Ali Islamic Mission

Ali Islamic Mission The community for the welfare and educating the core beliefs of AhlulBayt for the entire world Provides Religions services

06/02/2026

*✳️عید غدیر احادیثِ معصومین (ع) کی روشنی میں*

1. امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: والعمل فيه يعدل ثمانين شهرا، و ينبغى ان يكثر فيه ذكر الله عزوجل، والصلوة على النبى(صلی الله علیه و آله و سلم) ، ويوسع الرجل فيه على عياله.... (وسائل الشيعه 7: 325، ح 6.)

اس دن (عیدِ غدیر) میں ایک نیک عمل کا ثواب اسی (80) مہینوں کے برابر ہے، اور مناسب ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ کا ذکر اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و آلِ محمد علیہم السلام پر درود و صلوات کثرت سے پڑھی جائے، نیز انسان اس دن اپنے اہل و عیال پر فراخ دلی اور وسعت کے ساتھ خرچ کرے۔

2۔ امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا: يوم الغدير فيه اقام النبى(صلی الله علیه و آله و سلم) اخاه عليا علما للناس و اماما من بعده،(قال) قلت: صدقت جعلت فداك، لذلك قصدت، اشهد انك حجة الله على خلقه...... (وسائل الشيعه 7: 324، ح 3.)

عیدِ غدیر کے دن رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے برادرِ گرامی امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کو لوگوں کے لئے عَلَمِ ہدایت اور اپنے بعد امام کے طور پر متعارف کرایا۔

ابو اسحاق نے عرض کیا: میری جان آپ پر قربان ہو، آپ نے سچ فرمایا۔ میں اسی مقصد سے آپ کی زیارت و ملاقات کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت ہیں۔

3۔ امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: من زار فيه مؤمنا ادخل‏الله قبره سبعين نورا و وسع فى قبره و يزور قبره كل يوم سبعون الف ملك ويبشرونه بالجنة..... (اقبال الاعمال: 778.)

جو شخص عیدِ غدیر کے دن کسی مومن سے ملاقات کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قبر میں 70 نور داخل فرماتا ہے، اس کی قبر کو کشادہ کر دیتا ہے اور ہر روز ستر ہزار فرشتے اس کی قبر کی زیارت کرتے ہیں اور اسے جنت کی بشارت دیتے ہیں۔

4۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ينبغى لكم ان تتقربوا الى الله تعالى بالبر والصوم والصلوة و صلة الرحم و صلة الاخوان، فان الانبياء عليهم السلام كانوا اذا اقاموا اوصياءهم فعلوا ذلك و امروا به.... (مصباح المتهجد: 736.)
مناسب ہے کہ تم نیکی و احسان، روزہ، نماز، صلۂ رحمی اور اپنے دینی بھائیوں سے ملاقات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو، کیونکہ انبیاء علیہم السلام بھی جب اپنے جانشینوں کو مقرر کرتے تھے تو اسی طرح عمل کرتے اور ان اعمال کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔

5۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: انه تستحب الصلوة فى مسجد الغديرلان النبى(صلی الله علیه و آله و سلم) اقام فيه امير المؤمنين(ع)و هو موضع اظهرالله عزوجل فيه الحق.... (وسائل الشيعه 3: 549.)

مسجدِ غدیر میں نماز پڑھنا مستحب ہے، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کو لوگوں کے سامنے متعارف کرایا اور اپنے جانشین و ولی کے طور پر مقرر فرمایا۔ نیز یہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حق کو آشکار اور نمایاں فرمایا۔

6۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: و من صلى فيه ركعتين اى وقت‏شاء و افضله قرب الزوال و هى الساعة التى اقيم فيها اميرالمؤمنين(علیه السلام) بغدير خم علما للناس و... كان كمن حضر ذلك اليوم... (وسائل الشيعه 5: 225، ح 2.)

جو شخص عیدِ غدیر کے دن کسی بھی وقت دو رکعت نماز ادا کرے، اگرچہ بہتر یہ ہے کہ اسے ظہر کے قریب ادا کرے، کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب غدیرِ خم میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کو منصبِ امامت پر فائز کیا گیا تھا، تو اسے ایسا ثواب ملے گا گویا وہ خود روزِ غدیر کے اس عظیم اجتماع میں حاضر رہا ہو۔

7۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: صيام يوم غدير خم يعدل صيام عمر الدنيا لو عاش انسان ثم صام ما عمرت الدنيا لكان له ثواب ذلك.... (وسائل الشيعه 7: 324، ح 4.)

غدیرِ خم کے دن کا روزہ پوری دنیا کی عمر بھر کے روزوں کے برابر ہے۔ اگر کوئی انسان اتنی مدت تک زندہ رہے جتنی دیر دنیا قائم رہے اور اس تمام عرصے میں روزے رکھے، تو اسے جو ثواب ملے گا، وہی ثواب عیدِ غدیر کے ایک دن کے روزے کا ہے۔

8۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: من يريد ان يحيى حياتى، و يموت مماتى،ويسكن جنة الخلد التى وعدنى ربى‏فليتول على ابن ابى طالب،(ع) فانه لن يخرجكم من هدى،ولن يدخلكم فى ضلالة..... (الغدير 10: 278.)

جو شخص میری طرح زندگی گزارنا چاہے، میری طرح دنیا سے رخصت ہونا چاہے، اور اس ہمیشہ رہنے والی جنت میں سکونت اختیار کرنا چاہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے، اسے چاہیے کہ امیرالمؤمنین امام علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام کی ولایت و پیروی اختیار کرے، کیونکہ وہ تمہیں کبھی ہدایت کے راستے سے نہیں ہٹائیں گے اور نہ ہی گمراہی میں مبتلا ہونے دیں گے۔

9۔ عن جابر بن عبد الله الانصارى قال: سمعت‏رسول الله(صلی الله علیه و آله و سلم) يقول لعلى بن ابى طالب(علیه السلام):يا على! انت اخى و وصيى و وارثى‏وخليفتى على‏امتى فى‏حيوتى و بعد وفاتى‏محبك محبى و مبغضك مبغضى‏و عدوك عدوى.... (امالى صدوق: 124، ح 5.)

جناب جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امیرالمومنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام سے فرماتے ہوئے سنا: "اے علی! تم میرے بھائی، میرے وصی، میرے وارث اور میری امت پر میری زندگی میں بھی اور میرے وصال کے بعد بھی میرے خلیفہ ہو۔ جو تم سے محبت کرے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، جو تم سے دشمنی رکھے وہ مجھ سے دشمنی رکھتا ہے، اور جو تمہارا دشمن ہے وہ میرا دشمن ہے۔"
10۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: بنى الاسلام على خمس:الصلوة و الزكوة و الصوم و الحج و الولاية‏و لم يناد بشى‏ء ما نودى بالولاية يوم الغدير..... (كافى 2، 21، ح 8.)

اسلام پانچ بنیادوں پر قائم ہے: نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج اور ولایت۔ اور جس قدر ولایت کے بارے میں تاکید اور اعلان کیا گیا، کسی اور حکمِ دین کے بارے میں اتنی تاکید نہیں کی گئی، خصوصاً روزِ غدیر۔

11. امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا: ولاية على(علیه السلام) مكتوبة فى صحف جميع الانبياء ولن يبعث‏الله رسولا الا بنبوة محمد ووصية على(ع)..... (سفينة البحار 2: 691.)

(امیرالمؤمنین امام) علی (علیہ السلام) کی ولایت تمام انبیاء کے صحیفوں میں لکھی ہوئی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے کسی بھی رسول کو مبعوث نہیں فرمایا مگر یہ کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت اور امام علی علیہ السلام کی وصایت کے اقرار کے ساتھ مبعوث ہوا۔

12۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولاية على بن ابى طالب ولاية الله‏ و حبه عبادة الله و اتباعه فريضة الله‏و اولياؤه اولياء الله و اعداؤه اعداء الله‏ و حربه حرب الله و سلمه سلم الله عز و جل.... (امالى صدوق: 32.)

(امیرالمؤمنین امام) علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کی ولایت درحقیقت اللہ کی ولایت ہے، ان سے محبت کرنا اللہ کی عبادت ہے، اور ان کی پیروی کرنا اللہ کا فرض کردہ حکم ہے۔ ان کے دوست اللہ کے دوست ہیں اور ان کے دشمن اللہ کے دشمن ہیں۔ ان سے جنگ کرنا اللہ سے جنگ کرنا ہے، اور ان سے صلح و دوستی کرنا اللہ تعالیٰ سے صلح و دوستی کرنا ہے۔

13۔ عن جعفر، عن ابيه، قال:ان ابليس عدوالله رن اربع رنات:

يوم لعن، و يوم اهبط الى الارض،و يوم بعث النبى(صلی الله علیه و آله و سلم) و يوم الغدير. (قرب الاسناد، 10)

امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا: دشمن خدا ابلیس چار مرتبہ چیخ مار کر رویا: ایک دن جب اس پر لعنت کی گئی، دوسرا دن جب اسے زمین پر اتارا گیا، تیسرا دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، اور چوتھا دن عیدِ غدیر کا تھا۔

14۔ عن النبى(صلی الله علیه و آله و سلم): يقول الله تبارك و تعالى: ولاية على بن ابى طالب حصنى، فمن دخل حصنى امن من نارى.... (جامع الاخبار: 52، ح 7.)

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: "علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کی ولایت میرا مضبوط قلعہ ہے، پس جو میرے اس قلعہ میں داخل ہو جائے، وہ میری آگ (عذابِ جہنم) سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

15۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: يا على انا مدينة العلم و انت بابها و لن تؤتى المدينة الا من قبل الباب... انت امام امتى و خليفتى عليها بعدى، سعد من اطاعك و شقى من عصاك، و ربح من تولاك و خسر من عاداك..... (جامع الاخبار: 52، ح 9.)

اے علیؑ! میں علم کا شہر ہوں اور تم اس کا دروازہ ہو، اور شہر میں داخلہ دروازے ہی سے ہوتا ہے۔ تم میری امت کے امام اور میرے بعد ان کے خلیفہ ہو۔ خوش نصیب ہے وہ جو تمہاری اطاعت کرے، اور بدبخت ہے وہ جو تمہاری نافرمانی کرے۔ کامیاب ہے وہ جو تمہاری ولایت و محبت اختیار کرے، اور خسارے میں ہے وہ جو تم سے دشمنی رکھے۔

16۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: اثافى الاسلام ثلاثة:الصلوة و الزكوة و الولاية،لا تصح واحدة منهن الا بصاحبتيها.... (كافى: 2، ص 18.)

اسلام کی بنیاد تین چیزوں پر قائم ہے: نماز، زکوٰۃ اور ولایت۔

ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی دوسری دو کے بغیر صحیح اور قابلِ قبول نہیں ہوتی۔

17۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: العجب يا حفص لما لقى على بن ابى‏طالب!! انه كان له عشرة الاف شاهد لم يقدر على اخذ حقه و الرجل ياخذ حقه بشاهدين..... (بحار الانوار: 37، 140.)

"اے حفص! تعجب کی بات یہ ہے کہ (امیرالمؤمنین امام) علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کے حق میں دس ہزار گواہ موجود تھے، پھر بھی اپنا حق واپس نہ لے سکے، جبکہ ایک عام آدمی صرف دو گواہوں کی بنیاد پر اپنا حق لے لیتا ہے۔
۔ عن النبى(صلی الله علیه و آله و سلم) فى احتجاجه يوم الغدير: على تفسير كتاب الله، و الداعى اليه، الا و ان الحلال و الحرام اكثر من ان احصيهما و اعرفهما، فآمر بالحلال و انهى عن الحرام فى مقام واحد، فامرت ان آخذ البيعة عليكم و الصفقة منكم، بقبول ما جئت به عن الله عز و جل فى على امير المؤمنين و الائمة من بعده، معاشر الناس تدبروا و افهموا آياته، و انظروا فى محكماته و لا تتبعوا متشابهه، فو الله لن يبين لكم زواجره، و لا يوضع لكم عن تفسيره الا الذى انا آخذ بيده...... (وسايل الشيعه: 18، 142، ح 43.)

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزِ غدیر اپنے خطبۂ غدیر میں فرمایا: "(امیرالمؤمنین امام) علی علیہ السلام اللہ کی کتاب (قرآن) کے حقیقی مفسر اور لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ آگاہ رہو! حلال و حرام کے احکام اتنے زیادہ ہیں کہ میں اس ایک موقع پر ان سب کو نہ شمار کر سکتا ہوں اور نہ ہی ایک ایک کا حکم بیان کر سکتا ہوں۔ اسی لئے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تم سے عہد و پیمان لوں کہ تم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے ائمہ علیہم السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچائے گئے میرے پیغام کو قبول کرو گے۔

اے لوگو! قرآن میں غور و فکر کرو، اس کی آیات کو سمجھو، اس کی محکم آیات میں تدبر کرو اور متشابہ آیات کے پیچھے نہ پڑو۔ خدا کی قسم! قرآن کے اوامر و نواہی اور اس کی حقیقی تفسیر کو کوئی تمہارے لئے واضح نہیں کر سکتا، سوائے اس ہستی کے جس کا ہاتھ میں نے پکڑ رکھا ہے اور جسے میں نے تمہارے سامنے متعارف کروایا ہے۔ (یعنی امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام)

06/02/2026

💠حدیث روز💠

*💎کوہتاہیوں کی تلافی محکم ارادے سے*

قال الامام الھادی علیه السلام:

*«اَذْکُرْ حَسَراتِ التَّفْرِیطِ بِاَخْذِ تَقْدیمِ الْحَزْمِ»*

امام ھادی علیہ السلام نے فرمایا:

*کام کے انجام دینے میں کوتاہی کی تلافی مضبوظ اور محکم ارادے سے کرو۔*

*📚بحارالانوار، ج 75، ص 370*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

06/01/2026

نقطوں اور تکرار کے بغیر شاعری۔
وفاداروں کے سپہ سالار امام علی علیہ السلام کا نام مبارک 110 مرتبہ ان کی تقدس کو بیان کرتے ہوئے ❤️
Poetry without dots and repetitions
110 times the blessed name of the Commander of the Faithful, Imam Ali (AS), in describing his Holiness ❤️
🌻علی عالی علی اعلی
🌻علی والی علی والا
🌻علی روح همه دلها
🌻علی سر لوح هر املا
🌻علی کرّار علی سردار
🌻علی سرّ و علی اسرار
🌻علی سرور علی سالار
🌻علی حاء و علی طاها
🌻علی اکمل علی کامل
🌻علی اعلم علی عامل
🌻علی عدل و علی عادل
🌻علی دُرّ کلام ما
🌻علی اعلم علی اکرم
🌻علی مَحرم علی مرحم
🌻علی هم دم علی همدم
🌻علی لوُءلوُء علی لا لا
🌻علی احکم علی حاکم
🌻علی صائم علی دائم
🌻علی سلم و علی سالم
🌻علی سرّ دعای ما
🌻علی علم همه عالم
🌻علی حکم و علی محکم
🌻علی حال و علی احوال
🌻علی اول ولیِّ ما
🌻علی کی در کلام آمد
🌻علی کو در مرام آمد
🌻علی روح سلام آمد
🌻علی مُهر کلام ما
🌻علی مُلک و علی مالک
🌻علی سِلک و علی سالک
🌻علی حُلو عَلی حالک
🌻علی داروی درد ما
🌻علی اسعد علی مسعود
🌻علی احمد علی محمود
🌻علی کو در حرم مولود
🌻علی آگاهی دلها
🌻علی طاهر علی اطهر
🌻علی داور، علی محور
🌻علی محو روی داور
🌻علی آرام دل ما را
🌻علی دُرّ کلام الله
🌻علی صهر رسول الله
🌻علی روحُ عَلَی الاَرواح
🌻علی آدم عَلی حوّا
دلم مملوّ مِهر او
علی را مهر عالم گو
مگو اصلا علی را هو
ملک مَحو روی مولا
معلّم در همه عالم
و محو علم او آدم
🌻علی اعلا عَلَی الآدم
🌻علی اعلا عَلَی الموسی
🌻علی را دم دهم هر دم
دهم در راه او سر هم
🌻علی وِردم، علی روحم
🌻علی آرامه ی دلها
🌻علی صلح و علی صالح
🌻علی سمع و علی سامع
🌻علی مدح و علی مادح
🌻علی روح دل اعما
🌻علی هم اسم الله و
🌻علی همراه الله و
🌻علی را گو ولی الله
صدا کرده علی مولا
🌻علی‌حمد و علی حامد
🌻علی مرد و علی واحد
🌻علی را در سماء مائد
🌻علی دارد محمد را
🌻علی امر و علی آمر
🌻علی راحِم، علی عامر
🌻علی ماه و علی ماهر
همه محو روی مولا
🌻علی درّ و علی گوهر
🌻علی واکرده او هر در
کسی اسم علی آرد
رود همّ همه دلها
🌻علی دلداده همسر
دل آرام علی همسر
و کرده مدح او همسر
🌻علی را همسری والا
محمد را علی امداد
محمد را علی داماد
گلی اطهر علی را داد
که او عطر همه گلها
دلم مِهر ولی دارد
دمادم اسم او آرد
سروری در دلم کارد
سرم گَردِ ره مولا
صد و ده مرحله اسم
علی آورده ام
که هر مصراع سر دادم
مدد مولا مددمولا
الحمدلله الذی جعلنا من المتمسکین بولایه امیرالمؤمنین
التماس دعا

06/01/2026

💠حدیث روز💠

*💎اپنے سے کم مرتبہ افراد پر غصہ*

قال الامام الھادی علیه السلام:

*"الغضب علی من تملک لوم"*

امام هادی علیہ السلام نے فرمایا:

*«اَلْغَضَبُ عَلی مَنْ تَمْلِکُ لَوْمٌ»*

*اپنے ماتحت (کام کرنے والے) افراد پر غصہ حقارت ہے۔*

*📚بحارالانوار ، ج 75، ص 370*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

05/31/2026

💠حدیث روز💠

*💎دنیا کی خصوصیات*

قال امیرالمؤمنین علی علیه‌السلام فی صفة الدنیا:

*«تَغُرُّ وَ تَضُرُّ وَ تَمُرُّ»*

امیرالمؤمنين حضرت علی علیہ السلام نے دنیا کی وصف میں فرمایا:

*دنیا دھوکے باز، نقصان رساں اور رواں دواں ہے۔*

*📚نہج البلاغہ، حکمت نمبر 415*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

05/30/2026

💠حدیث روز💠

*💎ظلم میں شرکت*

قال امیرالمؤمنین عليه السلام:

*«اَلْعامِلُ بِالظُّلْمِ وَ الْمُعینُ عَلَیْهِ وَ الرّاضِیُ بِهِ شُرَکاءُ ثَلاثَهٌ»*

امیرالمؤمنين حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

*ظلم کرنے والا، ظلم پر مدد کرنے والا اور ظلم پر راضی ہونے والا تینوں باہم شریک ہیں۔*

*📚تحف العقول، ج 1، ص 216*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

05/29/2026

💠حدیث روز💠

*💎دنیا کے بہانے دین کو ترک کرنا*

قال امیرالمؤمنين عليه السلام:

*«لاَ یَتْرُکُ اَلنَّاسُ شَیْئاً مِنْ أَمْرِ دِینِهِمْ لاِسْتِصْلاَحِ دُنْیَاهُمْ إِلاَّ فَتَحَ اَللَّهُ عَلَیْهِمْ مَا هُوَ أَضَرُّ مِنْهُ»*

امير المؤمنين حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

*لوگ دنیاوی امور کو سنوارنےکے لیے دینی امور میں سے کسی کو ترک نہ کریں ورنہ خدا اس دنیاوی فائدہ سے کہیں زیادہ ان کےلیے نقصان کی صورتیں پیدا کر دیتا ہے۔*

*📚نہج البلاغہ، حکمت نمبر 106*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

05/28/2026

💠حدیث روز💠

*💎عید قربان کی فضیلت*

امير المؤمنين حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

*«وَ إِنَّ هذا یَوْمٌ حُرْمَتُهُ عَظِیمَةٌ وَ بَرَکَتُهُ مَأْمُولَةٌ وَالْمَغْفِرَةُ فِیهِ مَرْجُوَّةٌ، فَأَکْثِرُوا ذِکْرَ اللّهِ تَعالی وَاسْتَغْفِرُوهُ وَ تُوبُوا إِلَیْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّحیمُ»*

*اس دن کی حرمت بہت زیادہ ہے،اس کی برکتوں سے استفادے کی آرزو بجااور اس میں مغفرت الھی کی امید پسندیدہ امر ہے۔پس خدائے بزرگ کا زیادہ ذکر اور استغفار کریں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کریں کیوں کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔*

*📚من لا یحضرہ الفقیہ، ج 1 ، ص 520*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

05/26/2026

*🔰ثار الله کا بیت الله*

افقِ تاریخ پر کچھ ایسے آفتاب طلوع ہوئے جنہوں نے صرف روشنی نہیں دی، بلکہ زمانے کی سمت بھی متعین کر دی۔ کچھ سفر ایسے ہوئے ہیں جو زمین پر ضرور طے ہوئے مگر ان کی منزلیں آسمانوں میں لکھی گئیں۔ کچھ کردار ایسے رہے کہ جو تاریخ کا حصہ نہیں بنے بلکہ تاریخ خود ان کے گرد گردش کرنے لگی۔ یوم ترویہ 8 ذی الحجہ سن 60 ہجری کا دن بھی ایسا ہی ایک الٰہی لمحہ تھا، جب امام حسین علیہ السلام نے مکہ معظمہ سے خروج فرمایا اور تقدیرِ انسانیت کو بیداری کی نئی سحر عطا کی۔

یہ خروج ایک حرکت نہیں تھا، ایک انقلاب تھا۔ یہ سفر نہیں تھا، ایک مشن تھا۔ یہ صرف ہجرت نہیں تھی، ایک اعلانِ حق تھا۔ اور یہ اعلان صرف مکہ سے کربلا تک محدود نہیں تھا، بلکہ ازل سے ابد تک پھیلا ہوا ایک نورانی تسلسل تھا۔

مکہ… وہ مقدس وادی جہاں توحید کی پہلی صدا گونجی، جہاں خلیل الرحمٰن ابراہیمؑ نے تسلیم و رضا کی بنیاد رکھی، جہاں ذبیح اللہ اسماعیلؑ نے قربانی کا درس دیا، اور جہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کو ربِ کعبہ کی طرف بلایا۔

یہ وہ شہر ہے جہاں ہر پتھر عبادت کا گواہ ہے، ہر ذرہ توحید کا امین ہے، اور ہر سانس میں “لبیک” کی روح رواں ہے۔

مگر تاریخ کے اسی مقدس ترین مقام پر ظلم کی ایک سیاہ رات بھی سایہ فگن تھی۔ یزید کی حکومت، جو فاسقانہ اقتدار، جبر اور دین بیزاری کی علامت بن چکی تھی، اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ اسے نہ حرمِ خدا کی حرمت کا پاس تھا، نہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کا احترام تھا۔

احرام کی سفیدی میں چھپے ہوئے ارادے سیاہ تھے، اور عبادت کے پردے میں چھپی ہوئی تلواریں حقیقت بننے کو تیار تھیں۔ مکہ کی فضاؤں میں عبادت کی خوشبو کے ساتھ سازش کی بو بھی شامل ہو چکی تھی۔

یہ وہ مقام تھا جہاں ہر عام انسان اپنی جان کی حفاظت کے لئے حرم میں پناہ لیتا ہے، مگر حسین علیہ السلام وہ تھے جو حرم کی حفاظت کے لئے حرم سے نکل گئے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں عرفان اپنے عروج پر پہنچتا ہے، اپنی جان کی نہیں، حرمتِ دین کی حفاظت پیش نظر تھی۔

8 ذی الحجہ کی صبح مکہ کی وادیوں میں لبیک کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ حجاج کے قافلے سمندر کی طرح موجزن تھے۔ ہر طرف روحانیت، عبادت اور نور کا سماں تھا۔ اسی نورانی فضا میں ایک قافلہ آہستہ آہستہ مکہ سے باہر نکل رہا تھا۔ یہ منظر بظاہر سادہ تھا، مگر حقیقت میں تاریخ کا سب سے بڑا سوال تھا۔

لوگ رک گئے، نگاہیں ٹھہر گئیں، دل کانپ گئے، “یہ کون ہے؟”

پھر جواب آیا: “یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے امام حسین علیہ السلام ہیں…”

یہ نام سنتے ہی فضا بدل گئی۔ کیونکہ امام حسین علیہ السلام کوئی عام مسافر نہ تھے، وہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے تھے، مخدومہ کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لال تھے، امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے وارث تھے، اور حق کی پہچان تھے۔

لوگوں کے ذہنوں میں زلزلہ اٹھا: اگر امام حسین علیہ السلام حج چھوڑ رہے ہیں تو یقیناً دین میں کوئی عظیم فتنہ جنم لے چکا ہے۔

یہی وہ لمحہ تھا جہاں امام حسین علیہ السلام نے بغیر خطبہ کے سب سے بڑا خطبہ دیا، بغیر اعلان کے سب سے بڑا اعلان کیا، اور بغیر تلوار کے سب سے بڑی بیداری پیدا کی۔

توجہ رہے کہ امام حسین علیہ السلام کا قیام کسی سیاسی اقتدار کی خواہش نہ تھا، نہ کسی دنیوی نظام کی طلب۔ اگر مقصد دنیا ہوتا تو دروازے کھلے تھے، وفاداریاں موجود تھیں، اور حکومتیں پیشکش کر رہی تھیں۔

مگر امام حسین علیہ السلام نے دنیا نہیں چاہی؛ امام حسین علیہ السلام نے خدا چاہا۔

یہ وہ مقام ہے جہاں انسانیت دو راستوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ ایک راستہ دنیا کی راحت کا ہے، دوسرا راستہ حق کی قربانی کا ہے۔ اور امام حسین علیہ السلام نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

آپؑ نے انسانیت کو یہ درس دیا کہ دین صرف عبادت نہیں، غیرت کا نام ہے۔ ایمان صرف ذکر نہیں، قیام کا نام ہے اور حق صرف بات نہیں، قربانی کا نام ہے۔

کربلا کی طرف بڑھتا ہوا ہر لمحہ قربانی کا سایہ تھا، مگر امام حسین علیہ السلام کے چہرے پر اضطراب نہیں تھا بلکہ سکون تھا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ کسی عام جنگ کی طرف نہیں جا رہے، بلکہ اپنے محبوبِ حقیقی کی طرف جا رہے ہیں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں عشق اپنی معراج پر پہنچتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خواہشات کو خدا کی رضا میں فنا کر دیتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام کا ہر قدم گویا یہی اعلان کر رہا تھا: “اگر یہ راستہ تیرے لئے ہے تو ہر زخم قبول ہے۔”

یہی عرفان پروردگار کی معراج ہے کہ جہاں درد عبادت بن جاتا ہے، جہاں مصیبت قربت بن جاتی ہے، جہاں موت حیات بن جاتی ہے۔

کربلا صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں تھا، وہ وقت کی عدالت تھی جہاں انسانیت کا مقدمہ سنا گیا۔

وہاں دو لشکر نہیں تھے، بلکہ دو نظریے تھے:
یزیدیت: طاقت، ظلم، غرور اور دنیا پرستی
حسینیّت: حق، عدل، قربانی اور خدا پرستی۔

کربلا نے فیصلہ دے دیا کہ:
تلواریں جسم کو کاٹ سکتی ہیں مگر حق کو نہیں۔ ظلم وقتی ہوتا ہے مگر حق ابدی ہوتا ہے۔

معمار کربلا امام حسین علیہ السلام کا پیغام کسی ایک زمانے تک محدود نہیں بلکہ ہر زمانے کے لئے ہے۔ کیونکہ ہر دور میں یزید موجود ہوتا ہے۔ کبھی طاقت کی صورت میں تو کبھی جھوٹے نظام کی شکل میں تو کبھی دین کے نام پر فریب کی صورت میں اور کبھی حق کو دبانے والی خاموشی کی صورت میں۔

اور ہر دور میں امام حسین علیہ السلام کی صدا گونجتی ہے: “حق کے لئے کھڑے ہو جاؤ، چاہے تنہا کیوں نہ ہو۔”

اسی طرح شریکۃ الحسین حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے بعد اس انقلاب کو زندہ رکھا۔ اگر امام حسین علیہ السلام نے خون دیا تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس خون کو پیغام بنایا۔

کوفہ اور شام کے درباروں میں ان کی خطابت نے ظلم کے ایوانوں کو ہلا دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ قید جسم کو محدود کرتی ہے، فکر کو نہیں۔ نیزہ سر کو اٹھا سکتا ہے، مگر حق کو نہیں جھکا سکتا۔

آج بھی امام حسین علیہ السلام زندہ ہیں، کیونکہ حق زندہ ہے۔ آج بھی کربلا جاری ہے، کیونکہ باطل ختم نہیں ہوا۔ آج بھی عاشورا بولتا ہے، کیونکہ ضمیر جاگتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام صرف تاریخ نہیں ہیں، امام حسین علیہ السلام ضمیر ہیں، امام حسین علیہ السلام شعور ہیں، امام حسین علیہ السلام بیداری ہیں۔

سلام ہو اس عظیم امام پر
جنہوں نے مکہ چھوڑ کر کربلا کو انسانیت کا ہمیشہ کے لئے زندہ استعارہ بنا دیا۔

05/26/2026

💠حدیث روز💠

*💎خدا سے ڈرنے والوں سے مشورہ*

قال الامام الباقر علیه السلام:

*«اِستَشِر فی أمرِک الَّذینَ یخشَونَ اللَّهَ»*

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:

*اپنے کام میں (صرف) ان سے مشورہ کرو جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔*

*📚تحف العقول، ص 293*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

Address

52-6625 Kitimat Road
Mississauga, ON
L5N6J1

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ali Islamic Mission posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Ali Islamic Mission:

Share