10/07/2026
کبھی عرب اس اونٹنی کو ''سُدًى'' کہتے تھے جو کسی کام کی نہ رہتی۔
نہ دودھ دیتی، نہ نسل بڑھاتی، نہ کسی فائدے کی ہوتی۔
اسے ریوڑ سے الگ کر دیا جاتا، کیونکہ وہ صرف جگہ گھیرتی تھی، مقصد نہیں۔
پھر قرآن نے یہی لفظ انسان کے لیے استعمال کیا،
أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى،
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی بے مقصد چھوڑ دیا جائے گا؟ القیامۃ۔۔ 36
بعض لوگ پوری زندگی صرف روزگار، دولت، شہرت، ڈگری، گھر، بیرونِ ملک، سوشل میڈیا اور خواہشات کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں،
لیکن ایک لمحہ بھی یہ نہیں سوچتے کہ اللہ نے مجھے کس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے؟
قرآن کہتا ہے،
وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا،
دنیا بھی کماؤ، مگر آخرت کو اپنا اصل ہدف بناؤ۔
اگر قرآن سے تعلق نہیں، تو ممکن ہے ہم کامیاب ضرور ہوں، مگر بامقصد نہ ہوں۔
آج خود سے صرف ایک سوال کیجیے،
میں زندگی گزار رہا ہوں یا صرف وقت گزار رہا ہوں؟
عبدالغفارخان