SJM Islam365

SJM Islam365 مرنے کے بعد کام صرف اعمال انے ہیں یا وہ صدقہ جاریہ جو اپ دنیا میں چھوڑ جائیں اور مرنے کے بعد اس کا ثواب اپ کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا رہے

02/09/2026

`🪻نبی کی سیرت🪻`

*_Day:11*

*نبیﷺ کی زندگی!*

♥︎ *تبلیغ کا آغاز!*
ان آیات کے اترنے کے بعد نبی دعوت و تبلیغ کے کام میں لگ گئے ۔ چونکہ آپ کی قوم اکھڑ اور بت پرست تھی، باپ دادا سے جو کچھ ہوتا آیا تھا اس کوحق سمجھتی تھی ، اس میں اکڑ اور تکبر بھی بہت تھا، نیز وہ اپنے معاملات کے فیصلے تلوار سے کیا کرتی تھی، اس لیے اللہ نے آپ کے لیے یہ راستہ چنا کہ تبلیغ کا کام خاموشی اور راز داری سے کریں اور صرف اس کو مخاطب کریں جو بھلا ، حق پسند اور قابل اطمینان ہو اور ان میں بھی سب سے پہلے اپنے گھر، کنبے، قبیلے اور دوست احباب کو دعوت دیں۔

♥︎ *پہلے پہل ایمان لانے والے*
اس پروگرام کے مطابق نبی نے دعوت و تبلیغ شروع کی تو کئی خوش قسمت لوگوں نے اسے لپک کر قبول کیا اور آپ پر ایمان لے آئے۔ان میں سب سے پہلا نام حضرت خدیجہ کا ہے۔ وہ آپ کی بیوی ہونے کی وجہ سے آپ کے بلند اخلاق اور اعلیٰ کردار کو سب سے اچھی طرح جانتی تھیں۔ انھیں یہ بھی پتہ تھا کہ ایک آخری نبی کی آمد ابھی باقی ہے۔ وہ آپ کے تعلق سے کچھ معجزانہ حالات و واقعات بھی سن چکی تھیں اور آپ میں نبوت ورسالت کی جھلک بھی دیکھ چکی تھیں۔ ان سب پر مستزاد یہ کہ ورقہ جیسے صاحب علم و بصیرت نے بتایا تھا کہ حرا میں جو فرشتہ آپ کے پاس آیا تھا، وہ حضرت جبریل تھے اور جو کچھ لائے تھے، وہ وحی الہی تھی اور سب سے آخری بات یہ کہ سورہ مدثر کی ابتدائی آیات جب اتر رہی تھیں تو حضرت خدیجہ بنفس نفیس وہاں موجود تھیں، اس لیے یہ بالکل فطری بات تھی کہ وہ سب سے پہلے ایمان لاتیں۔ ادھر ان آیات کے اترتے ہی نبی اپنے جگری دوست ابو بکر ان کے پاس گئے اور انھیں اپنی نبوت ورسالت سے آگاہ کرتے ہوئے ایمان لانے کی دعوت دی۔ انھوں نے بے کھٹک ایمان قبول کیا اور فوراً تصدیق کرتے ہوئے حق کی شہادت دی، چنانچہ وہ اس امت کے سب سے پہلے مومن ہیں۔ وہ آپ سے دو سال چھوٹے تھے اور آپ کا کھلا چھپا سب کچھ جانتے تھے، لہذا ان کا ایمان لانا آپ کی سچائی کا بہترین ثبوت ہے۔پہلے پہل ایمان لانے والوں میں حضرت علی بھی شامل ہیں ۔ وہ نبی کے زیر کفالت تھے۔ آپ ہی کے پاس رہتے تھے اور آپ ہی ان کے کھانے پینے کا بندوبست اور ان کی دیکھ بھال کرتے تھے کیونکہ قریش قحط سالی سے دو چار تھے اور ابو طالب کے پاس مال کم اور اولاد زیادہ تھی ، لہذا ان کے بیٹے جعفر کو حضرت عباس پال رہے تھے اور حضرت علی کو نبی کریم نے پالا تھا۔ وہ آپ کے بچوں کی طرح آپ کے یہاں رہتے تھے اور آغاز نبوت کے وقت بلوغت کے قریب پہنچ چکے تھے اور ایک قول کے مطابق ابھی دس سال کے تھے۔ جو کچھ آپ کرتے وہی وہ بھی کرتے تھے، لہذا جب آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہو گئے اور وہ بچوں میں سب سے پہلے مومن تھے۔ اسی طرح پہلے پہل ایمان لانے والوں میں رسول اللہ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ بن شراحیل کلبی تھے۔ یہ دور جاہلیت میں گرفتار کر کے بیچ دیے گئے تھے، پھر انھیں حکیم بن حزام نے خرید کر اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کو دے دیا تھا اور حضرت خدیجہ نے انھیں رسول اللہ کے حوالے کر دیا تھا۔ جب ان کے والد اور چچا کو ان کی موجودگی کا علم ہوا تو وہ رسول اللہ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیں اور فدیہ لینے میں بھی احسان فرمائیں۔ آپ نے زید کو بلایا اور اختیار دیا کہ چاہے آپ کے پاس رہیں، چاہے والد اور چچا کے ساتھ چلے جائیں۔ انھوں نے آپ کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ آپ نے اسی وقت قریش کے مجمع میں جا کر اعلان فرمایا:
گواہ رہو آج سے زید میرا بیٹا ہے۔ وہ میرا وارث اور میں اس کا وارث ہوں گا۔
اور اسی دن سے ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا۔ والد اور چچا یہ منظر دیکھ کر بخوشی واپس چلے گئے۔ یہ سارا واقعہ نبوت سے پہلے کا ہے، اسلام آیا تو اس نے منہ بولے بیٹے کا رواج ختم کر دیا اور حضرت زید کو زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔یہ چاروں حضرات اس دن ایمان لائے تھے، جس دن سورت مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئی تھیں۔ کہنے والوں نے ان میں سے ہر ایک کے متعلق کہا ہے کہ سب سے پہلے وہی ایمان لائے۔

*جـــــــــاری ہـــے _ _ _ _ _ _*

� جبلِ اُحد — رات کا حسین منظر 🏔️رات کی خاموشی میں جب جبلِ اُحد کو دیکھا جائے تو دل خود بخود اُن عظیم یادوں میں کھو جاتا...
02/09/2026

� جبلِ اُحد — رات کا حسین منظر 🏔️

رات کی خاموشی میں جب جبلِ اُحد کو دیکھا جائے تو دل خود بخود اُن عظیم یادوں میں کھو جاتا ہے جو اس پہاڑ سے وابستہ ہیں۔
یہ وہ اُحد ہے جس کے بارے میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: “اُحد ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اُحد سے محبت کرتے ہیں۔”

دن کی روشنی میں نظر آنے والا یہ پہاڑ رات کی تاریکی میں اور بھی پُراسرار اور باوقار محسوس ہوتا ہے۔ ✨

اے اللہ! ہمیں مدینہ منورہ کی بار بار حاضری نصیب فرما، اُحد کی زیارت نصیب فرما، اور ہمارے دلوں میں اپنے محبوب ﷺ کی سچی محبت ہمیشہ قائم رکھ۔
آمین یا رب العالمین 🤲❤️

02/09/2026

یہ آیت انسان کے دل کو یہ یقین دلاتی ہے کہ اللہ کبھی ہم سے دور نہیں۔ جب دنیا ساتھ چھوڑ دے، جب دل کی بات کسی کو سمجھ نہ آئے، جب انسان خاموشی میں اپنے آنسو چھپائے، تب بھی اللہ اس کے حال سے بےخبر نہیں ہوتا۔ وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے؛ ہماری ہر دھڑکن، ہر آہ، ہر دعا اور ہر وہ درد جانتا ہے جو ہم زبان سے بیان نہیں کر پاتے۔ اس لیے جب کبھی دل ٹوٹے یا تنہائی محسوس ہو تو یاد رکھو، تم اکیلے نہیں ہو—اللہ تمہارے ساتھ ہے، تمہیں دیکھ رہا @ہے، تمہیں سن رہا ہے اور تمہارے دل کا حال جانتا ہے۔ 🤍

#اللہ #قرآن #صبر #دعا #توبہ #ایمان #اسلام Voice of Pakistan

01/09/2026
🌸 نیکی کی دعوت دیں، برائی سے روکیں 🌸آئیے ہم ایک دوسرے کو نیکی کی طرف بلائیں اور برائی سے روکیں، کیونکہ ایک اچھی بات بھی ...
01/09/2026

🌸 نیکی کی دعوت دیں، برائی سے روکیں 🌸

آئیے ہم ایک دوسرے کو نیکی کی طرف بلائیں اور برائی سے روکیں، کیونکہ ایک اچھی بات بھی کسی کی زندگی بدل سکتی ہے۔ 🤍

اللہ تعالیٰ ہمیں نیکی پھیلانے اور برائی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

#نصیحت

30/08/2026

`🪻نبی کی سیرت🪻`

*_Day:10*

*نبی کریم ﷺ کی زندگی!*

♥︎ *نبوت کا آغاز اور وحی کا نزول!*
پھر تیسرے سال کے رمضان میں جب آپ کی عمر کا اکتالیسواں سال چل رہا تھا، آپ غار حرا کے اندر ذکر الہی اور عبادت میں مشغول تھے کہ یکایک حضرت جبریل نازل ہوئے اور آپ کو وحی و نبوت سے نوازا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: رسول اللہ پر وحی کا آغاز نیند میں اچھے خواب سے ہوا، آپ جو خواب دیکھتے وہ سپیدۂ صبح کی طرح نمودار ہوتا، پھر آپ کو تنہائی پسند آنے لگی، چنانچہ آپ غار حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور کئی کئی رات گھر آئے بغیر عبادت کرتے اور اس عرصے کے لیے توشہ بھی لے جاتے ، پھر حضرت خدیجہ کے پاس واپس آتے اور اسی جیسی مدت کے لیے پھر تو شہ لے جاتے، یہاں تک کہ آپ غار حرا ہی میں تھے کہ آپ کے پاس حق آگیا، یعنی آپ کے پاس فرشتہ آیا اور کہا اقرا "پڑھو "آپ نے فرمایا: ما أنا بِقَارِی" میں پڑھنا نہیں جانتا"
آپ فرماتے ہیں:
فَأَخَذَنِي، فَغطْنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ:
اس پر اس نے مجھے پکڑ لیا اور اس زور سے دبوچا کہ مجھے چور کر ڈالا، پھر چھوڑ کر کہا: اقرا "پڑھو " میں نے کہا: ما أنا بِقَارِی " میں پڑھنا نہیں جانتا "
فَأَخَذَنِي ، فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ:
اس نے دوبارہ پکڑ کر دبوچا اور چور کر ڈالا، پھر چھوڑ کر کہا إقرأ" پڑھو " فَقُلْتُ: مَا أَنا بقاری، میں نے کہا: "میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔ فَأَخَذَنِي ، فَغطَّنِي الثَّالِثَةَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ:اس نے تیسری بار د بوچا۔ اور کہا: إقرأ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ .الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ
ترجمہ: پڑھ! اپنے اس پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ انسان کو لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ! تیرا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے علم دیا۔ انسان کو وہ بات سکھائی جسے وہ جانتا نہ تھا۔
ان آیات کو لے کر رسول اللہ واپس ہوئے۔ آپ کا دل کانپ رہا تھا۔ حضرت خدیجہ کے پاس پہنچ کر فرمایا: زَّمِّلُونِي ، زَمِّلُونِي " مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔“
انھوں نے چادر اوڑھا دی۔ یہاں تک کہ دہشت جاتی رہی، پھر حضرت خدیجہ کو واقعہ سنا کر فرمایا: لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي " " مجھے اپنی جان کا ڈر لگتا ہے ۔ انھوں نے کہا:
كَلَّا، وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الكَلَّ، وَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَ تَقْرِي الضيْفَ، وَ تُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الحق
اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بے سہاروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، تنگدست لوگوں کی مدد کرتے ہیں، مہمان کی میزبانی کرتے ہیں اور حق کے سلسلے میں پیش آنے والے مصائب میں مدد فرماتے ہیں۔
اس کے بعد حضرت خدیجہ آپ کو اپنے چچیرے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں ۔ وہ دور جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عبرانی لکھنا جانتے تھے، چنانچہ توفیق الہی کے مطابق عبرانی میں انجیل لکھتے تھے۔ اس وقت وہ بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے۔ حضرت خدیجہ نے ان سے کہا: بھائی جان! آپ اپنے بھتیجے کی بات سنیں۔
ورقہ نے کہا: ” بھتیجے تم کیا کہتے ہو؟ آپ نے جو کچھ دیکھا تھا، بیان کر دیا۔ ورقہ نے کہا: یہ تو وہی ناموس (وحی لانے والا فرشتہ) ہے جو موسی پر نازل ہوا تھا۔ کاش! میں اس وقت جوان ہوتا۔ کاش! میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔
رسول اللہ سلم نے فرمایا: «أَوْ مُخْرِجي هم تو کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟“ ورقہ نے کہا: ہاں! کوئی ایسا آدمی نہیں جو تمھارے جیسا پیغام لایا ہو مگر اس سے دشمنی نہ کی گئی ہو۔ اگر میں نے تمھارا وہ دن جس دن تمھاری قوم تمھیں مکہ سے نکالے گی پالیا تو تمھاری زبردست مدد کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ جلد ہی فوت ہو گئے اور وحی رک گئی ۔

*جـــــــــاری ہـــے _ _ _ _ _ _*

30/08/2026

`🪻نبی کی سیرت🪻`

*_Day:9*

*نبیﷺ کی زندگی!*

♥︎ *نبوت کے آثار اور سعادت کی جھلکیاں*
پیچھے جو حالات بیان کیے جا چکے ہیں، ان کی وجہ سے آپ اور آپ کی قوم کے درمیان فکری اور عملی فاصلہ بڑھتا گیا۔ آپ قوم کی بد بختی اور بگاڑ دیکھ کر رنجیدہ رہنے لگے، ان سے الگ تھلگ اور تنہا رہنے کی خواہش بڑھنے لگی اور یہ سوچ بھی گہری ہونے لگی کہ انھیں ہلاکت اور تباہی سے کیونکر بچایا جائے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ رنج اور یہ خواہش بڑھتی ہی گئی اور بالآخر آپ کو کشاں کشاں غار حرا تک لے گئی جہاں آپ سال میں رمضان کا ایک مہینہ دین ابراہیم کی بچی کچھی تعلیمات کے مطابق اللہ کی عبادت کرتے اور مہینہ پورا کر کے صبح دم مکہ تشریف لاتے اور خانہ کعبہ کا طواف کر کے گھر کی راہ لیتے ۔ تین سال تک آپ کا یہی عمل رہا۔ جب چالیس سال عمر پوری ہو گئی اور یہی سن کمال ہے، عموما اس عمر میں پیغمبر بھیجے جاتے ہیں تو نبوت کی چمک دمک اور سعادت کی جھلکیاں نظر آنی شروع ہوئیں، چنانچہ آپ نیک خواب دیکھتے اور جیسا دیکھتے ویسا ہی پیش آتا، پھر روشنی نظر آنے لگی اور آواز سنائی دینے گئی۔ آپ فرماتے ہیں:
إني لأعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أَبْعَثَ
میں مکے میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو بہشت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا۔

♥︎ *وضاحت!*
حرا پہاڑ اب "جبل نور کے نام سے مشہور ہے۔ اصل مکہ سے اس کا فاصلہ تقریبا دو میل ہے۔ اس کی بلند چوٹی دور سے نظر آتی ہے۔ اس چوٹی کے بائیں طرف کچھ نیچے اترنے کے بعد غار واقع ہے۔ غار کی لمبائی چار میٹر سے کچھ کم اور چوڑائی ڈیڑھ میٹر سے کچھ زیادہ ہے۔

*جـــــــــاری ہـــے _ _ _ _ _ _*

Address

Sabeen Road , Azeziyah
Jeddah
33334

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SJM Islam365 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share