London to Nizamuddin

London to Nizamuddin The London to Nizamuddin team members are passionate about sharing what they are very interested in

7th of June 2026Alhamdulillah the district Jour for the Pakistani Nizamuddin world Markaz  Tarteeb under the Mashwarah o...
07/06/2026

7th of June 2026
Alhamdulillah the district Jour for the Pakistani Nizamuddin world Markaz Tarteeb under the Mashwarah of Gajju Matta Masjid Allahu Akbar Qusur Lahore has been concluded in severe June heat. May Allah accept all efforts and make them a means of spreading Hidayah all over the world.

اضلاعی جوڑ ٹھیہ گجومتہ
مسجد اللہ اکبر لاہور کے زیر انتظام بمقام سرہالی کلاں ضلع قصور

Nizamuddin Tarteeb Pakistan District Jour this weekend under Gaju Matta Tai Near Lahore Pakistan
05/06/2026

Nizamuddin Tarteeb Pakistan District Jour this weekend under Gaju Matta Tai Near Lahore Pakistan

24/05/2026

https://youtu.be/_Hs9Q3L10zI?si=jr-e6SGPE9ly6s7g
Important clarification by Hazrat Maulana Fazlur Rahman Azami Shaikul Hadith South Africa in response to bias subjective fatawa being spread to divide the Ummah by disconnecting them from Ulama e Haq

Fatwa Gang Ki Fatwa Ghundagardi | Tabligh Ke Dushmano Ki Saazish | Asbiat Ki Bunyaad Par Farqe | Khandaan E Ilyaas Ke Ha...
23/05/2026

Fatwa Gang Ki Fatwa Ghundagardi | Tabligh Ke Dushmano Ki Saazish | Asbiat Ki Bunyaad Par Farqe | Khandaan E Ilyaas Ke Hasideen

فتویٰ میں احتیاط، علمی دیانت اور امت کی وحدت کی

ضرورت

تحریر: مفتی اظہر قاسمی
تاریخ: 21 مئی 2026ء

آج کل سوشل میڈیا کے دور میں فتوے، بیانات اور الزامات بہت تیزی سے عام ہو جاتے ہیں، لیکن شریعتِ اسلامیہ نے کسی بھی مسلمان خصوصاً علماء اور اہلِ دین کے بارے میں زبان کھولنے میں انتہائی احتیاط کا حکم دیا ہے۔ حالیہ دنوں جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل کی جانب سے حضرت مولانا سعد صاحب دامت برکاتہم کے متعلق ایک فتویٰ منظر عام پر آیا، جس میں انہیں “گمراہ” اور “گمراہی پھیلانے والا” قرار دیا گیا، جبکہ اس فتویٰ میں نہ تو واضح علمی دلائل ذکر کیے گئے، نہ کسی مخصوص عبارت یا تقریر کی نشاندہی کی گئی، اور نہ ہی اصولی انداز میں مسئلے کی تحقیق پیش کی گئی۔

یہ طرزِ عمل کئی علمی و اصولی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ فقہ و افتاء کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی شخص پر حکم لگانے سے پہلے اس کی متعین غلطی کو واضح کیا جائے، اس کا سیاق و سباق بیان کیا جائے، اور پھر قرآن و حدیث اور جمہور کے اقوال کی روشنی میں علمی نقد کیا جائے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ “وہ جمہور کے خلاف باتیں کرتے ہیں” ایک عمومی دعویٰ ہے، جو علمی دنیا میں کافی نہیں سمجھا جاتا۔

خاص طور پر جب معاملہ ایسے بڑے عالم کا ہو جن کے ساتھ لاکھوں افراد وابستہ ہوں، ہزاروں علماء ان سے تعلق رکھتے ہوں، اور کئی دہائیوں سے دعوت و تبلیغ کے میدان میں ان کی خدمات موجود ہوں، تو اس طرح کے سخت الفاظ استعمال کرنے میں اور بھی زیادہ احتیاط ضروری ہو جاتی ہے۔

اگر بالفرض کسی عالم سے اجتہادی یا تعبیراتی خطا ہو بھی جائے تو ہر خطا “گمراہی” نہیں ہوتی۔ اکابر علماء کے درمیان علمی اختلافات ہمیشہ سے رہے ہیں، لیکن ایک دوسرے پر فتوے لگانے میں انتہائی احتیاط برتی گئی۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے درمیان بے شمار اختلافات تھے، مگر ایک دوسرے کی دیانت، علم اور اخلاص پر حملہ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ فتویٰ کے اندر جن “گمراہ کن باتوں” کا ذکر کیا گیا، ان کی کوئی صریح مثال پیش نہیں کی گئی۔ علمی دیانت کا تقاضا یہ تھا کہ اگر کوئی عبارت یا بیان واقعی خلافِ شرع ہے تو اسے اصل الفاظ کے ساتھ نقل کیا جاتا، پھر اس پر علمی رد کیا جاتا، تاکہ عوام بھی حقیقت کو سمجھ سکیں۔ مبہم اور عمومی الزامات امت میں مزید انتشار پیدا کرتے ہیں۔

اسی طرح افتاء کا ایک اہم اصول یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ جب دو جماعتوں یا دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو تو مفتی کو انتہائی غیر جانب داری کے ساتھ معاملہ دیکھنا چاہیے۔ ایسا محسوس نہ ہو کہ فتویٰ ایک مخصوص گروہ یا فریق کے حق میں جا رہا ہے۔ جبکہ موجودہ حالات میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ 2015 کے بعد جو ایک نیا نظم اور نیا گروہ وجود میں آیا، فتویٰ عملاً اسی کے حق میں جا رہا ہے۔ اس سے عوام کے اندر مزید تقسیم پیدا ہوگی۔

آج امت پہلے ہی شدید فتنوں کا شکار ہے۔ انجینئر محمد علی مرزا، جاوید احمد غامدی، قادیانی تحریک اور دیگر فکری گمراہیاں مغربی ممالک میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں ہزاروں نوجوان دین سے دور ہو رہے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر دعوت و تبلیغ کے میدان میں کام کرنے والے علماء اور جماعتوں کے درمیان فتووں کی جنگ شروع ہو جائے تو اس کا نقصان پوری امت کو ہوگا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلافات کو علمی، باوقار اور محدود دائرے میں رکھا جائے۔ اگر کسی بات میں غلطی ہے تو حکمت، نصیحت اور دلائل کے ساتھ اصلاح کی جائے، نہ کہ ایسے سخت الفاظ کے ذریعے جن سے عوام میں نفرت، تقسیم اور بدگمانی پیدا ہو۔

علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں۔ ان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ امت کی سوچ بناتے ہیں۔ اس لیے کسی کو “گمراہ” قرار دینا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر یہ حکم درست نہ ہو تو قیامت کے دن اس کی سخت باز پرس ہوگی۔ اسی لیے اکابر فرمایا کرتے تھے کہ “کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کہنے سے پہلے ہزار بار سوچو، کیونکہ اگر وہ ایسا نہ ہوا تو بات پلٹ کر کہنے والے پر آ سکتی ہے۔”

لہٰذا موجودہ حالات میں حکمت، تحمل، علمی دیانت اور امت کی وحدت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام علماء کرام کو حق بات کہنے، عدل و انصاف پر قائم رہنے اور امت کو انتشار سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔

https://youtu.be/snLLpwhmVLA?si=nPTLlj53wu9AZMrV⬆️⬆️⬆️⬆️⬆️▪️▫️▪️▫️▪️▫️▪️▫️▪️▫️▪️تعزیت نامہ  • بخدمت احباب مہاراشٹرا  • ا...
19/05/2026

https://youtu.be/snLLpwhmVLA?si=nPTLlj53wu9AZMrV
⬆️⬆️⬆️⬆️⬆️
▪️▫️▪️▫️▪️▫️▪️▫️▪️▫️▪️
تعزیت نامہ

• بخدمت احباب مہاراشٹرا

• السلام علیکم ورحمۂ اللہ وبرکاتہ :

• تم پر سلامتی ہو ، میں پہلے تم سے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور ہزاروں لاکھوں درود وسلام ہو : ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم پر : حمد وثنا ء کے بعد (دعا کرتا ہوں کہ ) اللہ تمہیں اور تمہارے عزیزواقارب کو اجر عظیم عطا فرمائے ، اور تمہیں شکر ادا کرنا نصیب فرمائے ، اس لئے کہ بیشک ہماری جانیں ہمارا مال اور ہمارے والدین و اہل و عیال (سب ) اللہ بزرگ وبرتر کے خوشگوار عطیے اور عاریت کے طور پر ہمیں سپرد کی ہوئی امانتیں ہیں : اس اصول کے مطابق ہمارے صوبہ مہاراشٹرا کے دعوت وتبلیغ کے سرپرستان وذمہ داران : بھائی اسلم صاحب ناگپور والے ، اور بھائی حافظ منظور صاحب پونہ والے رحمہما اللہ تقبل اللہ جھدھما ، واعف عنہما ، واجعل قبورھما روضۂ من ریاض الجنۂ ، وارزق اھلھما صبراجمیلا )
• ستر (۷۰) کی دہائی میں مہاراشٹرا میں دعوت وتبلیغ کے چار ہی بزرگ ہمہ تن دعوتی فکروں میں منہمک پائے جاتے تھے : پونہ میں مولانا یونس صاحب ۔ مرٹہواڑہ میں بھائی سعید خان صاحب اور نگ آبادی ۔ برار میں بھائی مُشیر خان صاحب امراوتی والے ۔ بھائی اسلم صاحب ناگپور والے : حافظ منظور صاحب مولانا یونس صاحب کا عکس تھے ، شاید ہی کوئی سفر ہو کہ جس میں حافظ صاحب مولانا یونس صاحب کے ہمراہ نہ رہے ہو : ان چاروں بزرگوں نے حضرت جی ثانی وثالث کے زمانوں کو پایا اور اُن کی اطاعت کا خوب حق اداکیا ۔ اور حضرت جی رابع کے موجودہ وقت کے دعوتی شہسواروں میں یہ تینوں حضرات ممتاز تھے : سعید بھائی تو بہت پہلے ہی وفات پاچکے تھے ( رحمہم اللہ اجمعین ) : بہر حال یہ چاروں بزرگ مہاراشٹرا کے مسلمانوں کے پاس اللہ کی امانت تھے : اللہ تعالیٰ نے مہاراشٹرا کے تبلیغ والوں کو ان : مرحومین سے نفع اٹھانے اور احیاء دین کےلئے جد وجہد کرنے میں اُن کے ساتھ رہنے کا موقع عطا فرمایا :
• اب اللہ تعالیٰ نے تم سے اجر عظیم کے عوض ان مرحومین کو واپس لے لیا ہے ۔ اللہ کی خاص نوازش اور رحمت وہدایت کی تم کو بشارت ہے : اگر تم نے ثواب کی نیت سے صبر کیا : پس تم صبر وشکر کے ساتھ رہو (دیکھو )تمہارا رونا دھونا تمہارے اجر کو ضائع نہ کردے کہ پھر تمہیں پشیمانی اٹھانی پڑے ، اور یاد رکھو کہ رونا دھونا کسی مصیبت کو لوٹا کر نہیں لاتا ، اور نہ ہی غم واندوہ کو دور کرتاہے اور جو ہونے والا ہے وہ تو ہو کر رہے گا اور جو ہونا تھا وہ ہو چکا ۔

• اور یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ داعیوں کی رحلت : اپنے پیچھے اپنے انوار وبرکات کے علاوہ دین کے داعیوں کی ایک کثیر تعداد چھوڑ جاتی ہے ۔
• یہ بات قابل اطمینان ہے کہ ان مرحومین نے اپنی زندگی میں سے تقریباً (۶۵۔ ۷۰ ) سال تبلیغ دین کرتے کرتے گذاردی ، اور ملکوں کے سفر کئے ، اور ہر طرح کے دُکھ جھیلے ، اخلاص واستخلاص کے ساتھ جمے رہے ۔
• اب بعد والوں کا یہ ولولہ وجذبہ ہوکہ : ان مرحومین کے بقیہ کام کو تکمیل تک پہنچائے : اور اجتماعیت کے ساتھ اُس امیر کے ساتھ جُڑے رہیں جو مرکزنظام الدین کی طرف سے مقرر کیاجائے ۔
• ( فان المحب لمن یحب مطیع ) محبوب حبیب ہی کے راستے پر مرمٹتا ہے :

• اللہ تعالیٰ دعوتی کام کی اور کام کرنے والوں کی حفاظت وحمایت فرمائے ۔

• والسلام

• بندہ : محبوب : لندن

*_INNA LILLAHI WA INNA ILAYHI RAJIOON_**ِإِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون*الترجمة العربية أدناهTraduction en fr...
18/05/2026

*_INNA LILLAHI WA INNA ILAYHI RAJIOON_*
*ِإِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون*

الترجمة العربية أدناه
Traduction en français ci-dessous

Monday, 18-May-2026
It is with great sadness and a heavy heart that we share the news of the passing of
HAFIZ MANZOOR SAHAB (Pune/Poona),
The Amir of Dawat-e-Tabligh for Maharashtra State.
Maharashtra State has more than 13 million Muslims.

Hafiz Manzoor Sahab was among the pioneers of work of Dawat and Tabligh and a companion to Maulana Yunus Poona Wale رحمه الله
in his region. He sacrificed himself during a period when the region was far from Deen and rampant with Shirk and Bid'a.
Now Maharashtra State has one of the best work of Dawat and Tabligh, and has 100's of Deeni Madaris, and 1000's of Aalims & Hafizs.

A Great Ehsan to the Ummah:
Hafiz Manzoor Sahab kept the entire region of Maharashtra and its surrounding areas united in obedience to Markaz Nizamuddin and Hazratji Maulana Saad.

We request all friends and well-wishers to pray abundantly for the deceased.

May Allah Ta'ala forgive him,
Grant him high stations in the hereafter,
Bestow upon him an exalted place in Jannatul Firdaus,
And grant beautiful patience (Sabr-e-Jameel) to all his family members.

الإثنين، ١٨ مايو ٢٠٢٦

ببالغ الحزن والأسى وبقلوب مؤمنة بقضاء الله وقدره، ننعي إليكم خبر وفاة:
*حافظ منظور صاحب (بونا)*
أمير الدعوة والتبليغ في ولاية ماهاراشترا.
(علماً بأن ولاية ماهاراشترا تضم أكثر من ١٣ مليون مسلم).

كان حافظ منظور صاحب من رواد العمل في مجال الدعوة والتبليغ، ورفيقاً للدرب مع مولانا يونس بونا والي (رحمه الله) في منطقته. لقد بذل نفسه وضحى في فترة كانت فيها المنطقة بعيدة عن الدين، ومنتشرة فيها مظاهر الشرك والبدع. وبفضل الله ثم جهوده، أصبحت ولاية ماهاراشترا اليوم من أفضل المناطق في عمل الدعوة والتبليغ، وتضم مئات المدارس الدينية، وآلاف العلماء والحفاظ.

*إحسان عظيم على الأمة:*
لقد حافظ حافظ منظور صاحب على وحدة صف منطقة ماهاراشترا بأكملها والمناطق المجاورة لها، ثابتين على طاعة مركز نظام الدين وحضرة جي مولانا سعد.

نرجو من جميع الأحباب والمحبين الإكثار من الدعاء للمرحوم.

تغمد الله الفقيد بواسع رحمته ومغفرته،
ورفع درجاته في عليين،
وأسكنه فسيح جناته في الفردوس الأعلى،
ورزق أهله وذويه الصبر الجميل.

Lundi 18 mai 2026
C'est avec une immense tristesse et le cœur lourd que nous annonçons le décès de :
*HAFIZ MANZOOR SAHAB (Pune/Poona)*
L'Amir de la Dawat-e-Tabligh pour l'État du Maharashtra.
(L'État du Maharashtra compte plus de 13 millions de musulmans).

Hafiz Manzoor Sahab était l'un des pionniers du travail de la Dawat et de la Tabligh, et un fidèle compagnon de Maulana Yunus Poona Wale (رحمه الله) dans sa région. Il s'est dévoué corps et âme à une époque où la région était éloignée du Deen et marquée par le Shirk et la Bid'a. Aujourd'hui, grâce à ses efforts, le Maharashtra possède l'un des meilleurs réseaux de Dawat et Tabligh, comptant des centaines de Madaris et des milliers d'Aalims et de Hafizs.

*Une immense contribution (Ehsan) à l'Oumma :*
Hafiz Manzoor Sahab a maintenu toute la région du Maharashtra et ses environs unis dans l'obéissance au Markaz Nizamuddin et à Hazratji Maulana Saad.

Nous demandons à tous les amis et proches de multiplier les invocations (Douas) pour le défunt.

Qu'Allah Ta'ala lui accorde Son pardon et Sa miséricorde,
Qu'Il élève ses rangs dans l'au-delà,
Qu'Il lui accorde une place d'excellence au Jannatul Firdaus,
Et qu'Il accorde une belle patience (Sabr-e-Jameel) à tous les membres de sa famille.

Jealousy Over the Acceptance of Hazrat Ji Maulana Saad Sahab | Allergy Towards Tablighi Jamaatحضرت جی مولانا سعد صاحب کی...
18/05/2026

Jealousy Over the Acceptance of Hazrat Ji Maulana Saad Sahab | Allergy Towards Tablighi Jamaat

حضرت جی مولانا سعد صاحب کی مقبولیت سے حسد، تبلیغی جماعت سے الرجی

Allah granted Hazrat Ji Maulana Saad Kandhalvi DB widespread acceptance, and this acceptance became a reason for jealousy among some individuals.
By the grace of Allah, a large number of Ulama continue sacrificing their time and efforts under the guidance and concern of Hazrat Ji.

During the leadership of Hazrat Ji, Ulama are being given importance and brought forward in the work of Tabligh.
Hazrat Ji’s vision is to establish a proper system of Amarat (leadership) in every city, ending the democratic system of شورائیت and appointing qualified Ulama as Ameers.
Hazrat Ji has always shown great respect and honor towards Ulama and students of Islamic knowledge.

An example of this was when students from Darul Uloom Nadwatul Ulama visited, and Hazrat Ji instructed that they should be greeted first, highlighting their importance before the public.

The growing opposition against Hazrat Ji is rooted in jealousy and prejudice among some people of knowledge.

Much of the division within the Ummah today is caused by mutual bias and intolerance among the people of truth.
Some individuals are deeply concerned with weakening and ending the work of Tablighi Jamaat.

Since they cannot openly oppose Tablighi Jamaat itself, they continue issuing new statements and fatwas against the Ameer of the Jamaat.

Those scholars who claim to support Tablighi Jamaat should first join the ranks and work within the صف before offering criticism.

As a matter of principle, an Imam accepts correction only from the one who stands within the صف (row).

اللہ تعالیٰ نے حضرت جی مولانا سعد کاندھلوی دامت برکاتہم کو غیر معمولی مقبولیت عطا فرمائی، اور یہی مقبولیت بعض لوگوں کے دلوں میں حسد کا سبب بن گئی۔
اللہ کے فضل سے بڑی تعداد میں علماء حضرت جی کی فکر اور رہنمائی میں قربانیوں کے ساتھ اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔
حضرت جی کی امارت میں علماء کو اہمیت دی جا رہی ہے اور انہیں تبلیغی کام میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
حضرت جی کی فکر یہ ہے کہ ہر شہر میں امارت کا مضبوط نظام قائم ہو، شورائیت کا جمہوری نظام ختم ہو، اور کسی عالم دین کو امیر بنایا جائے۔
حضرت جی ہمیشہ علماء اور دینی طلبہ کی عزت و تکریم کو عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس کی ایک مثال وہ موقع ہے جب دارالعلوم ندوۃ العلماء کے طلبہ آئے تو حضرت جی نے سب سے پہلے ان سے مصافحہ کرنے کا حکم دیا اور ان کی اہمیت کو بیان فرمایا۔
حضرت جی کی مخالفت کی اصل وجہ بعض اہلِ علم کا حسد اور تعصب ہے۔
آج امت میں پائے جانے والے بہت سے اختلافات اہلِ حق کے آپسی تعصب کا نتیجہ ہیں۔
بعض لوگ اس فکر میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح تبلیغی جماعت کے کام کو کمزور یا ختم کیا جائے۔
چونکہ وہ کھل کر تبلیغی جماعت کی مخالفت نہیں کر سکتے، اس لیے جماعت کے امیر کے خلاف نئے نئے بیانات اور فتوے جاری کرتے رہتے ہیں۔
جو علماء اپنے آپ کو تبلیغی جماعت کا حمایتی سمجھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ صف میں شامل ہو کر کام کریں، پھر اصلاح کی بات کریں۔
اصولی بات یہ ہے کہ امام اسی شخص کا لقمہ قبول کرتا ہے جو صف میں شامل ہو۔

Hadees E Nabwi Islamic Production ✍️

حضرت مولانا طارق جمیل صاحب نے رائیونڈ مرکز میں رچی گئی سازش کا انکشاف کیادرمیان میں: حاجی عبد الوہاب صاحب رحمہ اللہ کو ر...
17/05/2026

حضرت مولانا طارق جمیل صاحب نے رائیونڈ مرکز میں رچی گئی سازش کا انکشاف کیا
درمیان میں: حاجی عبد الوہاب صاحب رحمہ اللہ کو رائیونڈ مرکز میں یرغمال بنا لیا گیا تھا
نیچے نکات میں لکھا ہے:
مولانا طارق جمیل صاحب نے واضح کیا کہ اصل باغی گروہ رائیونڈ اور گجرات والے ہیں جنہوں نے شوریٰ بنائی۔
ان کے مطابق حاجی عبد الوہاب صاحب رحمہ اللہ اس شورائی گروہ کے سخت خلاف تھے۔
یہ بھی کہا گیا کہ حاجی عبد الوہاب صاحب سے جھوٹ بول کر دستخط کروائے گئے۔
جب انہیں حقیقت معلوم ہوئی تو وہ سخت ناراض ہوئے اور فوراً نظام الدین مرکز سے رجوع کرنے کو کہا۔
مولوی فہیم پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے زبردستی دستخط کروائے۔
آخر میں لکھا ہے کہ مولانا سعد صاحب کو ان باتوں کا علم نہیں تھا اور ان کے پیچھے سازش کی جا رہی تھی۔
آخر میں دعا لکھی ہے: “حقیقت جاننا اور سمجھنا ہر مسلمان پر ضروری ہے، اللہ ہمیں حق پر رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔”
یہ ایک اختلافی/تنظیمی پوسٹر معلوم ہوتا ہے جو تبلیغی جماعت کے اندرونی تنازع کے حوالے سے بنایا گیا ہے۔

حضرت مولانا سعد صاحب اور شوریٰ کے درمیان اصل مسئلہ ذاتی مفادات کا تھا، نہ کہ کسی شرعی اختلاف کا۔شوریٰ کا نظام صرف چند لو...
16/05/2026

حضرت مولانا سعد صاحب اور شوریٰ کے درمیان اصل مسئلہ ذاتی مفادات کا تھا، نہ کہ کسی شرعی اختلاف کا۔
شوریٰ کا نظام صرف چند لوگوں کے مفادات اور اپنی حیثیت بچانے کی بنیاد پر قائم کیا گیا۔
یہ حقیقت ہے کہ انہی شوریٰ والوں نے تقریباً سولہ مہینے تک حضرت مولانا سعد صاحب کو اپنا امیر تسلیم کیا تھا۔
جب حضرت مولانا سعد صاحب نے مرکز نظام الدین کے اندر جاری بے ترتیبیوں اور ذاتی مفادات کو ختم کرنے کی کوشش کی، تب مخالفت شروع ہوئی۔
مرکز میں بعض لوگوں کے ذاتی دفاتر اور مستقل کمرے بنے ہوئے تھے، جہاں سے ذاتی نظام چلتے تھے۔
حضرت مولانا سعد صاحب نے فیصلہ فرمایا کہ مرکز میں الگ الگ کمرے نہیں ہوں گے بلکہ تمام اکابر ایک ہی ہال میں رہیں گے تاکہ آپس میں ملاقات، مشورہ اور تعلق قائم رہے۔
حضرت نے یہ بھی فرمایا کہ مرکز میں ایک ہی کھانا اور ایک ہی دسترخوان ہوگا تاکہ مساوات اور سادگی قائم رہے۔
پرانے ساتھی جانتے ہیں کہ پہلے مرکز میں کئی کئی الگ دسترخوان لگتے تھے۔
حضرت نے یہ اصول بھی قائم فرمایا کہ ملکی اور غیر ملکی سفر میں ہر کام کرنے والا ساتھی جائے گا، کوئی مخصوص یا خصوصی جماعت نہیں ہوگی۔
صوبوں میں عرصے سے کام کرنے والے پرانے ساتھی بھی تقاضوں کے مطابق مختلف ملکوں اور علاقوں میں جائیں گے۔
جب یہ نظام نافذ ہونے لگا تو بعض لوگوں کو محسوس ہوا کہ ان کی چودھراہٹ اور خصوصی حیثیت ختم ہو جائے گی۔
اسی ذاتی مفاد کی وجہ سے کچھ لوگ مرکز نظام الدین چھوڑ کر الگ ہو گئے۔
اس کے علاوہ حضرت مولانا سعد صاحب اور ان لوگوں کے درمیان کوئی واضح شرعی جھگڑا یا عقیدے کا اختلاف موجود نہیں۔
آج بھی حضرت مولانا زبیر الحسن صاحبؒ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا زہیر الحسن صاحب اور ان کے دونوں بھائی مرکز نظام الدین میں موجود ہیں۔
یہ حضرات مرکز کے مدرسہ، قاسف العلوم، میں تدریس کا کام انجام دے رہے ہیں۔
اگر کوئی شخص مدرسہ جا کر دیکھے تو اسے ان حضرات اور حضرت مولانا سعد صاحب کے درمیان کسی قسم کی ظاہری ناچاقی یا اختلاف نظر نہیں آئے گا۔
یہ تمام باتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اصل اختلاف انتظامی اور ذاتی مفادات کا تھا، نہ کہ دینی اصولوں

HAZRAT JI MAULANA SAAD SAHAB KI MAQBOOLIYAT SE HASAD – TABLIGHI JAMAAT SE ALLERGY 😘This poster highlights the perspectiv...
16/05/2026

HAZRAT JI MAULANA SAAD SAHAB KI MAQBOOLIYAT SE HASAD – TABLIGHI JAMAAT SE ALLERGY 😘

This poster highlights the perspective that Hazrat Ji Maulana Saad Kandhalvi DB was blessed by Allah with widespread acceptance and influence, leading some people to develop envy and opposition. It emphasizes the importance of scholars (Ulema) in the work of Tabligh, the establishment of a leadership system based on knowledge and guidance, and the value of unity within the Ummah. The message also expresses concern over internal disagreements and calls for constructive support, harmony, and collective effort instead of division and hostility.

Address

London

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when London to Nizamuddin posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to London to Nizamuddin:

Share