اولیاء اللہ کے واقعات

اولیاء اللہ کے واقعات لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا،وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی،...
09/02/2026

ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا،
وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی، وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے، مسافر سمجھ کر خدمت کی، بادشاہ بہت خوش ہوا، جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور کہا:تم مجھے نہیں جانتے ہو کہ میں بادشاہ ہوں۔یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو، جب کبھی کوئی ضروت ہوگی ہمارے محل میں آجانا، دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا، ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرادے گا۔بادشاہ چلا گیا،
کچھ دن کے بعد اس کو کوئی ضرورت پیش آئی ، تو وہ دیہاتی بڑے میاں محل کے دروازے پر پہنچے، کہا بادشاہ سے ملنا ہے، دربان نے اوپر سے نیچے تک دیکھا کہ اس کی کیا اوقات ہے بادشاہ سے ملنے کی، کہنے لگا نہیں مل سکتے، مفلس وقلاش آدمی ہے۔ اس دیہاتی شخص نے پھر وہ انگوٹھی دکھائی، اب جو دربان نے دیکھا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، یہ بادشاہ کی مہر لگانے والی انگوٹھی آپ کے پاس ؟بادشاہ کا حکم تھا کہ یہ انگوٹھی جولے کر آئے گا ہم جس حالت میں ہو اُسے ہمارے پاس پہنچادیا جائے، چنانچہ دربان اسےساتھ لے کر بادشاہ کے خاص کمرے تک گیا، دروازہ کھلا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے، اب یہ جو شخص وہاں چل کر آیا تھا، اس کی نظر پڑی کہ بادشاہ نماز میں مشغول ہے، پھر اس نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے،اس کی نظر پڑی تو وہ وہیں سے واپس ہوگیا اور محل کے باہر جانے لگا، دربان نےکہا مل تو لو کہا اب نہیں ملنا ہے، کام ہوگیا ۔ اب واپس جاناہے تھوڑی دورچلاگیا،
جب بادشاہ فارغ ہوگیا دربان نے کہاایسا ایسا آدمی آیا تھا یہاں تک آیا پھر واپس جانے لگا بادشاہ نے کہا فوراً لے کر آو وہ ہمارا محسن ہے، واپس لایا گیا بادشاہ نے کہا آئے ہو تو ملے ہوتے ایسے کیسے چلے گئے؟ اس نےکہا کہ بادشاہ سلامت !اصل بات یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ کوئی ضرورت پیش آئے تو آجانا ہم ضرورت پوری کردیں گے۔مجھے ضرورت پیش آئی تھی میں آیا اور آکر دیکھا کہ آپ بھی کسی سے مانگ رہے ہیں ، تو میرے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ جس سے مانگ رہا ہے کیوں نہ میں بھی اسی سے مانگ لوں۔*
*یہ ہے وہ چیزکہ ہمیں جب کبھی کوئی ضرورت ہو بڑی ہو یا چھوٹی ٬اس کا سوال صرف اللہ پاک سےکیاجائےکہ وہی ایک در ہےجہاں مانگی ہوئی مرادملتی ہے..

20/01/2026

زبردستی کا ولی 😂
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔
ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔
بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔
سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔
وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے
انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟
جواب ندارد ۔
انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔
دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔
سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے دائیں جانب سلام پھیرا ۔
سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔
وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔
سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی پہنچا ہوا بزرگ ہے جس نے بغیر دیکھے مراقبہ کرکے ہمیں بتایا کہ گھوڑا جنگل میں دائیں جانب گیا ہے 🤔 ۔
کچھ عرصہ مزید گزرا بادشاہ کے سونے کے برتن محل سے چوری ہونا شروع ہوگئے ۔
بادشاہ نے پھر سپاہیوں کی دوڑ لگوائی کہ برتن تلاش کرکے لائیں ۔ اگر ناکامی ہوئی تو سخت سزا ملے گی ۔
سپاہی پریشان ۔
اچانک ایک سپاہی کو جنگل والا آدمی یاد آگیا جس نے گھڑا ڈھونڈنے میں مدد کی تھی ۔
اس نے بادشاہ کو اس شخص سے متعلق بتایا کہ وہ کوئی بہت بڑا ولی ہے اس نے گھوڑے سے متعلق بھی ہماری راہ نمائی کی تھی ۔ اگر وہ چاہے تو آپ کے برتن بھی ڈھونڈ کر دے سکتا ہے ۔
بادشاہ نے اسے پیش کرنے کا حکم دیا
سپاہی اسے دربار میں لے آئے ۔
بادشاہ نے برتنوں کی چوری سے متعلق بتایا اور اسے حکم دیا کہ وہ برتنوں سے متعلق بھی بتائے کہ برتن کون چوری کررہا ہے ؟
اس نے بڑا کہا بادشاہ سے کہ حضور آپکے سپاہیوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں کوئی ولی نہیں ہوں ایک عام سا آدمی ہوں ۔
سپاہیوں نے اصرار کیا کہ نہیں جناب یہ اپنی ولایت چھپا رہا ہے ۔ اس نے جنگل میں ہماری مدد کی تھی ۔
بادشاہ تو پھر بادشاہ ہوتا ہے اسنے اسے وارننگ دے دی کہ اگر کل صبح تک تم نے برتنوں کی چوری سے متعلق نہ بتایا تو تمہارا سر قلم 😅
وہ شخص بڑا پریشان ہوا
موت کے خوف سے رات کے وقت اسنے اللہ تعالیٰ سے مناجات شروع کردیں کہ یا اللہ مجھ پر رحم فرما اور چور کو سامنے لے آ ۔
چور اصل میں محل کا ایک ملازم تھا ۔ اسنے سوچا کہ دیکھوں تو سہی کہ جس ولی کے ذمے بادشاہ نے چور کو پکڑنے کا کام لگایا وہ کیا کررہا ہے ۔
اسنے دیکھا کہ ولی صاحب اللہ تعالیٰ سے مناجات کررہے ہیں ۔ اسکے دل میں ڈر پیدا ہوگیا کہ یہ شخص مناجات کے ذریعے چور کا پتہ نہ لگالے ۔
وہ فوراً جاکر مناجات کرتے شخص کے پاؤں میں گر گیا کہ محترم آپ اللہ کے ولی ہیں ولیوں کے دل نرم ہوتے ہیں آپ میرے متعلق بادشاہ کو کچھ مت بتائیے گا ۔ برتن میں نے ہی چوری کیے ہیں ۔
اس غیبی مدد کے ملتے ہی ولی صاحب شیر ہوگئے اور چور کا کان پکڑ کر پوچھا کہ بتاؤ کہاں چھپائے ہیں برتن ؟
چور نے بتایا کہ قبرستان میں بوڑھے درخت کے نیچے دفن کیے ہوئے ہیں ۔
صبح ہوتے ہی بادشاہ نے ولی کو دربار میں طلب کیا اور برتنوں سے متعلق پوچھا ۔
ولی صاحب نے بادشاہ کو بتادیا کہ جناب آپکے برتن فلاں جگہ پر دفن ہیں ۔
بادشاہ نے سپاہی بھیجے اور واقعی کچھ دیر کے بعد سپاہی برتن تلاش کرکے لے آئے ۔
بادشاہ نے خوش ہوکر اس شخص کو شاہی ولی کا خطاب دے دیا اور اسے کہا کہ آج سے تم یہیں محل میں رہو گے ۔
شاہی ولی بڑا پریشان ہوا کہ ابھی تو اتفاقاً یہ معاملہ حل ہوگیا ہے آگے جاکر لازمی بادشاہ کو معلوم ہو جائے گا کہ میرے پلے کچھ نہیں ہے ۔
اسی پریشانی میں دن گزرتے رہے ۔
پھر ایک دن بادشاہ کے ہاں پڑوسی ملک کا بادشاہ مہمان ہوا اور بادشاہ نے اسکے سامنے اپنے شاہی ولی کا ذکر کیا اور اسکی بڑی تعریفیں کیں ۔
پڑوسی ملک کا بادشاہ بڑا متاثر ہوا اور اس سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ۔
بادشاہ نے شاہی ولی کو طلب کرلیا ۔
پڑوسی ملک کے بادشاہ نے ٹہلتے ہوئے شاہی ولی سے بطور امتحان پوچھا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہم نے کیا چیز پی ہے؟
شاہی ولی صاحب بڑے پریشان ہوئے کہ آج تو کام سے گئے ۔
ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے اور دل ہی دل میں خدا کو یاد کرنا شروع کردیا ۔
پڑوسی ملک کے بادشاہ صاحب ٹہل رہے ہیں اور جواب کا انتظار کر رہے ہیں ۔
اچانک شاہی ولی صاحب نے دیکھا کہ ٹہلتے ٹہلتے پڑوسی ملک کے بادشاہ کا پاؤں سُلگتے ہوئے سگار پر پڑنے لگا ہے ۔
شاہی ولی نے زور زور سے آواز لگائی
حضور سگار ۔ حضور سگار ۔
ولی صاحب نے تو سگار کی آواز اس لیے لگائی کہ بادشاہ کا پاؤں سُلگتے ہوئے سگار پر آکر جل نہ جائے ۔
اور بادشاہ یہ سمجھا کہ اسنے میرے سوال کا جواب دیا ہے ۔ کیونکہ کچھ دیر پہلے دونوں بادشاہ باتیں کرتے ہوئے سگار سے شغل کررہے تھے ۔
بادشاہ نے خوش ہوکر ولی صاحب کو گلے لگایا اور داد دی ۔
پڑوسی ملک کے بادشاہ نے بھی خوش ہوکر اپنے گلے کا ہار تحفے کے طور پر شاہی ولی صاحب کو عنایت کردیا ۔
ولی صاحب اس زبردست اتفاق پر خوش بھی اور پریشان بھی ۔
پریشانی اس بات کی کہ آج تو بچ گئے آئندہ پتہ نہیں کس طرح کے امتحان کا سامنا کرنا پڑے ۔
شاہی ولی صاحب کا ایک ایک دن بڑی پریشانی اور ڈپریشن میں گزرنے لگا کہ کسی بھی وقت بادشاہ کی طرف سے نئی فرمائش نہ آجائے ۔
اسی ڈپریشن میں ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ میں بادشاہ کو بھرے دربار میں تھپڑ مارتا ہوں ۔
یا تو بادشاہ اس بد تمیزی پر مجھے فورا قتل کرنے کا حکم دے دے گا اور یہ روز روز مرنے سے بہتر ہے ۔
یا مجھے اپنے دربار سے نکال دے گا ۔
ولی صاحب گئے اور جاکر بادشاہ کو بھرے دربار میں تھپڑ رسید کردیا ۔
بادشاہ کا تاج 👑 سر سے اتر کر دور جا پڑا ۔
بادشاہ اور درباری حیران کہ یہ کیا ہوا ۔
حیرانی کے لمحات گزرے تو بادشاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس گستاخ کو پکڑو اور سر قلم کردیا ۔
اتنے میں وزیر جو بادشاہ کا تاج اٹھانے کے لیے جھکا ہوا تھا کی چیختی ہوئی آواز آئی
بادشاہ سلامت ! 🐍 سانپ
بادشاہ وزیر کی طرف متوجہ ہوا تو دیکھا کہ تاج میں سانپ لپٹا ہوا ہے ۔
غصے کی جگہ خوشی نے لے لی ۔
بادشاہ سمجھا کہ ولی نے اصل میں مجھے تھپڑ نہیں مارا بلکہ تاج گرانے کے لیے ہاتھ چلایا تھا تاکہ تاج میں بیٹھا ہوا سانپ مجھے نقصان نہ پہنچائے ۔
بادشاہ نے خوش ہوکر ولی صاحب کو انعام و اکرام سے نوازا اور ولی صاحب اس اتفاق پر مزید پریشان کہ یہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے
مزید کچھ عرصہ گزرا عید قریب آگئی بادشاہ نے سلطنت میں منادی کروادی کہ عید کی نماز شاہی ولی صاحب پڑھائیں گے ۔
ایک بڑے میدان میں انتظامات شروع ہوگئے ۔
شرکاء کو گرمی سے بچانے کے لیے ایک عارضی چھت میدان پر دے دی گئی ۔
عید کا دن آپہنچا ۔
ولی صاحب نے منصوبہ بنایا کہ نماز کے دوران جب تمام لوگ سجدے میں ہوں گے تو میں بھاگ جاؤں گا ۔
نماز شروع ہوگئی
ولی صاحب سجدے میں گئے
پیچھے تمام لوگ بھی سجدے میں چلے گئے
ولی صاحب نے نماز چھوڑی اور بھاگ کھڑے ہوئے
لوگوں کو سجدے میں کافی دیر گزر گئی پریشانی لاحق ہوگئی کہ کہیں حضرت ولی صاحب انتقال تو نہیں کرگئے ۔
پہلی صف میں سے کچھ لوگوں نے سر اٹھا کر دیکھا تو مصلی امامت خالی تھا اور ولی صاحب دور ننگے پاؤں بھاگتے ہوئے دکھائی دیے ۔
لوگوں نے سوچا کہ لازمی اس میں کوئی حکمت ہے انہوں نے بھی ننگے پاؤں ولی صاحب کے پیچھے دوڑ لگادی ۔
ولی صاحب نے دیکھا کہ لوگ پیچھے بھاگے آرہے ہیں
ولی صاحب نے بھی رفتار بڑھا دی ۔
جیسے ہی لوگ عید گاہ سے باہر نکلے تو عید گاہ پر عارضی چھت جو ڈالی گئی تھی وہ دھڑام کی آواز کے ساتھ زمین پر آگری ۔
لوگوں نے سوچا کہ حضرت صاحب کو پہلے سے چھت گرنے کا علم ہوگیا تھا اسی لیے وہ نماز توڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور انکے پیچھے بھاگنے سے ہماری بھی جان بچ گئی ۔
کچھ ہی دیر میں لوگ ولی صاحب تک پہنچ گئے اور انکو کندھوں پر اٹھالیا ۔
شاہی ولی صاحب نے سوچا کہ شاید میری قسمت میں شاہی ولی بن کر رہنا لکھا ہوا ہے تو اسی لیے انہوں نے قسمت کا لکھا سمجھ کر اسے قبول کرلیا اور دوبارہ اس عہدے سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی

25/11/2025

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور ( اپنے صاحبزادے ) علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو ۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے ( رضاعی ) بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو ( ہمارے پاس ) تشریف لائے اور ( چادر اوڑھ کر ) گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے ) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم ﷺ ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس ! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی ( اطاعت کی ) طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے ۔

Bukhari 2812

18/10/2025

ٹیکساس کی ایک جیل میں 37 سالہ کارلا فے ٹکر کو موت کا انجکشن لگایا گیا ،
ڈیتھ بیڈ پر لیٹے اس نے ھنس کے آنکھیں بند کر لیں ،
ڈاکٹر نے نبض دیکھی اور موت کا اعلان کر دیا اور کہا " ایسی
پرسکون موت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی"

کارلا دھندہ کرنے والی عورت تھی ،
بچپن ھی سے وہ اپنی ماں کے ساتھ آتی جاتی اور نشے پر لگ گئی
پھر آھستہ آھستہ ماں کے نقش قدم پر چلنے لگ پڑی ،
10 سال بعد اُسے خیال آیا کہ اُسے اس دھندے کو چھوڑ کے کچھ اور کرنا چاھیئے ،
سو اس نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گاڑی چھیننے کی سکیم بنائی ، موقعہ واردات پر مزاحمت ھوئی
اور کارلا اور اس کے بوائے فرینڈ نے امریکی جوڑے کو گھبرا کے قتل کر دیا ،
کچھ دنوں بعد دونوں پکڑے گئے اور عدالت نے سزائے موت سنا دی ، پھیر اپیلوں کے چکروں میں کافی عرصہ گزرتا گیا ،
اس دوران جیل کے عملے نے دیکھا کہ کارلا جو کہ شرابی اور بد زبان عورت تھی
اس نے اچانک سب کچھ چھوڑ کر بائبل کی سٹڈی شروع کر دی ، اس کی زبان صاف ھو گئی اور اخلاق بہت اچھا ھو گیا ،
وہ اکثر اپنے سیل میں بائبل پڑھتی رھتی ، ملنا جلنا اور بات چیت ختم کر دی۔

ایک سال بعد وہ مبلغہ بن گئی اور ایسی مبلغہ جس کے الفاظ میں تاثیر تھی ،
اس نے جیل میں ھی تبلیغ شروع کر دی ۔ عبادت و ریاضت کو اپنا معمول قرار دے دیا
اور جیل میں کئی لوگوں کی زندگیاں ھی بدل دیں۔ وہ لوگ جو اسے قاتلہ اور سنگ دل کہتے تھے وہ اس کے پیچھے چلنے لگے اور جیل میں ایک روحانی انقلاب آ گیا ۔
اس بات کی خبر جب میڈیا کو پہنچی تو وہ جیل پر ٹوٹ پڑے ، پھر ھر اخبار میں کارلا کی ھیڈ لائن لگی ۔ ھر شخص نے اس کے فوٹو اُٹھائی اور اسے معاف کرنے کے لیئے مظاھرے ھونے لگے ، حقوق انسانی کی تنظیموں نے امریکہ میں " کارلا بچاؤ" تحریک شروع کر دی اور احتجاج یہاں تک بڑھا کہ زندگی میں پہلی بار پوپ جان پال نے عدالت کو سزا معافی کی باقاعدہ درخواست دے دی لیکن عدالت نے ٹھکرا دی
سزائے موت سے پندرہ دن قبل کنگ لیری نے CNN کے لئیے اس کا انٹرویو جیل میں کیا اس انٹرویو کے بعد پورے امریکہ نے کہا کہ نہیں یہ وہ قاتلہ نہیں یہ معصوم ھے۔ لیری نے پوچھا " تمھیں موت کا خوف محسوس نہیں ھوتا" ، کارلا نے پر سکون انداز میں جواب دیا " نہیں بلکے میں اس رب کو ملنا چاھتی ھوں جس نے میری پوری زندگی ھی بدل دی"
امریکی شہریوں نے متفرقہ رحم کی اپیل "ٹیکساس بورڈ آف پارڈن اینڈ پیرول" کے سامنے پیش کی ۔ بورڈ نے سزا معافی سے انکار کر دیا ، فیصلہ سن کر عوام ٹیکساس کے گورنر جارج بُش کے گھر کے سامنے آ گئے اور احتجاج کرنے لگے ۔ امریکہ کے سب سے بڑے پادری جیکی جیکسن نے بھی کارلا کی حمایت کر دی ، بُش نے درخواست سنی اور فیصلہ کیا کہ مجھے کارلا اور جیکی جیکسن سے ھمدردی ھے لیکن مجھے گورنر قانون پر عمل داری کے لئیے بنایا گیا ھے سزا معاف کرنے کے لئیے نہیں ، وہ اگر فرشتہ بھی ھوتی تو قتل کی سزا معاف نہ ھو سکتی"
موت سے دو روز قبل کارلا کی رحم کی اپیل سپریم کورٹ پہنچی تو جج نے یہ کہہ کر درخواست واپس کر دی " اگر آج پوری دنیا بھی کہے کہ یہ عورت کارلا نہیں کوئی مقدس ھستی ھے تو بھی امریکن قانون میں اس کے لئیے ریلیف نہیں جس عورت نے قتل کرتے ھوئے دو انسانوں کو رعایت نہیں دی اسے دنیا کا کوئی قانون رعایت نہیں دے سکتا ھم خدا کے سامنے اُن دو لاشوں کے جوابدہ ھیں جنہیں کارلا نے مار ڈالا"
جب میں یہ سوچتا ھوں کہ وہ کیا معجزہ ھے جو امریکہ جیسے بیمار اور سڑے ھوئی معاشرے کو زندہ رکھے ھوئے ھے
تو مجھے مولائے کائنات مولا علی علیہ السّلام کا وہ قول یاد آ جاتا ھے

" معاشرہ کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے
لیکن نا انصافی کے ساتھ نہیں.۔

اگر ہمارے پیارے پاکستان کی تباہی و بربادی کو دیکھا جائے
تو صرف اور صرف یہی ایک ہی وجہ سامنے آتی ہے
وہ ہے " نا انصافی"

ایک سلطان نے سنا کہ بازار میں ایک لونڈی ہے جس کی قیمت سو دیگر لونڈیوں سے زیادہ ہے۔اس نے اس لونڈی کو دیکھنے کے لیے بلایا ...
19/09/2025

ایک سلطان نے سنا کہ بازار میں ایک لونڈی ہے جس کی قیمت سو دیگر لونڈیوں سے زیادہ ہے۔

اس نے اس لونڈی کو دیکھنے کے لیے بلایا تاکہ جان سکے کہ وہ اتنی خاص کیوں ہے۔

وہ اس کے سامنے اس وقار کے ساتھ کھڑی ہوئی جو اس نے کبھی کسی اور لونڈی میں نہیں دیکھا تھا۔

اس نے اس سے پوچھا: "تمہاری قیمت اتنی زیادہ کیوں ہے، نوجوان لڑکی؟"

اس نے جواب دیا: "کیونکہ میں اپنی عقل سے ممتاز ہوں۔"

سلطان کو حیرانی ہوئی، اس نے کہا: "میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا۔ اگر تم نے صحیح جواب دیا تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا، ورنہ تمہیں قتل کر دوں گا۔"

"سب سے خوبصورت لباس کون سا ہے، سب سے خوشبو دار خوشبو کون سی ہے، سب سے لذیذ کھانا کیا ہے، سب سے نرم بستر کون سا ہے اور سب سے خوبصورت ملک کون سا ہے؟"

لونڈی نے مجمع کی طرف دیکھا اور کہا: "میرا سامان اور گھوڑا تیار کرو، کیونکہ میں اس محل سے ایک آزاد عورت کے طور پر جا رہی ہوں۔"

"سب سے خوبصورت لباس وہ قمیص ہے جو غریب کے پاس ہو، کیونکہ وہ اسے گرمی اور سردی دونوں میں موزوں پاتا ہے۔"

"سب سے خوشبو دار خوشبو ماں کی ہوتی ہے، چاہے وہ ایک عوامی حمام میں آگ جلانے والی ہی کیوں نہ ہو۔"

"سب سے لذیذ کھانا وہ ہوتا ہے جو بھوک کے وقت کھایا جائے، کیونکہ بھوکا آدمی سوکھے ہوئے روٹی کو بھی لذیذ سمجھتا ہے۔"

"سب سے نرم بستر وہ ہے جس پر تم سکون سے سوتے ہو۔ اگر تم ظالم ہو تو سونے کا بستر بھی تمہیں کانٹوں سے بھرا لگے گا۔"

وہ دروازے کی طرف بڑھی تو سلطان نے اسے آواز دی: "تم نے میرے آخری سوال کا جواب نہیں دیا..."

اس نے مڑ کر کہا: "سب سے خوبصورت ملک وہ ہے جو آزاد ہو اور جاہلوں کے زیرِ حکومت نہ ہو۔"

اس نے صحیح جواب دیا تھا اور اس طرح اپنی آزادی حاصل کر لی۔

ہاں، وہ بالکل درست تھی: سب سے خوبصورت ملک وہی ہوتا ہے جس پر جاہل حکمران نہ ہوں...

منقول

‎دبئی سے آئی ہوئی خاتون ڈاکٹر کے شہر میں بڑے چرچے تھے.‎اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ بغیر دوائی، بغیر ٹیکے اور بغیر آپریشن ک...
27/07/2025

‎دبئی سے آئی ہوئی خاتون ڈاکٹر کے شہر میں بڑے چرچے تھے.
‎اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ بغیر دوائی، بغیر ٹیکے اور بغیر آپریشن کے علاج کرتی ہے.
‎اس کے کلینک پر ہر وقت خواتین کا رش لگا رہتا تھا...
‎شہر بھر میں دھوم مچی ہوئی تھی.
‎خواتین دور دور سے علاج کی غرض سے آتیں اور ڈاکٹر صاحبہ کو دعائیں دیتی ہوئی جاتیں.
‎ڈاکٹر صاحبہ کی شہرت کا سن کر دوسرے شہر کی ایک خاتون جس کا نام *سندری بی بی* تھا، علاج کی غرض سے ڈاکٹر صاحبہ کے کلینک آئی...
‎وہاں کافی ساری خواتین پہلے سے انتظار کر رہی تھیں...
‎ان خواتین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحبہ کے ہاتھ میں شفا ہے اور ان کا طریقہ علاج بالکل مختلف بھی ہے اور منفرد بھی...
‎سندری نے فیس کے ایک ہزار روپے دے کر اپنی باری کا ٹوکن لے لیا اور انتظار میں بیٹھ گئی..
‎جب اس کی باری آئی تو وہ جھجھکتے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ کے کمرے میں داخل ہوئی..
‎سامنے کرسی پر ایک پکی عمر کی عورت براجمان تھی....
‎سندری نے اس سے پوچھا،
‎*باجی، ڈاکٹر صاحبہ کدھر گئی ہیں*...
‎اس عورت نے مسکراتے ہوئے جواب دیا...
‎*آئیں آئیں، ادھر بیٹھیں... میں ہی ڈاکٹر ہوں*...
‎سندری نے ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے امراض کی تفصیل بتانی شروع کر دی..
‎ڈاکٹر صاحبہ پوری توجہ سے سنتی رہیں..
‎جب سندری خاموش ہوئی تو ڈاکٹر صاحبہ نے پوچھا..
‎*اچھا یہ بتائیں، آپ مہینے میں کتنے سوٹ بنوا لیتی ہیں، آپ کا کپڑوں کا ذوق تو بہت عمدہ لگ رہا ہے
‎خاتون نے خوش ہوتے ہوئے بتایا
‎ڈاکٹر صاحبہ، دل تو بہت کرتا ہے کہ ہر مہینے 5 چھ سوٹ سلوا لیا کروں، لیکن علاج پر ہی اچھا خاصہ خرچہ ہو جاتا ہے، لہٰذا کپڑوں کا شوق رہ جاتا ہے
‎ڈاکٹر صاحبہ نے سندری کو تسلی دی..
‎اور اسے اپنے ساتھ پچھلے کمرے میں لے گئیں..
‎سندری کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں..
‎اتنے سارے شاندار سلے ہوئے سوٹ ٹنگے ہوئے تھے...
‎وہ خوشی کے مارے ایک ایک سوٹ دیکھنے لگی...
‎ہر سوٹ پر پرائس ٹیگ بھی لگا ہوا تھا...
‎قیمت انتہائی مناسب تھی...
‎سندری نے چار سوٹ پسند کئے اور
‎ڈاکٹر صاحبہ کو ادائیگی کر دی..
‎سندری کسی طرح بھی مریضہ نہیں لگ رہی تھی...
‎اس کے چہرے پر خوشی اور تمکنت ٹھاٹھیں مار رہے تھے...
‎ڈاکٹر صاحبہ نے کہا :
‎آپ نے جب بھی شاپنگ کرنی ہو، میرے پاس آ جایا کریں.. بس یوں سمجھیں کہ آپ کا علاج پورا ایک سال چلے گا، آپ ہر مہینے اپنی دوائیوں کے پیسوں سے سوٹ خرید

14/06/2025

دو عورتیں قاضی ابن ابی لیلی کی عدالت میں پہنچ گئیں،یہ اپنے زمانے کے مشہور و معروف قاضی تھے.

قاضی نے پوچھا
تم دونوں میں سے کس نے بات پہلے کرنی ہے؟

ان میں سے بڑھی عمر والی خاتون نے دوسری سے کہا تم اپنی بات قاضی صاحب کے آگے رکھو.

وہ کہنے لگی قاضی صاحب یہ میری پھوپھی ہے میں اسے امی کہتی ہوں چونکہ میرے والد کے انتقال کے بعد اسی نے میری پرورش کی ہے یہاں تک کہ میں جوان ہوگئی.

قاضی نے پوچھا اس کے بعد ؟

وہ کہنے لگی پھر میرے چچا کے بیٹے نے منگنی کا پیغام بھیجا انہوں نے ان سے میری شادی کر دی،میری شادی کو کئی سال گزر گئے ازدواجی زندگی خوب گزر رہی تھی ایک دن میری یہ پھوپھی میرے گھر آئی اور میرے شوہر کو اپنی بیٹی سے دوسری شادی کی آفر کرلی ساتھ یہ شرط رکھ لی کہ پہلی بیوی(یعنی میں) کا معاملہ پھوپھی کے ہاتھ میں سونپ دے،میرے شوہر نے کنواری دوشیزہ سے شادی کے چکر میں شرط مان لی میرے شوہر کی دوسری شادی ہوئی سہاگ رات کو میری پھوپھی میرے پاس آئی اور مجھ سے کہا تمہارے شوہر کے ساتھ میں نے اپنی بیٹی بیاہ دی ہے تمہارا شوہر نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیا ہے میں تجھے تیرے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دیتی ہوں.

جج صاحب میری طلاق ہوگئی.

کچھ عرصے بعد میری پھوپھی کا شوہر سفر سے تھکے ہارے پہنچ گیا وہ ایک شاعر اور حسن پرست انسان تھے میں بن سنور کر اس کے آگے بیٹھ گئی اور ان سے کہا کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟ اسکی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا اس نے فوری ہاں کرلی،میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ آپ کی پہلی بیوی(یعنی میری پھوپھی) کا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیں اس نے ایسا ہی کیا میں نے پھوپھی کے شوہر سے شادی کرلی اور اس کے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے اسے طلاق دے ڈالی.

قاضی حیرت سے پھر ؟

وہ کہنے لگی قاضی صاحب کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی.

کچھ عرصہ بعد میرے اس شاعر شوہر کا انتقال ہوا میری یہ پھوپھی وراثت کا مطالبہ کرتے پہنچ گئی میں نے ان سے کہا کہ میرے شوہر نے تمہیں اپنی زندگی میں طلاق دی تھی اب وراثت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے، جھگڑا طول پکڑا اس دوران میری عدت بھی گزر گئی ایک دن میری یہ پھوپھی اپنی بیٹی اور داماد(میرا سابقہ شوہر) کو لیکر میرے گھر آئی اور وراثت کے جھگڑے میں میرے اسی سابق شوہر کو ثالث بنایا اس نے مجھے کئی سالوں بعد دیکھا تھا مرد اپنی پہلی محبت نہیں بھولتا ہے چنانچہ مجھ سے یوں مل کر اس کی پہلی محبت نے انگڑائی لی میں نے ان سے کہا کیا پھر مجھ سے شادی کروگے؟
اس نے ہاں کرلی
میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ اپنی پہلی بیوی(میری پھوپھی کی بیٹی) کا معاملہ میرے ہاتھ میں دیں،اس نے ایسا ہی کیا.
میں نے اپنے سابق شوہر سے شادی کرلی اور اس کی بیوی کو شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دے دی.

قاضی ابن ابی لیلی سر پکڑ کر بیٹھ گئے پھر پوچھا کہ
اس کیس میں اب مسئلہ کیا ہے؟

میری پھوپھی کہنے لگی :
قاضی صاحب کیا یہ حرام نہیں کہ میں اور میری بیٹی دونوں کی یہ لڑکی طلاق کروا چکی پھر میرا شوہر اور میری بیٹی کا شوہر بھی لے اڑی اسی پر بس نہیں دونوں شوہروں کی وراثت بھی اپنے نام کرلیا۔

قاضی ابن ابی لیلی کہنے لگے:
مجھے تو اس کیس میں حرام کہیں نظر نہیں آیا،طلاق بھی جائز ہے،وکالت بھی جائز ہے،طلاق کے بعد بیوی سابقہ شوہر کے پاس دوبارہ جاسکتی ہے بشرطیکہ درمیان میں کسی اور سے اس کی شادی ہو کر طلاق یا شوہر فوت ہوا ہو تمہاری کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے.

اس کے بعد قاضی نے خلیفہ منصور کو یہ واقعہ سنایا خلیفہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے اور کہا کہ جو کوئی اپنے بھائی کیلئے گڑھا کھودے گا خود اس گڑھے میں گرے گا یہ بڑھیا تو گڑھے کی بجائے گہرے سمندر میں گر گئی.
😂😂

كتاب :جمع الجواهر في - الحُصري
عربی سے ترجمہ: بقلم فردوس جمال!!

12/06/2025
انسان زمینی مخلوق نہیں ہے۔(ایک چونکا دینے والی دلائل بھری تحریر)امریکی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلس سِلور کی تہلکہ خیز ریسرچ ارت...
12/06/2025

انسان زمینی مخلوق نہیں ہے۔
(ایک چونکا دینے والی دلائل بھری تحریر)

امریکی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلس سِلور کی تہلکہ خیز ریسرچ ارتقاء (Evolution) کے نظریات کا جنازہ اٹھ گیا:

ارتقائی سائنسدان لا جواب:
👈انسان زمین کا ایلین ہے۔

ڈاکٹر ایلیس سِلور (Ellis Silver) نے اپنی کتاب (Humans are not from Earth)
میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔

ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور ایکالوجسٹ (Ecologist) ہے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجیے۔
ذہن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔

اس کا کہنا ہے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رہا ہے وہ سیارہ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ہے وہاں پر انسان بہت ہی نرم و نازک ماحول میں رہتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے اپنی روٹی روزی کے لیے کچھ بھی تردد نہیں کرنا پڑتا تھا، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر تھی۔
وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رھتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باھر اور تکلیف دہ ھوتی ہیں۔

تب اس مخلوق انسان سے کوئی غلطی ہوئی۔
اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر پھینک دیا گیا تھا ۔جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام بھی تھا۔
وہ جسے چاہتا، جس سیارے پر چاہتا، سزا یا جزا کے طور پر کسی کو بھجوا سکتا تھا۔ وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔

ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ھے۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل، کالا پانی جیل کی طرح ہے۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ھے، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔

ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔
اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ھے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔

*نمبر 1:
زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے۔

*نمبر 2:
انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے۔
ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ہر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے۔

*نمبر 3:
ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے۔
جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ھے مہینوں دھوپ میں رھنے کے باوجود جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مر ض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔

*نمبر 4:
ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گھر اس سیارے پر نہیں۔
کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گھر میں اپنے قریبی خونی رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہوں۔

*نمبر 5:
زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ھے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا،
جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتھ بیمار ھونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ھے۔

*نمبر 6:
انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔

*نمبر 7:
زمین کے اصل رہائشی (جانوروں) کو اپنی غذا حاصل کرنا اور اسے کھانا مشکل نہیں، وہ ہر غذا ڈائریکٹ کھاتے ہیں، جبکہ انسان کو اپنی غذا کے چند لقمے حاصل کرنے کے لیے ہزاروں جتن کرنا پڑتے ہیں، پہلے چیزوں کو پکا کر نرم کرنا پڑتا ھے پھر اس کے معدہ اور جسم کے مطابق وہ غذا استعمال کے قابل ھوتی ھے، اس سے بھی ظاہر ھوتا ھے کہ انسان زمین کا رہنے والا نہیں ھے۔
جب یہ اپنے اصل سیارے پر تھا تو وہاں اسے کھانا پکانے کا جھنجٹ نہیں اٹھانا پڑتا تھا بلکہ ہر چیز کو ڈائریکٹ غذا کیلیئے استعمال کرتا تھا۔
مزید یہ اکیلا دو پاؤں پر چلنے والا ھے جو اس کے یہاں پر ایلین ھونے کی نشانی ھے۔

*نمبر 8:
انسان کو زمین پر رہنے کیلیے بہت نرم و گداز بستر کی ضرورت ھوتی ھے جبکہ زمین کے اصل باسیوں یعنی جانوروں کو اس طرح نرم بستر کی ضرورت نہیں ھوتی۔ یہ اس چیز کی علامت ھے کہ انسان کے اصل سیارے پر سونے اور آرام کرنے کی جگہ انتہائی نرم و نازک تھی جو اس کے جسم کی نازکی کے مطابق تھی۔

*نمبر 9:
انسان زمین کے سب باسیوں سے بالکل الگ ھے لہذا یہ یہاں پر کسی بھی جانور (بندر یا چمپینزی وغیرہ) کی ارتقائی شکل نہیں ھے بلکہ اسے کسی اور سیارے سے زمین پر کوئی اور مخلوق لا کر پھینک گئی ھے۔

نمبر 10:
انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی ۔ یہ اتنا نازک مزاج تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رھتا ھے۔ جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔
جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔

نمبر 11:
یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رھنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی۔

ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہا ہے، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے، کبھی موبائل فون اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ سال بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔

ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔

میں اس کے سائنسی دلائل اور مفروضوں پر غور کر رہا تھا کہ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے،
جسے ہم مسلمانوں کی کتاب (قرآن مجید) میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لیے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ ھم سب سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور اماں حوا ؑ کے معاملے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے، سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ھوگئے ہیں، جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے۔

ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ھے۔

یہ سیارہ ہمارا نہیں ہے۔

اللہ پاک نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں بھی بار بار لاتعداد مرتبہ یہی بتا دیا کہ:
اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش کی جگہ ہے۔ جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی۔
باقی واللہ علم

‏سب سے زیادہ بےحیا قوم لوط علیہ سلام کی قوم تھی یہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں میں دلچسپی رکھتے تھے خاص کر مسافروں میں سے کو...
09/06/2025

‏سب سے زیادہ بےحیا قوم لوط علیہ سلام کی قوم تھی یہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں میں دلچسپی رکھتے تھے
خاص کر مسافروں میں سے کوئی خوبصورت لڑکا ہوتا تو یہ لوگ اسے اپنا شکار بنا لیتے طلموت میں لکھا ہے
کہ اہل سدوم اپنی روز مرہ کی زندگی میں سخت ظالم دھوکہ باز اور بد معاملہ تھے
کوئی مسافر ان کے علاقے سے بخیریت نہیں گزر سکتا تھا
کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔
کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مر جاتا تھا اور یہ لوگ اس کے کپڑے اتار کر اس کی لاش کو برہنہ دفن کر دیتے۔ اپنی وادی کو انہوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا
۔ جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا اس باغ میں وہ انتہائی بے حیائی کے ساتھ اعلانیہ بد کاریاں کرتے تھے۔

حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور بدکاری کے اس گھناونے عمل سے توبہ کرنے کا حکم دیا۔
حضرت لوط نے کہا تم یہ کیوں کرتے ہو کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مرد کی طرف مائل ہوتے ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔ تو پھر حضرت لوط اہل سدوم کو دن رات وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ لیکن اس قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
بلکہ وہ بدنصیب بہت فخریہ انداز میں یہ کام کرتے تھے انہیں حضرت لوط کا سمجھانا بھی برا لگتا تھا
لہذا انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم ہمیں اسی طرح بھلا کہتے رہے اور ہمارے کاموں میں مداخلت کرتے رہے
تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ حضرت لوط نے نصیحت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔
لہذا ایک دن اہل سدوم نے خود ہی عذاب الہی کا مطالبہ کر دیا۔
اللہ تعالی نے اب تک ان کے اس بدترین عمل فحاشی اور بدکاری کے باوجود ڈھیل دے رکھی تھی۔
لیکن جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے ایک دن کہا
کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔
لہذا ان پر عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔
اللہ نے اپنے خاص فرشتوں کو دنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ فرشتے دراصل حضرت میکائیل، اور جبرائل علیہ السلام تھے
پھر یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر تشریف لے آئے۔
حضرت لوط نے جب ان خوبصورت نوعمر لڑکوں کو دیکھا تو سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔
انہیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں دیکھ لیا۔
تو نہ جانے وہ انکے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ حضرت لوط کی بیوی کا نام وائلہ تھا
اس نے آپ پر ایمان نہیں لایا تھا
اور وہ دراصل منافقہ تھی۔ وہ کافروں کے ساتھ تھی لہذا اس نے جاکر اہل سدوم کو یہ خبر دے دی۔
کہ لوط کے گھر دو نوجوان لڑکے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں
یہ سن کر بستی والے دوڑتے ہوئے۔ حضرت لوط کے گھر پہنچے
حضرت لوط نے کہا کہ یہ جو میری قوم کی لڑکیاں ہیں
یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔
کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں،؟
حضرت لوط علیہ السلام کی بات سن کر وہ لوگ بولے
تم بخوبی واقف ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی حاجت نہیں
اور جو ہماری اصل چاہت ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔
قوم لوط کے اس شرم سار جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے
کہ وہ فعل بد میں کس حد تک مبتلا ہو چکے تھے
جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ان کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی تو حضرت لوط نے گھر کے دروازے بند کر دیے اور ان نوجوانوں کو ایک کمرے میں چھپا دیا۔
ان بدکار لوگوں نے آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا
اور ان میں سے کچھ گھر کے دیوار پر بھی چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے
حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کی عزت کے خیال سے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے فرشتے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی بے بسی اور پریشانی کا یہ عالم دیکھا۔ تو حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے یوں فرمایا۔
اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں
یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے
۔ ابھی کچھ رات باقی ہے تو آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو
اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔
اہل سدوم حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پر کا ایک کونا انہیں مارا۔
جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے
اور بصارت ظاہر ہوگئی
یہ خاص عذاب ان لوگوں کو پہنچا۔ جو حضرت لوط کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام حقیقت حال جان کر مطمئن ہو گئے
اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کو ہی نکل کھڑے ہوئے۔
لیکن پھر بھی ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی لیکن کچھ دور جا کر وہ واپس اپنے قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنم واصل ہو گئی۔
صبح کا آغاز ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل نے بستی کو اوپر سے اکھاڑ دیا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے بستی۔۔۔
‏کے کتے کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں
۔ پھر اس بستی کو زمین پر دے مارا جس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔
ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔
جب یہ پتھر ان کو لگتے تو ان کے سر پاش پاش ہوجاتے۔
صبح سویرے شروع ہونے والا
یہ عذاب اشراک تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چکا تھا
قوم لوط کی ان خوبصورت بستیوں کو اللہ نے ایک انتہائی بد بو دار
اور سیاہ جیل میں تبدیل کردیا۔ جس کے پانی سے رہتی دنیا تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔
سمندر کے اس حصے میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اسے ڈیڈ سی یعنی بحرے مردار کہا جاتا ہے
جو اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین آثار نے دس سالوں کی تحقیق و جستجو کے بعد اس تباہ شدہ شہر کو دریافت کیا تھا۔
تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ اس شہر میں زندگی بالکل ختم ہو چکی ہے۔
شہر کے راستے اور کھنڈرات کو دیکھ کر ارکلوجسٹ نے یہ اندازہ لگایا
کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت لوگ روزمرہ کے معاملات اور کاموں میں مشغول تھے
اور یہاں زندگی اچانک ختم ہو گئی تھی

اہل سدوم جنہیں پتھر بنا دیا گیا تھا۔ ان کے بت ابھی تک بحیرہ مردار کے پاس موجود ہیں جو لوگوں کے لیے ایک عبرت ہے
آج یورپی ممالک میں انسانی آزادی کے نام پر اس بدکاری کی اجازت دی جاتی ہے
اور اس فحش عمل کو باعث فخر سمجھا جاتا ہے
روایتوں کے مطابق ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین عمل کیا ہے ابلیس بولا جب مرد مرد سے بدفعلی کرے اور عورت عورت سے خواہش پوری کرے!
اور مجھے شرم آتی ھے یہ کہتے ھوئے کہ
آج ھمارے معاشرے میں یہی سب چل رہا ہے بلکہ اس قبیح کام کو قانون کی سر پرستی حاصل ہے ۔۔۔
اللہ ھماری دنیاوی اور اخروی زندگی کو بہتر بنانے کی عقل و عمل عطاء فرمائے ۔۔۔!

Address

Dubai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اولیاء اللہ کے واقعات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to اولیاء اللہ کے واقعات:

Share