Mufti Syed Hamza Rasheedi مفتی سید حمزہ رشیدی

Mufti Syed Hamza Rasheedi مفتی سید حمزہ رشیدی THIS PAGE IS SPEACIALLY FOR ISLAMIC BAYANAT NAAT TELAWAT E QURAN ETC...

10/01/2026

؟ ؟
کیا جمہوری نظام کے ذریعہ شریعت نافذ ہوسکتی ہے
الجواب
دنیا میں اسلام کا واحد نظام، نظامِ خلافت ہے
خلافت کے ہوتے ہوئی کسی بھی نظام کا نعرہ اسلام سے بغاوت کے زمرہ میں آۓگا
اگر خلافت کا نظام نہیں تو پھر اگر آپ کے پاس مقابل نظام کے مقابلہ میں مکمل قوت و طاقت ہے تو اسلامی نظام نافذ کرنا اور خلافت قائم کرنا فرض ہے

لیکن

اگر خلافت کا نظام نہیں
یا آپ میں اتنی قوت نہیں کہ آپ خلافت قائم کرسکیں
یا موجودہ قوت کا مقابلہ کرنے کی استطاعت نہ ہو تو مسلمانوں کے لیڈر اور قیادت اسی نظام میں رہ کر اراکین اسلام اور شعائر اسلام کی حفاظت اپنا فریضہ سمجھ کر اس کا تحفظ کریں گے اور اپنی قوت بڑہانے کی جدو جہد کریں گے

آئیے آتے ہیں موجودہ دور اور جمہوریت کی طرف

فی زماننا پاکستان میں نہ تو خلافت کا نظام موجود ہے اور نہ مقتدر قوتیں اسلام کے نفاذ کو برداشت کرتی ہیں

پاکستان میں خلافت قائم کرنے کا مطلب فوج ایجنسیز و اسٹبلشمنٹ رینجرز پولیس اور عدالتی نظام سے مقابلہ کرنا ہے
کیا موجودہ دور میں پاکستان میں ایسی مذہبی قوت ہے جو نہتے بے سروسامانی کے عالم میں ان تمام قوتوں کا بیک وقت مقابلہ کرسکے ؟؟

یقینا ایسی کوئی جماعت یا قوت نہیں
اگر تھوڑی بہت قوت ہے تو ظاہر ہے ان کے پاس ہتھیار نہیں اسلحہ نہیں، ٹینکوں کے مقابلہ کےلیے وسائل نہیں، فضائی حملوں کا جواب دینے کی کوئی صورت نہیں

اگر بالفرض فوج اسٹبلشمنٹ اور ساری قوتیں صراحة غیر مسلم ہوتیں اور مسلمانوں کو انکے فرائض کی ادائگی سے روکتی اور کھلم کھلا ظلم کرتیں تو پھر بات الگ تھی پھر ان کے خلاف اٹھنا ہر مسلمان پر فرض تھا

لیکن جب یہ سب مسلمان ہیں، فرائض سے ممانعت نہیں اور بظاہر اسلام کا نام لیتے ہیں
ایسی صورت میں اسے دار الحرب بھی نہیں کہا جاسکتا بلکہ دارالسلام ہی کہلاۓگا اور دار السلام میں بغیر قوت واستطاعت کے حکومت وقت کے خلاف اسلحہ اٹھانا بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے
تو معلوم ہوا کہ خلافت نافذ نہیں ہوسکتی
جب خلافت کا قیام یا اسلام نظام کا نفاذ ممکن نہیں
تو پھر ہمارے پاس تین راستے بچتے ہیں
بادشاہت مارشلاء اور جمہوریت

بادشاہت تو ظاہر ہے ظالمانہ نظام ہے جس میں عوام کہ بات بلکل نہیں چلتی لیکن اگر بادشاہت بھی ایسی ہو جس میں اسلام کا نفاذہو تو یہ بھی درست ہے
مارشلاء کا نظام بھی مکمل ظالمانہ نظام ہے کیونکہ اس میں فوج اپنی طاقت کے ذریعہ فیصلے منواتی ہے
باقی رہی جمہوریت تو یہ کوئی نظام نہیں بلکہ یہ طریق انتخاب ہے
اس کے ذریعہ قوتیں برسر اقتدار آتی ہیں
اور جب ہم اپنی جدو جہد سے برسر اقتدار آجائیں تو ہم بھی اسلامی نظام نافذ کریں گے
پھر ایک جمہوری طریقہ کار باہر ملکوں کا ہے ایک ملک پاکستان کا ہے

پاکستان کے جمہوری طریقہ کار میں آئین بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے اور آئین کی بنیاد اسلامی شقوں پر رکھی گئی ہے
اس میں بنیادی شق یہ ہے


#سربراہ مملکت مسلمان ہوگا
#صدرمملکت مسلمان ہوگا
#آئین کی بنیاد قران اور حدیث ہوگی
#جمہوریت کے ساتھ اسلامی کا لفظ لازمی ہوگا یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان
وغیرہ وغیرہ
جمہوریت کو جو لوگ کفر کہتے ہیں وہ اس وجہ سے کہ اس میں حاکمیت اللہ کی نہیں بلکہ اکثریت کی ہوتی ہے
جب کہ پاکستانی آئین میں یہ شرط لگادی کہ حاکمیت اعلی اللہ ہی کی ہوگی
اور کفر کا فتوی لگانے کا دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس میں اکثریت جو بھی بل پاس کرےگی وہی قانون بنےگا اگر چہ اللہ کے قانون کے خلاف ہو
ہم نے پاکستانی آئین میں یہ شق لگائی کی اسلام مخالف کوئی قانون اگرچہ اکثریت سے پاس کیوں نہ ہو لیکن وہ قابل قبول نہیں ہوگا
ان تمام بنیادی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوۓ یہ خلاصہ نکلتا ہے
کہ پاکستان میں اس وقت خلافت ممکن نہیں اور نہ ہی بادشاہت اور مارشلاء کی گنجائش ہے
ظاہر ہے ایک جمہوریت رہ گئی

اب اگر علماء کرام اس وقت جمہوریت کا انکار کرکے سیاست سے نکل جائیں تو چونکہ سارے فیصلے پارلمنٹ میں ہوتے ہیں جب پارلمنٹ میں یہی اسلام بیزار لوگ مکمل طور پر قابض ہوجائیں تو فیصلے بھی اسلام خلاف ہونگیں
اور فیصلہ ہوجانے کے بعد اگر ہم سڑکوں پر بہت اچھل کود کریں تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا
اس لیے جمہوریت کو مجبورا تسلیم کرنا پڑتا ہے
اور اسی میں رہ کر علماء کو حصہ لینا فرض کا درجہ رکھتا ہے
پھر پارلمنٹ میں علماء کی موجودگی کی دوصورتیں ہیں
ایک تو یہ کہ اکثریت کے ساتھ پارلمنٹ میں پہنچے یعنی 170سے زیادہ سیٹوں کے ساتھ پہنچے تو اس صورت میں چونکہ حکومت علماء کی ہوگی اس لیے آئین میں موجودہ اسلامی شقوں کا نفاذ بلکل آسان ہوگا
اور اگر علماء کرام چند سیٹوں کے ساتھ جائیں گے تو پھر ظاہر ہے 12 یا 13سیٹوں کے ساتھ ان شقوں کا نفاذ بھی ممکن نہیں
لہذا اس صورت میں صرف دفاعی صورت ہی اختیار کی جاسکتی ہے
اور الحمد للہ وہ جمعیت علماء اسلام بخوبی نبھانے میں مصروف ہیں

 #صباح الخیر ایھا الاخوان
15/03/2025

#صباح الخیر ایھا الاخوان

29/01/2025

WELCOME TO MY NEW PAGE ...
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

Address

Swabi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Syed Hamza Rasheedi مفتی سید حمزہ رشیدی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share