Jamiat Tulaba Islam Matta

Jamiat Tulaba Islam Matta (فك كل نظام (شاه ولي الله

15/05/2016
29/01/2016

مولوی اور کُرسی .... ظفرجی

یکم مئ 1972 .... !!!
دربان صف باندھے کھڑے تھے- خدام ادھر ادھر بھاگے پھرتے تھے-صوبائ گیسٹ ہاؤس کی رونقیں بامِ عروج پر تھیں- چیف سیکرٹری خود عملےکو ھدایات دیتا پھرتا تھا- ہر شخص کا چہرہ تناؤ سے لال سرخ ہو رہا تھا- کیوں نہ ہوتا کہ آج اقتدار کی کرسی پر پہلی بار ایک مولوی بیٹھنے آ رہا تھا-
ایک سرکاری گاڑی استقبالیہ کے سامنے آن رکی- مستعد ڈرائیور نے دروازہ کھولا - کندھے پر رومال اور سر پر پگڑی باندھے ، گٹّھے ہوئے مظبوط جسم والا ایک چاک و چوبند مولوی باہر نکلا- ہر طرف شور مچ گیا " سلام مولانا ... سلام مولانا !!! "
سیکرٹری نے آگے بڑھ کر استقبال کیا- درباریوں سے تعارف کروایا- اور مولانا کو پورے پروٹوکول کے ساتھ سرکاری گیسٹ ہاؤس کے وی آئ پی روم تک پہنچایا-
مولانا انتہائ حیرت اور دلجمعی سے اپنی نئ قیام گاہ کے درو دیوار کو دیکھ رہے تھے- مہمان خانے کی سیر کراتے ہوئے اچانک سیکٹری بول اُٹھا:
"سر .... صوفہ کچھ پرانا ہے .... لیکن بے فکر رہیں .... صبح تک بدلوا دوں گا"
"کس لئے بھائ؟؟ " مولانا نے حیرت سے پوچھا-
" سر ... انگریز دور کا فرنیچر ہے ... تھوڑا آؤٹ آف فیشن ... " چیف سیکرٹری نے حقِ خوشامد ادا کرنے کی کوشش کی-
"بھائ .... میں عبدالخیل کا رہنے والا ایک درویش آدمی ہوں ... میرے گھر میں صوفہ تو کیا چارپائ تک نہیں ہے... جو چیز پڑی ہے ... پڑی رہنے دو ... بس شراب کی بوتلیں اٹھوا دو"
ان دنوں ملک خداداد میں شراب کے ڈنکے بجتے تھے- کولڈ اسٹورز پر پیپسی ، کوکا کولا کی جگہ شراب بکتی تھی- سرکاری میٹنگز اور تقریبات میں برانڈی کے دور چلتے تھے- امراء وہسکی اور برانڈی نوش فرماتے اور غرباء "دیسی ٹَھرّا " ڈِیکتے تھے-
اگلے ہی دن مولانا نے ایک دھانسُو قسم کا اعلان کر کے نوکر شاہی کی ساری ہوا نکال کے رکھ دی-
" آج سے صوبہ بھر میں شراب کی تیاری ، اس کی فروخت اور اس کا پینا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے- شراب کے تمام لائسنس آج سے منسوخ سمجھے جائیں- کسی ہوٹل یا کلب میں شراب نہیں رکھی جائے گی- اس سلسلے میں صوبائ حکومت کو ایک قانون کی تیاری کا حکم دے دیا گیا ہے جو جلد ہی نافذ کر دیا جائے گا"
کسی کو امید نہ تھی کہ شراب پر بھی پابندی لگ سکتی ہے- اس دور میں یہ حکم ایسا ہی تھا جیسے آج پرویز خٹک KPK میں نسوار پر پابندی لگا دے-
نوکر شاہی اور انتظامیہ اسے مولوی وزیر اعلی کی سیاسی بڑھک سمجھی- لیکن مولانا نے صرف 5 دن میں امتناعِ شراب آرڈننس نافذ کر کے مئے خانوں کو ویران کردیا- شراب صوبے کی گلیوں میں یوں بہنے لگی جیسے چودہ سو سال پہلے مدینہ شریف کی گلیوں میں بہی تھی- مٹکے ٹوٹتے گئے اور رندہائے بلانوش سبو سبو کرتے رہ گئے:

اے محتسب نہ پھینک ، ارے محتسب نہ پھینک
ظالم شراب ہے ، ارے ظالم شراب ہے

ان دنوں ملک کا قومی کھیل جؤا تھا- سرشام ہی جوئے خانے آباد ہو جاتے اور تماشائیوں کے ٹھٹ لگ جاتے- مولانا کا صوبہ بھی اس بلاء سے محفوظ نہ تھا-
انہوں نے اگلا آرڈینینس جوئے اور منشیات کے خلاف جاری کیا- چنانچہ اگلے کچھ روز میں قمارخانوں میں بھی الّو بولنے لگے-
مولانا کے ان عظیم فیصلوں کو نہ صرف ملک بھر میں پزیرائ ملی بلکہ عالمِ اسلام میں بھی انہیں خوب سراہا گیا- ان اقدامات کا گوناں گوں اثر مرکزی حکومت پر بھی پڑا اور اندرون و بیرون ملک سے اخلاقی دباؤ بڑھنے لگا- چنانچہ کچھ مدّت بعد "تھوڑی سی پینے والے" وزیرِ اعظم بھُٹّو صاحب بھی اپنے ساغرو مینا توڑنے پر مجبور ہو گئے- ایک سرکاری فرمان کے تحت ملک بھر میں شراب خانوں اور کیسینوز پر تاحیات پابندی لگا دی گئ-
مئے کشوں کے جام توڑنے والا ، سرحد کو سود کی لعنت سے پاک کرنے والا ، قوم کو احترامِ رمضان آرڈینس ، جمعہ کی چھُٹّی اور رویتِ ہلال کمیٹی کا تحفہ دینے والا ، جہیز جیسی قبیح رسم پر پابندی لگانے والا ، صوبہ سرحد میں لارڈ میکالے کا تعلیمی نظام اجاڑ کر اسلامی اصلاحات لانے والا ، خواتین کو بُرقعہ اور دفتری بابؤں کو قومی لباس پہنانے والا یہ درویش صفت وزیرِ اعلی مولانا مفتی محمود رح تھا-

وہ شب زدوں میں سحر کا دماغ رکھتا تھا
ہوا کے دوش پہ اپنا چراغ رکھتا تھا

مولانا مفتی محمود جنوری 1919ء میں موضع عبدالخیل پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئے- آپ مراد آباد، دہلی اور دیوبند کے فارغ التحصیل تھے۔ آپ کی سیاسی زندگی کا آغاز 1953ء میں تحریک ختم نبوّت سے ہوا۔ آپ کا شمار بھی عشق کے ان عظیم قیدیوں میں ہوتا ہے جو آزاد پاکستان کو قادیانیت کے چنگل سے چھڑانے کی پاداش میں زندانوں میں جھونک دیے گئے- مولانا کو اس "جرمِ عظیم"میں ایک سال قید کی سزا ہوئ- آپ نے مولانا لاہوری رح کی اقتداء میں ملتان جیل کو سات ماہ تک اپنے معطر وجود سے مشکبار کئے رکھّا-

خدا کی ذات پہ اُس کا یقینِ کامل تھا
وہ دِل میں عشقِ رسالتِ مآب ﷺ رکھتا تھا

ختمِ نبوّت کی اس طویل جنگ کا فیصلہ کن معرکہ آپ ہی کی سرکردگی میں 1974ء میں سر کیا گیا- قومی اسمبلی میں آپ کے دلائل کی گھن گرج سے قادیانیت کا وہ بت آخر پاش پاش ہو گیا جو ربع صدی سے پاک سرزمین پر اسلامی لبادہ اوڑھے کھڑا تھا-
حضرت مولانا مفتی محمود رح ایک بے باک مجاہد ، پاکباز عالم دین ، صوفیء باصفاء اور نڈر سیاست دان تھے- بطور شیخ الحدیث آپ نے جہاں دین کے محافظ تیار کئے وہیں لاتعداد فتاوی بھی جاری فرمائے جن سے آج بھی مفتیان کرام استفادہ کرتے ہیں- آپ اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی تھے- مولانا تمام عمر اپنے کارکنوں کو مناظروں اور مسلکی ابحاث سے پرہیز کا درس دیتے رہے ، اور شگفتہ بیانی ، افہام و تفہیم اور اخوّت و بھائ چارے کی تلقین کرتے رہے-
اپنے رفقاءکے ساتھ حضرت مفتی محمود صاحب نے جمعیت کے مشن کو آگے بڑھانے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ جمعیت کا لازوال باب ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے:
"میرے لئے ... دنیا بھر کی بادشاہی سے بہتر زمین کا وہ ٹکڑا ہے ... بے شک وہ چند گز کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو ... جس پر اللہ کا نظام نافذ ہو ... ہم اس ایک گز ٹکڑے کےلئے بھی قربانی دیں گے"
ایسے جرّی مولوی کو تنگ نظر سیکولر حکمران اقتدار کی کرسی پر کب تک گوارا کر سکتے تھے- چنانچہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رح کی طرح آپ کو بھی بہت کم مدّت تک حکمرانی میّسر آ سکی- دس ماہ کی قلیل مدّت میں مولانا نے ثابت کر دیا کہ اقتدار کی کرسی محض لوٹ گھسوٹ کا پرمٹ نہیں ، ایمان و یقین کی دولت سے اسے مسجد کا ممبر بھی بنایا جا سکتا ہے- اور جمہوری سیاست کے ریگستان میں شریعت مطہرہ کے پھول بھی کھلائے جا سکتے ہیں-
بیسویں صدّی میں خلافتِ راشدہ کی یاد تازہ کرنے والا یہ عظیم سیاستدان 14 اکتوبر 1980ء کو کراچی میں راہیء ملکِ عدم ہوا- آپ کی وفات پر مشہور اہلحدیث عالم علّامہ احسان الہی ظہیر شہید نے کیا خوب تبصرہ فرمایا :
" مستقبل میں جب کبھی حریت فکر کی بات ہوگی ، اعلاءکلمہ اللہ کا سبق دہرایا جائیگا ، جب بھی حق و باطل میں محاذ آرائ ہوگی ، جب کبھی روشنی و تاریکی کی جنگ ہوگی ، جب کبھی سرفروش سروں کی فصل لیکر اٹھیں گے ، جب کہیں شہیدوں کا ذکر ہوگا ، جب کہیں غازیوں کی بات چلے گی ، مفتی محمود ضرور یاد آئیں گے ، کیونکہ وہ ان شہیدوں غازیوں اور سرفروشوں کے سالار تھے"

وہ اپنی زیست کے لمحوں کی لاج رکھتا تھا
وہ "کل" کو اپنے تصرف میں "آج" رکھتا تھا
وہ اک خطیب کہ شعلہ نوا بھی تھا لیکن
غضب کی دھوپ میں شبنم مزاج رکھتا تھا
وہ جس کے عزم پہ قرباں جوانیوں کا غرور
وہ مرد ِ پیر بھی کیسا شباب رکھتا تھا

Address

Swat

Telephone

03439586244

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamiat Tulaba Islam Matta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share