20/04/2025
اسلامی نقطہ نظر سے وراثت کی تقسیم
اسلام میں وراثت کی تقسیم ایک بہت اہم اور مفصل نظام کے تحت کی جاتی ہے جسے علم الفرائض کہتے ہیں۔ اس کا ماخذ قرآن، سنت، اور اجماع ہے۔
1. بنیادی اصول:
وراثت کی تقسیم کا آغاز میت کی تدفین کے اخراجات، قرضوں کی ادائیگی، اور وصیت (اگر ہے تو) کے بعد بچی ہوئی جائیداد سے ہوتا ہے۔
شریعت نے مرد اور عورت دونوں کو وراثت میں حصہ دیا ہے۔
بیٹے کا حصہ بیٹی سے دگنا ہوتا ہے (اگر دونوں موجود ہوں)۔
ورثاء کی اقسام:
1. اصحاب الفروض (مقررہ حصے والے وارث):
جیسے بیوی، شوہر، والدین، بیٹیاں، نانی، دادا وغیرہ۔
2. عصبات (باقی جائیداد کے حقدار):
جیسے بیٹے، بھائی، چچا وغیرہ۔
3. ذوی الارحام (رشتہ دار جن کا کوئی مقررہ حصہ نہیں):
اگر اصحاب الفروض اور عصبات موجود نہ ہوں تو انہیں حصہ ملتا ہے۔
چند مثالیں وراثت کی تقسیم کی:
مثال 1: بیوی اور تین بیٹے ہوں
بیوی کا حصہ: 1/8 (اگر اولاد ہو)
باقی 7/8 تین بیٹوں میں برابر تقسیم ہوگا
مثال 2: بیوی، بیٹا اور بیٹی
بیوی: 1/8
باقی جائیداد بیٹے اور بیٹی میں 2:1 کے تناسب سے تقسیم ۔
پاکستانی قانون کے مطابق وراثت:
پاکستان میں وراثت کا قانون مسلمانوں کے لیے اسلامی شریعت کے مطابق ہی نافذ ہوتا ہے، جو کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 اور وراثت ایکٹ 1925 کی روشنی میں چلتا ہے۔ عدالتیں قرآن و سنت کے مطابق تقسیم کرواتی ہیں۔
اہم نکات:
خواتین (بیٹی، بیوی، ماں) کو ان کا حصہ دینا لازم ہے۔
وارث کے حصے کا تعین مرنے والے کی جائیداد اور وارثوں کی موجودگی کے مطابق ہوتا ہے۔
وراثت کی تقسیم کے لیے وراثتی سرٹیفکیٹ نادرا یا عدالت سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔
اختتامیہ:
اسلامی نظام وراثت انصاف اور توازن پر مبنی ہے۔ اس میں ہر رشتہ دار کا حصہ متعین ہے، اور اس کی خلاف ورزی گناہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ وراثت کی تقسیم میں ایمانداری اور عدل سے کام لیں تاکہ خاندان میں فساد پیدا نہ ہو۔