Tareekh Al Islam

Tareekh Al Islam History of Islam
treekh e islam
treekh alislam

*اپنی تاریخ پڑھو۔۔۔ صرف ڈرامے نہ دیکھتے رہ جاؤ۔   صرف گانے نہ سنتے رہ جاؤ*۔۔۔ )"*بنو امیہ کا سب سے حسین بادشاہ سلمان بن ...
21/08/2023

*اپنی تاریخ پڑھو۔۔۔ صرف ڈرامے نہ دیکھتے رہ جاؤ۔ صرف گانے نہ سنتے رہ جاؤ*۔۔۔ )"
*بنو امیہ کا سب سے حسین بادشاہ سلمان بن عبدالملک*
سب سے حسین ۔۔۔ 42 سال کی عمر ۔۔ جوانی ۔۔
جب اسکی میت کو قبر کے قریب کیا گیا تو لاش ہلنے لگی ۔۔
تو انکے بیٹوں نے کہا ۔۔ ہمارے ابو زندہ ہیں ۔۔ سکتہ ہو گیا ہوگا۔ ابھی زندہ ہیں ۔۔
*عمر بن عبدالعزیزؒ* فرمانے لگے ۔۔ ارے بھتیجو۔۔۔! ذندہ نہیں ہے ۔۔۔ قبر کا عذاب جلدی شروع ہو گیا ہے ۔۔ چھپاؤ جلدی چھپاؤ ۔۔۔ *عمر بن عبدالعزیزؒ* جس تخت پر بیٹھے ۔۔۔ اس پر سلمان تھا ۔۔۔ اس پر ولید تھا ۔۔۔ اس پر عبدالملک تھا ۔۔۔ ان تینوں نے اپنے من کو راضی کیا ۔۔۔ *عمر بن عبدالعزيزؒ* نے اپنے رب کو راضی کیا ۔۔۔ جب *عمر بن عبدالعزيزؒ کا وقت آیا ۔ انہوں نے رضا بن ہیبہ سے فرمایا کہ میں نے عبدالملک بن مروان (چاچا ۔ سسر ) انکی بیٹی فاطمہ سے شادی ہوئی تھی ۔۔۔ میں نے انکو (عبدالملک بن مروان) کو قبر میں اتارا ۔۔۔ کفن کی گرہ کھول کر دیکھا تو انکا چہرہ قبلہ سے ہٹ چکا تھا اور رنگ کالا سیاہ پڑ چکا تھا ۔۔۔ عبدالملک بن مروان گورا چٹا تھا ۔۔۔ گال سرخ ۔۔۔ آخر کالا ۔۔۔ پھر میں نے ولید کو قبر میں اتارا ۔۔ اسکا بیٹا۔۔۔ اسنے 10 سال حکومت کی ۔۔ اسنے 21 سال حکومت کی (ولید بن عبدالملک) ۔۔۔ میں نے اس کے کفن کی گرہ کو کھولا ۔۔۔ تو اسکا رنگ سیاہ ہو چکا تھا ۔۔ قبلہ کی طرف سے چہرہ ہٹ چکا تھا ۔۔۔ پھر سلمان کے کفن کو کھولا ۔۔۔ اسکا بھی چہرہ قبلہ سے ہٹ چکا تھا ۔۔ رنگ سیاہ پڑ چکا تھا ۔۔۔ اب میں جا رہا ہوں ۔۔۔ مجھے دیکھنا ۔۔۔ پہلے تینوں نے حکومت کی پوجا کی۔۔۔ عمر بن عبدالعزیزؒ* نے *اللّٰہ تعالیٰ* کی عبادت کی ۔۔۔ انہوں نے ایک بڑا عجیب خطبہ دیا ۔۔۔ جب خلیفہ بنے ۔۔۔
*اے لوگو*۔۔۔!
*بچپن میں شعر و شاعری کا شوق تھا تو میں شاعر بنا ۔۔۔ تھوڑی سی اٹھان ہوئی تو علم کا شوق ہوا میں نے علم حاصل کیا ۔۔۔ جوان ہوا تو فاطمہ بنت عبدالملک سے عشق ہوا ۔۔۔ میں نے ان سے شادی کی ۔۔۔ اب اللّٰہ نے مجھکو حکومت دے دی ہے ۔۔۔ اب تم دیکھو گئے میں اس سے اپنے اللّٰہ کو راضی کروں گا* ۔۔۔
ہمارے حکمران تو ووٹ سے آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں 4-5 سال کے بعد ۔۔۔
انکے وراثت میں حکومت آ رہی ہے ۔۔۔ اور 3 براعظم پر حکومت ہے ۔۔۔ اور ایسا رعب و دبدبہ ہے بنو امیہ کا کہ کوئی انکے سامنے سر نہیں اٹھا سکتا۔۔۔
3 *براعظم میں ذکواة لینے والا کوئی نہ بچا* ۔۔۔
3 *براعظم میں سوال کرنے والا کوئی نہ بچا* ۔۔۔
3 *براعظم میں ظالم کوئی نہ بچا* ۔۔
3 *براعظم میں مظلوم کوئی نہ بچا* ۔۔۔ *لیکن خود کیسا رہا ۔۔۔ گھر آئے ۔۔۔ فاطمہ۔۔۔! بڑے اچھے دن گزرے ہیں ۔۔۔ اب امتحان ہے میں تیرا حق نہ ادا کر سکوں گا ۔۔۔ طلاق لینی ہے تو میں حاضر ہوں ۔۔۔ ساتھ دینا ہے تو پہلے اپنے حق معاف کرو ۔۔۔ سیاسی لحاظ سے فاطمہ جیسی عورت تاریخ میں نہیں آئیں ۔۔۔ سات نسبتوں سے یہ شہزادی ہیں ۔۔۔ فاطمہ کہنے لگیں ۔۔۔ عمر۔۔۔! میں نے سکھ کے دن آپکے ساتھ گزرے ہیں ۔۔۔ دکھ میں آپکو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی ۔۔۔ جائیں میں نے سارے حق معاف کیے ۔۔۔ پھر عمر بن عبدالعزیزؒ* کی راتیں اور دن کیسے گزرے ۔۔۔ مصلے پر روتے روتے وہیں سو جاتے ۔۔۔ اور مصلے پر روتے روتے وھیں سے اٹھتے ۔۔۔ اپنی حکومت کو اللہ کی رضا کے لئے استعمال کیا ۔۔۔ کیسے استعمال کیا ۔۔۔ فاطمہ کا سارا زیور بیت المال میں ڈال دیا ۔۔۔ تنخواہ پر آگئے ۔۔۔ عید کا موقع آیا ۔۔۔ بچوں نے ماں سے کہا ۔۔۔ ہمیں کپڑے لے کر دو ۔۔۔ فاطمہ کے پاس عمر کے ( *3 براعظموں کے خلیفہ* ) کے بچے آ رہے ہیں ۔۔۔ امی جان۔۔ ابا سے کہیں عید آ رہی ہے ۔۔۔ ہمیں عید کے کپڑے لے دیں۔۔۔ ابا تشریف لائے ۔۔۔ خزانے لبا لب بھرے ہوئے ہیں گندم کے ڈھیر کی طرح ۔۔۔ کہا *امیر المومنین* ۔۔۔ بچے کپڑے مانگ رہے ہیں ۔۔۔ کہا۔۔ فاطمہ میرے پاس تو پیسے نہیں کہاں سے کپڑے لے کر دوں؟ ۔۔۔ فاطمہ نے کہا ۔۔ پھر بچوں کا کیا کریں ۔ کہا مجھے بھی نہیں پتا کیا کروں ۔۔۔
اس سے پہلے تین حکمرانوں نے لوٹ مار کے بازار گرم کیے۔۔۔ ظلم کے بازار گرم کیے ۔۔۔ اور آج اسی تخت پر ایک شخص بیٹھا ہے جو اللّٰہ کو راضی کرنے میں لگا ہوا ہے ۔۔۔
تو فاطمہ نے کہا ۔۔۔ آپ ایسا کریں ۔۔ اگلے مہینے کی تنخواہ ایڈوانس لے لیں ۔۔۔ اس سے ہم بچوں کے کپڑے لے لیتے اور میں مزدوری کر کے گھر کا خرچ چلا لوں گی ۔۔۔
پھر *عمر بن عبدالعزیزؒ* نے بلایا اپنے وزیر خزانہ مزآہم۔۔ اپنا غلام ۔۔۔ ہاں بھائی مزاہم۔۔ ہمیں بچوں کے کپڑے چاہئیں ۔۔۔ آگر آگلے مہینے کی تنخواہ ایڈوانس مل جائے ۔۔۔
وہ کہنے لگے ۔۔۔ *اے امیر المومنین* ۔۔۔ آپ مجھے لکھ کر دے دیں ۔۔۔ آپ اگلے مہینے تک ذندہ رہیں گے میں آپکو تنخواہ دے دیتا ہوں ۔۔۔
آپ نے سر جھکا لیا ۔۔ اٹھے۔۔ گھر آئے ۔۔۔ اپنی بیوی سے کہا ۔۔ فاطمہ بچوں سے کہہ دو انکا باپ انکو کپڑے نہیں لے کر دے سکتا ۔۔۔ عید کا دن آگیا ۔۔۔ بنو اممیہ کا خاندان ملنے آ رہا ہے ۔۔۔ سارے سردار ۔۔ سرداروں کے بیٹے ۔۔ اعلیٰ ملبوسات ۔۔۔ سب ملنے آ رہے ہیں ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد دیکھا تو بچے بھی ملنے آ رہے ہیں ۔۔۔ *امیر المومنین کی حیثیت سے ۔۔۔ بچے باپ کو ملنے آ رہے ہیں ۔۔۔ اور انکے جسموں پر پرانا لباس ہے ۔۔۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز* نے ایک طرف دیکھا تو سرداروں کے بیٹے اور زرق برق پوشاکیں ۔۔۔ ایک طرف اپنے بچوں کو دیکھا ۔۔۔ جسموں پر پرانا لباس ۔۔۔
ارے اس باپ سے پوچھو۔۔۔ جو سب کچھ کر سکتا ہو لیکن پھر بھی اللّٰہ کی رضا کی خاطر مٹھی بند کر لے ۔۔ کے نہیں میں نے حرام کی طرف نہیں جانا ۔۔۔
بچوں کو دیکھا تو انکھیں ڈگمگا گئیں ۔۔۔ فرمایا ۔۔ میرے بچو۔۔ آج تمہیں اپنے باپ سے گلہ تو ہو گا ۔۔۔ کہ آج ہمارے باپ نے ہمیں کپڑے ہی نہیں لے کر دیئے۔۔۔ انکے ایک بیٹے تھے عبدالملک ۔۔۔ وہ آپ سے بھی چار ہاتھ تھے ۔۔۔ وہ آپ سے پہلے ہی اللّٰہ کو پیارے ہو گئے تھے ۔۔۔ کہنے لگے ۔۔ ابا جان ۔۔ آپکو عید مبارک ہو ۔۔۔ آج ہمارا سر بلند ہے ۔۔۔ ہم شرمندہ نہیں ہیں ۔۔۔ آپکو مبارک ہو ۔۔۔ ہمارے باپ نے قومی خزانے میں بددیانتی نہیں کی ۔۔۔ ہم شرمندہ نہیں ہیں ۔۔۔ انسانوں کو کپڑوں میں نہیں تولا جاتا ۔۔۔
(آج کا میرا دیس کا مالدار اتنا فقیر ہو گیا ہے ۔۔۔ اتنا چھوٹا ہو گیا ہے کہ وہ اپنا تعارف کروانے کے لیے 50 لاکھ کی گھڑی لیتا ہے ۔۔ 6 لاکھ کا جوتا لیتا ہے ۔۔ آج کی بیگم اتنی چھوٹی ہو گی ہے کہ وہ اپنے قد کو بڑا کرنے کے لیے 8-10 لاکھ کا ہینڈ بیگ لیتی ہے ۔۔۔ ارے میرے بھائی تو دو ٹکے کا بھی نہیں رہا اگر تم نے 50 لاکھ کی گھڑی سے خود کو بڑا بنایا ہے ۔۔۔ ارے اس دھوکہ سے نکلو۔۔ برینڈڈ ؟؟ برینڈڈ؟؟ برینڈڈ؟؟ جب تم اپنی ذات میں بے قیمت ہو تو اللہ کی قسم ۔۔۔ تمھاری گھڑی ۔ تمھارے بیگ ۔۔ تمھاری گاڑیاں تمہاری ذات اونچی نہیں کر سکتے ۔۔۔۔)
ایک دن *عمر بن عبدالعزیزؒ* اپنی بیگم فاطمہ سے کہنے لگے ۔۔ فاطمہ کچھ پیسے ہیں میرا انگور کھانے کو جی چاہ رہا ہے ۔۔۔
فاطمہ رونے لگیں اور کہنے لگیں ۔۔ *امیر المومنین* خزانے بھرے پڑے ہیں ۔۔ کیا ایک درہم کا بھی حق نہیں کہ لے کر آپ انگور کھا لیں ۔۔۔
فاطمہ کی بات سن کر تڑپ کر بولے ۔۔۔ فاطمہ میں جہنم نہیں برداشت کر سکتا۔۔۔
آج ہم اپنے گریبان میں جھانکیں صاحب اقتدار اپنی جگہ جس کو جتنا موقعہ ملتا ہے لوٹ کھسوٹ میں لگا ہوا ہے اللہ ہمارے حال پہ کرم فرمائے۔ دنیا بڑی خسارے کی جگہ ہے۔
*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے
*اپنی تاریخ پڑھو۔۔۔ صرف ڈرامے نہ دیکھتے رہ جاؤ۔ صرف گانے نہ سنتے رہ جاؤ*۔۔۔

20/07/2023
ترکی کے خلیفہ سلطان مراد کی ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، اس نے ایک رات اپنے ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ کو ...
13/02/2023

ترکی کے خلیفہ سلطان مراد کی ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، اس نے ایک رات اپنے ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ کو کہا کہ ،
ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ _
ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ گرﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ . ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﮦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ . ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ .

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ،
ﺍﺩﮬﺮ ﺁﺅ ﺑﮭﺎﺋﯽ _

ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﮱ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮧ ﺳﮑﮯ . ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ؟_

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ . ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ . ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ .

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﮯ _

ﺗﻮ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﻣﺖ ﻣﺤﻤﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ . ﭼﻠﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ _

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺖ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯼ _

ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﻻﺵ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ .

ﻟﻮﮒ ﭼﻠﮯ ﮔﮱ _

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ ﻭﮨﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﮯ .

ﻭﮦ کہہ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ،
ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺑﯿﺸﮏ ﺗﻮ ﺍﻟﻠّﻪ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﮨﮯ . ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ .

ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﻌﺠﺐ ﮨﻮﺍ _ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ . ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ .

ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﺗﮭﯽ _ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺷﺮﺍﺏ ﺧﺎﻧﮯ ﺟﺎﺗﺎ ، ﺟﺘﻨﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺷﺮﺍﺏ ﺧﺮﯾﺪﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻻ ﮐﺮ ﮔﮍﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺎ ﺩﯾﺘﺎ . ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﻮ .
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺍﺟﺮﺕ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ، ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﮯ . ﮐﻮﺋﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ _
ﮔﮭﺮ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﺘﺎ ، ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠّﮧ ! ﺁﺝ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﻮﺟﮫ ﮨﻠﮑﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ .
ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺁﺗﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ _
ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮫ ! ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﻓﻨﺎ ﻧﺎ ﮨﮯ _
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ، ﮔﮭﺒﺮﺍ ﻣﺖ _ ﺗﻮﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ، ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻟﯿﺎ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ .

ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ : ﻣﯿﮟ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﻮﮞ . ﮐﻞ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ . ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ .

ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﮐﺜﯿﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎ .

ﺁﺝ ﮨﻢ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﯾﺎ ﻣﺤﺾ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﮨﻢ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﮔﻮﻧﮕﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ۔۔
عاجز

18/01/2023

ایک عابد نے *خدا کی زیارت* کے لیے 40 دن کا چلہ کھینچا ۔ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا اس کا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی : *_شام 6 بجے، ‏تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اور خدا کی زیارت کرو_*
عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دوکان کو ڈھونڈنے لگا۔
وہ کہتا ہے:
"میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھارہی تھی"
‏اسے وہ بیچنا چاہتی تھی- وہ جس تانبہ ساز کو اپنی دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا:
"4 ریال ملیں گے"
وہ بڑھیا کہتی:
"6 ریال میں بیچوں گی"
پر کوئی تانبہ ساز اسے چار ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا-
آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی۔ تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا۔
‏بوڑھی عورت نے کہا:
"میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور میں اسے 6 ریال میں بیچوں گی کیا آپ چھ ریال دیں گے؟"
تانبہ ساز نے پوچھا:
"چھ ریال میں کیوں؟؟؟"
بوڑھی عورت نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا:
"میرا بیٹا بیمار ہے، ڈاکٹر نے اس کے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے"
‏تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا:
"ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور نہایت قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 ریال میں خریدوں گا!!"
بوڑھی عورت نے کہا:
"کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "
تانبہ والے نے کہا:
"ہرگز نہیں،میں واقعی پچیس ریال دوں گا"
یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور ‏بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 ریال رکھ دیئے !!!
بوڑھی عورت، بہت حیران ہوئی۔ دعا دیتی ہوئی جلدی اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بوڑھی عورت چلی گئی تو میں نے تانبے کی دوکان والے سے کہا:
"چچا، لگتا ہے آپ کو کاروبار نہیں آتا؟
‏بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی اور آپ نے 25 ریال میں اسے خریدا"
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا:
"میں نے برتن نہیں خریدا ہے۔ میں نے اس کے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اور ایک ہفتے تک اس کے ‏بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں۔ میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے-"
عابد کہتا ہے میں سوچ میں پڑگیا۔ اتنے میں غیبی آواز آئی:
‏"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا۔ گرتے ہووں کو تھامو؛ غریب کا ہاتھ پکڑو؛ ہم خود تمہاری زیارت کو آئیں گے"۔

وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُم°
"وہ تمہـــارے ساتھ ہــے جہـــاں بھـــی تــم ہـــو
بے شک ♥️

12/01/2023

Dt. Zakrinaik

09/01/2023

Dr. Zakri Naik

بڑے کرم کے ہیں یہ فیصلے جہلم کا سںب سے بڑا قبرستان کسی مسلمان نے نہیں وقف کیا تھا۔ لیکن وقف کرنے والے کی زندگی کا خاتمہ ...
07/01/2023

بڑے کرم کے ہیں یہ فیصلے
جہلم کا سںب سے بڑا قبرستان کسی مسلمان نے نہیں وقف کیا تھا۔ لیکن وقف کرنے والے کی زندگی کا خاتمہ مسلمان ہونے پر ہوا تھا۔ محسنٍ اسلام محسنٍ جھلم ٹنڈل رام پرشاد بہت ھی کم افراد نے یہ نام سُنا ھوگا ۔۔یہ واقعہ ھے 1933...کا۔۔۔جناب ٹنڈل رام پرشاد نواب آف دکن جسکی تقریبا” پونے دو مربہ زمین جھلم میں موجود تھی اور انکی زیادہ تر اراضی دکن بھارت میں موجود تھی ۔۔۔انکی ایک رہاٸش جو کہ اس زمانے میں بہت عالیشان رہاٸش گاہ باغ محلہ نزد صرافہ بازارجھلم میں برلبٍ دریاٸے جھلم یہ عمارت ابھی بھی واقع ھے ۔۔۔نواب آف دکن ٹنڈم رام پرشاد ایک انتہاٸی رحم دل اور درویش صفت انسان تھا ۔۔۔گو کہ یہ شخص انتہاٸی امیر کبیر اور نواب خاندان کا اکلوتا وارث تھا جو کہ سونے کا چمچ لیکر پیدا ھوا تھا ۔۔اہل جھلم میں صرف چند افراد ھی جانتے ھونگے ۔۔نواب آف دکن اکثر اوقات اپنی اراضی دیکھنے دکن سے جھلم تشریف لاتے اور ان دنوں بھی وہ جھلم ڈھوک عبداللہ کے نزدیک اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کر رھے تھے کہ کچھ لوگ ایک بوڑھی عورت کا جنازہ لیٸے انکے پاس سے گزرے ۔۔۔نواب آف دکن سمجھے کہ شاید یہ کوٸی بیمار آدمی ھے اور اسے کسی حکیم کے پاس لے کر جا رھے ھیں ۔۔۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ وھی باغ محلے کے افراد اسی طرح جنازہ لیکر واپس آ گٸے نواب ٹنڈل رام پرشاد بھی اسی راستہ پر کھڑے اپنی سواری کا انتظار کر رھے تھے ازراہ ھمدردی انہوں نے ان افراد میں سے کسی سے پُوچھا کہ اب اس مریض کا کیا حال ھے ۔۔۔ مرحومہ کے ایک بچے نے رو رو کے ساری داستان سناٸی کے انکے دو تین جاننے والوں نے اپنی زمین میں اسکی والدہ کی قبر بنانے سے صاف انکار کر دیا ھے اور اب ھم اس عورت کی قبر اپنے گھر بنانے کے سوا کوٸی چارہ نہ ھے ۔۔نواب صاحب یہ سن کر بہت رنجیدہ ھوٸے اور بیشک اللہ کی رضا و مرضی کے بغیر نہ کوٸی نیکی کر سکتا ھے اور نہ ھی براٸی ۔۔۔چنانچہ اللہ پاک نے ٹنڈل رام پرشاد کے دل میں اس مرحومہ کے لیٸے رحم ڈالا اور نواب صاحب نے مرحومہ کے بچوں کو پاس بلایا اور یکدم حیرت انگیز پیشکش کر دی کہ اگر آپکے مسلمان بھاٸیوں نے میت دفنانے سے انکار کیا ھے تو ۔۔۔آپ پریشان نہ ھوں یہ زمین یہ جاٸیداد ادھر ھی رہ جانی ھے البتہ ھم سب انسانوں نے جلد یا بدیر دنیاسے چلے جانا ھے آپ لوگ میری اس زمین پر جس جگہ چاھتے ہیں اپنی والدہ کو دفن کر دیں ۔۔۔اور آج سے میں اپنی یہ پونے دو مربع زمین مسلمانوں کے قبرستان کیلٸے وقف کرتا ھوں ۔۔۔یہ بات سنتے ھی سب مسلمانوں کی آنکھوں میں تشکر سے آنسو آ گٸے اور مرحومہ کو دفنانے کے بعد فاتحہ خوانی کی گٸی اور ٹنڈل رام پرشاد کے لیٸے بھی خصوصی طور پر بہت سی دعاٸیں مانگی گٸیں چنانچہ یہ دعا بارگاہ الہی میں جلد ھی قبول کر لی گٸی اور چند روز بعد ھی ٹنڈل رام پرشاد نے ایک ولی کامل سید بخاری شاہ صاحب کے ہاتھوں اس شرط پر اسلام قبول کیا کہ میں اپنا نام تبدیل نہی کرونگا چنانچہ اللہ رب العزت نے ٹنڈل رام پرشاد کے لیٸے رشدو ھدایت کے دروازے کھول دیٸے اور نواب صاحب اسلام قبول کرنے کے کچھ عرصہ کے بعد دکن تشریف لے گٸے اور اپنے وکیل کو وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد مجھے جھلم کے قبرستان میں دفنایا جاٸے ۔چنانچہ چند سال بعد یعنی قیام پاکستان سے 5سال قبل 1942 کو جھلم اور پاکستان کے مسلمانوں کے محسن اس دنیاٸے فانی سے کوچ کر گٸے اور انکی میت دکن سے انکی زاتی گاڑی میں جھلم لاٸی گٸی اور جھلم میں بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں نے جنازہ میں شرکت کی اور جھلم کے اس عظیم قبرستان میں سپردٍ خاک کیا گیا آج جھلم کے تقریباً ہر گھر کا کوٸی نہ کوٸی فرد اس قبرستان میں سپردٍ خاک ھے اور آج بھی جھلم کے باسی اس عظیم ٹنڈل رام پرشاد کی محبتوں اور احسان کے قرضدار ھیں۔ہمیں صرف اس آیت پر غور کرنے کی ضرورت ہے
سورۃ آل عمران (مدنی — کل آیات 200)
قُلِ اللّـٰـهُـمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِى الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُۖ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْـرُ ۖ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (26)
تو کہہ اے اللہ، بادشاہی کے مالک! جسے تو چاہتا ہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلطنت چھین لیتا ہے، جسے تو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے تو چاہے ذلیل کرتا ہے، سب خوبی تیرے ہاتھ میں ہے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

30/10/2022

ہٹلر نے یہودیوں کو کیوں مارا. ❤️❤️ ڈاکٹر اسرار

25/10/2022

کالا جادو ایک باعمل مسلمان پر اثر انداز نہیں ہوتا. سنیے ایک یورپین جادوگر سے..

Address

Al-Rifa` Al-Sharki

Telephone

+97336995057

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tareekh Al Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Tareekh Al Islam:

Share