01/31/2026
تصوف کسی نئی بات کا نام نہیں،
یہ نہ کسی خاص لباس میں محدود ہے
اور نہ ہی کسی مخصوص اندازِ گفتگو میں۔
تصوف دراصل دل کی بیداری ہے،
وہ کیفیت ہے جہاں انسان اپنے رب کے حضور
صرف جسم کے ساتھ نہیں
بلکہ پورے وجود کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔
یہ وہ راستہ ہے جہاں لفظ کم پڑ جاتے ہیں
اور حال خود بولنے لگتا ہے۔
یہاں عبادت محض رسم نہیں رہتی،
بلکہ محبت، خوف، امید
اور سپردگی کا حسین امتزاج بن جاتی ہے۔
سجدہ صرف زمین تک محدود نہیں رہتا،
دل بھی جھکنے لگتا ہے،
اور آنکھوں کے آنسو
اندر کی دنیا کو دھونے لگتے ہیں۔
راہِ تصوف میں سب سے پہلی جنگ
کسی اور سے نہیں
بلکہ اپنے نفس سے ہوتی ہے۔
یہ نفس جو تعریف کا بھوکا ہے،
جو چاہتا ہے کہ لوگ اسے مانیں،
جو عبادت میں بھی اپنا حصہ تلاش کرتا ہے۔
جو شخص اس نفس کو پہچان لے
اور اس کے فریب کو سمجھ لے،
وہی حقیقت میں سلوک کی پہلی منزل میں داخل ہوتا ہے۔
اسی سفر میں شیخ کی نسبت ایک چراغ کی مانند ہوتی ہے۔
یہ نسبت کسی ظاہری تعلق کا نام نہیں،
بلکہ دل سے دل کا رشتہ ہے۔
جب یہ نسبت سچائی کے ساتھ قائم ہو جائے
تو مرید تنہائی میں بھی خود کو اکیلا محسوس نہیں کرتا۔
اسے معلوم ہوتا ہے کہ
اس کا ہاتھ تھامنے والا
اسے اللہ کی طرف لے جا رہا ہے،
نہ کہ اپنی طرف۔
تصوف میں نہ رفتار دیکھی جاتی ہے
نہ ہی تعداد۔
یہاں نہ زیادہ ذکر پر ناز ہے
اور نہ کم عمل پر مایوسی۔
یہاں بس اخلاص دیکھا جاتا ہے۔
قدم چاہے لرزتے ہوں،
رفتار چاہے آہستہ ہو،
اگر رخ اللہ کی طرف ہے
تو راستے خود آسان ہوتے چلے جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ صوفیا کرام نے
ہمیشہ ظاہر کے ساتھ باطن کی اصلاح پر زور دیا۔
کیونکہ جب تک دل صاف نہ ہو
اعمال کا نور مکمل نہیں ہوتا۔
دل صاف ہو جائے
تو معمولی عمل بھی وزن پکڑ لیتا ہے
اور دل آلودہ ہو
تو بڑے سے بڑا عمل بھی
اثر کھو دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وہ آنکھ عطا فرمائے
جو اپنی خامیاں دیکھ سکے،
وہ دل عطا فرمائے
جو نصیحت قبول کر سکے،
اور وہ نسبت نصیب فرمائے
جو ہمیں خود سے نکال کر
صرف اللہ تک پہنچا دے۔
آمین یا رب العالمین 🤍