اقبال شناسی پیجIqbal shanasi

اقبال شناسی پیجIqbal shanasi iqbal shanasi prps allama muhammad iqbal poetry.

allama iqbal urdu poetry is islamic poetry urdu adab.allama iqbal urdu poetry persian s explanation is posted daily علامہ اقبال اردو شاعری تشریح

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰          ♦️اقبال ؒ شناسی♦️⭕ضربِ کلیم⭕              ♠️عصرِ حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلانِ جنگ♠️🔆نظم :          ❇...
06/09/2020

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰

♦️اقبال ؒ شناسی♦️

⭕ضربِ کلیم⭕

♠️عصرِ حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلانِ جنگ♠️

🔆نظم :

❇️تن بہ تقدیر❇️

شعر ٢

تن بہ تقدیر ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر

♻️تشریح :

ایک زمانہ تھا جب مسلمان اللہ کے لیے زندگی بسر کرتے تھے۔ اور اس کا صلہ انہیں خدا نے یہ دیا تھا کہ ان کے ارادوں میں مشیتِ ایزدی پوشیدہ تھی ۔یعنی وہ جس طرف نکل جاتے تھے ، تقدیر ایزدی ان کے ساتھ ہوتی تھی ۔ لیکن جب مسلمانوں نے احکام الہی سے روگردانی کر لی تو اللّٰہ نے بھی انہیں بھلا دیا ۔ اور اج ان کی حالت یہ ہے کہ عملِ صالح سے کنارہ کر کے تقدیر پر طھروسہ کیے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ خدا کی تقدیر یعنی اس کا قانون یہ ہے :

”لَیسَ لِلا نسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی “

ترجمہ
” انسان کو اللہ وہی عطا فرماتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے ۔“

اقبال ؒ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں نے تقدیر کا غلط مفہوم دماغوں میں جاگزیں کر لیا ہے ۔ چنانچہ ایک جگہ اسی مضمون کو یوں ادا فرمایا :

”معنی تقدیر کم فہمیدہ ئی
نے خودی را نے خدا را دیدہ ئ“
(جاوید نامہ ، فلک مشتری)

ترجمہ:

”تو تقدیر کے معنی نہیں سمجھا؛ نہ تو خودی کو سمجھا اور نہ اللہ تعالے کی شان کو “۔

📖شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی ؒ
🖊️شعیب احمد (ایڈمن : اقبال ؒ شناسی)

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰          ♦️اقبال ؒ شناسی♦️⭕ضربِ کلیم⭕              ♠️عصرِ حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلانِ جنگ♠️🔆نظم :          ❇...
04/09/2020

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰

♦️اقبال ؒ شناسی♦️

⭕ضربِ کلیم⭕

♠️عصرِ حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلانِ جنگ♠️

🔆نظم :

❇️تن بہ تقدیر❇️

شعر ٠١

اُسی قرآں میں ہے اب ترک جہاں کی تعلیم ؟
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر !

🌐لغت

١۔ترکِ جہاں : دنیا کو بالکل ترک کر دینا ، عیساٸی زاہدوں کا طریقہِ عبادت ۔
٢۔مَہ : چاند، قمر۔
٣۔پَروِین : ثُرَیّا ، وہ چھ ستاروں کا گُچّھا جو جاڑوں میں سب سے اول نظر آتا ہے۔
٤۔امیر : حکم دینے والا ، سردار۔


🔹تشریح

قرآن مجید نے مسلمانوں کو ایمان کے ساتھ ، عملِ صالح ، جدجہد ، سعیِ پیہم اور جہاد کا حکم دیا تھا ۔ چنانچہ اس تعلیم کی بدولت مسلمان دنیا میں حکمران بن گٸے لیکن غیر اسلامی تصوّف کے زیرِ اثر آ کے مسلمانوں نے قرآنی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا ۔ اور ترک دنیا کا غلط اصول اختیار کر لیا۔ اور یہ سمجھ لیا کہ اسلام ترکِ دنیا کا حکم دیتا ہے ۔ حالانکہ اسلام کی تعلیمات یہ ہیں کہ پہلے دنیا کو فتح کرو تاکہ اسلامی نظام قاٸم ہو سکے اور پھر دنیا اور اس کی لذّات کو اللّہ کی خوشنودی کیلیے قربان کر دو ۔چنانچہ فاروقِ اعظم ؓ کے سطوت کے سامنے قیصر و کسری لرزہ براندم تھے لیکن وہ پہوند لگی ہوٸی قمیض پہنتٕ تھے اور چٹاٸی پر سوتے تھے ۔

📖شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی ؒ
🖊️شعیب احمد (ایڈمن : اقبال ؒ شناسی)

03/09/2020

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰

♦️اقبال ؒ شناسی♦️

⭕ضربِ کلیم⭕

♠️عصرِ حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلانِ جنگ♠️

🔆نظم :

❣️لا الہ الا اللہ❣️

♻️شعر ٧ (آخری)

اگر چہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ اذاں ، لا الہ الا اللّٰہ

🔹تشریح :

اگرچہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں مختلف اقسام کے بُت پوشیدہ ہیں ، اور وہ توحید کی حقیقت سے بے گانہ ہو چکے ہیں ۔ لیکن میں تو بہر حال توحید کا پیغام دنیا کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً سناوں گا کہ اللہ کے سوا اور کوٸی معبود یا حاکم نہیں ہے ۔ چنانچہ اسی مضمون کو بانگِ درا میں یوں لکھا;

سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی ، باقی بتانِ آرزی

📖شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی ؒ
🖊️شعیب احمد (ایڈمن : اقبال ؒ شناسی)

03/09/2020

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
♦️*اقبال ؒ شناسی* ♦️

⭕ضرب کلیم⭕

✅تشریح مکمل نظم


❣️ *لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ* ❣️

♻️شعر ٠١ :

خودی کا سر نہاں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
خودی ہے تیغ ، فساں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ

🔵 تشریح :
انسانی خودی کی ترقی اور ارتقاٸے کامل اس بات پر موقوف ہے کہ انسان کلمہِ توحید پر اس طرح ایمان لاٸے کہ اس کے عمل سے یہ ثابت ہو کہ وہ کاٸنات میں اللہ کے سوا نہ کسی ہستی سے ڈرتا ہے نہ کسی کی اطاعت کرتا ہے۔ یعنی اللہ ﷻ کے سوا نہ وہ کسی کو اپنا معبود قرار دیتا ہے نہ مقصود نہ مطلوب اس کا مرنا اور جینا صرف اللہ کے ہی لیے ہے (یہ کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی جب تک اللہ ﷻ سے شدید محبت نہ ہو)۔ یعنی توحید پر عامل ہونے سے خودی کی مخفی قوتیں بروٸے کار لاٸی جا سکتی ہیں ۔ اور خودی مرتبہِ کمال کو پہنچ سکتی ہے۔
خودی کو اگر تیغ (تلوار) سے تشبیہ دی جاٸے تو جب تک تلوار میں دھار نہ ہو اور کاٹ میں تیزی نہ ہو ، تلوار بیکار ہے اس لیے توحید خودی کے لیے بمنزلہِ فسان ہے ۔ جس طرح سان پر چڑھانے سے تلوار ، صحیح معنی میں تلوار بن جاتی اسی طرح جب مسلمان حقیقی معنی میں موحد بن جاتا ہے تو اس کی خودی اپنے مرتبہِ کمال کو پہنچ جاتی ہے ۔ اسی نکتہ کو علامہ اقبال ؒ نے ایک اور جگہ بیان فرمایا :

چڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغِ خودی
ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کارِ سپاہ (بال جبریل ، حصہ دوم) ۔

♻️شعر ٠٢
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں ، لا الہ الا اللہ

🔵تشریح :

فرماتے ہیں کہ جس طرح حضرت ابراہیم کے زمانہ میں نمرود نے خداٸی کا دعوی کیا تھا اور اللہ کے بندوں کو اپنی پرستش پر مجبور کیا تھا اور حضرت موصوف نے اس کا خاتمہ کیا تھا اسی طرح موجودہ زمانہ میں کٸی نمرود پیدا ہو گٸے ہیں جو خداٸی کا دعوی کر کے اللہ کے بندوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ زمانے بھی اس بات متمنی ہے کہ کوٸی اللہ کا بندہ ایسا پیدا ہو جو عصرِ حاضر کے بتوں کو پاش پاش کر دے ۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ یہ دنیا تو صنم کدہ ہے۔ لیکن پرستش اور عبادت کے لاٸق صرف اللہ ﷻ کی ذات ہے۔

♻️شعر ٠٣

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں ، لا الہ الا اللہ

🔵تشریح:
اے مسلمان اگر تو نے اس دنیاٸے فانی سے دل لگایا ہے تو بلاشبہ تو نے ”متاعِ غرور“ کا سودا کیا ہے۔ اقبال ؒ نے یہاں دنیا کی زندگی کو قرآنی تعلیم کے مطابق ”متاع غرور“ یعنی ”دھوکہ کی ہونجی“ قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ ﷻ فرماتے ہیں :

” وَ مَا الحَیٰوةُ الدُّنیَا اِلَّا مَتَاعُ الغُرُور “
ترجمہ:
”نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر دھوکہ کی پونجی۔ “
اے انسان! تو دنیا کی دلچسپیوں میں منہمک ہو گیا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر میں نے سچ بولا تو حکومت ناراض ہو جاٸے گی اور مالی نقصان ہو جاٸے گا۔ اور اگر میں خدا کی بجاٸے اربابِ اقتدار کی اطاعت کروں گا تو مجھے دولت اور عزت نصیب ہو گی۔ یہ سب خیالات بالکل مہمل ہیں ۔ تو غلط طور پر نفع اور نقصان کے فریب میں مبتلا ہو گیا ہے۔ ارے ناداں ! نہ اس دنیا کی کوٸی اصلیّت ہے نہ اس کا سود و زیاں کوٸی حقیقت رکھتا ہے ۔ کیونکہ اللہ کے سوا نہ کوٸی معبود ہے نہ مطلوب نہ مقصود ۔

🔵شعر 4

یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم و گماں ، لا الہ الہ الا اللہ

💠تشریح :

اے مخاطب دنیا اور اسکے متعلقات اور اس کے گوناگوں مناظر اور مظاہر مثلا مال و دولت بیوی بچے رشتہ دار اور مادی سامان آرائش جن کے لیے تو اللہ اس کے رسول کے احکام سے روگردانی کرتا ہے. یہ سب بے حقیقت اور فانی چیزیں ہیں یہ سب تیرے وہم وگمان کے تراشے ہوئے بت ہیں. حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا مسلم کا نہ کوئی معنود ہو سکتا ہے نہ مطکوب نہ مقصود . اللہ ہی ایک مستقل ' قائم بالذات اعر باقی ہستی ہے. وہی اس لائق ہے کہ اس سے محبت کی جائے اور صرف وہی اس لائق ہے کہ اسے مقصود زندگی بنایا جائے. مال دولت جاگیر عہدے بیوی بچے ان میں سے کسی کو ثبات نہیں ہے. اایے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دل لگانا سراسر نادانی ہے کیونکہ ان میں سے کسی کو دوام ہے اور نہ ان کو اپنے ساتھ قبر میں جا سکتا ہے۔

♻️شعر ٥

خرد ہوٸی ہے زمان و مکاں کی زنّاری
نہ ہے زماں ، نہ مکاں ! لا الہ الا اللّہ

🔵تشریح

زمان و مکاں کی بحث چونکہ بہت طویل ہے ۔ اور کالج کے طلبہ کی فہم سے بھی بالاتر ہے اس لیے اسسے قطع نظر کر کے شعر کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے عقلا اور حکما مدتوں سے اس مسٸلہ میں الجھے ہوٸے ہیں کہ زمان و مکاں کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ خارج میں موجود ہیں یا نہیں ؟ اس بحث میں اس قدر منہمک ہوٸے ہیں کہ اللہ کی بجاٸے زمان و مکاں کے تصورات کی پرستش کرنے لگے ۔ حالانکہ اصلی اور بنیادی چیز حیات ہے۔ انسان کو سب سے زیادہ توجہ اس بات پر دینی چاہیے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ رہا زمان یا زمانہ، تو وہ ہماری زندگی ہی کا دوسرا نام ہے ۔ اور اس کا تصور زندگی سے ہی وابستہ ہے :

زندگی از دہر و دہر از زندگی است
"لا تسبو الدھر" فرمانِ نبی است
(مفہوم:
زندگی زماں سے ہے اور زماں زندگی سے ہے ؛ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ زمانے کو برا نہ کہو۔
کتاب: اسرار خودی ، نظم :الوقت سیف ، شاعر : حکیم الامت ؒ)

اور حیات خود اللہ کے حکم سے موجود ہوٸی :

وَ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ
مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ
إِلَّا قَلِيلًا

ترجمہ:
اور یہ لوگ آپ سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ جواب دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے ۔(سورة الاسرا ٕٕ ، آیت ٨٥)

یعنی روح کی ماہیت عقل انسانی کی دسترس سے بالاتر ہے۔ اور زمان و مکاں کا تصور خود روح یا حیات سے وابستہ ہے۔ اس لیے اس کی حقیقت کا سمجھنا بھی بہت دشوار ہے۔ بقول اقبال ؒ صرف وہ شخص زمانہ کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے جو ”خودی“ کی حقیقت سمجھ سکتا ہے۔ جب تک نفس کی معرفت حاصل نہ ہو، زمان ومکاں کی ماہیت یا حقیقت معلوم نہیں ہو سکتی۔
پس ایک مسلمان کو معلوم ہوما چاہیے کہ دراصل نہ زمانہ کا وجود ہے نہ مکان کا وجود ہے۔ ان دونوں کا وجود اعتبار معتبر پر موقوف ہے۔ دراصل ایک ہی ذات ہے جس کا وجود حقیقی ہے اور وہ اللہ ہے ۔ اسی کے فیض سے حیات موجود ہوٸی۔ اور حیات نے زمان و مکاں کے تصورات پیدا کیے۔ کیونکہ حادثات و واقعات عالم کا عملی تقاضا یہ ہے کہ ماضی بھی ہو حال بھی ہو اور استقبال بھی ہو ۔ مثلا جب آپ 1857 ٕ کا ذکر کریں گے تو ماضی کا تصور لامحالہ پیدا ہو جاٸے گا۔
الغرض زمانہ موقوف ہے حیات انسانی پر اور حیات انسانی موقوف یے ذات باری کے فیضان یا اس کی صفتِ ربوبیت کی تجلی پر تو اقبال ؒ فرماتے ہیں کہ دراصل نہ ہے زمان نہ مکان ، صرف اللہ ہی موجود ہے۔ اور یہ دنیا اور اس کے مظاہر یعنی زمان و مکان سب ظلی وجود رکھتے ہیں۔ یہ سب اس کے سہارے سے موجود ہیں۔ ان کا وجود حقیقی یا خانہ زاد نہیں ہے ۔ اس حقیقت کو ”بال جبریل “ میں بایں الفاظ بیان فرمایا :

وہی اصل مکان و لا مکاں ہے
مکاں کیا شے ہے، اندازِ بیاں ہے
خضر کیونکر بتائے ، کیا بتائے ؟
اگر ماہی کہے ، دریا کہاں ہے؟
(بال جبریل ۔ رباعیات
”وہی اصل مکان و لامکاں ہے“)

اقبال کی راٸے میں زمان (TIME) بذاتِ خود اسرارِ کاٸنات میں سے ایک سرّیا راز (Mystry) ہے اور محض عقل اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہو سکتی۔ ان چیزوں کی ماہیت صرف عارف کو حاصل ہو سکتی ہے ۔ چنانچہ
اقبال ؒ خود فرماتے ہیں :

نغمہِ خاموش دارد ساز وقت
غوطہ در دل زن کہ بینی راز وقت
(مفہوم
وقت کے ساز کا نغمہ خاموش ہے، اگر تو وقت کا راز جاننا چاہتا ہے تو اپنے دل کے اندر غوطہ لگا۔
کتاب : اسرار خودی ، نظم : الوقت سیف)

اور ظاہر ہے غوطہ لگانے کا طریقہ مرشدِ کامل کی صحبت میں رہ کر حاصل ہو سکتا ہے ۔

♻️شعر ٦

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں ، لا الہ الا اللہ

🔹تشریح :

” لا الہ الا اللہ “ ایک ایسی حقیقتِ ثابتہ ہے کہ ہر وقت اور ہر حال میں درست ہے ۔ عموماً لوگ موسم بہار میں موسیقی پسند کرتے ہیں لیکن یہ ” لا الہ الا اللہ “ کا نغمہ ایسا دل پذیر ہے کہ بہار ہو یا خزاں ، ہر موسم میں دل کو بھاتا ہے۔
یعنی توحیدِ الہٰی زندگی کی ہر حالت میں انسان کو روحانی سکون اور طمانیت عطا کر سکتی ہے ۔

♻️شعر ٧ (آخری)

اگر چہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ اذاں ، لا الہ الا اللّٰہ

🔹تشریح :

اگرچہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں مختلف اقسام کے بُت پوشیدہ ہیں ، اور وہ توحید کی حقیقت سے بے گانہ ہو چکے ہیں ۔ لیکن میں تو بہر حال توحید کا پیغام دنیا کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً سناوں گا کہ اللہ کے سوا اور کوٸی معبود یا حاکم نہیں ہے ۔ چنانچہ اسی مضمون کو بانگِ درا میں یوں لکھا;

سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی ، باقی بتانِ آرزی ۔

📘شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی ؒ
🖊️شعیب احمد (ایڈمن : اقبال ؒ شناسی)

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰          ♦️اقبال ؒ شناسی♦️⭕ضربِ کلیم⭕                           ♠️عصرِ حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلانِ جنگ♠️🔆نظم...
03/09/2020

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰

♦️اقبال ؒ شناسی♦️

⭕ضربِ کلیم⭕

♠️عصرِ حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلانِ جنگ♠️

🔆نظم :

❣️لا الہ الا اللہ❣️

♻️شعر ٦

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں ، لا الہ الا اللہ

🔹تشریح :

” لا الہ الا اللہ “ ایک ایسی حقیقتِ ثابتہ ہے کہ ہر وقت اور ہر حال میں درست ہے ۔ عموماً لوگ موسم بہار میں موسیقی پسند کرتے ہیں لیکن یہ ” لا الہ الا اللہ “ کا نغمہ ایسا دل پذیر ہے کہ بہار ہو یا خزاں ، ہر موسم میں دل کو بھاتا ہے۔
یعنی توحیدِ الہٰی زندگی کی ہر حالت میں انسان کو روحانی سکون اور طمانیت عطا کر سکتی ہے ۔

📖شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی ؒ
🖊️شعیب احمد (ایڈمن : اقبال ؒ شناسی)

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰          ♦️اقبال ؒ شناسی♦️⭕ضربِ کلیم⭕                ♠️عصرِ حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلانِ جنگ♠️🔆نظم :         ...
01/09/2020

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰

♦️اقبال ؒ شناسی♦️

⭕ضربِ کلیم⭕

♠️عصرِ حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلانِ جنگ♠️

🔆نظم :

❣️لا الہ الا اللہ❣️

♻️شعر ٥

خرد ہوٸی ہے زمان و مکاں کی زنّاری
نہ ہے زماں ، نہ مکاں ! لا الہ الا اللّہ

🔵تشریح

زمان و مکاں کی بحث چونکہ بہت طویل ہے ۔ اور کالج کے طلبہ کی فہم سے بھی بالاتر ہے اس لیے اسسے قطع نظر کر کے شعر کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے عقلا اور حکما مدتوں سے اس مسٸلہ میں الجھے ہوٸے ہیں کہ زمان و مکاں کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ خارج میں موجود ہیں یا نہیں ؟ اس بحث میں اس قدر منہمک ہوٸے ہیں کہ اللہ کی بجاٸے زمان و مکاں کے تصورات کی پرستش کرنے لگے ۔ حالانکہ اصلی اور بنیادی چیز حیات ہے۔ انسان کو سب سے زیادہ توجہ اس بات پر دینی چاہیے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ رہا زمان یا زمانہ، تو وہ ہماری زندگی ہی کا دوسرا نام ہے ۔ اور اس کا تصور زندگی سے ہی وابستہ ہے :

زندگی از دہر و دہر از زندگی است
"لا تسبو الدھر" فرمانِ نبی است
(مفہوم:
زندگی زماں سے ہے اور زماں زندگی سے ہے ؛ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ زمانے کو برا نہ کہو۔
کتاب: اسرار خودی ، نظم :الوقت سیف ، شاعر : حکیم الامت ؒ)

اور حیات خود اللہ کے حکم سے موجود ہوٸی :

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا

ترجمہ:
اور یہ لوگ آپ سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ جواب دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے ۔(سورة الاسرا ٕٕ ، آیت ٨٥)

یعنی روح کی ماہیت عقل انسانی کی دسترس سے بالاتر ہے۔ اور زمان و مکاں کا تصور خود روح یا حیات سے وابستہ ہے۔ اس لیے اس کی حقیقت کا سمجھنا بھی بہت دشوار ہے۔ بقول اقبال ؒ صرف وہ شخص زمانہ کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے جو ”خودی“ کی حقیقت سمجھ سکتا ہے۔ جب تک نفس کی معرفت حاصل نہ ہو، زمان ومکاں کی ماہیت یا حقیقت معلوم نہیں ہو سکتی۔
پس ایک مسلمان کو معلوم ہوما چاہیے کہ دراصل نہ زمانہ کا وجود ہے نہ مکان کا وجود ہے۔ ان دونوں کا وجود اعتبار معتبر پر موقوف ہے۔ دراصل ایک ہی ذات ہے جس کا وجود حقیقی ہے اور وہ اللہ ہے ۔ اسی کے فیض سے حیات موجود ہوٸی۔ اور حیات نے زمان و مکاں کے تصورات پیدا کیے۔ کیونکہ حادثات و واقعات عالم کا عملی تقاضا یہ ہے کہ ماضی بھی ہو حال بھی ہو اور استقبال بھی ہو ۔ مثلا جب آپ 1857 ٕ کا ذکر کریں گے تو ماضی کا تصور لامحالہ پیدا ہو جاٸے گا۔
الغرض زمانہ موقوف ہے حیات انسانی پر اور حیات انسانی موقوف یے ذات باری کے فیضان یا اس کی صفتِ ربوبیت کی تجلی پر تو اقبال ؒ فرماتے ہیں کہ دراصل نہ ہے زمان نہ مکان ، صرف اللہ ہی موجود ہے۔ اور یہ دنیا اور اس کے مظاہر یعنی زمان و مکان سب ظلی وجود رکھتے ہیں۔ یہ سب اس کے سہارے سے موجود ہیں۔ ان کا وجود حقیقی یا خانہ زاد نہیں ہے ۔ اس حقیقت کو ”بال جبریل “ میں بایں الفاظ بیان فرمایا :

وہی اصل مکان و لا مکاں ہے
مکاں کیا شے ہے، اندازِ بیاں ہے
خضر کیونکر بتائے ، کیا بتائے ؟
اگر ماہی کہے ، دریا کہاں ہے؟
(بال جبریل ۔ رباعیات
”وہی اصل مکان و لامکاں ہے“)

اقبال کی راٸے میں زمان (TIME) بذاتِ خود اسرارِ کاٸنات میں سے ایک سرّیا راز (Mystry) ہے اور محض عقل اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہو سکتی۔ ان چیزوں کی ماہیت صرف عارف کو حاصل ہو سکتی ہے ۔ چنانچہ
اقبال ؒ خود فرماتے ہیں :

نغمہِ خاموش دارد ساز وقت
غوطہ در دل زن کہ بینی راز وقت
(مفہوم
وقت کے ساز کا نغمہ خاموش ہے، اگر تو وقت کا راز جاننا چاہتا ہے تو اپنے دل کے اندر غوطہ لگا۔
کتاب : اسرار خودی ، نظم : الوقت سیف)

اور ظاہر ہے غوطہ لگانے کا طریقہ مرشدِ کامل کی صحبت میں رہ کر حاصل ہو سکتا ہے ۔

📖شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی ؒ
🖊️شعیب احمد (ایڈمن : اقبال ؒ شناسی)

31/08/2020

We need ADMIN...!

29/08/2020

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
🔷اقبال شناسی🔷

⭕ضرب کلیم⭕

♠️عصر حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلان جنگ♠️

♻️تشریح نظم :

💎لا الہ الا اللہ💎

🔵شعر 4

یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم. و گماں ' لا الہ الہ الا اللہ

💠تشریح :

اے مخاطب دنیا اور اسکے متعلقات اور اس کے گوناگوں مناظر اور مظاہر مثلا مال و دولت بیوی بچے رشتہ دار اور مادی سامان آرائش جن کے لیے تو اللہ اس کے رسول کے احکام سے روگردانی کرتا ہے. یہ سب بے حقیقت اور فانی چیزیں ہیں یہ سب تیرے وہم وگمان کے تراشے ہوئے بت ہیں. حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا مسلم کا نہ کوئی معنود ہو سکتا ہے نہ مطکوب نہ مقصود . اللہ ہی ایک مستقل ' قائم بالذات اعر باقی ہستی ہے. وہی اس لائق ہے کہ اس سے محبت کی جائے اور صرف وہی اس لائق ہے کہ اسے مقصود زندگی بنایا جائے. مال دولت جاگیر عہدے بیوی بچے ان میں سے کسی کو ثبات نہیں ہے. اایے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دل لگانا سراسر نادانی ہے کیونکہ ان میں سے کسی کو دوام ہے اور نہ ان کو اپنے ساتھ قبر میں جا سکتا ہے.

📘شرح یوسف سلیم چشتی
✒️ شعیب احمد & عمران قادری (ایڈمنز : اقبال شناسی)

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰             ♦️اقبال ؒ شناسی♦️⭕ضرب کلیم⭕         ♠️عصرِ حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلانِ جنگ♠️✅تشریح نظم :        ...
23/08/2020

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰

♦️اقبال ؒ شناسی♦️

⭕ضرب کلیم⭕
♠️عصرِ حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلانِ جنگ♠️

✅تشریح نظم :

❣️لا الہ الا اللہ❣️

♻️شعر ٠٣

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں ، لا الہ الا اللہ

🌐لغت :
١۔متاعِ غرور : دھوکہ کی پونجی۔
٢۔سُود : منافع ۔ ٣۔ زیاں : خسارہ۔

🔵تشریح:
اے مسلمان اگر تو نے اس دنیاٸے فانی سے دل لگایا ہے تو بلاشبہ تو نے ”متاعِ غرور“ کا سودا کیا ہے۔ اقبال ؒ نے یہاں دنیا کی زندگی کو قرآنی تعلیم کے مطابق ”متاع غرور“ یعنی ”دھوکہ کی ہونجی“ قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ ﷻ فرماتے ہیں :

” وَ مَا الحَیٰوةُ الدُّنیَا اِلَّا مَتَاعُ الغُرُور “
ترجمہ:
”نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر دھوکہ کی پونجی۔ “
اے انسان! تو دنیا کی دلچسپیوں میں منہمک ہو گیا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر میں نے سچ بولا تو حکومت ناراض ہو جاٸے گی اور مالی نقصان ہو جاٸے گا۔ اور اگر میں خدا کی بجاٸے اربابِ اقتدار کی اطاعت کروں گا تو مجھے دولت اور عزت نصیب ہو گی۔ یہ سب خیالات بالکل مہمل ہیں ۔ تو غلط طور پر نفع اور نقصان کے فریب میں مبتلا ہو گیا ہے۔ ارے ناداں ! نہ اس دنیا کی کوٸی اصلیّت ہے نہ اس کا سود و زیاں کوٸی حقیقت رکھتا ہے ۔ کیونکہ اللہ کے سوا نہ کوٸی معبود ہے نہ مطلوب نہ مقصود ۔

📖شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
🖊️ شعیب احمد (ایڈمن اقبال ؒ شناسی)

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰     ♦️ *اقبال ؒ شناسی* ♦️⭕ضرب کلیم⭕                       ♠️دورِ حاضر کے فتنوں کے خلاف جنگ♠️✅تشریح نظم :    ...
22/08/2020

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
♦️ *اقبال ؒ شناسی* ♦️

⭕ضرب کلیم⭕
♠️دورِ حاضر کے فتنوں کے خلاف جنگ♠️

✅تشریح نظم :

❣️لا الہ الا اللّٰہ❣️

♻️شعر ٠٢
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں ، لا الہ الا اللہ

🌐لغت :
١۔ براہیم : حضرت ابراہیم علیہ السلام جنہوں نے بت توڑے تھے۔
٢۔صنم کدہ : بُت خانہ، بُت کدہ۔

🔵تشریح :

فرماتے ہیں کہ جس طرح حضرت ابراہیم کے زمانہ میں نمرود نے خداٸی کا دعوی کیا تھا اور اللہ کے بندوں کو اپنی پرستش پر مجبور کیا تھا اور حضرت موصوف نے اس کا خاتمہ کیا تھا اسی طرح موجودہ زمانہ میں کٸی نمرود پیدا ہو گٸے ہیں جو خداٸی کا دعوی کر کے اللہ کے بندوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ زمانے بھی اس بات متمنی ہے کہ کوٸی اللہ کا بندہ ایسا پیدا ہو جو عصرِ حاضر کے بتوں کو پاش پاش کر دے ۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ یہ دنیا تو صنم کدہ ہے۔ لیکن پرستش اور عبادت کے لاٸق صرف اللہ ﷻ کی ذات ہے۔

📖شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی ؒ
🖊️شعیب احمد : (ایڈمن : اقبال ؒ شناسی)

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰    ♦️*اقبال ؒ شناسی* ♦️⭕ضرب کلیم⭕✅تشریح نظم                 ❣️ *لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ* ❣️♻️شعر ٠١ :خودی ...
22/08/2020

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
♦️*اقبال ؒ شناسی* ♦️

⭕ضرب کلیم⭕

✅تشریح نظم

❣️ *لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ* ❣️

♻️شعر ٠١ :

خودی کا سر نہاں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
خودی ہے تیغ ، فساں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ

🌐 *لغت* :

١۔خودی : اپنی ذات، نفس، روح، شعور، ذات، خود شعوری۔ (خودی کی تفصیلی وضاحت پہلے ایک پوسٹ میں دی جا چکی ہے)
٢۔سَرِّ نِہاں : پوشیدہ راز (اس شعر میں اس کا مطلب :
خودی کا سر نہاں : جس چیز پر خودی ( نفس ، روح ) کی صحت کا انحصار ہے۔)

٣۔ تیغ : تلوار
٤۔ فساں : سان ،اوزار تیز کرنے کا آلہ۔ لوہے یا فولاد کے دھاردار اسلحہ تیز کرنے کا پتھر۔

(لغت ٰ ماخوذ از : ایڈوانس اردو لغت app)

🔵 تشریح :
انسانی خودی کی ترقی اور ارتقاٸے کامل اس بات پر موقوف ہے کہ انسان کلمہِ توحید پر اس طرح ایمان لاٸے کہ اس کے عمل سے یہ ثابت ہو کہ وہ کاٸنات میں اللہ کے سوا نہ کسی ہستی سے ڈرتا ہے نہ کسی کی اطاعت کرتا ہے۔ یعنی اللہ ﷻ کے سوا نہ وہ کسی کو اپنا معبود قرار دیتا ہے نہ مقصود نہ مطلوب اس کا مرنا اور جینا صرف اللہ کے ہی لیے ہے (یہ کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی جب تک اللہ ﷻ سے شدید محبت نہ ہو)۔ یعنی توحید پر عامل ہونے سے خودی کی مخفی قوتیں بروٸے کار لاٸی جا سکتی ہیں ۔ اور خودی مرتبہِ کمال کو پہنچ سکتی ہے۔
خودی کو اگر تیغ (تلوار) سے تشبیہ دی جاٸے تو جب تک تلوار میں دھار نہ ہو اور کاٹ میں تیزی نہ ہو ، تلوار بیکار ہے اس لیے توحید خودی کے لیے بمنزلہِ فسان ہے ۔ جس طرح سان پر چڑھانے سے تلوار ، صحیح معنی میں تلوار بن جاتی اسی طرح جب مسلمان حقیقی معنی میں موحد بن جاتا ہے تو اس کی خودی اپنے مرتبہِ کمال کو پہنچ جاتی ہے ۔ اسی نکتہ کو علامہ اقبال ؒ نے ایک اور جگہ بیان فرمایا :

چڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغِ خودی
ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کارِ سپاہ (بال جبریل ، حصہ دوم) ۔

📖شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی ؒ
🖊️شعیب احمد (ایڈمن : اقبال ؒ شناسی)

جواب شکوہبند نمبر  ٣٣ہو نہ يہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر ميں کليوں کا تبسم بھی نہ ہويہ نہ ساقی ہو تو پھرمے بھ...
20/08/2020

جواب شکوہ
بند نمبر ٣٣

ہو نہ يہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمن دہر ميں کليوں کا تبسم بھی نہ ہو
يہ نہ ساقی ہو تو پھرمے بھی نہ ہو، خم بھی نہ ہو
بزم توحيد بھی دنيا ميں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
خيمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

تشریح:
محمد ﷺ کا پھول نہ ہو تو بلبل گیت گانا چھوڑ دے۔ اس زمانے کے باغ میں کلیوں کی مسکراہٹ کبھی نظر نہ آئے۔ یہ وجودِ ساقی (حضرت محمد ﷺ) نہ ہو تو پھر نہ شراب رہے، نہ مٹکے رہیں، نہ توحید کی محفل رہے، نہ تم رہو۔ یہی پاک نام ہے جس کی برکت سے آسمانوں کا خیمہ کھڑا ہے اور اسی کی برکت سے زندگی کی نبض چل رہی ہے۔
(شرح غلام رسول مہر)

اے مسلمانو! یاد رکھو کہ اگر حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس نہ ہو تو دنیا تیرہ و تار ہو جائے۔ دنیا کی ساری رونق آپ ﷺ ہی کے دم سے ہے۔ اگر آپ ﷺ نہ ہوں تو پھر نہ دنیا میں کوئی توحید کا نام لینے والا رہے اور نہ تم باقی رہو۔ بلاشبہ یہ کائنات حضور ﷺ ہی کے نام کی برکت سے قائم ہے۔ اور ہستی کی نبض میں آپ ﷺ ہی کی بدولت حرکت اور زندگی نظر آتی ہے۔
(شرح یوسف سلیم چشتی ؒ )

مٶلف : ایڈمن اقبال رح شناسی

Address

Sheikhan
Sheikhan

Telephone

+923127840575

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اقبال شناسی پیجIqbal shanasi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to اقبال شناسی پیجIqbal shanasi:

Share