راہِ حق Rah e Haq

راہِ حق Rah e Haq Assalam o Alaikum! All about reality. Respect each other, try to understand and bear the truth.

کروڑوں سلام ہے اس ایک ایک قدم پہ جو نجف مولا علیہ السلام سے کربلائے معلٰی جناب حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرف بڑھ رہے...
31/07/2026

کروڑوں سلام ہے اس ایک ایک قدم پہ جو نجف مولا علیہ السلام سے کربلائے معلٰی جناب حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرف بڑھ رہے ہیں ♥️💝💞🥀🍂🥀💞💝♥️
#نجف #کربلاء #کربلامعلی #عشق #مشی #حسینیؑ

30/07/2026

#صحابی کیسے کہتے ہیں؟
#رسول کیسے کہتے ہیں؟
#نبی کیسے کہتے ہیں؟
#پیغمبر کیسے کہتے ہیں؟
سیکھو، سمجھو ۔۔۔۔ سمجھنے کی باتیں ہیں جاہلیت کی نہیں!!!
#شیعہ #سنی #مسلمان #ابوطالب #علی #مولا #محمدﷺ #مولائےکائنات #مشکلکشاء #حیدر #حیدرکرار #محرم #عاشورا #سعودیہ #ایران #ایرانی #اردو #حسن #حسیــــــن #حسینیؑ #زبردست #مشی #کربلامعلی #کربلاء #کربلاوالے #صفر

شاہِ مرداں علیؑ، تیرا ہی سدا راج ہوگاتیری چوکھٹ سے ہی ہر درد کا علاج ہوگامحشر میں علیؑ کے سر پر تاج ہوگامسلمانوں کے جنت ...
30/07/2026

شاہِ مرداں علیؑ، تیرا ہی سدا راج ہوگا
تیری چوکھٹ سے ہی ہر درد کا علاج ہوگا

محشر میں علیؑ کے سر پر تاج ہوگا
مسلمانوں کے جنت پہ ہم کافروں کا راج ہوگا

جس نے دنیا میں نبھائی ہے ولایت کی وفا
حوضِ کوثر پہ اُسی کا بھی سماج ہوگا

جن کو دنیا نے مٹا دینے کی کوشش کی سدا
ذکرِ حیدرؑ سے انہی کا بلند آج ہوگا

روزِ محشر یہی حسرت ہے مرے لب پر فقط
میرے مولاؑ کی نظر ہو تو نجات آج ہوگی

#عشق #حیدر #حیدرمولا #علی مولا #مشکلکشاء #شیعہ #سنی #قلندر #مولائےکائنات #مولا #محمدﷺ #جنان #کربلامعلی #کربلا #میراعشق #لیلی #مجنون

28/07/2026
27/07/2026

مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے پہلا بڑا ظلم،
حضرت ابو طالبؑ اور ابو سفیان
محسنِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ پر کفر، دشمنِ رسول پر اسلام کی مہر!
اس سے بڑا ظلم، اس سے بڑی احسان فراموشی اور اس سے بڑی تاریخی خیانت آخر کیا ہو سکتی ہے کہ حضرت ابوطالب علیہ السلام، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا، اپنا مال، اپنی عزت، اپنا مقام، اپنا خاندان، اپنی اولاد، حتیٰ کہ اپنی جان تک کو خطرے میں ڈال دیا، شعبِ ابی طالب کی تین سالہ بھوک، پیاس اور محصور زندگی برداشت کی، ہر رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی حفاظت کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ دی، اور اسلام کے ابتدائی، نازک ترین دور میں ایک مضبوط ڈھال بن کر کھڑے رہے، انہیں کافر قرار دے دیا جائے؛ جبکہ ابوسفیان، جو برسوں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کا سب سے سرگرم سیاسی اور عسکری دشمن رہا، جس نے اسلام کے چراغ کو بجھانے کے لیے ہر سازش کی، بدر، اُحد، خندق اور دوسرے معرکوں میں کفارِ قریش کی قیادت کی، مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے، اور جس کے گھرانے کی دشمنی یہاں تک پہنچی کہ اس کی زوجہ ہند نے سیدالشہداءِ اُحد حضرت حمزہ علیہ السلام کے جسدِ مبارک کی بے حرمتی کی، اور اُن کا کلیجہ چبا کر قصاوت قلبی کی بدترین مثال دنیا کے سامنے رکھ دی وہی ابوسفیان فتحِ مکہ کے بعد حالات کا رخ بدلتا دیکھ کر اسلام میں داخل ہوا، پھر اسے مسلمان کی سند عطا کر دی گئی اور اس کے اسلام کا دفاع بھی کیا جانے لگا۔ جبکہ وہ مرتے مر گیا گیا مگر پکا منافق رہا۔
آخر یہ کیسا انصاف ہے؟
ایک طرف وہ ہستی ہے جس کی آغوش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے پرورش پائی، جس کے سائے میں نبوت نے اپنے مشکل ترین دن گزارے، جس کی قربانیوں کا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے اعتراف فرمایا؛ اور دوسری طرف وہ شخص ہے جس نے عمر بھر اسلام کے خلاف تلوار اٹھائے رکھی۔ پھر بھی اگر تاریخ کے ترازو میں محسنِ رسول پر کفر کا حکم لگے اور دشمنِ رسول کے لیے احترام کے دلائل تراشے جائیں، تو یہ صرف ایک تاریخی اختلاف نہیں، بلکہ انصاف، دیانت اور حق شناسی کے معیار پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب ہر صاحبِ ضمیر مسلمان کو اپنے دل میں تلاش کرنا چاہیے۔
حضرت ابوطالب علیہ السلام کی پوری زندگی ایثار، قربانی، وفاداری اور نصرتِ رسول کا روشن باب ہے۔ جب مکہ کے سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے خون کے پیاسے تھے، تو ابوطالب علیہ السلام اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آپ کی حفاظت کرتے رہے۔ شعبِ ابی طالب کی سختیاں ہوں، قریش کا سماجی بائیکاٹ ہو، یا قتل کی سازشیں، ہر موقع پر ابوطالب علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے مضبوط ترین محافظ بن کر کھڑے رہے۔ وہ راتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کا بستر بدل دیتے تھے تاکہ اگر قاتل حملہ کریں تو ان کی تلوار پہلے ابوطالب کے بیٹے یا خود ابوطالب تک پہنچے، رسول اللہ تک نہ پہنچے۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ ایمان نہیں، اگر یہ اخلاص نہیں، اگر یہ خدا اور رسول کی رضا کے لیے قربانی نہیں، تو پھر ایمان کی تعریف کیا ہے؟
اس کے برعکس تاریخ ایسے لوگوں سے بھی بھری ہوئی ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کو ہر قدم پر اذیت دی، آپ پر ظلم کیے، آپ کی دعوت کا مذاق اڑایا، آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے، پتھر برسائے، گالیاں دیں اور اسلام کو مٹانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ مگر افسوس کہ بعد کی بعض فکری روایات نے ایسے دشمنانِ رسول کے لیے نرم گوشہ پیدا کر لیا، جبکہ ابوطالب علیہ السلام جیسے عظیم محسن پر کفر کا الزام لگا دیا۔
یہ صرف ایک تاریخی غلطی نہیں، بلکہ احسان فراموشی کی انتہا ہے۔ جو قوم اپنے سب سے بڑے محسن کو پہچاننے سے انکار کر دے، وہ تاریخ کے ساتھ بھی انصاف نہیں کر سکتی اور نہ ہی حقیقت تک پہنچ سکتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے حضرت ابوطالب علیہ السلام کی زندگی میں ان کی بے مثال نصرت، قربانی اور حمایت کا ہمیشہ اعتراف فرمایا۔ مکہ کے مشکل ترین دور میں اگر حضرت ابوطالب علیہ السلام کی پشت پناہی نہ ہوتی تو قریش کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ پر ظلم و ستم کرنا کہیں زیادہ آسان ہو جاتا۔ اسلام کی ابتدائی بقا میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے مال اور حضرت ابوطالب علیہ السلام کی جان نثاری کو بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے۔
جب حضرت ابوطالب علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مورخین نے لکھا ہے کہ آپ نے ان کی وفات پر شدید رنج و الم کا اظہار فرمایا، اور اسی سال حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی رحلت کے بعد اس پورے سال کو “عامُ الحُزن” (غم کا سال) کہا جانے لگا۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج۲؛ ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ج۱؛ طبری، تاریخ الأمم والملوک، ج۲)
حضرت ابوطالب علیہ السلام کی وفات کے بعد قریش کے مظالم میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔ ابن ہشام لکھتے ہیں کہ جب تک حضرت ابوطالب علیہ السلام زندہ رہے، قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے خلاف وہ اقدامات نہ کر سکے جن کی وہ خواہش رکھتے تھے، لیکن ان کی وفات کے بعد دشمنوں نے کھل کر آپ کو اذیتیں پہنچانا شروع کر دیں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کو مکہ چھوڑ کر طائف کا سفر کرنا پڑا۔ (السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام، ج۲)
یہی تاریخی حقیقت اس بات کی گواہ ہے کہ حضرت ابوطالب علیہ السلام صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے چچا نہیں تھے، بلکہ اسلام کے عظیم ترین محافظ، محسن اور پشت پناہ تھے۔ ان کی رحلت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کا بے حد غمگین ہونا اور اس سال کو تاریخ میں عام الحزن کے نام سے یاد کیا جانا، خود حضرت ابوطالب علیہ السلام کے عظیم مقام اور ان کی بے مثال خدمات کی روشن دلیل ہے۔
افسوس کہ بعض لوگوں نے کردار کے بجائے تعصبات کو معیار بنا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قربانی دینے والا مجرم ٹھہرا اور ظلم کرنے والوں کے لیے عذر تلاش کیے گئے۔ یہ انصاف نہیں، بلکہ تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان تعصب سے بالاتر ہو کر تاریخ کو دوبارہ پڑھیں، شخصیات کا فیصلہ افواہوں سے نہیں بلکہ ان کے کردار، قربانی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے ساتھ ان کے عملی تعلق کی بنیاد پر کریں۔ جو شخص پوری زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی نصرت میں گزار دے، اس کے بارے میں زبان کھولنے سے پہلے انصاف، دیانت اور خدا کے حضور جواب دہی کا احساس ضرور ہونا چاہیے۔
حضرت ابوطالب علیہ السلام پر ایمان کا فیصلہ تاریخ کے تعصبات نہیں، بلکہ ان کی بے مثال قربانیاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سے ان کی غیر معمولی وفاداری اور اسلام کے لیے ان کی عملی خدمات کرتی ہیں۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے، اور یہی ایک باضمیر مسلمان کا راستہ۔
✍️ سیدکرامت حسین شعور جعفری

27/07/2026

مسجد میں کتے کو نشانہ بنایا جائے تو حملہ مسجد پر نہیں، کتے پر شمار ہوگا۔ اسلیئے #ایران عرب ممالک میں #امریکن مار رہے ہیں

27/07/2026

اگر #مسجد میں #کتا گھس جائے اور کتے کو مارنے کیلئے مسجد پر حملہ جائے تو حملہ مسجد پہ تصور کیا جائے گا یا کتے پر؟

شہید آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر عرب دنیا کے معروف شیعہ عالم دین اور خطیب تھے، جنہوں نے سعودی عرب میں شیعہ برادری کے مذہ...
24/07/2026

شہید آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر عرب دنیا کے معروف شیعہ عالم دین اور خطیب تھے، جنہوں نے سعودی عرب میں شیعہ برادری کے مذہبی اور شہری حقوق کے لیے آواز بلند کی۔

پیدائش

نام: شیخ نمر بن باقر بن نمر آل نمر

پیدائش: 1959ء

جائے پیدائش: العوامیہ

العوامیہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع ایک شہر ہے، جہاں شیعہ آبادی کی بڑی تعداد رہتی ہے۔

ابتدائی تعلیم

شیخ نمر نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی۔ کم عمری ہی سے دینی علوم کی طرف ان کا رجحان تھا۔

بعد ازاں وہ شیعہ دینی تعلیم کے دو بڑے مراکز میں گئے:

حوزہ علمیہ قم

حوزہ علمیہ دمشق

یہاں انہوں نے فقہ، اصولِ فقہ، تفسیر، حدیث، عقائد اور عربی ادب کی تعلیم حاصل کی۔

اساتذہ

انہوں نے متعدد جید علماء سے استفادہ کیا۔ ان کے نمایاں اساتذہ میں:

آیت اللہ سید محمد تقی مدرسی

آیت اللہ سید صادق شیرازی

کا نام لیا جاتا ہے۔

سعودی عرب واپسی

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ دوبارہ العوامیہ واپس آئے اور:

نمازِ جمعہ پڑھانے لگے،

دینی دروس دینے لگے،

نوجوانوں کی تربیت کی،

اور اپنے خطبات میں مذہبی آزادی، انصاف، کرپشن کے خاتمے اور شہری حقوق پر گفتگو کرتے تھے۔

ان کی شخصیت

شیخ نمر نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ وہ اپنی شجاعانہ تقریروں کی وجہ سے مشہور تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ:

> "لوگوں کو عزت، انصاف اور آزادی کے ساتھ جینے کا حق ملنا چاہیے۔"

ان کے حامیوں کے مطابق وہ پرامن اصلاح کے حامی تھے، جبکہ سعودی حکومت ان کی تقاریر کو اشتعال انگیز سمجھتی تھی۔

گرفتاری

پہلی مرتبہ انہیں 2000 کی دہائی میں مختصر مدت کے لیے گرفتار کیا گیا۔

8 جولائی 2012 کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ اس دوران وہ زخمی بھی ہوئے۔

ان پر حکومت کے خلاف بغاوت اور عوام کو احتجاج پر اکسانے جیسے الزامات لگائے گئے۔

سزا اور شہادت

15 اکتوبر 2014 کو ان کے خلاف سزائے موت سنائی گئی۔

2 جنوری 2016 کو سعودی عرب نے انہیں پھانسی دے دی۔

ان کی شہادت کے بعد ایران، عراق، لبنان، بحرین، پاکستان اور دیگر ممالک میں احتجاج ہوئے، جبکہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر سخت تنقید کی۔

ان کی میراث

آج بھی شیخ نمر کو بہت سے لوگ حق گو، نڈر اور مظلوم عالم دین کے طور پر یاد کرتے ہیں، جبکہ ان کے مخالفین انہیں متنازع سیاسی شخصیت قرار دیتے ہیں۔ ان کی زندگی آج بھی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی بحث میں ایک اہم موضوع ہے۔

Address

Sydney, NSW

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when راہِ حق Rah e Haq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share