13/10/2026
پردۂ نفس❤️🔥
اپنے باطن سے اپنے رب تک کا سفر
قسط سوم: وہ سرگوشی جو تمہیں تمہارے ہی خلاف کھڑا کر دیتی ہے
کبھی رات کے آخری پہر ایسا ہوا کہ سب دنیا سو رہی ہو، مگر تمہارے اندر کوئی جاگ رہا ہو؟ ایک پرانی غلطی اچانک یاد آ جائے، کسی کا ٹوٹا ہوا دل نگاہوں کے سامنے آ جائے، اور تمہارا ذہن تمہیں بار بار اُسی لمحے میں لے جائے جہاں تم کچھ اور کر سکتے تھے، مگر تم نے ایسا نہیں کیا۔ تم کروٹ بدلتے ہو، خود کو سمجھاتے ہو کہ جو ہو گیا، سو ہو گیا؛ مگر اندر سے ایک آواز اٹھتی ہے: تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
پھر ایک عجیب کشمکش شروع ہوتی ہے۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ اپنی غلطی مان لو، کبھی نفس فوراً کوئی دلیل پیش کر دیتا ہے۔ کبھی تمہیں اپنی خطا پر ندامت ہوتی ہے، اور کبھی یہی ندامت تمہیں یہ محسوس کرانے لگتی ہے کہ شاید تم اب معافی کے قابل ہی نہیں رہے۔ تم سمجھتے ہو کہ یہ سب ایک ہی کیفیت ہے، مگر ذرا ٹھہرو؛ اپنی غلطی پر جاگ اٹھنا اور اپنی ذات سے مایوس ہو جانا، دونوں ایک بات نہیں۔
نفس کی ایک کیفیت ایسی ہے جس میں انسان اپنے عمل پر خود کو ملامت کرتا ہے۔ قرآن اسے نفسِ لوّامہ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ
اور میں ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں۔ (سورۃ القیامۃ، 75:2)
یہ وہ باطنی کیفیت ہے جس میں انسان اپنے کیے پر سوال اٹھانے لگتا ہے۔ لیکن اس کی ہر آواز کو ہدایت اور ہر احساسِ جرم کو سچی ندامت نہیں سمجھنا چاہیے؛ اصل بات یہ ہے کہ یہ احساس تمہیں اصلاح کی طرف لے جا رہا ہے یا ناامیدی کی طرف۔
اب سورۂ ناس کے اُس دروازے پر آؤ جہاں قرآن ہمیں انسان کے سینے میں وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ مانگنا سکھاتا ہے
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ
وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے؛ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (سورۃ الناس، 114:4–5)
ذرا اس سرگوشی کی باریکی دیکھو۔ کبھی تم سے غلطی ہوتی ہے تو نفس کہتا ہے: تم نے جو کیا، اس کی وجہ بھی تو تھی۔ اور جب تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہونے لگتا ہے تو ایک دوسری آواز تمہیں گھیر لیتی ہے: تم ایسے ہی ہو، تم کبھی نہیں بدل سکتے، تمہارے لیے معافی کہاں؟ پہلی آواز تمہیں خطا پر مطمئن کرنا چاہتی ہے، دوسری تمہیں توبہ سے مایوس کر سکتی ہے۔ ہر خیال کو کسی ایک ہی ذریعے سے منسوب کرنا درست نہیں، مگر انسان کے لیے یہ پہچاننا ضروری ہے کہ کون سا خیال اسے حق، اصلاح اور اللہ کی طرف لے جا رہا ہے، اور کون سا اسے ضد یا ناامیدی میں دھکیل رہا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ایسے خیالات کے بارے میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے اُن خیالات سے درگزر فرمایا ہے، جب تک وہ اُن پر عمل نہ کریں یا اُنہیں زبان سے ادا نہ کریں۔ (صحیح بخاری: 5269؛ صحیح مسلم: 127)
یہ حدیث ہمیں ایک نہایت اہم فرق سمجھاتی ہے: محض کسی ناپسندیدہ خیال کا آ جانا، لازماً انسان کے گناہ گار ہونے کی دلیل نہیں۔ دل میں کوئی برا خیال ابھرے اور انسان خود اسے ناپسند کرے، تو اسے اپنی پوری شخصیت کا فیصلہ نہیں بنا لینا چاہیے۔ اسی طرح حقیقی غلطی ہو جائے تو اسے معمولی سمجھ کر دبانا بھی درست نہیں؛ وہاں توبہ، اصلاح اور جہاں کسی کا حق متاثر ہوا ہو، اس کی تلافی ضروری ہے۔
صحابۂ کرامؓ کی زندگی میں اس باطنی کشمکش کی ایک روشن مثال ملتی ہے۔ کچھ صحابہؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے دلوں میں بعض ایسے خیالات آتے ہیں جنہیں زبان پر لانا بھی ہم بہت سنگین سمجھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا واقعی تمہیں ایسے خیالات آتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ، یعنی یہ صریح ایمان ہے۔ (صحیح مسلم: 132)
اس فرمان کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وسوسہ بذاتِ خود ایمان کی علامت ہے؛ بلکہ اہلِ ایمان کا ایسے خیالات کو برا جاننا اور انہیں قبول کرنے سے گھبرانا ایمان کی کیفیت کو ظاہر کر سکتا ہے۔ دل میں آنے والے خیال اور دل سے اختیار کیے جانے والے راستے میں فرق ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں تمہیں اپنے نفس کو سمجھنا ہے۔ اگر کسی غلطی کے بعد دل تمہیں جھنجھوڑے تو اس آواز سے بھاگو مت؛ اپنی خطا تسلیم کرو، معافی مانگو، اور جہاں ممکن ہو نقصان کی تلافی کرو۔ لیکن اگر کوئی خیال تمہیں یہ باور کرانے لگے کہ تمہاری واپسی ممکن نہیں، تمہاری توبہ بے معنی ہے، یا تم ہمیشہ اپنی غلطیوں کے قیدی رہو گے، تو اس مایوسی کو اپنا مقدر مت سمجھو۔ اللہ کی رحمت سے امید رکھو اور درست قدم اٹھاؤ۔
کبھی انسان کی سب سے بڑی شکست یہ نہیں ہوتی کہ وہ گر گیا؛ بلکہ یہ ہوتی ہے کہ گرنے کے بعد اٹھنے کی امید بھی چھوڑ دے۔ اور کبھی اس کے سفر کی سب سے خوب صورت ابتدا وہ لمحہ ہوتا ہے جب وہ پہلی بار اپنے نفس کے سامنے سچ بولتا ہے: ہاں، مجھ سے غلطی ہوئی ہے؛ مگر میں اپنی غلطی کو اپنی آخری پہچان نہیں بناؤں گا۔ میں اپنے رب کی طرف پلٹوں گا۔
آج تنہائی میں اپنے دل سے پوچھنا: میری ندامت مجھے اللہ کے قریب لے جا رہی ہے، یا میں اپنی ہی ملامت میں اس کی رحمت سے مایوس ہوتا جا رہا ہوں؟
کیونکہ نفس کی معرفت صرف اپنے عیب دیکھنے کا نام نہیں؛ یہ یہ سیکھنے کا نام بھی ہے کہ اپنے عیب دیکھ کر کس دروازے پر دستک دینی ہے۔
اگر آپ پردۂ نفس کے اس سفر میں نئے ہیں تو راہِ تصوف کی پروفائل وزٹ کیجیے اور اس سلسلے کی تمام اقساط کے ساتھ جڑیے۔ یہاں دشتِ دل، رازِ دل، سفرِ انبیاء اور دیگر روحانی تحریروں کے ذریعے ہم ظاہر سے باطن تک، اور اپنے آپ سے اپنے رب کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید اس سفر کے کسی موڑ پر آپ کو اپنے ہی دل کی کوئی ایسی صدا سنائی دے جسے آپ مدت سے خاموش کیے بیٹھے ہیں۔
#نفسِ_لوامہ #وسوسہ #راہِ_تصوف