15/03/2026
پھر سے ایک کیس لے کر حاضر خدمت ہوں .. طویل کیسز لکھنے کا مطلب نئے ہومیوپیتھک پریکٹیشنرز اور سٹوڈنٹس کے لیے انفارمیٹو مواد فراہم کرنا ہوتا ہے جو شاید انکی رہنمائی ثابت ہو۔ اور پوری کوشش ہوتی ہے کہ ایمانداری سے یہ فرض انجام دوں۔ چلیے کیس کی جانب بڑھتے ہیں ؛ مریض عمر 45 برس بیانیہ ملاحظہ فرمائیں.. "دو سال سے ہائپر ٹینشن (بلڈ پریشر زیادہ ہونا) کا مسئلہ لاحق ہے ، گیس بہت بنتی ہے اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب چاول یا گوشت کھاتا ہوں ۔۔ کوئی بھی بھاری چیز کھانے سے تیزابیت ہونے لگتی ہے ، ہر وقت نیند آتی رہتی ہے اور کھانے کے بعد تو یہ ایشو اور زیادہ ہو جاتا ہے ، بہت زیادہ سستی و کاہلی رہتی ہے ، دکھنے میں صحت مند ہوں ، کھانا کھانے کے بعد فوراً پیٹ پھول جاتا ہے ، کھانے کے بعد سانس لینے میں بھی دشواری ہوتی ہے ، پیشے سے زمیندار ہوں دیسی خوراکیں زیادہ استعمال کرتا ہوں مگر کھیتی باڑی خود نہیں کرتا بندے رکھے ہوئے ہیں ، پیٹ کافی بڑھ گیا ہے" قارئین ؛ سب سے پہلے تو پیٹرن سمجھنا ضروری تھا کہ آخر مریض کے جسم میں یہ چل کیا رہا ہے..؟ علامات کے تحت تو چلتا مگر جب تک سبب دور نہ ہوتا ، ریلیپس بار بار ہوتا .. اور اس سے یہ ہوتا کہ مریض دوا لیتا رہتا تو ٹھیک چھوڑتا تو پھر وہیں کا وہیں .. جبکہ میری کوشش ہوتی ہے کہ کونسا پیٹرن زیادہ دباؤ میں ہے وہ تلاش کر کے ٹارگٹ کیا جائے ، کوشش تو کی جائے ناں ؛ آگے جو رب کو منظور.. علامات کا تجزیہ کیا تو یہ بات سمجھ میں آئی کہ مریض کے جسم میں جگر اور معدہ آپس میں باہمی تعلق سے مکمل طور پر نہیں چل رہے ، یعنی خوراک کو ٹھیک سے ہضم نہیں کر رہے ، اسی وجہ سے جب وہ چاول ،گوشت یا کوئی بھاری غذا لیتا ہے تو ؛ خوراک باقاعدہ ٹوٹتی نہیں ہے ، معدہ میں ایسڈ زیادہ بننے لگتا ہے ، گیس اور بلوٹنگ ہوتی ہے ، پیٹ پھول جاتا ہے اور سانس میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہے. جسم کا مزاج ایسا ہے کہ صحت مند تو دکھتا ہے مگر اندر سے ڈائجیشن کمزور اور سست ہے اسی لیے مریض کو نیند ، سستی اور کاہلی ہوتی ہے۔ دو سال پہلے جو بلڈ پریشر کی زیادتی تشخیص ہوئی وہ بھی ڈائیجیشن اور جگر کے غیر متوازن ہونے کے سبب ہے۔ یہ تو تھی سادہ زبان میں تشخیص جو عام افراد کے ذہنوں تک ترسیل کے لیے تھی۔ تھوڑا میڈیکل لینگویج میں بھی سمجھ لیتے ہیں ۔۔ اس کیس کی اگر فزیالوجیکل تشخیص دینے کی کوشش جائے تو میرے مطابق یہ Functional Dyspepsia with Post-Prandial Gastric Distention & Hyperacidity ہے۔ اور یہ Hepato - Gastric Sluggishness سے associated ہے۔ پیتھوفزیالوجیکلی مریض میں نظام ہضم کی گیسٹرک موٹیلیٹی اور انزائمیٹک ڈائیجیشن سست ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر ہیوی پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس لینے پر۔ اسی لیے خوراک دیر سے ہضم ہوتی ہے ، معدہ میں حد سے زیادہ فرمینٹیشن اور گیس فارمیشن ہوتی ہے۔ گیسٹرک ڈسٹینشن کی وجہ سے ڈائیافرام پر پریشر پڑتا ہے جس سے کھانا کھانے کے بعد سانس میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہے یعنی (Post-Prandial Dyspnea). اور پھر ہائپرایسیڈٹی اور ریفلیکس tendency ڈویلپ ہو جاتی ہے۔ کمزور ہاضمے کے سبب Post-Prandial Lethargy اور Somnolence ہوتی ہے ، یعنی ہر وقت نیند اور سستی چھائی رہنا۔ قارئین مجھے یہاں سب سے اہم اس پیٹرن کو ٹریک پر لانا لگا۔۔ Text Book of Materia Medica & Therapeutics کے تحت ABIES NIGRA ہومیوپیتھک دوا "acts especially upon the mucous lining of the stomach , causing deranged digestion" بھلے ہی یہ واضح نہیں لکھا مگر اس جملے سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ یہ ریمیڈی بھاری غذا کے سبب جو بھی معدہ کے اندر ہلچل مچتی ہے اسے ریپیئر کرتی ہے.. مگر یہ فزیالوجیکل اینگل سے کام کرے گی۔ اور ولیم بورک کے مطابق اس کے مریض کی علامات میں شدت کھانے کے بعد آتی ہیں جیسا کہ اوپر علامات بیان ہیں.. Abies Nigra تو میں نے چن لی مگر relapse نہ آئے سو constitutional remedy پکڑنا بڑی ضروری تھی ، مگر وہ جو فزیالوجیکل اینگل سے بھی مریض کو لے کر چلے تین دوائیں ذہن میں آئیں ؛ Nux Vomica ، Lycopodium اور Pulsatilla ۔۔ تینوں کے اندر کیس کی کچھ نہ کچھ مشابہت موجود تھی مگر ؛ میں نے LYCOPODIUM CLAVATUM کو سلیکٹ کیا کیوں..؟ آئیے وضاحت پیش کرتا ہوں۔۔ لائیکوپوڈیم کے مریض کا پیٹ کھانے کے فوراً پھولتا ہے یہ تو تھی میٹیریا میڈیکا میں درج علامت ، تھیراپیوٹکلی دیکھیں تو اس کے مریض کے جگر فعل بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ Dyspepsia اور ہاضمے کی بے تحاشا کمزوری کو جڑ سے ٹھیک کرنے کے لیے اس کیس میں اس سے بہتر دوا میرے نزدیک کوئی اور نہیں تھی۔ اچھا بہت سے ہومیوپیتھک معالجین علامات کے تحت دوا بالکل ٹھیک دیتے ہیں مریض کو آرام بھی آتا ہے مگر وہ کچھ عرصہ بعد دوبارہ سے دوا لینے آتا ہے اور کہتا ہے "ڈاکٹر صاحب! وہی دوا دیں جو پچھلی بار دی تھی ، اور ان کی اس خواہش کو پورا بھی کر دیا جاتا ہے ؛ یہی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے۔ ریلیپس میں ہمیشہ مرض کی شدت پہلے سے زیادہ ہوتی ہے .. اور آپ اسی پیٹرن اور پوٹینسی پر دوا دہرا دیتے ہیں .. ذرا سوچیے کیا وہی پوٹینسی ، وہی dosage شدت زیادہ ہونے پر کام کرے گی..؟؟ ہمیشہ PLAN-B اپنے پاس رکھا کریں۔ خیر کیس پر آتے ہیں تو قارئین ؛ یہاں اس مریض کے لیے مجھے آرگن سپورٹ دوا یا پیتھوفزیالوجیکل اینگل سے کام کرنے والی دوا کو چننا تھا تاکہ Organs واپس اپنی اصلی حالت میں آئیں اور Hepato Gut Axis متوازن ہو .. اس کے لیے میں نے CARDUS MARIANUS MOTHER TINCTURE کو چنا ، یہاں surface level practitioners کے ذہن میں سوال تو اٹھے گا کہ جگر سے متعلقہ تو CHELIDONIUM زیادہ استعمال ہوتی ہے .. CARDUS تو پتہ (Gall Bladder) سے متعلقہ عوارض میں زیادہ مؤثر ہے ... چلیے یہاں کارڈس کی وسعت پر بھی بات کر لیتے ہیں ؛ میں نے اپنی پریکٹس میں پیتھوفزیالوجیکلی Digestive System کو مکمل ریپیئر کرنے کے لیے کارڈس مدر ٹنکچر سے بہترین کسی کو نہیں پایا ، یہ خوراک کے معدہ میں اترنے کے بعد سے ، ویسٹرج تک کا پراسیس سنبھالتا ہے۔ البتہ یہ کام Chelidonium مدر ٹنکچر بھی کرتا ہے مگر وہ ہر کیس میں موزوں نہیں رہتا ، irritation ، heaviness ، اور bloating بڑھا بھی دیتا ہے۔ مگر CARDUS Q اب تک تو میرے لیے کسی کیس میں ایسی ثابت نہیں ہوئی۔ چلیے اب مریض کو دوا کس طرح دی اور کیا نتائج ملے وہ بھی عیاں کیے جائیں.. میں نے ABIES NIGRA 30C میں مریض کو روزانہ ایک بار استعمال کروائی ، LYCOPODIUM 200C ہفتہ وار ایک بار دی ، اور CARDUS MARIANUS MOTHER TINCTURE دن میں تین بار استعمال کروایا اور پورے تیس روز کی دوا پارسل کروائی (کیونکہ میں دوا بتاتا نہیں ہوں ، کلینک سے دیتا ہوں یا پارسل کروا دی جاتی ہے) ... مریض نے پہلی پڑیہ لی (یعنی لائیکوپوڈیم) تو اگلے روز کال کر دی "سر جی دوائی سے تو مسئلہ زیادہ ہوگیا ہے ، گیس بہت بن رہی ہے .. مجھے کوئی دوا بتائیں میں یہاں سے لے لوں ،، پیٹ تنا ہوا ہے" .. تسلی دی کہ محترم صبر و تحمل سے رہیں دو روز آگے مزید دوا نہیں لینی اور روزانہ اپڈیٹ دینی ہے تین دن تک .. اگلے روز مریض نے کال کی اور کہا "سر کل کا دن تو بڑا ہی مشکل گزرا مگر آج کچھ ریلیف ہے" .. اس سے اگلے دن کہا کہ " سر میری بھوک اڑ گئی ہے کچھ کھانے کو دل نہیں کر رہا ہے البتہ گیس والا ایشو نہیں ہے بہت ہی کم ہوگیا ہے تھوڑا بہت جو کھانا کھایا اس سے ڈسٹرب نہیں ہوا" تین دن مکمل ہوئے تو بقیہ دوا شروع کروائی (Abies & Cardus) چار دن لی تو پھر لائیکوپوڈیم کا دن آیا اب مریض پڑیہ لینے سے ڈر رہا تھا کہ کہیں پھر سے پڑیہ کے بعد ایشو زیادہ نہ ہو جائے... سمجھانے پر مان گیا اور رات سوتے وقت پڑیہ آخر لے لی اگلی صبح اٹھا تو یہ اپڈیٹ دی " سر جی ؛ اس بار تو کمال ہوگیا ، مجھے صبح اتنی شدید بھوک لگی ہوئی تھی کہ وقت سے پہلے اٹھ گیا اور سالن میں بھی گوشت پکا ہوا تھا میں نے دبا کے کھایا اور یقین جانیں ، مجھے کافی دیر بعد کوئی ہلکی پھلکی گیس محسوس ہوئی ہوگی .. پہلے تو کھانا کھاتے کھاتے ہی گیس بننے لگتی تھی خاص طور پر گوشت وغیرہ" مریض سے کہا کہ اگلے ہفتہ پڑیہ نہیں لینی باقی دوا جاری رکھیں ... مگر اب وہ بضد تھا کہ پڑیہ لونگا کیونکہ اس سے بڑا فرق پڑا ہے۔ "اب بندہ جائے تو جائے کہاں" .. خیر ، اگلا ہفتہ گزرا مریض کے بقول وہ ساٹھ سے ستر فیصد خود کو بہتر محسوس کر رہا تھا.. اسی طرح تیس روز مکمل ہوگئے .. مریض نے کہا " سر جی ؛ میں اب مکمل صحتیاب ہوں مگر سو فیصد نہیں کہوں گا جب تک دوا کے بغیر کچھ روز مکمل درست نہیں گزرتے ، میں نے بھی اتفاق کیا اور آگے دوا نہیں بھیجی .. دس روز بعد مریض نے صرف اتنا کہا کہ " سر جی ، کھانے کے بعد کبھی کبھار گیس بن جاتی ہے وہ بھی بہت ہی کم مگر ؛ نیند کا غلبہ ، سستی ، گوشت اور چاول سے ڈسٹربینس زیادہ ہونا وہ سب بالکل نہیں ہے اور سر جی مزے کی بات بلڈ پریشر کا مسئلہ بھی نہیں ہوا دوبارہ" .. میں نے اب مریض کو کہا کہ وہ CARDUS MARIANUS MOTHER TINCTURE خود سے خرید لے اور صرف پندرہ روز مزید استعمال کرے .. یہ کیس تقریباً تین سے چار ماہ پہلے شفایاب ہو چکا تھا اور الحمدللّٰہ مریض ، اور لوگوں کو بھی میری جانب ریفر کرتا ہے انہیں دوا منگوا کر دیتا ہے اور اپنی صحت کے متعلق دعاؤں کے ساتھ عمدہ فیڈ بیک ہی دیتا ہے۔ اور صحت کا پوچھنے پر کہتا ہے " ڈاکٹر صاحب! جے میں ٹھیک نہ ہوندا ، تے دوجیاں نوں تہاڈے ال پیجدا" .. اس میں میری مہارت ، صرف اتنی سی تھی کہ میں نے عجلت سے کام نہیں لیا کیس کے پیٹرن کو سمجھنے کی کوشش کی اور یہ بھی اللّٰہ کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھا ، وہی چاہتا تھا کہ میری عزت میں اضافہ ہو۔۔ اور باقی شفاء منجانب اللّٰہ!! ہومیوپیتھک معالجین اور سٹوڈنٹس سے گزارش ہے کہ صرف کتابوں تک محدود نہ رہیں ، سطحی لیول کا علم آپکو ہمیشہ ایک ہی دائرے میں گھماتا رہے گا۔ اللّٰہ پاک ہم سب کے علم و ہنر میں برکت عطا فرمائے آمین ثم آمین!
اور ہاں !! بہت سے لوگ میرے لکھے ہوئے کیسز سے متاثر ہو کر اپنا یا اپنے کسی پیارے کا علاج کروانے کے خواہشمند ہوتے ہیں .. "لیکن مفت میں"... اپنے کیس کے متعلق لمبی لمبی تحریریں بھیج دیتے ہیں اور آرزو رکھتے ہیں کہ میں اس پر اچھے سے محنت کروں مگر ؛ بنا کوئی فیس لیے ہی دوا بتا دوں ، تو پیشگی معذرت میں اپنا حق ہر گز نہیں چھوڑتا اور کلینیکل پروٹوکول کے تحت ہی چلتا ہوں .. کیونکہ ہمیں بھی ضروریات زندگی پورا کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے ،، مفت میں کوئی نہیں دیتا!! بنا تعارف ریسپانس نہیں دیا جائے گا)