ڈاکٹر طاہرالقادری ٹھیک کہتے ہیں

حصولِ علم اور صبر و توکل کی راہعلم حاصل کرنا اپنے ساتھ بلند آداب اور صبر کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر اس راہ میں معاشی تنگی بھی...
22/04/2026

حصولِ علم اور صبر و توکل کی راہ
علم حاصل کرنا اپنے ساتھ بلند آداب اور صبر کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر اس راہ میں معاشی تنگی بھی پیش آ جائے تو طالبِ علم کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ اصل سرمایہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور اس کے ساتھ مضبوط تعلق ہے۔ جب دل علم کے نور سے منور ہو جائے تو دنیاوی تنگیاں معمولی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ لہٰذا سچا طالبِ علم ہر حال میں اللہ کی رضا پر مطمئن اور ثابت قدم رہتا ہے۔

22/04/2026

2.5ٹریلین ڈالر کی ورلڈ حلال اکانومی میں بزنس شیئر کیلئے خودمختار اتھارٹی ناگزیر

حلال اتھارٹی بل 2016ء میں منظورہوا، دس سال سے مشاورت جاری ہے اتھارٹی کس کے ماتحت ہو گی؟

سالانہ 9.1فیصد کی شرح سے ترقی کرنے والے حلال انڈسٹری کا مالیاتی حجم 2034ء تک 6 ٹریلین ڈالر ہوجائیگا

پاکستان کی سالانہ حلال ایکسپورٹس 512ملین ڈالرجبکہ غیر مسلم ملک برازیل سالانہ 6ارب ڈالر کما رہا ہے

دنیا کو حلال اور ہائی جین اشیاء یعنی پاکیزگی کا تصور اسلام نے دیا مگر اس میں اسلامی ملک پیچھے ہیں

منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام تیسرے عالمی حلال انڈسٹری سمٹ سے پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا خطاب

منہاج یونیورسٹی لاہورکے سینٹر فار حلال بیداری شعور، ریسرچ اینڈ ٹریننگ (CHART)کے زیر اہتمام تیسری ”عالمی حلال انڈسٹری سمٹ“کا انعقاد ہوا۔ سمٹ میں ملکی و بین الاقوامی ماہرین، پالیسی سازوں اور حلال صنعت سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ سمٹ کے چیف آرگنائزرز رجسٹرار منہاج یونیورسٹی و ڈائریکٹر CHART پروفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد اور ڈپٹی ڈائریکٹر CHART ڈاکٹر منیر حسین تھے۔معاون منتظمین میں نظام المدارس پاکستان، اسکول آف فارمیسی، منہاج حلال سرٹیفیکیشن (MHC)، اسکول آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اسکول آف ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹکس اور کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز شامل تھے۔

تیسرے عالمی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے منہاج یونیورسٹی لاہور کے ڈپٹی چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ریسرچ پیپر پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2.5ٹریلین ڈالر کی ورلڈ حلال اکانومی میں پاکستان کا ایکسپورٹ شیئر صرف 512ملین ڈالر ہے۔ غیر اسلامی ملک برازیل سالانہ 6ارب ڈالر کمارہا ہے۔ 2034ء تک ورلڈ حلال اکانومی کا مالیاتی حجم 6 ٹریلین ڈالر سے بڑھ جائے گا۔ پاکستان میں اس ابھرتی ہوئی اقتصادی مارکیٹ سے بھرپور استفادہ کے لئے خودمختار حلال اتھارٹی کا قیام ناگزیرہے۔ پاکستان میں حلال اتھارٹی بل 2016ء میں منظورہوا، دس سال سے مشاورت جاری ہے کہ یہ اتھارٹی کس کے ماتحت ہو گی؟،حلال اکانومی سالانہ 9.1فیصد کی شرح سے ترقی کررہی ہے جو کسی بھی بزنس سے بہت آگے ہے۔ دنیا کو حلال اور ہائی جین اشیاء یعنی پاکیزگی کا تصور اسلام نے دیا مگر اس حوالے سے اسلامی ملک بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ نصف درجن وزارتوں کے اجازت ناموں کے مشقت طلب پراسیس کی وجہ سے پاکستان میں حلال انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے۔

یہ رکاوٹیں ختم کرنے کے لئے خودمختار اتھارٹی کا قیام ضروری ہے جبکہ ملائیشیا، سنگاپور، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات حلال سرٹیفکیشن اور حلال سپلائی چین کے لئے بلاک چین اورمصنوعی ذہانت سے مدد لے رہے ہیں۔پاکستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہے یعنی 24 کروڑ سے زائد پاکستان کے پاس دنیا کا پانچواں بڑا مویشیوں کا ذخیرہ ہے۔ 10 کروڑ سے زائد گائیں، بھینسیں اور 11 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ بھیڑ بکریاں ہیں اور اس سب سے بڑھ کر نوجوانوں پر مشتمل 60 فیصد سے زائدتوانا آبادی، وسیع و عریض زرخیز زمینیں اور قدرتی چراگاہیں جو ایشیا میں بہترین معیار کا مٹن پیدا کرتی ہیں، پاکستان ایک ایسا خطہ ہے جو وسطی ایشیا، مشرقی وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو جوڑتا ہے اور بہترین بری و بحری ذرائع آمدروفت پاکستان کی ایک اہم قوت ہیں اللہ کی ان قدرتی نعمتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔

پروگرام کی موڈریشن کے فرائض حذیفہ شبیر، طوبیٰ خانم اور اریبہ مظفر نے انجام دیے۔ سمٹ میں عالمی سطح کے ممتاز مندوبین شریک ہوئے جن میں ترکیہ سے احسان اوٹ، ملائیشیا سے محمدفوضی ابو حسین، اقوام متحدہ سے جیمز رابرٹ اوکت شامل تھے۔ مقررین نے سمارٹ ٹیکنالوجی، بلاک چین اور پائیدار لاجسٹکس کے ذریعے عالمی حلال سپلائی چین کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ملکی سطح پر ڈاکٹر یاسر سلیم، ڈاکٹر محمد شعیب، ڈی جی فوڈ پنجاب محمد عاصم جاوید اور پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل سے عتیق الرحمن میمن نے خطاب کیا۔

مقررین نے حلال مینوفیکچرنگ میں گرین انوویشن، سرکلر اکانومی اور بین الاقوامی ایکریڈیٹیشن کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے امکانات پر روشنی ڈالی۔سمٹ کے دوران ایک اہم پینل ڈسکشن کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں حلال انڈسٹری کے ممتاز ماہرین نے شرکت کی۔پینل میں صنعتی ڈیجیٹلائزیشن، سپلائی چین کی شفافیت اور پائیدار پیداواری نظام کے نفاذ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سمٹ کے اختتام پر ڈپٹی ڈائریکٹر CHART ڈاکٹر منیر حسین نے شرکاء، عالمی مندوبین اور تعاون کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حلال انڈسٹری میں تحقیق، تربیت اور جدت کا یہ سفر جاری رکھا جائے گا۔

29/03/2026
22/02/2026

تعلیمی میدان میں پاکستان کی بڑی کامیابی: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری پہلی یونیسکو چیئر کے لیے منتخب
پاکستان کی تعلیمی اور سفارتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ معروف ماہرِ تعلیم اور دانشور حسین محی الدین قادری کو امن، تعلیم اور بین الثقافتی مکالمے کے لیے پاکستان کی تاریخ کی پہلی یونیسکو چیئر (UNESCO Chair) کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔

یہ باوقار چیئر منہاج یونیورسٹی لاہور میں قائم کی گئی ہے، جو ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے ایک منفرد اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، جو یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے ڈپٹی چیئرمین اور تحریک منہاج القرآن کے صدر ہیں، اس چیئر کے پہلے سربراہ ہوں گے۔

22/02/2026
22/02/2026

Address

Naseby Road
Birmingham
B83HE

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ڈاکٹر طاہرالقادری ٹھیک کہتے ہیں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to ڈاکٹر طاہرالقادری ٹھیک کہتے ہیں:

Share