Learn Quran

Learn Quran This page aims to encourage and promote the study of the Quran from a wide range of scholarly perspe

The Israiliyāt | How Jewish Folklore Corrupted Islamic Historyاردو سمری:اس ویڈیو میں کس طرح یہودی اور عیسائی دیومالائی ق...
05/09/2026

The Israiliyāt | How Jewish Folklore Corrupted Islamic History

اردو سمری:

اس ویڈیو میں کس طرح یہودی اور عیسائی دیومالائی قصوں، کہانیوں اور روایات (جنہیں مجموعی طور پر 'اسرائیلیات' کہا جاتا ہے) نے اسلامی تاریخ، تفاسیر اور سیرت کو متاثر کیا۔ مقرر نے کئی تاریخی اور علمی حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلامی کتب میں موجود ہر تاریخی بات خالصتاً اسلامی نہیں، بلکہ اس میں دیگر مذاہب کا لایا ہوا ثقافتی اور مذہبی مواد بھی شامل ہے۔

- [00:20] جب اسلام کا تیزی سے پھیلاؤ ہوا اور یہ عیسائی و یہودی علاقوں تک پہنچا، تو وہاں کی مقامی آبادیوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ نومسلم اپنے ساتھ محض اپنا وجود نہیں لائے، بلکہ اپنے پرانے عقائد، روایات، کہانیاں، اور پرانے عہد نامے (Old Testament) کی تفاسیر بھی ساتھ لے آئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کہانیاں اسلامی تاریخ اور تفاسیر کا حصہ بن گئیں، جنہیں علمِ حدیث اور تاریخ کی اصطلاح میں "اسرائیلیات" کہا جاتا ہے۔

- [01:29] رسول اللہ ﷺ نے ان سابقہ امتوں کی کہانیوں کے حوالے سے مسلمانوں کو ایک درمیانہ اور محتاط راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا۔ آپ ﷺ کا فرمان تھا کہ اہلِ کتاب کی باتوں کی نہ تو تصدیق کرو اور نہ ہی انہیں جھٹلاؤ۔ اصول یہ طے پایا کہ اگر کوئی روایت اسلامی تعلیمات (قرآن و سنت) کے عین مطابق ہے تو اسے قبول کیا جائے گا، لیکن اگر وہ بنیادی اسلامی عقائد سے ٹکراتی ہے تو اسے رد کر دیا جائے گا۔

- [02:04] قصص الانبیاء (انبیاء کے قصے)، تاریخ کی کتابیں اور قرآن کی بہت سی کلاسیکی تفاسیر کا ایک بڑا حصہ اسرائیلیات پر مبنی ہے۔ چونکہ پچھلی قوموں اور انبیاء کے بارے میں تفصیلی کہانیاں یہودیوں کے پاس موجود تھیں، اس لیے ابتدائی مفسرین نے قرآن کی تشریح کے دوران ان سے تفصیلات اخذ کیں۔

- [02:36] وہ مثالیں جہاں ان روایات نے مسلمانوں کے عقائد اور سماجی رویوں پر انتہائی منفی اثر ڈالا، ​ اسرائیلیات کے ذریعے حام کی لعنت کا نسل پرستانہ نظریہ اسلام میں داخل ہوا۔ اس نظریے سے متاثر ہو کر کچھ کلاسیکی علماء نے مختلف نسلوں (مثلاً کالے افراد اور عربوں) کے درمیان شادی کو ناجائز قرار دے دیا۔ ان علماء کا عجیب و غریب استدلال یہ تھا کہ شیطان نے اللہ کی تخلیق کو بدلنے کا جو وعدہ کیا تھا، بین النسل شادیاں اسی کے زمرے میں آتی ہیں۔ عظیم مسلمان مفکر ابن خلدون نے اس نظریے کو سختی سے مسترد کیا اور اسے "اسرائیلیات کی بے وقوفانہ کہانیاں" قرار دیا جس کی اسلام میں کوئی بنیاد نہیں۔

32 likes, 5 comments. "The Israiliyāt | How Jewish Folklore Distorted Islamic History"

(فیصلوں اور جذبات کا مرکز: دل کی سائنسی حقیقت) روایتی طور پر بائیولوجی نے دل کو محض ایک Mechanical Pump سمجھا، لیکن گزشت...
05/09/2026

(فیصلوں اور جذبات کا مرکز: دل کی سائنسی حقیقت)

روایتی طور پر بائیولوجی نے دل کو محض ایک Mechanical Pump سمجھا، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں Neurocardiology اور Interoception کے میدانوں میں ہونے والی جدید برطانوی اور عالمی تحقیقات نے اس نظریے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

قرآن مجید اور احادیثِ رسولﷺ میں دل (قلب) کو شعور، نیت اور فیصلے کا مرکز قرار دینے کا جو تصور ہے، جدید سائنس اب حیرت انگیز طور پر اس کی تائید کر رہی ہے۔ اسے سائنسی اصطلاح میں Embodied Cognition یعنی مجسم شعور کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہمارا شعور صرف دماغ تک محدود نہیں، بلکہ دل اس میں براہ راست شریک ہے۔

ماہرِ امراض قلب اور مصنف Dr. Sandeep Jauhar ہیں، وہ Long Island Jewish Medical Center میں ہارٹ فیلیئر پروگرام کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جنہوں نے اپنی مشہور TED Talk اور کتاب "Heart: A History" میں بیان کیا کہ دل صرف ایک عضو نہیں بلکہ ہمارے جذبات کا Metaphor اور مرکز ہے۔ جب انسان پر شدید جذباتی دباؤ یا صدمہ پڑتا ہے، تو دل کی شکل عارضی طور پر تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کیفیت کو طبی زبان میں "Takotsubo Cardiomyopathy" (یا Broken Heart Syndrome) کہتے ہیں۔ Takotsubo دراصل جاپان میں Octopus پکڑنے والے ایک برتن یا ٹریپ کا نام ہے۔ شدید صدمے کے دوران دل کا بایاں حصہ (Left Ventricle) غبارے کی طرح پھول کر بالکل اس جاپانی برتن جیسی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ اس بات کا سائنسی ثبوت ہے کہ دل صرف خون پمپ نہیں کرتا، بلکہ وہ ہمارے صدمات، غم اور جذبات کو جسمانی طور پر محسوس اور ریکارڈ کرتا ہے۔
​ڈاکٹر سندیپ جوہر کی TED Talk:
https://youtu.be/mwoLhdHRt_0?si=Q-EDN4_Xc0SUQFcs

برطانیہ کی خاتون نیورو سائنٹسٹ جو یونیورسٹی کالج لندن اور سسیکس یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر بھی ہیں ان کا نام Prof. Sarah Garfinkel ہے۔ ان کی تحقیق کا مرکز Interoception (یعنی جسم کے اندرونی سگنلز، خاص طور پر دل کی دھڑکن کو محسوس کرنے کی صلاحیت) ہے۔ 2016 میں انہوں نے لندن کے سٹاک مارکیٹ ٹریڈرز پر ایک تحقیق کی جو مشہور سائنسی جریدے Scientific Reports میں "Interoceptive ability predicts survival on a London trading floor" کے نام سے پبلش ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ جو ٹریڈرز اپنے دل کی دھڑکن کو بہتر طور پر محسوس کر سکتے تھے (جن کا دل اور دماغ بہترین ہم آہنگی میں تھا)، ان کے معاشی فیصلے زیادہ درست اور منافع بخش تھے۔ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ میں ان کا دل ان کے دماغ کو سگنل بھیج کر فیصلے کروا رہا تھا۔ یعنی Decision Making صرف دماغی عمل نہیں، دل کی دھڑکن کا اس میں براہ راست کردار ہے۔
پروفیسر سارہ گارفنکل کا ریسرچ پیپر:
https://www.repository.cam.ac.uk/items/cd1ffce5-2d94-41e3-b2b7-46696345ae20

دل اور دماغ Vagus Nerve کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، دل دماغ کی طرف جتنے سگنلز بھیجتا ہے (80%)، دماغ دل کو اس سے کہیں کم (20%) سگنلز بھیجتا ہے۔ ​جدید سائنس کی ایک شاخ Neurocardiology جسکے بانی Dr. J. Andrew Armour نے دریافت کیا کہ دل کے اندر ایک باقاعدہ چھوٹا دماغ موجود ہے جسے "Intracardiac Nervous System" کہتے ہیں۔​ دل کے اندر تقریباً 40,000 نیورانز (Sensory Neurites) پائے جاتے ہیں۔ یہ نیورانز خود مختار طور پر سیکھنے، یاد رکھنے، اور محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی ضمن میں آج کی میڈیکل سائنس کا نچوڑ رسول اللہﷺ کی ایک حدیث ہے:

أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ
سن لو! بے شک جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ ٹھیک ہو جاتا ہے تو سارا جسم ٹھیک ہو جاتا ہے، اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سن لو! وہ دل ہے۔

صحیح بخاری (کتاب الإيمان، باب فضل من استبرأ لدينه)، حدیث نمبر 52۔ اور صحیح مسلم، حدیث نمبر 1599۔

جدید سائنس ثابت کر چکی ہے کہ اگر دل کا ردھم (HRV) متوازن ہو، تو یہ دماغ کی کارکردگی، جسمانی اعضاء، اور یہاں تک کہ قوتِ مدافعت کو بہترین سطح پر لے آتا ہے۔ دماغ بے شک جسم کا سپر کمپیوٹر ہے، لیکن اس سپر کمپیوٹر کو جو ڈیٹا، جذبات اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، اس کا بنیادی Source ہمارا دل ہے۔ اسی لیے ہدایت یا گمراہی کی مہر دماغ پر نہیں، بلکہ دل پر لگائی جاتی ہے۔

جب قرآن کہتا ہے کہ

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۖ فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ"
​"تو کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ ان کے دل ایسے ہو جاتے جن سے وہ سمجھتے یا ان کے کان ایسے ہو جاتے جن سے وہ سنتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں.

​(سورہ الحج، آیت 46)

القرآن 22:46

تو پروفیسر سارہ گارفنکل کی تحقیق بالکل یہی ثابت کرتی ہے کہ ہمارے فیصلے، ہماری Gut feeling اور ہماری سمجھ دل سے اٹھنے والے سگنلز (Interoception) کے محتاج ہیں۔ اگر دل کا سگنل کٹ جائے، تو دماغ اچھے فیصلے نہیں کر سکتا۔ قرآن مجید میں دل کو محض ایک استعارہ یا روحانی تصور کے طور پر پیش نہیں کیا گیا، بلکہ یہ ایک Biological Reality ہے۔ میر تقی میرؔ کا یہ شعر دل کی حاکمیت کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے:

طریقِ عشق میں ہے رہنما دل
پیمبر دل، ہے قبلہ دل، خدا دل

واللہ اعلم باالحقیقۃ الاشیاء

Address

Callow Hill Drive Etobicoke
Toronto, ON
M9R3LS

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Learn Quran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Learn Quran:

Share