21/02/2026
عہدِ نبوی ﷺ میں جہاں بچوں اور پاگلوں کو مسجد سے دور رکھنے کا حکم دیا گیا، وہیں خود حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مسجد میں آنا اور نماز کے دوران آپ ﷺ کی کمر پر سوار ہوجانا بھی منقول ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آپ ﷺکے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ ﷺ سجدہ میں تشریف لے گیے تو حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما آپ ﷺ کی کمر پر چڑھ گئے، پھر جب آپ ﷺ سجدہ سے سرمبارک اٹھانے لگے تو انتہائی پیار سے آہستہ سے انہیں کمر سے ہٹا کر زمین پر رکھا ۔۔۔ الخ، اسی طرح آپ ﷺ کی نواسی حضرت امامہ بنت ابو العاص بھی نماز میں آپ ﷺ کے کندھے پر چڑھ جاتی تھیں، نیز ایک حدیث میں ہے کہ : اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ میں بسا اوقات نماز میں بچوں کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز میں تخفیف کردیتا ہوں؛ تاکہ کہیں اس کی ماں پریشانی میں مبتلا نہ ہوجائے۔
ان سب روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلقًا بچوں کو مسجد میں لانا منع نہیں ہے؛ بلکہ ممانعت وہاں ہے جہاں ان سے مسجد کی تلویث کا اندیشہ ہو۔