عالمی اسلامی تحریک

عالمی اسلامی تحریک اسلامی ممالک کو اسلامی نظام حکومت یا اسلامی سلطنت کے تصور کے تحت متحد متحرک منظم کرنا مقصد ہے

اسلام کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد فرقہ پرستی کے خاتمے کی جدوجہد مسلمانوں کا وقار بحال کرنے کی جدوجہد

یہ آپ کی بیوی ہے۔ ■ یہ کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اس کا ہاتھ تھام کر سڑک پر چلیں۔■ اور یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ...
21/07/2024

یہ آپ کی بیوی ہے۔

■ یہ کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اس کا ہاتھ تھام کر سڑک پر چلیں۔

■ اور یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اپنے "اہل" اور "اہلِ خانہ" کے سامنے اس سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔

■ یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اسے پیار سے پکاریں۔

■ اور یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اس کی غیر موجودگی میں اسے فون کریں اور اس کی خیریت معلوم کریں۔

■ یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اس کا نام لوگوں کے سامنے لیں۔

■ اور یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ گھر کے کاموں میں اس کی مدد کریں۔

■ یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اسے اکیلے گھمانے لے جائیں اور اسے خصوصی محسوس کرائیں۔

■ اور یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اسے کچھ خاص چیزیں خرید کر دیں جو اسے پسند ہوں، تاکہ وہ جان سکے کہ آپ ابھی بھی اس کی پسند کو یاد رکھتے ہیں۔

● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ اس کے ساتھ چلتے ہوئے لوگوں کے سامنے اس طرح برتاؤ کریں کہ آپ "سیّد" بن جائیں اور آپ دونوں کے درمیان کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں۔

● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ غیر محرم عورتوں سے گفتگو تعلق کو گناہ نہ سمجھیں ۔اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ زنا بدکرداری کو اختیار کریں اللّٰہ رسول کے احکامات کو پاؤں کے نیچے روند کر زندگی بسر کریں ۔اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ اپنے اہل خانہ کے سامنے اس کی تعریف نہ کریں اور اسے اجنبی محسوس کرائیں۔

● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ اسے ایسے نام سے پکاریں جو اسے پسند نہ ہو، یا ہمیشہ اسے اس کے بچے کے نام سے پکاریں، یہاں تک کہ وہ اپنا نام بھول جائے، اور اس حدیث کو بھول جائیں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ لوگوں کو ان کے پسندیدہ ناموں سے پکاریں۔

● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ سارا دن کام پر رہیں اور اسے گھر میں تنہا چھوڑ دیں اور اس کی خیریت معلوم نہ کریں۔

● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے یہ کہیں کہ "یہ میری بیوی ہے" یا "یہ فلاں کی ماں ہے" اور اس کا نام لینے سے کترائیں جیسے کہ وہ کوئی عار ہو، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھول جائیں جب وہ سب کے سامنے حضرت عائشہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتے تھے (اگر وہ اپنے بیٹے کے نام سے پکارنے کو پسند کرتی ہے تو پھر آپ صحیح ہیں)۔

● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے ہوں اور وہ آپ کے سامنے کپڑے دھو رہی ہو اور جھاڑو دے رہی ہو اور آپ کو اس کی پرواہ نہ ہو، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھول جائیں جب وہ اپنے اہل خانہ کی مدد کرتے تھے۔

● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ اپنی چھٹی کے دن اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں اور اسے بھول جائیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو خوش رکھنے کے لیے دوڑتے تھے اور ان کے ساتھ کھیلتے تھے۔

● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ اسے ماہانہ خرچے دیں اور اس کے ساتھ بخیلی کریں، اور اسے کبھی کبھار تحفہ دینا بھول جائیں! وہ اپنا گھر چھوڑ کر آئی تھی جہاں وہ شہزادی کی طرح رہ سکتی تھی تاکہ آپ کے گھر میں ملکہ بن سکے، نہ کہ محض ایک مشین جو بچے پیدا کرے اور گھر کا کام کرے! وہ آپ کے پاس آئی ہے تاکہ آپ کی نصف بہتر بن سکے، یعنی وہ آپ کی "روح" ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔" (الروم 21)

اے مردوں کی جماعت، عورتوں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو اور ان کے ساتھ نرمی برتو۔❤

انتخاب

12/07/2024

"طاغوت کیا ہے ؟"طاغوت کا لغوی معنی حد سے تجاوز کرنا ہے شرعی اصطلاح میں طاغوت کی جامع تعریف وہ ہے جو ’’ابن قیم الجوزی رحم...
01/07/2024

"طاغوت کیا ہے ؟"

طاغوت کا لغوی معنی حد سے تجاوز کرنا ہے شرعی اصطلاح میں طاغوت کی جامع تعریف وہ ہے جو ’’ابن قیم الجوزی رحمہ اللہ‘‘ نے اپنی کتاب ’’اعلام الموقعین عن رب العالمین‘‘(۵۰/۱) مطبوعہ دارالجیل میں کی ہے۔کہتے ہیں:

’’طاغوت سے مراد، ہر وہ معبود (جس کی عبادت کی جاتی ہو) متبوع (جس کی اتباع کی جاتی ہو) مطاع (جس کی بات مانی جاتی ہو) جسے بندہ اس کی "اصل" حیثیت سے زیادہ درجہ دے پس ہر قوم کا "طاغوت" وہ ہے کہ جس کی بات کو اللہ اور اس کے رسول کے طریقے کو چھوڑ کر مان لیا جائے ،
یا اللہ کے سوا اس کی عبادت کی جائے،
یا اللہ کی طرف سے عطاء کردہ کسی بصیرت (دلیل، رہنمائی، حکم) کے بغیر ہی اس کی اتباع کی جائے،
یا اس کی بات اسطرح مانی جائے کہ جیسے اللہ کی بات ماننی چاہیے۔
یہ سب دنیا کے طاغوت ہیں۔

لوگوں کے تعلقات و معاملات کے بارے میں غور وفکر کرنے پر آپ جان لیں گے کہ معاشرے میں ذیادہ تر لوگ اللہ کی عبادت سے ہٹ کر طاغوت کی عبادت میں لگ چکے ہیں۔
اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف تحاکم (فیصلے کے لئے جانا) کے بجائے طاغوت کی طرف تحاکم کرتے ہیں۔۔۔۔
اور اللہ کی بات ماننے اور اس کے رسول کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے طاغوت کی بات مانتے اور اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔

اور اس تعریف کے رو سے آج کل کے جمہوری حکمران، عدالتیں، فیصلہ کرنے والے لوگ، جانتے بوجھتے اس طاغوتی نظام پر راضی ہیں اس نظام کے مددگار ہیں اور طاغوت میں شامل ہیں ،

"طاغوت کو جاننے کی اہمیت"

اللہ تعالیٰ نے طاغوت کے ساتھ شامل ہونے سے منع فرمایا ہےاور اس کا کھلا انکار کرنے کا حکم دیا ہے اور اس ایسا کرنے کو ہی ایمان اور توحید کی شرط قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا:

فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْم بِاﷲِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَھَا وَ اﷲُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔

’’پس جو طاغوت کا کھل کر انکار کرے گا اور اللہ پر ایمان لائے گا وہی ہے جس نے ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا جو ٹوٹتا نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘

[سورۃ البقرہ، آیت: ۲۵٦]

نیز فرمایا:

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلٰلاًم بَعِیْدًا۔

’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا زعم (گمان و خوش فہمی ) ہے کہ وہ آپ کی جانب اور آپ سے پہلے نازل کردہ (وحی، دین، قانون) پر ایمان رکھتے ہیں اور فیصلے کے لئے طاغوت کے پاس جانا چاہتے ہیں جبکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اس کا کھل کر انکار کریں اور شیطان انہیں دور کی گمراہی میں لا پھینکنا چاہتا ہے۔‘‘

[سورۃ النساء، آیت:٦۰]

نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے بندوں کو طاغوت سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے، فرمایا:

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اﷲَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ۔

’’اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘

[سورۃ النحل، آیت:۳٦]

نیز فرمایا:

وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا وَ اَنَابُوْآ اِلَی اﷲِ لَھُمُ الْبُشْرٰی فَبَشِّرْ عِبَادِ،الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدٰ ھُمُ اﷲُ وَاُولٰٓئِکَ ھُمْ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ۔

’’اور جو لوگ طاغوت کی عبادت سے بچتے ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ان کے لئے خوشخبری ہے تو آپ میرے بندوں کو خوشخبری دے دیجئے وہ بندے جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے اچھے پہلو پر چلتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی لوگ عقل والے ہیں۔‘‘

[سورۃ الزمر، آیت: ۱۷-۱۸]

لہذا سوچنے کا مقام ہے جنہیں طاغوت کا پتہ تک نا ہو وہ اس سے اجتناب کیسے کریں گے ؟

اور معلوم ہوا کہ اکثریت میں عوام کو اور بعض علماء طلباء اور علم سے نسبت کرنے والوں کو طاغوت کے نہ جاننے کے بسبب جاہل قرار دیا جاسکتا ہے !

#طاغوت
#طاغوتی
#طاغوت

01/07/2024
30/06/2024









30/06/2024






قرآن کریم کا تین سو سالہ پرانا ترجمہ اجکے دور کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے ؟ تین سو سالہ پرانے الفاظ اجکی نسلوں کی زہن س...
25/03/2024

قرآن کریم کا تین سو سالہ پرانا ترجمہ اجکے دور کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے ؟ تین سو سالہ پرانے الفاظ اجکی نسلوں کی زہن سازی کردار سازی کے تقاضے پورے کر سکتے ہیں ؟؟؟؟ سیکولرزم لبرلزم کمیونزم کے نظریات کی نشاندہی کر سکتے ہیں ؟؟؟ تین سو سالہ پرانا انداز الفاظ اجکے دور کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں ؟
اپنے اپنے فرقوں گروہوں مسلکوں کے ترجمے کے انبار لگانے لکھنے کے بجائے صرف ایک ترجمہ وہ بھی درست الفاظ کے انتخاب کے ساتھ مرتب کرنا وقت کے تقاضوں کی رہنمائی پر مشتمل کوشش کے ساتھ پوری امت مسلمہ کیلئے نافذ کرنا اتحاد امت مسلمہ کی پہلی ضرورت ہے
قانتہ تحریم

14/03/2024

*الجزیرہ ٹی وی کے مطابق غزہ میں سب سے بڑا امدادی کیمپ الخدمت فاؤنڈیشن کا ھے ۔*
*الحمد اللّه*
*شکریہ جماعت اسلامی*

08/03/2024

خواتین کو کچن سے بدظن کرو، گھر چلانے اور بچے پالنے کو ایک دقیانوسی اور گھٹیا کام بتاؤ، جاب کو گلیمرائز کرو۔ "میری اپنی بھی لائف ہے اور اپنا بھی کیرئیر ہے، پرسنل گروتھ بھی کوئی چیز ہے" ، یہ سب کہہ کے گھر کو ہوٹل میں تبدیل کر دو جہاں لوگ صرف رات گزارنے آئیں۔ اور معاشرتی میل جول ختم ہو جائے، صرف یہی نہیں اصل پارٹی تو اگلی ہے کہ ہوٹلنگ کو عام کرو، اتنا عام کرو کے سب کھانا باہر سے آئے گا، یقین نہیں آتا تو یورپ میں اور مغربی ممالک میں ہر دوسرے نُکڑ پہ بنے ٹیک آویز اس بات کی نشانی ہے کہ اب کھانا باہر سے آئے گا پھر رفتہ رفتہ یہ بھی بزنس بنے گا کہ گلی محلے میں بھی کارپوریٹ ورلڈ کے آؤٹ لیٹس کھلیں گے اور پھر یہ چیزیں کیپٹلزم کے سرخیل مہنگی کرتے چلے جائیں گے ۔ گھر کا ادارہ تو پہلے ڈوب گیا۔ جاب سیکیور نہیں ہے تو بن گئے کارپوریٹ ورلڈ کے غلام ۔۔۔۔ سرمایہ دارانہ نظام کے سینے میں دل نہیں ہے۔۔۔۔ اسی لیے محبت جو مامتا کی صورت میں ہے ، رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور ایک دوسرے سے بے لوث تعلق کی ڈوریاں ہیں، انھیں کاٹ ڈالنا چاہتا ہے ۔ ہر چینل پہ چلتے ڈرامے، نیوز کی اینگلنگ ، تعلیم نظام کے ذریعے اور این جی او مافیہ کے ذریعے ذہن سازی انھی اقدار کو ختم کرنے کا ایجنڈا ہے ۔

تحریر : حمزہ صدیق بٹ

Address

Kabul

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عالمی اسلامی تحریک posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to عالمی اسلامی تحریک:

Share