SJM Islam365

SJM Islam365 مرنے کے بعد کام صرف اعمال انے ہیں یا وہ صدقہ جاریہ جو اپ دنیا میں چھوڑ جائیں اور مرنے کے بعد اس کا ثواب اپ کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا رہے

🌿✨ أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ✨🌿🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ 🌸🌹 اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُ...
04/06/2026

🌿✨ أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ✨🌿
🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ 🌸

🌹 اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ 🌹

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ 💫

🌿🧡 اللّٰہ کو ماننا... یا اللّٰہ کی ماننا؟ 🧡🌿

ہم میں سے اکثر لوگ پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم اللّٰہ پر ایمان رکھتے ہیں، اور یہی ہماری سب سے بڑی دولت ہے۔

مگر کبھی ہم نے اپنے دل سے یہ سوال کیا ہے کہ:

"کیا ہم صرف اللّٰہ کو مانتے ہیں، یا اللّٰہ کی بھی مانتے ہیں؟"

کیونکہ اللّٰہ کو مان لینا ایمان کی ابتدا ہے، مگر اللّٰہ کی ماننا بندگی، محبت اور قربِ الٰہی کی نشانی ہے۔

جب بندہ اپنے رب کے قرب سے آشنا ہو جاتا ہے تو پھر اس کے احکام اسے بوجھ محسوس نہیں ہوتے، بلکہ اپنے محبوب کی رضا کا راستہ معلوم ہوتے ہیں۔ ❤️

🔆✨ قرآن کی روشنی ✨🔆

اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾

"اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔"

📖 (سورۃ البقرۃ: 186)

🌿✨ تدبرِ قرآن✨🌿

غور کیجیے!

قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: "آپ کہہ دیجیے"۔

لیکن اس آیت میں بندے کے سوال اور رب کے جواب کے درمیان کوئی واسطہ ذکر نہیں فرمایا، بلکہ فوراً ارشاد ہوا:

"میں قریب ہوں۔"🌙

گویا ربِ کریم اپنے بندے کو یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ تمہاری آہ، تمہاری دعا، تمہارا آنسو اور تمہارا درد مجھ سے دور نہیں۔

تم اکیلے نہیں ہو...
تمہارا رب تمہارے قریب ہے۔ ❤️

✨ حدیثِ مبارکہ ✨

رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:♥️

"میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔"

📚 (صحیح بخاری: 6502)

🌿 فہمِ حدیث✨

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللّٰہ کا قرب صرف ایک احساس نہیں بلکہ ایک سفر ہے۔

یہ سفر فرض عبادات سے شروع ہوتا ہے، اخلاص سے آگے بڑھتا ہے، اور اطاعت و محبت کے راستے سے گزرتا ہوا بندے کو اس مقام تک پہنچاتا ہے جہاں اللّٰہ اس سے محبت فرمانے لگتا ہے۔

اور اس سے بڑی کامیابی کیا ہو سکتی ہے؟ 💫

🌿 ⚜️مدلّل واقعہ⚜️🌿

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کا شمار ان خوش نصیب لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے صرف اللّٰہ کو نہیں مانا بلکہ اللّٰہ کی بھی مانی۔

جب لوگ معراج کے واقعے پر حیران اور متردد تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا:

"اگر یہ بات محمد ﷺ نے فرمائی ہے تو یقیناً سچ فرمائی ہے۔"

📚 (سیرت ابن ہشام)✳️

یہ صرف تصدیق نہیں تھی، یہ قرب کا اثر تھا۔

جب دل اپنے رب اور اپنے نبی ﷺ سے جڑ جائے تو پھر سوال کم اور اطاعت زیادہ ہو جاتی ہے۔ ❤️

🌿✨ اصلاحی پہلو✨🌿

آج ہم میں سے بہت سے لوگ اللّٰہ کی رحمت چاہتے ہیں، مگر اس کے احکام پر عمل کرنے میں تردد محسوس کرتے ہیں۔

♻️ ہم دعا کی قبولیت چاہتے ہیں،
مگر نماز میں سستی کرتے ہیں۔

♻️ ہم سکون چاہتے ہیں،
مگر ذکر سے غفلت برتتے ہیں۔

♻️ ہم قرب چاہتے ہیں،
مگر اطاعت سے دور رہتے ہیں۔

یاد رکھیے...

اللّٰہ کا قرب صرف خواہش سے نہیں ملتا، بلکہ فرمانبرداری سے ملتا ہے۔

🌿 معاشرتی پیغام🔆

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں سکون ہو، دلوں میں اطمینان ہو اور معاشرے میں خیر پیدا ہو تو ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ:

"ہم اللّٰہ کو مانتے ہیں۔"☀️

بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ:

"کیا ہماری زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ہم اللّٰہ کی مانتے بھی ہیں؟"

"کیونکہ قربِ الٰہی کا اثر صرف مسجد اور گھروں میں ہی نہیں، بلکہ انسان کے کردار، معاملات، گفتگو، اخلاق اور رویّوں میں بھی نظر آتا ہے۔"
🌿☀️

✳️ آج کا عملی قدم🌿

آج چند لمحوں کے لیے تنہائی میں بیٹھ کر اپنے دل سے ایک سوال کیجیے:

"کون سا ایسا حکم ہے جسے میں جانتا تو ہوں، مگر ابھی تک پوری طرح اپنایا نہیں؟"

پھر اللّٰہ سے مدد مانگیے اور اس کی طرف ایک قدم بڑھائیے۔

یقین جانیے...💯

بندہ ایک قدم بڑھاتا ہے، رحمت کئی قدم آگے بڑھ کر استقبال کرتی ہے۔ ❤️

🤲 ـــــ""دعا""ـــــ✨

یا اللّٰہ!✨

ہمیں اپنا قرب نصیب فرما۔

ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے آباد فرما۔

ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو صرف تجھے مانتے ہی نہیں بلکہ تیری مانتے بھی ہیں۔

یا رب!♥️

ہماری زندگیوں کو اپنی اطاعت کا نمونہ بنا دے، ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہمارے دلوں کو سکون عطا فرما، اور ہمیں اپنی رضا اور محبت نصیب فرما۔

آمین یا رب العالمین 🤲♥️🌹
ان شاءاللہ آمین یا الرحم الراحمین 💯 ♥️

#اللہ #صبر #مومن #اخلاص #اصلاح #حق #دعائیں
@ everyone

رات کا وقت ہے۔ چاروں طرف خاموشی ہے۔ دروازے بند ہیں، لوگ سو چکے ہیں، بازار خاموش ہیں، فون خاموش ہیں، گفتگو ختم ہو چکی ہے،...
04/06/2026

رات کا وقت ہے۔ چاروں طرف خاموشی ہے۔ دروازے بند ہیں، لوگ سو چکے ہیں، بازار خاموش ہیں، فون خاموش ہیں، گفتگو ختم ہو چکی ہے، لیکن ایک بندہ جاگ رہا ہے۔ اس کے دل میں سوال ہیں، پریشانیاں ہیں، خواہشات ہیں، خوف ہیں، امیدیں ہیں اور شاید کچھ ایسے زخم بھی ہیں جو اس نے کسی انسان کو نہیں دکھائے۔

ایسے وقت میں قرآن ایک عجیب منظر ہمارے سامنے رکھتا ہے۔

وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ۚ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ

"اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دیجیے) میں قریب ہوں، جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔"
(سورۃ البقرہ: 186)

غور کیجیے!

قرآن میں کئی مقامات پر سوالات کے جواب میں "قل" یعنی "کہہ دیجیے" آیا ہے، لیکن یہاں درمیان سے "قل" ہٹا دیا گیا۔

کیوں؟

کیونکہ اللہ تعالیٰ گویا یہ بتا رہے ہیں کہ میرے اور میرے بندے کے درمیان فاصلے اتنے نہیں کہ درمیان میں واسطے بڑھائے جائیں۔

فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ

"میں قریب ہوں"

کتنا عجیب جملہ ہے۔

جب انسان دنیا والوں سے مایوس ہوتا ہے تو اللہ کہتا ہے: میں قریب ہوں۔

جب لوگ سمجھنے سے انکار کرتے ہیں تو اللہ کہتا ہے: میں قریب ہوں۔

جب دل ٹوٹتا ہے تو اللہ کہتا ہے: میں قریب ہوں۔

پھر فرمایا:

اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ

"میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں"

یہاں "الداع" فرمایا، یعنی صرف نیک، عالم، کامل یا خاص بندہ نہیں فرمایا بلکہ پکارنے والا فرمایا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"اللہ تعالیٰ حیا فرماتا ہے کہ بندہ ہاتھ اٹھائے اور وہ انہیں خالی واپس لوٹا دے۔"

یہ حدیث بتا رہی ہے کہ دعا صرف الفاظ کا نام نہیں، تعلق کا نام ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر دعا کو آخری آپشن بنا دیتے ہیں، جبکہ قرآن اسے پہلی پناہ گاہ بنا رہا ہے۔

ہم ڈاکٹر کے پاس فوراً جاتے ہیں، دوستوں سے فوراً بات کرتے ہیں، لوگوں سے فوراً مشورہ کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات دعا بہت دیر سے یاد آتی ہے۔

سوچیے!

اگر اللہ خود فرما رہا ہے:

فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ

تو پھر انسان کیوں دوری محسوس کرتا ہے؟

شاید اس لیے کہ زبان دعا کرتی ہے لیکن دل پوری طرح حاضر نہیں ہوتا۔

جب بھی دعا کریں تو اپنی ضرورتوں کی فہرست سے پہلے اپنی محتاجی کو سامنے لائیں۔

مغفرت کی محتاجی،
ہدایت کی محتاجی،
سکون کی محتاجی،
اخلاص کی محتاجی،
ثابت قدمی کی محتاجی،
دل کے سکون کی محتاجی،
آخرت کی کامیابی کی محتاجی۔

پھر ہاتھ اٹھائیں۔

کیونکہ جو بندہ اپنی محتاجی سمجھ لیتا ہے، وہی حقیقی دعا کرنا سیکھ لیتا ہے۔

اور پھر انسان دل سے کہنے لگتا ہے:

میرے لیے کافی ہے کہ میرا رب سن رہا ہے۔

04/06/2026
عدم سے وجود تک: کائنات کے سب سے پرانے عشق کا بلاوا!القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرةآیت نمبر 21ترجمہ:لوگو، بندگی اختیار کرو ...
04/06/2026

عدم سے وجود تک: کائنات کے سب سے پرانے عشق کا بلاوا!

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 21

ترجمہ:
لوگو، بندگی اختیار کرو اپنے اُس ربّ کی جو تمھارا اور تم سے پہلے لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالِق ہے، تمھارے بچنے کی توقع اِسی صورت سے ہو سکتی ہے

سورہ البقرہ کی اس مبارک آیت میں اللہ رب العزت کا انسان کو پکارنا محض ایک حاکمانہ حکم نہیں، بلکہ یہ کائنات کے سب سے گہرے، قدیم اور سچے عشق کا والہانہ بلاوا ہے۔ فلسفیانہ نظر سے دیکھا جائے تو "خالق" اور "مخلوق" کا یہ تعلق روح کے اپنے اصل سے جڑے رہنے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے تمہیں عدم کے اندھیروں سے نکال کر وجود کی روشنی بخشی، اور تمہاری مٹی میں اپنی محبت کی پھونک ماری، وہی تمہارا حقیقی مرکز ہے۔ جب وہ کہتا ہے کہ "بندگی اختیار کرو" تو گویا وہ اپنے بندے سے مخاطب ہے کہ اے تھکے ہارے مسافر! دنیا کی عارضی اور جھوٹی محبتوں کے پیچھے کب تک بھٹکتے رہو گے؟ آؤ، میری بندگی کی پناہ میں آ جاؤ، جہاں تمہاری روح کو وہ سکون ملے گا جس کی تلاش میں تم صدیوں سے سرگردان ہو۔ یہ بندگی دراصل ایک عاشق کا اپنے محبوب کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا ہے، جہاں دل پکار اٹھتا ہے کہ میری ابتدا بھی تو ہے، میری انتہا بھی تو ہے، اور اس بندگی کا حاصل "تقویٰ" (بچنے کی توقع) ہے، جو روح کو دنیا کے ہر خوف اور زوال سے آزاد کر کے محبوب کے قرب کے لافانی حصار میں لے آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی محبت میں زندگی گزارنے کا فن یہ ہے کہ ہماری بندگی محض چند بے جان رسموں کا نام نہ رہے، بلکہ ہمارا ہر سانس ایک خاموش عبادت بن جائے۔ شاعرانہ انداز میں کہیں تو، جب بندہ صبح کی پہلی کرن دیکھے تو اسے محبوب کی مسکراہٹ یاد آئے، اور جب رات کا اندھیرا چھائے تو وہ تنہائی میں اپنے مالک سے راز و نیاز کی گفتگو کرے۔ بندگی اختیار کرنے کا سچا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی کے سانچے میں ڈھال لیں؛ اگر وہ ہمیں آزمائے تو ہم صبر کے موتی پروئیں، اور اگر وہ نوازے تو ہمارا دل شکر کے گیت گائے۔ جب زندگی اس نہج پر آ جاتی ہے، تو انسان کا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا اور لوگوں سے محبت کرنا بھی خالصتاً خدا کے لیے ہو جاتا ہے۔ تب دنیا کا ہر کام، چاہے وہ رزق کی تلاش ہو یا اپنوں کی دیکھ بھال، ایک خوبصورت بندگی کا روپ دھار لیتا ہے، اور انسان مٹی کا پُتلا ہوتے ہوئے بھی اِسی زمین پر رہتے ہوئے محبوبِ حقیقی کے ساتھ عرش کا سفر طے کر رہا ہوتا ہے۔





قیامت کے دن جب انسان کے اعضاء انکے کیے گئے اعمال کے بارے میں گواہی دیں گے اور ہاتھ اور پاؤں بول کر گواہی دیں گے اللہ تعا...
03/06/2026

قیامت کے دن جب انسان کے اعضاء انکے کیے گئے اعمال کے بارے میں گواہی دیں گے اور ہاتھ اور پاؤں بول کر گواہی دیں گے اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت کی رسوائی سے بچائیں آ مین

03/06/2026

🦋🌙✨
*جب دنیا کے سہارے کمزور پڑ جائیں، تو اپنے رب کی طرف رجوع کریں 🤍✨*
`حَسْبِىَ اللّٰهُ ایک ایسا یقین ہے جو دل کو سکون، روح کو طاقت اور زندگی کو اطمینان عطا کرتا ہے۔*`
*`جس کا اللہ کافی ہو، اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔* 🌿

03/06/2026

آج کی خوبصورت نصیحت .
جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اس کے دل کو اپنی طرف مائل کر دیتا ہے۔

اپنی دعاؤں میں دوسروں کو یاد رکھا کریں، کیونکہ فرشتے آپ کے لیے بھی وہی دعا کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کی مغفرت فرمائے اور ہمارے دلوں کو سكون عطا فرمائے۔ آمین
اگر آپ کو یہ اسلامی پیغام پسند آئے تو مزید ایسی پوسٹس کے لیے میرے پروفائل کو فالو کر لیں۔ جزاکم اللہ خیراً

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:"جس نے خوب استغفار کرنا لازم کر لیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی س...
03/06/2026

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:
"جس نے خوب استغفار کرنا لازم کر لیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ اور ہر غم سے راحت کا سامان پیدا فرما دے گا۔"
استغفار اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور بندے کے لیے نجات کا ذریعہ ہے۔ جو شخص کثرت سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا اور اللہ کی طرف رجوع کرتا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مشکلات کو آسان فرما دیتا ہے، پریشانیوں اور غموں کو دور کر دیتا ہے اور اس کے لیے ایسی جگہوں سے آسانیاں اور رزق کے اسباب پیدا کر دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ استغفار صرف گناہوں کی معافی ہی نہیں بلکہ دل کے سکون، زندگی کی برکت اور مشکلات سے نجات کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔

Address

Sabeen Road , Azeziyah
Jeddah
33334

Website

https://www.facebook.com/groups/556406308574110/user/100064478448038/, https://www.i

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SJM Islam365 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share