01/08/2025
روضۃ الشہداء – باب دوم
عنوان: قریش اور کفار کے مظالم بر حضور ﷺ
باب کا مرکزی موضوع
اس باب میں حضورِ اکرم ﷺ کے بچپن سے لے کر اعلانِ نبوت کے بعد تک قریش اور کفار کے ظلم و ستم اور رسول اللہ ﷺ کے صبر اور عزم کو بیان کیا ہے۔
اہم واقعات اور حوالہ جات
1. بچپن اور یتیمی کی آزمائش
والد اور والدہ کا کم عمری میں وصال، دادا اور پھر چچا کی کفالت میں پرورش۔
آیت:
> أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ (الضحى 6)
ترجمہ:
"کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا تو پناہ نہ دی؟"
2. اعلانِ نبوت کے بعد قریش کی دشمنی
آیت:
> وَإِذْ قَالُوا اللّهُمَّ إِن كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (الأنفال 32)
ترجمہ:
"اور جب وہ (کفار) کہتے تھے کہ اے اللہ! اگر یہ قرآن تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر دردناک عذاب لے آ۔"
کفار کا استہزاء، گالیاں اور پتھراؤ۔
3. شعبِ ابی طالب کا محاصرہ
تین سال کا معاشرتی و معاشی بائیکاٹ، بھوک و پیاس کی انتہا۔
آیت:
> وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا (المزمل 10)
ترجمہ:
"جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور انہیں خوبصورتی کے ساتھ ترک کر دو۔"
4. طائف کا واقعہ
اہل طائف نے پتھر مار کر لہولہان کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا:
"اے اللہ! ان کو ہدایت دے، یہ نہیں جانتے۔"
5. صحابہؓ پر ظلم
حضرت بلالؓ کو گرم ریت پر لٹانا، حضرت یاسرؓ اور سمیہؓ کی شہادت۔
حدیث:
”صبر اے آل یاسر! تمہارے لیے جنت ہے“ (سیرت ابن ہشام)
مصنف کا پیغام
یہ مصائب اور تکالیف اصل میں اس بات کی تمہید ہیں کہ دین اسلام کی بنیاد قربانی اور صبر پر رکھی گئی۔
رسول اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نے دین کے لئے ہر ظلم برداشت کیا۔
سبق
ایمان کے راستے میں آنے والی تکالیف برداشت کرنا سنتِ انبیاء ہے۔
-صبر و استقامت ہی کامیابی کا راستہ ہے