28/08/2020
(صرف احمدی احباب کے لئے )
خلاصہ خطبہ جمعہ مؤرخہ 28اگست 2020 مبارک اسلام آباد یوکے(طالب دعا : ابو ظافر)
تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق آنحضرت ﷺ کی غلامی میں زمانہ کے امام مسیح موعود و امام مہدی کو حکم و عدل بنا کر بھیجا۔ وہ حکم و عدل جس نے اسلامی کی حقیقی تعلیم کی روشنی میں تمام مسلمانوں کو امت واحدہ بنانا تھا۔ جس نے تمام فروعی اختلافات کو دور کرکے امت واحدہ بنانا تھا۔ جس نے مسلمانوں کو ایک وحدت عطا کرنی تھی۔ پس آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ہر فرقہ میں سے وہ لوگ جنہوں نے سنجیدگی سے غور کیا ، اسلام کے مختلف فرقوں کے اختلافات کے درد کو محسوس کیا، انہوں نے علم ، عقل اور دعاؤں سے کام لیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شمولیت اختیار کی ۔ اور لاکھوں کی تعداد میں ہر سال شامل ہورہے ہیں۔ پس جماعت احمدیہ کسی فرقہ یا اختلاف پر قائم ہونے والی جماعت نہیں ہے بلکہ آنحضرتﷺ کے غلام صادق کے ذریعہ آخری زمانہ میں قائم ہونے والی جماعت ہے۔ الہاماً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سب مسلمانوں کو جو زمین پر ہیں جمع کرو۔ یہی کام آپ کے بعد خلافت سے جڑ کر آپ کی قائم کردہ جماعت کا ہے اور یہی ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ 130 سال سے کر رہے ہیں یا جب سے خلافت کا نظام شروع ہوا تو 112 سال سے کررہے ہیں۔ اور نہ صرف مسلمانوں کو قرآن کریم، سنت نبوی ﷺ ، احادیث صحیحہ زمانہ کے حکم و عدل کی تعلیم کی روشنی میں بتا رہے ہیں بلکہ غیر مسلموں کو بھی بتا کر دائرہ اسلام میں داخل کرر ہے ہیں۔
پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت اختلافات کو ختم کرنے کے لئے قائم ہوئی ہے اور باوجود اختلاف کے امن کا پیغام ہماری طرف سے ہوتا ہے۔ اور یقیناً ہم نے حق بات کہنے سے باز نہیں آنا۔ لڑائی اور گالم گلوچ نہ پہلے ہماری طرف سے ہوئی نہ ہوگی ۔ الٰہی جماعتوں کی مخالفت ہوتی ہے لیکن آخر کار اللہ تعالیٰ انہیں کامیاب فرماتا ہے۔
ہم دعا بھی کریں گے اور کوشش بھی کرتے رہیں گے کہ زمانہ کے امام کے پیغام کو پھیلاتے رہیں۔ صاحب علم اور عقل لوگوں کو بھی میں کہتا ہوں کہ اس بات کی طرف غور کریں کہ ابتدائی چند سالوں کے علاوہ شروع سے ہی مسلمان آپس میں اختلافات کی وجہ سے اپنی وحدت کو کمزورکرتے آرہے ہیں۔
آج کل محرم کا مہینہ ہے۔ انگریزی سال شروع ہونے پر ہم ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک دیتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے اسلامی سال کے آغاز پر کئی اسلامی ممالک میں قتل و غارت ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا چاہئے، ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کس طرح امت مسلمہ بنا کر ان اختلافات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہمارے آقا و مطاع ﷺ نے اسلام کی ابتدائی ترقی کے زمانہ کے بعد فیج اعوج کی خبردی تھی تو خلافت علیٰ منہاج النبوة کی خبر بھی دی تھی۔ پس جب حالات بتارہے ہیں کہ قرآن و حدیث کی نشانیاں پوری ہورہی ہیں اور ہوگئی ہیں تو کیوں نہ ہم اس حکم و عدل کی اور آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کی تلاش کریں، جو اختلافات کو ختم کرکے امت واحدہ بنانے والا ہے۔
جب نشانیاں پوری ہورہی ہیں تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کون ہے جس کے ذریعہ اسلام کی نشاة ثانیہ کا کام ہونا ہے؟ ہم احمدی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمدیہ قادیانی علیہ السلام ہی وہ شخص ہیں۔ اگر ہم اس کے پیچھے حقیقی معنوں میں چلیں گے تو ہی دنیا کی اصلاح کریں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ ایک عالم کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ میری حیثیت کوئی مولوی کی نہیں ہے۔ میری حیثیت سنت انبیاء کی سی ہے۔ میری مانوں گے تو ہی نزاع کے حل ہوں گے ۔ ورنہ شیعہ سنی کے جھگڑے دیکھو کب حل ہونے میں آتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام خلفاء راشدین کا مقام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اور میں یہ جانتا ہوں کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جب تک ابو بکر، عمر، عثمان اور علی جیسے رنگ پیدا نہ کرتا ہو۔
چاروں خلفائے راشدین کا ایک مقام و مرتبہ ہے۔ ہر ایک کے مقام کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف جگہوں پر بیان فرمایا ہے۔ چاروں کے بارہ میں الگ الگ بیان کرتا ہوں۔
حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’آپ اسلام کے آدم ثانی اور خیرالانام کے مظہر اوّل تھے اور گو آپ نبی تو نہ تھے مگر آپ میں نبیوں اور رسولوں کی قوتیں موجود تھیں‘‘۔ (سر الخلافۃ روحانی خزائن جلد8صفحہ336)
یعنی آپ آنحضرتﷺ کے مظہر تھے۔ ان کے خوبُو پر چلنے والے تھے۔
پھر حضرت عمرؓ کے بارے میں آپؑ فرماتے ہیں کہ: ’’ان کے حق میں یہ حدیث ہے کہ شیطان عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سائے سے بھاگتا ہے‘‘۔ (نور الحق حصہ اول روحانی خزائن جلد8صفحہ143)
دوسری حدیث یہ ہے کہ: ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوتا‘‘۔ (ترمذی کتاب المناقب باب 52 حدیث 3686)
تیسری حدیث ہے کہ: ’’پہلی امتوں میں محدث ہوتے رہے ہیں اگر اس امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمرؓ ہے‘‘۔ (ترمذی کتاب المناقب باب57 حدیث نمبر 3693)
’’حضرت علی رضی اللہ متقی، پاک اور خدائے رحمان کے محبوب ترین بندوں میں سے تھے۔آپ ہم عصروں میں سے چنیدہ اور زمانے کے سرداروں میں سے تھے۔ آپ اللہ کے غالب شیر اور مردِ خدائے حنان تھے آپ کشادہ دست پاک دل اور بے مثال بہادر تھے۔
میدان جنگ میں انہیں اپنی جگہ سے ہٹایا نہیں جا سکتا تھا۔ خواہ دشمنوں کی فوج بھی آپ کے مقابل پر ہوتی۔ آپ نے اپنی عمر سادگی میں گزاری۔ اور آپ زھد و ورع میں بنی نوع انسان کی انتہاء کو پہنچے ہوئے تھے۔ اپنی جائیداد کا عطیہ دینے اور لوگوں کے مصائب کو رفع کرنے میں اور یتامیٰ اور مساکین اور ہمسائیوں کی خبر گیری میں آپ مرد اول تھے۔ آپ معرکہ ہائے رزم میں ہر طرح کی بہادری میں نمایاں تھے اور شمشیر و سنان کی جنگ میں کارہائے نمایاں دکھلانے والے تھے۔ بایں ہمہ آپ بڑے شیریں اور فصیح اللسان تھے۔آپ کی گفتگو دل کی گہرائیوں میں اتر جاتی تھی۔ ذہنوں کے زنگ دور ہوجاتے تھے اور دلیل کے نور سے مطلع چکا چوندھ ہوجاتا تھا۔
آپ ہر قسم کے اسلوب کلام پر قادر تھے اور جس نے بھی آپ کا اس میدان میں مقابلہ کیا تو اسے ایک مغلوب آدمی کی طرح عذر خواہ ہونا پڑا۔ آپ ہر کار خیر میں اور اسالیب فصاحت و بلاغت میں کامل تھے۔ اور جس نے بھی آپ کے کمالات کا انکار کیا گویا وہ بے حیائی کی راہ پر چل پڑا۔ آپ بے قراروں کی دلجوئی کے لئے تیار رہتے۔ قانع اور غربت سے پریشان کو کھانا کھلانے کا حکم دیتے تھے اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے تھے۔ بایں ہمہ آپ قرآن کریم کا جام نوش کرنے میں سر فہرست تھے اور قرآن کے دقائق کے ادراک میں آپ کو ایک عجیب فہم عطا ہوا تھا۔(ترجمہ از عربی سر الخلافۃ۔ روحانی خزائن۔ جلد۸۔ صفحہ ۳۵۸۔۳۵۹)
فرمایا آج کل محرم کا مہینہ ہے اور ایک دو دن تک دس محرم ہے جس دن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی۔ شیعہ لوگ غم کا اظہار کرتے ہیں۔ اس موقع پر عام لوگ ہمارے بارہ میں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اہل بیت سے محبت نہیں رکھتے۔ حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خاندان نبوت کے لوگوں کے بارہ میں کیا خیالات رکھتے ہیں اس بارہ میں کچھ بیان کرتا ہوں۔ حضرت علیؓ کے بارہ میں فرمایا میں نے آپ کو نیند کی حالت میں نہیں بیداری کی حالت میں دیکھا ہے کہ آپ نے خدائے علیم کی کتاب کی تفسیر مجھے عطا کی ہے اور فرمایا یہ میری تفسیر ہے۔ اور اب یہ تمہارے سپرد کی جاتی ہے۔ پس جو تمہیں دیا جاتا ہے اس پر خوش ہو جاؤ۔ چنانچہ میں نے ایک ہاتھ بڑھایا اور وہ تفسیر لے لی۔ اور خدائے معطی و قدیر کا شکر ادا کیا۔ میں نے آپ کو بہت مضبوط جسم والا اور پکے اخلاق والا متواضع اور منکسر، شگفتہ رو اور پُر نور پایا۔
اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ بہت پیار اور محبت سے پیش آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سچے مخلصوں کی طرح اظہار محبت کیا۔ اور آپ کے ساتھ حسن اور حسین دونوں اور سید الرسل خاتم النبیین بھی تھے۔
اور آپ کے ساتھ ایک خوبصورت، نیک اور بارعب ، مبارک، پاکباز، قابلِ تعظیم، نوجوان، باوقار، ماہ رخ، پُرنور خاتون بھی تھیں۔ میں نے انہیں بہت غمگین پایا۔ وہ اپنے غم کو چھپائے ہوئے تھیں اور میرے دل میں یہ ڈالا گیا کہ یہ فاطمۃ الزھراؓ ہیں۔ پھر وہ میرے پاس تشریف لائیں جبکہ میں لیٹا ہوا تھا۔ سو میں اٹھ بیٹھا اور انہوں نے میرا سر اپنی گود میں رکھ دیا اور اظہار لطف و کرم فرمایا۔ اور میں نے محسوس کیا کہ میرے بعض دکھوں اور غموں پر آپ اس طرح غمگین و مضطرب ہوئیں جس طرح محبت و رافت و احسان رکھنے والی مائیں اپنے بیٹوں کے مصائب پر بے قرار ہو جاتی ہیں۔ تب مجھے بتایا گیا کہ دینی تعلق کی بنا پر میں بمنزلہ آپ کے فرزند کے ہوں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ آپ کا غم ان مظالم کی طرف اشارہ ہے جو مجھے قوم اور اہلِ وطن اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والے ہیں۔
پھر میرے پاس حسن اور حسین آئے اور انہوں نے بھائیوں کی طرح میرے ساتھ محبت اور غم خواری کا اظہار کیا۔
اور یہ بیداری کے کشوف میں سے ایک کشف تھا اور اس پر چند سال گزر چکے ہیں۔ مجھے حضرت علی، حسن اور حسین کے ساتھ ایک لطیف قسم کی مشابہت ہے جس کا راز مشرق اور مغرب کا خدا ہی جانتا ہے۔
میں حضرت علی اور ان کے دونوں بیٹوں سے محبت کرتا ہوں اور جو ان کا دشمن ہے میں اس کا دشمن ہوں‘‘۔ (ترجمہ از عربی سر الخلافۃ۔ روحانی خزائن۔ جلد۸۔ صفحہ ۳۵۸۔۳۵۹)
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جب محرم کا مہینہ تھا اور حضرت مسیح موعود ؑ اپنے باغ میں ایک چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔آپ نے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم سلمہا اور ہمارے بھائی مبارک احمد مرحوم کو جو سب بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا ’’آؤ میں تمہیں محرم کی کہانی سناؤں‘‘۔پھر آپ نے بڑے دردنا ک انداز میں حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے واقعات سنائے۔آپ یہ واقعات سناتے جاتے تھے اور آپکی آنکھوں سے آنسورواں تھے اور آپ اپنی انگلیوں کے پوروں سے آنسوپونچھتے جاتے تھے.... آپ نے بڑے کرب کے ساتھ فرمایا’’یزید پلید نے یہ ظلم ہمارے نبی کریمﷺکے نواسے پر کروایا مگر خدا نے بھی ان ظالموں کو بہت جلد اپنے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘اس وقت آپؑ پر ایک عجیب کیفیت طاری تھی اور اپنے آقاﷺکے جگر گوشہ کی المناک شہادت کے تصور سے آپؑ کا دل بہت بے چین ہورہا تھا۔
حضور انور نے یہی روایت حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی زبانی بھی بیان فرمائی۔ بعد ازاں حضور انور نے اختصار کے ساتھ شہادت حضرت امام حسین ؓ کے بارہ میں بیان فرمایا کہ جب آپ کے لشکر پر غلبہ پالیا گیا تو آپ نے اپنا گھوڑا دریائے فرات کی طرف لےجانے کی کوشش کی تو راستے میں روک لیا گیا۔ کسی نے آپ کی ٹھوڑی پر نیزہ مارا۔ آپ کا مثلہ کیا گیا۔جسم پر زخم ہی زخم تھے۔
پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام احمدیوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کیونکہ کسی احمدی نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں کوئی بات کی تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علم میں آئی، اس پر آپ سخت ناراض ہوئے اور احمدیوں کو فرمایا کہ: ’’واضح ہو کہ کسی شخص کے کارڈ کے ذریعہ سے مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض نادان آدمی جو اپنے تئیں میری جماعت کی طرف منسوب کرتے ہیں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت یہ کلمات منہ پر لاتے ہیں کہ نعوذ باللہ حسین بوجہ اس کے کہ اُس نے خلیفۂ وقت یعنی یزید سے بیعت نہیں کی، باغی تھا اور یزید حق پر تھا۔ لَعْنَتُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْن۔‘‘ فرمایا: ’’مجھے امیدنہیں کہ میری جماعت کے کسی راستباز کے منہ سے ایسے خبیث الفاظ نکلے ہوں۔ مگر ساتھ اس کے مجھے یہ بھی دل میں خیال گزرتا ہے کہ چونکہ اکثر شیعہ نے اپنے وِرد تبرّے اور لعن طعن میں مجھے بھی شریک کر لیا ہے‘‘ (یعنی مجھے گالیاں نکالتے رہتے ہیں ) ’’اس لئے کچھ تعجب نہیں کہ کسی نادان بے تمیز نے سفیہانہ بات کے جواب میں سفیہانہ بات کہہ دی ہو۔ جیسا کہ بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کرتا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔ بہر حال مَیں اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ یزید ایک ناپاک طبع، دنیا کا کیڑا اور ظالم تھا۔ اور جن معنوں کی رُو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے، وہ معنی اُس میں موجودنہ تھے۔ مومن بننا کوئی امر سہل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں کی نسبت فرماتا ہے۔ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا۔ قُلْ لَّمْ تُوْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْآ اَسْلَمْنَا (الحجرات: 15) مومن وہ لوگ ہوتے ہیں … جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اُس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے اور اُس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بُت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمالِ فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو، سب سے اپنے تئیں دُور تر لے جاتے ہیں۔ لیکن بدنصیب یزید کو یہ باتیں کہاں حاصل تھیں۔ دنیا کی محبت نے اُس کو اندھا کر دیا تھا۔ مگر حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہّر تھا اور بلا شبہ وہ اُن برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرّہ کینہ رکھنا اُس سے موجب سلبِ ایمان ہے اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الٰہی اور صبر اور استقامت اور زُہد اور عبادت ہمارے لئے اُسوۂ حسنہ ہے۔ اور ہم اُس معصوم کی ہدایت کے اقتدا کرنے والے ہیں جو اُس کو ملی تھی۔ تباہ ہو گیا وہ دل جو اُس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اُس کی محبت ظاہر کرتا ہے۔ اور اُس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الٰہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ میں ایک خوبصورت انسان کا نقش۔ یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔ کون جانتا ہے اُن کا قدر مگر وہی جو اُن میں سے ہیں۔ اس دنیا کی آنکھ اُن کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دُور ہیں۔ یہی وجہ حسینؓ کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔ دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اُس کے زمانہ میں محبت کی تا حسینؓ سے بھی محبت کی جاتی۔ غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے۔ اور جو شخص حسینؓ یا کسی اور بزرگ کی جو آئمہ مطہّرین میں سے ہے، تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اُس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ اُس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اُس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے۔ جو شخص مجھے برا کہتا ہے یا لعن طعن کرتا ہے اس کے عوض میں کسی برگزیدہ اور محبوب الٰہی کی نسبت شوخی کا لفظ زبان پر لانا سخت معصیت ہے۔ ایسے موقع پر درگزر کرنا اور نادان دشمن کے حق میں دعا کرنا بہتر ہے کیونکہ اگر وہ لوگ مجھے جانتے کہ میں کس کی طرف سے ہوں تو ہرگز برا نہ کہتے‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 548 تا 550 اشتہار نمبر 263مطبوعہ الشرکۃ الاسلامیۃ ربوہ)
پس یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ہم اہل بیت سے محبت نہیں رکھتے۔ جہاں شیعہ غلو کرتے ہیں وہاں انہیں غلط قرار دیا۔ اور آپ حکم وعدل تھے اور انہی باتوں میں آپ نے فیصلہ کرنا تھا۔
ان حالات میں دعاؤں پر بہت زور دیں۔ رب کل شیء خادمک کی دعا۔ درود شریف بہت پڑھیں۔ فتح و کامرانی ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیں عطا ہوگی۔ دوسرے مسلمانوں کے لئے بھی بہت دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ عقل دے اور اس سال کسی بھی ملک سے یہ اطلاع نہ ملے جہاں ایک مسلمان نے ہی ایک مسلمان کو مارا ہو۔ اور ان کو یہ سمجھ آجائے کہ ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ زمانہ کے امام کی بیعت میں آجائیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین