Theological Research Centre Vehari

Website

Theological Research Centre Vehari A Confessional Reformed ministry committed to the Westminster Confession of Faith.

Translating and publishing sound Reformed literature in Urdu for the glory of God and the edification of His Church.

"اے مسیحیو! یقین رکھو کہ آخرکار خدا کی تمام پروردگاری تمہاری بھلائی ہی کے لیے سازگار ہوگی۔ خدا کی پروردگاری کے معاملات ک...
19/09/2026

"اے مسیحیو! یقین رکھو کہ آخرکار خدا کی تمام پروردگاری تمہاری بھلائی ہی کے لیے سازگار ہوگی۔ خدا کی پروردگاری کے معاملات کبھی کبھی تاریک اور پُراسرار ہوتے ہیں، اور ہماری آنکھیں دھندلا جاتی ہیں، یہاں تک کہ ہم بمشکل سمجھ پاتے ہیں کہ ان کے بارے میں کیا رائے قائم کریں؛ لیکن جب تم پروردگاری کے بھید کو سلجھا نہ سکو، تو یقین رکھو کہ یہ سب مل کر برگزیدوں کی بھلائی کے لیے کام کریں گے، جیسا کہ رومیوں 8 :28 میں بیان ہوا ہے۔

گھڑی کے اندر پہیے بظاہر ایک دوسرے کی مخالف سمت میں حرکت کرتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ سب مل کر گھڑی کی حرکت کو آگے بڑھاتے اور اسے گھنٹے کا اعلان کرنے کے قابل بناتے ہیں؛ اسی طرح خدا کی پروردگاری کے معاملات بھی بظاہر ایک دوسرے کے خلاف جاتے ہوئے محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ برگزیدوں کی بھلائی کے مقصد کو آگے بڑھائیں گے۔

رگ پر سوئی چبھونا فی نفسہٖ تکلیف دہ اور نقصان دہ ہے، لیکن اگر وہ بخار کو روکنے اور مریض کی صحت کی بحالی کا ذریعہ بنے تو اس اعتبار سے وہ مفید ہے۔ اسی طرح مصیبت اپنی ذات میں خوشی کا باعث نہیں بلکہ رنج و تکلیف کا سبب ہے، لیکن خداوند اسے اپنے مقدسین کی بھلائی کے لیے بدل دیتا ہے۔ غربت ان کے گناہوں کو بھوکا رکھے گی، اور مصیبتیں انہیں بادشاہی کے لیے تیار کریں گی۔

پس اے مسیحیو! یقین رکھو کہ خدا ہم سے محبت کرتا ہے، اور وہ بظاہر سب سے زیادہ مخالف اور دشوار پروردگاری کے حالات کو بھی اپنی جلال اور ہماری بھلائی کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنا دے گا۔"
Reference:
Thomas Watson, Works of Thomas Watson, Vol. 1: A Body of Divinity, Chapter "Of God's Providence" (Use 3: Exhortation), Banner of Truth Trust.

19/09/2026

What is the Hypostatic Union?

"اعتقاد وحدانیت پر مسیحی اصولِ ایمانیہ سے ہے۔ چُنانچہ اگر کوئی وحدانیت کا قائل نہ ہو تو مسیحی بھی نہ ہوگا لیکن مسیحی وحد...
10/09/2026

"اعتقاد وحدانیت پر مسیحی اصولِ ایمانیہ سے ہے۔ چُنانچہ اگر کوئی وحدانیت کا قائل نہ ہو تو مسیحی بھی نہ ہوگا لیکن مسیحی وحدانیت کو تثلیث کے ساتھ بیان اور تفصیل کرتے ہیں اِس مضمون سے کہ ذاتِ واحد میں تین اقنوم کے قائل ہیں کہ انجیل میں اب اور ابن اور روح القدس کے نام سے موسوم ہوئے ہیں لفظ اب سے مراد ہے مطلق و مغیب ذات سے اور ابن مراد ہے لوگس یعنی ازلی علم اور کلمے سے جس کے وسیلے سے خدا اپنی مغیب اور پوشیدہ ذات کو ظاہر اور بیان کرتا ہے پس ابن کو تجلیِ ذات اور کاشف و مظہرِ ذات بھی کہہ سکتے ہیں اور روح القدس مراد ہے روح اللّٰہ سے کہ منور کرنے والا اور دلی تسلی دینے والا اور روحانی قوت بخشنے والا ہے جس کے وسیلے سے خدا تاثیر کرتا اور اپنے بندوں کو ہدایت بخشتا اور اُن کے باطن کو روشن اور پاک کرتا ہے پس مسیحی اب کو سب چیزوں کا باعث اور ساری نعمتوں اور سعادتوں کا قاسم جان کر اِس مضمون سے اُس کی عبادت اور بندگی کرتے ہیں کہ خدا ساری نعمتیں اور سب نیکیاں صرف ابن کے وسیلے سے بندوں کو پہنچاتا ہے ایسا کہ وہ نہ فقط عالموں ہی کو اُس کے وسیلے سے پیدا کرکے اُن کی حفاظت اور رکھوالی کرتا ہے بلکہ ابن کی معرفت بندوں کو گناہ اور گناہ کی سزا اور جہنم کے عذاب سے بھی چھوڑا کر ہمیشہ کی نجات اور حقیقی اور ابدی نیک بختی بخشتا ہے اور روح القدس کے وسیلے سے اُن کو روشن اور پاک کرکے معرفتِ الٰہی کی طرف ہدایت فرما کر مسیح یعنی ابن پر ایمان لانا اور نیکی عمل کرنا عمل میں لاتا ہے۔ اگرچہ مسیحی کلامِ الٰہی کے مضمون پر اب ابن اور روح القدس یعنی باپ، بیٹے اور روحِ قدس کو ذات و صفات و جلال میں متساوی جانتے اور مانتے ہیں تسپر بھی کلام کے حکم کے بموجب اقانیمِ ثلاثہ کے درمیان امتیازِ حقیقی رکھتے ہیں اور ہر ایک اقنوم کے ساتھ شخصیت لگاتے ہیں پر نہ اِس مضمون سے کہ گویا تین ذات یا تین خدا ہیں بلکہ صرف خدائے واحد کو مانتے اور اُس کی پاک ذات کی وحدانیت پر کُلی اعتقاد رکھتے ہیں اِس طور پر کہ خدا کی پاک ذات میں اِس طرح سے کہ وحدانیت معدوم نہیں ہوتی ہے تین شخصیت یا تین مخصوصیت یعنی ذات کے ساتھ تین نسبتِ ذاتیہ یا تین اقنوم مستجن و مخفی جانتے ہیں لیکن اِس بات کی تفصیل اور ثبوت کہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ذات کی وحدانیت باوجود تین اقنوم کے معدوم نہیں ہوتی ہے یہ انسان کی طاقت سے باہر اور عقل کی قوت سے خارج ہے۔ جاننا چاہیے کہ تعلیمِ تثلیث اُن مسئلوں میں سے ہے کہ عدم الادراک کہتے ہیں اور جن کی بابت عقل کچھ حکم نہیں دے سکتی زیر اکہ تثلیث خدا کی ذات کے اِسراروں میں سے ہے اور ماہیتِ ذات سے علاقہ رکھتی ہے اور عقلِ انسانی محدود اور قاصر ہے وہ تیزی و طاقت نہیں رکھتی ہے کہ ذاتِ مطلق اور مغیب اور بے متناہی کو درک اور اس کی ماہیت کے اسرار کو بیان و عیاں کرے لہذا تعلیمِ تثلیث و مسیح کی الوہیت نہ دلائلِ عقلی سے بلکہ صرف دلائلِ نقلی سے یعنی خدا کے کلام سے کہ مراد توریت اور انجیل سے ہے ثابت و مدلل ہوگی اور اُس کے حکم پر اعتقاد کی جائے گی اور ظاہر ہے کہ آدمی کو لازم ہے کہ جو جو خدا نے اپنے کلام میں بیان و عیاں کیا اور حکم فرمایا ہے اُس کو دل و جان سے مانے اور قبول کرے۔"

اقتباس:
اختتام دینی مباحثہ کا
تصنیف امام المناظرین پادری علامہ سی جی فینڈر صاحب صفحہ نمبر 70 تا 72
سنۂ اشاعت 1855ء

"The ordinary officers of our Church are:(1) Pastors, to whom belongs the word of exhortation, 1 Tim. 3:1-3; 2 Tim. 1:7,...
08/09/2026

"The ordinary officers of our Church are:

(1) Pastors, to whom belongs the word of exhortation, 1 Tim. 3:1-3; 2 Tim. 1:7,8.

(2) Doctors, who in schools expound the word of God, and convince gainsayers, Rom. 12:7,8; Eph. 4:11; 1 Cor. 12:28.

(3) Governors, or governing Elders who rule well, Rom. 12:8; 1 Cor. 12:28; 1 Tim. 5:17; Acts 15:23.

(4) Deacons who care for the poor, Acts 6:2-4; 1 Tim. 3:8-12."

— 𝐒𝐚𝐦𝐮𝐞𝐥 𝐑𝐮𝐭𝐡𝐞𝐫𝐟𝐨𝐫𝐝, 𝐴 𝑃𝑒𝑎𝑐𝑒𝑎𝑏𝑙𝑒 & 𝑇𝑒𝑚𝑝𝑒𝑟𝑎𝑡𝑒 𝑃𝑙𝑒𝑎 𝑓𝑜𝑟 𝑃𝑎𝑢𝑙’𝑠 𝑃𝑟𝑒𝑠𝑏𝑦𝑡𝑒𝑟𝑦 𝑖𝑛 𝑆𝑐𝑜𝑡𝑙𝑎𝑛𝑑 (1642), p. 310 [pictured: John Henry Lorimer, 𝑇ℎ𝑒 𝑂𝑟𝑑𝑖𝑛𝑎𝑡𝑖𝑜𝑛 𝑜𝑓 𝐸𝑙𝑑𝑒𝑟𝑠 𝑖𝑛 𝑎 𝑆𝑐𝑜𝑡𝑡𝑖𝑠ℎ 𝐾𝑖𝑟𝑘]

📖 چشمۂ زندگی — یعنی مسیح کا ظہور، اُس کے ذاتی اور منصبی جلال میںمصنف: جان فلیول (John Flavel)مقامِ اشاعت: الہ آباد مشن پ...
05/09/2026

📖 چشمۂ زندگی — یعنی مسیح کا ظہور، اُس کے ذاتی اور منصبی جلال میں

مصنف: جان فلیول (John Flavel)
مقامِ اشاعت: الہ آباد مشن پریس
سنِ اشاعت: 1869ء

یہ کتاب معروف اصلاحی خادم اور عالمِ دین جان فلیول کی مسیحی علمِ الٰہیات پر کلاسیکی تصنیف The Fountain of Life کا قدیم اردو ترجمہ ہے، جس میں مسیح کی ذات، الوہیت، تجسم اور منصبی جلال کو نہایت گہرائی سے بیان کیا گیا ہے۔ اردو مسیحی ادب کی تاریخ میں یہ کتاب اس لیے بھی اہم ہے کہ انیسویں صدی میں ریفارمڈ الٰہیات کے اردو قالب میں منتقل ہونے کی ایک قیمتی مثال ہے۔ قدیم اردو، مسیحی الٰہیات اور برصغیر کی کلیسیائی و مطبوعاتی تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے یہ ایک نادر ماخذ ہے۔

🔗 مفت PDF ڈاؤنلوڈ کریں:
https://archive.org/details/20250822_20250822_1359/page/n4/mode/1up

"کلام اللّٰہ کے ساتھ خداوند مسیح کا کیا تعلق ہے خاص اور نادر ہے فی التحقیق وہ تعلق اور تعلقات سے قریب ترین ہے آنقدر (اِس...
01/09/2026

"کلام اللّٰہ کے ساتھ خداوند مسیح کا کیا تعلق ہے خاص اور نادر ہے فی التحقیق وہ تعلق اور تعلقات سے قریب ترین ہے آنقدر (اِس حد تک) کہ وہ خدا تعالیٰ کی ذاتِ متجلی کے اُن اسرارِ غیب میں سے ہے جس تک عقل اور روحِ انسانی بغیر نصرت اور توفیقِ روح القدس کے ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ چُنانچہ خداوند مسیح کا حال اِس امر میں نبیوں اور پیغمبروں کے حال سے تا غایت نہایت دور و بعید ہے از آن رو (اِس وجہ سے) کہ وہ سب رب تعالیٰ کے کشفِ اِسرار کے مختلف درجات و مراتب سے بموجب استعداد کے مشرف ہوسکتے تھے پر مسیح اپنے اور اپنے رسولوں کی صاف تقریروں کے بموجب آپ ہی فی نفسہ خدا کی پاک ذات اور اُس کے کلامِ خفیہ اور پنہاں کا عین کشف اور کاشف ہے تو ایسا خام خیال کرنا نہ چاہیے کہ عالمِ بالا سے عالی تعالیٰ کا کلام اُس پر نازل ہوا۔ پر سچ اور بر حق خبر یہ ہے کہ آپ ہی کلامِ اِلٰہی ازل سے ہوکر اُترا نہ یہ کہ علم، حقیقت اور معرفتِ الٰہی سے نادر و بے مثال طور پر بہرہ ور اور سرفراز ہوگیا چُنانچہ آپ ہی اپنی ماہیت کے حق میں فرماتا ہے کہ حق اور حیات (یعنی عین حق اور عین حیات) میں ہوں اور پھر کوئی بیٹے کو نہیں جانتا مگر باپ اور کوئی باپ کو نہیں جانتا مگر بیٹا اور وہ جس پر بیٹا اُسے کشف کیا چاہتا ہے۔
دیکھو اَے صاحبو! کیسا بے اصل اور ناجائز اور بے موقع آپ کو سوال ہے کہ حضرت مسیح یسوع پر کلام اور کتاب کیوں نہیں اُتری جیسا حضرت موسیٰ اور داؤد اور یسعیاہ وغیرہ پر، وہ جس کا نام کلمتہ اللّٰہ ہے اور وہ لقب اُس کی ماہیت کا معرف اور مظہر ہے اُس کی اِبنیتِ الٰہی کے مجمع تفاضیل سے عمدہ اور عالی تر خصوصیت اُس کی کلمیت ہے خواصِ کلمیت میں سے رب تعالیٰ کا عین کشفِ اِسرار ہونا اور افضل خاصیت ہے جو باقی نبیوں کی نسبت مسیح یسوع کی ترجیح اور تفضیلِ ذاتیہ کا باعث ہے ہاں بلکہ یہ خداوند یسوع مسیح کی وہ ترجیح اور تفضیل ہے جو از ازل سب مخلوقات اور موجودات پر ہے خواہ وہ خاکی ہو خواہ آسمانی اور اُس کا وہ جلال موروثی ہے جو مشار الیہ ہے یوحنا رسول کے 17 باب کی 5 آیت میں؛ اب اے باپ تو مجھے اپنے ساتھ اُس جلال سے جو میں دنیا کی پیدائش سے پیشتر تیرے ساتھ رکھتا تھا متجلی کر۔ تو مسیح یہ رتبۂ خاص یعنی کشف الاسرار ہونا بآں حیثیت رکھتا ہے کہ اُس کی ذات اور لقب کلمتہ اللّٰہ ہے باتفاق اُس تقریر کے جو یوحنا کے اول باب کی 18 آیت میں ملتی ہے خدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا اکلوتا بیٹا جو باپ کی گود میں ہے اُسی نے اُسے بتایا یا اگر ٹھیک اصل زبان کا ترجمہ کیجیے تو اُس کی ذات کی تشریح کی ہے۔ پھر خداوند نے کلمتہ اللّٰہ ہونے کا رتبہ پایا بآں حیثیت کہ وہ ابنِ اللّٰہ ہے چنانچہ مکاشفات کے 1 باب کی اول آیت میں لکھا ہے یسوع مسیح کی مکاشفت جو خدا نے اُسے دی تاکہ اپنے بندوں کو وہ باتیں جن کا جلد ہونا ضرور ہے دکھا دے۔ پس بخوبی معلوم اور ثابت ہے کہ جس طرح خداوند مسیح منجی العاصین اور شفیع العالمین واحد و تنہا ہے اب بھی اور حشر و نشر کے دن بھی۔ اِس طرح عہدِ عتیق و عہدِ جدید میں یہ مرتبہ مسیح کے ساتھ مخصوص ہے یعنی ذات اور قول اور فعل میں اللّٰہ تعالیٰ کا عین کشف ہوا اور اُس کے جلال اور نورِ محجوب کا فاش کرنا تو اُس کاشفِ اللّٰہ پر بچشمِ خود نگاہ کرکے اُس کا مبین کرنا اور گواہی کی راہ سے تقریری و تحریری خبروں کا اظہار اور اشتہار کرنا رسولوں کا عہدہ معین تھا جیسے یوحنا رسول نے بھی کہا اپنے خط کے 1 باب میں، اُس زندگی کے کلام کی بابت جو شروع سے جس پر ہم نے سُنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ہمارے ہاتھوں سے چھوا اُس کی خبر ہم تمہیں دیتے ہیں تاکہ تم بھی ہمارے ساتھ رفاقت رکھو اور ہماری رفاقت باپ کے ساتھ اور اُس کے بیٹے یسوع مسیح کے ساتھ ہے۔"

اقتباس: انجیلِ داؤد مصنفہ فاضلِ جلیل، مفسرِ شہیر، محققِ نبیل، جناب اُسقف تھامس ویلپی فرنچ صاحب، باب پانزدہم در باب بعض وزنی نقلیات کہ مستلزم و مستدل بر اُلوہیت و معبودیتِ خداوند مسیح میبا شند، صحفہ نمبر 223 تا 225.

جان بنین کی 338ویں یومِ وفات کے موقع پراصلاحی و پیورٹن روایت کے عظیم مبلغ، مصنف اور روحانی رہنما جان بنین کی 338ویں یومِ...
30/08/2026

جان بنین کی 338ویں یومِ وفات کے موقع پر
اصلاحی و پیورٹن روایت کے عظیم مبلغ، مصنف اور روحانی رہنما جان بنین کی 338ویں یومِ وفات کے موقع پر ریسرچ سینٹر کو یہ مختصر کتابچہ آن لائن شائع کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
یہ کتابچہ جان بنین کی زندگی، ایمان، خدمت اور مصائب و آزمائشوں کا مختصر مگر مفید تعارف پیش کرتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ نئی نسل خصوصاً مسیحی قارئین، بنین کی زندگی اور اس کی وفادارانہ مسیحی گواہی سے واقف ہوں اور اس کے ایمان، صبر اور ثابت قدمی سے روحانی حوصلہ حاصل کریں۔
ریسرچ سینٹر کی جانب سے اس کتابچے کی آن لائن اشاعت کا مقصد صرف ایک تاریخی شخصیت کو یاد کرنا نہیں، بلکہ اُس عظیم مسیحی ورثے کو محفوظ کرنا اور عام قارئین تک پہنچانا بھی ہے جس نے صدیوں سے کلیسیا کی تعمیر میں کردار ادا کیا ہے۔
ایمان، صبر اور قلم کے مجاہد جان بنین کی یاد کو خراجِ تحسین۔

Download Free PDF:
https://archive.org/details/20260831_20260831_0357

"صادِق کی یادگار ہمیشہ رہے گی۔" (زبور 112: 6)
30/08/2026

"صادِق کی یادگار ہمیشہ رہے گی۔"
(زبور 112: 6)

"چوکیدار: تمہارا نام کیا ہے ؟مسیحی : میرا نام بے فضل تھا مگر اب مسیحی ہے۔"اقتباس: مسیحی مسافر کا سفر مصنف جان بنین صحفہ ...
30/08/2026

"چوکیدار: تمہارا نام کیا ہے ؟
مسیحی : میرا نام بے فضل تھا مگر اب مسیحی ہے۔"

اقتباس:
مسیحی مسافر کا سفر مصنف جان بنین صحفہ نمبر 54

انارکلی لاہور میں واقع پنجاب ریلیجیس بک سوسائٹی کی تاریخی عمارت کا زبوں حالی کے بعد بالآخر Punjab Walled Cities and Heri...
28/08/2026

انارکلی لاہور میں واقع پنجاب ریلیجیس بک سوسائٹی کی تاریخی عمارت کا زبوں حالی کے بعد بالآخر Punjab Walled Cities and Heritage Areas Authority کے ذریعے بحال کیا جانا ایک انتہائی مسرت کن اور جذباتی لمحہ ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں قائم ہونے والا یہ تاریخی ادارہ برصغیر میں مسیحی ادبی و مشنری خدمات کا عظیم الشان مرکز رہا ہے، جہاں سے دہائیوں تک اردو اور پنجابی اور دیگر زبانوں میں بائبل مقدس کے تراجم، مزامیر اور حمد و ثنا کی کتب اور روحانی و مذہبی ادب شائع کر کے پورے خطے میں مقامی لوگوں کی فکری و روحانی آبیاری کی گئی۔ دہائیوں بعد اس تاریخی و تعمیراتی ورثے کی تحفظ اور آرائشِ نو کا کام شروع ہونا نہ صرف برصغیر کے مسیحیوں کی عظیم تاریخ کی پاسداری ہے، بلکہ یہ لاہور کے متنوع بین المذاہب ورثے کو زندہ رکھنے کی جانب Walled City of Lahore Authority کا ایک انتہائی قابلِ تحسین اور خوش آئند اقدام ہے۔

Address

Vehari
1122

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Theological Research Centre Vehari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share