17/02/2026
پاکستان ایک بار پھر دنیا کو حیران اور انڈیا کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔
تین ماہ پہلے پاکستان نے انتہائی خاموشی سے زوالفقار کلاس 3 کے زریعے ایک کامیاب تجربہ کیا تھا،
یہ تجربہ تھا ہائیپر سونک میزائل جس کا نام "سمیش" رکھا گیا تھا۔
اس تجربے کا دنیا کو پتہ نہیں چلنے دیا گیا کہ ہم نے
ہائیپر سونک میزائل ٹیکنالوجی میں قدم رکھ دیا ھے، کچھ دن میڈیا میں شور رہا کہ بلوچستان میں آسمانوں پر قوس قزح کی طرح رنگ برنگی لکیریں نظر آ رہی ہیں۔ لیکن حکومت نے تائید یا تردید نہیں کی اور یہ معاملہ دب گیا۔ اس سے پہلے امریکہ، روس، چائنہ اوت شمالی کوریا یہ ٹیکنالوجی رکھتے ہیں
انڈیا بھی اپنے براہموس میزائل کو سپر سانک بولتا ھے لیکن ٹیکنیکلی اسے ہائیپر سونک میزائل نہیں بولا جاسکتا۔ اسکا نام تو براہموس ھے لیکن یہ رشین میزائل ھے۔اب انڈیا براہموس 2 بنا رہا ھے جسکی تیاری میں ابھی کچھ سال لگےگے، وہ سپرسانک ہوگا۔ انڈیا پہلے تو فضائیہ میں ہم سے 6 سال پیچھے
ھے، دوسرے نمبر پر وہ نیوکلیئر ٹیکٹیکل ویپن میں ہم سے کئی سال پیچھے ہیں اور اب وہ میزائل ٹیکنالوجی میں بھی ہم سے پیچھے رہ گیا ہے،
پاکستان نے ہائپر سونک کی دنیا میں قدم رکھتےہوئے آواز سے 8 گنا زیادہ سپیڈ سے چلنے والے میزائل کو سعودیہ نمائش میں جب دنیا کے سامنے پیش کیا تو امریکہ
یورپ سمیت ساری دنیا حیران رہ گئی، کہ یہ میزائل اچانک کہاں سے آ گیا۔ابھی SMASH ون کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ھے۔ یہ میزائل دنیا کے کسی راڈار سے نہیں پکڑا جا سکتا اور اسکی رینج 350 کلو میٹر تک ھے، لیکن SMASH 2 جو مکمل ہونے کے قریب ھے اسکی رینج ہزار کلو میٹر تک ہو گی، لیکن اصل
بات یہ ھے جب آپ ٹیکنالوجی حاصل کر لیتے ہیں تو پھر رینج کوئی معنی نہیں رکھتی اسے آپ جتنا چاہے ضرورت کی مطابق یا اپنے دشمنوں کے مطابق بڑھا سکتےہیں،
سعودیہ نمائش میں اس میزائل کو اچانک دنیا کے سامنے لانا ایک طرح سے امریکہ، اسرائیل کو پیغام دینا تھا کہ اگر ہماری سلامتی کو کچھ ہوا
تو آپکا بحری بیڑہ ابراہم لنکن بھی ہمارےنشانے پر ہوگا اور دوسرا سعودیہ میں اس میزائل کی نمائش کا مقصد اسرائیل کو پیغام دیناتھا کہ تم ہمارے میزائلوں سے صرف چند منٹ کی دوری پر ہو اور ہائپر سونک میزائل کو تمھارا ڈیفینس سسٹم بھی نہیں روک سکتا۔
پاکستان زندہ آباد
پاک فوج پائندہ باد