23/01/2026
یہ بات بالکل درست ہے کہ اللہ تعالیٰ جن بندوں سے زیادہ محبت کرتا ہے، اُنہیں آزمائشوں اور تکالیف سے گزارتا ہے—لیکن یہ تکالیف سزا نہیں ہوتیں، بلکہ درجات کی بلندی، گناہوں کی معافی اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
✨ وضاحت
دنیا کی مشکلات مؤمن کے لیے امتحان ہوتی ہیں۔ جب بندہ صبر کرتا ہے، شکوہ کے بجائے شکر اور دعا کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو مضبوط کرتا ہے اور اس کے مقام کو بلند فرما دیتا ہے۔ تکلیف دراصل یہ پیغام ہوتی ہے کہ اللہ اپنے بندے کو نظرانداز نہیں کر رہا، بلکہ اسے تیار کر رہا ہے۔
📖 قرآن سے دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں کے نقصان سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔”
(سورۃ البقرہ 2:155)
اور آگے فرمایا:
“یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے رحمتیں اور ہدایت ہے۔”
(سورۃ البقرہ 2:157)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ آزمائش کے بعد رحمت اور ہدایت ہے—بشرطیکہ صبر ہو۔
🕊️ حدیثِ نبوی ﷺ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جب اللہ کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، پس جو راضی رہا اُس کے لیے رضا ہے، اور جو ناراض ہوا اُس کے لیے ناراضی ہے۔”
(ترمذی)
ایک اور حدیث میں ہے:
“بڑی جزا بڑی آزمائش کے ساتھ ہوتی ہے، اور اللہ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے۔”
(ترمذی)
🌱 خلاصہ
اگر زندگی میں تکالیف بڑھ جائیں تو مایوس نہ ہوں۔ یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ اللہ آپ کو اپنے قریب لانا چاہتا ہے۔ صبر، دعا اور اللہ پر بھروسہ—یہی راستہ ہے جو تکلیف کو نعمت میں بدل دیتا ہے۔
اللہ ہم سب کو صبر کرنے والوں میں شامل فرمائے، آمین 🤍