Islamic channel

Islamic channel Islamic channel. posts only about islam

29/04/2026

حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھا وہ تہجد کی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتا تھا ، باجماعت نماز پڑھاتا تھا اور شراب و زنا سے دور بھاگتا تھا لیکن انتہائی ظالم تھا جب اس کی موت آئی تو انتہائی عبرتناک موت آئی
حضرت سعید بن جبیر جو کے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن ممبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیے کہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے"
ادھر جب حجاج کو پتہ چلا کہ آپ میرے بارے میں ایسا گمان کرتے ھیں تو آپکو دربار میں بلا لیا اور پوچھا۔
کیا تم نے میرے بارے میں ایسی باتیں بولی ھیں؟؟ تو آپ نے فرمایا ھاں, بالکل تو ایک ظالم شخص ھے۔ یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اور آپ کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔
حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بےوقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔
حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:
اے اللہ میرے چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔
جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔
جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔
حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔
اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے، حجاج بن یوسف نے ہی قران پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بدکاری سے بچتا تھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کا حریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ برائی کیا تھی ؟ "ظلم "
حجاج بہت ظالم تھا، اسنے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا..ایک طرف موسیٰ بن نصیر اور محمد بن قاسم کفار کی گردنیں اڑا رہے تھے اور دوسری طرف وہ خود الله کے بندوں،اولیاں اور علما کے خوں سے ہولی کھیل رہا تھا. حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ،اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں. اس نے جو آخری قتل کیا وہ عظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔
انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا، حجاج جب بھی سوتا، حضرت سعید بن جبیر اس کے خواب میں ا کر اسکا دامن پکڑ کر کہتے کہ اے دشمن خدا تو نے مجھے کیوں قتل کیا، میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟ جواب میں حجاج کہتا کہ مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے۔۔؟
اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی زمہریری کہا جاتا ہے ،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی ،وہ کانپتا تھا ،آگ سے بھری انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا، حکیموں کو دکھانے پر انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان ہے ،ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔
تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گۓ حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔ حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ حجاج، جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور انسے دعا کی درخواست کی۔
وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا …آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔
جب دیکھا کہ بچنے کا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کو بلایا جو بڑی کراہت کے ساتھ حجاج کے پاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاوں تو جنازہ رات کو پڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹا دینا کیوں کہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہی چھوڑیں گے۔ اگلے دن حجاج کا پیٹ پھٹ گیا اور اسکی موت واقع ھوی۔
اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتا ھے لیکن جب ظالم سے حساب لیتا ھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سے کانپتے ھیں، عرش ھل جاتا ھے۔
اللہ ظالموں کے ظلم سے ھم سبکو محفوظ رکھے..!! آمین"
حوالہ جات
البدایہ والنہایہ از امام ابن کثیر
تاریخ طبری از امام طبری
الکامل فی التاریخ از ابن اثیر
حافظ ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، جلد ہفتم،226(

28/04/2026

*فجر کی نماز ۔۔۔ اللہ کی حفاظت*
---ـــ---ـــ---ـــ---ـــ---ـــ---ـــ---ـــ---
۔ *(ایک ایمان افروز واقعہ)*

ایک عجیب واقعہ جو مصر میں پیش آیا۔
آدھی رات کا وقت تھا کہ ایک مصری عیسائی نوجوان کا مسلم نوجوان کے ساتھ کسی بات میں تلخ کلامی کے بعد جھگڑا ہوگیا، کرسچن نوجوان نے اپنے کچھ دوستوں کو جمع کیا تاکہ مسلم نوجوان کو سبق سکھایا جا سکے۔ لیکن اس کے عیسائی دوستوں نے اسے روکا اور کہا کہ یہ مسلم لڑکا شریف ہے۔ یہ معاملہ اتنا بڑا نہیں کہ اس پر بات اتنی بڑھائی جائے۔ لیکن اس کے ایک دوست جو فوجی افسر تھا، نے مشورہ دیا کہ وہ پولیس اسٹیشن جا کر اس مسلم لڑکے کے خلاف رپورٹ درج کرائے اور اس پر یہ (جھوٹا) الزام لگائے کہ اس نے میری بہن کو چھیڑنے کی کوشش کی ہے۔
اس نصرانی نوجوان نے اپنے ایک دوست سے مدد طلب کی تاکہ وہ اس کے ساتھ پولیس اسٹیشن جائے اور مسلم لڑکے کے خلاف رپورٹ درج کرائے۔ اس کے دوست نے ہامی بھرلی۔ لیکن کچھ روز قبل اس نے دیکھا تھا کہ وہ مسلمان لڑکا مسجد سے فجر کی نماز کے بعد باہر نکل رہا تھا اور اسی دوران اس نصرانی نوجوان کو ایک بات یاد آئی، جو اس نے کبھی القرآن ریڈیو پر سنی تھی۔ دراصل یہ ایک حدیث ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "جو شخص صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے وہ اللہ کے ذمے اور حفاظت میں ہوتا ہے۔"
اس نصرانی نوجوان کو یہ حدیث ایسی محسوس ہوئی جیسے وہ ابھی ابھی سنا ہو۔ اگرچہ وہ نصرانی تھا، لیکن اسے احساس ہوا کہ پولیس کارروائی کے باوجود وہ مسلم لڑکا کسی بھی قسم کے نقصان سے بچے گا، کیونکہ وہ فجر کی نماز باجماعت پڑھتا ہے اور یہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دماغ میں گونج رہی تھی۔ اگلے روز شام کے 4 بج رہے تھے، وہ دونوں تھانے جانے کی تیاری کر رہے تھے، لیکن اس نوجوان نے اپنے دوست سے کہا: "اس معاملے کو چھوڑ دے، ایسا لگتا ہے کہ پولیس میں رپورٹ کے باوجود بھی اس لڑکے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔"
لیکن دوسرا ساتھی جس کی لڑائی ہوئی تھی، وہ غصے میں آیا اور کہا کہ نہیں، میں اس کے خلاف رپورٹ درج کرا کر رہوں گا تاکہ اسے سزا دلا سکوں۔" دوست نے کہا: "ٹھیک ہے پھر، آؤ گاڑی میں بیٹھ کر پولیس اسٹیشن چلتے ہیں۔"
یہ دونوں تھانہ جا رہے تھے کہ راستے میں گاڑی کا ایک ٹائر پھٹ گیا، تو انہوں نے اس کو بدل لیا اور اپنا سفر جاری رکھا۔ تھوڑی دیر بعد، دوسرا ٹائر بھی پھٹ گیا!! اس پر اس کے دوست نے پریشانی ہوکر کہا: "تمہیں نہیں کہا تھا کہ لڑکے کو نقصان نہیں پہنچے گا؟ ہمیں واپس جانا چاہئے!"

لیکن اس کے دوست کو پھر غصہ آیا اور کہا: "کچھ بھی ہو، میں رپورٹ درج کراؤں گا اور اسے کسی صورت نہیں چھوڑوں گا۔"
بہرحال وہ دونوں پولیس اسٹیشن پہنچ گئے اور واقعتاً مسلم نوجوان کے خلاف رپورٹ درج کروا دی۔ تھانے سے ان کے ساتھ پولیس کی ایک ٹیم کارروائی کرنے روانہ ہوگئی۔ لیکن جب پولیس علاقے میں پہنچی، تو انہیں پتہ چلا کہ جو گلی انہوں نے ذکر کی تھی، وہ "بولاق الدكرور" کے علاقے میں ہے اور اس کا ایک حصہ ایک تھانے کی حدود میں آتا ہے، جبکہ دوسرے حصے کا تعلق دوسرے تھانے کے۔ مسلم نوجوان کا گھر اس علاقے میں نہیں تھا، جو رپورٹ کرنے والے اسٹیشن سے تعلق رکھتا تھا۔
پولیس نے کہا کہ اب تمہیں دوسرے تھانے جاکر رپورٹ درج کرانی چاہیے۔ درایں اثنا علاقے میں پولیس کی گاڑی دیکھ کر وہاں کچھ مقامی لوگ بھی جمع ہوگئے۔ صورتحال کا پتہ چلا تو دونوں کمیونٹیز کے کچھ سرکردہ لوگوں کو بھی بلایا گیا۔ طرفین میں کچھ گفت و شنید کے بعد معاملے کو رفع دفع کرکے صلح کے بعد حل کرلیا گیا۔ پولیس واپس چلی گئی اور دوسرے تھانے جانے کی نوبت بھی نہیں آئی۔ یوں وہ نمازی نوجوان تھانہ کچہری کے چکر سے بھی بچ گیا۔
لیکن، جو کچھ آپ نے پڑھا، وہ اصل قصہ نہیں ہے۔
اصل داستان اب شروع ہوتی ہے۔ وہ یوں کہ لڑنے والے عیسائی نوجوان کا دوست جو اس کے ساتھ تھانہ گیا تھا، جس نے مسلم نوجوان کو فجر کی نماز سے باہر آتے ہوئے دیکھ کر سوچا تھا کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، اُس کے سامنے حدیثِ رسولؐ کی حقانیت کھل کر واضح ہو چکی تھی۔ اس نے فوراً ہی کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔
اس سابق عیسائی نوجوان کا نام "یقین انور سعید یقین" ہے اور تعلق "بولاق الدكرور" سے۔ جب اس نے اپنا یہ قصہ اہل خانہ کو بتایا تو اس کے والد، بہن، خالہ زاد بھائی اور کئی عزیزوں اور دوستوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔
"اللہ تعالیٰ انہیں اور ہم سب کو مرتے دم تک دینِ حق پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔"
آیئے ہم بھی عہد کرتے ہیں کہ فجر بلکہ ساری نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھنے کی عادت ڈالیں گے۔

27/04/2026

زِنْدَگِی کے کِسِی بھی دَرْد کو رَوْکنے کا واحِد طَرِیقہ یہ ہے کہ یہ حَقِیقَت قَبول کر لی جائے کہ کُچھ بھی تُمھارا نَہیں؛ نَہ کَبھی تھا، نَہ اَب ہے، نَہ کَبھی ہو گا۔
یہ سَب دُنیاوِی وابِستگِیاں ہیں
اَللّٰہ کی عَطا ہیں، اَللّٰہ ہی کی مِلکِیَّت ہیں
اور آخِرکار اُسی کی طَرَف لَوْٹ جانی ہیں۔

19/02/2026

Adres

Gentbrugge
9000

Meldingen

Wees de eerste die het weet en laat ons u een e-mail sturen wanneer Islamic channel nieuws en promoties plaatst. Uw e-mailadres wordt niet voor andere doeleinden gebruikt en u kunt zich op elk gewenst moment afmelden.

Contact De Plaats Van Aanbidding

Stuur een bericht naar Islamic channel:

Delen