Abrahamic Faiths

Abrahamic Faiths "Follow the religion of Abraham, the upright one; and he was not of the polytheists" (Holy Quran 3:95).

Let’s work for peace, nothing else!Angels argued "man will cause mischief in the world and shed blood",  but God rebuked...
21/06/2025

Let’s work for peace, nothing else!
Angels argued "man will cause mischief in the world and shed blood", but God rebuked them and imparted His trust on mankind by saying “you do not know what I know”(Holy Quran 2:30).
Therefore I believe “blessed are the peacemakers, for they will be called children of God" (Holy Bible, Matthew 5:9).
Dr. Waseem

12/09/2024

کیا محمدﷺ مسجد نبوی کی قبر میں زندہ ہیں؟ آتے جاتے کو قبر پر پڑی مٹی کے نیچے سے دیکھ سکتے ہیں؟ اس کا سلام سنتے اور جواب دیتے ہیں یا جنت میں اپنے مقام الوسیلہ میں پہنچ چکے ہیں؟
ڈاکٹر محی الدین وسیم۔
مسلم دنیا قبروں اور مزاروں سے بھری پڑی ہے۔ فلسطین کے شہر ہیبرون میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ کی قبریں، کفیل عراق میں حزقی ایل، بصرہ عراق میں عزرا اور سوسا ایران میں ڈینیل علیھما السلام کے مزارات چند مثالیں ہیں جن میں یہودی اور مسلمان دونوں عبودیت کے مراسم ادا کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے حضرت محمد ﷺ، بعض اصحاب رسول اور بہت سے دوسرے مسلمان بزرگوں کی قبروں کو عبادت گاہوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ حالانکہ نبی کریم کو اپنے مرض وفات پر اسی بات کا سب سے بڑا اندیشہ تھا جب انہوں نے کہا “لعنت ہو یہود و نصاری پر جنہوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو مسجد بنا لیا (متفق علیہ)”۔ نبی کریم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں اسی اندیشے کی وجہ سے دفنایا گیا تھا۔ اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ ﷺ کی قبر بھی کھلی رہنے دی جاتی۔
کیا آپنے کبھی سوچا ہے لوگ اپنے فوت شدہ اسلاف کی پرستش کیوں کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اپنے نام نہاد مولویوں اور مفتیوں کی وجہ سے جو عوام الناس کو یہ باطل تعلیمات دیتے ہیں کہ ہر مردہ شخص دنیوی قبر میں جا کر دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے چاہے مسلم ہو یا کافر، وہ اس لیے کیونکہ اسکی روح کو دنیاوی جسم میں پلٹا دیا جاتا ہے، اور منوں مٹی کے نیچے دفن ہونے کے باوجود وہ آنے جانے والے کو دیکھتا اور پہچانتا ہے. حالانکہ قرآن اصول بیان کرتا ہے کہ مرنے کے بعد روح کا دنیا سے تعلق ختم ہو جاتا ہے "وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ" یعنی ان سب مرنے والوں کے پیچھے برزخ حائل ہے، دوسری زندگی (قیامت) کے دن تک (سورہ المومنون۱۰۰)۔ عربی میں برزخ ایسی رکاوٹ اور آڑ کو کہتے ہیں جس کو عبور نہ کیا جا سکےبحر کیف پھر یوں ہوا کہ قبروں پر عمارتیں اور گنبد بننے لگے اور مجاور آ بیٹھے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے قبروں سے جاری جھوٹے معجزات بیان کرنے لگے. پھر کعبہ کی طرح قبروں پر غلاف چڑھاۓ گئے، ان کو غسل دیا گیا، سجدے اور طواف کیے گۓ اور یوں پرستش کی جانے لگی. مگر یہ سب اسی وقت ممکن ہو سکتا تھا اگر پہلے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو مدینے کی قبر میں زندہ کیا جاتا. چنانچہ جھوٹی احادیث کا سہارا لے کر یہ کام بھی کیا گیا، حالانکہ نبی کریم نے واضح طور پر اپنی صحیح احادیث میں ہمیں یہ بتا دیا تھا کہ وفات کے بعد وہ جنت میں چلے جائیں گے.
بخاری میں سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے مروی حدیث ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں ان کا جنت میں مقام دکھایا گیا- حدیث میں الفاظ ہیں "اور یہ گھر جس میں آپ اب کھڑے ہیں یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میرے ساتھ میکائیکل ہیں۔ اچھا اب اپنا سر اٹھائیں، میں نے جو سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر بادل کی طرح کوئی چیز ہے۔ میرے ساتھیوں نے کہا کہ یہ آپ کا مکان ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ پھر مجھے اپنے مکان میں جانے دو۔ انہوں نے کہا کہ ابھی آپ کی عمر باقی ہے جو آپ نے پوری نہیں کی اگر آپ وہ پوری کر لیتے تو اپنے مکان میں آ جاتے"۔
اسی لیے ہمارا عقیدہ ہے کہ الله تعالی لوگوں سے ان کی موت کے بعد ان کے رتبوں اور اعمال کے مطابق معاملہ کرتا ہے. چنانچہ انبیا اور رسل بغیر کسی حساب کتاب کے جنّت میں داخل کر دیے جاتے ہیں. معراج کے موقعے پر اور دوسری صحیح احادیث میں نبی کریم نے انبیا کرام کو آسمانوں اور جنّت میں ہی دیکھا تھا کسی دنیوی قبر میں نہیں. شہدا کے بارے میں بھی سورہ آل عمران میں صاف بتا دیا کہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں (آیہ 169)۔صحیح مسلم کی اس آیت کی ایک تشریحی حدیث کے مطابق “شہیدوں کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں قندیلوں کے اندر ہیں، جو عرش مبارک سے لٹک رہی ہیں اور جہاں چاہتے ہیں جنت میں چگتے پھرتے ہیں، پھر اپنی قندیلوں میں آ رہتی ہیں” یعنی کسی دنیاوی قبر میں زندہ درگور نہیں۔
اسی طرح بعض انتہائی گمراہ لوگوں کو نبی نے جہنم میں عذاب ہوتے ہوے بھی دیکھا تھا جیسے عمرو بن لحی الخزاعی جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی رسم ایجاد کی تھی.
باقی سب لوگوں کی روحوں کو برزخ کی قبروں میں رکھا جاتا ہے جہاں نیک لوگوں کو کامیابی کی خوشخبری اور بدکاروں کو آنے والے عذاب کی خبر سنائی جاتی ہے جیسے کہ قرآن میں آل فرعون کے بارے میں کہا گیا کہ ان کو صبح و شام دوزخ کی آگ پر پیش کیا جاتا ہے اور جب قیامت قائم ہو گی تو کہا جاے گا کہ ان کو اس شدید عذاب میں داخل کر دو.
محمد ﷺ کی سنت تھی کہ کسی بھی قبر سے گزرتے تو اس کےلیے اللہ کے حضور ان الفاظ کیساتھ دعا کہتے “اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ” یعنی اللہ کی سلامتی ہو اے قبر کے باسیوں۔ میں بھی جب گسی کی قبر سے گزرتا ہوں تو یہ دعا دیتا ہوں، اس سلام کا مطلب مردے کو سنانا مقصود نہیں ہوتا یہ صرف دعائیہ الفاظ ہیں۔ اور نہ ہی میں کسی کی قبر پر ثواب کی نیت سے حاضری دین میں فرض سمجھتا ہوں، نہ نبی کی اور نہ ولی کی، ہاں دنیا سے بے رغبتی حاصل کرنے کیلیے اور موت کو یاد رکھنے کے لیے قبرستان جانا ایک الگ بات ہے۔
اگر آپکا بھی یہی ایمان ہے تو شئیر کریں۔

25/06/2024

“And whoever saves one life, it is as if he had saved entire mankind, Holy Quran 5: 32.”
I am saddened to know that more than 1300 pilgrims died facing extreme heat temperatures during this year’s Haj. I am sure in coming days Saudi government will leave no stone unturned to fully understand the cause of this mishap and will take measures to prevent this from happening in future.
In the past random fires in pilgrim’s tents from kerosene stoves was the major cause of such catastrophes. I remember one such event which happened on December 11, 1975 when a gas canister explosion lead to a huge fire in Mina that killed approximately 200 pilgrims and wounded dozens of people.
It was my second Haj with my parents.
Fortunately elimination of such hazardous objects and provision of fireproof tents by Saudi government has prevented these deadly fires over the years and might have saved many lives.
I’ll request my physician colleagues in Saudi Arabia to help the government and organize an emergency response team with the sole purpose of providing emergency medical services to people in need during Haj season. You may need makeshift hospitals in Mena and Arafat to help patients in need.
I am volunteering my services for this cause please contact me I am willing to work with you side by side during the next Haj season, Insha Allah.
Dr. Mohiuddin Waseem
Diplomate American Board of Internal Medicine.
Fellow American College of Physicians.
California. USA

23/06/2024

Angels, demons and dimensions.
Dr. Mohiuddin Waseem
There are at least eleven dimensions which the physicists hypothesize today.
We the humans live in a three dimensional world. Time is the fourth dimension.
We don’t know the exact nature of other higher dimensions.
I think some of the religious beliefs could be understood with modern day scientific understandings.
Quran says during the flood of Noah not only the water from earth came forth but God Almighty “opened the gates of the heaven for water to pour down”. I believe what is meant here is that the flood water came from another dimension.
In regards to Angels (فرشتے) and Jinnat (جنات) I believe they live and move in different dimensions than ours that is why Quran says “Jinnat see you from where you cannot see them”.
Satan’s refusal to obey God’s command to bow down to Adam was based on his understanding of being superior to Adam, citing him being created from fire and Adam from dust. He might have thought one belonging to a higher dimension such as himself should not bow down to a creature of a lower dimension such as Adam.
In any case Prophet Mohammad somehow opened some kind of dimension in Hira cave in Mekkah where Angel first appeared to him and thus the revelations from God Almighty started which lasted for twenty three years of his life and was finally closed by God Almighty Himself when He said “this day I have completed the religion (Islam) for you”. According to Ibn Hisham’s book on Serat un Nabi, Prophet Mohammad was not the only person who used to go up on Hira cave for prayers, there were others too in his time who used to go up there for the same purpose. It was a religious culture in pre Islamic Arabia that caves and clefts in rocks and mountains were used for seclusive prayers and meditations. I have seen many such places of worship in Madain Saleh and its surroundings which predate Islam by at least a thousand years. Prophet Mohammad became successful for some reason it was his destiny to acquire prophethood.
I also believe Barzakh is another dimension, regarding it the Quran says “before the departed souls there is Barzakh (hindrance a barrier) until the day of resurrection”.
Furthermore the physicists hypothesis that in the fifth and sixth dimensions a person can travel back and forth in time respectively. I wonder if Prophet Mohammad’s heavenly journey happened in these dimension where he was taken back in time to Jerusalem where he was shown the original Solomon’s Temple before its destruction in 70 CE
and then forward in time where he was made to witness Heaven and Jahannam.
Lastly in the story of Zulqarnain in Quran it is said he sealed the path of Yajooj and Majooj with a metallic wall. Did he close some kind of dimension which they will be able to breach through again before the end of times? I also believe Yajooj and Majooj are non-human beings. According to Kaab Ahbar a Jewish convert to early Islam “they were created with Adam’s semen which impregnated mother earth”.
Would love to hear your thoughts.
‎(جبل اثلب مدائن صالح پر)

03/05/2024

مسئلہ فلسطین!
ڈاکٹر محی الدین وسیم
سن ۲۰۰۰ میں کیمپ ڈیوڈ امریکہ میں آخری دفعہ امریکہ نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مزاکرات کے عمل کو بڑھانے کی حدالمقدور کوشش کی لیکن بدقسمتی سے یہ سربراہی اجلاس کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکا۔ اس اجلاس میں امریکی صدر بل کلنٹن، فلسطینی اٹھارٹی کے چیئرمین یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود براک نے شرکت کی۔ اسرائیلی وفد امن کی خاطر یروشلم اور حرم الشریف کے پلیٹ فارم کو تقسیم کرنے پر مصر تھا لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی شرط تھی کہ فلسطین میں پھیلی ان کی آبادکاریوں کو قانونی حیثیت دی جائے اور جلاوطن فلسطینیوں کی واپسی پر پابندی لگائی جائے۔ یاسر عرفات ان میں سے کسی بھی تجویز کو قبول نہ کر پائے اور بقول صدر کلنٹن یاسر عرفات سمجھتے تھے کہ اس طرح کا معاہدہ کرنے سے وہ فلسطینیوں میں غدار تصور کیے جائیں گے اور انہیں خطرہ تھا کہ ایسا کرنے پر ان کا اپنا ہی کوئی گارڈ ان کو گولی مار دےگا۔ وائے افسوس یہ کیمپ ڈیوڈ کانفرنس کی ناکامی کا ہی شاخسانہ ہے کہ یاسرعرفات کے الفتح گروپ کے مقابل حماس جیسے پرتشدد گروپ کو فلسطین کے کچھ علاقوں خصوصا غزہ میں مقبولیت حاصل ہوئی جس کا منتقی نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔
تاریخ بتاتی کہ بعض دفعہ ایک لیڈر کو اپنی قوم کے وسیع تر مفاد میں غیر مقبول فیصلے کرنے پڑتے ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ لیڈر کی جہدمسلسل اور تعلیم و تربیت سے ایک ایسی جماعت تشکیل پا چکی ہو جو اپنے لیڈر پر مکمل بھروسہ رکھتی ہو۔ آپ صلح حدیبیہ کی ہی شرائط دیکھ لیں، بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ محمد ﷺ نے کمزوری میں اس معاہدے پر دستخط کیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ احتجاج کیے بغیر نہ رہ پائے مگر آپ نبی ﷺ کی بصیرت دیکھے کہ اس ایک واقعہ نے قریش کو ہمیشہ ہمیشہ کیلیے دوسرے عرب قبائل میں غیر مقبول کر دیا اور لوگ جوق در جوق اسلام کی طرف راغب ہونے لگے۔
بحر کیف پچھلے چوبیس سالوں میں فلسطینیوں کیلیے اور بہت کچھ بدل چکا ہے انکے دہڑے بندیوں کی وجہ سے انکے سیاسی کاز کو شدید دہچکہ لگا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کی توسیع پسندی کی وجہ سے فلسطین اور اسرائیلی کے علاقے آپس میں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ فلسطینیوں کے احتجاج اور نقل و حمل کو کنٹرول کرنے کیلیے انکے شہروں کے گرد دیواریں اور خاردار تار لگا دی گئی ہیں اور اندر آنے جانے کے رستوں کی اسرائیلی فوجیوں کے زریعہ نگرانی کی جاتی ہے۔ ہماری نظر میں اس خطے کا دو ریاستی حل اب تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ میری بیٹی عفاف نے ہمارے فلسطین کے سفر کے موقع پر مجھ سے کہا کہ آنے والے وقت میں اس علاقے میں شاید جنوبی افریقہ کے طرز پر کوئی سیاسی حل نکلے جس میں فلسطینی اور اسرائیلی ایک ہی ملک میں بقائے باہمی کے جزبے کے ساتھ رہ سکیں۔ دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
والسلام
(1992 میں مادام تساؤ میوزیم لندن میں یاسر عرفات کا مومی مجسمہ اور میں)۔

"Follow the religion of Abraham, the upright one; and he was not of the polytheists" (Holy Quran 3:95).

29/04/2024

End of life care.
Dr. Mohiuddin Waseem
For all living beings on earth death is the ultimate reality. No one has escaped from it not even the Prophets. It is said when Angel of Death approached Prophet Moses and informed him that he was there to extract his soul Prophet Moses in anger slapped him hard. The Angel went back to God Almighty and informed Him that your servant does not want to die. God replied, ask Moses to put his hand on a cow the number of hair on cowhide under his hand will be the years added to his lifespan. Hearing that Moses realized that ultimately those years will run out too and agreed to his death as God intended on his appointed time.
Many of us do not realize this fact in our life.
Medical science though has discovered cures for many ailments and thus has been able to extend the lifespan of our fellow human beings but ultimately death remains the bitter reality. Honestly speaking despite many scientific advancements in last century we have not been able to add quality of life to our elderly population.
It is said coming events cast their shadows ahead of time. People with advanced incurable cancers and multiple organ failure know what lies ahead in coming days.
Thirty years ago during my ICU training I was taught the imminency of death in a patient can be predicted by counting the number of organ failure and designating 25% mortality for each organ involved.
It is important that patients should be informed about their illnesses and what to expect with the available medical treatment.
It is the responsibility of physicians to educate their patients and their loved ones the predicted outcome of their illnesses. Many patients consider comfort measures at home at end of life care instead of heroic medical treatment at hospitals.
Patients have the right to make any decision for themselves. As a fellow humans it is our responsibility to ensure their dignity.
(At American College of Physicians meeting, Boston April 2024)

"Follow the religion of Abraham, the upright one; and he was not of the polytheists" (Holy Quran 3:95).

کیا اللہ نے اس نام نہاد امت مسلمہ کو  بےیارومددگار چھوڑ دیا ہے؟‎یہ قبریں یہ آستانے!‎ڈاکٹر محی الدین وسیم‎میرے رب کا مسلم...
10/11/2023

کیا اللہ نے اس نام نہاد امت مسلمہ کو بےیارومددگار چھوڑ دیا ہے؟
‎یہ قبریں یہ آستانے!
‎ڈاکٹر محی الدین وسیم
‎میرے رب کا مسلمانوں سے وعدہ ہے کہ " تم ہی کامیاب رہو گے اگر تم مومن بن جاؤ"( آل عمران۔ ۱۳۹)۔
‎مگر صد افسوس ہم نے اور ہمارے اکابرین نے مالک کائنات کے ساتھ غدر کا رویہ اپنایا ہوا ہے۔ آج ہر گلی اور نکڑ پر غیر اللہ کی پکاریں ہیں انکی نظرو نیاز ہے اور انکی قبریں پوجی جا رہی ہیں، نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر ہر سو ایک ہی حال ہے۔
‎اب ایسے میں مالک کا غصہ اس امت پر نہ بھڑکے تو کیا ہو۔ اقوام عالم میں زلت و رسوائی ان کا مقدر بن چکی ہے۔ خبردار اگر یہ امت اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی، اگر اسنے یہ روش اور ہٹ دھرمی برقرار رکھی تو آیندہ بھی اسکے جوان کفار کے غلام بنتے رہیں گے، اسکے نونہال چھیدے جاتے رہیں گے اور اسکی عورتیں بے آبرو ہوتی رہیں گی۔
‎ان قبروں اور مزاروں میں مردہ اجسام ہیں، خاک ہے اور مٹی ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ بات تو ہمارا مالک ہمیں چودہ سو سال پہلے ہی بتا چکا ہے، نہیں جانتے تو اب پڑھ لو۔ مالک کہتا ہے "اور اللہ کے علاوہ وہ دوسری ہستیوں جن کو لوگ (حاجت روائی کیلئے) پکارتے ہیں وہ کسی چیز کے بھی خالق نہیں ، بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ موت کے بعد وہ بالکل مردہ ہیں ان میں جان کی رمق تک باقی نہیں ، انہیں تو اسکا بھی شعور نہیں کہ کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے" (النحل ۲۰۔۲۱)۔
‎یہاں مردوں سے مراد بت نہیں کیونکہ نہ وہ کبھی زندہ تھے اور نہ مرنے کے بعد اٹھایا جانا (جس کا انہیں شعور نہیں) بتوں کی صفت ہے۔ اس آیت کا مفہوم تو صرف فوت شدہ انسانوں پر ہی صادق آتا ہے جن کی قبروں سے لوگ امیدیں لگا لیتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ موت وارد ہونے کے بعد تاقیامت دنیوی زندگی کسی شخص کو نصیب نہیں، نہ دنیا سے اس کا کوئی تعلق باقی ہے، چنانچہ ان فوت شدہ لوگوں کا وسیلہ پکڑنے کا لوگوں کا عزر بھی باطل کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ اور ہاں اس آیت میں کسی کا استثنی بھی نہیں، نہ انبیا کا نہ اولیاء کا۔
‎بخاری کی حدیث میں آتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو خود اپنے بارے میں بِإِذْنِ اللہ پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ اپنی وفات کے بعد جنت کے اعلی ترین مقام الوسیلہ میں ہوں گے۔ چنانچہ ہمیں ایسے باطل عقائد، ضعیف احادیث اور تبلیغی قصوں سے نجات حاصل کرنی چاہیئے جن میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مدینہ کی قبر میں زندہ مدفون ہیں۔ یہ انہی باطل عقائد کا شاخسانہ ہے جن کو بنیاد بنا کر ہر شخص کو بعد از مرگ قبر میں زندہ کیا گیا اور یوں قبروں اور آستانوں کا کاروبار عام کیا گیا۔
‎لوگوں اب بھی وقت ہے، توبہ کر کے مالک کی طرف پلٹو، کیا پتہ وہ تمہیں مغضوب علیھم (جن پر غضب کیا گیا) کے درجے سے ہٹا دے اور اپنی رحمت تم پر نچھاور کرے اور دنیا کی بادشاہتیں تمہارے حوالے کر دے جیسا اسنے پچھلی صالح امتوں کے ساتھ کیا۔
‎(شئیر کریں)

گمشدہ مسجد اقصی (ہیکل سلیمانی) کی تلاش!ڈاکٹر محی الدین وسیمہیکل سلیمانی جسے عرب کے لوگ مسجد اقصی یعنی دور کی مسجد کے نام...
13/10/2023

گمشدہ مسجد اقصی (ہیکل سلیمانی) کی تلاش!
ڈاکٹر محی الدین وسیم
ہیکل سلیمانی جسے عرب کے لوگ مسجد اقصی یعنی دور کی مسجد کے نام سے موسوم کرتے تھے اسے صفحہ ہستی سے مٹے تقریباً دو ہزار سال ہوے چاہتے ہیں۔ یروشلم میں آج جو مقام ٹمپل ماؤنٹ یا حرم الشریف کے نام سے جانا جاتا ہے اس کے بارے میں آثار قدیمہ کے ماہرین بتاتے ہیں کہ وہ رومی ایڈمسنٹریٹر کنگ حیرڈ کا بنایا ہوا ایک فوجی قلعہ اور محل تھا جسے بعد کے مسلمانوں نے غلط فہمی میں بابرکت بنا دیا ہے۔ یہ بات کوئی بھی قطعیت سے نہیں کہہ سکتا کہ اس مقام پر بنی عمارتیں یعنی قبہ الصخری، مسجد عمر (مسجد اقصی القدیم) اور مسجد قبلی (جسے آج مسجد اقصی کے نام سے جانا جاتا ہے) میں کوئی بھی اصلی مسجد اقصی (ہیکل سلیمانی ) کی بنیادوں پر کھڑی ہیں جس کی بنیاد تقریباً ایک ہزار سال قبل مسیح میں داؤد علیہ السلام نے رکھی تھیں اور جس کی تکمیل سلیمان علیہ السلام نے کی۔ اس مسجد کو پہلے پہل بابل کے بادشاہ بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں تباہ کیا۔ ستر سال بعد جب ایرانی بادشاہ سائرس نے بابل کے حکمرانوں کو شکست دی اور بنی اسرائیل کو ان کی غلامی سے نجات دلائی تب انہوں نے واپس جا کر ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کی۔ دوسری اور آخری بار ہیکل سلیمانی کو رومیوں نے 70 عیسوی میں تباہ و برباد کیا یہاں تک کہ اس کی بنیادیں تک کھود ڈالیں۔ مناسب ہو گا کہ یہاں سورہ بنی اسرائیل کی شروع کی آیات کا مطالعہ کر لیا جائے۔ اللہ تعالی نے فرمایا “ پاک ہے وہ اللہ تعالی جو اپنے بندے (محمد ) کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لیے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، یقیناً اللہ تعالی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے۔ ہم نے موسی کو کتاب دی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنا دیا کہ تم میرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ بنانا۔ اے ان لوگوں کی اولاد! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کر دیا تھا، وہ (نوح) ہمارا بڑا ہی شکر گزار بندہ تھا۔ ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ان کی کتاب میں صاف فیصلہ کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو بار فساد برپا کرو گے اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کرو گے۔ ان دونوں وعدوں میں سے پہلے کے آتے ہی ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے بندے بھیج دیے جو بڑے ہی لڑاکو تھے۔ پس وہ تمہارے گھروں کے اندر تک پھیل گیے اور اللہ کا یہ وعدہ پورا ہونا ہی تھا۔ پھر ہم نے ان پر تمہارا غلبہ دے کر تمہارے دن پھیرے اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تمھیں بڑے جتھے والا بنا دیا۔ اگر تم نے اچھے کام کیے تو خود اپنے ہی فائدے کے لیے، اور اگر تم نے برائیاں کیں تو بھی اپنے ہی لیے، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے بندوں کو بھیج دیا تاکہ) وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور پہلی دفعہ کی طرح پھر اسی مسجد میں گھس جائیں اور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیں( آیات 1-7)”۔
رومیوں کے ہاتھوں ہوئی تباہی کی بعد یہودیوں کو یروشلم سے جلا وطن کر دیا گیا تھا اور یوں آہستہ آہستہ اصلی مسجد اقصی (ہیکل سلیمانی) کا جائے مقام لوگوں کی یادداشت سے معدوم ہو گیا۔
اب یہاں ایک قدرتی سوال ابھرتا ہے کہ اگر اصلی مسجد اقصی موجود نہیں تھی تو محمد ﷺ کو معراج کے موقع پر کہاں لے جایا گیا۔ ہمارے خیال میں معراج کا پورا واقعہ زماں و مکاں کی قیود سے آذاد ایک عظیم معجزہ تھا جس میں اللہ نے جو چاہا اپنے نبی کو اس کی اصلی حالت پر دکھایا جس کا مکمل ادراک کرنا ہم جیسے عام انسان کی فہم سے بالاتر ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ معراج کا واقعہ حجرت مدینہ سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اس میں محمد ﷺ کے ساتھ کوئی اور انسان ہمسفر نا تھا۔ مسلمانوں نے یروشلم کو 638 عیسوی میں فتح کیا جو کہ نبی ﷺکی وفات کے پانچ سال بعد کا واقعہ ہے۔ چنانچہ کوئی بھی انسان دعوے کے ساتھ یہ نہیں بتا سکتا کہ نبی ﷺ کو کس جگہ اللہ نے اپنی قدرت سے گمشدہ مسجد اقصی دکھائی اور کس جگہ سے انہیں معراج کرائی گئی۔
‏‎طبری اپنی تاریخ میں عمر رضی الله عنہ کا ٹمپل ماؤنٹ پر آمد کا تزکرہ کرتے ہیں جو کہ آج کے مسلمانوں کیلیے نہایت سبق آموز ہے،حضرت عمر کو خود بھی اصلی مسجد اقصی (ہیکل سلیمانی)کے جائے مقام کا علم نہیں تھا. طبری کے
‏‎مطابق جب حضرت عمر پہاڑی پر تشریف لاے تو انہونے کعب احبار سے جنہوں نے یہودیت سے اسلام قبول کیا تھا صخری کے بارے میں دریافت کیا. صخری کے معنی چٹان کے ہیں اور یہودی عقائد کے مطابق اس پر خدا نے کائنات کی تخلیق فرمائی تھی اور کچھ کے مطابق اس پر ابراہیم علیہ السلام نے اسحاق علیہ السلام کی قربانی کی کوشش کی تھی اور یہ ہیکل سلیمانی کے سب سے بابرکت مقام قدس الاقدس کے فرش کا حصہ تھی۔ کعب کی مدد سے جو چٹان دریافت ہوئی اسےصخری بتایا گیا تو حضرت عمر نے کعب سے پوچھا کہ تمھارے خیال میں مسلمانوں کو اپنا قبلہ کس طرف رکھنا چاہیے؟ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اگرچہ مسجد اقصی (ہیکل سلیمانی) کو قبلہ اول کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور انکے اصحاب پہلی سن ھجری تک استعمال کرتے رھے تھے لیکن تحویل قبلہ کے حکم کے بعد تاقیامت کعبہ الله کو مسلمانوں کا قبلہ بنا دیا گیا ہے. جواباً کعب نے کہا کہ صخری کو ہی قبلہ بنا لینا چاہیے جس کو سن کر حضرت عمر خفا ہوۓ اور فرمایا کہ "ہم مسلمانوں کو تو کعبہ پر مامور کیا گیا ہے" چنانچہ انہوں نے پہاڑی کے جنوبی حصے سے کعبہ کا رخ کر کے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز ادا کی جہاں ایک مسجد بنائی گئی جسے پہلے مسجد عمر کہا جاتا تھا اور بعد میں مسجد اقصی کہا جانے لگا۔ آجکل عبد الملک بن مروان کی بنائی ایک اور مسجد جسے مسجد قبلی کہا جاتا ہے کو مسجد اقصی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کاش ان مساجد کو مسجد بیت المقدس کہا جاتا تو بہتر ہوتا کم از کم مسلمانوں میں کنفیوزن تو نا پھیلتا۔ بہر کیف یہ حضرت عمر اور دیگر صحابہ کا اجماع ہی تھا کہ نہ تو صخری پر کوئی نماز پڑھی گئی اور نہ ہی کسی اور قسم کی عبادت کی گئی کیونکہ تحویل قبلہ کے بعد اس چٹان کی مسلمانوں کے لیے کوئی دینی حیثیت نہ رہی تھی. لیکن بدقسمتی سے70 ھجری (692عیسوی) میں اموی خلیفہ عبدالمالک بن مروان کے زمانے میں صخری پر گنبد (قبہ) تعمیر کر دیا گیا جو آگے چل کر مسلمان اور یہودیوں میں پیدا ہونے والے اختلافات کا حصہ بنا. عبدالملک بن مروان نے قبہ الصخری کیوں بنوایا اس کے بارے میں قطعیت سے کچھ نہیں کہا جا سکتا بہت سے مفروضے ہیں۔ کوئی کہتا ہے یہ عمارت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کی یادگار کے طور پر بنی، کسی کے خیال میں یہ عیسائیوں کی یروشلم میں موجود عبادتگاہوں سے مقابلے میں بنائی گئی، ایک رویت میں کہا گیا کہ عبد الملک مسافروں کیلیے سرائے بنانا چاہتے تھے مگر نہ تو عمارت میں رہائشی کمرے ہیں اور نہ ہی یہ جگہ سرائے کیلیے مناسب ہے۔ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ اس زمانے میں مکہ میں عبداللہ بن زبیر کی بغاوت چل رہی تھی اور خلیفہ عبد الملک کو خدشہ تھا کہ حج پر جانے والے شام اور فلسطین کے لوگ اپنی وفاداریاں نا تبدیل کر لیں چنانچہ یروشلم میں کعبہ کی طرز کا معبد بنانا ایک سیاسی ضرورت تھا۔
چنانچہ ہماری تحقیق کے مطابق قبہ الصخری پر اموی دور اور اس کے بعد اسی طرح عبودیت کے مراسم ادا کیے جانے لگے جو کعبہ اللہ کے لیے خاص ہیں۔ اردن کی حکومت کے ماتحت سپریم اوقاف کونسل کی 1954 میں تبع شدہ کتاب “قبہ الصخری اور الحرم الشریف” کے مطابق “جب قبہ الصخری مکمل تعمیر ہو گیا تو وہ مسلمانوں کے لیے فخر کا باعث بنا اور وہ اس کی بڑی تعظیم کیا کرتے تھے۔ ہفتے میں دو دن پیر اور جمعرات اس کی صفائی کیلیے مخصوص تھے۔ اس کام پر مامور خدام پہلے خود نہاتے دھوتے اور اپنے بہترین پوشاک زیب تن کرتے تھے۔ صفائی کیلیے جو پانی استعمال ہوتا تھا اس میں گلاب زعفران اور پھولوں کے عطر شامل کیے جاتے تھے۔ ہفتے کے باقی پانچ دن عبادت کیلیے مخصوص تھے۔ عمارت کی گرد دس خدام اس کے دروازوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو اندر آنے کی دعوت ان الفاظ کے ساتھ دیتے کہ “قبہ الصخری اب عوام کیلیے کھل گیا ہے چنانچہ جو عبادت کے خواہاں ہیں وہ اندر آ سکتے ہیں”۔ اور لوگ جوق در جوق اس کے خوبصورت دروازوں سے گزرتے ہوے اس کے معطر ماحول میں آتے تھے اور جب وہ یہاں بھی وہ سب مراسم عبودیت ادا کرتے جو کعبہ اللہ پر کیے جاتے تھے, اور مقدس چٹان کا طواف کرتے ہوے دعائیں کرتے، تو حکمرانوں کا خواب یقیناً پورا ہو گیا ہو گا۔ ایک عمارت جس پر وہ فخر کر سکیں۔ وہ جو ان کے دین کے شایان شان ہے”۔
عجیب بات ہے کہ اتنی بڑی عمارت میں بلندی پر روشندان تو بہت ہیں مگر نچلی سطح پر صرف دو چھوٹی سی کھڑکیاں ہیں اور اگر یہ اور عمارت کے دروازے بند ہوں تو کسی کو پتہ بھی نا چلے کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ شاید شروع میں کسی سیکرٹ سوسائٹی (الومناٹی) کی طرح یہاں عبادات کی جاتی ہوں مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ بدعت عوام میں پھیلتی چلی گئی۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن تیمیہ نے مجموعۃ الفتاوی میں اپنے ایک فتوے میں ایسے لوگوں کو مرتد گردانا ہے جو الصخری (چٹان) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں یا اس پر الوقوف کریں یا طواف کریں یا اس کو سجدہ کریں اور اس کی خاطر حلق راس یعنی سر منڈوائیں ۔
بحر کیف گمشدہ مسجد اقصی کی تلاش آج بھی جاری ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین بتاتے ہیں شاید اس کا جائے مقام حرم الشریف کے پلیٹ فارم کے نیچے جنوب مشرق میں تھا جسے آج مصلی مروانی کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ موجودہ حرم الشریف سے ایک ڈیڑہ کلومیٹر جنوب میں قدیم یروشلم کے کنڈرات میں ہو جسے سٹی آف ڈیوڈ کا نام دیا گیا ہے۔
ہمارے خیال میں اصل مسجد اقصی (ہیکل سلیمانی) یہود میں مسیح عیسی علیہ السلام کی رسالت کا انکار اور انبیا کے قتل کی سازش کرنے کی وجہ سے اپنی غرض و غائیت کھو چکی تھی چنانچہ اللہ کے ازن سے نیست و نابود ہو گئی۔ اور اس کے آثار اس وقت تک دوبارہ نہیں ملیں گے جب تک عیسی علیہ السلام کی دوبارہ واپسی نہ ہو جائے۔
واللہ اعلم۔
کیا معراج کے موقع پر محمد ﷺ نے یروشلم میں نماز پڑھی, انبیا کی امامت کی اور اپنی سواری براق کو کسی کھونٹے سے باندھا؟
ابو شہریار
ڈاکٹر محی الدین وسیم
جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ دور نبوی میں اصل مسجد الاقصی (ہیکل سلیمانی) معدوم تھی۔ معراج کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان سے ہی مسجد الاقصی کی اصل کیفیت معجزہ کی صورت دکھائی گئی۔ صحیح ابن حبان اور مسند احمد کی روایت ہے۔
“ابو النصر کہتے ہم سے شیبان نے روایت کی کہ ان سے عاصم نے اور ان سے زربن حبیش نے کہا کہ میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور وہ معراج کی رات کا بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں چلا یا ہم چلے (یعنی جبریل و نبی) یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچے لیکن اس میں داخل نہ ہوے۔ میں (زر بن حبیش) نے کہا بلکہ وہ داخل ہوئے اس رات اور اس میں نماز پڑھی۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے گنجے تیرا نام کیا ہے؟ میں تیرا چہرہ جانتا ہوں لیکن نام نہیں- میں نے کہا زر بن حبیش۔ حذیفہ نے کہا تمہیں کیسے پتہ کہ اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز بھی پڑھی؟ میں نے کہا قرآن نے اس پر خبر دی۔ حذیفہ نے کہا جس نے قرآن کی بات کی وہ حجت پر غالب ہوا- پڑھ!
میں نے پڑھا “پاک ہے وہ جو لے گیا رات کے سفر میں اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد الاقصی ۔۔۔(سورہ بنی اسرائیل آیت ۱)”
حذیفہ نے کہا مجھے تو اس میں نہیں ملا کہ نماز بھی پڑھی- انہوں نے کہا اے گنجے کیا تجھے اس میں ملا کہ نماز بھی پڑھی؟ میں نے کہا نہیں-
حذیفہ نے کہا اللہ کی قسم کوئی نماز نہیں پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اگر پڑھی ہوتی تو فرض ہو جاتا جیسا کہ بیت الحرام کے لئے فرض ہے اور اللہ کی قسم وہ براق سے نہ اترے حتی کہ آسمان کے دروازے کھلے اور جنت و جہنم کو دیکھا اور دوسری باتوں کو دیکھا جن کا وعدہ ہے اور پھر وہ آسمان ویسا ہی ہو گیا جیسے کہ پہلے تھا۔ زر نے کہا پھر حذیفہ ہنسے اور کہا لوگ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس (براق) کو باندھا کہ بھاگ نہ جائے، جبکہ اس کو تو عالم الغیب والشھادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسخر کیا”۔
یہ روایت بتا رہی ہے کہ صحابہ کا اس معاملہ میں اختلاف تھا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یروشلم گئے مگر آپ کو مسجد الاقصی فضا سے دکھائی گئی۔ واضح رہے براق سے اترنے کا صحیح بخاری میں بھی کوئی ذکر نہیں۔ محدث ابن حبان کے نزدیک حذیفہ رضی اللہ عنہ کی رویت صحیح ہے اور انہوں نے اسکو صحیح ابن حبان میں بیان کیا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے دوسرے اصحاب کے اقوال بھی نقل کیے ہیں جن میں براق سے اترنے کا زکر ہے۔
بحر کیف ہم اس بات کے قائل ہیں کہ کوئی نماز نہیں پڑھی گئی اور نہ انبیا آسمانوں سے زمین پر اترے۔ صحیح بخاری کی کسی بھی روایت میں انبیا کی امامت کا ذکر نہیں۔ حدیث کی دوئم درجے کی کتب میں بہت سی مضطرب احادیث موجود ہیں جن کو بصد شوق بیان کیا جاتا ہے۔ ایک رویت میں ہے کہ باقاعدہ نماز کے وقت جماعت ہوئی جبکہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ سفر معراج پر رات کے وقت سونے کی حالت میں آپ کو جگایا گیا- اس وقت کسی نماز کا وقت نہیں تھا- ایک اور روایت میں کہا گیا کہ رسول اللہ نے خود دو رکعت پڑھیں۔ پر یہاں امامت کا زکر نہیں۔ تیسری قسم کی روایت میں ہے کہ کہ رسول اللہ نماز پڑھ رہے تھے جب سلام پھیرا تو دیکھا انبیا ساتھ ہیں۔
یہ سب حقائق جاننے کے بعد یروشلم میں ٹمپل ماؤنٹ پر موجود قبہ الانبیا جہاں پر کہا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کی اور قبہ المعراج کہ جہاں سے انہیں معراج ہوئی اور مسجد براق کی کیا شرعی حیثیت رہ جاتی ہے اس کا تعین آپ خود کر لیں۔
آخر میں اس حدیث کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے جس میں کہا گیا “ سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کے لئے، ایک مسجد الحرام دوسرے میری یہ مسجد اور تیسری مسجد الاقصی”۔ ہمارے خیال میں یہ ممکن نہیں کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہو کیونکہ عہد نبوی میں اصل مسجد الاقصی معدوم تھی، معراج پر مسجد الاقصی کا مشاہدہ ایک معجزہ تھا جو نبی کے لیے مخصوص تھا، اور فتح یروشلم پر نہ عمر رضی اللہ عنہ اور نہ کسی صحابی رسول کو اصل مسجد الاقصی کے جائے مقام کا علم تھا کیونکہ حشر دوئم ۷۰ عیسوی میں رومیوں نے اسکی بنیادیں تک کھو ڈالی تھیں کہ اس کے تمام نشان ہمیشہ کے لئے مٹ گئے۔ موجودہ مسجد الاقصی خلیفہ عبد الملک بن مروان کی بنائی ہوئی مسجد قبلی ہے جسے لوگ غلط فہمی میں اصل مسجد الاقصی تصور کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کا سفر کیا لیکن وہ خود اس کے قائل نہ تھے کی بیت المقدس کا سفر اس کی مسجد کے لئے کیا جائے۔
امام بخاری تاریخ الکبیر میں لکھتے ہیں “عبد اللہ بن ابی الھذیل کہتے ہیں انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو روحا میں خطاب کرتے سنا کہ “سواری مت کسنا لیکن صرف بیت العتیق (کعبہ) کے لئے۔”
اور (بقول بخاری) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے تین کے لئے اور حدیث نبوی کو اولیت حاصل ہے۔”
ہمارا سوال یہ ہے کہ جب عمر رضی اللہ عنہ نے مجمع میں اس رائے کا اظہار کیا تو کسی صحابی نے اس کی تردید کیوں نہ کی؟
عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کا سفر عیسائیوں کی درخواست پر کیا کیونکہ وہ جزئیے سے متعلق معاملات امیر المومنین سے براہ راست طے کرنا چاہتے تھے۔ ظاہر ہے شیخین ابوبکر و عمر حدیث و حکم رسول کی مخالفت کرنے والے نہ تھے نہ قرن اوّل میں یہ تصور ممکن تھا کہ حکم رسول کی کھلم کھلا خلفا مخالفت کرنے کا حکم کرتے۔ لہذا واضح ہوا کہ یہ روایت کہ مسجد الاقصی کا سفر کیا جائے صحیح نہیں ہے۔

28/07/2023

‎آہ۔ حسین (رضی الله عنہ)
‎ڈاکٹر محی الدین وسیم
‎کوفی خط پر خط لکھ رہے تھے یزید کے خلاف خروج کرنے کے لیے۔ اہل مدینہ حسین کو سمجھاتے رہے کہ کوفیوں پر بھروسہ نہ کریں آخر علی (رضی الله عنہ) بھی تو وہیں قتل کیے گئے تھے۔ اہل مدینہ خلافت کے اس قضیہ کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے کیونکہ ان کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث تھی کہ "خلیفہ وقت کی موجودگی میں (جبکہ بیعت ہو چکی ہو) اگر کوئی دوسرا خلافت کا امیدوار ہو تو اسے سمجھاو اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کر دو چاہے وہ کوئی بھی ہو (صحیح مسلم)۔ چنانچہ حسین وہ سپورٹ حاصل نہ کر پائے جو ان کی خلافت کو برقرار بھی رکھ سکتی۔ وہ اکیلے ہی اپنے خانوادے کے ساتھ کوفہ کے لئے نکلے، اس دوران ان کے کزن مسلم بن عقیل کی کوفہ میں ابتدائی بغاوت یزیدی افواج نے کچل دی تھی، کوفیوں نے ورغلانے کا الزام بھی ان پر لگا دیا اور یوں ان کو موت کی سزا سنا دی گئی۔ حسین کو یقیناً کوفیوں کی دغابازی کا علم ہو گیا تھا آخری لمحات میں انہونےخلافت کے ارادے کو ترک کیا اور اپنے قافلے کا رخ کوفہ کی بجائے شمال کی طرف موڑ دیا۔ یہاں تک کہ کوفہ سے ٤٠ میل دور کربلا پہنچ گئے اور یہیں شہید ہوئے۔ رات کے اندھیرے میں ان کے کیمپ ہر حملہ کیا گیا شاید وہ کوفی ہی تھے جو اپنی سازش کے تمام نشان مٹانا چاہتے تھے۔
‎شیعہ ذاکرین کی قصہ گوئی ابی مخنف کی کتاب سے ماخوذ ہے، جو کہ خود کوفی تھا۔ اس کی کتاب "مقتل الحسین" واقعے کے ڈیڑھ دو سو سال بعد لکھی گئی۔ امام طبری نے ابو مخنف پر بہت اعتماد کیا ہے اور مقتل الحسین سے حوادث کربلا لکھےاور یوں تاریخ پر جھوٹی قصہ گوئی حاوی ہوئی۔
‎قاتلان حسین پر الله کی مار ھو۔

‎شہادت حسین کا تاریخی پسمنظر
‎ابو شہر یار
‎(حصہ اول)
‎حسین کے نزدیک خلافت خاندان علی کو واپس منتقل ہوئی چاہیے تھی جیسا کہ حسن اور معاویہ میں معاہدہ ہوا تھا لیکن وہ خاموش رہے یہاں تک کہ یزید کی خلافت کا علان ہوا جو ٦١ ہجری سے سات سال پہلے یا تین سال پہلے سے ہوا لیکن حسین خموش رہے یہاں تک کہ سب سے چڑ کر خروج کیا – انہوں نے اصحاب رسول اور اہل بیت میں ابن عباس رضی الله عنہ تک کی نہ سنی

‎احادیث اور منطق کے مطابق ایک وقت میں ایک ہی خلیفہ ممکن ہے- لیکن اب اگر اس کے کئی متمنی ہو جائیں تو یہ کس کو مسند خلافت پر بٹھایا جائے؟ اکابر صحابہ کی رائے میں جس پر لوگ پہلے جمع ہو جائیں اور اس کی بیعت لے لی جائے اس کے بعد چاہے کوئی بھی ہو خلیفہ کی خلافت سے خروج نہیں کیا جائے گا

‎خروج کرنا ایک بہت ہی معیوب بات سمجھی جاتی تھی

‎خلافت یزید کی رائے جب معاویہ رضی الله عنہ نے آگے رکھی تو اس کی مخالفت میں سابق خلفاء کے بیٹے پیش پیش تھے کیونکہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ بھی خلیفہ ہو سکتے ہیں مثلا

‎عبد الله بن عمر کو خواہش کہ وہ خلیفہ ہوں صحیح بخاری
‎عبد الرحمن بن ابی بکر نے اعتراض کیا کہ خلفاء کے بعد ان کے بیٹے خلفاء نہ بنیں انہوں نے اس کو ہرقل کی سنت کہا جبکہ یہ علی کی سنت تھی گویا علی کی جانب سے حسن کو خلیفہ کیا جانا اصحاب رسول کے نزدیک مناسب نہ تھا
‎حسین کے دل میں بھی خلیفہ بننے کی خواہش تھی
‎ابن زبیر بھی خلیفہ ہونا چاہتے تھے کیونکہ ان کے والد کو ملنے والی خلافت پر علی نے قبضہ کیا

‎اپ دیکھ سکتے ہیں خلفاء کے یہ بیٹے ہی اگلے خلیفہ بننے کے متمنی ہیں ابن عمر اور عبد رحمان صبر کرتے ہیں حسین خروج کرتے ہیں
‎گویا ایک انار سو بیمار

‎حقیقت میں خلافت اس کو ہی ملتی ہے جس کے پاس عصبیت ہو یہ امام ابن خلدون کہتے ہیں اور صحیح کہتے ہیں خلافت کوئی وہبی چیز نہیں اس کو حاصل کرنے میں تمام مسلمان برابر ہیں کوئی بھی اس کا دعوی کر سکتا ہے اگر وہ عصبیت رکھتا ہو تو حاصل کر لے گا دور نبوی میں بھی یہی تھا خلافت اسی کے لئے تھی جس پر لوگ جمع ہوں شرط صرف قریشی ہونا تھا امداد زمانہ کے ساتھ یہ شرط بھی ختم ہو گئی کیونکہ اب اہل بیت کا پتا ہی نہیں کون ہیں اور کون بنو امیہ ہیں

‎لہذا سن ٦٠ میں بہت سے قریشی خلیفہ ہو سکتے تھے جن کے نام اوپر دیے گئے ہیں- معاویہ کی جانب سے یزید کا نام پیش کیا جانا کوئی برائی نہیں تھا – در حقیقت لوگ حسین پر جمع نہ تھے نہ ان کو خلیفہ چاہتے تھے – لوگ یزید پر جمع تھے اور اس میں کوئی برائی نہ جانتے تھے – لہذا عصبیت نہ ہونے کی صورت میں یا کمزور پڑنے کی صورت میں حسین قتل ہی ہوتے یا قیدی بنتے پھر ابن عباس رضی الله عنہ کے ذریعہ ان کی تربیت ہوتی جو اہل بیت کے اکابر و سادات تھے

‎ایسا ابن زبیر کے ساتھ بھی ہوتا ہے ان کو عصبیت ملی لیکن وہ لڑنے میں کمزور تھی عبد الملک کے اہل شام اہل حجاز پر غالب ا گئے اور ابن زبیر کا قتل ہوا

‎(حصہ دوم)
‎—- حسین کا خروج
‎– حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اسْتَأْذَنَنِي حُسَيْنٌ فِي الْخُرُوجِ، فَقُلْتُ: لَوْلَا أَنْ يُزْرِيَ ذَلِكَ بِي أَوْ بِكَ لَشَبَكْتُ بِيَدِي فِي رَأْسِكَ. قَالَ: فَكَانَ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ أَنْ قَالَ: «لَأَنْ أُقْتَلَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْتَحَلَّ بِي حَرَمُ اللهِ وَرَسُولِهِ» . قَالَ: فَذَلِكَ الَّذِي سَلَى بِنَفْسِي عَنْهُ (الطبرانی کبیر رقم2859)
‎طَاوُسٍ، ابن عباس رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حسین نے مجھ سے خروج پر اجازت مانگی میں نے کہا اگر یہ نہ ہوتا کہ میں تمہارا استهزأ کر رہا ہوں میں اپنے ہاتھ سے تمہارے سر (کے بالوں) کو پکڑتا (یعنی زبردستی روکتا ) – حسین نے کہا تو (گویا) اپ نے اس (امر خلافت سے) مجھ کو دور کیا – اگر میں اس اور اس جگہ قتل ہو جاؤں تو یہ مجھے محبوب ہے کہ میں اس کو حلال کروں جس کو اللہ اور رسول نے حرام کیا ہے – ابن عباس نے کہا تو یہ تو پھر تم نے خود ہی اپنی کھال ان سے اتروائی
‎اسی جیسی روایت اخبار مکہ الفاکھی کی ہے
‎حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: اسْتَشَارَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْعِرَاقِ، فَقُلْتُ لَهُ: لَوْلَا أَنْ يُزْرِيَ ذَلِكَ بِي وَبِكَ لَنَشَبْتُ بِيَدِي فِي رَأْسِكَ، قَالَ: فَكَانَ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ بِأَنْ قَالَ: ” لَأَنْ أُقْتَلَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْتَحَلَّ بِي مَكَّةُ “، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: فَذَاكَ الَّذِي سَلَّى بِنَفْسِي عَنْهُ ثُمَّ حَلَفَ طَاوُسٌ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ تَعْظِيمًا لِلْمَحَارِمِ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَلَوْ أَشَاءُ أَنْ أَبْكِيَ لَبَكَيْتُ
‎ابن عبّاس رضی الله عنہ نے کہا حسین نے مجھے عراق کی طرف اپنے خروج پر اشارہ دیا – میں نے کہا اگرایسا نہ ہو کہ میں کم تر کر رہا ہوں میں اپنے ہاتھ سے تمہارا سر پکڑتا – حسین نے کہا…. طاوس نے کہا میں نے نہیں دیکھا کہ ابن عباس سے بڑھ کر رشتہ داروں کی تعظیم کوئی کرتا ہو اور اگر میں چاہوں تو اس پر ہی روؤں

‎دونوں روایات میں سلی ہے جو عربی میں کھال اتارنے یا غلاف اتارنے پر بولا جاتا ہے – لسان عرب ج ١٤ ص ٣٦٩ میں ہے السَّلَى سَلى الشاةِ – بکری کی کھال اتاری جائے
‎یعنی اہل بیت کے بڑوں نے بھی حسین رضی الله عنہ کو سمجھایا

‎یزید کی بیعت ٦١ ہجری سے لے کر ٩٢ ہجری میں وفات پانے والے تمام اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم نے کی جن میں مشھور ہیں

‎عبداللہ بن عباس
‎ابو سعید الخدری
‎عبد الله بن عمر
‎جابر بن عبدالله
‎عمرو بن العاص

‎حسین کا خروج ان اصحاب رسول کی نگاہ میں غیر شرعی تھا اہل بیت میں ابن عباس بھی حسین کے مخالف تھے وہ مکہ میں ہی رہے

‎حسین نے مسلم بن عقیل کو اپنے کوفہ پہنچنے سے پہلے بھیجا کہ وہاں کی صورت حال پتا کریں کہ عصبیت ہے یا نہیں
‎وہاں اس کمزور عصبیت کا مظاہرہ ان بلوائیوں نے بیت المال لوٹ کر کیا اور مسلم بن عقیل کو اس میں پھنسا دیا گیا- جس میں مسلم کو دھر لیا گیا اور مسلم بن عقیل کو ایک ڈاکو کی طرح باغی کی طرح قتل کر دیا گیا شاید شیعان علی ہر صورت چاہتے تھے کہ حسین کسی نہ کسی طرح اس مسئلہ میں اب پیچھے نہ ہٹیں
‎مسلم بن عقیل اس کو بھانپ چکے تھے کہ یہ کم بخت لوگ دھوکہ باز ہیں لہذا مرنے سے قبل ایک خفیہ خط حسین تک بھیجا کہ رخ بدل لو

‎اس کی خبر حسین کو رستے میں ہوئی اور سارا خلافت کا خواب بکھر گیا انہوں نے کوفہ سے رخ بدلا اور ٤٠ میل دور غیر آباد میدان کا رخ کیا
‎اغلبا وہ فرار کر رہے تھے لیکن کہاں جائیں ان کو خود پتا نہ تھا

‎اب تین آراء اہل سنت میں چل رہی ہیں
‎اول ان کو شیعان حسین نے قتل کیا جو خطوط تلف کرنا چاہتے تھے
‎دوم ابن زیاد نے قتل کیا جس میں یزید کا عمل دخل نہ تھا
‎سوم ابن زیاد نے یزید کے حکم پر قتل کیا

‎اس وقت کوفہ میں انس بن مالک رضی الله عنہ ، ابن زیاد کے ہاں تھے اور تمام خبریں مل رہی تھیں یہاں تک کہ صحیح بخاری کے مطابق حسین کا سر وہاں اتا ہے اور ابن زیاد حسین کی تعریف کرتا ہے
‎کوئی باغی کتنا ہی خوبصورت ہو اس کی تعریف نہیں کی جاتی اور انس بن مالک کی موجودگی بتا رہی ہے کہ خلاف حکم حسین کا قتل ہوا کیونکہ وہ بھی کوئی تبصرہ نہیں کرتے
‎حسین اور ان کے ساتھ تمام مرد قتل ہوئے سوائے زین العابدین کے جس سے ظاہر ہے کہ ان کو سوتے میں حملہ کر کے قتل کیا گیا یہاں تک کہ بلوہ میں بچے بھی قتل ہوئے

‎قاتل پوشیدہ تھے جن کو نہ بنو امیہ جانتے تھے نہ اہل بیت لہذا کس کے خلاف اقدام کرتے- باوجود یہ کہ حسین کا قتل ہوا ابن عمر گھر والوں کو جمع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں یزید میں کوئی برائی نہیں جانتا کہ اس کی بیعت سے نکلوں اور ایک دوسری روایت کے مطابق کہتے ہیں حسین کا قتل اہل عراق (کوفیوں) نے کیا

"Follow the religion of Abraham, the upright one; and he was not of the polytheists" (Holy Quran 3:95).

Address

El-Karnak
Luxor

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abrahamic Faiths posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share