مرکزی جامع مسجد ڈنہ نمبر 4 راولاکوٹ

مرکزی جامع مسجد ڈنہ نمبر 4 راولاکوٹ وَمَا عَلَینَا اِلّا لبَلاَغُ الْمُبِین

نکلے ہیں اللہ کے دین کی خاطر، دنیا کی عارضی راحتوں اور آسائشوں کو چھوڑ کر۔نہ کوئی لالچ، نہ شہرت کی خواہش، نہ کسی تعریف ک...
05/06/2026

نکلے ہیں اللہ کے دین کی خاطر، دنیا کی عارضی راحتوں اور آسائشوں کو چھوڑ کر۔

نہ کوئی لالچ، نہ شہرت کی خواہش، نہ کسی تعریف کی تمنا، بس ایک ہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے اور اس کے بندوں تک ہدایت، محبت اور خیر کا پیغام پہنچ جائے۔

یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اصل عزت مال و دولت میں نہیں بلکہ اللہ کے دین کی خدمت میں ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام محنت کرنے والوں کی کوششوں کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی دین کی صحیح خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔

✍️ امجد مقبول ڈوگر

05/06/2026
04/06/2026

*18 ذو الحجہ یوم شہادت*
*داماد نبی ہمزلف علی ؓ خلیفہ سوم ناشر قرآن*
*سیــدنا عثمـــان غنـــی رضی اللہ عنہ*

تو جامع القرآن یے💝
تو بیعت رضوان ہے💖

گرمیوں کی چھٹیاں اللہ کے راستے میں لگائیں گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئی ہیں کوشش کریں سکول کالج یونیورسٹی اساتذہ اور طلباء پر ...
03/06/2026

گرمیوں کی چھٹیاں اللہ کے راستے میں لگائیں
گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئی ہیں کوشش کریں سکول کالج یونیورسٹی اساتذہ اور طلباء پر محنت کریں اور ان کی چھٹیوں کو اللہ کے راستے میں لگانے کی کوشش کریں اور ان گرمیوں میں کیا ارادہ ہے وقت لگا نے کا

Adman * M***i Abubakar Mukhtar *

سلام کے بعد امام کا مقتدیوں کی طرف رخ کرنا                                         ______________________ایک قاری نے ایک...
03/06/2026

سلام کے بعد امام کا مقتدیوں کی طرف رخ کرنا

______________________

ایک قاری نے ایک سوال ان الفاظ میں کیا ہے:

"جب امام نماز میں سلام پھیرتا ہے تو وہ اپنا چہرہ مقتدیوں کی طرف کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ متواتر سنت ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاص خاص مواقع پر یہ عمل فرماتے تھے؟ براہ کرم میرا کنفیژن دور فرماییں۔"
بشیر احمد پنڈت / اننت ناگ، کشمیر

یہ بات متعدد صحیح روایات سے ثابت ہے کہ سلام کے بعد مقتدیوں کی طرف متوجہ ہونا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا معروف اور معمول کا عمل تھا، نہ کہ صرف خطبہ، وعظ یا کسی خاص اعلان کے وقت کا طرزِ عمل۔ البتہ آپ کبھی دائیں جانب سے متوجہ ہوتے تھے اور کبھی بائیں جانب سے۔ چنانچہ طوالت سے بچتے ہوئے یہاں صرف تین روایات پر اکتفا کیا جاتا ہے:

(1) عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ۔
(صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ يَسْتَقْبِلُ الإِمَامُ النَّاسَ إِذَا سَلَّمَ : رقم الحدیث 845)
سیدنا سمرہ بن جندب بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ لیتے تو اپنا روئے مبارک ہماری طرف کر لیتے تھے ۔

یہ روایت نہایت واضح الفاظ میں اس بات کی دلیل ہے کہ نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف متوجہ ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔ حدیث میں کسی خاص موقع، وعظ یا اعلان کی قید مذکور نہیں، بلکہ مطلقاً نماز کے بعد آپ کے اس طرزِ عمل کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے اس کی عمومی سنت ہونا معلوم ہوتا ہے۔

(2) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ ۔
( ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ الِانْفِتَالِ وَالِانْصِرَافِ عَنِ اليَمِينِ وَالشِّمَالِ: رقم الحدیث 852 /صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا : بَابُ جَوَازِ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ عَنِ الْيَمِينِ، وَالشِّمَالِ: رقم الحدیث707))
سیدنا عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ بنائے، وہ اس طرح کہ نماز کے بعد دائیں جانب سے پھرنے کو ضروری خیال کرے۔ یقینا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر اپنی بائیں جانب سے بھی پھرتے دیکھا ہے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود کی یہ روایت ایک اہم غلط فہمی کا ازالہ کرتی ہے۔ بعض لوگ دائیں جانب سے پھرنے کو لازمی سمجھ لیتے ہیں، جبکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً دائیں اور بائیں دونوں جانب سے پھر کر امت کو وسعت اور آسانی عطا فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصد مقتدیوں کی طرف متوجہ ہونا ہے، نہ کہ کسی ایک سمت کی پابندی۔

(3) عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَِ ۔
(صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا : بَابُ اسْتِحْبَابِ يَمِينِ الْإِمَامِ : رقم الحدیث709)
سیدنا براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ کہا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو پسند کرتے تھے کہ ہم آپ کی دائیں طرف ہوں، آپ ہماری طرف رخ فرمائیں۔ براء بن عازب کہا: میں نے (ایسے ہی ایک موقع پر) آپ کو یہ فرماتے ہوئےسنا: اے میرےرب! تو جب اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معمول و متواتر عمل سے بخوبی واقف تھے، اسی لیے وہ آپ کے دائیں جانب کھڑے ہونے کو پسند کرتے تھے تاکہ سلام کے بعد آپ کے رخِ انور کے سامنے رہ سکیں۔ اگر یہ عمل صرف کبھی کبھار یا کسی خاص موقع کے ساتھ مخصوص ہوتا تو صحابہ کرام میں یہ عمومی رغبت پیدا نہ ہوتی۔ مزید یہ کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر آپ دعا بھی کرتے تھے ، اور اس روایت میں آپ کی دعا کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں ۔

رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَِ ۔
اے میرےرب! تو جب اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا۔

اس طرح ان روایات سے واضح ہوتا ہے کہ نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف متوجہ ہونا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں شامل تھا۔ صحابۂ کرام بھی اس معمول سے واقف تھے، اسی لئے وہ آپ کے دائیں جانب کھڑے ہونے کو پسند کرتے تھے تاکہ سلام کے بعد آپ کے رخِ انور کے سامنے رہ سکیں۔ مزید یہ کہ آپ نے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے پھرنے کی گنجائش کو عملاً ثابت فرمایا، اس لیے کسی ایک جانب کو لازم یا ضروری سمجھنا درست نہیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سلام کے بعد امام کا مقتدیوں کی طرف متوجہ ہونا سنتِ ثابتہ ہے اور اس کا تعلق صرف وعظ و نصیحت یا کسی خصوصی اعلان سے نہیں۔ البتہ یہ ایسا لازمی عمل بھی نہیں کہ اس کے ترک پر نکیر کی جائے۔ سنت یہ ہے کہ امام قبلہ رخ بیٹھے رہنے کے بجائے مقتدیوں کی طرف متوجہ ہو، دعا کرنا چاہئے تو یہ عمل بھی ثابت ہے اور اس معاملے میں دائیں یا بائیں جانب سے پھرنے دونوں صورتیں احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں۔

و ما علینا الا البلاغ المبین

03/06/2026

جو لوگ زیادہ ٹینشن لیتے ہیں وہ یہ 5 باتیں ہمیشہ یاد رکھیں
1️⃣ ہر مسئلے کا حل وقت کے ساتھ نِکل آتا ہے اِس لیئے ہر وقت پریشان رہنا ضروری نہیں
2️⃣ جو بات آپ کے اختیار میں نہیں اُس کے بارے میں بار بار سوچنا صرف ذہنی سکُون ختم کرتا ہے
3️⃣ کوئی بھی مُشکل ہمیشہ نہیں رہتی وقت بدلتا ہے اور حالات بھی بہتر ہو جاتے ہیں
4️⃣ اپنی نیند اور صحت اور دل کے سکُون کا خیال رکھیں کیونکہ سکُون کے بغیر زندگی تھک جاتی ہے
5️⃣ اللّٰہ پاک پر بھروسہ رکھیں کیونکہ جب انسان اپنی فِکر اللّٰہ کے حوالے کر دیتا ہے تو دل کو سکُون ملنے لگتا ہے

_اے اللہ! میں نے تجھے ہر وہ فیصلے سونپ دیئے،جن کی مسافتیں مجھے معلوم نہیں،_
_اور وہ راستے جن کی منزلیں مجھے نظر نہیں آتیں۔_

03/06/2026

اسلامی اور اصلاحی پوسٹوں کے لیے پیج کو فالو کریں

31/05/2026

ابن تيمية رحمہ اللہ نے فرمایا:

*“شیطان راستہ روکنے والے ڈاکو کی مانند ہے۔ جب بھی کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف چلنے کا ارادہ کرتا ہے، شیطان اس کا راستہ کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔*

`اسی لیے بعض سلف سے کہا گیا:`
`یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہمیں وسوسے نہیں آتے۔`

انہوں نے جواب دیا:
‘ *انہوں نے سچ کہا، شیطان کا ویران گھر سے کیا واسطہ؟’*

📚مجموع الفتاوى (٦٠٨/٢٢)

Adresse

پکھر ڈنہ نمبر4 تحصیل راولاکوٹ ضلع آزاد کشمیر
Democratic Republic Of The
پونچھ

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque مرکزی جامع مسجد ڈنہ نمبر 4 راولاکوٹ publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Raccourcis

Partager