The Muslim power

The Muslim power All Muslims Are One Body

حضرت ابوبکر ؓ صدیق کا ایک جملہ قیامت تک آنے والے حکمرانوں کے لیے ...میری تنخواہ ایک مزدور کے برابرکر دو اگر میرا گزارہ ن...
08/01/2023

حضرت ابوبکر ؓ صدیق کا ایک جملہ قیامت تک آنے والے حکمرانوں کے لیے ...
میری تنخواہ ایک مزدور کے برابرکر دو اگر میرا گزارہ نہ ہوا تو مزدور کی اجرت بڑھا دوں گا
سلام حضرت ابوبکرؓ صدیق سلام

02/01/2023

ھوشیار فتنہ قادیانیت نئے انداز میں

کیا کبھی "زقوم" کے درخت کے بارے میں سنا ھے؟پروردگار قرآن مجید میں فرماتا ھے"اس کے خوشے شیاطین کے سروں جیسے ہیں"یه درخت ج...
01/01/2023

کیا کبھی "زقوم" کے درخت کے بارے میں سنا ھے؟
پروردگار قرآن مجید میں فرماتا ھے
"اس کے خوشے شیاطین کے سروں جیسے ہیں"
یه درخت جزیرۂ عرب کے علاقہ تہامہ میں پایا جاتا ہے.
زقوم ایک درخت کا نام ہے جس کا مزہ بہت تلخ ہوتا ہے۔ بدبودار ہے اور توڑنے کی صورت میں دودھ جیسا رس نکلتا ہے۔

01/01/2023

سبحان الله ڇا ته آواز آھي 😭😭

تین پسندیدہ چیزیں حدیث پاک پڑھیں اور ایمان تازہ کریںنبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی تین پسندیدہ چیزیں حضرت انس رضی اللہ ع...
27/12/2022

تین پسندیدہ چیزیں حدیث پاک پڑھیں اور ایمان تازہ کریں

نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی تین پسندیدہ چیزیں
حضرت انس رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیںکہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’پسندیدہ بنائی گئیں میرے لیے خوشبو اور عورتیں اور بنائی گئی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں۔‘‘
(رواہ أحمد والنسائی، مشکوۃ المصابیح/ص :۴۴۹، باب فضل الفقراء، الفصل الثالث)
ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصنیف ’’المنبہات‘‘ میں بیان فرمایا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پسندیدہ اشیا ء کا ذکر فرمایا، تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ نے اجازت لے کرعرض کیا: حضور! مجھے بھی تین چیزیں بہت پسند ہیں:
۱- آپ کے چہرۂ انور کی طرف دیکھنا دنیا وما فیہا سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
۲- آپ کے منشا و حکم پر اپنا مال خرچ کرنا مجھے بڑا پسند ہے۔
۳- آپ کے نکاح میں اپنی بیٹی دینا بھی مجھے بہت پسندہے۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: حضور! مجھے بھی تین چیزیں بہت پسند ہیں:
۱- امر بالمعروف کرنا، حسنات و معروفات کی اشاعت کرنا مجھے بہت پسند ہے۔
۲- نہی عن المنکر کرنا، برائیوں کا خاتمہ کرنا مجھے بہت پسند ہے۔
۳- پرانے (مگر پاک صاف) کپڑے پہننا بھی مجھے بہت پسند ہے۔
پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی تین پسندیدہ چیزیں پیش کیں:
۱- بھوکوں کو کھانا کھلانا پسند ہے۔
۲- نادار اور ننگوں کو کپڑا پہنانا پسند ہے۔
۳- قرآن کریم کی تلاوت کرنا بھی بہت پسند ہے۔
اخیر میں سیدنا علی کرم اﷲ وجہہٗ نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنی تین پسندیدہ چیزیں عرض کیں:
۱- مہمانوں کی خدمت کرنا بہت پسند ہے۔
۲- جہاد بالسیف، یعنی راہِ حق میں تلوار سے جہاد کرنا بہت پسند ہے۔
۳- شدید گرمیوں میں روزے رکھنا بھی بہت پسند ہے۔
ابھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ان جلیل القدر صحابہؓ کی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیںکہ سیدالملائکہ حضرت روح الامین تشریف لائے اور عرض کیا: ’’رب العالمین نے آپ تمام کی گفتگو سن کر مجھے بھیجا، تاکہ میں اپنی اور رب العالمین کی پسند بتلائوں، میری پسند تو یہ ہے:
۱- (دنیوی اور دینی اعتبار سے) بھٹکے ہوؤں کو راہِ راست بتلانا مجھے بہت پسند ہے۔
۲- عیال دار، تنگ دست کی نصرت کرنا، جس کی جیب تو خالی ہو، مگر ضمیر محفوظ ہو، مجھے بہت پسندہے۔
۳- عبادت گزار غریبوں سے محبت کرنا، یعنی باضمیر غریبوں سے دوستی کرنابھی مجھے بہت پسند ہے۔
پھر فرمایا! اﷲ پاک کو اپنے بندوں سے تین چیزیں بڑی پسند ہیں:
۱- بندہ کا اپنی طاقت و استطاعت کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسندہے۔
۲- فاقہ کے وقت شکوہ کے بجائے صبر کرنا بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔
۳- گناہوں پر ندامت کے ساتھ رونا بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسندہے۔
’’نزھۃ المجالس‘‘ میں علامہ عبدالرحمن صفویؒ نے فرمایا: ’’جب یہ حدیث ائمہ اربعہ کو پہنچی تو ہر ایک نے اپنی اپنی پسند بیان فرمائی، سب سے پہلے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ النعمان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی پسندیدہ چیزیں بیان فرمائیں:
۱- طویل رات میں جاگ کر علم حاصل کرنا مجھے بہت پسندہے۔
۲- تکبر ترک کرنا اور تواضع اختیار کرنا مجھے بہت پسندہے۔
۳- وہ دل جو دنیا کی محبت سے خالی ہو اور اللہ کی محبت سے لبریز ہومجھے بہت پسندہے۔
پھر حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تین پسندیدہ اشیاء بیان فرمائیں:
۱- روضۂ اقدس کا قرب مجھے بہت پسندہے۔
۲- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک (مدینہ) سے چمٹے رہنا بھی مجھے بہت پسندہے۔
۳- اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرنا بھی مجھے بہت پسندہے۔
اس کے بعد حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تین پسندیدہ چیزیں بیان فرمائیں:
۱- مخلوق کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا مجھے بہت پسندہے۔
۲- ترکِ تکلفات اور سادگی سے زندگی گذارنا مجھے بہت پسندہے۔
۳- راہِ تصوف اختیار کرنا بھی مجھے بہت پسندہے۔
اخیر میں حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تین پسندیدہ چیزیں بیان فرمائیں:
۱- اتباعِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری پہلی پسند ہے۔
۲- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انوارات و ارشادات سے برکت حاصل کرنا بھی مجھے بہت پسند ہے۔
۳- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا مجھے بہت پسندہے۔
(نزہۃ المجالس/ ص: ۹۹/ ج :۱)

*👈پڑھ کر مزہ نہ آئے تو پیسے واپس👉*ﺍﯾﮏ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﻟﮍﮐﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﮯﻗﺮﯾﺐﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﮔﺰﺭﺍ۔ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯﺍﺳﮯ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌ...
22/12/2022

*👈پڑھ کر مزہ نہ آئے تو پیسے واپس👉*

ﺍﯾﮏ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﻟﮍﮐﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﮯﻗﺮﯾﺐ
ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﮔﺰﺭﺍ۔ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯﺍﺳﮯ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯﻣﺮﺯﺍ ﮐﻮ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ۔ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺍﻭﮐﺎﮌﮦ
ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻭﻗﺖ
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﻮﺭﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺘﯽ
ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ
ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﺘﮏ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻭﮐﺎﮌﮦ
ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﻠﺲ ﺍﺣﺮﺍﺭ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﻓﺘﺮ ﮐﻮ
ﺧﻂ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ
ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺪﺩﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻓﺘﺮ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺎ
ﺟﺎﺋﮯ۔ﺟﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻄﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺷﺎﮦ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﯿﺎﺕ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔ ﺍٓﭖ
ﺍﻭﮐﺎﮌﮦ ﭼﻠﮯﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯿﺲ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﯾﮟ ۔
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺣﯿﺎﺕ ﺍﻭﮐﺎﮌﮦ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ۔ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ
ﮐﯽ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﯿﺲ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﻭﮐﯿﻞ ﮐﯽ
ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﮟ۔ ﺍﺳﮯ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺣﻮﺍﻟﮯ
ﺩﮐﮭﺎﺋﮯﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺮﺯﺍ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ
ﮐﯿﺎ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯼ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﮐﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ
ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺩﯾﻨﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﭽﺎﮐﮭﭻ ﺑﮭﺮ
ﮔﺌﯽ۔ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ
ﺗﮭﮯ۔ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺣﯿﺎﺕ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻭﮐﯿﻞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺎﺭﯼ
ﮐﺮﻭﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﻭﮦ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ
ﻭﮐﯿﻞ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﮯ ﮔﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﯽ
ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺳﺐ ﯾﻮﻧﮩﯽ
ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔
ﻭﮐﯿﻞ ﺍﺱ ﻃﺮﻑ ﺍٓﯾﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﺪﺍﻟﺖ
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﻤﺒﯽ
ﭼﻮﮌﯼ ﺑﺤﺚ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺩﻻﺋﻞ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺍٓﭖ
ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ! ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺮﺯﺍ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ
ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﮔﺎﻟﯽ ﮨﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ
ﺳﮑﺘﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ
ﻣﺠﺴﭩﺮﯾﭧ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺭﻭﻣﺎﻝ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ
ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ۔ ﺍٓﺧﺮ ﻣﺮﺯﺍﺋﯽ ﻧﮯ
ﮐﮩﺎ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﮔﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ
ﮔﺎﻟﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﺗﮭﯽ ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ
ﻧﮩﯿﮟ ، ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍٓﭖ ﺳﻨﺘﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺟﺐ ﻭﮦ
ﮔﺎﻟﯽ ﺍٓﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺩﯾﮟ :
کیا اسنے کہا تھا کہ تیرے مرزے دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺳﺎﻧﺲ
ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺯﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﮐﺌﯽ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺍﻥ ﮔﺎﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮔﺎﻟﯽ ﺍٓﺋﯽ ھﮯ، ﺟﻮ ﺍﻥ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ :
ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻭﺭ
ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺳﻨﻮ، ﺍﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ 51 ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ
ﺩﯾﮟ۔ ﻣﺠﺴﭩﺮﯾﭧ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺩﺑﯽ ﺩﺑﯽ ﮨﻨﺴﯽ
ﮨﻨﺲ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﺲ ﻣﺮﺯﺍﺋﯽ ﺳﺎﮐﺖ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ
ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﻓﻖ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺏ ﭘﮭﺮ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺎﻟﯽ ﺍٓﺋﯽ ھﮯ۔؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ
ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺍﺏ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﺟﺞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻞ ﮐﯽ
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﮐﮯ ﺁﺅﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ
ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ھﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻞ ﺗﮏ ﻭﮦ ﮔﺎﻟﯽ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ۔
ﺟﺞ ﻧﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮐﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺠﺴﭩﺮﯾﭧ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ
ﺑﺘﺎﯾﺎ : ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﻞ ﮨﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﯿﺲ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

(اب کیا مجھے بتانا پڑے گا کہ اسے فارورڈ کریں ورنہ صبح اٹھو گے تو اتنے لاکھ کا نقصان ھو جائیگا۔ کوئی کام عشق رسول ﷺ میں فی سبیل اللہ بھی کر لیا کریں)۔

19/12/2022

[موت ألف من العلية أقل ضررا من ارتفاع واحد من السفلة]
ہزار اونچے آدمیوں کا مر جانا اتنا بڑا نقصان نہیں جتناایک نیچ آدمی کا اوپر آ جانا"!
{حضرت عمرو بن العاصؓ }

19/12/2022

تو کل کی مثالیں اور اس کا ثمرہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث کے راوی ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بنواسرائیل کے ایک آدمی کا ذکر فرمایا کہ اس نے ایک آدمی سے ایک ہزار دینار بطور قرض طلب کیا۔ اس آدمی نے کہا ٹھیک ہے ( قرض دوں گا ) لیکن کوئی گواہ لاؤ جو ضرورت پڑنے پر گواہی دے۔ تو قرض مانگنے والے آدمی نے کہا كَفَى بِالله شهید" اللہ کی گواہی کافی ہے ( کیا کرو گے کوئی گواہ بنا کر ) اس نے کہا چلو ٹھیک ہے لیکن کوئی ضامن پیش کرو ( کہ ضرورت پڑنے پر میں اس سے طلب کروں) قرض مانگنے والے نے کہا " کفی بِاللهِ كَفَیلا“ اللہ سے بڑھ کر کون ضامن ہو سکتا ہے۔ اس نے کہا صحیح کہتے ہو ۔ اس کے بعد اس نے ایک ہزار دینار قرض اس کو دے دیا اور قرض ادائیگی کی ایک مدت مقرر کر دی۔ مستقرض کو( تجارت کی غرض سے سمندر کا سفر کرنا تھا۔ وہ سفر کر کے گیا اور جب قرض ادا کرنے کا وقت آیا تو وہ روپیہ لے کر سمندر کے پاس آیا لیکن وقت پر اس کو کوئی کشتی نہیں مل سکی۔اور وعدے کا
وقت آ گیا تھا۔
لہذا اس نے ایک لکڑی تلاش کی اور اندر سے اس کی کھدائی کر کے سوراخ کر دیا اور اسی سوراخ میں ایک ہزار دینار اور اپنا ایک خط رکھ کر اچھی طرح بند کر دیا۔ وہ مہر بند لکڑی لے کر سمندر کے پاس آیا اور کہا ! اللَّهُمْ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنتُ تسلَّمْتُ فلاناً ألف دينارٍ فَسَأَلَنِى كَفِيلًا فَقُلْتُ كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا فَرَضِى بِكَ وَسَأَلَنِي شَهِيداً فَقُلْتُ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً فَرَضِي بِكَ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ فلاں شخص سے میں نے ایک ہزار دینار قرض مانگا تھا تو اس نے مجھ سے کہا ضامن پیش کرو، میں نے کہا اللہ سے بڑھ کر ضامن کون ہو سکتا ہے ضمانت کے لئے اللہ کافی ہے وہ تیری ضمانت پر راضی ہو گیا پھر اس نے گواہ طلب کیا، میں نے کہا اللہ کی گواہی کافی ہے وہ اس پر راضی ہو گیا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی کشتی مل جائے تا کہ میں اس کا قرض اس کو ادا کر دوں لیکن کام نہیں چل سکا۔ دیکھے اس کی امانت تیرے حوالے کرتا ہوں "وَإِني أَسْتَوُدِعُكَهَا“ یہ کہہ کروہ لکڑی جس میں رو پیدا اور خط تھا سمندر میں پھینک دیا اور واپس آ گیا۔
چونکہ قرض واپسی کا وقت آ گیا تھا اس لئے قرض دینے والا آدمی بھی انتظار میں تھا کہ شاید کوئی کشتی اس کا روپیہ لے کر آ جائے۔اسی انتظار میں وہ سمندر کے پاس آیا وہاں نہ کشتی ملی نہ کوئی آدی ملا اتفاق سے کیا دیکھتا ہے ایک لکڑی بہتی ہوئی چلی آ رہی ہے۔ اسی لکڑی میں اس کا روپیہ تھا۔ (لیکن اس کو معلوم نہیں تھا ) خیر اس نے جلونی سمجھ کر لکڑی نکال لی۔ جب لکڑی کو چیڑا تو اس میں اس کا چیسہ اور ایک خط ملا۔ اس نے رکھ لیا) پھر کچھ دنوں کے بعد جب کشتی ملی تو وہ آدمی جس نے قرض لیا تھا آیا۔ اور ایک ہزار دینار لے کر قرض دینے والے کے پاس گیا اور بطور معذرت کہا کہ بھائی دیکھئے میں مسلسل کوشش کرتا رہا کہ کوئی کشتی مل جائے اور میں آپ کا قرض واپس کر دوں لیکن اللہ کو منظور نہیں تھاوقت پر نہیں آسکا۔ جیسے کشتی ملی ہے فورا آیا ہوں۔
قرض دینے والے نے کہا! اچھا یہ بتاؤ! تم نے میرے پاس کچھ بھیجا ہے؟
اس نے (ہاں کہنے کے بجائے ) پھر معذرت کی کہ کشتی نہیں ملی اس لئے وقت پر نہیں آسکا، ملی ہے اور فورا آیا ہوں۔ خیر قرض دینے والے نے کہا تم نے لکڑی میں بھر کر جو قرض اللہ کے حوالے کیا تھا اللہ نے اسے پہنچا دیا تمہارا قرض ادا ہو گیا۔ چنانچہ وہ ایک ہزار دینار جو دینے کے لئے اس کے پاس آیا تھا ، لے کر واپس چلا گیا۔( صحیح بخاری، کفالہ: ۲۲۹)

دنیا کے آٹھ ارب لوگوں کے سولہ ارب انگھوٹے ہیں، جن کے چھوٹے سے حصے میں ایسا ڈیزائن بنا ہوا ہے کہ ہر ایک ڈیزائن سولہ ارب ا...
19/12/2022

دنیا کے آٹھ ارب لوگوں کے سولہ ارب انگھوٹے ہیں،
جن کے چھوٹے سے حصے میں ایسا ڈیزائن بنا ہوا ہے کہ ہر ایک ڈیزائن سولہ ارب انسانوں کے ڈیزائنوں میں سے کسی سے نہیں ملتا۔۔۔۔!!
پھر مجھے ایک آیت کا ذکر تو کرنا ہی پڑے گا
وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ
اور خود تمہاری ذات میں بھی ہماری قدرت کی کئی نشانیاں ہیں، تو کیا تم دیکھتے نہیں۔۔۔!!

سبحان الله و بحمدہ سبحان الله العظیم ❤

Address

Sindh
69050

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Muslim power posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to The Muslim power:

Share