Learn Quran

Learn Quran This page aims to encourage and promote the study of the Quran from a wide range of scholarly perspe

The Israiliyāt | How Jewish Folklore Corrupted Islamic Historyاردو سمری:اس ویڈیو میں کس طرح یہودی اور عیسائی دیومالائی ق...
05/09/2026

The Israiliyāt | How Jewish Folklore Corrupted Islamic History

اردو سمری:

اس ویڈیو میں کس طرح یہودی اور عیسائی دیومالائی قصوں، کہانیوں اور روایات (جنہیں مجموعی طور پر 'اسرائیلیات' کہا جاتا ہے) نے اسلامی تاریخ، تفاسیر اور سیرت کو متاثر کیا۔ مقرر نے کئی تاریخی اور علمی حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلامی کتب میں موجود ہر تاریخی بات خالصتاً اسلامی نہیں، بلکہ اس میں دیگر مذاہب کا لایا ہوا ثقافتی اور مذہبی مواد بھی شامل ہے۔

- [00:20] جب اسلام کا تیزی سے پھیلاؤ ہوا اور یہ عیسائی و یہودی علاقوں تک پہنچا، تو وہاں کی مقامی آبادیوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ نومسلم اپنے ساتھ محض اپنا وجود نہیں لائے، بلکہ اپنے پرانے عقائد، روایات، کہانیاں، اور پرانے عہد نامے (Old Testament) کی تفاسیر بھی ساتھ لے آئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کہانیاں اسلامی تاریخ اور تفاسیر کا حصہ بن گئیں، جنہیں علمِ حدیث اور تاریخ کی اصطلاح میں "اسرائیلیات" کہا جاتا ہے۔

- [01:29] رسول اللہ ﷺ نے ان سابقہ امتوں کی کہانیوں کے حوالے سے مسلمانوں کو ایک درمیانہ اور محتاط راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا۔ آپ ﷺ کا فرمان تھا کہ اہلِ کتاب کی باتوں کی نہ تو تصدیق کرو اور نہ ہی انہیں جھٹلاؤ۔ اصول یہ طے پایا کہ اگر کوئی روایت اسلامی تعلیمات (قرآن و سنت) کے عین مطابق ہے تو اسے قبول کیا جائے گا، لیکن اگر وہ بنیادی اسلامی عقائد سے ٹکراتی ہے تو اسے رد کر دیا جائے گا۔

- [02:04] قصص الانبیاء (انبیاء کے قصے)، تاریخ کی کتابیں اور قرآن کی بہت سی کلاسیکی تفاسیر کا ایک بڑا حصہ اسرائیلیات پر مبنی ہے۔ چونکہ پچھلی قوموں اور انبیاء کے بارے میں تفصیلی کہانیاں یہودیوں کے پاس موجود تھیں، اس لیے ابتدائی مفسرین نے قرآن کی تشریح کے دوران ان سے تفصیلات اخذ کیں۔

- [02:36] وہ مثالیں جہاں ان روایات نے مسلمانوں کے عقائد اور سماجی رویوں پر انتہائی منفی اثر ڈالا، ​ اسرائیلیات کے ذریعے حام کی لعنت کا نسل پرستانہ نظریہ اسلام میں داخل ہوا۔ اس نظریے سے متاثر ہو کر کچھ کلاسیکی علماء نے مختلف نسلوں (مثلاً کالے افراد اور عربوں) کے درمیان شادی کو ناجائز قرار دے دیا۔ ان علماء کا عجیب و غریب استدلال یہ تھا کہ شیطان نے اللہ کی تخلیق کو بدلنے کا جو وعدہ کیا تھا، بین النسل شادیاں اسی کے زمرے میں آتی ہیں۔ عظیم مسلمان مفکر ابن خلدون نے اس نظریے کو سختی سے مسترد کیا اور اسے "اسرائیلیات کی بے وقوفانہ کہانیاں" قرار دیا جس کی اسلام میں کوئی بنیاد نہیں۔

32 likes, 5 comments. "The Israiliyāt | How Jewish Folklore Distorted Islamic History"

(فیصلوں اور جذبات کا مرکز: دل کی سائنسی حقیقت) روایتی طور پر بائیولوجی نے دل کو محض ایک Mechanical Pump سمجھا، لیکن گزشت...
05/09/2026

(فیصلوں اور جذبات کا مرکز: دل کی سائنسی حقیقت)

روایتی طور پر بائیولوجی نے دل کو محض ایک Mechanical Pump سمجھا، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں Neurocardiology اور Interoception کے میدانوں میں ہونے والی جدید برطانوی اور عالمی تحقیقات نے اس نظریے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

قرآن مجید اور احادیثِ رسولﷺ میں دل (قلب) کو شعور، نیت اور فیصلے کا مرکز قرار دینے کا جو تصور ہے، جدید سائنس اب حیرت انگیز طور پر اس کی تائید کر رہی ہے۔ اسے سائنسی اصطلاح میں Embodied Cognition یعنی مجسم شعور کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہمارا شعور صرف دماغ تک محدود نہیں، بلکہ دل اس میں براہ راست شریک ہے۔

ماہرِ امراض قلب اور مصنف Dr. Sandeep Jauhar ہیں، وہ Long Island Jewish Medical Center میں ہارٹ فیلیئر پروگرام کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جنہوں نے اپنی مشہور TED Talk اور کتاب "Heart: A History" میں بیان کیا کہ دل صرف ایک عضو نہیں بلکہ ہمارے جذبات کا Metaphor اور مرکز ہے۔ جب انسان پر شدید جذباتی دباؤ یا صدمہ پڑتا ہے، تو دل کی شکل عارضی طور پر تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کیفیت کو طبی زبان میں "Takotsubo Cardiomyopathy" (یا Broken Heart Syndrome) کہتے ہیں۔ Takotsubo دراصل جاپان میں Octopus پکڑنے والے ایک برتن یا ٹریپ کا نام ہے۔ شدید صدمے کے دوران دل کا بایاں حصہ (Left Ventricle) غبارے کی طرح پھول کر بالکل اس جاپانی برتن جیسی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ اس بات کا سائنسی ثبوت ہے کہ دل صرف خون پمپ نہیں کرتا، بلکہ وہ ہمارے صدمات، غم اور جذبات کو جسمانی طور پر محسوس اور ریکارڈ کرتا ہے۔
​ڈاکٹر سندیپ جوہر کی TED Talk:
https://youtu.be/mwoLhdHRt_0?si=Q-EDN4_Xc0SUQFcs

برطانیہ کی خاتون نیورو سائنٹسٹ جو یونیورسٹی کالج لندن اور سسیکس یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر بھی ہیں ان کا نام Prof. Sarah Garfinkel ہے۔ ان کی تحقیق کا مرکز Interoception (یعنی جسم کے اندرونی سگنلز، خاص طور پر دل کی دھڑکن کو محسوس کرنے کی صلاحیت) ہے۔ 2016 میں انہوں نے لندن کے سٹاک مارکیٹ ٹریڈرز پر ایک تحقیق کی جو مشہور سائنسی جریدے Scientific Reports میں "Interoceptive ability predicts survival on a London trading floor" کے نام سے پبلش ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ جو ٹریڈرز اپنے دل کی دھڑکن کو بہتر طور پر محسوس کر سکتے تھے (جن کا دل اور دماغ بہترین ہم آہنگی میں تھا)، ان کے معاشی فیصلے زیادہ درست اور منافع بخش تھے۔ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ میں ان کا دل ان کے دماغ کو سگنل بھیج کر فیصلے کروا رہا تھا۔ یعنی Decision Making صرف دماغی عمل نہیں، دل کی دھڑکن کا اس میں براہ راست کردار ہے۔
پروفیسر سارہ گارفنکل کا ریسرچ پیپر:
https://www.repository.cam.ac.uk/items/cd1ffce5-2d94-41e3-b2b7-46696345ae20

دل اور دماغ Vagus Nerve کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، دل دماغ کی طرف جتنے سگنلز بھیجتا ہے (80%)، دماغ دل کو اس سے کہیں کم (20%) سگنلز بھیجتا ہے۔ ​جدید سائنس کی ایک شاخ Neurocardiology جسکے بانی Dr. J. Andrew Armour نے دریافت کیا کہ دل کے اندر ایک باقاعدہ چھوٹا دماغ موجود ہے جسے "Intracardiac Nervous System" کہتے ہیں۔​ دل کے اندر تقریباً 40,000 نیورانز (Sensory Neurites) پائے جاتے ہیں۔ یہ نیورانز خود مختار طور پر سیکھنے، یاد رکھنے، اور محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی ضمن میں آج کی میڈیکل سائنس کا نچوڑ رسول اللہﷺ کی ایک حدیث ہے:

أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ
سن لو! بے شک جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ ٹھیک ہو جاتا ہے تو سارا جسم ٹھیک ہو جاتا ہے، اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سن لو! وہ دل ہے۔

صحیح بخاری (کتاب الإيمان، باب فضل من استبرأ لدينه)، حدیث نمبر 52۔ اور صحیح مسلم، حدیث نمبر 1599۔

جدید سائنس ثابت کر چکی ہے کہ اگر دل کا ردھم (HRV) متوازن ہو، تو یہ دماغ کی کارکردگی، جسمانی اعضاء، اور یہاں تک کہ قوتِ مدافعت کو بہترین سطح پر لے آتا ہے۔ دماغ بے شک جسم کا سپر کمپیوٹر ہے، لیکن اس سپر کمپیوٹر کو جو ڈیٹا، جذبات اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، اس کا بنیادی Source ہمارا دل ہے۔ اسی لیے ہدایت یا گمراہی کی مہر دماغ پر نہیں، بلکہ دل پر لگائی جاتی ہے۔

جب قرآن کہتا ہے کہ

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۖ فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ"
​"تو کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ ان کے دل ایسے ہو جاتے جن سے وہ سمجھتے یا ان کے کان ایسے ہو جاتے جن سے وہ سنتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں.

​(سورہ الحج، آیت 46)

القرآن 22:46

تو پروفیسر سارہ گارفنکل کی تحقیق بالکل یہی ثابت کرتی ہے کہ ہمارے فیصلے، ہماری Gut feeling اور ہماری سمجھ دل سے اٹھنے والے سگنلز (Interoception) کے محتاج ہیں۔ اگر دل کا سگنل کٹ جائے، تو دماغ اچھے فیصلے نہیں کر سکتا۔ قرآن مجید میں دل کو محض ایک استعارہ یا روحانی تصور کے طور پر پیش نہیں کیا گیا، بلکہ یہ ایک Biological Reality ہے۔ میر تقی میرؔ کا یہ شعر دل کی حاکمیت کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے:

طریقِ عشق میں ہے رہنما دل
پیمبر دل، ہے قبلہ دل، خدا دل

واللہ اعلم باالحقیقۃ الاشیاء

Did the canvas of nothingness reach into itself, pulling galaxies from shadow and light?Or was there a painter—unseen, t...
08/04/2025

Did the canvas of nothingness reach into itself, pulling galaxies from shadow and light?

Or was there a painter—unseen, timeless—who breathed it all into being?

05/03/2025

🌌 "And We made the sky a well-protected canopy, yet they turn away from its signs."
— Surah Al-Anbiya (21:32)

🔭 Science confirms what the Quran revealed 1,500 years ago.

The Earth is wrapped in an invisible force called the magnetic field—a giant shield that protects us from dangerous solar winds and radiation coming from the sun.

🌬️ Without this shield:
1: Our atmosphere could be blown away
2: Technology would be destroyed
3: Life wouldn’t survive

Yet it works perfectly—silently, constantly, without fail.

🧠 Scientists only recently discovered this, but the Quran mentioned it centuries ago. Isn’t that amazing?

🌎 I didn’t use to think much about Earth’s magnetic field… but now I think it’s super cool!

It’s like an invisible superhero shield that protects us all the time—even when we’re sleeping, playing, or watching cartoons.

🌬️ Up in space, the Sun is always sending super-fast winds toward Earth. But guess what?

Our magnetic field blocks them—like a giant space force field! 💥
If we didn’t have it:
Our air could blow away 🌬️
Life on Earth would be in big trouble 😟
Our phones, satellites, and TVs might go all wacky 📱📡

But it doesn’t ask for thanks. It just keeps protecting us quietly.
And sometimes? A few sneaky space particles get through…
Then we see the amazing northern lights in the sky! 🌈✨
Isn’t that wild?

🧠 Can you think of other invisible things around us that help every day?

🚀 Give Your Child the Gift of Quran  – The Easy & Fun Way! 🌙Struggling to find a structured, engaging, and effective way...
04/20/2025

🚀 Give Your Child the Gift of Quran – The Easy & Fun Way! 🌙

Struggling to find a structured, engaging, and effective way for your child to learn the Quran? QuranShines.com makes it EASY!

✅ For kids 4+ – Step-by-step learning
✅ Expert Teachers – Interactive & engaging
✅ Flexible Online Classes – Fits your schedule
✅ Trusted by Muslim Parents in the US, Canada & Europe

📖 Start your child’s Quran journey TODAY!
👉 Visit QuranShines.com

My WordPress Blog

02/26/2025

🚀 Give Your Child the Gift of Quran this Ramadan – The Easy & Fun Way! 🌙

Struggling to find a structured, engaging, and effective way for your child to learn the Quran? QuranShines.com makes it EASY!

✅ For kids 4+ – Step-by-step learning
✅ Expert Teachers – Interactive & engaging
✅ Flexible Online Classes – Fits your schedule
✅ Trusted by Muslim Parents in the US, Canada & Europe

📖 Start your child’s Quran journey TODAY!
👉 Visit QuranShines.com

Send a message to learn more

And once the storm is over, you won’t remember how you made it through, how you managed to survive. You won’t even be su...
01/05/2025

And once the storm is over, you won’t remember how you made it through, how you managed to survive. You won’t even be sure, whether the storm is really over. But one thing is certain. When you come out of the storm, you won’t be the same person who walked in. That’s what this storm’s all about.

Author: Haruki Murakami
(Book: Kafka on the Shore)

اس بات کو ہمارے استاد شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی ؒ نے بڑی تفصیل سے سمجھایا۔
What happens in the storm & how you come out of it...👇🏼

''جب بندہ کسی بلا یا مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پہلے خود اس سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر نجات نہیں پاتا تو مخلوقات میں اوروں سےمدد مانگنا ہے مثلاً بادشاہوں یا حاکموں یا دنیاداروں یا امیروں سے اور دکھ درد میں طبیبوں سے۔ جب ان سے بھی کام نہیں نکلتا۔اس وقت اپنے پروردگار کی طرف دعا و گریہ زاری و حمد و ثنا کے ساتھ رجوع کرتا ہے۔ پھر جب خدا کی طرف سے بھی مدد نظر نہیں آتی تو (بے بس ہوکر) خدا کا ہی ہورہتا ہے۔ ہمیشہ سوال و دعا ، اور گریہ زاری اور ستائش و اظہار حاجتمندی رجاء و خوف کے ساتھ کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کو دعا سے تھکا دیتا ہے اور قبول نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ تمام اسباب علیٰحدہ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت اس میں قضا و قدر کا نفاذ ہوتا ہے اور اس کے اندر کام کرتا ہے تب بندہ کل اسباب و حرکات سے بے پروا ہوجاتا ہے اور روح صرف رہ جاتی ہے۔ اسے فعل حق کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور وہ ضرور بالضرور صاحب یقین موحد ہوتا ہے۔ قطعی طور پر جانتا ہے کہ درحقیقت خدا کے سوا نہ کوئی کچھ کرنے والا ہے ، نہ حرکت و سکون دینے والا ہے۔ نہ اس کے سوا کسی کے ہاتھ میں اچھائی ، بُرائی،نفع و نقصان، بخشش و حرمان، کشائش و بندش ، موت و زندگی، عزت وذلت،غناو فقر۔
۔
یوں تقدیر کے اترتے وقت بندہ کی ایسی حالت ہوتی ہے، جیسے شیرخوار بچہ دایا کی ہاتھ میں یا مردہ غُسّال کے ہاتھ میں یا (پولو کی) گیند(چگان)یعنی سوار کے ہاتھ میں، اور انہیں بار بار الٹا یا پلٹا یا جاتا ہے اور انہیں ایک علیحدہ اپنی صورت دے دی جاتی ہے۔ اس میں اپنی طرف سے کوئی حرکت نہیں نہ اپنے لیے نہ کسی اور کے لیے ،یعنی بندہ اپنے مالک کے فعل میں اپنے نفس میں غائب ہوجاتا ہے اور اپنے مالک اور اس کے فعل کے سوا نہ کچھ دیکھتا سنتا ہے، نہ کچھ سوچتا سمجھتا ہے۔ اگر دیکھتا ہے تو اس کی صفت ، اگر سنتا ہے تو اس کا کلام، اس کے علم سے ہر چیز کو جانتا ہے۔ اس کی نعمت سے لطف اٹھاتا ہے۔ اس کے قرب سے سعادت پاتا ہے۔ اس کے وعدہ سے خوش ہوتا ہے، سکون اور اطمینان حاصل کرتا ہے۔ اس کی باتوں سےمانوس ہوتا ہے اوراس کے غیر سے نفرت کرتا ہے۔ اس کی یاد میں سرنگوں ہوتا ہے اور جی لگاتا ہے ۔اسی کی ذات پراعتماد اور بھروسہ کرتا ہے۔اس کےنور معرفت سے ہدایت پاتا اور اس کا خرقہ و لباس پہنتا ہے۔ اس کے علوم عجیب و نادر پرمطلع ہوتا ہے۔ اس کی قدرت کے اسرار سے مشرف ہوتا ہے اس کی ذات پاک سے سنتا ہے اسے یاد رکھتا ہے۔ پھر ان (نعمتوں) پر حمد و ثنا و شکر و سپاس بجا لاتا ہے۔''

کتاب: فتوح الغیب

Welcome to a new world with new perspective with new look in new community...neither you're same nor those people whom you used to see & meet every day...you both are different...that's what storm does with you, it reveals everyone including you in your eyes...

12/25/2024

Conversation Between Jesus And Allah | Surah Al-Ma'idah (verses: 109 -120)

11/22/2024

(Beautiful illustration of God's prespective/dimension)👇🏼

Only Allah is the 4th Dimensional who can intervene anywhere anytime in his 3D simulations...Allah illustrated very well in Quran, how His light encompasses this 3D universe, His light doesn't belong to any dimension of 3D rather encompasses 3D, Which comes from another Dimension.👇🏼

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ
Allah is the Light of the heavens and the earth. The example of His light is like a niche within which is a lamp, the lamp is within glass, the glass as if it were a pearly [white] star lit from [the oil of] a blessed olive tree, neither of the east nor of the west, whose oil would almost glow even if untouched by fire. Light upon light.

Al-Quran 24:35

08/13/2024

توبہ اور استغفار دونوں ایک ہی عمل کی دو مختلف مراحل ہیں، ربِ کریم کا فرمان ہے:

> وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ
> اگر تم رب سے استغفار کرو اور اس کے بعد تم توبہ کرو تو وہ ایک مدتِ خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحبِ فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا۔

القرآن 11:3

رسول اللہﷺ کا فرمان ہے:

> "النَّدَمُ تَوْبَةٌ" (نادمت ہی توبہ ہے۔)

«صحيح، أخرجه ابن حبان فى «صحيحه»

استغفار اور توبہ میں بنیادی فرق:

1. استغفار رب کے حضور قول و اقرار ہے اور توبہ رب آگے فعل و عمل ہے۔
2. استغفار تسلیم باللسان ہے اور توبہ تسلیم باالقلب ہے۔
3. لغوی اعتبار سے استغفار کا لفظ 'غفر' سے نکلا ہے، جس کا مطلب ڈھانپنا یا چھپانا ہے، اور توبہ کا 'توب' سے نکلا ہے، جسکا معنی پلٹ آنا اور لوٹ آنا ہے۔

امام الغزالیؒ فرماتے ہیں:

ذہن نشین کر لیں کہ توبہ در حقیقت تین سلسلہ وار مرتب چیزوں کا نام ہے:

1. علم: (یعنی انسان کو نیکی اور بدی کی بابت علم ہونا چاہیے، اسے معلوم ہو کہ گناہ بندے اور خدا کے مابین حجاب ہے۔)
2. حال: (یعنی دل کی اضرابی کیفیت کا اور پھر گناہ کو چھوڑنے کیلئے پختہ ارادہ کا نام ہے۔)
3. عمل: (اپنے علم کے مطابق اپنے حال پر آگہی پانا اور اس پر عمل پیرا ہونا۔)

بقول امام غزالیؒ: توبہ ان سلسلہ وار تینوں چیزیں کے مجموعے کا نام ہے، علم کے بغیر ندامت ہو ہی نہیں سکتی، اسی طرح ندامت کے بعد اس کے اثرات اور نتائج بھی لا محالہ پیدا ہونے ہیں، اس طرح ندامت ہر اعتبار سے اہم ٹھہرتی ہے، یعنی علم اور ارادہ دونوں سے"

بحوالہ: "إحياء علوم الدين" (4/4)

حضرت ابن عباسؓ کے نزدیک توبہ نصوح یہ ہے:

> ’’الندم بالقلب، والاستغفار باللسان، والإقلاع بالبدن، والإضمار علی أن لا يعود.‘‘
> ترجمہ: ’’دل میں گناہ پر شرمندگی ہو، زبان سے استغفار کرے، بالکلیہ گناہ ترک کردے اور دوبارہ اسے نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے۔‘‘

(القاموس الفقہی لغۃً واصطلاحاً، ص: ۵۰)

واللہ اعلم بالصواب

Address

Callow Hill Drive Etobicoke
Toronto, ON
M9R3LS

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Learn Quran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Learn Quran:

Share