06/09/2020
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
♦️اقبال ؒ شناسی♦️
⭕ضربِ کلیم⭕
♠️عصرِ حاضر کے فتنوں کے خلاف اعلانِ جنگ♠️
🔆نظم :
❇️تن بہ تقدیر❇️
شعر ٢
تن بہ تقدیر ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر
♻️تشریح :
ایک زمانہ تھا جب مسلمان اللہ کے لیے زندگی بسر کرتے تھے۔ اور اس کا صلہ انہیں خدا نے یہ دیا تھا کہ ان کے ارادوں میں مشیتِ ایزدی پوشیدہ تھی ۔یعنی وہ جس طرف نکل جاتے تھے ، تقدیر ایزدی ان کے ساتھ ہوتی تھی ۔ لیکن جب مسلمانوں نے احکام الہی سے روگردانی کر لی تو اللّٰہ نے بھی انہیں بھلا دیا ۔ اور اج ان کی حالت یہ ہے کہ عملِ صالح سے کنارہ کر کے تقدیر پر طھروسہ کیے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ خدا کی تقدیر یعنی اس کا قانون یہ ہے :
”لَیسَ لِلا نسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی “
ترجمہ
” انسان کو اللہ وہی عطا فرماتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے ۔“
اقبال ؒ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں نے تقدیر کا غلط مفہوم دماغوں میں جاگزیں کر لیا ہے ۔ چنانچہ ایک جگہ اسی مضمون کو یوں ادا فرمایا :
”معنی تقدیر کم فہمیدہ ئی
نے خودی را نے خدا را دیدہ ئ“
(جاوید نامہ ، فلک مشتری)
ترجمہ:
”تو تقدیر کے معنی نہیں سمجھا؛ نہ تو خودی کو سمجھا اور نہ اللہ تعالے کی شان کو “۔
📖شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی ؒ
🖊️شعیب احمد (ایڈمن : اقبال ؒ شناسی)