SJM Islam365

Website

SJM Islam365 مرنے کے بعد کام صرف اعمال انے ہیں یا وہ صدقہ جاریہ جو اپ دنیا میں چھوڑ جائیں اور مرنے کے بعد اس کا ثواب اپ کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا رہے

13/10/2026
پردۂ نفس❤️‍🔥 اپنے باطن سے اپنے رب تک کا سفرقسط سوم: وہ سرگوشی جو تمہیں تمہارے ہی خلاف کھڑا کر دیتی ہےکبھی رات کے آخری پہ...
13/10/2026

پردۂ نفس❤️‍🔥
اپنے باطن سے اپنے رب تک کا سفر
قسط سوم: وہ سرگوشی جو تمہیں تمہارے ہی خلاف کھڑا کر دیتی ہے

کبھی رات کے آخری پہر ایسا ہوا کہ سب دنیا سو رہی ہو، مگر تمہارے اندر کوئی جاگ رہا ہو؟ ایک پرانی غلطی اچانک یاد آ جائے، کسی کا ٹوٹا ہوا دل نگاہوں کے سامنے آ جائے، اور تمہارا ذہن تمہیں بار بار اُسی لمحے میں لے جائے جہاں تم کچھ اور کر سکتے تھے، مگر تم نے ایسا نہیں کیا۔ تم کروٹ بدلتے ہو، خود کو سمجھاتے ہو کہ جو ہو گیا، سو ہو گیا؛ مگر اندر سے ایک آواز اٹھتی ہے: تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

پھر ایک عجیب کشمکش شروع ہوتی ہے۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ اپنی غلطی مان لو، کبھی نفس فوراً کوئی دلیل پیش کر دیتا ہے۔ کبھی تمہیں اپنی خطا پر ندامت ہوتی ہے، اور کبھی یہی ندامت تمہیں یہ محسوس کرانے لگتی ہے کہ شاید تم اب معافی کے قابل ہی نہیں رہے۔ تم سمجھتے ہو کہ یہ سب ایک ہی کیفیت ہے، مگر ذرا ٹھہرو؛ اپنی غلطی پر جاگ اٹھنا اور اپنی ذات سے مایوس ہو جانا، دونوں ایک بات نہیں۔

نفس کی ایک کیفیت ایسی ہے جس میں انسان اپنے عمل پر خود کو ملامت کرتا ہے۔ قرآن اسے نفسِ لوّامہ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ
اور میں ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں۔ (سورۃ القیامۃ، 75:2)

یہ وہ باطنی کیفیت ہے جس میں انسان اپنے کیے پر سوال اٹھانے لگتا ہے۔ لیکن اس کی ہر آواز کو ہدایت اور ہر احساسِ جرم کو سچی ندامت نہیں سمجھنا چاہیے؛ اصل بات یہ ہے کہ یہ احساس تمہیں اصلاح کی طرف لے جا رہا ہے یا ناامیدی کی طرف۔

اب سورۂ ناس کے اُس دروازے پر آؤ جہاں قرآن ہمیں انسان کے سینے میں وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ مانگنا سکھاتا ہے

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ۝ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ
وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے؛ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (سورۃ الناس، 114:4–5)

ذرا اس سرگوشی کی باریکی دیکھو۔ کبھی تم سے غلطی ہوتی ہے تو نفس کہتا ہے: تم نے جو کیا، اس کی وجہ بھی تو تھی۔ اور جب تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہونے لگتا ہے تو ایک دوسری آواز تمہیں گھیر لیتی ہے: تم ایسے ہی ہو، تم کبھی نہیں بدل سکتے، تمہارے لیے معافی کہاں؟ پہلی آواز تمہیں خطا پر مطمئن کرنا چاہتی ہے، دوسری تمہیں توبہ سے مایوس کر سکتی ہے۔ ہر خیال کو کسی ایک ہی ذریعے سے منسوب کرنا درست نہیں، مگر انسان کے لیے یہ پہچاننا ضروری ہے کہ کون سا خیال اسے حق، اصلاح اور اللہ کی طرف لے جا رہا ہے، اور کون سا اسے ضد یا ناامیدی میں دھکیل رہا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ایسے خیالات کے بارے میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے اُن خیالات سے درگزر فرمایا ہے، جب تک وہ اُن پر عمل نہ کریں یا اُنہیں زبان سے ادا نہ کریں۔ (صحیح بخاری: 5269؛ صحیح مسلم: 127)

یہ حدیث ہمیں ایک نہایت اہم فرق سمجھاتی ہے: محض کسی ناپسندیدہ خیال کا آ جانا، لازماً انسان کے گناہ گار ہونے کی دلیل نہیں۔ دل میں کوئی برا خیال ابھرے اور انسان خود اسے ناپسند کرے، تو اسے اپنی پوری شخصیت کا فیصلہ نہیں بنا لینا چاہیے۔ اسی طرح حقیقی غلطی ہو جائے تو اسے معمولی سمجھ کر دبانا بھی درست نہیں؛ وہاں توبہ، اصلاح اور جہاں کسی کا حق متاثر ہوا ہو، اس کی تلافی ضروری ہے۔

صحابۂ کرامؓ کی زندگی میں اس باطنی کشمکش کی ایک روشن مثال ملتی ہے۔ کچھ صحابہؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے دلوں میں بعض ایسے خیالات آتے ہیں جنہیں زبان پر لانا بھی ہم بہت سنگین سمجھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا واقعی تمہیں ایسے خیالات آتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ، یعنی یہ صریح ایمان ہے۔ (صحیح مسلم: 132)

اس فرمان کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وسوسہ بذاتِ خود ایمان کی علامت ہے؛ بلکہ اہلِ ایمان کا ایسے خیالات کو برا جاننا اور انہیں قبول کرنے سے گھبرانا ایمان کی کیفیت کو ظاہر کر سکتا ہے۔ دل میں آنے والے خیال اور دل سے اختیار کیے جانے والے راستے میں فرق ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں تمہیں اپنے نفس کو سمجھنا ہے۔ اگر کسی غلطی کے بعد دل تمہیں جھنجھوڑے تو اس آواز سے بھاگو مت؛ اپنی خطا تسلیم کرو، معافی مانگو، اور جہاں ممکن ہو نقصان کی تلافی کرو۔ لیکن اگر کوئی خیال تمہیں یہ باور کرانے لگے کہ تمہاری واپسی ممکن نہیں، تمہاری توبہ بے معنی ہے، یا تم ہمیشہ اپنی غلطیوں کے قیدی رہو گے، تو اس مایوسی کو اپنا مقدر مت سمجھو۔ اللہ کی رحمت سے امید رکھو اور درست قدم اٹھاؤ۔

کبھی انسان کی سب سے بڑی شکست یہ نہیں ہوتی کہ وہ گر گیا؛ بلکہ یہ ہوتی ہے کہ گرنے کے بعد اٹھنے کی امید بھی چھوڑ دے۔ اور کبھی اس کے سفر کی سب سے خوب صورت ابتدا وہ لمحہ ہوتا ہے جب وہ پہلی بار اپنے نفس کے سامنے سچ بولتا ہے: ہاں، مجھ سے غلطی ہوئی ہے؛ مگر میں اپنی غلطی کو اپنی آخری پہچان نہیں بناؤں گا۔ میں اپنے رب کی طرف پلٹوں گا۔

آج تنہائی میں اپنے دل سے پوچھنا: میری ندامت مجھے اللہ کے قریب لے جا رہی ہے، یا میں اپنی ہی ملامت میں اس کی رحمت سے مایوس ہوتا جا رہا ہوں؟

کیونکہ نفس کی معرفت صرف اپنے عیب دیکھنے کا نام نہیں؛ یہ یہ سیکھنے کا نام بھی ہے کہ اپنے عیب دیکھ کر کس دروازے پر دستک دینی ہے۔

اگر آپ پردۂ نفس کے اس سفر میں نئے ہیں تو راہِ تصوف کی پروفائل وزٹ کیجیے اور اس سلسلے کی تمام اقساط کے ساتھ جڑیے۔ یہاں دشتِ دل، رازِ دل، سفرِ انبیاء اور دیگر روحانی تحریروں کے ذریعے ہم ظاہر سے باطن تک، اور اپنے آپ سے اپنے رب کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید اس سفر کے کسی موڑ پر آپ کو اپنے ہی دل کی کوئی ایسی صدا سنائی دے جسے آپ مدت سے خاموش کیے بیٹھے ہیں۔

#نفسِ_لوامہ #وسوسہ #راہِ_تصوف

*اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*کیا آپ نے آج درود ابراہیمی پڑھا ہے  نہیں تو ابھی پڑھ لیں جزاک اللہ ❁اللَّهُمَّ صَلِّ عَل...
09/10/2026

*اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
کیا آپ نے آج درود ابراہیمی پڑھا ہے نہیں تو ابھی پڑھ لیں جزاک اللہ

❁اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ ❁ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيْمَ ❁ إنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ ❁
❁ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ ❁ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيْمَ ❁ إنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ ❁

‼️🍂جمعہ کے دن اول وقت  نماز پڑھنے جانے والے کے لیے اجرعظیم ہیں
09/10/2026

‼️🍂جمعہ کے دن اول وقت نماز پڑھنے جانے والے کے لیے اجرعظیم ہیں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“جو شخص کسی تنگ دست پر آسانی کرے، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی فرمائے گا۔”حوالہ: صحیح...
08/10/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص کسی تنگ دست پر آسانی کرے، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی فرمائے گا۔”

حوالہ: صحیح مسلم ، حدیث نمبر: 2699

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے مالی پریشانی اور تنگ دستی میں مبتلا شخص کے ساتھ نرمی اور آسانی کرنے کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی جو شخص کسی ضرورت مند، مقروض یا مشکل میں گرفتار انسان کے ساتھ سختی کرنے کے بجائے اس کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے لیے دنیا اور آخرت کی مشکلات میں آسانی فرماتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو دوسروں کی مجبوری اور پریشانی کو سمجھنا چاہیے اور جہاں ممکن ہو ان کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے قرض لیا ہو اور وہ حقیقی طور پر اسے وقت پر ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو قرض دینے والا اسے مزید مہلت دے سکتا ہے یا اپنی استطاعت کے مطابق اس کے لیے کوئی دوسری آسانی پیدا کر سکتا ہے، اسی طرح کسی ضرورت مند کی مالی یا عملی مدد کرنا بھی اس کے لیے آسانی کا سبب بن سکتا ہے، یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جو انسان دوسروں کی مشکلات آسان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا میں آسانیاں پیدا فرماتا ہے اور آخرت میں بھی اس کے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمائے گا۔
❤️❤️💕
I love Allah 💕💕❤️❤️

اللہ کے حقوق کا خیال رکھیں اور اللہ کا حق ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں‼️ اللہ کا حق ہے ک...
08/10/2026

اللہ کے حقوق کا خیال رکھیں اور اللہ کا حق ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں‼️ اللہ کا حق ہے کہ اس کی حرام کردہ حدود کا خیال رکھا جائے‼️ پھر جو کوئی اللہ کے حق میں کوتاہی کرے گا تو قیامت کے دن سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں ہوگا ‼️🍂

سب سے بڑا خسارہ — جو اکثر لوگ سمجھ ہی نہیں پاتےسورۃ التغابن کا پیغامرات کا آخری پہر ہو، گھر خاموش ہو، اور اچانک دل میں ی...
08/10/2026

سب سے بڑا خسارہ — جو اکثر لوگ سمجھ ہی نہیں پاتے
سورۃ التغابن کا پیغام

رات کا آخری پہر ہو، گھر خاموش ہو، اور اچانک دل میں یہ خیال اتر آئے کہ زندگی واقعی بہت تیزی سے گزر رہی ہے۔ کتنے سال گزر گئے، کتنے چہرے بدل گئے، کتنے خواب اپنی تعبیر تک پہنچے اور کتنے راستے میں رہ گئے۔ پھر آدمی اپنے آپ سے پوچھتا ہے: آخر میں میرے ہاتھ میں کیا بچے گا؟

ہم دنیا میں خسارہ بہت آسانی سے پہچان لیتے ہیں۔ کاروبار میں نقصان ہو تو حساب کھول لیتے ہیں، سرمایہ کم ہو تو پریشان ہو جاتے ہیں، کوئی موقع ہاتھ سے نکل جائے تو اسے خسارہ کہتے ہیں۔ مگر زندگی کا سب سے بڑا خسارہ وہ ہے جس کا اندازہ ہمیں اکثر بہت دیر سے ہوتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ»

“دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فرصت۔

سورۃ التغابن اسی پوشیدہ حقیقت کی طرف ہماری نظر پھیرتی ہے۔

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(التغابن 64:1)

“جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔”

ہم اس کائنات کو دیکھتے ہیں اور شاید یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب ہمارے لیے ہے؛ مگر قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ پوری کائنات اپنے رب کے سامنے ایک حقیقت کو پہچانتی ہے۔ آسمان، زمین اور ان کے اندر جو کچھ ہے، سب اسی کی تسبیح میں ہے۔

قرآن ایک اور مقام پر کہتا ہے:

وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ
(الإسراء 17:44)

لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔

ملکیت اللہ کی ہے، ہم صرف امین ہیں؛ مہلت اللہ کی عطا ہے، ہم اس کے مالک نہیں۔ مگر انسان اپنی ملکیت کو اپنا حق سمجھتا ہے اور اپنی مہلت کو مستقل۔

پھر اسی سورت کی اگلی آیت ہماری طرف متوجہ ہوتی ہے:

هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(التغابن 64:2)

“وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مؤمن، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اسے خوب دیکھنے والا ہے۔”

آیت پہلے ہی جملے میں تقسیم کی اصل بنیاد بتا دیتی ہے: ایمان، نہ کہ دولت اور مرتبہ۔

ہم نے اپنی زندگی میں کامیابی کے کتنے پیمانے بنا رکھے ہیں۔ کس کے پاس کتنا ہے، کس کا گھر کتنا بڑا ہے، کس کا کاروبار کہاں تک پہنچا ہے، کس کے بچوں نے کیا حاصل کیا۔ معاشرہ ہمیں انہی چیزوں سے اپنی قدر ناپنا سکھاتا رہتا ہے۔

مگر اللہ ہماری ظاہری حیثیت نہیں، ہمارے عمل کو دیکھتا ہے۔ وہ اس زندگی کو بھی جانتا ہے جو لوگوں کو دکھائی دیتی ہے اور اس حقیقت کو بھی جو ہمارے اندر چھپی رہتی ہے۔

پھر قرآن اچانک ایک ایسے دن کی طرف لے جاتا ہے جب یہ سب پردے اٹھ جائیں گے:

يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ
(التغابن 64:9)

“جس دن وہ تمہیں جمع ہونے کے دن جمع کرے گا، وہی دن تغابن کا دن ہوگا۔”

مفسرین کے مطابق تغابن سے مراد وہ دن ہے جب حقیقی نفع اور حقیقی خسارہ پوری طرح ظاہر ہو جائے گا۔ دنیا میں جسے ہم کامیابی سمجھتے رہے، اس کی اصل حقیقت سامنے آ جائے گی۔

وہ دن ہماری زندگی میں کوئی نئی حقیقت پیدا نہیں کرے گا؛ وہ اس حقیقت کو ظاہر کر دے گا جو دنیا میں ہماری نگاہوں سے چھپی رہی۔

تب شاید انسان کو پہلی مرتبہ اندازہ ہوگا کہ جس وقت کو معمولی سمجھ کر گزار دیا، وہ کتنا قیمتی تھا؛ جن لوگوں کے لیے اللہ کی رضا کو پیچھے چھوڑا، ان کی حیثیت کیا تھی؛ اور جن نیکیوں کو معمولی سمجھا، وہ آخرت میں کتنی بڑی متاع بن سکتی تھیں۔

سورت پھر ہماری سب سے قریبی دنیا میں داخل ہوتی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ۚ وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(التغابن 64:14)

“اے ایمان والو! بے شک تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولاد تمہارے لیے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہو، اور اگر تم معاف کر دو، درگزر کرو اور بخش دو تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔”

یہاں مسئلہ رشتے کا نہیں، رشتے کے ذریعے حق سے ہٹ جانے کا ہے۔

محبت اپنی جگہ رہتی ہے، مگر جب کوئی تعلق انسان کو اللہ کی اطاعت سے روکنے لگے تو وہی محبت آزمائش بن جاتی ہے۔

حضرت ابن عباسؓ سے منقول روایت میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو اسلام لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کرنا چاہتے تھے، مگر ان کی بیویوں اور بچوں نے انہیں روک لیا۔ بعد میں جب وہ مدینہ پہنچے اور دیکھا کہ دوسرے لوگ دین میں آگے بڑھ چکے ہیں تو انہیں اپنے اہلِ خانہ سے ناراضی ہوئی؛ اس پس منظر میں یہ آیت نازل ہوئی۔
جامع ترمذی، حدیث 3317؛ امام ترمذی:

قرآن آیت کے آخر میں معافی اور درگزر کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تعلقات کو توڑ دینا مقصود نہیں؛ اصل امتحان یہ ہے کہ محبت اپنی جگہ رہے، مگر اللہ کی اطاعت اس سے اوپر رہے۔

پھر سورت مال اور اولاد کی طرف متوجہ کرتی ہے:

إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۚ وَاللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(التغابن 64:15)

“تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو بس ایک آزمائش ہیں، اور اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے۔”

قرآن نے مال اور اولاد کو برا نہیں کہا۔ دونوں نعمتیں ہیں، مگر یہی نعمتیں انسان کے لیے امتحان بن سکتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے؛ سوال یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ ہمیں کہاں لے جا رہا ہے۔

ہم اپنے کاروبار کی ہر رقم کا حساب رکھتے ہیں۔ آمدنی کتنی ہوئی، خرچ کتنا ہوا، کیا بچا اور کہاں نقصان ہوا۔ مگر زندگی کی وہ رسید کہاں ہے جو ہمیں بتائے کہ ہماری عمر کہاں خرچ ہوئی؟

ہم کہتے ہیں: میرا گھر، میرا کاروبار، میری زمین، میری اولاد، میرا وقت۔

پھر ایک دن معلوم ہوتا ہے کہ “میرا” کہنے والی زبان کتنی عارضی تھی۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، مفہوماً:

“آدمی کہتا ہے: میرا مال، میرا مال! حالانکہ اس کے مال میں سے حقیقتاً اس کا وہی ہے جو اس نے کھا کر ختم کر دیا، پہن کر پرانا کر دیا، یا صدقہ کرکے آگے بھیج دیا۔”
صحیح مسلم، حدیث 2958۔

جو چیز ہم نے جمع کی، وہ ہمارے پاس رہ گئی؛ جو اللہ کے لیے دے دی، وہ ہمارے آگے چلی گئی۔

یہی احساس اگلی آیت میں ایک اور گہری بیماری کی طرف لے جاتا ہے:

وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(التغابن 64:16)

“اور جو اپنے نفس کے شُرسے بچا لیا گیا، تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔”

شُر صرف بخل نہیں۔ یہ انسان کے اندر موجود وہ شدید گرفت ہے جو اسے اپنے مال، اپنے فائدے، اپنے حق اور اپنی خواہش سے چمٹائے رکھتی ہے۔ بخل ہاتھ کو روک سکتا ہے، مگر شُر انسان کے اندر یہ احساس پیدا کر دیتا ہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے، اسے اپنے لیے بچانا ہی عقل مندی ہے۔

اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے شر سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا، مفہوماً:

“ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوگا، اور شُحّ سے بچو؛ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، یہاں تک کہ انہیں خون بہانے اور حرام چیزوں کو حلال سمجھنے پر آمادہ کر دیا۔”
صحیح مسلم، حدیث 2578۔

شاید اسی مقام پر ہمیں سمجھ آتا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا قید خانہ ہمیشہ باہر نہیں ہوتا۔ کبھی اس کی اپنی خواہش، اپنا مفاد اور اپنی جمع کرنے کی عادت اسے اندر سے باندھ دیتی ہے۔

لیکن سورت ہمیں اس گرفت کے بعد مایوسی میں نہیں چھوڑتی۔

مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ
(التغابن 64:11)

“کوئی مصیبت اللہ کے اذن کے بغیر نہیں پہنچتی، اور جو اللہ پر ایمان لائے، اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔”

زندگی میں کچھ واقعات ہمارے اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔ ہم انہیں روک نہیں سکتے، مگر ایمان ہمارے دل کو ان کے درمیان اپنا رخ درست کرنے کی توفیق دے سکتا ہے۔

اسی لیے قرآن کہتا ہے:

اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(التغابن 64:13)

“اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اہلِ ایمان کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔”

ابھی وہ دروازہ بند نہیں ہوا۔ غفلت کے بعد بیداری، غلطی کے بعد توبہ، محرومی کے بعد واپسی اور بکھراؤ کے بعد اپنے رب کی طرف دوبارہ متوجہ ہونا اب بھی ممکن ہے۔ ہماری سب سے بڑی غفلت یہ ہو سکتی ہے کہ واپسی کا دروازہ کھلا دیکھ کر بھی ہم یہ سمجھتے رہیں کہ ہمارے پاس ابھی بہت وقت ہے۔

سورت کے آخر میں اللہ فرماتا ہے:

إِن تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ
(التغابن 64:17)

“اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بڑا قدر دان، بڑا بردبار ہے۔”

اللہ کو قرض کی حاجت نہیں؛ یہ تعبیر ہمیں یہ سمجھانے کے لیے ہے کہ جو کچھ ہم اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں، وہ ضائع نہیں ہوتا۔ کسی ضرورت مند کی مدد، کسی بھوکے کو کھانا، کسی مجبور کا بوجھ ہلکا کرنا، یا اپنے مال کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرنا—یہ سب وہ عمل ہیں جن کا فائدہ ہماری نظر سے کہیں آگے جا سکتا ہے۔

دنیا کی نگاہ میں شاید دینے والا کچھ کم کر لیتا ہے؛ اللہ کے ہاں وہی دینا بڑھ جاتا ہے۔

اگر یومُ التغابن آج ہوتا، تو جس چیز کے پیچھے میں بھاگ رہی ہوں، کیا میں اسے اب بھی کامیابی کہتی،

یہ سوال شاید کسی اور سے نہیں، ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہے۔

کیونکہ سب سے بڑا خسارہ یہ نہیں کہ کوئی چیز ہاتھ سے نکل جائے۔ سب سے بڑا خسارہ یہ ہے کہ زندگی نکل جائے، اور کامیابی کا گمان ہی ہاتھ میں رہ جائے۔

Address

Sabeen Road , Azeziyah
Jeddah
33334

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SJM Islam365 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share