Aashiqane Muhammad - s.a.w

Aashiqane Muhammad - s.a.w Purpose of this page is just to encourage people and bring them information about islam.

Sahih Bukhari
05/06/2025

Sahih Bukhari

05/06/2025
30/07/2023

﷽ 🇵🇰 *آج کا کیلینڈر* 🌤
🔖 *11 محرم الحرام 1445ھ* 💎
🔖 *30 جولائی 2023ء* 💎
🔖 *14 ساون 2080ب* 💎
🌄 *بروز اتوار Sunday* 🌄

🌺 *محبوب ترین کلمات !*
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ بات کہ میں *سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ* کہوں مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے
📗 *صحیح مسلم:6847*
💞🌹💞🌹💞🌹💞🌹💞🌹

مرتے وقت آدمی کی زبان کیوں بند ہوجاتی ہے؟روایت ہے کہ مرتے وقت فرشتوں کو دیکھ کر آدمی کی زبان بند ہوجاتی ہے تو چار فرشتے ...
25/07/2023

مرتے وقت آدمی کی زبان کیوں بند ہوجاتی ہے؟

روایت ہے کہ مرتے وقت فرشتوں کو دیکھ کر آدمی کی زبان بند ہوجاتی ہے تو چار فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور سلام کرتے ہیں۔ پہلا فرشتہ سلام کرنے کے بعد کہتا ہے۔ اے اللہ کے بندے!!!!!!!!!!! میں تیرے رزق پر موکل تھا۔ میں تمام زمین پر تلاش کر آیا ہوں۔ مجھے تیرے رزق کا لقمہ کہیں نہیں ملا۔ اس کے بعد دوسرا فرشتہ سلام کے بعد کہتا ہے میں تیرے پانی پر موکل تھا، میں تمام زمین پر تلاش کر آیا ہوں مگر تیرے نصیب کاایک قطرہ پانی مجھے نہیں ملا۔تیسرا فرشتہ کہتا ہے میں تیری سانس پر موکل تھا، مگر اب زمین پر کہیں بھی ایک سانس نظر نہیں آیا۔ پھر چوتھا فرشتہ کہتا ہے کہ میں تیری عمر پر موکل تھا۔ اب زمین پر تیری عمر کا کوئی حصہ موجود نہیں۔ اس کے بعد نامہ، اعمال اس کو دکھائے جاتے ہیں۔ اس وقت میت کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔وہ دائیں بائیں دیکھتا ہے اور نامہِ اعمال پڑھنے سے ڈرتا ہے اس کے بعد ملک الموت اس کی روح قبض کر لیتے ہیں۔
یا اللہ پاک! ہم سب کا خاتمہ بلخیر فرمانا اور ہمارے اعمال ہمارے دایئں ہاتھ میں ہو اور قیامت کے روز ہمیں آپ ﷺ کی شفاعت نصیب فرمانا۔ آمین۔:

﷽  🇵🇰   *آج کا کیلینڈر*  🌤🔖 *05 محرم الحرام 1445ھ* 💎🔖 *24 جولائی 2023ء*  💎🔖 *08 ساون 2080ب* 💎🌄 *بروز سوموار Monday* 🌄🌺 *...
24/07/2023

﷽ 🇵🇰 *آج کا کیلینڈر* 🌤
🔖 *05 محرم الحرام 1445ھ* 💎
🔖 *24 جولائی 2023ء* 💎
🔖 *08 ساون 2080ب* 💎
🌄 *بروز سوموار Monday* 🌄

🌺 *حرمت والے مہینے!*
مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں یہی درست دین ہے تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو
📗 *سورۃ توبہ:٣٦*
💞🌹💞🌹💞🌹💞🌹💞🌹

23/07/2023

﷽ 🇵🇰 *آج کا کیلینڈر* 🌤
🔖 *04 محرم الحرام 1445ھ* 💎
🔖 *23 جولائی 2023ء* 💎
🔖 *07 ساون 2080ب* 💎
🌄 *بروز اتوار Sunday* 🌄

🌺 *پیارے رسولﷺ کے پیارے انداز !*
رسول اللہﷺ کو جب کسی شخص کے بارے میں کوئی بری بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے فلاں کو کیا ہوا کہ وہ ایسا کہتا ہے؟
بلکہ یوں فرماتے لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسا اور ایسا کہتے ہیں
📗 *سنــن ابــو داٶد:4788*
💞🌹💞🌹💞🌹💞🌹💞🌹

تفسیر فی ظلال القرآنسورۃ نمبر 1 الفاتحةآیت نمبر 2أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـمبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ...
19/07/2023

تفسیر فی ظلال القرآن
سورۃ نمبر 1 الفاتحة
آیت نمبر 2

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۞

ترجمہ:
تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے

تفسیر:
بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ آغاز کرنے کے بعد ‘ اب انسان اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ اس کی تعریف کرتا ہے اور پوری کائنات کے لئے اس کی عالمگیر ربوبیت کا اعلان کرتا ہے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے “۔ اللہ کی تعریف وہ شعور ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتے ہی قلب مومن میں موجزن ہوتا ہے اور مومن کا دل اس سے سرشار ہوجاتا ہے کیونکہ وجود انسانی اپنے آغاز ہی میں بےپایاں نعمتوں اور فیوض میں سے ایک فیض ہے ‘ جو قلب مومن میں اللہ کی حمد وثناکے جذبات کے مہمیز کا کام کرتا ہے۔
اللہ کی نعمتیں قدم قدم پر ‘ لمحہ لمحہ ‘ مسلسل اور جوق درجوق آتی ہیں اور اللہ کی تمام مخلوقات اور بالخصوص اس ” انسان “ کو فیض یاب کررہی ہے۔ لہٰذا اللہ کی حمد سے ہر کام کا آغاز اور اسی کی تعریف وثنا پر ہر کام کا انجام اسلامی تصور حیات کے اصولوں میں سے ایک اہم اصول ہے وَ ھُوَ اللہ ُ لَآ اِٰلہَ اِلَّا ھُوَ لَہُ الحَمدُ فِی الاُولٰی وَ الاٰخِرَةِ ’ وہی اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے مستحق نہیں اس کے لئے حمد ہے ۔ اول میں بھی اور آخر میں بھی ۔ “ ایسے بندے پر ذرا اللہ کے فضل وکرم کو تو دیکھئے ! جب وہ اپنی زبان سے ” الحمدﷲ“ ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں وہ بھلائی لکھ دیتا ہے جو سب نیکیوں پر بھاری ہوتی ہے ۔ ابن ماجہ میں حضرت ابن عمر (رض) کی روایت کردہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ” کسی بندے نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا یَارَبِّ لَکَ الحَمدُ کَمَا یَنبَغِی لِجَلَالِ وَجھِکَ وَعَظِیمِ سُلطَانِکَ ” اے اللہ تیرے لئے ایسی حمد ہے جو تیرے چہرے کی بزرگی اور تیری سلطنت کی عظمت کے لائق ہو۔ “
” فرشتے اس معاملے میں متحیر ہوئے اور فیصلہ نہ کرسکے کہ اسے کس طرح لکھیں چناچہ وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی ” یا خدایا ! تیرے بندے نے ایک ایسی بات کہی ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے کس طرح لکھیں ۔ “ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بندے نے کیا کہا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا ” تو میرے بندے نے کیا کہا ؟ “ فرشتوں نے عرض کی ‘ اس نے کہا ” اے اللہ تیرے لئے ایسی تعریف ہے جو تیرے چہرے کی عظمت و جلال اور تیری سلطنت کی عظمت کے لائق ہے۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اسی طرح لکھو کہ جس طرح میرے بندے نے کہا ۔ قیامت کے دن وہ مجھ سے ملے گا اور میں خود اس کی جزا دوں گا۔ “
غرض اللہ کی تعریف کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہونا ایک مومن کا وہ شعور ہے جو اللہ کا نام زبان پر آتے ہی ‘ قلب مومن میں موجزن ہوتا ہے ۔ اس آیت کا دوسرا حصہ رب العالمین بھی لفظ اسلامی تصور حیات کا ایک بنیادی اصول ہے ۔ اللہ کی عالمگیر اور مطلق ربوبیت اسلامی عقائد کا اصل الاصول ہے ۔ رب اس ذات کو کہتے ہیں جو مالک اور متصرف ہو اور عربی لغت میں یہ لفظ اس سربراہ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو اصلاح وتربیت کی خاطر کسی چیز میں تصرف کرتا ہے ۔ اصلاح تربیت کے لئے تصرف اور ربوبیت تمام جہانوں اور تمام مخلوقات کو شامل ہے ‘ اللہ نے مخلوقات کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ اسے یونہی مسلسل چھوڑدیا جائے ‘ بلکہ اللہ ہی اس کائنات میں متصرف اور اس کا مصلح ہے ‘ وہ اس کی نگرانی کرتا ہے اور اسے مسلسل پال رہا ہے ‘ تمام جہانوں اور تمام مخلوقات کی دیکھ بھال رب العالمین کی نگرانی میں کی جارہی ہے ‘ خالق اور مخلوق کے درمیان ربط وصلہ ہر لمحہ اور ہر حال میں قائم ہے اور ہر وقت رواں دواں ہے۔
اس مکمل اور ہمہ گیر عقیدہ توحید کی تشریح و توضیح اور اس ژولیدہ فکری کے درمیان قطعی امتیاز کرکے رکھ دیتی ہے ۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے اور اب بھی ہورہا ہے کہ لوگ خدائے واحد اور صانع کائنات کا اعتراف بھی کرتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود وہ متعدد الٰہوں اور ارباب کے بھی قائل ہیں اور وہ ان الٰہوں اور ارباب کو اپنی زندگی میں حاکم تسلیم کرتے ہیں ۔ اگرچہ بادی النظر ہی میں یہ عقیدہ نہایت ہی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت واقعہ یہی ہے کہ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ تھا اور اب بھی ہے۔ قرآن کریم نے ‘ بعض مشرکین کا یہ عقیدہ بیان کیا ہے ۔ جو وہ اپنے الٰہوں اور ارباب کے بارے میں رکھتے تھے۔
مَا نَعبُدُہُم اِلَّا لِیُقَرِّبُونَآ اِلَی اللہ ِ زُلفٰی (زمر : ٣) ” ہم تو ان کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں “۔ جیسا کہ اہل کتاب کے بارے میں کہا گیا ۔ اِتَّخَذُوآ اَحبَارَھُم وَ رُہبَانَہُم اَربَابًا مِّن دُونِ اللہ ِ (توبة : ١٣) ” انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا ہے ۔ “ نزول قرآن کے وقت مشرکین عرب کی حالت یہ تھی کہ وہ بڑے الٰہوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے ارباب کے بھی قائل تھے ‘ اور یہ چھوٹے ارباب ان کے خیالات کے مطابق وہ تھے جو بڑے خداؤں کے ساتھ ساتھ خدائی کا کام کررہے تھے ۔
غرض اس صورت میں عالمگیر ربوبیت کا بیان کرنا اور اسے تمام جہانوں کے لئے عام و شامل کرنے سے غرض یہ ہے کہ جاہلیت کے فکری انتشار اور اسلام کی نظریاتی ہم آہنگی کے درمیان واضح طور پر خط فاضل کھینچ دیا جائے تاکہ یہ پوری کائنات اور تمام لوگ صرف ایک اللہ کی طرف متوجہ ہوں اور اس کی حاکمیت مطلقہ (Boundless Sovereignty) کا اقرار کریں اور اپنی گردنوں سے ارباب متفرقوں کی غلامی کا جو اتار پھینکیں اور بیشمار خداؤں کو ماننے سے وہ جس فکری انتشار و پریشانی میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں اس سے نجات پائیں ۔ اور اس طرح اللہ کی مخلوق کا ضمیر اللہ تعالیٰ کی دائمی نگرانی اور قائم ربوبیت کے سائے میں مطمئن ہوجائے ‘ وہ ربوبیت جو کسی وقت بھی منقطع نہیں ہوتی ‘ جس کا سلسلہ ابد الآباد تک قائم دائم اور جاری وساری ہے ۔ یاد رہے یہ کوئی ایسی ربوبیت نہیں جس کا تصور ارسطو نے پیش کیا کہ اللہ نے اس کائنات کی تخلیق کی اور پھر اسے یونہی چھوڑدیا ۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنے سے فرو تر چیزوں کے بارے میں فکر کرے ‘ وہ صرف اپنی ذات کے بارے میں فکر کرتا ہے ۔ “ یہ خیال اس شخص کا ہے جو ایک عظیم فلسفی سمجھا جاتا ہے ‘ اس کا فلسفہ ایک ٹھوس مانا جاتا ہے اور اس کی عقل کو عقل رسا اور اسے عبقری تسلیم کیا جاتا ہے۔
جب اسلامی تعلیمات کا آغاز ہوا تو اس دنیا میں عقائد و تصورات ‘ افکار وتوہمات اور فلسفوں اور روایات کا ایک عظیم ذخیرہ موجود تھا جس میں حق و باطل کا کوئی امتیاز نہ تھا ۔ کھرے اور کھوٹے میں کوئی جدائی نہ تھی ۔ خرافات دین کا جزو تھے ۔ فلسفے اور عقائد اوہام و خرافات کا پلندہ تھے ‘ اور انسانی ضمیر ان اوہام وروایات کے تہہ بہ تہہ ذخیرے کے نیچے دب گیا تھا اور یقین سے محروم وہم و گمان کے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں ماررہا تھا ۔
یہ حیرانی و پریشانی کیا تھی ‘ جس میں اسے نہ سکون ملتا اور نہ نور ہدایت کی کرن نظر آتی ؟ یہ فقط اس وقت کا تصور الٰہ تھا ۔ الٰہ العالمین اس کی صفات ‘ مخلوق سے اس کا تعلق ایسے مسائل ‘ بالخصوص اللہ تعالیٰ اور انسان کے باہم تعلق کی صحیح نوعیت ‘ اس وقت کے تمام عقائد اس ضلالت اور گمراہی کا شکار تھے ۔
اور اس سے قبل کے انسان اپنے اللہ اور اس کی صفات کے بارے میں کوئی تصور قائم کرتا اور اس وقت کی موجود سرگرمی ‘ سرگردانی اور اوہام و تخیلات کے بھاری بھرکم ذخیرے سے نجات پاتا ‘ انسان کے لئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ اس کا ضمیر اس کائنات کے بارے میں یا خود اپنے نفس کے بارے میں اور اپنے لئے کسی نظام زندگی کے بارے میں مطمئن ہوجائے اور اسے قرار و سکون حاصل ہوسکے (لہٰذا سب سے پہلے تصور الٰہ کی درستگی اور ان باطل نظریات سے نجات ضروری تھی)
اس سکون اور تطہیر عقائد کی ضرورت اور اہمیت کا احساس ‘ انسان کو اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس فکری ضلالت کے طول وعرض سے خوب واقفیت نہ رکھتا ہو ‘ اور اسے اس بارے میں پوراعلم نہ ہو کہ جب اسلام آیا تو انسان کے دل و دماغ پر غلط عقائد و تصورات ‘ باطل فلسفوں اور غلط روایات کی کس قدر تہیں جمی ہوئی تھیں ۔ ہم نے یہاں تو ان کی طرف اجمالی اشارہ کیا ہے۔ تفصیلی بحث ان مقامات میں ہوگی جہاں قرآن کریم نے تفصیلاً ان تصورات سے بحث کی ہے ۔
ان وجوہات کی بناپر اسلام نے سب سے پہلے اسلامی عقائد اور اسلام کے اساسی تصورات سے تفصیلی بحث کی اور اللہ کی ذات وصفات ‘ مخلوقات سے اس کے تعلق اور مخلوق کے اپنے خالق کے ساتھ ربط کی نوعیت کے بارے میں اسلامی تصور کو قطعی اور یقینی طور پر واضح اور متعین کردیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تصور حیات کی بنیاد ‘ وہ کامل ‘ خالص اور ہمہ گیر توحید بنی جس میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔ اسلامی تعلیمات میں مسلسل اس کی وضاحت کی گئی ہے ۔ اس کے بارے میں اٹھنے والے تمام شکوک و شبہات کا قلع قمع کیا گیا ۔ اس کے متعلق ہر قسم کے خلجان اور اجمال کو دور کیا گیا اور اسے پاک وصاف کرکے خالص اور واضح شکل میں دل مومن میں جاگزیں کیا گیا تاکہ وہ اس معاملے میں کسی طرح وہم و گمان کا شکار نہ ہو ‘ اسلام نے اللہ کی صفات اور صفت ربوبیت مطلقہ کے بارے میں بھی دوٹوک اور واضح تعلیمات دیں ۔ کیونکہ غلط فلسفوں اور بےاصل نظریات کا ایک بڑا حصہ انہی شرکیہ اوہام واساطیر پر مشتمل تھا جو اللہ کی صفات کے بارے میں ‘ ان غلط فلسفوں نے لوگوں کے دل و دماغ میں جاگزیں کردی تھیں اور انسانی ضمیر پر ان کا بڑا اثر تھا اور پھر انسانی طرزعمل پر بھی یہ تصورات اثر انداز ہورہے تھے ۔
جن لوگوں نے ان کوششوں کا سرسری مطالعہ کیا ہے جو اسلام نے اللہ کی ذات وصفات اور مخلوق کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کو لوگوں کے ذہن نشین کرنے کے لئے اور جن کے بیان میں قرآن کی لاتعداد آیات نازل ہوئیں اور اس نے ان باطل فلسفوں اور شرکیہ نظریات کا مطالعہ نہیں کیا جن کے بھاری بھرکم بوجھ تلے انسانی ضمیر دبا ہوا تھا ۔ اور پوری انسانیت ان نظریات میں گم گشتہ تھی ‘ تو وہ قرآن مجید کی ان کوششوں ‘ عقائد کے بارے میں بےحد تاکید و تکرار اور تفصیل و توضیح کی حقیقی وجہ کو ہرگز نہ پاسکے گا۔ لیکن اس کے برعکس جو شخص ان باطل نظریات و عقائد کا گہرا مطالعہ کرے گا جو نزول قرآن کے وقت رائج تھے ‘ اس پر ان کوششوں کی حقیقت واہمیت اور ضرورت اچھی طرح واضح ہوجائے گی ۔ وہ سمجھ سکے گا کہ عقیدہ توحید نے انسانی ضمیر کی آزادی میں کیا پارٹ ادا کیا ۔ کیونکہ اس سے انسان کو اوہام و اساطیر اور متعدد خداؤں کی دیومالائی تصورات سے نجات دی۔
غرض عقیدہ توحید کا حسن ‘ اس کا کمال ‘ اس کی ہم آہنگی اور جس حقیقت کا اس میں اظہار کیا گیا ہے ‘ اس کی سادگی اور واقعیت پسندی ‘ اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک انسان ان باطل تصورات و عقائد اور اساطیر وروایات کا اچھی طرح جائزہ نہ لے جو اس وقت دنیا میں رائج تھے ۔ بالخصوص ذات باری کی حقیقت ‘ اس دنیا کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت وغیرہ ‘ غرض ان باطل افکار کے گہرے مطالعے کے بعد ہی یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات دراصل ایک نعمت ہے ۔ یہ قلب ونظر دونوں کے لئے رحمت ہے ‘ اس کا حسن اور سادگی انعام الٰہی ہے ‘ انسانی فطرت سے اس کی ہم آہنگی اور معقولیت ‘ ذہن انسانی سے قرب اور مانوسیت اور اس کا توازن اور اعتدال یہ سب کچھ اللہ کی رحمت خاص ہے جو اس نے اپنی مخلوق پر کی ۔

*ثواب کمانے اور گناہ مٹانے کے بعض طریقے**اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرنا*:رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا"کیا میں ت...
18/07/2023

*ثواب کمانے اور گناہ مٹانے کے بعض طریقے*

*اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرنا*:
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا"کیا میں تمہیں عملوں سے سب سے بہتر عمل کی خبر نہ دوں؟ جو اپنے مالک کے نزدیک نہایت پاکیزہ، تمہارے درجوں کو بلند کرنے والا، تمہارے لیے سونے چاندی خرچ کرنے سے بہتر اور اس سے بہتر کہ تم دشمن سے ملو اور تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں۔ صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیھم اجمعین نے کہا کیوں نہیں, آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ محبوب عمل اللّٰه کا ذکر ہے۔

*بھلائی کرنا اور خیر کی طرف بلانا*:
ہر بھلائی صدقہ ہے اور خیر کی رہنمائی کرنے والا عمل کرنے والے کی طرح ہے۔(بخاری و مسلم)

*اللّٰه کی طرف بلانے کی فضیلت*:
جس نے ہدایت کی طرف بلایا، اس کو اتباع کرنے والوں کی طرح اجر ملے گا اور اتباع کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔(مسلم)

*بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا*:
"تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے، اگر اسکی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے(دل میں اسے برا سمجھے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے"۔(مسلم)

*اللّٰه کے واسطے سے محبت کرنا*:
اللّٰہ تبارک وتعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا "میری عظمت و جلال کے واسطے باہم محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ میں انہیں آج اپنے سایہ میں جگہ دوں گا جب کہ میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہے۔(مسلم)

16/07/2023

*_وہ لوگ بڑے خاص ہوتے ہیں:_*
_جنکو خوشیاں ربّ کا نافرمان نہیں کرتیں۔🤍_
_جنکو غم مایوس نہیں کرتے۔🩷_
_جنکو محرومیاں ناشکرا نہیں کرتیں۔🩵_
_جنکو خواہشات ربّ سے دور نہیں کرتیں۔💛_
_جو اللّٰه کے حکم کے خلاف_ _جانے والے نفس کی گردن توڑنا جانتے ہیں۔❤️_" وہ غیب سے ایسی مدد بھیجے گا کہ تم مطمئن ہو جاؤ گے..." ❤️

✨🌺شادی کو دس پندرہ سال ہوگئے آج وہ یہ کہہ رہی ہے کہ آپ نے میرے لیے کچھ کیا ہی نہیں۔۔۔۔ ایک خاتون نے اپنے شوہر سے کہا کہ ...
15/07/2023

✨🌺شادی کو دس پندرہ سال ہوگئے آج وہ یہ کہہ رہی ہے کہ آپ نے میرے لیے کچھ کیا ہی نہیں۔۔۔۔

ایک خاتون نے اپنے شوہر سے کہا کہ آپ مجھے کچھ بھی نہیں دیتے میری کوئی خواہش پوری نہیں کرتے ہیں، اپنے شوہر سے شکایت کرنے لگیں کہ آج تک آپ نے میرے لیے کیا کیا ہے
وہ بہت پریشان ہوا کہ میں نے آج تک اپنی بیوی کے لیے کچھ کیا ہی نہیں ، شادی کو دس پندرہ سال ہوگئے آج وہ یہ کہہ رہی ہے کہ آپ نے میرے لیے کچھ کیا ہی نہیں ۔
خیر وہ کسی سے ملا ، تو اُنہوں نے مشورہ یہ دیا کہ آپ اپنی بیوی سے کہیں کہ آپ کو کیا چاہیے، جو بھی آپ کو چاہیے اُس کی فہرست بنائیں ، اُس کی بیوی نے لسٹ بنانا شروع کی، کہ مجھے کیا کیا چاہیے، آٹھ دس چیزیں اُس نے لکھ دیں،
جب کہ اُس کو پتہ تھا کہ میرے شوہر کی آمدنی اتنی زیادہ نہیں ہے پھربھی اُس نے لکھ دیں کہ مجھے یہ یہ چیزیں چاہئیں ،
اُس نے کہا اچھا اِس کے علاوہ بھی کچھ چاہیے؟ اُنہوں نے کہا ، نہیں مجھے بس یہی چاہیے۔
پھر اُنہوں نے کہا :
اچھا آپ اِن دس چیزوں میں سے کس کوپہلی ترجیح دیتی ہیں ، اُنہوں کہا کہ پہلی چیز مجھے گھر میں واشنگ مشین چاہیے، میں ہاتھ سے کپڑے نہیں دھو سکتی اُنہوں نے کہا، ٹھیک ہے۔ ہم پہلے واشنگ مشین لینگے، اور کیا چاہیے؟
مجھے مائیکرو ویو چاہیے، میرے لیےکھانا گرم کرنابہت مشکل ہے، اچھا لکھ لیا، ایک ، دو، تین۔ یہ چاہیے۔۔۔۔۔
اُنہوں نے کہا ٹھیک ہے یہ میرا وعدہ ہے کہ میں آپ کے لیے یہ چیزیں لاؤں گا ۔ آپ کو اور تو کچھ نہیں چاہیے؟ نہیں۔
اب کچھ وقت گزرا اُس نے اپنی بیوی کو وقت کم دینا شروع کردیا، اُس کی بیوی کی طرف توجہ کم ہونا شروع ہوگئی ، وہ زیادہ وقت اپنے روزگار کو دینے لگا ، پہلے دس گھنٹے کام کرتا تھا اب چودہ گھنٹے، اوور ٹائم لگانے لگا، اور دوستوں میں زیادہ بیٹھنے لگا ، کچھ اِس نے معمول سے ہٹ کر کام کرنا شروع کردیے۔ پہلے گھر میں آکرکبھی کبھار بیوی کا ہاتھ بٹا دیتا تھا، اب اُس نےوہ سب کچھ چھوڑ دیا۔
جب کچھ وقت گزرا تو خاتون نے کہا کہ آپ مجھے وقت نہیں دے رہے! آپ اُس طرح سے نہیں ہیں جس طرح پہلے تھے؟ اُس نے کہا کہ میں کوشش کر رہا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ کماؤں تاکہ میں آپ کو یہ چیزیں دے سکوں،پھر وہ واشنگ مشین لیکر آگیا، کچھ عرصے بعد مائیکرو ویو بھی لیکر آگیا، اورفہرست میں جو جو چیزیں اُس نے لکھی تھیں وہ ایک ایک کر کے لاتا رہا،
لیکن اِس کی بیوی نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ میری زندگی میں کچھ چیزیں کم ہوگئی ہیں۔ اب وہ چیزیں مجھے نہیں مل رہی ہیں، پہلے وہ آتے تھے تو مجھ سے بڑے پیار سے باتیں کرتے تھے ، میرے ساتھ بیٹھتے تھے ، ہم لوگ گھومتے تھے، چھٹی کے دن ہم لوگ پارک جاتے تھے، اب وہ اس دن بھی نوکری کر رہے ہیں، رات کو وہ بارہ بجے آتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ صبح چار بجے اٹھ کر چلے جاتے ہیں، اب وہ مجھے وقت ہی نہیں دے رہے، اب وہ بچوں کے ساتھ کھیلتے نہیں ہیں اب میری بات سننے کا اُن کے پاس وقت نہیں ہے وہ کھانا کھا کر آتے ہیں
اب اُس کو لگا کہ یہ تو میری زندگی میں بہت بڑاخلا آگیا ہے میرے پاس سب کچھ ہے لیکن میرا شوہر میرے پاس نہیں ہے اُس نے دوبارہ ایک فہرست بنائی کہ مجھے آپ کا وقت چاہیے مجھے آپ کی محبت چاہیے آپ مجھے فون کیا کریں وغیرہ وغیرہ۔
تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ جو کچھ ہم لوگوں کو مل رہا ہے وہ کیا کیا ہے؟
جب وہ چھننے لگتا ہے تب ہمیں اُس چیز کا احساس ہوتا ہے۔۔۔۔
☝️یاد رکھیں ۔۔۔
🌺زندگی میں ان نعمتوں پر زیادہ نظر رکھیں جو آپکے پاس ہے ۔۔۔تو دل شکر گزاری سے لبریز ہوگا ۔۔۔۔
یہ شیطان کی سب سے بڑی چال ہوتی وہ
ہمیشہ ہماری نظر انھیں چیزوں پر اٹکاتا جو کسی حکمت کے تحت ہم سے اوجھل ہوتی ۔۔
اور ہم کفرانِ نعمت کے باعث موجودہ نعمتوں کی بھی بربادی کا باعث بن جاتے ۔۔۔
الله ربّ العزت ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے آمین ۔۔۔۔

WhatsApp Group Invite

14/07/2023

‏﷽
*فرمانِ مصطفٰیﷺ*
حضور اکرم ﷺنے فرمایا،
" جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ھے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ھے اسکے لئے دعا کرتے رھتے ہیں،اب بندہ چاھے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے"
(ابن ماجہ,908)
سبحان اللّٰہ

*صلی اللہ علیہ وسلم*🌺

13/07/2023

*دنیا کے امتحانوں کے لیے ھم ایڑی چوٹی کا زور لگا لیتے ھیں ،دن رات پڑھتے ھیں کہ کہیں فیل نہ ھو جائیں،لیکن آخرت کا پیپر مع جوابات ھمارے سامنے ھے۔۔۔ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔۔مائیں دن رات ایک کر دیتی ھیں کہ کسی طرح بچے کے دنیا کے نمبر ٹھیک ٹھیک آ جائیں ،لیکن قرآن کو اور نماز کو کوئی مہینوں کیا سالوں بھی نہیں پوچھتا۔۔۔۔۔غیروں کی نقالی کر کر کے دن رات ھلکان ھو رھے ھیں،لیکن دین کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔۔۔کوئی نہیں سمجھ رھا کہ ھم کافروں کے نقل کرتے کرتےکدھر کو چل نکلے ھیں،نہ ھمارا دین سلامت نہ ایمان۔۔۔آنکھیں ھیں کہ تھکتی ھی نہیں نظر بازی کرتے کرتے۔۔۔اور جنتیں بھی مانگتے ھیں۔۔*

Address

Pasrur Sialkot
Sialkot
54600

Telephone

+923035931237

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aashiqane Muhammad - s.a.w posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share