01/09/2026
*ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ*
*فکر آخرت کا طریقہ*
(۱)
ارشاد فرمایا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے *ولتنظر نفس ما قدمت لغد* یعنی فکر آخرت کیا کرو اور فکر آخرت کا طریقہ یہ ہے کہ ایک وقت مقرر کرلو مثلاً سوتے وقت روزانہ بلاناغہ بیٹھ کر سوچا کرو کہ معاد (آخرت) کیا ہے اور مر کر ہم کو کیا پیش آنے والا ہے؟ مرنے سے لے کر جنت میں داخل ہونے تک جو واقعات ہونے والے ہیں سب کو سوچا کرو کہ ایک دن وہ آئے گا کہ میرا اس دارِ فانی سے کوچ ہوگا۔ سب سامان مال اسباب باغ نوکر چاکر اولاد بیٹا بیٹی ماں باپ بھائی بہن خویش اقارب دوست دشمن سب یہیں رہ جائیں گے۔ میں تن تنہا سب کو چھوڑ کر قبر کے گڑھے میں جالیٹوں گا اور وہاں دو فرشتے آئیں گے۔ اگر میرے دن بھلے ہیں تو اچھی صورت میں ورنہ خدانخواستہ ڈراؤنی صورت میں نہایت ہولناک آواز سے آکر سوالات کریں گے۔ پس اے نفس ! اس وقت کوئی تیرا مددگار نہ ہوگا، تیرے اعمال ہی وہاں کام آئیں گے۔ اگر سوالات کے جوابات درست ہوگئے سبحان اللہ، جنت کی طرف کی کھڑکی کھل جاوے گی اور اگر خدا نخواستہ امتحان میں ناکام رہا تو قبر *حفرة من حفر النار* یعنی دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہوگی۔
(تسهیل الاصلاح، دعواتِ عبدیت جلد دوم، صفحہ۱۱۳، خطبات حکیم الامت، جلد ۲۶، صفحہ ۱۴۵)