25/06/2026
سورہ یوسف کی ایک آیت ہے کہ ؛
قَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِنْهُمَا اذْكُرْ نِي عِندَ رَبِّكَ
اور یوسف نے ان دونوں میں سے اُس شخص سے، جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ وہ نجات پا جائے گا، کہا کہ اپنے بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کرنا۔ حضرت یوسف علیہ السلام قید خانے میں تھے، ان کے ساتھ دو اور قیدی بھی تھے۔ ان میں سے ایک رہا ہونے لگا تو حضرت یوسف نے اس سے یہ ایک چھوٹی سی فرمائش کی کہ جب تم بادشاہ کے پاس جاؤ، تو میرا ذکر کرنا کہ ایک بے گناہ انسان قید میں ہے، تاکہ وہ بادشاہ میرے لئے کچھ کرے اور میں رہا جاؤں۔
لیکن ہوا کیا ؟
آگے قرآن میں ارشاد ہے کہ
فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ
پس شیطان نے اسے اپنے بادشاہ سے ذکر کرنا بھلا دیا چنانچہ یوسف کئی سال مزید قید خانے میں رہے۔ اگر ہم ظاہری طور پر دیکھیں تو ہمیں لگتا ہے کہ اس قیدی کو بات بھول گئی ، جسکی وجہ سے حضرت یوسف علیہ السلام مزید کئی سال قید میں رہے، مزید کئی سال قید خانے کی تکلیف اور اذیت سہتے رہے۔ لیکن آپ ایک لمحے کے لئے سوچئیے کہ اگر وہ قیدی اسی وقت ذکر کر دیتا تو کیا ہوتا؟ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ وہ بادشاہ حضرت یوسف کو ایک بے گناہ قیدی“ سمجھ کر رہا کر دیتا۔ وہ جیل سے تو نکل جاتے، شاید مگر ایک عام مسافر بن کر چلے جاتے۔
اللہ تعالی نے اُس قیدی کو کئی سال تک بات بھلائے رکھی۔ کیوں؟
کیونکہ اللہ کو پتہ تھا کہ ابھی مصر کے حالات نارمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہ وقت لے آنا چاہتے تھے جب بادشاہ کو ایک خواب آئے گا اور پورے ملک کو ایک Economist کی ضرورت ہوگی۔ ایک ماہر معیشت کی ضرورت ہوگی۔ جب کئی سال بعد بادشاہ نے وہ عجیب خواب دیکھا جس کی تعبیر کوئی نہ دے سکا، تب اللہ تعالی نے اس قیدی کے دماغ میں وہ بات ڈالی اور اسے اچانک حضرت یوسف یاد آئے۔
اللہ تعالیٰ چاہتے تو حضرت یوسف کبھی بھی رہا ہو جاتے ، لیکن اللہ تعالی نے حضرت یوسف کو جیل سے اُس وقت نکالا جب وہ صرف ایک رہا ہونے والے قیدی نہیں بلکہ پورے ملک کے نجات دہندہ اور Saviour بن کر نکلے۔ وہ جیل سے نکلے تو سیدھا تخت اقتدار پر بیٹھے۔
ہماری زندگی میں بھی بہت سے قیدی“ ہمارا ذکر کرنا بھول جاتے ہیں۔ کبھی ہمیں لگتا ہے کہ فلاں بندہ ہماری سفارش کر سکتا تھا، مگر اس نے نہیں کی۔فلاں شخص میرے رشتے کے لئے کوشش کر سکتا تھا لیکن اُس نے نہیں کی۔ ہم مختلف دروازوں پر دستک دیتے مگر وہ نہیں کھلتے۔ ہم مایوس ہوتے ہیں کہ ہمارا وقت ضائع ہو رہا ہے، عمر نکل رہی ہے، یا شاید اللہ ہمیں بھول گیا ہے۔
اللہ تعالی ہمیں بھولتے نہیں ہیں، وہ ہمیں . بچا رہے ہوتے ہیں، وہ ہمیں جیل سے تب نکالتے ہیں، جب باہر ہمارے لیے ”تخت“ تیار ہو چکے ہوتے ہیں۔ اگر ہم پہلے نکل جائیں تو شاید ہم عام رہ جائیں، اللہ کی تاخیر ہمیں خاص بنانے کے لیے ہوتی ہے۔ ہمیں گروم کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ وہ رب العالمین ہے، وہ ہم سے بہتر مستقبل کو جانتا ہے، وہ ہمارے لئے خاص وہ وقت لے آتا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے۔ تاخیر انکار نہیں ہے، تاخیر آپ کے لئے صبر ہے، جس کا صلہ آپکو بہترین کی صورت میں ملتا