Cardina Chính Hãng

Cardina Chính Hãng Cardina.vn

23/05/2026

🎉XẢ HÀNG LẺ SIZE GIÁ SIÊU HỜI
📌𝟏𝟗𝟗𝐤 𝐜𝐡𝐨̂́𝐭 𝐧𝐡𝐚𝐧𝐡 𝐤 𝐡𝐞̂́𝐭 ( 𝐠𝐨̂́𝐜 𝟔𝟗𝟎𝐤 )
Tặng kèm khẩu trang cùng màu
✅Hàng chính hãng Cardina
Kiểm & mặc thử - k ưng trả lại k mất phí .

پردہ و حجاب ترقی کی راہ میں نہیں بلکہ لبڑل طبقے کے مکروہ عزائم کی راہ میں رکاوٹ ہیں محترمہ  ڈاکٹر سارہ قریشی دنیا کا پہل...
25/04/2026

پردہ و حجاب ترقی کی راہ میں نہیں بلکہ لبڑل طبقے کے مکروہ عزائم کی راہ میں رکاوٹ ہیں
محترمہ ڈاکٹر سارہ قریشی دنیا کا پہلا ماحول دوست ایئر کرافٹ انجن ایجاد کرنے والی خاتون نے یہ بات ثابت کر دکھائی ۔۔۔!!!
باقی جو لبڑل فیمنسٹ خواتین فحاشی و عریانیت کو ہی "ترقی" سمجھتی ہیں محترمہ ڈاکٹر سارہ قریشی کی یہ اچیومنٹ ان کے منہ پر نمانچہ ہے!
محمد إسحٰق قریشي السلطاني

جنگ بدر معرکہ حق و باطل  ایک طرف ۳۱۳ اسلام کے سپاہی جن کے پاس سامان جنگ بھی ناکافی  تھا  بلکہ سامان جنگ کے نام پر چند گھ...
08/04/2026

جنگ بدر
معرکہ حق و باطل

ایک طرف ۳۱۳ اسلام کے سپاہی
جن کے پاس سامان جنگ بھی ناکافی تھا بلکہ سامان جنگ کے نام پر چند گھوڑے اور ۸ یا ۹ تلواریں
اور
دوسری طرف جنگی ساز و سامان سے پوری طرح لیس ۱۰۰۰ جنگجوؤں پر مشتمل مشرکین مکہ کا لشکر جرار
ان ۳۱۳ کے دل ایمانی قوت سے معمور تھے
بالآخر عددی قوت اور ساز و سامان پر ناز کرنے والے بری طرح شکست سے دوچار ہوئے
اور
اہل ایمان کو اللہ تعالی نے اس امتحان میں سرخرو فرمایا
یہ حق و باطل کی وہ جنگ تھی جس کی ضرب کفر تاقیامت محسوس کرتا رہے گا !
ملاحدہ کا پہلا اعتراض :
یہ جنگ واحد جنگ نہ تھی جس میں عددی اعتبار سے انتہائی کم لشکر نے اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر کو شکست دی ہو ۔تاریخ میں جنگ چمکور کا ذکر بھی ہے جس میں ۴۰ سکھوں نے ۴۰۰۰۰ فوج کو شکست دی
جواب :
ملاحدہ کا یہ اعتراض درحقیقت جنگ بدر کی اہمیت کو کم کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ عددی اعتبار سے کوئی چھوٹا لشکر اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر کو شکست دے دے۔ اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے تاریخ عالم کھنگالنے کے بعد ایک جنگ چمکور کا واقعہ ملا اور انہوں نے اسے بطور دلیل استعمال کرنا شروع کر دیا
اس واقعے کی تاریخی حیثیت پر بحث سے قطع نظر
اگرچہ ان دونوں جنگوں کا موازنہ کیا نہیں جا سکتا لیکن ملاحدہ کا اعتراض رفع کرنے کے لیے دونوں جنگوں اور نتائج کا موازنہ کرتے ہیں
جنگ بدر
تعداد : ۳۱۳
اسلحہ : ۹ تلواریں
مخالف : ۱۰۰۰
اسلحہ : ۱۰۰۰ جنگجو آہنی زر ہوں میں ملبوس مکمل جنگی اسلحے کے ساتھ
جگہ : میدان بدر
نتیجہ : ۱۰۰۰ جنگجوؤں پر مشتمل لشکر بری طرح شکست کھا کر اپنی درجنوں لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلا
جنگ چمکور
تعداد : ۴۰
اسلحہ : تلواریں ، تیر و کمان، بندوقیں اور کارتوس (یعنی اس دور کے حساب سے ہر قسم کے قدیم و جدید اسلحے سے لیس)
مخالف لشکر : ۴۰۰۰۰
اسلحہ : مکمل طور پر اسلحے سے لیس
جگہ : جنگی قلعہ جس کے اندر ۴۰ سکھ مکمل جنگی ساز و سامان اور اسلحے سے لیس محصور تھے اور مخالف لشکر قلعے کے باہر تھا
نتیجہ : اکثریت ماری گئی اور ان کے سردار گُرو گوبند جی زنانہ لباس میں ملبوس ہو کر رات کے اندھیرے میں منہ چھپا کر بھاگ نکلے
ایک طرف میدان بدر میں ۳۱۳ مسلمان ۹ تلواریں لیکر آہنی زرہوں میں ملبوس ۱۰۰۰ جنگجوؤں سے دست بدست لڑائی میں انہیں شکست فاش سے دوچار کرتے ہیں
اور
دوسری طرف جدید جنگی ساز و سامان سے لیس ۴۰ سکھ یا جاٹ جنگی قلعے میں محصور ہو کر ۴۰۰۰۰ کی فوج کا مقابلہ کرتے ہیں لیکن اکثر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور سردار کو منہ چھپا کر بھاگنا پڑتا ہے
اب بتائیں کہ کیا ان دو جنگوں کا آپس میں موازنہ کیا جا سکتا ہے ؟
اور
مسلمانوں کی تاریخ میں یہ کوئی پہلی جنگ نہیں جس میں مسلمانوں کے قلیل ترین لشکر نے اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر کو شکست دی ہو ۔مسلمانوں کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے
میدان یرموک
ایک طرف ۶۰،۰۰۰ جنگجوؤں پر مشتمل نصرانی لشکر
اور
دوسری طرف صرف ۶۰ مجاہدین اسلام
میدان میں دست بدست لڑائی ہوئی شام تک معرکہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ہزاروں نصرانی مارے گئے اور متعدد قید کر لیے گئے
قلعہ بند ہو کر لڑنا بڑا آسان ہے لیکن میدان میں آمنا سامنا کرنا بڑا مشکل کام ہے ۔
دونوں جنگوں کے موازنہ سے ملاحدہ کے اعتراض کا بطلان واضح ہے
ملاحدہ کا دوسرا اعتراض :
اگر جنگ بدر میں فرشتے اترے تو سارے لشکر مشرکین کو تہس نہس کیوں نہ کر دیا
جواب : یہ جنگ فرشتوں اور کفار کے مابین نہ تھی بلکہ کفار اور مسلمانوں کے مابین تھی فرشتے مسلمانوں کی مدد کے لیے نازل ہوئے تھے ۔ ایک فرشتہ اتنی طاقت رکھتا ہے کہ وہ پوری دنیا کو تہس نہس کر سکتا ہے ۔ اس جنگ میں اگر فرشتوں نے تمام کفار کو بیک جنبش قلم صفحہ ہستی سے نہ مٹایا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں بارگاہ خداوندی سے اس بات کا حکم ہی نہ تھا ۔فرشتے نوری مخلوق ہیں جو معصیت سے پاک ہیں اور ان کا کام بس حکم بجا لانا ہے نافرمانی ان کی سرشت میں ہی نہیں
پس فرشتوں نے مشیت ایزدی کے تحت مسلمانوں کی نصرت کی ۔ رہا ملحدین کا سوال تو وہ پہلے تو یہ بات واضح کریں کہ انہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ جیسا وہ چاہتے ہیں ویسا ہی ہونا چاہیے تھا ؟؟؟
اگر ان کی خواہشات کے برعکس کوئی واقعہ ہوا ہے تو اس کا وقوع ہی مشکوک ہے ؟؟؟
نوٹ: تصویر فرضی ہے جس کا غزوہ بدر سے کوئی تعلق نہیں

✍🏻البرھان Al-Burhan

🔴 اعتراض:اگر اللہ تعالیٰ  سب کچھ کر سکتا  ہے تو کیا وہ خود کو مار سکتا ہے ؟🟢 الجواب بعون الوھاب:اللہ تعالیٰ کی قدرت  اور...
07/04/2026

🔴 اعتراض:
اگر اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے تو کیا وہ خود کو مار سکتا ہے ؟
🟢 الجواب بعون الوھاب:
اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے قادر مطلق ہونے پر سب سے زیادہ پیچیدہ اعتراض Omnipotence Paradox ہے ۔ جس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی قادر مطلق ہستی حقیقت میں قادر مطلق ہے تو کیا وہ کوئی ایسا کام پیدا کر سکتی ہے جو وہ نہیں کر سکتی ۔ منطقی مغالطے پر مبنی اس اعتراض کو ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اگر کوئی کہے کہ ہاں تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ کوئی ایک کام ایسا ہے جو قادر مطلق ہستی بھی نہیں کر سکتی اور اگر کہا جائے نہیں تب بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ایسا کام بھی ہے جسے خدا پیدا نہیں کر سکتا ۔ دونوں صورتوں میں خدا کے قادر مطلق ہونے کی نفی لازم آتی ہے۔
اس کی سب سے عام مثال یہ اعتراض ہے کہ
❎ کیا خدا ایسا پتھر بنا سکتا ہے جسے وہ خود نہ اٹھا سکے ؟
اگر خدا ایسا پتھر بنا دیتا ہے تب بھی وہ قادر مطلق نہیں رہتا کیونکہ وہ اس پتھر کو اٹھانے کی قدرت نہیں رکھتا ۔اور اگر کہا جائے کہ نہیں تب بھی خدا کی قدرت پر سوال اٹھتا ہے کہ خدا ایسا پتھر نہیں بنا سکتا ۔
اسی سوال کا چربہ ملحد کا مذکورہ اعتراض ہے کہ اگر خدا سب کچھ کر سکتا ہے تو کیا وہ خود کو مار سکتا ہے ؟
اس سوال کے جواب میں اثبات یا نفی دونوں صورتوں میں قدرت باری تعالیٰ پر حرف آتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جب ہم اس سوال کا علمی ،عقلی اور منطقی اصولوں پر جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال بذات خود ایک منطقی مغالطے پر مبنی ہے ۔
⚠️ سوال یا منطقی مغالطہ ؟
اس سوال کا جواب دینے سے قبل یہ بات ذہن نشین ہونا لازم ہے کہ اگر کوئی شخص کسی قوم پر کوئی اعتراض اٹھاتا ہے تو وہ عقلاََ اس بات کا پابند ہے کہ اس قوم کے مسلمہ تصورات کو مدنظر رکھتے ہوئے اعتراض اٹھائے۔ اگر وہ اپنی طرف سے کچھ فرض کر کے اس قوم پر تھوپ دیتا ہے اور اپنے خودساختہ تصورات پر خودساختہ سوال اٹھاتا ہے تو یہ ایک منطقی مغالطہ ہے جسے Straw Man Fallacy کہا جاتا ہے
جس کا مطلب یہ ہے کہ مخالف کے اصل مؤقف کو توڑ موڑ کر ایک کمزور اور مضحکہ خیز شکل دینا اور پھر اس پر خودساختہ اعتراض اٹھا کر اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرنا ۔ اگر ہم اس سوال پر تھوڑا سا غور کریں تو یہ سوال بھی اسی منطقی مغالطے پر مبنی ہے جس میں ملحد نے اپنی طرف سے خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک مفہوم گھڑ لیا ہے اور اس پر خودساختہ اعتراض/سوال اٹھا کر اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
🔰 اسلامی تصور الٰہ اور صفت قدرت
اسلام کے تصور الٰہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کسی شئے کی مثل نہیں ہے
لیس کمثلہ شئی
سورۃ الشوری:11
اور اس کی مثل کوئی نہیں
اللہ تعالیٰ واحد ہے اور ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ کائنات کا ازلی اور ابدی مالک ہےجس کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ ہی کوئی انتہا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ قدرت کو جابجا بیان کیا گیا ہےجیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
(بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے) ۔
تاہماس صفتِ قدرت کے صحیح مفہوم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے قدرت اور شیء کی علمی تعریف کو واضح کیا جائے۔
علم الکلام کے ماہرین خاص طور پر اشعری اور ماتریدی مکاتبِ فکراللہ تعالیٰ کی صفتِ قدرت کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ یہ وہ صفتِ ازلی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ممکنات کو عدم سے وجود میں لاتا ہے یا وجود سے نابود کرتا ہے ۔ یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ قدرت کا تعلق صرف ممکنات Possibilities سے ہےمحالات Impossibilities سے نہیں
اسلامی مسلمہ عقائد کی رو سے اللہ تعالیٰ واجب الوجود Necessity Being ہے۔ یعنی ا للہ تعالیٰ کا وجود ضروری ہے کیونکہ ایک واجب الوجود ہستی کے بغیر ممکن الوجود اشیاء کا ظہور پذیر ہونا عقلاََ ممکن نہیں اور اس واجب الوجود ہستی کے لیے عدم Non-existence ناممکن ہے ۔ اس تعریف کی رو سےاللہ تعالیٰ کا فنا ہونا یا مرنا ایک محالِ عقلی ہے ۔
اعتراض کرنے والا یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ سب کچھ کر سکنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محالات عقلی کو بھی حقیقت بنا سکتا ہے لیکن عقلی و منطقی اعتبار سے یہ مطالبہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ قرآنِ کریم میں جہاں اللہ کی قدرت کا ذکر ہےوہاں کُلِّ شَیْءٍ (ہر چیز) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ علماءِ امت اور مفسرین جیسے امام رازی اور دیگرنے صراحت کی ہے کہ یہاں شیء سے مراد وہ تمام امور ہیں جو عقلی طور پر ممکن Possible ہوں ۔ محال Impossibilityکو شیء نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پراگر کوئی پوچھے کہ کیا اللہ ایک ایسا مثلث بنا سکتا ہے جس کے چار کونے ہوں؟
تو اس کا جواب نہ میں دینا اللہ کی قدرت کا نقص نہیں ہےبلکہ یہ اس سوال کی حماقت ہے ۔ مثلث کے معنی ہی تین کونوں والی شکل کے ہیں۔ جیسے ہی اس کے چار کونے ہوں گےوہ مثلث نہیں رہے گا۔ اسی طرح واجب الوجود کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ کبھی ختم نہ ہو ۔ اگر وہ ختم ہو سکےتو وہ واجب الوجود ہی نہیں رہے گا۔ لہذااللہ کا خود کو مارنا ایک ایسا جملہ ہے جو اپنے اندر تضاد رکھتا ہےجیسے دن اور رات کا یکجا ہونابیک وقت روشنی اور اندھیرے کا موجود ہونا وغیرہ
ایک اور پہلو یہ ہے کہ قدرت ہمیشہ کمال کو ظاہر کرتی ہےنقص کو نہیں ۔ مرناعاجز ہوناجھوٹ بولنا یا تھک جانا کمال نہیں بلکہ نقص ہیں ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ قادر ہےلہذا وہ عاجز ہونے پر بھی قادر ہونا چاہیےتو یہ ایک لغو بات ہے۔ عجز قدرت کی ضد ہے ۔ کسی ہستی کی قدرتِ مطلقہ کا یہ تقاضا ہے کہ اس میں کوئی کمزوری نہ ہو۔ موت ایک کمزوری اور فنائیت ہےلہذا قدرتِ الہی کا اپنی ذات کے بارے میں فنا سے پاک ہونا اس کی قدرت کا کمال ہےنہ کہ اس کی قدرت کی حد ۔
*️⃣ خود کشی کے اعتراض کا مخصوص تجزیہ
اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ کیا اللہ خود کو مار سکتا ہے؟
انسانی یا مخلوق کی سطح پر موت کا مطلب روح کا جسم سے الگ ہونا یا مادی اجزاء کا بکھر جانا ہے ۔ یہ صرف ان چیزوں کے لیے ممکن ہے جو مرکب ہوںیعنی مختلف اجزاء سے مل کر بنی ہوں۔ جب کہ اسلامی تصور الٰہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات بسیط ہےیعنی وہ اجزاء سے پاک اور تقسیم سے مبرا ہے ۔ جو ہستی اجزاء سے مل کر نہیں بنیاسے توڑا یا تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ لہذاموت کا تصورجو کہ اجزاء کی علیحدگی کا نام ہےاللہ کی ذات پر منطقی طور پر صادق ہی نہیں آتا ۔
فلسفیانہ طور پراگر ہم یہ فرض کر لیں کہ اللہ خود کو ختم کر سکتا ہےتو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی ہستی ممکن ہےواجب نہیں ۔ لیکن یہ ابتدائی مفروضے کے خلاف ہےکیونکہ ہم جس ہستی کے بارے میں سوال کر رہے ہیں وہ وہ ہے جو کائنات کا خالق اور قادرِ مطلق ہے۔ اگر وہ ختم ہو سکےتو وہ اللہ نہیں رہا ۔ لہذایہ کہنا کہ اللہ خود کو مار سکتا ہے دراصل یہ کہنے کے مترادف ہے کہ وہ ہستی جو کبھی نہیں مر سکتی وہ مر سکتی ہے ۔ یہ ایک کھلا ہوا منطقی تضاد ہے جس کا قدرت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
امام غزالی نے اپنی تصنیف تہافت الفلاسفہ اور الاقتصاد فی الاعتقاد میں قدرتِ الہی کی بحث کرتے ہوئے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا تعلق ان چیزوں سے ہے جن کا ہونا اور نہ ہونا دونوں ممکن ہوں ۔ امام غزالی کے مطابق اللہ تعالیٰ فاعلِ مختار ہےلیکن اس کے ارادے اور قدرت کا تعلق محالاتِ عقلیہ سے نہیں ہوتا ۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی یہ مطالبہ کرے کہ اللہ موجود کو معدوم اور معدوم کو موجود ایک ہی وقت میں کر دےتو یہ قدرت کا مطالبہ نہیں بلکہ عقل کی نفی ہے ۔ اللہ کی ذات چونکہ واجب ہےاس لیے اس پر قدرت کا تعلّقِ اعدامی (ختم کرنے والا تعلق) ناممکن ہے ۔
ابن سینا نے واجب الوجود کا تصور پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ ایک ایسی ہستی کا ہونا ناگزیر ہے جس کے وجود کے لیے کسی بیرونی سبب کی ضرورت نہ ہو ۔ ابن سینا کی منطق کے مطابق واجب الوجود کی ماہیت ہی موجود ہونا ہے ۔ اگر وہ معدوم ہو سکےتو اس کا مطلب ہے کہ عدم اس کی ماہیت کا حصہ بن سکتا ہےجو کہ واجب الوجود کی تعریف کی ضد ہے۔ لہذاعقل اس بات کو قبول ہی نہیں کرتی کہ واجب الوجود کبھی غیر موجود ہو سکے ۔
اگر ہم اس سوال کو جدید منطق کے ترازو میں تولیں تو بھی نتیجہ وہی نکلتا ہے۔
منطق کا بنیادی اصول ہے کہ کوئی بھی چیز ایک ہی وقت میں اپنی ضد نہیں ہو سکتی۔ فرض کریں: = اللہ واجب الوجود ہے (یعنی اس کا عدم ناممکن ہے)۔ = اللہ خود کو مار سکتا ہے (یعنی اس کا عدم ممکن ہے)۔
۔ لہذا وجاب الوجود کا عدم ممکن ہونا اجتماع ضدین ہے جو ایک منطقی محالLogical Impossibility ہے۔ منطق میں محالات کو کسی بھی صفت کا متعلق نہیں بنایا جا سکتاچاہے وہ قدرت ہی کیوں نہ ہو ۔
فلسفے میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے جسے Category Error کہا جاتا ہے۔ یہ غلطی تب ہوتی ہے جب ایک ایسی صفت کسی ایسی چیز کے ساتھ جوڑ دی جائے جو اس کے زمرے سے ہی تعلق نہ رکھتی ہو۔ مثلاً نمک کتنا میٹھا ہے؟ یا نیلے رنگ کا وزن کتنا ہے؟ یہ سوالات منطقی طور پر بے معنی ہیں ۔ مرنا یا ختم ہونا اس زمرے کی چیز ہے جو حادث ہومادی ہو اور جس کی ابتدا ہو۔ اللہ تعالیٰ ان تمام زمروں سے ماورا ہے ۔ لہذااس کی طرف موت کی نسبت کرنا ویسا ہی ہے جیسے رنگوں کا ذائقہ پوچھنا۔
اس اعتراض سے ملتے جلتے دیگر کئی اعتراضات بھی کیے جاتے ہیں جن کا جواب ایک ہی منطقی اصول پر مبنی ہے۔

ان تمام مثالوں میں مشترک نکتہ یہ ہے کہ معترض قدرت کو نقص کے ساتھ گڈ مڈ کر دیتا ہے۔ اسلام میں قادرِ مطلق کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر اس کام پر قادر ہے جو اس کی عظمت اور کمال کے شایانِ شان ہو ۔
اللہ کی قدرت وسیع ہےلیکن اس کا صدور ہمیشہ اس کے ارادے اور علم کے تابع ہوتا ہے ۔
جیسا کہ قرآن میں ہے:
فعال لما یرید
سورۃ البروج:14
کہ وہ (اللہ) جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ محال چیز کا ارادہ ہی نہیں کرتا ۔ جب ارادہ ہی نہیں ہوتاتو قدرت کے اس سے متعلق ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سے وہی فعل صادر ہوتا ہے جو حکمت پر مبنی ہو ۔ اپنی ذات کو فنا کرنا حکمت کے خلاف ہےکیونکہ اس سے پوری کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے گا جو کہ اللہ کی ربوبیت کے منافی ہے ۔
محی الدین ابن عربی کے نظریہ وحدت الوجود کی روشنی میں دیکھا جائے تو کائنات اور اس کی ہر ایک شئے اپنے وجود کے لیے اللہ کے وجود کی محتاج ہے ۔ اگر (بالفرضِ محال) اللہ خود کو ختم کر لےتو اس کا مطلب ہوگا کہ کائنات کا کوئی ذرہ بھی باقی نہیں رہ سکتا ۔ لیکن اللہ کی صفت القیوم (سب کو تھامنے والا) یہ بتاتی ہے کہ کائنات کا ثبات اس کی ذات سے ہے ۔ جو ذات کائنات کو وجود عطا کرتی ہےاس کا خود فنا ہونا عقلِ سلیم کے نزدیک سب سے بڑا محال ہے۔
اس سے معلوم ہو اکہ اللہ کا خود کو مارنا سرے سے کوئی کام ہی نہیں بلکہ یہ محض الفاظ کا ایک مجموعہ ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔
اسے ایک سادہ مثال سے یوں سمجھیں:
🔴 اگر کوئی پوچھے کہ کیا ایک طاقتور پہلوان اپنی طاقت سے خود کو کمزور بنا سکتا ہے؟
🟢 تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر وہ خود کو کمزور بنا لے گاتو اس کی طاقت ختم ہو جائے گی۔ طاقت کا کام کمزوری کو دور کرنا ہےاسے لانا نہیں۔ اسی طرح بلا تشبیہ و تمثیل اللہ کی قدرت کا کام وجود بخشنا اور کمال لانا ہےعدم اور نقص لانا نہیں ۔
کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر اللہ محال کام نہیں کر سکتاتو پھر وہ قادرِ مطلق کیسے ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ محال پر قدرت نہ ہونا قدرت کی کمزوری نہیں بلکہ محال کی اپنی بے وقعتی اور اپنا نقص ہے کہ وہ اس لائق ہی نہیں کہ قدرت باری تعالیٰ کے ماتحت آ سکے ۔ محال اس چیز کو کہتے ہیں جس میں موجود ہونے کی صلاحیت ہی نہ ہو ۔
🟢 جیسے ایک اندھے کو روشنی نظر نہ آنا روشنی کا قصور نہیں بلکہ بینائی کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے۔
🟢 ایک چیونٹی کی بصارت ہاتھی کے وجود کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے ۔ اس میں نقص ہاتھی کی جسامت کا نہیں وہ تو اپنی جگہ مکمل ہے اس میں چیونٹی کی بصارت کا نقص ہے کہ وہ اس قدر محدود ہے کہ ہاتھی کا وجود اس کی بصارت کے دائرہ سے ہی باہر ہے۔
🟢 اسی طرح محال امور قدرت کے دائرے میں اس لیے نہیں آتے کیونکہ وہ کچھ ہیں ہی نہیں ۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت نہیں بلکہ ان محالات کا قصور ہے ان کا نقص ہے کہ وہ اس لائق ہی نہیں کہ تحت قدرت باری تعالیٰ آ سکیں
آخری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اس لیے دی ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے خالق کی معرفت حاصل کریں نہ کہ اسے ایسی بحثوں میں الجھائیں جو خود عقل کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہوں ۔ اللہ کی قدرت اس کی ذات کی طرح لامحدود ہےلیکن وہ لغو اور محال کاموں سے پاک ہے ۔

@فالوورز
@نمایاں کریں

محمد إسحٰق قریشي السلطاني

05/04/2026

ملحدین کے اعتراضات منطقی تضادات سے بھرپور ہوتے ہیں جیسے کہ ملحدین اعتراض کرتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو اسے کس نے پیدا کیا
ملحدین چونکہ وجود خدا کے قائل نہیں اس لیے اگر وہ وجود خدا فرض کر کے اس پر اعتراض اٹھاتے ہیں تو انہیں خدا کا وہ تصور مدنظر رکھنا ہو گا جو اسلام نے دیا ہے ۔ کیونکہ اگر وہ اپنی طرف سے خدا کا ایک مخصوص تصور گھڑ لیں تو وہ کسی پر حجت نہیں بن سکتا ۔ مکالمہ کا یہ اصول ہے کہ دلائل فریقین کے مسلّمہ عقائد سے دیے جاتے ہیں اور نقد بھی ان کے مسلّمہ اور مستند مآخذات پر کیا جاتا ہے ۔ لہٰذا وجود خدا فرض کرتے وقت بھی ملحدین اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اسلامی تصور الٰہ کو ملحوظ خاطر رکھیں
اب اسلام کی رو سے خدا کی صفت یہ ہے کہ اسے کسی نے پیدا نہیں کیا کیونکہ اگر خدا کو کسی نے پیدا کیا ہوتا تو وہ خدا کیسے کہلاتا وہ تو مخلوق ہوتا اور مخلوق کبھی خدا نہیں ہو سکتی
کیونکہ
خدا کی جو صفات ہیں وہ کبھی بھی مخلوق میں پیدا نہیں ہو سکتیں جیسے کہ خدا کی ایک صفت ہے
بدیع
یعنی عدم سے وجود میں لانے والا
بغیر کسی سابقہ مثال کے نئے سرے سے پیدا کرنے والا
اب مخلوق چاہے سائنسی ترقی کے اوج ثریا کو پہنچ جائے اس میں یہ صفت پیدا نہیں ہو سکتی
اس اعتراض کی مثال یوں ہے جیسے کوئی کہے کہ اگر ستارے اپنا وجود رکھتے ہیں تو وہ دن کو کیوں نہیں دکھائی دیتے اب اس کا غیر منظقی اور باہم متناقض ہونا واضح ہے !

البرھان Al-Burhan

28/09/2024

جب کسی غیر مسلم کو
قبول اسلام کی دعوت دی جائے
تو اسے پڑھنے کے لیے قرآن دیا جاتا ہے
اور معیار یہ ہوتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو ہر قسم کے منطقی تضادات، اغلاط وغیرہ سے مکمل طور پر پاک ہے ۔ کیونکہ انسانی کلام اور ربانی کلام میں مابہ الامتیاز یہ بھی ہے کہ انسانی کلام کبھی بھی اغلاط اور تضادات سے کامل طور پر پاک نہیں ہوتا
✍️ محمد إسحٰق قریشي السلطاني

15/04/2024

قرآن حکیم میں آیہ مبارکہ ہے :
﴿ذالک الکتاب لاریب فیہ ھدی اللمتقین ﴾
سورۃ البقرۃ:2:2
ترجمہ کنزالایمان :
وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن)کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو
اس میں بعض لوگوں کو یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن سے صرف متقین ہی ہدایت پا سکتے ہیں ۔ یعنی متقی و پرہیزگار لوگوں کے علاوہ عام گنہگار مسلمان یا غیر مسلم کے لیے ہدایت نہیں ہے۔
ملحدین قرآن حکیم جیسی آفاقی اور عالمگیر کتاب کو محدود ثابت کرنے کے لیے ایسے اشکالات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں حالانکہ بادی النظر میں ہی اس اشکال کا خلاف حقیقت ہونا واضح ہے۔ مغرب میں غیر مسلم اپنے سابقہ مذاہب کو ترک کر کے اسلام کے دامن میں پناہ لے رہے ہیں اور اس کی اولین وجہ ہی ان کا معروضی مطالعہ قرآن ہے ۔ جب بھی کوئی شخص قرآن حکیم کا معروضی انداز میں مطالعہ کرتا ہے اس کا قلب ہدایت کے نور سے منور ہو جاتا ہے ۔
قرآن حکیم تمام بنی نوع انسان کی ہدایت و راہنمائی کے لیے نازل ہوا ہے کیونکہ یہ کلام جس ذات اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا وہ تاقیامت تمام بنی نوع انسان کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿وما ارسلنٰک الا کآفۃ للناس بشیرا و نذیرا ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون ﴾
سورۃ سباء : 34:28
ترجمہ کنزالایمان :
اور اے محبوب! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔
یعنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام بنی نوع انسان کی طرف پیغمبر اور رسول بنا کر بھیجا گیا ہے کآفۃ للناس کے الفاظ اس پر صراحتاً دلالت کرتے ہیں ۔ چونکہ قرآن حکیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام بنی نوع انسان کی طرف رسالت اس بات کی مقتضی ہے کہ آپ پر نازل کردہ کتاب بھی تاقیامت تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کا منبع ہو ۔ چنانچہ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن هدى للناس وبينات من الهدى والفرقان﴾
سورۃ البقرۃ: 2:185
ترجمہ کنزالایمان:
رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں
اس آیت میں صراحتاً یہ بات مذکور ہے کہ قرآن حکیم تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت و راہنمائی کا منبع ہے۔ اس سے ہدایت حاصل کرنے میں کسی کی تخصیص نہیں بلکہ بالعموم چاہے کوئی چھوٹا ہے یا بڑا ہے مسلم ہے یا غیر مسلم ہے متقی ہے یا گنہگار ہے ، ہر کوئی اس سے ہدایت حاصل کر سکتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت ہے تو سورۃ البقرۃ کی آیہ 2 میں اس کی ہدایت کو متقین کے لیے کیوں بتایا گیا ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ قرآن حکیم کی نظر میں افضلیت کا معیار تقویٰ ہے
﴿ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم﴾
سورۃ الحجرات: 49:13
ترجمہ کنزالایمان:
بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے
لہذا یہ بات واضح ہے کہ قرآن سے سب سے زیادہ ہدایت حاصل کرنے والے متقی ہی ہیں ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو شخص جس قدر احکام و موضوعات قرآن سے واقف ہو گا وہ اسی بقدر اس سے ہدایت حاصل کرنے والا ہو گا ۔ اس کے علاوہ اس آیت کی تفسیر میں امام ابوعبد اللہ قرطبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں :
" اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے ساتھ المتقین کو خاص فرمایا ہے ۔ اگرچہ قرآن ساری مخلوق کے لیے ہے یہ متقین کو شرف بخشنے کے لیے فرمایا ہے ۔ کیونکہ وہ ایمان لائے اور جو کچھ اس قرآن میں ہے اس کی تصدیق کی "
تفسیر قرطبی مترجم ، جلد 1 ، ص 178، ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور-کراچی
اس کو مثال کے ساتھ مزید واضح کرنا چاہوں گا
کوئی شخص ایک مخصوص موضوع پر عام فہم کتاب شائع کرواتا ہے جو تمام انسانوں کے فائدے کے لیے ہے اور یہ کہتا ہے کہ اس کتاب سے وہ لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو اس فن یا موضوع پر مہارت رکھتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ ان ماہرین کے علاوہ کوئی عام شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کتاب کے مندرجات کو سب سے بہتر ماہرین سمجھ سکتے ہیں ۔ اور دیگر لوگ جو اس فن سے واقف نہیں ہیں وہ بھی اپنی ذہنی صلاحیت کے اعتبار سے اس سے مستفید ہوتے ہیں اور اس میں کوئی تباین نہیں ۔
جیسے کوئی شخص دعوت طعام میں ایک علاقے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو مدعو کرے اور پھر معززین علاقہ کا الگ سے نام لیکر مدعو کرے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس دعوت میں فقط معززین ہی مدعو ہیں بلکہ معززین کا الگ سے نام لیکر انہیں مدعو کرنا ان کی عزت افزائی کے سبب ہوتا ہے ۔ بلاتشبیہ و تمثیل قرآن حکیم میں ہدایت کو متقین کے ساتھ خاص کرنا فقط ان کے اعزاز و تکریم کی خاطر ہے نہ کہ تحدید کی خاطر ۔۔۔!!!

✍️مُحمّد إسحٰق قریشي ألسلطاني

13/04/2024

ہمارے معاشرے میں
الحاد کی بنیاد کسی علمیت پر نہیں
بلکہ نفس پرستی اور جہالت پر کھڑی ہے ۔
اسی لیے جب یہاں کے دیسی ملحدین الحاد پر اٹھائے گئے عقلی و منطقی سوالات کے جواب نہیں دے سکتے تو الحاد کو لات مار کر لا ادریت اور وحدت ادیان جیسے نظریات کی گود میں جا چھپتے ہیں ۔۔۔!!!

✍️مُحمّد إسحٰق قریشي ألسلطاني

Address

Hồ Chí Minh
Ho Chi Minh City
11111

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Cardina Chính Hãng posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share