07/11/2025
*یہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا وہ نصیحت نامہ ہے جو انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا۔ اس میں دنیا کی حقیقت، فکرِ آخرت اور عبرت انگیز نصیحتیں بیان کی گئی ہیں۔*
⸻
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا:
جان لو! کہ تفکر (غور و فکر) انسان کو بھلائی کی طرف بلاتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے،
اور برائی پر ندامت انسان کو اس سے باز رکھتی ہے۔
اور جو چیز فانی ہے، اگرچہ وہ بہت زیادہ ہو، وہ اس چیز کے برابر نہیں ہو سکتی جو باقی رہنے والی ہے،
خواہ وہ حاصل کرنا مشکل ہی کیوں نہ ہو۔
اور تھوڑی سی تکلیف برداشت کرنا جو دیرپا راحت کا سبب بنے،
اس سے کہیں بہتر ہے کہ آدمی فوراً تھوڑی سی راحت حاصل کرے جو لمبی مشقت اور دائمی نقصان کا باعث ہو۔
لہٰذا اس دھوکہ دینے والی دنیا سے بچو
یہ وہ دنیا ہے جو اپنے فریبوں سے آراستہ ہوئی ہے،
اپنی ظاہری چمک سے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے،
اور اپنی آرزوؤں کے جال سے اپنے چاہنے والوں کو ہلاک کیا ہے۔
یہ (دنیا) ایسی بنی سنوری دلہن کی مانند ہے
جس پر سب کی نظریں جمی ہیں،
دل اس پر فریفتہ ہیں،
اور عقلیں اس کے عشق میں مات ہیں۔
لیکن حقیقت میں،
یہ اپنے تمام عاشقوں اور چاہنے والوں کی قاتل ہے۔
نہ بعد والے اس انجام سے عبرت پکڑتے ہیں جو پہلے والوں پر گزرا،
نہ ہی اہلِ عقل بار بار کے تجربوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں،
اور نہ ہی وہ شخص جو اللہ کو پہچانتا ہے اور اس کی خبروں پر یقین رکھتا ہے،
اس دنیا سے سبق لیتا ہے۔
دل اس کے عشق سے باز نہیں آتے،
اور نفس اس کی حرص سے دستبردار نہیں ہوتے۔
یہ (دنیا کی محبت) محض ایک جنون ہے،
جو جسے لاحق ہو جائے، وہ نہ کچھ سمجھتا ہے نہ کسی اور چیز کو چاہتا ہے،
حتیٰ کہ یا تو اسی کی تلاش میں مر جاتا ہے، یا اسی میں فنا ہو جاتا ہے۔
پس اس دنیا کے دو طرح کے عاشق ہیں:
1. ایک وہ جس نے اسے پا لیا،
وہ فریب کھا گیا، سرکش ہو گیا،
اپنے آغاز و انجام کو بھول گیا،
اپنی عقل گنوا بیٹھا،
یہاں تک کہ اس کا پاؤں پھسلا اور موت نے اسے جا لیا،
پھر اسے سخت ندامت، ٹوٹتی ہوئی حسرت،
اور موت کے کرب کا سامنا کرنا پڑا۔
2. دوسرا وہ جس نے اسے نہیں پایا،
وہ حسرت و غم میں مر گیا،
نہ مطلوب پایا، نہ سکون حاصل کیا۔
آخرکار دونوں بے زاد و راحلہ (بغیر تیاری اور توشہ کے)
آخرت کے سفر پر روانہ ہو گئے،
اور وہاں پہنچے جہاں ان کے لیے کوئی آرامگاہ نہ تھی۔
⸻
📘 (ماخذ: حلیة الأولیاء، جلد ۲ )