے اپنا نام ویلیم ہنری قویلیم سے بدل کر عبداللہ ہنری قویلیم رکها. یہ موجود ریکارڈ کی بنیاد پر برطانیہ کے اندر پہلے اسلام قبول کرنے والے غیر مسلم تهے. یہ 1886 کا زمانہ تها اور اس وقت پورے برطانیہ میں مشکل سےچند سو مسلمان ہی موجود تھے جو کہ سب کے سب غیر ملکی تاجر یا گوروں کے ملازمین تهے. اس کے بعد عبداللہ ہینری قویلیم نے اپنی زندگی اسلام کی دعوت و تبلیغ اور سربلندی کے لئے وقف کر دی اور یوں برطانیہ کے شیخ الاسلام کا عظیم لقب پایا.

شیخ نے اسلام تو قبول کر لیا لیکن لوگوں کی ہنسی مذاق کا نشانہ بنے رہے. ہر کوئی کہتا کہ یہ پاگل ہو گیا ہے اس کو پاگل خانے بهیج دو. شیخ اسلام سے پہلے بهی شراب اور دیگر ممنوعات سے متنفر تهے اور ان کے خلاف لیکچرز دیا کرتے تهے. انہوں نے اپنے کردار اور قوت گفتار سے کئی لوگوں کو مسلمان کیا. البتہ شروع شروع کے دو سال میں صرف چار لوگ ہی مسلمان ہوئے.

ان چار لوگوں نے لیورپول کی مائونٹ ورنن سٹریٹ پر ایک مکان کرایہ پر لیا جہاں یہ لوگ جمعہ اور ہفتہ کو اکٹھے ہوتے اور اپنے ایمان کو تازہ کرتے. اہل محلہ کیلئے یہ ایک نئی چیز تهی. کچھ دل جلوں نے مکان کی کهڑکیاں تک توڑ دیں. مالک مکان نے گهر سے نکال دیا. مگر عبداللہ قویلیم نے ہمت نہیں ہاری. شیخ نے ایک شخص سے اسلام کی حقانیت پر مباحثہ کیا اور قرآن کا ترجمہ پڑهنے کیلئے دیا. یہ شخص تین ہفتوں کے بعد آ کر مسلمان ہو گیا . برکین ہیڈ کی ایک تقریر میں ایک خاتون نے اسلام قبول کیا . پانچ سال میں یہ تعداد 30 تک پہنچ گئی. لیورپول میں ہی ویسٹ ڈربی روڈ پر ایک مکان کو مسجد کی شکل دی گئی. یہ برطانیہ کی سب سے پہلی مسجد تهی. یہاں شیخ نو مسلموں کو نمازیں اور جمعہ پڑهاتے جس میں عربی اور انگریزی میں خطبہ دیا جاتا. دس سال کی محنت کے بعد 150 لوگ مسلمان ہو گئے. اذان کی آواز سن کر لوگ باہر جمع ہو جاتے. ایک دفعہ کسی نے بیچارے موذن کو ڈهیلا دے مارا اور اس کو ہسپتال لے جانا پڑا. شیخ نے ایک ایسے سٹیج ڈرامے کو منعقد ہونے سے بهی روکا جس میں رسولﷺ کی نقل اتارا جانا تھی۔ شیخ نے اسلام پر تین کتابیں لکھیں۔

اسی زمانے کے برطانیہ کے مشہور مستشرق جے پول نے بھی اس مسجد کا ذکر اپنی کتاب میں کیا۔ جے پول نے 1892 میں اپنی کتاب میں اس تحریک کے متعلق لکھا کہ '' میرے اندازے کے مطابق مسٹر قویلیم نے جو تحریک شروع کی ہے وہ ایک امید موہوم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسلام انگلینڈ میں چند سال ایک کمزور چال کےساتھ مزید گھسٹ لے گا۔ لیکن پھر امکان یہی ہے کہ اچانک دم توڑ دے گا''۔ آج اگر جے پول زندہ ہوتا تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا کہ اس کی تحریر کے 123 سال کے بعد بھی اسلام انگلینڈ میں نہ صرف یہ کہ زندہ رہا بلکہ انگلینڈ کا دوسرا بڑا مذہب بن گیا۔

بہرحال شیخ قویلیم نے اپنی تحریک جاری رکھی اور ہفتہ وار اور ماہوار رسالے بھی شائع کیے۔ انہوں نے قرآن کی آخری چند سورتوں کا انگریزی نظم میں ترجمہ بھی کیا۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں بھی بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا کرتے تھے۔ ان کو خلافت عثمانیہ کا دفاع کرنے پر غدار بھی قرار دیا گیا اور انکی زندگی اتنی مشکل بنا دی گئی کہ وہ برطانیہ چھوڑ کر ترکی جا بسے۔ ان کی غیر موجودگی میں باقی ماندہ مسلمانوں نے اس وقت تک قائم ہو چکی دوسری مسجد ''شاہ جہان ووکنگ مسجد'' میں پناہ لے لی۔ ان کی لیورپول میں تعمیر کردہ مسجد حکومت نے اپنے قبضہ میں لے کر اس کو بند کر دیا۔

شیخ اپنی وفات سے دو سال قبل شاہ جہان ووکنگ مسجد آچکے تھے جہاں 1932 میں انکی وفات ہوگئی۔ سو سال کے بعد لیورپول کے غیور مسلمانوں نے قویلیم سوسائٹی کی بنیاد رکھی اور حکومت سے شیخ قویلیم کی مسجد خرید کر دوبارہ اس کی کھوئی ہوئی اذانیں اور نمازیں واپس لوٹا دی ہیں۔ اللہ برطانیہ کے اس شیخ الاسلام کو کروٹ کروٹ سکون و امن نصیب کرے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

تیمور محمد ملک

قرآن کا پیغام
23/10/2021

قرآن کا پیغام

Address

28 Park Close
Preston
PR26YW

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Haaqqa The Sure Reality posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Al-Haaqqa The Sure Reality:

Share