Ali Islamic Mission

Ali Islamic Mission The community for the welfare and educating the core beliefs of AhlulBayt for the entire world Provides Religions services

06/23/2026

💠حدیث روز💠

*💎امام حسین علیہ السلام جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ*

قال رسول الله صلی الله علیه و آله وسلم:

*«إِنَّ الْحُسَیْنَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ.»*

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

*بیشک امام حسین علیہ السلام جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہیں۔*

*📚بحار الأنوار، ج 35، ص 405*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

06/21/2026

*🔴 “شہادت“ کے معنی سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس مکتب فکر کا تعین کرلیا جائے جس سے یہ لفظ اپنے معنی ، طرز اظہار اور اقدار حاصل کرتا ہے۔ یورپی اور مغربی زبانوں میں MARTYR (شہید) اسے کہا جاتا ہے جو دشمن کے مقابلے میں اپنے اعتقادات کا دفاع کرنے کے لیے موت کا انتخاب کرے اور اس کے لیے مرمٹنے کے علاوہ اور کوئی راہ عمل باقی نہ ہو لیکن شہادت "اٹھو اور گواہی دو“ کے الفاظ جو اسلامی تہذیب میں اس شخص کو متعین کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں جس نے موت کا انتخاب کیا ہو۔ مغربی دنیا کے لفظ MARTYRDOM سے بالکل مختلف معانی کے حامل ہیں۔*

*✅اس سے اسلامی اور غیر اسلامی اعتقادات میں فرق کا پتا چلتا ہے۔ یورپی زبانوں میں MARTYR کا لفظ MORTAL سے مشتق ہے، جس کے معنی موت یا مرنے کے ہیں۔ تاہم اسلام اور بالخصوص مکتب اہل بیت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ قربانی دو اور شہادت یعنی گواہی دو اور اس بنا پر MARTYRDOM یعنی موت کی بجائے اسلام میں شہادت کے معنی زندگی LIFE گواہی EVIDENCE اور تصدیق اور شہادت " اور MARTYRDOM کے ہیں۔*

*✅یہیں CERTIFY یا TESTIFY (گواہی دینا) کے الفاظ مکتب اہل بیت کی اسلامی تہذیب اور دنیا کی دوسری تہذیبوں کے زاویہ ہائے نگاہ کا فرق واضح کرتے ہیں۔*

*✅لہٰذا شہادت کے معنی سمجھنے کے لیے انہیں متعلقہ مکتب فکر کے سیاق و سباق میں تلاش کرنا ضروری ہے اور بالخصوص اس مکتب فکر کا مطالعہ لازم ہے جس کا غیر معمولی مظہر امام حسین علیہ السلام ہیں ۔*

*✅تاریخ انسانی کی پیشرفت اور تگ و دو میں امام حسین علیہ السلام علمبردار کی حیثیت رکھتے ہیں اور کربلا کا میدان جنگ ابتدائے تاریخ سے اب تک مختلف محاذوں، نسلوں اور زمانوں کو باہم مربوط کرنے کا واحد ذریعہ رہا ہے اور اس کی یہ حیثیت آئندہ بھی برقرار رہے گی ۔*

*✅حسین ع کے معنی اس وقت واضح ہوتے ہیں جب ہم ان کا تعلق ان تحریکوں سے سمجھ لیں جو تاریخی اعتبار سے حضرت ابراہیم سے شروع ہوتی ہیں۔ اس معنی کی وضاحت ضروری ہے اور جو انقلاب امام حسین نے برپا کیا اس کی تعبیر اسی کی روشنی میں کرنی چاہیے ۔*

*✅حسین ع اور معرکہ کربلا کو تاریخی اور سماجی حالات سے الگ کر کے دیکھنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم اسے ایک ابدی اور غیر معمولی مظہر سمجھنے کی بجائے کئی ایک لوگوں کی طرح اس بات پر مجبور ہو جائیں کہ متعلقہ شخص اور واقعے کو زمانہ ماضی کا ایک المیہ نہیں تو محض ایک نا خوشگوار واقعہ قرار دیکر اس پر فقط آنسو بہاتے رہیں (جیسا کہ بلا شبہ ہم بہاتے رہتے ہیں)۔*

*✅حسین ع اور کربلا کو ان کے تاریخی اور نظریاتی سیاق و سباق سے جدا کرنا اس عمل کے مترادف ہے کہ ایک زندہ موجود کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اور فقط ایک ٹکڑا لے کر اس کا تجزیہ کیا جائے جبکہ زندہ جسم کی پوری ساخت اور مکمل نظام کو نظر انداز کر دیا جائے۔*

*📕از ؛ مرگ گلرنگ۔*
*✍️ڈاکٹر علی شریعتی۔*

06/21/2026

*🔴 کیا صرف ایک آنسو ساری عمر کے گناہ مٹا سکتا ہے۔۔‼️*

*⏺️ سوال: کیا اس بات کی کوئی وجہ ہے کہ ایک شخص ساری عمر گناہ اور معصیت میں گزار دے، پھر صرف امام حسین (ع) پر رو کر اور ایک آنسو بہا کر جنت میں چلا جائے⁉️*

*🫵مختصر جواب:*
*نہیں — ایسا نہیں ہو سکتا۔*
*☑️ شفاعت اور عزاداریِ امام حسین (ع) کے ثواب کے حصول کے لیے شرائط ہیں — اور سب سے اہم شرط «تقوائے الٰہی» ہے۔ یعنی واجبات کا انجام (نماز، روزہ، حج، زکاۃ، جہاد، حقوق الناس وغیرہ) اور محرمات کا ترک (گناہوں سے بچنا)۔*

*☑️ کوئی مستحب عمل — خواہ اس کا ثواب کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو — ترکِ واجب یا ارتکابِ حرام کے نقصان کو پورا نہیں کر سکتا۔*
*☑️ اصلًا — وہ عظیم ثواب جو احادیث میں عزاداریِ امام حسین (ع) کے لیے بیان ہوئے ہیں — انہی کے لیے ہیں جو امام (ع) کے حق کو پہچانتے ہوں، جانتے ہوں کہ آپ نے کس ہدف کے لیے قیام کیا، اور اس ہدف کے راستے پر گامزن ہوں۔*

*🫵تفصیلی جواب:*
*⏹️ دو قسم کی روایات — ظاہری تضاد:*
*1️⃣ پہلی قسم: احادیث جو بتاتی ہیں کہ امام حسین (ع) پر رونے سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔*

*مثلاً امام رضا (ع) فرماتے ہیں:*
*📖"اے ابن شبیب! اگر تو حسین (ع) پر اس طرح روئے کہ تیرے آنسو تیرے گالوں پر بہہ جائیں — تو اللہ تیرے سب گناہ معاف کر دے گا — خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے، کم ہوں یا زیادہ۔"*

*2️⃣ دوسری قسم: قرآن اور روایات جو بتاتی ہیں کہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور اعمال تجسم ہوتا ہے۔ کوئی عمل بے نتیجہ نہیں جاتا۔*

*⬅️ ان دونوں کو کیسے جمع کیا جائے⁉️*
*❇️ یہاں دو غلط راستے ہیں:*
*1️⃣ پہلا راستہ —افراط: کوئی بھی شخص، خواہ وہ کتنا ہی بڑا گناہ گار کیوں نہ ہو، صرف امام حسین (ع) پر رونے سے نجات پا جائے گا۔*
*2️⃣ دوسرا راستہ — تفریط: عزاداری کے عظیم ثواب کو مبالغہ قرار دے کر انکار کر دیا جائے۔*

*🫵صحیح راستہ یہ ہے کہ شفاعت اور عزاداری کا ثواب — مشروط ہے — مطلق نہیں۔*

*❇️ شفاعت کی شرائط — قرآن کی روشنی میں:*
*☑️ قرآن صاف کہتا ہے کہ شفاعت کے لیے شرائط ہیں:*
*📖 سورہ انبیاء، آیت 28 کے مطابق — صرف وہی شفاعت کے قابل ہیں جو «مقامِ ارتضاء» پر پہنچ چکے ہوں۔*

*📖 سورہ مریم، آیت 87 کے مطابق — صرف وہی جو «الٰہی عہد» کے مالک ہوں۔*
*«ارتضاء» اور «عہد» کا مطلب ہے — اللہ پر ایمان، حساب و کتاب پر یقین، نیکیوں اور برائیوں کا اعتراف، احکامِ الٰہی کی درستگی کی گواہی، اور سب سے اہم — ظلم جیسے عظیم گناہوں سے اجتناب۔*

*☑️امام حسین (ع) کی شفاعت — کس کے لیے ہے⁉️:*
*🫵 امام حسین (ع) نے خود کو فدا نہیں کیا تاکہ گناہ گار لوگ بے فکر ہو جائیں — جیسا کہ مسیحی اپنے نبی کے بارے میں سمجھتے تھے۔*
*✅صحیح بات یہ ہے — امام حسین (ع) کی عزاداری اور ان پر رونا — اس وقت ثواب اور شفاعت کا ذریعہ بنتا ہے — جب عزادار:*
*1️⃣ امام (ع) کے حق کو پہچانتا ہو (عارفاً بحقہ)*
*2️⃣ ان کے قیام کے اہداف کو سمجھتا ہو۔*
*3️⃣ عملی طور پر ان اہداف کے راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہو۔*
*4️⃣ گناہوں — خاص طور پر ظلم — سے بچتا ہو۔*

*☑️واجبات کا مقام — اور تقویٰ کی اہمیت:*
*📖اللہ تعالیٰ نے سورہ مائدہ، آیت 27 میں فرمایا:*
*"بیشک اللہ (اعمال) صرف متقیوں سے قبول کرتا ہے۔"*

*🫵 اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا، روزہ نہیں رکھتا، حقوق الناس ادا نہیں کرتا، ظلم کرتا ہے — اور صرف محرم میں رو لیتا ہے — تو اس کا رونا قبول نہیں ہو گا۔*
*کیونکہ ترکِ واجب اور ارتکابِ حرام کا نقصان — کسی مستحب عمل سے پورا نہیں ہو سکتا۔*

*☑️ گناہ پر اصرار — عزاداری کی توفیق بھی چھین لیتا ہے:*
*امام علی (ع) فرماتے ہیں:*
*📖"آنسو خشک نہیں ہوتے — مگر دلوں کی سختی سے — اور دل سخت نہیں ہوتے — مگر گناہوں کی کثرت سے۔"*

*🫵 جو شخص گناہ پر اصرار کرتا ہے — اس کا دل سخت ہو جاتا ہے — اور پھر وہ امام حسین (ع) کے لیے نہیں رو سکتا — خواہ چاہے۔*
*📌 نتیجہ — وہ شخص عزاداری کی توفیق سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔*

*☑️پھر عزاداری کا فائدہ کیا ہے⁉️:*
*یہ مت سمجھو کہ عزاداری بے فائدہ ہے۔ عزاداری کے حقیقی فوائد یہ ہیں:*
*🫵 پہلا فائدہ — روحانی تبدیلی: عزاداری کی مجالس — روح کی پاکیزگی اور توبہ کے مراکز ہیں۔*
*🫵 دوسرا فائدہ — ہدف شناسی: انسان امام حسین (ع) کے اہداف سے آشنا ہوتا ہے۔*
*🫵 تیسرا فائدہ — عملی تغیر: بہت سے لوگ انہی مجالس میں گناہ چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔*
*🫵 چوتھا فائدہ — شناختِ حق و باطل: عزاداری انسان کو ظلم اور عدل میں فرق سکھاتی ہے۔*
*اگر عزاداری انجامِ واجبات اور ترکِ محرمات کا سبب بن جائے — تو یہی حقیقی شفاعت ہے۔*

*📌 نتیجہ — آخری پیغام:*
*🫵 غلط سوچ یہ ہے — عمر بھر گناہ کرو، آخر میں رو لو — سب معاف۔*
*🫵 صحیح سوچ یہ ہے — گناہ چھوڑو، واجبات پورے کرو، پھر عزاداری کرو — شفاعت پاؤ۔*

*🫵 غلط سوچ یہ ہے — امام حسین (ع) ضامن ہیں — خواہ کچھ بھی کرو۔*
*🫵صحیح سوچ یہ ہے — امام حسین (ع) راستہ دکھانے والے ہیں — منزل تک پہنچنا تمہارا کام ہے۔*

*🫵 غلط سوچ یہ ہے — رونا کافی ہے۔*
*🫵صحیح سوچ یہ ہے — رونے کے ساتھ بیداری، معرفت، اور عمل ضروری ہے۔*

*✅ آخر میں — امام حسین (ع) نے فرمایا تھا:*
*📖"کیا تم نہیں دیکھتے — کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا — اور باطل کو روکا نہیں جا رہا⁉️"*
*🫵اگر ہم حق پر عمل نہیں کریں گے — اور باطل سے باز نہیں آئیں گے — تو ہمارا رونا بھی قبول نہیں ہو گا۔*

*🎙️محقق بصیر، مفسر قرآن، شارح نہج البلاغہ و صحیفہ سجادیہ حضرت آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی مد ظلہ العالی*

06/21/2026

💠حدیث روز💠

*💎حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی زائرین امام حسین علیہ السلام کے حق میں دعا*

قال الامام الصادق عليه السلام:

*«إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صلی الله علیه وآله تَحْضُرُ لِزُوَّارِ قَبْرِ ابْنِهَا الْحُسَیْنِ علیه السلام فَتَسْتَغْفِرُ لَهُمْ ذُنُوبَهُمْ.»*

امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

*یقیناً فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بیٹے حسین علیہ السلام کی زیارت کرنے والوں کے پاس تشریف لاتی ہیں اور ان کے گناہوں کی بخشش کی خدا سے دعا کرتی ہیں۔*

*📚کامل الزیارات، ص ۱۱۸*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

06/18/2026

💠حدیث روز💠

*💎امام حسین علیہ السلام کی مصیبت پر آنسو بہانے کا اجر*

قال رسول الله صلی الله علیه و آله وسلم:

*«یا فاطِمَةُ! کُلُّ عَیْنٍ باکِیَةٌ یَوْمَ الْقِیامَةِ إِلَّا عَیْنٌ بَکَتْ عَلی مُصابِ الْحُسَیْنِ، فَإِنَّها ضاحِکَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ بِنَعِیمِ الْجَنَّةِ.»*

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

*اے فاطمہ! قیامت کے دن ہر آنکھ گریہ کرنے والی ہوگی، سوائے اس آنکھ کے جو حسین کی مصیبت پر روئی ہو، کیونکہ وہ آنکھ بہشت کی نعمتوں سے خوش وخرم ہوگی۔*

*📚بحار الأنوار، ج ۴۴، ص ۲۹۳*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

06/17/2026

💠حدیث روز💠

*💎امام حسین علیہ السلام پر گریہ اور گناہوں کی بخشش*

قال الامام الرضا علیه السلام:

*«فَعَلَی مِثْلِ الْحُسَیْنِ فَلْیَبْکِ الْبَاکُونَ، فَإِنَّ الْبُکَاءَ عَلَیْهِ یَحُطُّ الذُّنُوبَ الْعِظَامَ.»*

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

*رونے والوں کو چاہیے کہ وہ امام حسین علیہ السلام جیسی بزرگ ہستی پر گریہ کریں، کیوںکہ ان پر آنسو بہانے سے کبیرہ گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں۔*

*📚بحار الأنوار، ج ۴۴، ص ۲۸۴*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

06/12/2026

💠حدیث روز💠

*💎دوسروں پر احسان جتلانے کی آفت*

قال الامام حسن مجتبیٰ علیه السلام:

*«مَن عَدَّدَ نِعَمَهُ مَحَقَ کَرَمَهُ.»*

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

*جو شخص اپنی عطا کردہ نعمتوں اور احسانات کو گن گن کر یاد دلائے، اس نے اپنی سخاوت اور بزرگواری کو مٹا دیا۔*

*📚بحار الانوار، ج ۷۸، ص*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

06/11/2026

💠حدیث روز💠

*💎لالچ، گناہ کی طرف لے جانے والا راستہ*

قال الامام الحسن علیه السلام:

*«لَیْسَتِ العِفَّةُ بِدَافِعَةٍ رِزْقاً وَ لاَ الْحِرْصُ بِجَالِبٍ فَضْلاً فَإِنَّ الرِّزْقَ مَقْسُومٌ وَ اسْتِعْمَالُ الْحِرْصِ اسْتِعْمَالُ الْمَآثِمِ.»*

امام حسن مجتبی علیہ السلام نے فرمایا:

*نہ پاکدامنی انسان سے رزق کو دور کرتی ہےاور نہ حرص رزق میں اضافے کی باعث بنتی ہے کیوںکہ رزق تقسیم ہو چکا ہے اور لالچ انسان کو گناہوں کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے۔*

*📚تحف العقول، ص 234*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

06/10/2026

💠حدیث روز💠

*💎تسبیحات حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی فضیلت*

قال الامام الصادق علیه السلام:

*«تَسْبِیحُ فَاطِمَةَ عَلَیْهَا السَّلَامُ فِی کُلِّ یَوْمٍ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ صَلَاةِ أَلْفِ رَکْعَةٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ.»*

امام جعفر صادق علی السلام نے فرمایا:

*ہر روز ہر نماز کے بعد تسبیحات حضرت زہرا پڑھنا میرے نزدیک ہر روز ایک ہزار رکعت نماز پڑھنے سے افضل ہے۔*

*📚وسائل الشیعہ، ج 6، ص 444*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

06/09/2026

💠حدیث روز💠

*💎نماز ؛ خدا کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل*

قال الامام الصادق عليه السلام:

*«أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَی اللَّهِ الصَّلَاةُ وَهِیَ آخِرُ وَصَایَا الأَنْبِیَاءِ.»*

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

*نماز خدا کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل ہے اور نماز انبیاء الھی کی آخری وصیت تھی۔*

*📚وسائل الشیعہ، ج 4، ص 38*
سیداحمدرضاالحسینی
بانئ ادارہ
علی اسلامک مشن
ٹورنٹو(مسی ساگا)
کینڈا

Address

52-6625 Kitimat Road
Mississauga, ON
L5N6J1

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ali Islamic Mission posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Ali Islamic Mission:

Share