02/09/2026
`🪻نبی کی سیرت🪻`
*_Day:11*
*نبیﷺ کی زندگی!*
♥︎ *تبلیغ کا آغاز!*
ان آیات کے اترنے کے بعد نبی دعوت و تبلیغ کے کام میں لگ گئے ۔ چونکہ آپ کی قوم اکھڑ اور بت پرست تھی، باپ دادا سے جو کچھ ہوتا آیا تھا اس کوحق سمجھتی تھی ، اس میں اکڑ اور تکبر بھی بہت تھا، نیز وہ اپنے معاملات کے فیصلے تلوار سے کیا کرتی تھی، اس لیے اللہ نے آپ کے لیے یہ راستہ چنا کہ تبلیغ کا کام خاموشی اور راز داری سے کریں اور صرف اس کو مخاطب کریں جو بھلا ، حق پسند اور قابل اطمینان ہو اور ان میں بھی سب سے پہلے اپنے گھر، کنبے، قبیلے اور دوست احباب کو دعوت دیں۔
♥︎ *پہلے پہل ایمان لانے والے*
اس پروگرام کے مطابق نبی نے دعوت و تبلیغ شروع کی تو کئی خوش قسمت لوگوں نے اسے لپک کر قبول کیا اور آپ پر ایمان لے آئے۔ان میں سب سے پہلا نام حضرت خدیجہ کا ہے۔ وہ آپ کی بیوی ہونے کی وجہ سے آپ کے بلند اخلاق اور اعلیٰ کردار کو سب سے اچھی طرح جانتی تھیں۔ انھیں یہ بھی پتہ تھا کہ ایک آخری نبی کی آمد ابھی باقی ہے۔ وہ آپ کے تعلق سے کچھ معجزانہ حالات و واقعات بھی سن چکی تھیں اور آپ میں نبوت ورسالت کی جھلک بھی دیکھ چکی تھیں۔ ان سب پر مستزاد یہ کہ ورقہ جیسے صاحب علم و بصیرت نے بتایا تھا کہ حرا میں جو فرشتہ آپ کے پاس آیا تھا، وہ حضرت جبریل تھے اور جو کچھ لائے تھے، وہ وحی الہی تھی اور سب سے آخری بات یہ کہ سورہ مدثر کی ابتدائی آیات جب اتر رہی تھیں تو حضرت خدیجہ بنفس نفیس وہاں موجود تھیں، اس لیے یہ بالکل فطری بات تھی کہ وہ سب سے پہلے ایمان لاتیں۔ ادھر ان آیات کے اترتے ہی نبی اپنے جگری دوست ابو بکر ان کے پاس گئے اور انھیں اپنی نبوت ورسالت سے آگاہ کرتے ہوئے ایمان لانے کی دعوت دی۔ انھوں نے بے کھٹک ایمان قبول کیا اور فوراً تصدیق کرتے ہوئے حق کی شہادت دی، چنانچہ وہ اس امت کے سب سے پہلے مومن ہیں۔ وہ آپ سے دو سال چھوٹے تھے اور آپ کا کھلا چھپا سب کچھ جانتے تھے، لہذا ان کا ایمان لانا آپ کی سچائی کا بہترین ثبوت ہے۔پہلے پہل ایمان لانے والوں میں حضرت علی بھی شامل ہیں ۔ وہ نبی کے زیر کفالت تھے۔ آپ ہی کے پاس رہتے تھے اور آپ ہی ان کے کھانے پینے کا بندوبست اور ان کی دیکھ بھال کرتے تھے کیونکہ قریش قحط سالی سے دو چار تھے اور ابو طالب کے پاس مال کم اور اولاد زیادہ تھی ، لہذا ان کے بیٹے جعفر کو حضرت عباس پال رہے تھے اور حضرت علی کو نبی کریم نے پالا تھا۔ وہ آپ کے بچوں کی طرح آپ کے یہاں رہتے تھے اور آغاز نبوت کے وقت بلوغت کے قریب پہنچ چکے تھے اور ایک قول کے مطابق ابھی دس سال کے تھے۔ جو کچھ آپ کرتے وہی وہ بھی کرتے تھے، لہذا جب آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہو گئے اور وہ بچوں میں سب سے پہلے مومن تھے۔ اسی طرح پہلے پہل ایمان لانے والوں میں رسول اللہ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ بن شراحیل کلبی تھے۔ یہ دور جاہلیت میں گرفتار کر کے بیچ دیے گئے تھے، پھر انھیں حکیم بن حزام نے خرید کر اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کو دے دیا تھا اور حضرت خدیجہ نے انھیں رسول اللہ کے حوالے کر دیا تھا۔ جب ان کے والد اور چچا کو ان کی موجودگی کا علم ہوا تو وہ رسول اللہ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیں اور فدیہ لینے میں بھی احسان فرمائیں۔ آپ نے زید کو بلایا اور اختیار دیا کہ چاہے آپ کے پاس رہیں، چاہے والد اور چچا کے ساتھ چلے جائیں۔ انھوں نے آپ کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ آپ نے اسی وقت قریش کے مجمع میں جا کر اعلان فرمایا:
گواہ رہو آج سے زید میرا بیٹا ہے۔ وہ میرا وارث اور میں اس کا وارث ہوں گا۔
اور اسی دن سے ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا۔ والد اور چچا یہ منظر دیکھ کر بخوشی واپس چلے گئے۔ یہ سارا واقعہ نبوت سے پہلے کا ہے، اسلام آیا تو اس نے منہ بولے بیٹے کا رواج ختم کر دیا اور حضرت زید کو زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔یہ چاروں حضرات اس دن ایمان لائے تھے، جس دن سورت مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئی تھیں۔ کہنے والوں نے ان میں سے ہر ایک کے متعلق کہا ہے کہ سب سے پہلے وہی ایمان لائے۔
*جـــــــــاری ہـــے _ _ _ _ _ _*