31/03/2026
🚨 تیسری عالمی جنگ کا الارم: امریکی زمینی حملے کا خطرہ، اور ایران کے دفاع کے لیے 'چیچن' (Chechen) لڑاکوں کی انٹری! ⚔️🇷🇺🇮🇷
دوستو! جو جنگ غاصب طاقتوں نے چند دنوں میں جیتنے کے غرور کے ساتھ شروع کی تھی، وہ اب ان کے گلے کی وہ ہڈی بن چکی ہے جو پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔
ہفتوں کی ہولناک لیکن ناکام فضائی بمباری کے بعد، اب اطلاعات ہیں کہ ٹرمپ امریکی افواج کو ایران پر 'زمینی حملے' کی تیاری کا حکم دے رہا ہے۔ لیکن اس خبر کے آتے ہی، عالمی بساط پر ایک ایسا مہرہ چلا گیا ہے جس نے پینٹاگون کے ہوش اڑا دیے ہیں: روس کی چیچن (Chechen) ملٹری نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی حملہ کیا، تو وہ ایران کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ پہنچ جائیں گے!
آئیے اس خوفناک عالمی محاذ، یوکرین کی منافقت، اور مظلوموں کے اس نئے عالمی بلاک کا ڈیپ انالیسس کرتے ہیں:
🛡️ چیچن فورسز کا اعلان اور 'مذہبی جنگ':
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، روس کی چیچن ریپبلک کے سربراہ 'رمضان قادروف' کے وفادار فوجی دستوں نے ایران کے دفاع کے لیے باقاعدہ اپنی تیاری کا اعلان کر دیا ہے۔
ان کا بیانیہ انتہائی سخت اور واضح ہے: وہ امریکہ اور اسرائیل کی اس جارحیت کو ایک "مذہبی جنگ" (حق اور باطل کا معرکہ) قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے دفاع کے لیے براہِ راست مداخلت کو 'جہاد' سمجھتے ہیں۔ اس کا مطلب سیدھا ہے: اگر امریکی بوٹ ایرانی سرزمین پر اترے، تو ان کا سامنا صرف پاسدارانِ انقلاب سے نہیں، بلکہ جنگی مہارت میں مشہور چیچن لڑاکوں سے بھی ہوگا!
🇺🇦 یوکرین کی منافقت اور 'پراکسی وار' کا نیا میدان:
اس جنگ کا سب سے حیران کن اور منافقانہ پہلو یوکرین کی انٹری ہے۔ ایک طرف یوکرین پوری دنیا میں رو رہا ہے کہ روس نے اس کی خودمختاری پامال کی ہے، اور دوسری طرف وہی یوکرین امریکہ اور اسرائیل کی مدد کے لیے اپنے "سینکڑوں ملٹری ماہرین" مشرقِ وسطیٰ بھیج چکا ہے تاکہ وہ ایک خودمختار ملک (ایران) پر حملے میں غاصبوں کی مدد کر سکیں!
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں بجا طور پر یوکرین کی اس حرکت کی شدید مذمت کی ہے۔ دراصل، یوکرین کا مشرقِ وسطیٰ آنا روس کے لیے ایک کھلا چیلنج تھا... اور چیچن فورسز کا ایران کی حمایت میں کھڑا ہونا روس کا اس چیلنج کو قبول کرنا ہے۔ اب کیئف (Kyiv) اور ماسکو (Moscow) کی جنگ خلیج کے ریتلے میدانوں میں بھی لڑی جائے گی!
💔 28 فروری کا زخم اور 86 لہروں کا انتقام:
یہ جنگ کیوں اتنی وحشتناک ہو چکی ہے؟ کیونکہ غاصبوں نے اسے شروع ہی بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا کر کیا تھا۔
28 فروری کو جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات چل رہے تھے، امریکہ اور اسرائیل نے دھوکے سے حملہ کر کے ایرانی سپریم لیڈر، اعلیٰ کمانڈرز اور میناب (Minab) میں 170 سے زائد معصوم سکول کے بچوں کو شہید کر دیا۔
اس ظالمانہ اور غیر قانونی جنگ کے جواب میں، ایک غیور قوم نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے اب تک خلیج بھر میں امریکی اور اسرائیلی ملٹری بیسز پر 86 لہروں میں خوفناک میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ فضائی مہم کی اسی تاریخی ناکامی نے آج ٹرمپ کو 'زمینی حملے' کی اس مایوس کن آپشن پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔
🛑 فضائی ناکامی سے زمینی قبرستان تک!
امریکہ جانتا ہے کہ فضائی بمباری سے کسی ملک کو فتح نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ایران پر زمینی حملہ عراق یا افغانستان نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جس کا جغرافیہ ایک قدرتی قلعہ ہے، جس کے عوام تیار ہیں، اور اب جس کی پشت پر چیچن اور روسی بلاک کی غیر اعلانیہ لیکن مضبوط عسکری طاقت کھڑی ہونے جا رہی ہے۔
امریکہ نے ایران کو تنہا سمجھ کر حملہ کیا تھا، لیکن آج دنیا کی ہر وہ طاقت جو امریکی سامراج سے تنگ ہے، وہ ایران کی اس خندق میں اس کے ساتھ کھڑی ہونے کو تیار ہے۔
آپ کے خیال میں، اگر ٹرمپ نے واقعی ایران پر امریکی فوج اتارنےکی حماقت کر دی، تو کیا ایران امریکی افواج کے لیے ویتنام اور افغانستان سے بھی بڑا قبرستان ثابت ہوگا؟👇