Al Shaikh Ehsan Ul Haq Madani

  • Home
  • Al Shaikh Ehsan Ul Haq Madani

Al Shaikh Ehsan Ul Haq Madani Islamic scholar, educator, and researcher. Founder of Jamiat-ul-Hassan, dedicated to spreading authentic knowledge and wisdom.
(1)

مدینہ طیبہ – ایک حاضری کی داستانمدینہ شریف کی حاضری ہر امتی کا خواب ہے، خاص طور پر وہ امتی جو جانتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اپن...
12/03/2025

مدینہ طیبہ – ایک حاضری کی داستان
مدینہ شریف کی حاضری ہر امتی کا خواب ہے، خاص طور پر وہ امتی جو جانتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی تمام تر حیاتِ طیبہ کے ساتھ یہاں آرام فرما ہیں۔
جنوری 2025 کی پہلی صبح، میں مسجد نبوی میں روضۂ اقدس کے سامنے حاضر تھا۔ موسم خوشگوار تھا، ٹھنڈ زیادہ نہ تھی، مگر میں نے ایک موٹی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ یہ چادر ایک بہانہ تھی کہ میں خود کو اردگرد کے ماحول سے کاٹ کر اپنے آقا سے وہ بات کہہ سکوں، جو دل میں مدتوں سے بوجھ بنی ہوئی تھی:
"میرے تو سب کچھ آپ ہی ہیں، رحمتِ عالم!"
"میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کے لیے!"
پوری زندگی نعتیں پڑھی تھیں، مگر اس لمحے پہلی بار ایسا ہوا کہ نعت پڑھنے کا مقصد صرف اور صرف وہ ہستی تھی جن کی نعت ہے۔ یہاں کوئی سامع نہیں تھا، کوئی داد دینے والا نہیں تھا، بس وہ تھے اور میں تھا۔ ہر شعر کے ساتھ آنکھیں بھیگ رہی تھیں، ہچکیاں بندھ رہی تھیں، لگتا تھا لفظ زبان پر آ ہی نہیں پائیں گے۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا؟ میں ان کے سامنے نعت پڑھ رہا تھا، جن کے دربار میں حاضری کی بھی کوئی اوقات نہ تھی، جن کے سامنے بیٹھنے کی نہ ہمت تھی، نہ بساط۔
ہر عاشق کا عشق ایک الگ مزاج رکھتا ہے۔ بابا خادم حسین رضوی رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا:
"آپ خود کو حضور کا پہرے دار کہتے ہیں، مگر کیا کبھی مدینہ گئے؟"
بابا جی نے کمال جواب دیا:
"ساڈیاں کوئی بوتھیاں نے سرکار نوں وکھان والیاں!"
(ہم کون ہوتے ہیں کہ اپنے جیسے گناہگاروں کے چہرے سرکار کو دکھائیں؟)
یہی کیفیت میری بھی تھی۔ میں ان عاشقوں میں سے ہوں جو دعا میں یہ عرض کرتے ہیں:
"چھپ چھپ کے جہاں سے کہ انہیں دیکھ سکوں میں
جنت میں مجھے ایسی جگہ پیارے خدا دے!"
ہر لمحہ دل میں یہی سوال تھا کہ ہم اس مقدس بارگاہ میں حاضر ہیں، مگر کیا اس دربار کے ادب کا حق ادا کر پا رہے ہیں؟ مدینہ شریف میں ایک جلیل القدر مفتی صاحب سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے عرض کی: "اتنی بڑی بارگاہ کا ادب کیسے کیا جائے؟"
انہوں نے جواب دیا:
"یہاں کا ادب ہم کر ہی نہیں سکتے، بس امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے الفاظ کو دہراتے رہیں!"
یہ جملے میرے لیے سہارا بن گئے۔ جب بھی ادب میں کمی محسوس ہوتی، میں روضہ اقدس کی جانب رخ کر کہ، ہاتھ جوڑ کہ، سر جھکا کہ حضور سے وہ شعر عرض کر دیتا:
"سرکار! ہم گنواروں میں طرزِ ادب کہاں؟
ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے!"
"سرکار! ہم کمینوں کے اطوار پر نہ جائیں
آقا! حضور اپنے کرم پر نظر کریں!"
"بد ہیں تو آپ کےہیں، بھلے ہیں تو آپ کے
ٹکڑوں سے تو یہیں کے پلے ، رخ کدھر کریں!"
مسجدِ نبوی شریف کے دروازے پر ایک عمر رسیدہ عالمِ دین سے ملاقات ہوئی، انداز سے لگ رہا تھا کہ برسوں کا علم اور عشق ان کے وجود میں گھل چکا ہے۔ چند باتوں کا تبادلہ ہوا، مگر جب میں نے پوچھا: "حضرت! آپ نے حضور ﷺ سے کیا مانگا؟"
یہ سوال سنتے ہی ان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، وہ چند لمحے خاموش رہے، پھر بمشکل ہونٹ ہلائے، مگر الفاظ منتشر ہو گئے۔ سانسیں بے ترتیب ہوئیں، آنکھیں مزید نم ہوئیں، اور پھر وہ ہچکیوں کے درمیان بس اتنا کہہ سکے:
"بس یہی عرض کی ہے کہ حضور ﷺ قبول فرما لیں!"
یہ کہتے ہی وہ جلدی سے رخصت ہو گئے، جیسے جذبات کا بوجھ مزید سنبھالنا ممکن نہ رہا ہو۔ میں وہیں کھڑا رہ گیا، سوچتا رہا کہ شاید عشق کی معراج یہی ہے کہ انسان مانگنے سے زیادہ قبولیت کی التجا کرے!
ایک روز فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکل رہا تھا۔ مدینہ کی خنک صبح، ٹھنڈی ہوائیں، اور دل میں طوفانِ عشق… اچانک زبان پر ایک شعر آ گیا، مگر ابھی چند الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ کسی طرح خود کو سنبھال کر شعر مکمل کیا:
"میں صرف دیکھ لوں ایک بار صبحِ طیبہ کو
بلا سے پھر میری دنیا میں شام ہو جائے!"
الغرض، اس بارگاہ کے ادب کا شاید ذرہ بھی ادا نہ کر پایا۔ اس تحریر کو پڑھنے والے، مدینہ جانے والے ہر عاشقِ رسول سے دست بستہ درخواست ہے:
"جب مدینہ جانا ہو، میرا نام لے کر یا بنا نام لیے، آقا ﷺ کی بارگاہ میں میری کوتاہیوں کی معافی مانگ لیجیے گا!"
اس سے زیادہ کچھ کہنے کی ہمت نہیں۔ نہ ہی ہم بہت زیادہ عبادتیں کر سکے، نہ ہی ادب کا وہ معیار برقرار رکھ سکے جو ہونا چاہیے تھا۔ اگر وہ ﷺ اس پر مؤاخذہ فرمائیں تو یہ عین عدل ہوگا، اور اگر عفو فرمائیں تو یہ ان کی رحمت ہوگی۔
اللّٰہ کریم ہم سب کو بار بار مدینہ شریف کی حاضری نصیب فرمائے، اور اس بارگاہ کے آداب سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے! آمین۔
تحریر: احسان مدنی
"مدینہ شریف کی حاضری ہر عاشقِ رسول کا خواب ہے... اگر آپ کو موقع ملے تو آپ اپنے آقا ﷺ کی بارگاہ میں کیا عرض کریں گے؟ یا پھر عشقِ رسول ﷺ کے حوالے سے کوئی ایسا جملہ جو دوسروں کے دل میں بھی محبتِ مصطفیٰ ﷺ جگا دے، کمنٹس میں ضرور لکھیے!"


















Address

Rawalpindi

45600

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Shaikh Ehsan Ul Haq Madani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Al Shaikh Ehsan Ul Haq Madani:

Shortcuts

  • Want your place of worship to be the top-listed Place Of Worship?

Share